Archive for دسمبر, 2007

صبحِ نوید

Posted on 31/12/2007. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , |

ہر روز اِک نئی اُمنگ لئے پھرتے ہیں
ہر شام اُداسیاں اور مایوسیاں لئے پھرتے ہیں
یونہی سال دورِ اختتام پہ
نیا سال آن پہنچا
٢٠٠٧ء زوال سے عروج کی جانب اِک سفر
آغاز عید تھی، اختتام بھی عید رہی
رواں برس قربانی کی تعلیم تھا
سالِ گزشتہ کا بیڑہ طوفانوں سے نبردآزما تھا
منافقت کی تکمیل سے بھرپور
نئی جدوجہد عملی ناکام کوشش لئے
٢٠٠٨ء آغاز پہ آن پہنچا
اقتدار کے معنی لئے
بربادی سے بھرپور
سورج کو سلام کرنے والوں کا سال
٣١ دسمبر خاموشی بھی، آخری سانسوں کے لمحات بھی
مگر بڑا ہی اہم
یوم احتساب ہوا تو!
مستقبل کی اِک نوید ہو گا ۔۔۔
دُعا کیجیئے!
اقتدار کا یہ سال ۔۔۔
نئے سورج کا اِک نیا طلوع ہو!
کیا خوبصورت قدرت کا کرشمہ ہوا
محرم و جنوری اس نئی راہ کا افتتاح ۔۔۔۔
اے اللہ ہم پہ اپنا رحم کیجیو!
ہمارے اعمال صراط مستقیم پہ رکھیئو!
ہم پہ اپنا کرم فرما دے!
ہمیں باعمل اچھا اور نیک انسان بنا دے!
سال مبارک

(فرخ نور)

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

نیو ائیر ایس ایم ایس

Posted on 31/12/2007. Filed under: موبائیل زون |

٢٠٠٧ء اپنی تمامتر حشرسامانیوں کے ساتھ ختم ہو اور ٢٠٠٨ء سر پہ آن پہنچا، اس موقع کے حوالے سے دو ایس ایم ایس حاضر ہیں۔

1-

I
Am
Coming
To
Your
House
To
Give
U
All
Types
of
Happiness
And
Joy
Plz
Wellcome
Me
After
1Day
Know
I
Am

Your’s

****2008****

”HAPPY NEW YEAR”

2-

Tring Tring!
hello
Inbox kholo
Ap k liey Phool bhijay Hain

…;…;…@
…;…;…@
…;…;…@

Jo ap ko kehnay aaye hain

”HAPPY NEW YEAR

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کیسی قوم ہیں ہم؟

Posted on 28/12/2007. Filed under: پاکستان |

راولپنڈی کا تاریخی لیاقت باغ کل ایک مرتبہ پھر خون میں نہلا دیا گیا، ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد کل بروز جمعرات کو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کو بینظیر بھٹو بھی ایک قاتلانہ خودکش حملے میں جاں بحق ہو گئیں۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

آج ساری مخالفتیں، حمائتیں، نفرتیں، محبتیں اور سیاستیں سب کی سب ماضی کا حصہ بن گئیں۔
کل سے میرا ذہن ماؤف ہو چکا ہے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس مظلوم خاندان کا ماتم کروں یا اس بدقسمت قوم کا نوحہ لکھوں۔
کیسی قوم ہیں ہم؟ نہ اپنے قومی ہیروز کی قدر کر سکتے ہیں نہ اپنے رہنماؤں کی حفاظت، اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو گی۔
کیا قوم ہیں ہم؟ اپنے مخالفین کو برداشت کرنے کی ہمت ہے نہ حوصلہ ۔۔۔ سیاسی دشمنی ذاتی دشمنی،  سیاست کا جواب گولیاں، خودکش حملے۔
قوموں کو حادثے تباہ و برباد نہیں کرتے، قومیں اُس وقت تباہ و برباد ہوتی ہیں جب ان حادثوں سے سبق نہ سیکھا جائے اور ہم دنیا میں واحد ایسی قوم ہیں جو ایک ہی سبق بار بار دہرائے چلے جا رہے ہیں۔
اس وقت قوم کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو اس چیز کا نام ہے ‘قومی اتفاق رائے‘ کیونکہ اب من مانی نہیں چلے گی، اگر یہ کچھ لوگوں کی آن کا مسئلہ ہے تو قوم کو جلد ان سے نجات حاصل کر لینی چاہیے کیونکہ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

قائد کی دلی خواہش

Posted on 25/12/2007. Filed under: پاکستان, تاریخ |

قائد اعظم کی دلی خواہش تھی کہ پاکستان میں عہد فارقی کی تصویر عملی طور پر کھنچی جائے۔ ٢١ مارچ ١٩٤٨ کو آپ نے بدعناصر کو مکاطب کر کے فرمایا کہ
‘‘ پاکستان قائم ہو چکا ہے اور یہ مسلمانوں کی قربانیوں سے بنا ہے۔ پاکستان کے مقاصد میں کامیاب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں میں مکمل اتحاد و اتفاق ہو۔ ہمارا خدا، رسول، کلمہ اور قرآن ایک ہے۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایک ہو کر اپنے ملک اور مذہب کی اشاعت اور ترقی کے لئے انتھک جدوجہد نہ کریں اگر آپ نے مکمل اتحاد و تعاون اور صحیح اسلامی جوش و خروش سے کام کیا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان جلد ہی دنیا کے عظیم ترین ممالک میں شمار ہونے لگے گا۔ تعمیر پاکستان کے لئے مسلمانوں کے تمام عناصر اور طبقوں میں یک جہتی اور اتحاد ضروری ہے۔
میں نے مسلمانوں اور اسلام کی جو خدمت کی ہے وہ اسلام کے ادنٰی سپاہی اور خدمت گزار کی حثیت سے کی ہے اب پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے آپ میرے ساتھ مل کر جدوجہد کریں۔
میری آرزو ہے کہ پاکستان صحیح معنوں میں ایک ایسی مملکت بن جائے کہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سنہری دور کی تصویر عملی طور پر کھنچ جائے۔ خدا میری اس آرزو کو پورا کرے۔
پاکستان میں کسی ایک طبقے کو لوٹ کھسوٹ اور اجارہ داری کی اجازت نہیں ہو گی۔ پاکستان میں بسنے والے ہر شخص کو ترقی کے برابر مواقع  میسر ہوں گے۔ پاکستان امیروں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور نوابوں کی لوٹ کھسوٹ کے لئے نہیں بنایا گیا۔ پاکستان غریبوں کی قربانیوں سے بنا ہے، پاکستان غریبوں کا ملک ہے اور اس پر غریبوں کو ہی حکومت کا حق حاصل ہے۔ پاکستان میں ہر شخص کا معیار زندگی اتنا بلند کر دیا جائے گا کہ غریب اور امیر میں کوئی تفاوت باقی نہ رہے گا۔ پاکستان کا اقتصادی نظام اسلام کے غیرفانی اصولوں پر ترتیب دیا جائے گا یعنی ان اصولوں پر جنہوں نے غلاموں کو تخت و تاج کا مالک بنایا۔‘‘

آہ! مگر قائد کی زندگی نے وفا نہ کی اور پاکستان کی باگ دوڑ امیروں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور نوابوں کے ہاتھوں میں چلا گیا جو ٤٧ سے آج تک عوام کا خون چوس رہے ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ہمیں ١٩٤٨ء کا پاکستان چاہیے

Posted on 25/12/2007. Filed under: پاکستان |

کابینہ کا اجلاس جاری تھا، اے ڈی سی نے پوچھا "سر! اجلاس میں چائے سرو کی جائے یا کافی؟" چونک کر سر اٹھایا اور سخت لہجے میں فرمایا "یہ لوگ گھروں سے چائے کافی پی کر نہیں آئیں گے"، اے ڈی سی گھبرا گیا، آپ نے بات جاری رکھی "جس وزیر نے چائے کافی پینی ہو گھر سے پی کر آئے یا پھر گھر واپس جا کر پئے، قوم کا پیسہ قوم کے لئے ہے وزیروں کے لئے نہیں"۔ اس حکم کے بعد جب تک وہ برسرِاقتدار رہے، کابینہ کے اجلاسات میں سادہ پانی کے سوا کچھ سرو نہ کیا گیا۔

 

گورنر جنرل ہاؤس کے لئے ساڑھے اڑتیس (38.5) روپے کا سامان خریدا گیا، آپ نے حساب منگوا لیا، کچھ چیزیں محترمہ فاطمہ جناح نے منگوائی تھیں، حکم دیا "یہ پیسے ان کے اکاؤنٹ سے کاٹے جائیں" باقی چیزیں گورنر جنرل ہاؤس کے لئے تھیں، فرمایا "ٹھیک ہے یہ رقم سرکاری خزانے سے ادا کر دی جائے لیکن آئندہ احتیاط کی جائے"۔

 

برطانوی شاہ کا بھائی ڈیوک آف گلوسٹر پاکستان کے دورے پر آ رہا تھا، برطانوی سفیر نے درخواست کی "آپ اسے ایئرپورٹ پر خوش آمدید کہہ دیں" ہنس کر کہا "میں تیار ہوں لیکن جب میرا بھائی لندن جائے گا تو پھر برٹش کنگ کو بھی اس کے استقبال کے لئے ایئرپورٹ آنا پڑے گا"۔

 

ایک روز اے ڈی سی نے ایک وزٹنگ کارڈ سامنے رکھا، آپ نے کارڈ پھاڑ کر پھینک دیا اور فرمایا "اسے کہو آئندہ مجھے شکل نہ دکھائے"۔ یہ شخص آپ کا بھائی تھا اور اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنے کارڈ پر اپنے نام کے نیچے "برادر آف قائد اعظم محمد علی جناح، گورنر جنرل پاکستان" لکھوا دیا تھا۔

 

زیارت میں*سردی پڑ رہی تھی، کرنل الٰہی بخش نے نئے موزے پیش کر دیے، دیکھے تو بہت پسند فرمائے، قیمت پوچھی، بتایا گیا "دو روپے" گھبرا کر بولے "کرنل یہ تو بہت مہنگے ہیں" عرض کیا "یہ آپ کے اکاؤنٹ سے خریدے گئے ہیں، فرمایا "میرا اکاؤنٹ بھی قوم کی امانت ہے، ایک غریب ملک کے سربراہ کو اتنا عیّاش نہیں ہونا چاہئے"، موزے لپیٹے اور کرنل الٰہی بخش کو واپس کرنے کا حکم دے دیا۔

 

زیارت ہی میں ایک نرس کی خدمت سے بہت متاثر ہوئے اور اس سے پوچھا "بیٹی میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں؟" نرس نے عرض کیا "سر! میں پنجاب سےہوں، میرا سارا خاندان پنجاب میں ہے، میں اکیلی کوئٹہ میں نوکری کر رہی ہوں، آپ میرا تبادلہ پنجاب کرا دیں"، اداس لہجے میں جواب دیا "سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں"۔

 

اپنے طیارے میں رائٹنگ ٹیبل لگوانے کا حکم دیا، فائل وزارتِ خزانہ پہنچی تو وزیرِ خزانہ نے اجازت تو دے دی لیکن یہ نوٹ لکھ دیا "گورنر جنرل اس قسم کے احکامات جاری کرنے سے قبل وزارتِ خزانہ سے اجازت کے پابند ہیں"، آپ کو معلوم ہوا تو وزارتِ خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا۔

 

ایک مرتبہ گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لئے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا، آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا "اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا، تو پھر کون کرے گا؟"

 

جب آپ گورنر جنرل ہاؤس سے نکلتے تھے تو آپ کے ساتھ پولیس کی صرف ایک گاڑی ہوتی تھی جس میں صرف ایک انسپکٹر ہوتا تھا اور وہ بھی غیر مسلم تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب گاندھی قتل ہو چکے تھے اور آپ کی جان کو سخت خطرہ تھا اور اس خطرے کے باوجود آپ بغیر سیکیورٹی کے کھلی ہوا میں سیر کرتے تھے۔

یہ تھا آج سے ساٹھ (60) برس پہلے کا پاکستان، وہ پاکستان جس کے سربراہ محمد علی جناح تھے۔

لیکن پھر ہم ترقی کرتے کرتے اس پاکستان میں آ گئے، جس میں پھاٹک تو ایک طرف رہے سربراہِ مملکت کے آنے سے ایک گھنٹہ قبل سڑکوں کے تمام سگنل بند کر دئے جاتے ہیں، دونوں اطراف ٹریفک روک دی جاتی ہے اور جب تک شاہی سواری نہیں گزرتی، ٹریفک کھلتی ہے اور نہ ہی اشارے۔

جس میں سربراہِ مملکت وزارت خزانہ کی اجازت کے بغیر جلسوں میں پانچ پانچ کروڑ روپے کا اعلان کر دیتے ہیں، وزارت خزانہ کے انکار کے باوجود رائٹنگ ٹیبل تو کجا پورے پورے جہاز خرید لئے جاتے ہیں۔

جس میں صدور اور وزرائے اعظم کے احکامات پر سینکڑوں لوگ بھرتی کئے جاتے ہیں، اتنے ہی لوگ نوکریوں سے برخواست کیے جاتے ہیں*اور ان سے کہیں زیادہ تبادلے عمل میں آتے ہیں اور کتنوں کو ہی قوانین و ضوابط بالائے طاق رکھ کر ترقیوں سے نوازا جاتا ہے۔

جس میں موزے تو رہے ایک طرف، بچوں کے پوتڑے تک سرکاری خزانے سے خریدے جاتے ہیں۔

جس میں ساڑھے اڑتیس (38.5) روپوں کی کیا وقعت؟ آج ایوانِ صدر کا ساڑھے اٹھارہ (18.5) اور وزیرِ اعظم ہاؤس کا بجٹ بیس (20) کروڑ روپے ہے۔

جس میں کارڈ پر بھائی کا نام لکھوانے کی کسی کو ضرورت ہی نہیں کہ ایوانِ اقتدار میں عملاً باپوں، خاوندوں، بھائیوں، بہنوں، بہنوئیوں، بھتیجوں اور بھانجوں کا راج رہا ہے، جس میں وزیر اعظم ہاؤس سے سیکرٹریوں کو فون کیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا "میں*صاحب کا بہنوئی بول رہا ہوں"۔

جس میں انگلستان کے ڈیوک آف گلوسٹر تو بہت دور امریکہ کے صرف نائب وزیر کے استقبال کے لئے پوری کی پوری حکومت ایئر پورٹ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

جس میں چائے اور کافی کی بجائے کابینہ کے اجلاس میں مکمل لنچ اور مکمل ڈنر سرو کیا جاتا ہے اور جس میں ایوانِ صدر اور وزیر اعظم ہاؤس کے باورچی خانے ہر سال کروڑوں روپے دھواں بنا دیتے ہیں۔

جس میں سربراہِ مملکت جدید ترین بلٹ پروف گاڑیوں، ماہر سیکیورٹی عملہ اور انتہائی تربیت یافتہ کمانڈوز کے بغیر دس کلو میٹر کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے۔

ہم اس ملک میں مساوات رائج نہیں کر سکے، اسے ایک بھی خوددار، با وقار اور ایماندار قیادت نہیں دے سکے، ہم اسے جدید، ترقی یافتہ اور پر امن ملک نہیں بنا سکے تو نہ سہی۔۔۔
لیکن شاید ہم اسے واپس 1948 تک بھی نہیں لے جا سکتے، ہم اسے 60 برس پرانا پاکستان بھی نہیں بنا سکتے۔

کوئی ہے جو ہم سے یہ ترقی، خوشحالی اور یہ عروج لے لے اور ہمیں ہمارا پسماندہ، غریب اور غیر ترقی یافتہ پاکستان واپس کر دے، جو ہمیں قائد اعظم کا پاکستان واپس کر دے کہ اس ملک کے 16 کروڑ عوام کو 2007 کی بجائے 1948 کا پاکستان چاہئے۔
(زیرو پوائنٹ . جاوید چوہدری)

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

قائد اعظم خدا کے حضور میں

Posted on 25/12/2007. Filed under: پاکستان, شعروادب |

باری تعالٰی

ہم نے دنیا میں مثالی جاہ و حشمت دی تجھے
جو حریفِ اہل شہرت تھی وہ شہرت دی تجھے
اک نئی جُوتدت عطا کی، اک اچُھوتا اجتہاد
اک بڑی قوت بفضلِ علم و حکمت دی تجھے
مشرق و مضرب تیرے افکار سے مرعوب تھے
خود معلم بن کے تعلیمِ سیاست دی تجھے
صرف پاکستان ہی تجھ کو نہیں بخشا گیا
پاک نیت، پاک طینت، پاک سیرت دی تجھے
قائداعظم تجھے سارا جہاں کہنے لگا
کاروانِ اہل ملت کی قیادت دی تجھے
اب جو ہو کر فائزِ منزل یہاں آیا ہے تُو
پیش کش کو کیا ہمارے سامنے لایا ہے تُو

 

قائدِ اعظم

ہدیہ منت بارگاہِ خدا لایا ہوں میں
اُمت ختم رُسل کا شکریہ لایا ہوں میں
اپنے کافوری کفن کے گوشہ محدود میں
خون بھر کر ملتِ مظلوم کا لایا ہوں میں
پیش کرنے کے لئے منجانب قومِ ضعیف
استغاثہ مشتمل بر خُوں بہا لایا ہوں میں
دفترِ مستقبلِ ملت ہے شایان کرم
دستخط کو محضرِاہل وفا لایا ہوں میں
دستِ لرزاں میں مرے نقشہ ہے پاکستان کا
اور اس کے ساتھ ہی یہ التجا لایا ہوں میں
بسکہ ہے آغاز تیرے ہاتھ میں انجام بھی
سلطنت دی ہے تو دے اب اس کو استحکام بھی

باری تعالٰی

ملتِ مرحوم کا ہم خوں بہا دیں گے تجھے
تیرے ایثارِ مسلسل کا صلہ دیں گے تجھے
خُونِ ناحق سے رنگے جن وحشیوں نے اپنے ہاتھ
کیا مآل ان کا ہوا یہ بھی بتا دیں گے تجھے
تجھ کو تاریخِ جہانِ نو بھلا سکتی نہیں
ارض پاکستان کے ذرے دُعا دیں گے تجھے
اب چراغ رہگزر ہوں گے نقوش پا ترے
ہم منارِ روشنِ منزل بنا دیں گے تجھے
قوت عزمِ و عمل بخشیں گے تیری قوم کو
مدعائے دل بقدرِ التجا دیں گے تجھے
حال بھی روشن ہے پاکستان کا استقبال بھی
اس کو استحکام بھی قدرت ہے استقلال بھی

قائداعظم

میں ہوں یا رب تنگ داماں، تیری رحمت کم نہیں
اپنے مرجانے کا اب مجھ کو ذرا بھی غم نہیں
اب میں ہوں اپنی قومِ پسماندہ کو دیتا ہوں پیام
ہے یہ وقتِ شادمانی، موقعہ ماتم نہیں
کُلُ و نفس پڑھنے والے کیوں ہیں مجھ پر نوحہ خواں
میرا مر جانا خلافِ فطرتِ عالم نہیں
زندگی نو دماغوں میں مچلنی چاہیے
یہ قنوط و یاس، شایانِ بنی آدم نہیں
اس کا مسلک، اس کا نصب العین تو موجود ہے
تم میں گو باقی تمھارا قائدِ اعظم نہیں
گر نہیں قائد، نہ ہو، کونین کا آقا تو ہے
زندہ و باقی خدائے اعظم و اعلٰی تو ہے

علامہ سیماب اکبر آبادی مرحوم

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عالمی اسلامی کانفرنس

Posted on 22/12/2007. Filed under: وڈیو زون, اسلام |

24 نومبر 2007ٗء کو ممبئی انڈیا میں ہونے والی عالمی اسلامی کانفرنس کی ایک وڈیو جس میں سوال و جواب کے session میں مشہور اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ہاتھوں ایک ہندو لڑکی Namita نے اسلام قبول کیا۔

اللہ اکبر، سبحان اللہ

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

آٹا جن

Posted on 22/12/2007. Filed under: طنز و مزاح |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عید مبارک

Posted on 21/12/2007. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, |

پاکستانی بلاگ کے تمام قارئین، بلاگرز اور تمام عالم اسلام بشمول پاکستان کے عید مبارک ہو۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

وفا کا نوحہ

Posted on 16/12/2007. Filed under: پاکستان, تاریخ, شعروادب |

آج ١٦ دسمبر ہے، سقوط ڈھاکہ کا دن۔ بطور قوم ہم نے اس تاریخی المیے کو کس حد تک یاد رکھا اور اس سے سبق سیکھ کر اپنے سیاسی رویوں کو بہتر بنایا، اس بارے کچھ نہ کہا جائے تو بہتر ہے۔ اتنے سالوں بعد بھی اگر وفاق اور صوبوں کے تعلقات کو دیکھا جائے تو شرمندگی ہوتی ہے کیونکہ ہم نے تاریخ کے اس عظیم سانحہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ہم ان غلطیوں کا اعادہ نہیں کر رہے جو جمہوری اور سیاسی حوالے سے مشرقی پاکستان کی المیے کا سب سے بڑا سبب تھیں۔
آج کے المناک اور تڑپا دینے والے دن کے حوالے سے پروفیسر شاہدہ حسن کی ایک نظم ‘وفا کا نوحہ‘ اس امید کے ساتھ پیشِ خدمت ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے اس المناک واقعے سے سبق سکھیں گے اور ہمارا حال اور مستقبل ہمارے ماضی کے کردار سے بہتر ہو گا۔

وفا کا نوحہ
(١٦ دسمبر ١٩٧١ء کی یاد میں)
ہماری تاریخ کے عقوبت کدے کا سب سے سیاہ لمحہ،
کہ جب ہماری جھکی نگاہیں
زمیں کے پاتال میں گڑی تھیں
ندامتوں کے عرق سے تر ہو گئی تھیں پیشانیاں ہماری
ہمارے ہاتھوں کو پشت سے باندھا جا رہا تھا
ہم اپنے دشمن کے روبرو
بےزبان و بےبس کھڑے ہوئے تھے
اور اُن کے قدموں میں ایک اک کر کے
اپنے ہتھیار رکھ رہے تھے
نہ جانے آنکھوں نے کیسے جھیلے وہ سب نظارے
جب ایک جنت نما جزیرے کی پھول وادی میں
صرف کانٹے اُگے ہوئے تھے
بہت سے مانوس اور غمگسار چہرے
دھوئیں کے بادل لگ رہے تھے
نہ اپنے مانجھی کے گیت دہرا رہی تھی گنگا
نہ بانس کے جنگلوں سے
نغموں کی نرم آواز آ رہی تھی
نہ کھیت میں
دھان کی پنیری لہک رہی تھی
نہ گھاٹ سے کشتیاں
روانہ ہوئیں سفر پر
حسین اور سرسبز مرغزاروں میں
چائے کے باغ کی خوشبوؤں سے بوجھل ہوا میں
اور ریشمی دھان کی کھڑی فصل میں
اچانک
بہت سے شعلے بھڑک اٹھے تھے
یہ آگ بس پھیلتی جا رہی تھی ہر سو
دلوں کے اندر
گھروں کے اندر
تمام چہرے پگھل رہے تھے
اور اس میں مٹتی ہوئی شناسائیوں
اور قربتوں کے
تمام احساس جل رہے تھے
زمین سہمی ہوئی تھی
اور آسمان چپ تھا
تمام لمحوں کو جیسے سکتہ سا ہو گیا تھا
ہزاروں لاکھوں دلوں کی گہری اداسیوں میں
بس ایک عفریت جاگتا تھا
وہ ایک ساعت ۔۔۔۔
کہ ہم نے انیس سو اکہتر کے اُس دسمبر کی
سولہویں شب
جسے خود اپنے وجود میں
موت کے تجربے کی صورت اترتے دیکھا

وہ برہمی کے بھنور میں جکڑے وجود
اک دوسرے کے بہتے لہو سے
ہولی منا رہے تھے
وطن کے پرچم کو، اپنی پلکوں سے تھام کر
چلنے والے ساتھی
وطن کا پرچم جلا رہے تھے

سقوط ڈھاکہ!
سراغ ملتا نہیں ہے
جس کے کسی سسب کا!!!
کہ ہم نے ہونٹوں کو جانے کیوں
مصلحت کے ریشم سے سی رکھا ہے!!!!
نہ جانے کیوں
ہم نے اپنے دل کی عدالتوں پر
لگا لئے قفل خامشی کے
فقط اسی وقت بولتے ہیں
کہ جب ہمیں ایک دوسرے پر بہتان باندھنے ہوں

وہ اوجڑی کیمپ ہو
کہ سی ایک سو تیس (C-130) طیارے کی تباہی
شہید ملت کا خوں ہو، یا
کارگل کا قصہ
نہ جانے کیوں آج بھی ہمارے
تمام ہی المیوں پہ چپ کے دبیز پردے
پڑے ہوئے ہیں
کٹے ہوئے پھل کی طرح جیسے
ہمارے سینے ۔۔۔۔ بہت سے قاشوں میں بٹ گئے ہیں

دہائیاں اب گزر چکی ہیں
وطن کی مٹی کی خوشبوؤں کو ترسنے والے
ابھی تلک ریڈکراس کے کیمپس میں
اذیت کے اور انتظار کے دن بِتا رہے ہیں
اور آتی جاتی رُتوں کو
اپنی وفا کا نوحہ سنا رہے ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...