دوست

Posted on 01/11/2007. Filed under: رسم و رواج |

دوست کی دوستی، دوستی نہیں، دوستی تو وفا کا نام ہی۔ دوست میں کوئی دوشت (عیب داری) نہیں۔
دُوست خداکی بہت بڑی نعمتوں میں سے ایک خاص نعمت ہے۔ آج کوئی کسی کا دوست نہیں۔ اکثر مفاد کے یار ہیں۔ بندے کے ہمراز نہیں۔ دوست تو دوست پر جانثار کرتا ہے۔ دوست: دو اور ست سے ہی۔ دو سچائیاں، ایک کھرا جوڑا دوست ہے، دوست ظاہر کرنے والے بے شمار مگر حقیقی دوست کوئی نہیں۔ کچھ ہماری دوستی توڑ جاتے ہیں۔ کچھ کی دوستی ہم خود ہی ختم کر دیتے ہیں۔ جو باقی ہیں اُن کو اِس قابل سمجھتے ہی نہیں۔ کئی ایسےدوست بھی ہوتے ہیں جو برملا کہتے ہیں کہ ” تم جیسا دوست کوئی نہیں تم سےعمر بھر دوستی نبھائیں گے اور سننے والا اُنکے جملے ہر بار سن کر مسکرا دیتا ہے اور دل میں اپنے آپ سے کہتا ہے کہ یہ کیا دوستی نبھائیں گے جب منہ سے اقرار اتنی شدت سے ہے تو یہ اپنی ندامت کا اظہار ہی یوں کر رہے ہیں۔ آخر اِک دن وُہ کہہ ہی دیتا ہیں۔ تم کو مجھ سے آج مفاد ہے اور میں تمھارے لئے مہان ہوں، ناقابل فراموش شخص ہوں۔ کل جب تمہارے ربط بتدریج ( آہستہ آہستہ) مفاد کی ذات سے باہر نکل جائیں گے، رابطےضرورتوں سے ہٹ جائیں گے تو تم مجھے سامنے آ کر بھی نہ پہچان پاؤ گے بلکہ نظریں ہی چراؤ گے اور آج تم مجھے بھرے بازار میں دیکھ کر تلاش کر لیتے ہو، تو ایسا فرد فوراً تردید کرتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ سننے والا پھر مسکرا دیتا ہے۔ کہ یہ فطرت مزاج کی تغیر شناسی ہے، جس سے وُہ خود آگاہ نہیں۔ سننےوالا یہ جانتا ہے کہ اُسکا آج چہرہ بکتا ہے، نام بکتا ہے، لفظ بکتے ہیں، کل جب اُسکی کوئی قیمت نہیں ہوگی تو اُسکا کوئی دوست نہیں ہوگا۔ اُسکی دوست صرف اُسکی تنہائی رہ جائےگی۔ اگر ہمارا ماضی بے داغ ہوگا، شاندار ہوگا تو تنہائی ہمیں اُوج کمال پر پہنچا کر عرفان کا مقام دلا دے گی۔ مگر کوتاہیوں سے بھرپور ماضی ہمارے لئے صرف تنہائی میں پچھتاوا ہی ہوتا ہے۔ اکثر تنہائی، پچھتاوے میں ایک نئےعروج کا آغاز  بھی ہوتی ہے۔ جس میں نئے دوست اور ساتھی ہوتے ہیں۔ جو برے دور کےساتھی ہوتےہیں۔
جسکا جو مقدر ہوتا ہے۔ وہاں اُسکا دوست بھی ہوتا ہے۔ قیدی کی دوستی قیدکی تنہائیاں، آزاد کی خوشیاں، مطلب پرست کی مفاد، خلوص کی دوستی محبت ہیں۔ دوستی کا انجام جدائی ہی ہے، یہ فراق جسکو نصیب ہوتا ہے، وُہ رفاقت کا قائل ہوتا ہے۔ جو کسی کا ساجھی نہیں اُسکا کوئی ساتھی نہیں۔ جو سب کا ساجھی ہو مگر اُسکا کوئی ساتھی نہیں تو اُسکے رفیق بےشمار۔
یارانہ ہم مفاد کو دیکھ کر بناتے ہیں۔ اکثر مفاد پیچھے رہ جاتا ہے، خلوص جگہ لےلیتا ہے۔ یہ سب دل کی محبت سے ہوتا ہے۔ آج رشتے رخنوں (شگاف) میں ٹوٹ چکے ہیں جب رشتوں کا احترام ہی ختم ہو جائے تو پھر رشتہ بےمعنی ہے۔ رشتہ بھی ایک دوستی ہوتا ہے۔ تمام رشتے ہمارے دوست ہوتے ہیں مگر اصل دوست الفت کا رشتہ ہوتا ہے۔
دوستی خدا کی اتنی بڑی نعمت ہے کہ ہم سمجھ نہیں سکتے۔ دوست ایسا ہی ہے جیسے باغ میں گلاب کے پھولوں کا کھلنا اور اپنی خوشبو سے تمام باغ کو مسحورکن بنا دینا۔ کسی کو ایک دوست میسر آ جائے تو اُسکی زندگی ہی بدل جاتی ہے۔ زندگی ترقی کی شاہراہ  پر گامزن ہو جاتی ہے۔ دوست کی دوستی ہماری  unbalance زندگی کو balance  کرتی ہے۔ دوست کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ دوستی محبت ہی ہے۔ اچھا دوست اپنا اچھا رنگ اپنے دوست کی زندگی پر چھوڑ جاتا ہے۔ اپنی خوبی دوست کے مزاج کا حصہ بنا دیتا ہے۔ دوستی پھول کی خوشبو ہے جو سارے جگ کو مسحور کن بنا دیتی ہے۔
اچھا دوست ایک متوازن شخصیت بناتا ہے۔ متزلزل مزاج ہمسفر ہمارے رویہ میں متلون مزاجی (پل میں تولہ ، پل میں ماشہ (confuse decision personality) کا باعث ہوتا ہے۔ ہمدرد ساتھی ہمارے ارادوں کی مضبوطی کی ڈھارس بندھاتا بھی ہے اور بنتا بھی ہے۔ دوست ہمارا کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ دوستی ایسا رشتہ ہے جو ہمارے دیگر رشتوں سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ انسان زندگی کا آغاز رشتوں سےکرتا ہے۔بیشتر رشتے پیدائش کے ساتھ ہی وجود لاتے ہیں۔ مگر دوستی اس سےمنفرد رشتہ ہے۔ جو پیدائش سے نہیں۔ یہ رشتہ ہم خود بناتے ہیں۔ یہ رشتہ بےلوث محبت، پرخلوص مدد اور مزاج شناسی کانام ہوتا ہے۔ رشتہ میں دوستی کا عنصر غالب آجائے تو قلبی تعلق قریب تر ہو کر پختہ ہو جاتا ہے۔ دوستی ہے کیا؟ دوسرےکی چاہت، دوستی یہ بھی ہے دوسرے کی چاہت میں اپنی چاہت۔
دوستی قربانی کا نام نہیں دوستی قربان ہو جانےکا نام ہے۔ دوست کی خاطر ہم اپنا بہت کچھ قربان کر دیتے ہیں صرف اُسکی خوشی کی خاطر۔ جسکا اس دنیا میں کوئی حقیقی دوست نہیں۔ وُہ بے چین ہے شائد آج ہم سب ہی بے چین ہیں۔
زندگی میں ہمیں ہمسفر کی تلاش ہوتی ہی۔ جب ہمسفر ہمراز ہی نہ ہوسکے تو پھر اِک اور ہمسفر کی تلاش ہوتی ہے۔ جبکہ دوستی میں یارانہ ہمرازی ہی ہوتا ہے۔ دوست اگر ہمارے ہمسفر، ہمراز، ہم خیال، ہم مزاج، ہو کر ہمراہ ہو جائے تو زندگی میں کوئی کمی نہ رہے گی، اور نہ ہی عمر بھر ہم کبھی گمراہ ہوں گے۔ اِسی کا نام سنگت ہے۔ سنگت نام ہی بانٹ اور راز و نیاز کا ہے۔ سنگت میں ہمراز، ہمزاد کی طرح ہوتے ہیں۔ ایسا خلوص ہوتا ہے۔ جس میں اِک دوجے کی خامیوں کو نظرانداز کر جاتے ہیں۔
سنگتوں میں ہم تنہا نہیں رہتے، بے آباد منزلوں کو بھی تمام رستے آباد کر جاتےہیں، دلوں کو منور رکھتے ہیں۔ سنگت نام ہی رونق کا ہے۔ ہماری ایک سنگت ہماری تنہائی بھی ہوتی ہے۔ بھلا تنہائی کیسی سنگت۔ تنہائی اگر ہمارے لئے خوف نہ بنے بلکہ سکون کا وجود  پیدا کر ڈالے، تو وُہ بھی ایک سنگت ہوئی۔ کتاب بھی تنہائی کی اہم ترین ساتھی ہے، انسان کا خیال، انسان کا ضمیر انسان کے اپنے اندر کے سنگی ہیں جو خلوت میں جلوت عطاء کرتے ہیں۔ سنگت سنگ سنگ چلتے رہنے کا نام ہے۔ وقت ہمار ا ساتھی ہے مگر ساجھی نہیں۔ کہتے ہیں وقت بڑا ظالم ہے دوست ظالم نہیں ہوا کرتا وہ تو ہر حال ہمدرد ہی رہتا ہے۔
دوستی کا سب سے خطرناک انداز دشمنی ہے، دشمنی بذات خود ایک دوستی ہے۔ اگر دشمن مثبت انداز کا ہو اور تعمیری خیال کا تو وُہ دشمنی بھی ایک دوستی ہی ہے کہ خدا نے مخالف بھی ایک نیک سیرت انسان عطاء کر دیا۔ دشمنی کا سب سے خوبصورت انداز دوستی میں تبدیل ہو جانا ہے۔ ظاہری دوستی خطرناک ترین دشمنی ہوا کرتی ہے۔ جو جڑیں کاٹ دیا کرتی ہے۔ کچھ دوستیاں یوں بھی ہوتی ہیں۔ دودھیل گائیں کی لاتیں بھی بھلی (جس سے مفاد ہو تو اُسکی مار بھی اچھی لگتی ہے۔)
ہر کامیاب انسان کے لئے کامیاب دوست کا ہونا ضروری ہے۔ دوست کوئی ذات بھی ہوسکتی ہے۔ دوست کوئی رہنما (رہنما سےمراد: ولی اللہ ،بزرگ، والدین، اُستاد، بڑے بہن بھائی، رہبر ۔ مختصراً وُہ تمام افراد جو ہمیں کوئی راستہ بتلاتے ہیں، رہنمائی کرتے ہیں۔) بھی ہوسکتا ہے۔
دوستی کےفرائض بھی ہوتے ہیں اور حقوق خود ہی مل جاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے آپ میرے بہت اچھے دوست ہوں مگر آپ کا اچھا دوست کوئی اور ہو۔ یہ بڑے نصیب کی بات ہے دونوں ایک دوسرے کے بڑے اچھے دوست ہوں۔ دوستی کا فرض دوستی ہی ہے۔ مراد کھرا ہونا۔ دوستی یہ ہے کہ اپنے دوست کی بات کو غور سےسنیں، اُسکے مسئلہ کو اپنا مسئلہ جانیں، اُسکی خوشی آپکی خوشی، اُسکی غمی میرا  بھی غم ہوں، مراد دو قالب یک جان۔
جسکا کوئی دوست نہیں تو وُہ کسی کو دوست بن جائے تو اُسکا دوست بھی کوئی بن جائےگا۔
دوستی میں اگر کوئی رخنہ ہو تو وُہ جھوٹ اور فریب۔ یہ دراصل اپنی ذات کےساتھ مذاق ہے۔
دوستی چہرہ دیکھ کر نہیں کی جاتی، نہ ہی مال دیکھ کر، دوستی تو مزاج جان کر ہو جاتی ہے۔ دوستی میں دیکھ لینا شرط نہیں ۔ ایک دوسرے پر یقین کر لینا دوستی ہے۔ یہ دِل کے تار ہوتے ہیں ایک جانب تار ہلتا ہے تو سینکڑوں میل دور کیفیات محسوس ہو جاتی ہیں۔ کچھ دوستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں۔ جو چہرہ دیکھے بناء کی جاتیں ہیں۔ دوستی کے برسوں بعد پہلی ملاقات ہوتی ہے۔ تو انجان شناسا لگتے ہیں۔ ہزاروں چہروں میں اِک چہرہ پر پہلی نظر میں ہی اُنگلی اُٹھ جاتی ہے۔ دِل گواہی دیتا ہے۔ سکون محسوس ہوتا ہے۔ وُہ دوست کی دوستی ہے۔ کچھ تعلق عمر بھر ایسے ہوتے ہیں۔ جو بالمشافہہ (ظاہری ملاقات) نہیں ہو پاتی۔ مگر بالشافیہ (علاج کا ذریعہ) رہتے ہیں۔ چند تعلق ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوست کا حلیہ بھی بتا دیتے ہیں۔ یہ ذرا سوچیئے چہرہ دیکھے بغیر کیسےحلیہ بیان ہو جاتا ہے؟ یہ کشش ہوتی ہے، دوست کی توجہ ہوتی ہے، دوست کی فکر ہوتی ہے۔ دوست کی خاطر جینا مرنا ہوتا ہے۔ یہ معاملات صرف مشاہدہ میں ہوسکتے ہیں ثابت نہیں ہو سکتے کیونکہ خواب کی حقیقت بھی ثابت نہیں ہوسکتی، یہ کیا بات ہے؟ کہ خواب ہمیں دوست کی پریشانی سے آگاہ کر دیتے ہیں۔
دوستی کا رنگ یہ ہے کہ دوست کا رنگ ہمارے مزاج  پر اثر چھوڑ جاتا ہے۔ جسکو ہم دوست مانتے ہیں۔ وُہ ہمارے رویہ اور ادائیگی الفاظ میں ایک مثبت تبدیلی (positive change) لاتا ہے۔ جب یہ تبدیلی رونما ہوتی ہے تو خلوص کا تعلق بنتا ہے۔ یوں دوست تمام عمر اپنی سنگت اپنی دعائوں میں نبھاتا ہے۔ دوست ہمارے عمل کو مثبت سمت میں متاثر کر جاتا ہے۔ یہ تمام وُہ معاملات ہے جو ہمیں نفسیاتی مسائل سے نکال کر متوازن شخصیت سے ہمکنار کرنے میں اپنا حصہ ادا کرتے ہیں۔
نفسیاتی و ذہنی مریض دوست کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ اِنکو دوا کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی، جتنی ہمدرد ، محبت اور چاہت کرنے والے رشتوں اور دوست کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری ذہنی اُلجھنوں کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہمارا کوئی قابل اعتماد دوست نہیں۔ شوہر بیوی سے، بیوی شوہر سے بہت کچھ چھپاتے ہیں، جبکہ یہ رشتہ کچھ چھپانےکا نام نہیں۔ تمام معاملات و مسائل کو share کرنےکا نام ہے۔ share کرنا ایک بہت بڑی حکمت (علاج)  ہے۔ ہماری بےشمار بیماریوں کا حل صرف کسی قابل اعتماد فرد کی تلاش اور پھر اُس پر یقین کر کے اپنے تمام مسائل کو discuss کرنا ہے۔ دوست کا بھی یہ لازمی فرض ہے کہ وُہ تمام رازوں اور ذاتی معاملات کا مکمل دیانتداری سے عمر بھر راز دار ہی رہے یہی دوستی کا حق ہے کہ اپنے دوست کو الجھنوں سے نکال دینا۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمیں دوستی کی ضرورت کیوں ہے؟ دراصل ہمارے اذہان میں بے شمار مسائل؟، سوال، الجھنیں، خواہشات، ضرورتِ مشاورت کی ضروریات جنم لیتی ہیں۔ حقیقتاً وُہ بڑے ہی سادہ سے معاملات بھی ہو سکتے ہیں اگر ہم اپنے ذہن میں آنے والی  ہر بات کو کسی نہ کسی کو سنا دی، مشورہ کرلیں، discussion ہی کر لیں تو ہمارے کئی مسائل صرف کہہ دینے سے ہی حل ہو جاتے ہیں۔ انسان دکھ دوست کےساتھ ہی پھولتا ہے اور اپنے من کو ہلکا محسوس کرتا ہے۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو جسمانی طور پر اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ نفسیاتی الجھنوں میں تو گِھر جاتے ہیں پھر اعصابی بیماریوں کے آڑے بھی آ جاتے ہیں یوں آہستہ آہستہ ہم مزید جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو کر معاشرے میں ایک بیمار کی حیثیت سے رہ جاتے ہیں۔ بیمار معاشرہ کیا ہوتا ہے؟ جہاں سب اپنی اپنی دُنیا میں مگن ہوں وُہ کسی کی بات سننے کے لئے تیار نہ ہوں۔ دوستی صحتمندی کی علامت ہے۔ بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، شوگر، برین ہیمبرج، ذہنی امراض جیسی بیماریاں اور ناکام شادیوں جیسے مسائل دوست نہ ہونے کی وجہ سے ہیں۔ اِن تمام کا علاج حقیقی دوست ہی ہیں۔ ہم کہتے ہیں دوست ہمارے  بےشمار ہیں مگر وُہ دوستیاں سیاسی دوستیاں ہوتی ہیں۔ یارانہ اور سنگتیں نہیں۔ آج ہمیں ایک ایسا ہمدرد اور مخلص چاہیے جو ہماری ہر بات پوری توجہ اور انہماک سے سن سکے۔ ہمیں توجہ دے۔ ہماری سچے دل سے رہنمائی کرے۔ ایک وقت تھا ہم اپنے خاندانوں کے لئے جیتے تھے، پھر وقت آیا کہ ہم صرف اپنےگھروں کے لئے جینے لگےاور اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہم اپنے لئے بھی جی نہیں پا رہے۔ گھروں میں ساتھ رہتے ہیں مگر اپنا اپنا منہ رکھتے ہیں۔ دوستی ناپید ہوتی جا رہی ہے۔
ہم اپنے E-mail address  کیوں بدلتے ہیں، اپنے Cell #، Contact Number بہت سوں کو دے کر کیوں بدل لیتے ہیں۔ Online ہوکر اپنے نام کی جگہ مختلف دل کش statements  کیوں رکھتے ہیں۔ اپنے ذاتی نام کی بجائے کسی جملے سے کیوں اپنا e-mail address  بناتے ہیں۔ یہ جملے عمومًا ہماری محرومی کا احساس ہوتے ہیں، ہم اپنے نام سے کیوں اتنا خوفزدہ ہیں۔ ہم حقیقت کا سامنا کرتے کیوں ڈرتے ہیں۔ کیا اپنا نام لکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ ہم سب دوست کی تلاش میں ہیں مگر ہمیں کوئی مخلص دوست نہیں ملتا۔ کیونکہ ہم حقیقتاً دوستی کی تلاش میں نہیں۔ time pass  ہے تو اِک دن ہم خود وقت گزاری بن جاتے ہیں۔ ضرورت کے لئے دوستی رکھتے ہیں۔ ضرورت کی تکمیل کے بعد اپنے اطلاعاتی پتہ ہمیشہ کے لئے بدل لیتے ہیں جبکہ دوستی عمر بھر کا نہ صرف بھرم بلکہ دھرم (راستہ، طریقہ)  بھی ہوتا ہے۔

