Archive for جنوری, 2008

دلچسپ ملک

Posted on 21/01/2008. Filed under: پاکستان |

اس ملک میں حمود الرحمان کمیشن نام لے لے کر ذمہ دار ٹھہراتا ہے کہ فلاں کا مشرقی پاکستان میں یہ کردار تھا، فلاں نے یہ کیا اور فلاں نے کس کس موقع پر انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔لیکن ہوا کیا۔کچھ ملزم خاموشی سے ریٹائر ہوگئے۔کچھ وزیر یا سفارتکار بن گئے اور کچھ نے اپنی یادداشتیں لکھ کر صفائی پیش کی اور کتاب کی رائلٹی بھی وصول کرلی۔

یہاں انیس سو اٹھاسی میں آئی جے آئی بنوانے والے اور مہران گیٹ سکینڈل کے سب کردار ماسوائے غلام اسحاق خان زندہ ہیں۔ان میں سے کچھ حضرات شواہد اور عدالتی گواہیوں کے باوجود مختلف اداروں کے کنسلٹینٹ ہیں۔کچھ حالاتِ حاضرہ کے مبصرین کی کھال اوڑھے بیٹھے ہیں اور بعض تھنک ٹینکس بنا کر ملک و قوم کی حالت پر آنسو بہا رہے ہیں۔

یہاں مرتضی بھٹو قتل کیس گیارہ برس سے عدالتی فائیلوں میں سو رہا ہے۔اس کیس میں ماخوذ بیشتر اہلکار اور شخصیات یا تو ترقی پا چکے ہیں، یا ریٹائر ہوچکے ہیں یا پھر فوت ہوگئے ہیں۔نہ کوئی بری ہوا نہ کسی کو سزا ملی۔

انیس سو ننانوے میں کارگل کے پہاڑوں پر کیوں چڑھائی کی گئی۔اتنے فوجی کس مقصد کے لئے مرے۔حکمتِ عملی کا خالق کون تھا ۔سب کردار زندہ ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ باعزت اور طاقتور انداز میں زندہ ہیں۔کارگل تحقیقاتی کمیشن نہیں بننے دیا گیا۔ویسے بن بھی جاتا تو کیا کرلیتا۔

وزیرستان میں قبائلیوں پر چڑھائی کی حکمتِ عملی کس نے بنائی۔پھر انہی قبائلیوں کے رہنماؤں کو دہشت گرد قرار دے کر ہار پھول پہنا کر امن معاہدے کس کے کہنے پر ہوئے اور یہ معاہدے کس کے حکم پر توڑے گئے۔

ان دھشتگرد سرغنوں کو خفیہ فنڈ سے لاکھوں روپے کس نے ادا کئے اور پھر یہ رقم حاصل کرنے والوں نے فوجیوں کو کیوں اغوا اور قتل کرنا شروع کردیا۔اور سوات میں ایک حجرے سے نشریات شروع کرنے والے ایف ایم ریڈیو ٹرانسمیٹر نے پورے ضلع کو کس کی آنکھوں کے سامنے ایک جہادی کش مکش میں جھونک دیا۔کیا آج تک مذکورہ مہم جوئی اور بد انتظامی کی ذمہ داری کسی کمانڈر یا پولٹیکل ایجنٹ یا سرکاری سیاستداں نے اپنے سر لی۔کیا کسی سے پوچھ گچھ ہوئی۔

لال مسجد اسلام آباد میں اسلحہ جمع کرنے والوں کو سات ماہ تک کس نے سلیمانی ٹوپیاں فراہم کیں۔اور جب رائی کا پہاڑ بن گیا اور سو سے زائد لوگ مارے گئے تو کیا یہ سب خود بخود ہوگیا یا کوئی ادارہ یا اہلکار بھی تھوڑا بہت ذمہ دارتھا۔کیا سب کچھ مرنے والوں کے ساتھ قبر میں دفن ہوگیا۔

سٹاک ایکسچینج میں مارچ دو ہزار پانچ میں تیرہ ارب روپےڈوب گئے۔وزیرِ اعظم شوکت عزیز یہ وضاحت کئے بغیر کیسے ملک چھوڑ گئے کہ اس بدقسمت مالیاتی دن کا ریکارڈ کہاں اور کس نے کس کے حکم پر غائب کردیا۔

صدر پرویز مشرف نے سینہ ٹھونک کر کہا کہ تین نومبر کو ایمرجنسی کا نفاز ایک غیر آئینی اقدام تھا لیکن اس کا نفاز ایک مجبوری تھی۔کس عدالت میں ہمت ہے کہ صدر کے اس بیان کا ازخود نوٹس لیتی۔

بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد جائے حادثہ کو دو گھنٹے میں فائر بریگیڈ کے پانی نے دھو دیا۔صدر مشرف نے کہا یہ غلطی تھی۔آج تک یہ کیوں نہیں پتہ چل سکا کہ کس کی غلطی تھی اور اس کے خلاف کیا کاروائی ہوئی۔

صدر مشرف نے کہا بینظیر کو بینظیر کی غلطی نے مار ڈالا۔وزیرِ داخلہ نے کہا گولی لگنے سے موت ہوئی۔ان کی وزارت کے ترجمان نے کہا لینڈ کروزر کا لیور لگنے سے موت ہوئی۔پھر کہا گیا کہ ترجمان ایک سیدھے سادے فوجی ہیں لہذا جلد بازی میں یہ سب کہہ گئے۔کوئی اور ملک ہوتا تو ان تینوں سیدھے سادے فوجیوں کو تحقیقات غلط رخ پر ڈالنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا لیکن سب اپنی اپنی جگہ موجود ہیں۔

اگر یہاں کسی کا احتساب ہوسکتا ہے تو افتخار چوہدری اور اعتزاز احسن جیسوں کا ہوسکتا ہے جنہوں نے اس نظام کی نفسیات سمجھنے میں شدید غلطی کی ۔

اگر کسی نے صحیع معنوں میں اس نظام کو سمجھا ہے تو وہ بیت اللہ محسود اور مولانا فضل اللہ جیسے لوگ ہیں۔۔۔۔۔ہے نا پاکستان ایک دلچسپ ملک !!!

وسعت اللہ خان، بی بی سی اردو

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کربلا کا پیغام

Posted on 20/01/2008. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , , , |

آج یوم عاشور ہے، آج کے دن کربلا میں کرب و بلا کی ایک انمٹ داستان رقم ہوئی تھی۔ میرا عقیدہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک بار جنم لینا تھا لیکن یزید بار بار جنم لیتا رہے گا، کیونکہ اس کے نصیب میں بار بار رسوائی لکھی ہوئی ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جان نثاروں کی قربانی انسان کے عظمت کردار کی ایک ناقابل فراموش گواہی بن کر ابد تک مینارہ نور رہے گی۔ جبکہ یزید کے حصے میں جو رسوائی آئی اس کے نقوش بھی رہتی دنیا تک تاریخ انسانی کے سینے پر ثبت رہیں گے اور ہر دور کا یزید بالآخر دائمی ہزیمت سے دوچار ہو گا۔
امام عالی مقام اور خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم قربانی آج بھی مصحلت کوش دنیاداروں کو حیران کرتی ہے انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یزید کی ایک معمولی سی خواہش پوری کر دینے سے جب پورے قافلے کی جانیں بچ سکتی تھیں، تو حضرت امام حسین نے ایسا کیوں کیا؟ ہم جس دنیا میں جی رہے ہیں اس میں اصول پرستی اور سچائی کی اہمیت نہیں رہی، بلکہ اس کی جگہ ڈپلومیسی نے لے لی ہے۔ ڈپلومیسی درحقیقت منافقت کا دوسرا نام ہے۔ حضرت امام حسین نے تو جان تک بچانے کے لئے یزید کی بیعت نہیں کی تھی، موجودہ عہد میں تو اقتدار بچانے کے لئے یزید وقت کی بیعت سے انکار نہیں کیا جاتا۔ اگر تاریخ انسانی کے دامن میں کربلا والوں کی قربانی نہ ہوتی تو آج انسانیت یکطرفہ طور پر ایک گھٹیا نظریہ حیات کی مالک ہوتی، مگر اس عظیم قربانی کے باعث انسانیت اور حیوانیت کے درمیان ایک ناقابل تنسیخ لائن کھینچ دی گئی ہے۔ جس کے ذریعے قیامت تک حق و باطل میں تمیز کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔
حضرت امام حسین اور خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ قربانی نہ کسی وقتی فیصلے کا نتیجہ تھی اور نہ تاریخ کے پاس اس سے پہلے اور نہ واقعہ کربلا کے بعد کوئی ایسی قربانی ہے جس کے ذریعے اس عظیم نظریے کو زندہ رکھنے کے لئے رہنمائی ملتی ہو جسے حق کے لئے کٹ مرنے کا نام دیا جاتا ہے۔ فوری اور وقتی فیصلے بھی صرف جان بچانے کے لئے کئے جاتے ہیں جان دینے کے لئے نہیں۔ جان دینے کے لئے تو مصمم ارادے اور دائمی جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس قربانی میں تو فنا فی الذات ہونے کا عمل پیش نظر تھا۔ جب کوئی ہستی اپنی ذات سے بالاتر ہو کر اللہ تعالٰی کی خوشنودی اور اپنے نظریے کی حفاظت کے لئے جان نثاری کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اس کا عمل سوائے کربلا والوں کے اور کسی کے مماثل نظر نہیں آتا۔
یزید حضرت امام حسین اور اس کے جان نثاروں کو شہید کر کے کتنے برس جی لیا یا حضرت امام حسین وقتی مصحلت کی خاطر یزید کے ہاتھ پر بیعت کر کے مزید کتنے برس جی لیتے، چاہے کتنے ہی برس جی لیتے لیکن آج ہمارے دلوں میں محبت و عقیدت کا سرچشمہ بن کر موجود نہ ہوتے، دوسری طرف یہ بھی نہ ہوتا کہ یزید ہمارے دلوں میں نفرت کا استعارہ بن کر اسی طرح معتوب کردار ہوتا، جیسا کہ اب ہے۔ اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں اول یہ کہ حضرت امام حسین نگاہ بصیرت سے مالامال تھے اور دوسرا یہ کہ یزید کوتاہ نظر تھا۔ حضرت امام حسین کو اپنے قافلے والوں کے کٹے ہوئے سروں کی فکر نہیں تھی بلکہ فکر یہ تھی کہ جس دین کی حفاظت کا بار ان کے کاندھوں پر آن پڑا ہے اس کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، وہ اپنے فیصلے کو کربلا کی زمین تک محدود نہیں رکھ رہے تھے بلکہ ان کی نظر آنے والے زمانوں پر تھی۔ وعدہ معاف گواہوں، لوٹوں، وفاداریاں تبدیل کرنے والوں اور امریکہ کی گیڈر بھبھکیوں سے ڈر کر بزدلانہ فیصلوں کے جس دور میں ہم زندہ ہیں اس میں حضرت امام حسین کے اس فیصلے کی آسانی سے سمجھ نہیں آتی۔ اس میں دنیاداروں کے اندر رہ رہ کر یہ سوال سر ابھارتا ہے کہ کربلا میں یزید کی اطاعت قبول کر کے حضرت امام حسین نے اپنی جان کیوں نہ بچائی اور یزید سے بدلہ لینے کے لئے کسی مناسب وقت کا انتظار کیوں نہ کیا؟ اگر خدانخواستہ حضرت امام حسین ایسا کر گزرتے تو آج انسانی تاریخ کے دامن میں کچھ بھی نہ ہوتا۔ حضرت امام حسین نے قربانی دیکر نہ صرف اپنے عظیم المرتبت نانا کے دین کی لاج رکھی بلکہ انسانیت کو بھی ندامت اور شرمندگی سے بچا لیا۔
آج اگر کمزروں کی طرف سے وقت کے یزیدوں کے خلاف مزاحمت جاری ہے تو اس کا درس بھی واقعہ کربلا نے دیا ہے یہ قربانی نہ ہوتی تو دنیا میں یزید غالب آ چکا ہوتا۔ ہر دور میں اس کی بیعت کرنے والے دست بستہ اس کے سامنے جھک جاتے۔ یہ حضرت امام حسین کی عظیم قربانی کی ہی اعجاز ہے کہ یزید چودہ سو سال پہلے بھی شرمندہ تھا اور آج کا یزید بھی بظاہر فتح یاب ہونے کے باوجود شرمندگی سے دوچار ہے۔ واقعہ کربلا کا یہ پیگام بھی دائمی ہے کہ ہر دور کا یزید طاقت کے لحاظ سے برتر ہو گا۔ مگر اس کی اخلاقی اور اصولی طاقت حسینیت کے پیروکاروں کی نسبت انتہائی کمتر ہو گی۔ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر ممکن ہے فتوحات حاصل کر لے مگر وہ اپنے مخالفین کو سر جھکانے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔ آج ملت اسلامیہ کے مقابلے میں وقت کا یزید کون ہے؟ ظاہر ہے یہ کردار تقدیر نے امریکہ کو سونپ دیا ہے لیکن قابل غور نکتہ یہ ہے کہ وہ زمینوں اور ملکوں کو فتح کرنے کے باوجود مسلمانوں کو اپنی بیعت پر مجبور نہیں کر سکا۔ سر کٹانے والے اس کے سامنے کسی بھی حالت میں سر جھکانے کو تیار نہیں۔ آج نہیں تو کل یزید وقت نے بھی اسی ذلت و خجالت سے دوچار ہونا ہے جو اصل یزید سے لیکر اس کے پیروکار یزید وقت کا مقدر رہنی ہے۔ یہی واقعہ کربلا کا پیغام ہے جو کل بھی سچ تھا، آج بھی سچ ہے اور آنے والے کل میں بھی اسی طرح سچ ہو گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پیش گوئی

Posted on 15/01/2008. Filed under: اسلام, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز: |

اللہ خالق ہے، انسان مخلوق۔ یہی فرق ہے پیش گوئی سے پیش بینی تک

علت معلول سے ہے؛ معلول علت سے نہیں۔ علم معلوم سے ہے، معلوم علم سے نہیں؛ معلوم نامعلوم سے ہے(١) ۔ایک پیش گوئی خدا کرتا ہے، ایک پیش گوئی انسان کچھ علوم، تجربات یا کلیات کے تحت کرتا ہے۔ ابہام سا دِکھائی دیتا ہے مگر مبہم کچھ نہیں؛ ابہام تو سرسری نگاہ میں رہتا ہے۔ اللہ کی پیش گوئی مکمل اور exact ہوتی ہے۔ انسان ناقص العقل ہے۔ اُسکی پیش بینی ١٠٠ فیصد نہیں ہوسکتی۔ اُس میں ہمیشہ probablity (شک) کا عنصر غالب رہےگا۔
انسان کا پیشگوئی کرنے سے نہ صرف اللہ پر اعتقاد کمزور ہوتا ہے؛ بلکہ یہ کچھ کلیات (formulas) ہیں جو عموماً ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ یہی ٹھیک ہونا مزید گھمبیر مسائل پیدا کرتا ہے۔ جو اکثر انسانوں کےدماغوں کو فرعون بنا دیتے ہیں چند ایک تو خود خدائیت کا دعوی کر بیٹھتے ہیں یا کروا دیتے ہیں۔ خدا نے دُنیا کے اختتام کی پیش گوئی بیان فرمائی۔ کچھ محققین موجودہ دور کو قیامت کا دور قرار دے دینے پر بضد ہیں۔ جبکہ خدا کےاس بارے میں واضح احکامات قرآن پاک میں موجود ہیں۔یہ مفکر، محقق اور دانشور بلاشبہ علم والے ہیں مگر یوں پیش گوئی کر کےلوگوں کو مغالطہ میں پھنسا کر، خود تو دعوی کر دیتے ہیں اور دعوئوں کا باعث بھی بن بیٹھتے ہیں۔ عام لوگ اِن پیش گوئیوں کے باعث الجھ سے جاتے ہیں۔ علم والا معاملہ اُلجھاتا نہیں، سلجھاتا ہے۔ جب غرض صرف اپنی نمائش، بیجا تعریف اور واہ، واہ کی بڑائیت سے ہو تو لوگوں کی رہنمائی نہیں ہوا کرتی۔ یہ معاملہ جاہلیت سے جہالت کا ہے۔ جہاں خدا کی خدائیت نظر آتی نہیں، اپنی فرعونیت ہی اپنی خدائیت کاشائبہ دلا جاتی ہے۔ جو باعث بنتی ہے منکر خدا کا۔ بیشک یہ علوم کچھ کلیات پر مبنی ہیں۔ اِن سے واضح یہ نظر آتا ہے۔ خدا کی کائنات بڑے ہی حسن سے توازن ِترتیب میں، خوبی کےساتھ خامی کیوں؛ اُسکا جواب اِن ”ظاہری مخفی علوم“ میں ہیں۔ جب اپنی ذات کی بڑائی کو minus کر کے، اُس میں اللہ کی ذات کی بڑائی کو plus  کر دیا جائے۔ تب vision کھلنا شروع ہوتا ہے۔
غیب کا علم کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ وُہ rule of thumb نہیں ہوتا۔ وُہ حقیقی پوشیدہ ہوتا ہے، مجازی پوشیدہ نہیں۔ لذت ایک احساس ہے، چسکا ایک مزید احساس اور ہوس بھی ایک خطرناک احساس ہے۔ جب پیش بینی ہوس کا شکار ہو جائے تو یہ دُنیا کی بربادی لاتی ہے۔ پیش بینی اِن احساسات میں سےکسی کا بھی شکار ہو؛ تو وُہ بالترتیب خطرے سے خطرناک اور پھر خطرناک ترین ہی حالات کا مئوجب بنےگا۔ یہ معاملہ بڑی ذمہ داری کا ہوتا ہے۔ جو غیب کی بات جانتا ہے اسکی بات میں عموماً خاموشی کا عنصر غالب رہتا ہے۔
مخفی علوم فارمولوں سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔ الہام ہوجانا، سچا خواب آجانا مخفی معاملات ہیں۔ مخفی عِلم یہ نہیں کہ حساب لگایا جائے۔ مخفی علم یہ ہے کہ نگاہ پڑتے ہی سب کچھ عیاں ہو جائے۔ مخفی علم خدا کی مرضی سے عنائیت ہوتا ہے۔ اُسکی حد کا تعین بھی خدا کی جانب سے ہوتا ہے۔
غیب جاننے والوں کی بھی حدیں مقرر ہے۔ جس طرح پرندوں کی پرواز کی حد مقرر ہے۔ اسی طرح جو غیب کو حقیقی طور پر جانتے ہیں۔ وُہ آنے والے واقعات سے آگاہ ہو کر بھی خاموش رہتے ہیں۔ دور اندیشی اتنی کہ کوئی جان نہیں سکتا۔ غیب جو جانتے ہیں؛ وُہ اظہار نہیں کیا کرتے۔ حالات کےمطابق ضرورت کےتحت صرف اشارہ ہی کر دیا کرتے ہیں۔ یہی اصل میں پیش گوئی کا معاملہ ہے۔ جو ہر کوئی جانتا نہیں۔
ہاتھ کی لکیریں اپنے اندر کئی dimensions رکھتی ہیں۔ انسان کی بیماری کی تشخیص و علاج، انسان کے مزاج کا علم اِسکی منفرد خاصیتوں میں سے ہیں مگر لوگوں کی اکثریت کی توجہ صرف مستقبل جان لینے کی ہوتی ہیں۔ دست شناسی میں لکیریں ضرور بتا دیتی ہیں۔ مگر بدل بھی جلد ہی دِنوں میں جاتی ہیں۔ آپ غصہ کیجیئے آپکی لکیریں بدلیں گی، آپ مسکرائیں تب بھی آپکی ریکھائیں تبدیل ہوگی۔ ذرا سوچئیے! یہ معاملہ ہے کیا؟ ہر شخص کا مستقبل اُسکے عمل اور کردار پر منحصر ہے۔ یہی وُہ معاملہ ہے۔ جو خدا نے انسان کو اختیار میں دیا ہے۔
ہم اکثر دور اندیشی کو بھی پیش گوئی کا نام دے جاتے ہیں۔ برائی کا انجام تباہی، بربادی ہے۔ یہ پیش گوئی نہیں ہے۔ یہ بصیرت ہے۔
روش قانون فطرت کا بتلاتی ہے۔” ہر عروج کو زوال ہے“۔ اگر روش بدل جائے تو زوال نہیں آیا کرتا بلکہ ٹل جایا کرتا ہے۔ بُرے کا انجام تباہی ہے۔ اگر بُرا اپنی روش بدل لے تو اُسکا انجام آبادی بھی ہوسکتا ہے۔ دُنیا کی گنوار ترین قوم، ہوسکتا ہے مستقبل کی تہذیب یافتہ ترین قوم بن جائے۔ جبکہ گنوار کا انجام جہالت ہوا کرتی ہے۔ یہ تب ہی ہوتا ہے؛ جب روش بدل لیں۔
تجربےکی بنیاد پر انتباہ دے دینا۔ غیب کا علم نہیں ہوتا۔ وہ تو تجربہ کا مجرد ہونا ہے۔ باپ بیٹے کو منع کرتا ہے کہتا ہے تم یوں کروں گے تو یہ ہوگا۔ پھر یہ ہوگا اور یوں چلتے چلتے انجام یہ ہوگا۔ تو وُہ اختیار کی گئی روش، رویہ اور حالات کا انجام ہوتا ہے۔ غیب کی بات نہیں۔ سائنسدانوں کی پیش بینی عموماً انسانیت کی فلاح کیلیئے ہوتی ہیں۔ مقصد فلاح ہو تو وُہ کامیاب ہوجایا کرتا ہے۔ سائنس کی پیش بینی تجربہ کی بنیاد پر آگاہی ہوتی ہے۔
ہم اپنی صلاحیتوں کو myths کا شکار کر لیتے ہیں۔ دراصل ہم ایک انجانے خوف کا شکار ہوتے ہیں۔ کسی کا سرخ رنگ کےقلم سے لکھنا؛ ورنہ نہ لکھنا۔ ہٹلر کا ٢  کےعدد سے مطابقت پیدا کر لینا، نیپولین کا کالی بلی سے خوف، مسولینی کا تاش کے پتوں سے تعلق اِک خوف تھا۔ اللہ پر یقین نہ تھا، اپنی ذات پر بھروسہ نہ تھا۔ ظہیرالدّین بابر کی قسمت پانی پت کی جنگ کے موقع پر ستاروں کے برعکس تھی، مگر شکست ابراہیم لودھی کو ہی ہوئی۔ بابر کو اللہ پر یقین تھا۔ بیشک نجومیوں کا علم درست تھا۔ ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔
انسان pre-diction کو تسلیم کر کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتا ہے۔ جبکہ اسلام میں ہے دُعا کروں اور ساتھ کوشش جاری رکھو۔ میدان بدر میں دُعا کےساتھ عملی جنگ کی کوشش بھی شامل تھی۔ جبکہ اس ہی عرب نسل میں سے چند افراد نے ابراہہ کا فیل والا واقع دیکھ رکھا تھا۔ جنگ میں نصرت تو تھی ہی مگر مسلمانوں کے لیئے غزوہ بدر عملی جدوجہد کا درس بھی رکھتا ہے۔ اللہ نے قرآن پاک میں کئی پیش گوئیاں کیں۔ اُنکو ہم ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر یوں تسلیم کر لیتے ہیں؛ جیسے وُہ وقت آج کا ہی ہے۔ مسلمان ملک پر حملہ ہوتا ہے، تو ہم کہتے ہیں: دشمن کو شکست سے دوچار کریں گے جب ملک مغلوب ہو جاتا ہے۔ پھر کہتے ہیں قرآن میں ہے کہ ایک وقت آئےگا مسلمان تمام دُنیا میں مغلوب ہو جائیں گے تو وُہ وقت آن پہنچا ہے۔ ہرگز نہیں! ابھی ہم بالکل نہیں جانتے؛ وُہ وقت کونسا ہوگا۔ ہم کوشش سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ آج سے سو برس پہلےمسلمان تو غلام ہوگیا تھا۔ اب پھر مغلوب ہوجانا کیا معنی رکھتا ہے؟ پھر غالب ہو جانے کی بھی بات ہے۔تو غالب پھر کوشش سے ہی ہوا جاتا ہے۔نتیجہ اللہ پر رکھا جاتا ہے۔
”دعوی نمائشی لوگ کیا کرتے ہیں، اصلاح فہمائشی کیا کرتے ہیں“۔ عام انسان عموماً پیش گوئی کر کےدعوی کرتا ہے۔ اُسکا مقصد اصلاح نہیں ہوتا۔ اپنی ذات کی بڑائیاں ہوتی ہیں۔ جو اکثر صرف برائیاں ہی پیدا کرتی ہیں۔ اللہ کی پیش گوئی اصل میں انسان کی اصلاح کے لیئے ہوتی ہے۔ اُس میں دعوی ضرور ہوتا ہے مگر وُہ دعوی ہوتا نہیں۔ اس میں انتباہ ہوتا ہے۔اصلاح کی دعوت ہوتی ہے۔ وُہ وقت کےخدائوں کے لیئےدعوی اور سمجھ والوں کے لیئے اللہ  کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ یہ کائنات اللہ نے بنائی ہے۔ وُہ بخوبی جانتا ہے کیا، کب اور کسطرح سے ہونا ہے۔ اللہ نے یہ  بتایا۔ بدی غالب آکر بھی مغلوب ہوجاتی ہے؛ نیکی مغلوب ہو کر اِک دِن پوری دُنیا پر پھیل کر نمایاں ہو جائےگی۔
ایک دست شناس palmistry میں مہارت رکھنے کے باوجود ہمیشہ اُمید کی کرن دِکھاتے تھی، خوف کی نہیں۔ اُنکے بارے میں مشہور تھا کہ ایک شخص کو اگر صبح کے وقت پھانسی ہو جانی ہو تو وُہ ہاتھ دیکھ کر کہہ دیتی۔ ”بھائی آپ پریشان کیوں ہوتے ہو۔ صبح جب آپ جائیں گے تو آپکی سزا کےاحکامات معطل ہو چکے ہونگے“۔ اُن کا مئوقف تھا کہ اُس شخص کی زندگی کی ایک رات باقی ہے۔ اُسکو سکون سے نیند تو آجائے۔ وُہ دو گھڑی خوشی سےگزار تو لے۔ کیوں وقت آنے سے پہلے بُری خبر سنا کر اُسکو مار دیا جائے اور اُسکی رات بھی  بے چین گزرے۔
اُولیا کرام کے پاس جب کوئی اپنی التجا لے کر آتا ہے تو وُہ دُعا فرماتے ہیں۔ اچھی خبر کی نوید سنا دیتے ہیں۔ بُری خبر ہے تو چھپا دیتے ہیں۔ پیش گوئی کر دینے سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ اگلےشخص کو خوف میں مبتلا کر دیا جائے۔ اُسکو اُمید کی کرن دِکھائو مگر اتنی بھی نہیں کہ وُہ خود کو خود فریبی یا خوشی کے خوف میں مبتلا کر ڈالے۔
مادی پیش گوئی انسان اپنی سمجھ کے مطابق کسی نہ کسی کلیہ کےتعاون سےکرتا ہے۔ روحانی پیش گوئی بندے کی جانب سےنہیں ہوتی۔یہ اللہ کی جانب سے ہوتی ہے۔ اللہ کی مرضی سے ایک خاص حد تک ہوتی ہے۔ اُس حد سے باہر نہیں۔
پیشگوئی کون کرتے ہیں ؟ اور پھر اُسکو چھپایا کیوں جاتا ہے؟ جس طرح رسول پاک کے دیدار کے معاملہ میں کچھ احتیاطوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے؛ خاموشی میں رکھ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح عموماً پیش گوئی بھی چھپا لی جاتی ہے۔ کیونکہ عوام گمراہ ہو سکتی ہے، ہر کوئی دعوی کرسکتا ہے۔ مگر اس سے ہر گزیہ مراد نہیں کہ دیدار والا پیش گوئی کرے۔ بلکہ یہ بھی اللہ کی عنائیت ہوتی ہیں۔ جسکو اللہ جیسے چاہے عنائیت کردے۔ حتٰی کہ بیان اور سامعین کی حد تک بھی اللہ کی جانب سے ایک حد مقرر ہو جاتی ہے۔ پیش گوئی کی تفصیل کا معاملہ صرف اللہ ہی جانتا ہے بندہ نہیں۔ فرعون کےدربار میں ایک پیش گوئی ہوئی فرعون نے اُسکا قلع قمع کرنے کی بڑی سعی کی مگر پیش گوئی پھر بھی ہوگئی۔ یہ اللہ کی جانب سے نجومیوں نے کی تھی۔ مگر اللہ کی مرضی شامل حال تھی۔ ایک خواب حضرت یوسف نے بھی دیکھا تھا۔ بادشاہت کا، پیغمبریت کا؛ مگر سفر کا تمام دور مایوسیوں اور ناکامیوں کا ہی تھا۔ مگر اِس خواب کے ساتھ ہی اصل حقیقت کو حضرت یعقوب نے بھائیوں کو بتانے سے منع فرما دیا تھا۔ کیونکہ ہر بات ہر ایک کے لیئے نہیں ہوتی۔
ادھورا علم خطرناک ہی ہوتا ہے۔ ایک ماہر نگاہ صحیح تعین کر کےدرست ترجمہ کسی حد تک کرسکتی ہے۔ اکثر نگاہ بھی دھوکہ کھاتی ہے۔
(فرخ)

(اگر میری بات میں کوئی غلطی ہو، یا میں غلط ہو تو مہربانی فرما کر مجھےمطلع کیجیئے۔ میں نہایت مشکور ہو گا۔تاکہ میں اپنی غلطی کی تصحیح کر سکوں)

حوالہ جات:(١) واصف صاحب

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

اچھی خبر

Posted on 14/01/2008. Filed under: پاکستان |

کیا کسی کو یاد ہے کہ پاکستانی عوام کو آخری بار اچھی خبر کب سننے کو ملی تھی؟

یہ سوال لاہور میں تازہ مبینہ خودکش حملے کی خبر سننے کے بعد ذہن میں آیا۔ ذہن پر کافی زور دیا، ساتھیوں سے دریافت کیا تاہم جواب کسی کو سمجھ میں نہ آیا۔

کچھ دوستوں نے تو طنزیہ طور پر بات قیام پاکستان تک پہنچا دی۔ خیر ملک بننے کے بعد بہت کچھ یقیناً اچھا بھی ہوا ہے لیکن گزشتہ ایک ڈیڑھ برس میں حالات انتہائی دگرگوں ہوئے ہیں۔

سیاسی طور پر اگر دیکھا جائے تو اچھی خبروں میں شاید پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو اور مسلم لیگ کے رہنماء نواز شریف کی وطن واپسی، معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی گزشتہ برس جولائی میں بحالی یا پھر جنرل مشرف کا ریٹائرڈ جنرل مشرف میں تبدیل ہونا شامل ہیں۔ لیکن بحثیت قوم متفقہ خوشی کے بارے میں سوال پھر سوال ہی رہا۔

اس کے مقابلے میں لوگ ہلاکتوں کی تعدادگن گن کر، صحافی خودکش حملوں کا پس منظر تلاش کرتے کرتے اور تحقیقاتی ادارے ان حملہ آوروں کے سر اکٹھے کرتے کرتے یقیناً تھک گئے ہوں گے۔ لیکن سلسلہ ابھی تھما نہیں۔

جمعرات کی بری خبر لاہور سے آئی۔ انیس پولیس والے اور کئی عام شہری جان کھو بیٹھے ہیں۔

حکومت کے لیے تو یقیناً ایک اور آسان راہ فرار شاید قبائلی علاقوں میں موجود شدت پسندوں پر الزام ڈال دینا ہو لیکن آج تک یہ واضع نہیں ہوسکا کہ ان تمام حملوں کے ذمہ دار صرف وہی ہیں یا کچھ اور وجہ بھی ہے۔

یہ دعویٰ کہ ہر حملہ قبائلی شدت پسندوں کی ہی کارروائی ہے، ہضم کرنا روز مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے واضع حقائق اور ثبوت سامنے نہ لانے سے شکوک و شبہات اپنی جگہ قائم ہیں۔

ایسے میں صدر پرویز مشرف کہتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ کو اچھی اچھی باتیں بتانی چاہئیں، لوگوں میں ناامیدی نہیں پھیلانی چاہیے۔ ایسی اچھی خبر آخر میڈیا کہاں سے لائے۔ خود فرضی طور پر بنائے؟

اختتام برس حالات ایسے تھے کہ اچھے سال کی امید نہیں کی جاسکتی تھی۔ پہلے دس دن پر نظر ڈالیں تو حالات میں بظاہر کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ایسے میں امید کس چیز کی کرنی چاہیے؟

یقیناً اچھی خبر کی جس کا امکان کم ہی دکھائی دے رہا ہے۔

 

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

سائبر کرائم آرڈیننس

Posted on 11/01/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس, ٹیکنالوجی, پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق سائبر کرائم آرڈیننس نافذکر دیا گیا ہے جو  دسمبر 2007ء سے نافذ العمل ہوگا۔ اس سلسلے میں نگران وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے کہا ہے کہ سائبر کرائم آرڈیننس نافذکر دیا گیا ہے جس کے تحت سنگین نوعیت کے جرائم کمپیوٹر سے ایٹمی اثاثہ جات کو ہیک کر کے نقصان پہنچانے، دہشت گردی اور فراڈ سمیت موبائل فون کے ذریعے کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے جرائم پر زیادہ سے زیادہ موت کی سزا دی جا سکے گی،انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات بھی جرائم میں شامل ہوں گے۔ سائبر کرائم کی سماعت کیلئے 7 رکنی ٹربیونل اگلے ماہ قائم کر دیا جائے گا اورجن ممالک کے ساتھ معاہدہ موجود ہے، ان سے سائبر کرائم کے مرتکب مجرمان کا تبادلہ کیا جا سکے گا۔ جوہری اثاثہ جات، آبدوزوں، طیاروں کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کو ہیک کر کے نقصان پہنچانے سمیت سنگین نوعیت کی دہشت گردی پر موت کی سزا دی جا سکے گی جبکہ 18 نوعیت کے مقدمات کا احاطہ کیا گیا جن پر ٹربیونل سزائیں دے سکے گا۔ ان جرائم کی تشریح بہت وسیع ہے جس میں سائبر سے متعلق تمام نوعیت کے جرائم کا احاطہ ہو جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جن جرائم کی ٹربیونل سماعت کریگا، ان میں کمپیوٹر کے ذریعے کسی دوسرے کے کمپیوٹر تک رسائی، ڈیٹا تک رسائی، ڈیٹا کو نقصان پہنچانا، سسٹم کو نقصان پہنچانا، آن لائن فراڈ کرنا جن میں جعلی اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے رقوم نکلوانا اور دوسروں کے کارڈز کے کوڈ استعمال کرنا، الیکٹرونک سسٹم یا آلات کا غلط استعمال، کمپیوٹر اور دیگر آن لائن آلات کے کوڈ تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے، اینکرپشن کا غلط استعمال، کسی کا کوڈ بدنیتی کی بنا پر استعمال کرنا، سائبرا سٹاکنگ، اسپامنگ، اسپوفنگ، بلااجازت مداخلت کرنا، سائبر دہشت گردی میں شامل ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے کہا کہ دنیا بھر کے 41 ممالک میں سائبر کرائمز قوانین نافذ ہیں پاکستان 42 واں ملک بن گیا ہے جبکہ اس قانون پر عملدرآمد کیلئے 60 سے زیادہ ممالک سے تعاون حا صل کیا جاسکے گا۔ ایف آئی اے کا سائبر کرائمز ونگ اس قانون کے تحت مقدمات کا اندراج تحقیقات اور پیروی کی ذمہ داری نبھائے گا۔ سینئر مشیر شریف الدین پیرزادہ کی سربراہی میں کمیٹی نے سفارشات پیش کی ہیں ان کی روشنی میں سات رکنی انفارمیشن کمیونیکشن ٹربیونل قائم ہوگا جس میں سیشن جج کی سطح کے ارکان ہونگے۔ ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جاسکے گی جبکہ سپریم کورٹ میں ایسے مقدمات کی سماعت کا نظام وضع کیا جائیگا جو ایک ماہ کے اندر قائم کر دیا جائیگا۔ صدر پرویز مشرف کے حکم پر سائبر کرائمز آرڈیننس 31 دسمبر 2007ء سے نافذ العمل ہوگا۔ وفاقی وزیر عبداللہ ریاڑ نے بتایا کہ جرائم میں کمپیوٹرز کے ذریعے معلومات ڈیٹا چوری کرنا ویب سائٹس کو نقصان پہنچانا اور خفیہ دستاویزات تک رسائی جیسے جرائم شامل ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

معمہ

Posted on 11/01/2008. Filed under: پاکستان, سیاست |

ہمارے صدر صاحب معمے حل کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، پہلے بھی وہ قوم کی رہمنائی کے لئے نت نئے نسخے فراہم کرتے رہے ہیں، کچھ عرصہ پہلے ہی کی تو جب ہے جب پوری قوم ٹماٹر مہنگے ہونے کی وجہ سے پریشان تھی تو صدر صاحب نے قوم کی پریشانی کو اپنی بے پناہ ذہانت سے سیکنڈوں میں حل کر دیا اور ارشاد فرمایا کہ اگر ٹماٹر مہنگے ہیں تو دہی استعمال کی جائے۔
اس کے کچھ عرصہ بعد مختاراں مائی کیس اور اُس کے بعد شروع ہونے والے گینگ ریپ کے سلسلے میں صدر صاحب نے اپنے جاسوسوں کے ذریعے فوراََ معلوم کر لیا کہ ایسا کس وجہ سے ہو رہا ہے، ارشاد فرمایا کہ اگر آپ باہر جانا چاہتے ہیں یا آپ کو کیینڈا کا ویزا اور شہریت چاہیے اور آپ کروڑ پتی بننا چاہتے ہیں تو خود کو ریپ کروالیں، یعنی یہ سارا باہر جانے کا بکھیڑا تھا۔
٢٧ دسمبر کی منحوس شام میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہونے والے قتل کے سلسلے میں جہاں پوری قوم غم سے نڈھال ہے، وہاں حکومت وقت بظاہر شہادت کی تحقیات میں مصروف نظر آتی ہے، یہاں تک کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم بھی یہاں پہنچ کر محدود اختیارات کے ساتھ اپنی تحقیات کا آغاز کر چکی ہے ‘مگر‘ ہمارے صدر صاحب نے یہ مشکل معمہ بھی صدر ہاؤس میں بیٹھے بیٹھے حل کر لیا، اور ایک بار پھر ارشاد ہوا کہ ‘ہ گاڑی میں کھڑے ہونے سے قتل کی ذمہ دار بینظیر خود ہیں کوئی اور نہیں‘ اللہ اللہ خیر صلا
پیپلز پارٹی خوامخواہ حکومت پر الزام تراشی کر رہی کہ حالانکہ انہیں اتنی آسان بات سمجھ جانی چاہیے۔ صدر صاحب کے اس بیان پر جنگ کے معروف کالم نگار جناب ارشاد حسین حقانی صاحب لکھتے ہیں کہ  صدر کے اس ارشاد کی روشنی میں نہ صرف بینظیر کیس بلکہ کئی دیگر تاریخی معمے بھی” حل“ ہوگئے ہیں۔ مثلاً کہا جاسکتا ہے کہ خلیفہ راشد حضرت عمر بن خطاب اگر نماز فجر کے لئے مسجد جانے سے مستقل پرہیز کرتے تو کبھی بھی ایرانی غلام ابولولو فیروز کے خنجر کا شکار نہ ہوتے۔ حضرت علی نے اس واقعہ کے باوجود احتیاط نہ برتی اور محافظوں کے بغیر مسجد جاتے رہے۔ ظاہر ہے انہیں ایک نہ ایک روز ابن ملجم کے زہر میں بجھے خنجر کا نشانہ تو بننا ہی تھا۔ لیاقت علی خان کو کیا سوجھی کہ١٦اکتوبر١٩٥١ ء کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں بھرے جلسے سے خطاب کے شوق میں سید اکبر کے ریوالور کے سامنے آگئے۔ ضیاء الحق کو کس حکیم نے مشورہ دیا تھا کہ وہ سی١٣٠طیارے میں سفر کریں۔ شاید اسی لئے آج تک ان کی موت کا ذمہ دار خود انہیں سمجھا جاتا ہے۔ چھ ماہ قبل سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا اگر اپنے ہی گھر کے بیڈ روم میں سونے سے پرہیز کرتے تو آج ہمارے درمیان ہوتے۔ خود صدر مشرف کو ١٤دسمبر٢٠٠٣ء کو راولپنڈی کے جھنڈا چیچی پل پر سے گزرنے کی کیوں ضرورت پڑی۔ اگر پل کے ساتھ ساتھ خدا نخواستہ ان کی گاڑی بھی اڑ جاتی تو ذمہ دار کون ہوتا۔ لگتا ہے صدر مشرف کو اس وقت کسی نے یہ بتانے کی جرات نہیں کی کہ غلطی آپ کی ہے، ورنہ اس حملے کے دس روز بعد ٢٥دسمبر کو سڑک پر نکل کر دوسرے خود کش حملے کی زد میں نہ آتے۔ حیرت ہے صدر کی غلطی پکڑنے کے بجائے تحقیقاتی ایجنسیوں نے آٹھ افراد کو نہ صرف پکڑا بلکہ کورٹ مارشل کے ذریعے ان میں سے پانچ کو سزائے موت اور تین کو سزائے قید بھی سنادی گئی، لیکن اب جبکہ صدر پرویز مشرف اس نتیجے پر پہنچ ہی گئے ہیں کہ بینظیر بھٹو کا قتل خود بینظیر کی غلطی کے سبب ہوا ہے تو یہ بحث فضول ہے کہ انہیں بیت اللہ محسود نے مارا ، کسی ایجنسی کا شکار ہوئیں یا اپنوں کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ صدر کو چاہئے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو بھی اب جلد از جلد روانہ کردیں تاکہ قوم اور قومی خزانہ اور زیر بار نہ ہوں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تعلق سے لاتعلق

Posted on 02/01/2008. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز: |

تعلق سےلاتعلقی تعلق کی نوعیت کے انکار، احتراز یا چشم پوشی سے ہوتی ہے۔ تعلق غرض بھی ہوتا ہے اور بےغرض بھی۔ تعلق ایک ربط ہوتا ہے۔ جو کبھی بڑا مضبوط ہو جاتا ہے اور اکثر اُوقات ٹوٹ بھی جاتا ہے۔ بعض اُوقات ٹوٹ کر جُڑ بھی جاتا ہے مگر جوڑ اُس میں لگ بھی جاتا ہے۔ خونی تعلق کا دوبارہ جوڑ اور ہوتا ہے اور لوگوں سے نئے تعلق کا دوبارہ ملاپ اور طرح کی گنڈ ہوتا ہے۔ یہ ایسا ربط ہے جسکا وجود ہمیشہ کسی نہ کسی نام سے باقی رہتا ہے۔ گمنام خطوط، گمنام رابطہ، خون کا رشتہ، دِل کی کشش کیا ہے؟  بےربط رابطوں کی مربوط صورتیں ہیں۔ تعلق کی انواع  بے شمار ہے۔ انسان کا قدرت کے حسن سے بھی ایک تعلق تھا۔ آج صرف تعلق ہے، تعلق قائم نہیں رہا۔ وسائل والا آج صرف قدرت کے حسن کو اپنی مرضی سے capture   کر لینا جانتا ہے۔ جبکہ تعلق قائم کرنا یہ ہے کہ قدرت کےحسن کو اُسکےقدرتی جلوہ میں باقی رہنے دینا۔ آج انسان نے ترقی بھرپور کرلی ہے۔ مگر وُہ قانون قدرت سے اپنا ناطہ مسلسل توڑنے میں مصروف ہے۔نہ صرف ناطہ بلکہ قدرت کے مقابل اپنا قانون نافذ کرنے پر تُل چکاہے۔ کوئی ایک فرد دُنیا کو direction دیتا ہے۔ مگر آج ہر کوئی اپنے آپکو exceptional سمجھ کر directions provide کر رہا ہے جبکہ آج اُسکو اپنی سمت کا خود علم نہیں۔ بس یونہی ہمارے تعلق ہے کہ ” دماغوں میں فرعون لیئے چلتے ہیں ہم، دُنیا کو بتلاتے ہیں مسیحا ہے اس دنیا کے ہم۔ “تعلق اخلاق سے رہتا ہے، جوآج خلق خدا کے لیئے افلاق نعمت ہے۔
کچھ تعلق باتوں سے ہوتے ہیں، کچھ تعلق لوگوں سے ہوتے ہیں، کچھ تعلق چیزوں سے رہتے ہیں، کچھ تعلق غائبانہ بھی ہوتے ہیں؛ یہی عجائبانہ بات ہے۔ کچھ افراد کی نیند کا تعلق اُنکے بستر سے بھی ہوتا ہے۔ یونہی مانوسیت اپنے وطن اور شہر سے ہوتی ہے۔ بےشمار معاملات کا تعلق ہمارے ساتھ ہر لمحہ ہے جیسےخوشی و غمی کا تعلق، یادوں اور تنہائیوں کا تعلق،  پودے سےوابستگی، جانور سے وابسطہ تعلق، گھر سے تعلق، ملک سےتعلق،  رنگ سے تعلق، رشتوں سے تعلق، مفاد سے تعلق، خواب کی تعبیر سے تعلق، مذہب سے تعلق،عہدے و مرتبے سے تعلق، قبیلہ سے تعلق، چوری سے تعلق۔ آج گھروں میں تعلق برائے نام ہوتے جا رہے ہیں وجوہات بے شمار ہیں مگر مسئلہ ایک ہی ہے۔ ہر ایک اپنی بھرپور آزادی جائز وناجائز بلا روک ٹوک چاہتا ہے۔ اِن خونی رشتوں میں الفت کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔ قبائل اپنے آبائواجداد کے تاریخی کارناموں کو صرف فخر سےسناتے ہیں۔ اپنے آبائواجداد کےمثبت اعمال کی پیروی نہیں کرتے۔ مغل قبیلہ کے ہاں تعلیم کی اہمیت پر بڑا زور دیا جاتا تھا کیا آج اُنکے ہاں علم برائےعلم ہے؟ مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیرالدین بابر کی خودنوشت تزک بابری ترک  زبان میں تھی جو علمی اعتبار سےدنیا کی بہترین سوانح عمریوں میں شمار ہوتی ہے، نورالدین جہانگیر کی آپ بیتی تزک جہانگیری فارسی زبان میں ایک اور شاندار تحریری شاہکار ہے۔ جبکہ محی الدّین اورنگ زیب عالمگیر کی فتاوٰی عالمگیری آج بھی ایسےقانون کی اہمیت رکھتی ہے کہ آزاد کشمیر میں قانونی فیصلوں میں یہ بنیادی سرکاری قانون کی حیثیت رکھتے ہوئےافادیت واضح کر رہی ہے۔ دیکھیئے سائیبیریا کا اُجڈ قبیلہ برصغیر میں ایک تہذیب یافتہ معاشرہ کا علمبردار بنا۔ اسلامی معاشرت اس میں ایک نیا رنگ لائی۔
ایک تعلق ہمارا تاریخ، تہذیب، ثقافت اور تمدن سے بھی ہوتا ہے یہی کسی قوم کی انفرادی شناخت ہوتی ہے۔ مگر آج یہ کوئی نہیں جانتا The meaning of Islamic art کیا ہے؟ تاریخی عمارات پر بیل بوٹے کیا معنٰی رکھتے ہیں؟ آسمانی رنگ کس حکمران خاندان  یا کس علاقہ کی شناخت ہے؟ ہماری اقدار اور روایات کیا تھیں؟  افسوس ہمارا علاقائی لباس کا culture مفقود ہوتا جا رہا ہے زبانیں تیزی سے اپنا حقیقی وجود کھو رہی ہیں۔ سب سے بڑی افسوس کی بات معاشرہ  زندگی کے ہر شعبہء میں کرپٹ ہوتا جا رہا ہے۔ تعلق صرف نام کے باقی رہنے لگے ہیں۔ وجود مٹ رہے ہیں۔ یہ قانون فطرت ہے پرانے کا خاتمہ نئے کا ظہور ہوتا ہے۔ یہی ارتقاء ہے مگر یہ ارتقاء کوئی قابل ستائش محسوس نہیں ہوتا۔ اس سےفاصلے کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔ اُردو کا ارتقاء اقوام کو قریب لانے سے تھا۔ مگر آج جو ارتقاء ہو رہا ہے۔ وُہ Confusions Create کر رہا ہے۔ Mis-conceptions پیدا ہو رہے ہیں۔
انسان کا ایک تعلق اپنی زبان سے ہوتا ہے۔ زبان انسان سے تعلق نہیں رکھتی۔ انسان زبان سےتعلق پیدا کرتا ہے۔ کسی زبان سےانسان اپنا ناطہ توڑ لےتو رفتہ رفتہ زبان ناپید ہوجاتی ہے۔ تو پھر اُس خطہ اور انسان کی ثقافت، تمدن، تاریخ، رواج، رسم ناپید ہو جاتے ہیں۔ مذہب دیومالائی کہانی بن جاتا ہے۔ ہندوستان میں دیوناگری رسم الخط ناپید ہونے لگا۔ تو اُسکو اُنیسویں صدی میں ایک انگریز بنگال کے کمشنر لارڈ شیکسپئیر نے دوبارہ کوشش کر کے زندہ کر ڈالا۔ آج یہ دیوناگری script ہندوستان کی منفرد تاریخ کی پہچان ہے۔ تعلق رکھنا انسان کی ضرورت ہے، زبان کی نہیں۔ زبان کا ہم پر احسان ہے کہ وُہ ایک وسیلہ ہے رابطے کا، احساسات کی ترجمانی کا، پہچان کا اور اشاروں کا۔ آج ہمارا تعلق کیوں لاتعلق ہے؟ برصغیر کی زبان فارسی تھی، علم فارسی زبان میں تھا۔ تو انگریز نے یہاں نومولود زبان اُردو کو سرکاری حیثیت سے ایک پہچان دلوائی۔ اور ہم فارسی اور انگریزی کے بیچ الجھائو کا شکار ہوگئے۔ ہمارا تمام ماضی، علمی خدمات اور سرمایا، مذہبی تحقیقات و تخلیقات حتٰی کہ برصغیر میں قرآن مجید کا پہلا ترجمہ شاہ ولی اللہ نے فارسی زبان میں کیا۔ پھر اُنکے بیٹوں شاہ رفیع االدین نے قرآن مجید کا پہلا لفظی ترجمہ اُردو زبان میں کیا اور شاہ عبدالقادر نے پہلا بامحاورہ اُردو ترجمہ کیا۔ جبکہ شاہ اسمعٰیل شہید شاہ ولی اللہ ہی کے پوتے تھے۔ پہلا ترجمہ ہمیشہ کافی دقت طلب کام ہوتا ہے۔ جو ان بزرگ ہستیوں نے کیا۔ برصغیر میں کسی بھی زبان میں ترجمہ ہو، کسی بھی مکاتب فکر کی بزرگ ہستیاں جب بھی کرےگی ہمیشہ اُنکی رہنمائی شاہ ولی اللہ، شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد القادر کےتراجم سے ہوگی ۔ یوں زبان کا ہی وُہ تعلق ہے جو ہم میں اختلافات کو کم کر کےختم کرسکتا ہے۔ یوں ان جیسی تمام بزرگ ہستیوں کا احترام ہر مکتبہ فکر کے افراد کو کرنا چاہیے۔ دوسری جانب جدید تراجم اور علم انگریزی زبان میں تھی۔ بس ہم زبان پر ہی الجھ گئے۔ ملک میں دو متضاد طبقوں کا آغاز تو٢ صدیوں پہلے ہی شروع ہوگیا تھا۔ ہمارے ملک کا آج بھی بیشمار طبقہ تعلیم سے راہ فرار زبان کےمسائل کی وجہ سےاختیار کرتا ہے۔ پھر نیا مسئلہ علاقائی سیاستدانوں نے شروع کر ڈالا۔ علاقائی زبانوں کا۔ آج ایک مسئلہ زبان کےنام  پر لڑنےکا ہے۔ پاکستان میں ایک انداز کےمطابق ٢٣ زبانیں بولی جاتی ہیں تو کیا پھر ملک کے زبان کی بنیا پر٢٣ حصےکر دیے جائیں۔ اتنی توجہ زبان سیکھنے پر دے ڈالےتو الجھائو رہے ہی نہ۔ واصف صاحب نے غالباً کرن کرن سورج میں اسی بات پر روشنی ڈالی جسکا مفہوم یوں ہے”کیا عجیب بات ہےکہ ہم اپنے ملک میں غیر ہے۔ اپنےعلاقہ سے نکل کر اپنے ہی ملک کے کسی دوسرا علاقہ میں چلے جائے تو وہ صوبہ علاقہ ہمارے لیے انجان ہے، زبان سے ناواقفیت ہے۔ لہذا  ہر پاکستانی کو بلوچی، پشتو، پنجابی، سندھی سیکھنا چاہیے۔ تو زبان کا مسئلہ ہی نہیں رہےگا اور اپنے ملک میں غیر نہیں رہےگے۔ “(مجھے انکے exact الفاظ یاد نہیں، اپنی سمجھ کےمطابق مفہوم لکھنےکی کوشش کی) ہمیں زبان کی ان غیر ضروری الجھنوں، بحثوں سے باہر نکل کر انکی افادیت اور اہمیت سےخود کو روشناس کروانا ہے۔ اپنی ثقافت کو اُجاگر کرنا ہے۔ تہذیب کو دُنیا کی اک منفرد تہذیب بنانا ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس وُہ سب کچھ موجود ہے جو ہمیں دنیا کا سب سے richist country   بنا دیں گی۔
لیجیئے! ایک کہانی سن لیں۔ چند صدیوں قبل کا واقعہ ہے۔ اللہ کا ایک نیک بندہ یہ چاہتا تھا کہ اُس کا بیٹا عالم بنے۔ باپ نے بڑی محنت کی اور بیٹا عالم بن گیا۔ وُہ اُس مدرسہ کا معلم اور پھرمہتمم (نگران) بھی بن گیا۔ بیٹا گھر آتا تو اپنے اباجان کو اپنی وجاہت، شان و شوکت، عزت، مرتبت اور منزلت سے آگاہ کرتا۔ باپ کے دِل میں بڑی تمنا تھی ہر باپ کی طرح کہ وُہ اپنے بیٹے کےاِس عروج کو دیکھ کر خوشی محسوس کرسکے۔ ٠٢ برس تک وُہ اپنے بیٹے کے واقعات زبانی سنتے رہے۔ بیٹے کو اکثر مدرسہ لیجانے کا کہتے تو وُہ ٹال جاتا ۔ آخر ایک روز تمنا اتنی جاگی کہ وُہ بیٹے کےمدرسہ جا پہنچے۔ بیٹا درس و تدریس میں مصروف تھا۔ اُسکے والد محترم آخری نشست کےایک کونےمیں بیٹھ گئے اور بیٹےکو خاموشی سےسنتے رہے۔ جب درس ختم ہوا تو تمام افراد عالم صاحب سےمصافحہ کرنے لگے؛ باپ نےبھی آکر ایک عام حیثیت سےمصافحہ کے لیئے ہاتھ بڑھائے مگر بیٹا نے بڑی مشکل سے ہاتھ ملائے۔ باپ نےچہرے کےتاثرات جان لیئے کہ بیٹا کو اُسکی آمد کی خوشی نہیں ہوئی بلکہ وُہ اِسکو اپنی ہتک سمجھ رہا ہے لوگوں سے اپنے باپ کا تعارف کروانے سے بھی گریز کیا۔ بیٹا کی اس حرکت پر والد صاحب اسقدر نالاں ہوئے کہ وُہ گھر آ کر روتے رہے اور خیال کرتے رہے کہ میں نے اِسکو کیا دینی تعلیم دلوائی۔ جو اپنے باپ کو اپنی ہتک سمجھتا ہے۔ خدا کی لاٹھی بڑی بےآواز ہوتی ہے۔ بیٹا اُسی وقت ٨٢ برسوں سے حاصل کی گیا عِلم بھول گیا۔ اُس نےبڑی کوشش کی کہ یاد آجائے مگر بیکار رہا۔ اُس نے اپنےابا جان سے معافی طلب کی تو اُنھوں نےانکار کر دیا اور عالم صاحب تمام عمر علم سے بیگانہ ہی رہا۔ یاد رکھیئے!! والدین چاہے جیسے بھی ہیں وُہ ہماری پہچان ہیں اور ہمیں ہمیشہ اُن پر فخر کرنا چاہیے۔ اپنےدوستوں سے اپنےوالدین کا تعارف کروانا چاہیے۔ یہی اُنکی خوشی ہوتی ہے۔ کہ وُہ اپنی اُولاد کا سُکھ دیکھیں۔ پنجابی میں کہتےہیں ”ساریاں دے ماں پیوئوں اِکوں جئے ہوندے نے، ساڈھی طرح ہی گنوار، پینڈوں ہوندے نے، ساڈھے بچےکی لکائوندے نے“
ایک تعلق شفقت اور محبت کا ہوتا ہے۔ ایک پڑدادی اپنے پڑپوتے کے لیئے اُون سے سویٹر بنتی ہے اُسکی نگاہ  کام نہیں کرتی ؛ رات کو جاگ کر بنتی ہے۔صرف دِل میں تمنا لیئے کہ جلد از جلد اُسکا پڑپوتا سویٹر پہن سکے خود چل نہیں سکتی تو کسی کےہاتھ بجھواتی ہیں۔ اُسکی زبانی تاثرات جانتی ہے۔ بڑا ہو کر وُہ پڑپوتا اگر کہے میرے لیئے سویٹر کیوں بُنا، نہ بنتی تو سوچئیے اُس پڑدادی کے دِل پر کیا بیتےگی، کیونکہ اُس سویٹر کی وُہ بیش بہاءقیمت ہے جو کوئی سوچ نہیں سکتا۔ اسی طرح ایک بھائی اپنے جذبات کے تحت اپنی جیب خرچ سے اپنی چھوٹی بہن کے لیئےگڑیا روپیہ روپیہ اکٹھا کر کےتحفہ میں دے اور بہن بڑی ہوکر کہہ دے میرے لیئےگڑیا کیوں لائے تھے۔ میں نےکہا تھا کہ میرے لیئےگڑیا لائو۔ یہ جملہ لازوال پرخلوص جذبات کا قتل کردیتے ہیں۔ اس بات کا جو دُکھ ہوگا وُہ علیحدہ ہے۔ اسکےساتھ جو خاموشی اختیار کریں گے وُہ اس طرح ہوگی کہ کوئی کسی عالم صاحب سے مناظرہ کرتے ہوئےغیر مستند کتاب مثلاً پکی روٹی وغیرہ کا حوالہ دے ڈالےتو عالم صاحب خاموشی اختیار کرلیں گے کہ بحث کا کوئی فائدہ نہیں جب کوئی بات حاصل نہیں ہونی۔ یہ تمام واقعات ہمارے خاندانوں، گھروں  کے روزمرہ  زندگی سے متعلق ہے۔
لوگ یہ سمجھتے ہیں تعلق تھا ہی نہیں تو ختم کرنے کی بات ہی دور ہے۔ تعلق ایک بات ہوتی ہے۔ تعلق سے لاتعلق ہو جانا ایک خاص بات ہوتی ہے یہ معاملہ ثبات کا ہوتا ہے۔ اثبات میں نہ سہی ثبت تو ہے۔ ضروری نہیں تعلق دو جوانب سے ہو۔ تعلق ایک جانب سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ پھر دو ہو، تین ہو یا بےشمار کوئی مشترکہ point مل جائے تو تعلق ایک ہو کر مضبوط تر ہو جاتا ہے۔ جب وُہ نقطہ اپنا وجود کھو دیتا ہے۔ تو تعلق بھی کمزور ہونا شروع جاتا ہے۔ جب کوئی مشترکہ point نہ ملےتو بھی ایک مشترکہ نقطہ مل جاتا ہے۔ مضبوط تعلق کا اور وُہ خاص نقطہ اختلاف کا؛ جس میں تعلق قربت کا نہیں نفرت کا ہوسکتا ہے۔ اعتراف کا نہیں تو اختلاف ہی سہی۔ آج کی مادی دُنیا میں وقتی پوائنٹ کا نام تعلق، رشتہ، contact، دوستی، جان  پہچان وغیرہ ہیں۔ ہر معاملہ کی ایک بنیاد ہوتی ہے۔ اگر یہ بات مفاد کی حد تک رہےگی تو یہ کمزور بات ہے۔ جاندار معاملہ مفاد سے ہٹ کر ہوتا ہے۔ تو پھر تعلق کی بنیاد ایک ہوئی خالص نیت اور خالص نیت کے لیے کوئی خاص مقصد یا خالص مقصد ہونا ضروری ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان اپنی ذات کے مفاد سے ہٹ کر انسانیت کی فلاح کو مدنظر رکھے۔ بلا تمیز و تفریق انسانیت کی بہبود ہی ہر فرد کی کامیابی ہے۔
تعلق کے لیئے نیت کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ وُہ اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی۔ محبت بھی ہو سکتی ہے اور نفرت بھی۔ مگر جو بھی ہوتی ہے۔ اُس میں بھرپور خلوص ہوتا ہے۔ تعلق سےخلوص ہوتا ہے۔ تعلق خلوص سے بنا کرتے ہیں۔ خلوص سے ہی ٹوٹا کرتے ہیں (یہاں دوسروں کی ذات کی بجائے اپنی ذات مقدم ہوتی ہے۔ اپنےمفاد سے خلوص رکھنا) ۔ خلوص سے ہی ٹوٹ کر پھر خلوص سے ہی جڑ جاتے ہیں۔ تعلق سے یہ مراد ہی نہیں کہ تعلق رکھا ہی نہیں گیا تو تعلق کیا ہوا؟ یہ بات کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ تخلیق کار کے بیشمار مداح ہوتے ہیں۔ مداح تخلیق کار سےتعلق رکھتے ہیں؛ تخلیق کار ہر مداح سے نہیں۔ وُہ تعلق اُسکی تخلیق بھی ہوسکتی ہے۔، اُسکی کارکردگی بھی، اُسکا فن بھی، اُسکی ذات کا کوئی پہلو بھی۔ یہ بھی ممکن ہے صرف وُہ نام، شخصیت سے ہی تعلق پیدا کر لیتے ہیں۔ اکثر ہمیں ایک بچہ بڑا ہی معصوم، پیارا لگتا ہے تو اُس سے ہمارا شفقت اور الفت کےمعاملہ سے ایک انجان خوشگوار تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ہم اپنے ارد گرد کسی خاص شخص کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرنے مسلسل ignore  کرتے ہیں بات کا جواب دینا پسند نہیں کرتے تو یہ نظر انداز کرنا بھی ایک تعلق ہوا۔ کیونکہ اُس شخصیت پر ہماری ایک منفی رائے بھی قائم ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی کے لیئے ہماری رائے مثبت ہی رہتی ہے۔ اکثر اوقات رائے تبدیل بھی ہو جاتی ہے۔ تعلق صرف انسان تو پیدا ہی نہیں کرتے بلکہ پیدا ہو بھی جاتے ہیں۔ یہ کیا معاملہ ہے کہ ایک شخص محفل میں آتا ہے۔ انجان ہوتا ہے اور میزبان کا دِل فوراً احساس دِلا دیتا ہے یہی ہے وُہ جسکی تلاش تھی۔ یو ں انجان کو دیکھتے ہیں ایک خوشگوار تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ تعلق دو جانب سے ہوتا ہے یا یک جانب۔
مولانا جلال الدین رومی اپنے وقت کے بہت بڑے مستند عالم دین تھے۔ مدرسہ کے متعلم و مہتمم تھے۔ شمس تبریزی اُنکی زندگی میں ایک عام ملازم کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ اِک روز مولانا نے کہا یہ کتابیں تمہارے کام کی نہیں تو شمس تبریزی نے کتابیں پانی میں ڈال دی اور ہمیشہ کے لیئے چلےگئے۔ مولانا پر غوروفکر کا ایک نیا دروازہ کھلا۔ شمس تبریزی کی تلاش شروع کر دی مگر وُہ اپنا تعلق مکمل کر کے جا چکے تھے اور وہی تعلق درحقیقت مثنوی مولانا روم کی تخلیق کا سبب بنا۔ ذرا اس واقعہ کو مختلف زاویوں سےدیکھیئے تو ایک تعلق کتنے ہی معاملات کےلیئے درس رکھتا ہے۔
کتاب سے انسان کا ایک تعلق ہوتا ہے ایک کتاب انسان سے تعلق رکھتی  ہے یا انسان کتاب سے۔ یہ تعلق فکر اور سوچ کا اثر رکھ کر کئی نئی صورتیں واضح کرتا ہے۔ دولت انسان سے تعلق نہیں رکھتی۔ انسان دولت سے تعلق رکھتا ہے۔ اور دولت خوف سے متعلق ہے۔ خوف کھو جانے کا اندیشہ یہی سندیسہ ہے کہ انسان اگر یہ سمجھے کہ اُسکا خوف سے تعلق نہیں تو پھر یہ بات نہیں۔ Transtivity  کے اُصول کے تحت تو انسان کا دولت سے براہ راست تعلق ہوا تو پھر انسان کا خوف اور کھو جانے کے احساس سے بھی تعلق  ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ایسا ہی ہے۔ ہمارا اللہ سے تعلق ہے۔ اور اللہ کا ہر انسان سے انفرادی مساوّی تعلق  ہے اب یہ ضروری نہیں کہ ہر انسان اللہ سےتعلق رکھے۔ کچھ  بےدین بھی  ہے تو کچھ دین والے ہوکر بھی  بےدینی  رکھتے ہیں۔ مگر اللہ کا تعلق تو سب سے ہی ہے۔ اللہ کا انسان سے خوراک کا وعدہ ہے۔ تو بنیادی ضرورت تک ہر انسان کو خوراک مہیا ہو جانا ایک تعلق کا ہی نتیجہ ہے۔
بندے کا اللہ  سےتعلق ہے۔ مگر اُمید غیر اللہ سے لگا دینا کہ وہی دے گا۔ شرک ہے اور شرک  کا تعلق غیر اللہ  سے ہے۔ روحانیت اور عاملیت میں بڑا واضح فرق ہے۔ روحانیت اللہ سےتعلق جوڑتی ہے۔ عاملیت وظائف، منتروں اور تعویذ و گنڈا کےذریعہ اللہ سےتعلق کی قربت کو بگاڑتی ہے۔ اور شرک کا مئوجب بھی بن جاتی ہے۔ بیشتر اُوقات ہاتھ کی لکیروں کا تعلق انسان کو اللہ کے معاملات سے دور لیجاتا ہے۔ اور بعض اوقات اللہ کی واحدانیت نمایاں نظر آ جاتی ہے۔ تعلق لکیر کو سمجھنے کا ہے۔ اعداد کے علم  کے تحت ایک خاص عدد سے تعلق جوڑ لینا اپنے آپکو وقت سے پہلے قید کر دینا ہے۔ اللہ  کی  پابندی کو برداشت کر نہیں سکتے مگر وقتی مفاد کے لیئے انجانے عدد کی قید بخوشی منظور کر لیتے ہیں۔ مگر جب اسی معاملہ کو وسیع نظری سے دیکھتے ہیں تو پھر خدا کی خدائی نظر آتی ہے۔ اور بندے کی خدا  کے نظام سے لڑائی نظر آتی  ہے۔ ذرا یہ سوچئیے اختلاف کا تعلق ہم کس سے رکھ  رہے ہیں؟ یقینا اللہ  کی ذات سے۔ اللہ  کی ذات سے اختلاف کرنا کیا معنی دیتا ہے؟ یہ غور طلب بات ہے۔ قرآن میں اللہ سے اختلاف کا تعلق رکھنے کے سنگین ترین نتائج بیان ہوئے ہیں۔
تعلق کے لیئے دیکھ لینا ضروری نہیں نسبت رکھ لینا ضروری ہے۔ احترام کرنا معنی رکھتا ہے۔ نظر انداز کر دینا بھی ایک معنی رکھتا ہے۔ انجان ہونا بھی ایک تعلق ہے۔ تعلق مزاج سے بھی ہوتا ہے۔ حکایت سے بھی،  بات سے بھی، نام سے بھی، چہرہ سے بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ تعلق ایک جملہ کا بھی ہوسکتا ہے، ایک نصحیت کا بھی، ایک تھپڑ بھی، ایک ڈانٹ بھی تعلق شناسی سے نہیں ناشناسی سے شروع ہوتا ہے۔ شناسی سے تعلق بگڑ بھی سکتا ہے۔ اور ناشناسی سے بن بھی سکتا ہے اور رُک بھی۔ بیچ کا فرق صرف یقین اور اعتماد کا ہے۔
ہم زندگی میں بے شمار تعلقات بناتے ہیں۔ کچھ  رشتے بناتے ہیں۔ زندگی میں بے شمار ایسے لمحات آتے ہیں جب لوگ تعلق توڑ جاتے ہیں کچھ چھوڑ جاتے ہیں، چند تو بھول جاتے ہیں اور کچھ  کےساتھ  ہم ہی  ایسا برتائو  کرتے ہیں۔ مراد ہم زندگی بھر لوگ کھوتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اختلافات کھولتے ہی رہتے ہیں۔ ہماری زندگی کا وُہ لمحہ بڑا ہی یادگار و خوشگوار ہوتا ہے جب ہم اپنے بے شمار پھیلے ہوئے اختلافات کو اَحسن طریقہ سے ختم کر لیتے ہیں اور متنازعہ سےغیرمتنازعہ ہو جاتے ہیں۔ یقینا یہ اللہ کی طرف سے بڑے ہی بانصیب کے نصیب کی  بات ہے۔ وُہ لمحہ خدا کی رحمت ہوتا ہے کہ کھوئی ہوئی بیشمار،  بےبہا قیمتی جواہر (پہلا درجہ کی٩ اقسام کےپتھر) کی دولت پھر مل جاتی ہے۔
تعلق کیسے قائم رہتا ہے؟  تعلق یہ نہیں کہ سابقین کو بھولتے چلے جائیں بلکہ تعلق یہ ہے کہ سابقین کے ساتھ ساتھ  موجودہ  ہم عصروں،  ہم نوائوں اور نئے آنے والوں سب کے ساتھ اُنکی نوعیت جیسا تعلق برقرار رہے!!! یہ بات قانون قدرت سے مطابقت رکھتی ہے متصادم نہیں۔ اللہ کا تمام انسانوں سے رابطہ، والدین کا تمام بچوں کے ساتھ شفیق رہنا تعلق ہی ہے۔ یہ نہیں بڑے بچےکو چھوٹے بچوں کی وجہ سے لاتعلق کردیا جائے۔ اگر ایسا کر دیا جائے تو گھر اور معاشرے کا توازن بگڑتا ہے۔ آپس کے تعلق میں بگاڑ  کشیدگی کےانجام کا انتباہ دے دیتے ہیں۔ تعلق نہ تو خود انسان بناتا ہے اور نہ ہی توڑ سکتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے بنتا ہے۔ انسان  ردّ ضرور کرتا ہے۔ مگر اس میں ہی خدا کی مصلحت و مشیت ہوتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں ایک کہانی عام سننے کو ملتی ہے۔ کہ ایک شخص کہتا ہے کہ اُس نے پورے خاندان کی ذمہ داریاں اُٹھائی اپنے رشتہ داروں، بہنوں اور بھائیوں کی  بے لوث امداد کی۔ اُنکے بچے بیاہے، وُہ  اُنکی اکثر مشکل لمحات میں مدد کرتا تھا۔ مگر جب اُسکو ضرورت پیش آئی تو اُن تمام افراد نے مجھ سے معذرت کر لی یا انکار کر دیا جبکہ وُہ میری مدد کر سکتے تھے۔ یوں وُہ دلبرداشتہ ہو کر دُنیا کو تمام قصّہ سناتا رہتا ہے۔ کہ اُسکے اپنوں نے اُسکے ساتھ  برا  کیا۔ دراصل غلطی اسکی بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ اُس نے اُنکے اذہان کی تربیت یوں کی کہ وُہ شخص اُنکو دینے والا ہے اور وُہ اُس سے لینے والے ہیں۔ انھوں نے اُس سے لینا ہی سیکھا؛ دینا نہیں۔ اس لیئے اُنھوں نے کبھی خیال ہی نہ کیا کہ کبھی اُنکو مدد کی صورت میں دینا پڑے گا۔ اگر وُہ شخص اُنکے اذہان کی تربیت اس انداز میں کرتا کہ وُہ بھی کسی نہ کسی صورت میں اُس کو دیتے رہتے تو حالات اس نہج تک نہ پہنچ  پاتے کہ ناراضگیاں  بول کر مول لی جاتیں۔
تعلق جیسا بھی ہو ہمیں ایک دوسرے کے لیئے نیک تمنائیں رکھنی چاہیں۔ دشمن کے لیئے بھی دعا  کرنی چاہیے۔ بددعا نہیں۔ بداعمال کی اصلاح  کے لیئے اللہ  سے درخواست کرنی چاہیے۔ نیک اعمال والے کے لیئے نظربد سے تحفظ کی بھی گزارش کرنی چاہیے۔ اس بات کی کبھی کوئی فکر نہیں کرنی چاہیےکہ کوئی ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ رائے رکھنا دوسرے کی بات ہے ہماری بات تو یہ ہے کہ ہماری توجہ صرف اور صرف اپنے مثبت عمل کی جانب ہونی چاہیے۔ لوگ تو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ تبھی تو کہتے ہیں تعلقات اکثر وبال جان بھی بن جایا  کرتے ہیں اور اکثر پناہ بھی۔ یہ معاملہ اللہ  پر چھوڑنا چاہیے۔ بس تعلقات میں ہمیں اپنی سوچ کو اچھا اور صحتمند رکھنا چاہیے۔
(فرخ)

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...