Archive for نومبر, 2007

دو تصویریں

Posted on 30/11/2007. Filed under: طنز و مزاح |

پہلی تصویر
چائنیز صدر امریکہ کے دورے پر ہیں

 

دوسری تصویر
امریکی صدر بش چین کے دورے پر

 

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

موبائیل اسلامک سافٹویئر

Posted on 30/11/2007. Filed under: موبائیل زون, اسلام |

guidedways موبائیل سافٹ کے حوالے سے ایک بہترین سائٹ ہے، guidedways  پلیٹ فارم سے ان کی ٹیم نے لاجواب اسلامک سافٹ ویئر تخلیق کئے ہیں۔ یوں تو کمپیوٹر کے حوالے سے بہت کچھ یہاں موجود ہیں مگر اس سائٹ کی پہچان موبائیل سافٹویئر ہی ہیں جو ایک یوزر کو یہاں کھینچ لاتے ہیں۔
چند مشہور سافٹ کی لسٹ ۔
١۔ قرآن ورڈ فار ورڈ ۔ لفظ بہ لفظ قرآن پڑھیئے، انگریزی ترجمہ بھی ساتھ موجود ہے۔
٢۔ قرآن ریڈر ۔ پڑھیں یا سرچ کریں، عریبک، اردو، فارسی، انگلش، فرنچ اور جرمن زبانوں کے ترجمے کے ساتھ ایک بہترین اور لاجواب سافٹویئر۔
٣۔ اللہ کے ننانوے نام ۔ اللہ کے بابرکت ننانوے نام اب آپ کے موبائیل پر۔
٤۔ قرآنی دعائیں ۔ قرآن مجید میں موجود دعائیں کسی بھی وقت، کہیں بھی اب اپنے موبائیل پر پڑھیئے۔
٥۔ انگلش ٹو عریبک ڈکشنری۔
٦۔ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں۔
٧۔ نماز کے اوقات کا ٹائم ٹیبل، اذان کے الارم کے ساتھ۔
٨۔ قبلہ کا رخ معلوم کریں۔
٩۔ حلال کھانا ۔ اب آپ کہیں بھی ہوں اعتماد سے کھانا کھا سکتے ہیں، حلال و حرام کھانوں کی ایک لمبی لسٹ گائیڈ۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

سقوط ڈھاکہ اور ایمرجنسی

Posted on 30/11/2007. Filed under: پاکستان |

روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق صدر پرویز مشرف نے 16 دسمبر کو ایمرجنسی اٹھانے کا جو اعلان کیا ہے، اس تاریخ کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بڑی اہمیت ہے، اس تاریخ کو بنگلہ دیش بنا تھا۔

یاد رہے کہ ایمرجنسی کے تحت ملٹری آپریشن کے نتیجہ میں بنگالیوں میں بہت بے چینی پھیل گئی تھی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا تھا جس کا انجام مشرقی پاکستان کی علحیدگی کی صورت میں 16 دسمبر کو ہی سامنے آیا تھا۔ اس تاریخ کو سقوط ڈھاکہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

سیاسی کارٹون

Posted on 29/11/2007. Filed under: سیاست, طنز و مزاح |

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

بہادر کبھی زمین پر نہیں ہوتے

Posted on 29/11/2007. Filed under: سیاست |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

روٹی کھاتی مورتیاں۔۔۔سفرنامہ لاہور

Posted on 29/11/2007. Filed under: سیاست |

روبینیہ فیصیل

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

میرا کیا قصور تھا

Posted on 29/11/2007. Filed under: پاکستان |

کالم ۔ جاوید چوہدری

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

سویلین صدراور فوجی سربراہ

Posted on 29/11/2007. Filed under: پاکستان |

پاکستان میں برسراقتدار رہنے والے ماضی کے سویلین چیف ایگزیکٹوز کے ساتھ مختلف وجوہ کے باعث اکثر فوجی سربراہوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے خیال میں بھی شاید یہی حقیقت تھی کہ انہوں نے 15نومبر کو پاکستان میں آرمی چیف کا انتہائی طاقتور عہدہ چھوڑنے کے حوالے سے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو وائس چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے کے لئے نامزد کیا۔ چونکہ وہ صدارتی انتخاب اور وردی اتارنے کے بعد پاکستان کے سویلین سربراہ بن جائیں گے اور انہیں نئے آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی کے ساتھ کام کرنا پڑے گا۔ ماضی میں فیلڈ مارشل جنرل ایوب نے جنرل موسیٰ خان کو آرمی چیف بنایا تھا اور انہوں نے بھی پیشہ ور فوجی کی طرح خدمات انجام دیں اور نارمل انداز میں ریٹائر ہوئے ، پاکستان کے ٹوٹنے کا عمل آرمی چیف جنرل یحیٰی خان کے دور میں ہوا اور وہ اپنے دورانیہ مکمل نہ کر سکے۔مجموعی طور پر جب ملک کے وزراء اعظم کئی سینئر جرنیلوں کو سپرسیڈ کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ آرمی چیفس کو نامزد کیا۔ جنہوں نے انہیں ہی برطرف کردیا۔ وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے جب جنرل مجید ملک (جو اب مسلم لیگ کے اہم رہنما ہیں) سمیت سینئر جرنیلوں کو نظرانداز کرتے ہوئے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف کے عہدے پر نامزد کیا تو ان کے ذہن میں ضیاء کی انکساری تھی۔ ذوالفقارعلی بھٹو کا یہ خیال تھاکہ ضیاء الحق میں نہ اتنی جرآت اور صلاحیت ہے کہ انہیں اقتدار سے ہٹاسکیں۔ تاہم اپنی تعیناتی کے کم و بیش ایک سال بعد 5جولائی 1977ء کوجنرل ضیاء الحق نے وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو معزول کرکے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ یہ ہی نہیں بلکہ بعد میں زیڈ اے بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا۔ صدر جنرل ضیاء الحق کے 17اگست 1988ء کو فضائی حادثے میں مارے جانے کے بعد اس وقت کے قائم مقام صدر غلام اسحق خان نے سب سے سینئر اور وائس چیف آف آرمی اسٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ کو آرمی چیف مقرر کیا۔ اس سے قبل کہ جنرل مرزا اسلم بیگ 1991ء میں وزیراعظم نواز شریف کے اقتدار کا خاتمہ کرتے ان کی مداخلت روکنے کے لئے جنرل آصف نواز کو آرمی چیف نامزد کر دیا گیا۔ اس طرح مرزا اسلم بیگ کو ”لیم ڈیک“ بنانے کے لئے جنرل آصف نواز کو کچھ ماہ قبل ہی آرمی چیف مقرر کر دیا گیا۔ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے بھی غلام اسحق خان پر نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لئے دباؤ ڈالا تھا۔ جنرل آصف نواز نے بھی نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی تاہم جنوری 1993ء میں ان کے اچانک انتقال کے بعد وہ اپنی مہم میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس واقعہ کے تین ماہ بعد صدر غلام اسحق خان نے نواز شریف حکومت ختم اور قومی اسمبلی برخواست کر دی جسے بعد ازاں سپریم کورٹ نے بحال کر دیا۔ جنرل آصف نواز کے بعد غلام اسحق خان نے جنرل عبدالوحید کاکڑ کو چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کر دیا۔ حالانکہ اس وقت سب سے زیادہ سینئر جنرل فرخ کو نظرانداز کر دیا گیا۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ نے اگرچہ حکومت کے خاتمہ کی کوئی کوشش تو نہیں کی لیکن جب غلام اسحق خان اور نواز شریف میں مخاصمت پیدا ہوئی تو اس نے دونوں میں ڈیل کرائی جو ناکام ہوگئی۔ اس طرح صدر اور وزیراعظم کو اپنے اپنے عہدوں سے دستبردار ہونا پڑا۔ اس واقعہ نے بے نظیر بھٹو کے لئے دوبارہ وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کی۔ 1993ء کے انتخابات کے بعد بے نظیر بھٹو کو فوجی ہیلی کاپٹر میں ”جنرل ہیڈ کوارٹرز“ لایا گیا جہاں ان سے ”ڈیل“ ہوئی۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ کے بعد سینئر موسٹ جنرل جہانگیر کرامت آرمی چیف کے عہدے پر تعینات ہوئے۔ تاہم اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے انہیں نیشنل سیکیورٹی کونسل قائم کرنے کے حوالے سے ایک بیان پر استعفیٰ دینے کو کہا۔ بعد ازاں 6 اکتوبر1998ء میں نواز شریف نے سپرسیڈ کرتے ہوئے پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کیا۔ اس تقری کے بعد نواز شریف کا یہ خیال تھا کہ وہ اب امن و سکون سے حکومت کریں گے تاہم ان کا خیال غلط ثابت ہوا اور جنرل پرویز مشرف نے ایک سال بعد قومی اسمبلی برخواست اور نواز شریف کی حکومت ختم کردی۔ بعد میں نواز شریف اپنے ہی چنے ہوئے آرمی چیف کی طرف سے سزا سے بچنے کے لئے سعودی عرب جلا وطن ہوگئے۔ 70ء کی دہائی میں ذوالفقارعلی بھٹو نے مشکوک انداز میں جنرل گل حسن کو ہٹاکر جنرل ٹکا خان کو آرمی چیف تعینات کر دیا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

الودع جنرل مشرف

Posted on 29/11/2007. Filed under: پاکستان |

 آخر کار جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑدیا اور پاکستان فوج کی کمان ایک گھنٹے سے بھی کم جاری رہنے والی تقریب میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کر دی۔
تقریب میں سرکاری میڈیا کو ہی بلایا گیا اور ریاستی ٹی وی چینل پر یہ تقریب براہ راست دکھائی گئی جس میں جنرل کیانی کے چہرے پر مسکراہٹ جبکہ جنرل پرویز مشرف بجھے بجھے سے نظر آئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہاں جنرل پرویز مشرف کے لہجے میں بھاری پن تھا وہیں دوران تقریر وہ کئی بار الفاظ کی ادائیگی میں اٹکتے رہے جبکہ ان کی نسبت جنرل کیانی کافی پراعتماد نظر آئے۔
فوجی کمان کی تبدیلی کی اس تقریب سے جب جنرل پرویز مشرف نے خطاب کیا تو باقی باتوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے فوج سے کہا کہ ’جب بھی ملکی ترقی میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو تو فوج کو اُسے ٹھوکر مارتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے‘۔
جب آرمی چیف کے کمان کی علامت، تقریبا ڈھائی فٹ لمبی بانس کی چھڑی میز پر رکھی گئی تو جنرل مشرف دوسری طرف دیکھ رہے تھے اور جنرل کیانی نے انہیں اشارہ کرتے ہوئے میز کی طرف چلنے کی درخواست کی۔
میز پر موجود ایک فریم یا سٹینڈ پر رکھی اس چھڑی کو ایک سرے سے جنرل پرویز مشرف اور دوسری طرف سے جنرل کیانی نے اٹھایا۔ جنرل کیانی والے سرے سے تو وہ چھڑی نکل آئی لیکن جنرل پرویز مشرف کی جانب سے پھنسی رہ گئی اور جنرل کیانی نے چھڑی نکالنے میں ان کی مدد کی۔
جب بینڈ باجے بج چکے اور سلامی والے دستے واپس جانے لگے تو جنرل مشرف انہیں دیر تک مڑ کر دیکھتے رہے اور آخر میں جنرل کیانی نے انہیں چلنے کا اشارہ کیا اور ایسا لگا کہ وہ انہیں کہہ رہے ہوں کہ ’اب چلیے سر جی‘۔
جنرل پرویز مشرف نے جاتے ہوئے جہاں سے بھی گزرے تقریب میں موجود فوجیوں اور خواتین سمیت کئی سویلین شخصیات کو بھی سلیوٹ کرتے گئے۔
جب تقریب ختم ہوئی تو اچانک ذہن کی سکرین پر خیال آیا کہ بس! یہی آرمی چیف کے کمان کی تبدیلی تھی کہ محض ایک ڈھائی فٹ لمبی بانس کی چھڑی حوالے کرنی تھی۔ جس کے لیے اپوزیشن والے برسوں سے شور مچا رہے تھے!۔
اعجاز مہر، بی بی سی اردو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صدر جنرل پرویز مشرف کا یہ کہنا کہ وہ ایک مضبوط ترین فوج چھوڑ کر جا رہے ہیں ان کے لیئے ضروری تھا۔ اگر وہ یہ کہہ کر جاتے کہ وہ کمزور فوج چھوڑ کر جارہے ہیں تو یہ شاید مناسب نہ ہوتا۔
لیکن حقائق اس سے مختلف ہیں۔ فوج کو اس وقت مختلف اقسام کے چیلنجز درپیش ہیں۔ پرویز مشرف کے دورِ قیادت میں ان کی آخری وقت تک کوشش تھی کہ صدر اور چیف آف آرمی سٹاف کے دونوں عہدے اپنے پاس رکھیں۔ اس وجہ سے وہ فوج پر پوری توجہ نہیں دے سکے۔ اس سے بھی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت پر منفی اثر پڑا۔
وہ بھی ایک ایسے وقت جب اتنی بڑی فوج اور اس کو اتنے ہی بڑے اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا بھی تھا۔ ایسے میں قیادت چاہے کتنی ہی اعلیٰ درجے کی کیوں نہ ہو جب اس کی توجہ بٹی ہو اور اس کا زیادہ وقت اور توجہ کا مرکز سیاست ہو تو پھر کوئی کیسے توقع رکھ سکتا ہے کہ اس فوج کا مورال بہتر ہوگا۔
فوج کے سربراہ سیاست میں تقریباً آٹھ سال ملوث رہے جس سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں بلکہ منفی نتائج حاصل ہوئے اور فوج کا وقار اور فوج کو جو لوگوں سے حمایت ملنی چاہیے تھی وہ حاصل نہ ہو سکی، بلکہ جتنی ہونی چاہیے تھی اس میں ایک قسم کی کمی ہی آئی۔
ملک میں فوج کا سربراہ بیک وقت عسکری اور سیاسی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہو یہ پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ جنرل ضیا الحق تو مشرف سے بھی زیادہ مدت تک دونوں عہدوں پر فائز رہے۔ اس وقت بھی عوام میں فوج کی مقبولیت میں کمی آئی تھی لیکن اس مربتہ کچھ زیادہ ہوا ہے۔ یہ اس لیے ہوا کہ ماضی میں فوج اس حد تک حکومت میں ملوث نہیں تھی کہ جس حد تک اس دور میں رہی ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کی وجہ سے اس وقت بین الاقوامی لحاظ سے اور خاص طور سے امریکہ کی فرنٹ لائن سٹیٹ ہونے کی وجہ سے پاکستانی فوج کو چیلنجز یا مشکلات کا سامنا تھا۔
ایک اور وجہ یہ ہے کہ پاکستانی فوج کی جو اصل ساری تربیت تھی وہ ایک روایتی جنگ کے لیے تھی جس میں بھارت اس کا حریف تھا۔ اسی پر تمام تربیت، کارروائیاں اور منصوبہ بندی وغیرہ ہمیشہ سے روایتی طور سے رہی ہے۔ لیکن اب مغربی سرحد پر خود اندرونی طور سے جو مزاحمت کا سامنا ہے وہ فوج کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل مشرف نے امریکہ اور دیگر ممالک سے جنگی آلات و تربیت وغیرہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن یہ ناکافی تھے۔ فوج کو اس طرز کی گوریلا وارفیئر یا کاؤنٹر انسرجنسی آپریشنز میں مہارت حاصل کرنے میں وقت لگے گا۔ لیکن پھر بھی کافی کچھ انہوں نے اس عرصے میں سیکھا ہے اور کوشش کی ہے کہ اپنی صلاحیت کو بہتر کیا جائے۔
نئے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اب بڑے پیمانے پر اپنی پالیسی اور حکمت علمی میں تبدیلیاں کرنا پڑیں گی۔ ایک بالکل عام سی بات ہے جس کا سب کو علم ہے کہ دنیا میں کوئی فوج اپنے لوگوں کے خلاف جنگ کبھی جیت ہی نہیں سکتی چاہے وہ کتنی بھی بہترین فوج کیوں نہ ہو۔
دیکھنا ہوگا کہ کیا واقعی میں یہ ضرورت ہے کہ ہم بلوچستان میں بھی فوج کو لگائیں اور اپنے ہی لوگوں سے لڑائی کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر جگہ چاہے وہ سوات ہو یا قبائلی علاقے ہی کیوں نہ ہوں فوج کو صرف اسی وقت استعمال کریں جبکہ ہم سمجھیں کہ سیاسی اور دوسرا لائحہ عمل ہے وہ بالکل ناکام ہو گیا ہے۔ یہ بڑا ضروری ہے۔
اپنے لوگوں کے خلاف فوج کو آخری حربے کے طور پر انتہائی محدود انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔۔۔۔ کیونکہ کولیٹرل ڈیمیج بہت زیادہ ہوتا ہے اور کوئی آپ قابض فورس نہیں ہیں، تو آپ اس طریقے سے فوج کو نہیں استعمال کر سکتے جس طریقے سے امریکہ یا نیٹو فورسز افغانستان میں یا عراق وغیرہ میں استعمال ہو رہی ہیں۔
جنرل کیانی کی سنجیدگی سے یہ کوشش ہوگی کہ وہ فوج کو سیاست میں ملوث نہ کریں اور جہاں تک ہو سکے اپنے پیشے ہی میں وہ زیادہ تر اس کو توجہ دیں، اور اسی کی بہتری میں مصروف رہیں۔ جنرل کیانی ایک مدبر اور ایک پیشہ ور صلاحیت کے مالک سپاہی ہیں۔ ان کا کافی وقار ہے فوج میں۔ لوگوں کا ان کے بارے میں اچھا خیال ہے۔ ان کی طبیعت پچھلے لیڈروں سے ذرا مختلف ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ زیادہ تر توجہ اپنے پیشے کی طرف دیں گے اور یہ کوشش کریں گے کہ فوج کو سیاست سے دور رکھیں۔
لیکن خیر اگر حالات بہت خراب، خدا نہ کرے، ہوئے تو پھر شاید فوج کو لانا پڑے لیکن میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ ضرور سیاستدانوں کو موقع دیں گے کہ وہ ملک کو چلائیں اور یہ جو سیاسی عمل انتخابات کے ذریعے شروع ہو رہا ہے، اس کو جتنی حد تک صاف و شفاف رکھا جائے یہ فوج کے حق میں بہتر ہوگا اور ملک میں انتشار ختم ہوگا۔
ماضی میں ایک خیال یہ تھا کہ فوج کے ذریعے ملک کا دفاع ہو سکتا ہے لیکن اب یہ اپنے تجربے سے اور ملک میں جس طرح کے حالات رہے ہیں، اس سے تو بالکل عیاں ہوگیا ہے کہ فوج خود اکیلی کسی صورت میں ملک کا دفاع نہیں کر سکتی جب تک کہ لوگ اس کا ساتھ نہ دیں۔ اس سلسلے میں سیاسی لائحہ عمل بڑا ضروری ہے، جمہوریت بڑی ضروری ہے، اس کو مضبوط بنیادوں پر رکھا جائے۔
نیشنل سکیورٹی کونسل کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ صدر مشرف نے بار بار کہا تھا کہ اگر نیشنل سکیورٹی کونسل کے آنے سے اب مارشل لاء کبھی نہیں لگے گا لیکن آپ نے دیکھا کہ انہوں نے خود ہی مارشل لاء یا ایمرجنسی نافذ کر دی باوجود اس کے کہ نیشنل سکیورٹی کونسل موجود تھی۔
تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو روایتی طریقے ہیں دنیا میں اور جس طریقے سے دنیا میں جمہوریت کامیاب ہوئی ہے، کوئی وجہ نہیں ہے کہ پاکستان کے لوگ جتنی جمہوریت چاہتے ہیں اس سے ان کو کیوں دور رکھا جائے۔ بجائے اس کے کہ فوج مداخلت کرے، وہ اپنی ذمہ داریوں کو اچھے طریقے سے سنبھالے، دوسروں کے کاموں میں ملوث ہو کر ان کا بھی کام خراب کرے اور پھر اپنا بھی ادارہ اور اپنی بھی پیشہ ورانہ صلاحیت میں کمی لائے۔
لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود، سابق فوجی اور دفاعی تجزیہ نگار، بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اب قلم سے‘ اِزار بند ہی ڈال

Posted on 27/11/2007. Filed under: شعروادب |

قوم کی بہتری کا‘ چھوڑ خیال
فکرِ تعمیرِ ملک‘ دل سے نکال
تیرا پرچم ہے‘ تیرا دستِ سوال
بے ضمیری کا اور کیا ہو مآل؟
اب قلم سے‘ اِزار بند ہی ڈال
……………
تنگ کردے غریب پر‘ یہ زمیں
خَم ہی رکھ‘ آستانِ زر پہ جبیں
عیب کا دَور ہے‘ ہنر کا نہیں
آج حسنِ کمال‘ کو ہے زوال
اب قلم سے ازار بند ہی ڈال
……………
لاکھ ہونٹوں پہ دَم ہمارا ہو
اور دِل‘ صُبح کا سِتارا ہو
سامنے‘ موت کا نظارا ہو
لکھ یہی‘ ٹھیک ہے مریض کا حال
اب قلم سے اِزار بند ہی ڈال

 

حبیب جالب

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...