دوست اعظم اِک گوہر رفیق ہے۔
فرمبارک و شاداں کا یہی عدیم قدیم ہے۔
جو قابل تحریم  بھی اور اللہ کا رحیم  بھی ۔
ناآشنا ہوتے چلے جا رہے ہیں ذکاء کے عبیر سے۔
دوستی ہی خدا  کا اس دور میں ایک کبیر ہے۔
اے اللہ! ہم سب کو ایک اچھا دوست ہی عطا کر دیں۔(آمین)

(فرخ)

Advertisements

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

3 Responses to “دوست”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

دوست دوست نہ رہا ۔ پیار پیار نہ رہا
زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا

اجمل’s last blog post..ضروری اطلاع

دوستی کے ٹوٹنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے جب اس طرح کا لمبا لیکچر دوست کو دیا جائے اور اسے بولنے کا وقت ہی نھ دیں۔
دوستی سمیت کسی بھی رشتے کی لمبی عمر کیلیے برداشت اور حوصلہ بہت ضروری ہے۔

میرا پاکستان’s last blog post..کیا کچھ برا ہونے والا ہے؟

میرا خیال ہے کہ انسان کا سب سے اچھا دوست وہ خود ہوتا ہے!

فیصل’s last blog post..میرا پسندیدہ ای میل کلائنٹ: موزیلا تھنڈر برڈ


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: