ہم نے جینے کے خواب دیکھے تھے

Posted on 07/11/2007. Filed under: شعروادب |

اِک زمانہ ہوا کہ زنداں کی !
مثل آہن فصیل ٹوٹی تھی  !
شب جو چھائی تھی چار سو اپنے
اس کا دل چیر کر ہمارے لئے
ایک روشن لکیر پھوٹی تھی
روشنی بھر گئی دل و جان میں
روشنی بارور امیدوں کی
روشنی زندہ تر نویدوں کی
کوئی احساس سے نہ کھیلے گا
ظلم ہو گا نہ ظالم و مظلوم
کوئی ضرب ستم نہ جھیلے گا
بعد مدت کے ہم نے سمجھا تھا
دل کا احساس کٹ گئی مشکل
امتحانوں کا دور ختم ہوا
ہر نظر میں خمارِ آزادی
وقت مجبوریوں کا بیت گیا
حبس زندان کا دم تو ٹوٹ چکا
اب ہوائیں ہماری ہیں
کٹ گئے ہیں ہاتھ، ظالم ہاتھ
جو ہمارے پروں کو باندھتے تھے
اب فضائیں ہماری اپنی ہیں
اب کوئی دل شکن نہیں ہم میں
اب مقدر کا فیض عام ہوا
دیس ہر درد کی دوا ہو گا
درد بے چارگی تمام ہوا
اسی امید کے سہارے پر
زندگی نے عذاب دیکھے تھے
راحتِ جاں کے خواب دیکھے تھے
خواب بھی دو طرح کے ہوتے ہیں
کچھ وہ جن کو تعبیر ڈھونڈتی ہے
کچھ وہ جو تعبیر کو ترستے ہیں
ہم نے جینے کے خواب دیکھے تھے
لیکن آسیب موت کے ساتھ رہا
خونِ انساں کا بھاؤ گرتا گیا
گھر میں، چوراستوں میں حرفِ ستم
آدمی کے لہو سے لکھا گیا !
نوکِ خنجر سے دل کے کاغذ پر
ہاں مقدر لکھا گیا خوں سے
بارگاہوں میں بم چلائے گئے
مسجدں میں وضو ہوا خوں سے
ہم نے جینے کے خواب دیکھے تھے
امن کی خوشبوئیں تلاشتے تھے
کیا خبر تھی کہ اپنے دیس میں بھی
عدل کے نام پر ستم ہو گا
کب یہ سوچا تھا اس گرانی میں
نرخ انسانیت ہی کم ہو گا
اب پلٹ کے نگاہ جاتی ہے
ایسے لگتا ہے دست غربت میں
ہم نے جتنے بھی خواب دیکھے تھے
خواب کیا تھے سراب تھے

سید منظور حسین گیلانی

Advertisements

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: