تعلق سے لاتعلق

Posted on 02/01/2008. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز: |

تعلق سےلاتعلقی تعلق کی نوعیت کے انکار، احتراز یا چشم پوشی سے ہوتی ہے۔ تعلق غرض بھی ہوتا ہے اور بےغرض بھی۔ تعلق ایک ربط ہوتا ہے۔ جو کبھی بڑا مضبوط ہو جاتا ہے اور اکثر اُوقات ٹوٹ بھی جاتا ہے۔ بعض اُوقات ٹوٹ کر جُڑ بھی جاتا ہے مگر جوڑ اُس میں لگ بھی جاتا ہے۔ خونی تعلق کا دوبارہ جوڑ اور ہوتا ہے اور لوگوں سے نئے تعلق کا دوبارہ ملاپ اور طرح کی گنڈ ہوتا ہے۔ یہ ایسا ربط ہے جسکا وجود ہمیشہ کسی نہ کسی نام سے باقی رہتا ہے۔ گمنام خطوط، گمنام رابطہ، خون کا رشتہ، دِل کی کشش کیا ہے؟  بےربط رابطوں کی مربوط صورتیں ہیں۔ تعلق کی انواع  بے شمار ہے۔ انسان کا قدرت کے حسن سے بھی ایک تعلق تھا۔ آج صرف تعلق ہے، تعلق قائم نہیں رہا۔ وسائل والا آج صرف قدرت کے حسن کو اپنی مرضی سے capture   کر لینا جانتا ہے۔ جبکہ تعلق قائم کرنا یہ ہے کہ قدرت کےحسن کو اُسکےقدرتی جلوہ میں باقی رہنے دینا۔ آج انسان نے ترقی بھرپور کرلی ہے۔ مگر وُہ قانون قدرت سے اپنا ناطہ مسلسل توڑنے میں مصروف ہے۔نہ صرف ناطہ بلکہ قدرت کے مقابل اپنا قانون نافذ کرنے پر تُل چکاہے۔ کوئی ایک فرد دُنیا کو direction دیتا ہے۔ مگر آج ہر کوئی اپنے آپکو exceptional سمجھ کر directions provide کر رہا ہے جبکہ آج اُسکو اپنی سمت کا خود علم نہیں۔ بس یونہی ہمارے تعلق ہے کہ ” دماغوں میں فرعون لیئے چلتے ہیں ہم، دُنیا کو بتلاتے ہیں مسیحا ہے اس دنیا کے ہم۔ “تعلق اخلاق سے رہتا ہے، جوآج خلق خدا کے لیئے افلاق نعمت ہے۔
کچھ تعلق باتوں سے ہوتے ہیں، کچھ تعلق لوگوں سے ہوتے ہیں، کچھ تعلق چیزوں سے رہتے ہیں، کچھ تعلق غائبانہ بھی ہوتے ہیں؛ یہی عجائبانہ بات ہے۔ کچھ افراد کی نیند کا تعلق اُنکے بستر سے بھی ہوتا ہے۔ یونہی مانوسیت اپنے وطن اور شہر سے ہوتی ہے۔ بےشمار معاملات کا تعلق ہمارے ساتھ ہر لمحہ ہے جیسےخوشی و غمی کا تعلق، یادوں اور تنہائیوں کا تعلق،  پودے سےوابستگی، جانور سے وابسطہ تعلق، گھر سے تعلق، ملک سےتعلق،  رنگ سے تعلق، رشتوں سے تعلق، مفاد سے تعلق، خواب کی تعبیر سے تعلق، مذہب سے تعلق،عہدے و مرتبے سے تعلق، قبیلہ سے تعلق، چوری سے تعلق۔ آج گھروں میں تعلق برائے نام ہوتے جا رہے ہیں وجوہات بے شمار ہیں مگر مسئلہ ایک ہی ہے۔ ہر ایک اپنی بھرپور آزادی جائز وناجائز بلا روک ٹوک چاہتا ہے۔ اِن خونی رشتوں میں الفت کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔ قبائل اپنے آبائواجداد کے تاریخی کارناموں کو صرف فخر سےسناتے ہیں۔ اپنے آبائواجداد کےمثبت اعمال کی پیروی نہیں کرتے۔ مغل قبیلہ کے ہاں تعلیم کی اہمیت پر بڑا زور دیا جاتا تھا کیا آج اُنکے ہاں علم برائےعلم ہے؟ مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیرالدین بابر کی خودنوشت تزک بابری ترک  زبان میں تھی جو علمی اعتبار سےدنیا کی بہترین سوانح عمریوں میں شمار ہوتی ہے، نورالدین جہانگیر کی آپ بیتی تزک جہانگیری فارسی زبان میں ایک اور شاندار تحریری شاہکار ہے۔ جبکہ محی الدّین اورنگ زیب عالمگیر کی فتاوٰی عالمگیری آج بھی ایسےقانون کی اہمیت رکھتی ہے کہ آزاد کشمیر میں قانونی فیصلوں میں یہ بنیادی سرکاری قانون کی حیثیت رکھتے ہوئےافادیت واضح کر رہی ہے۔ دیکھیئے سائیبیریا کا اُجڈ قبیلہ برصغیر میں ایک تہذیب یافتہ معاشرہ کا علمبردار بنا۔ اسلامی معاشرت اس میں ایک نیا رنگ لائی۔
ایک تعلق ہمارا تاریخ، تہذیب، ثقافت اور تمدن سے بھی ہوتا ہے یہی کسی قوم کی انفرادی شناخت ہوتی ہے۔ مگر آج یہ کوئی نہیں جانتا The meaning of Islamic art کیا ہے؟ تاریخی عمارات پر بیل بوٹے کیا معنٰی رکھتے ہیں؟ آسمانی رنگ کس حکمران خاندان  یا کس علاقہ کی شناخت ہے؟ ہماری اقدار اور روایات کیا تھیں؟  افسوس ہمارا علاقائی لباس کا culture مفقود ہوتا جا رہا ہے زبانیں تیزی سے اپنا حقیقی وجود کھو رہی ہیں۔ سب سے بڑی افسوس کی بات معاشرہ  زندگی کے ہر شعبہء میں کرپٹ ہوتا جا رہا ہے۔ تعلق صرف نام کے باقی رہنے لگے ہیں۔ وجود مٹ رہے ہیں۔ یہ قانون فطرت ہے پرانے کا خاتمہ نئے کا ظہور ہوتا ہے۔ یہی ارتقاء ہے مگر یہ ارتقاء کوئی قابل ستائش محسوس نہیں ہوتا۔ اس سےفاصلے کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔ اُردو کا ارتقاء اقوام کو قریب لانے سے تھا۔ مگر آج جو ارتقاء ہو رہا ہے۔ وُہ Confusions Create کر رہا ہے۔ Mis-conceptions پیدا ہو رہے ہیں۔
انسان کا ایک تعلق اپنی زبان سے ہوتا ہے۔ زبان انسان سے تعلق نہیں رکھتی۔ انسان زبان سےتعلق پیدا کرتا ہے۔ کسی زبان سےانسان اپنا ناطہ توڑ لےتو رفتہ رفتہ زبان ناپید ہوجاتی ہے۔ تو پھر اُس خطہ اور انسان کی ثقافت، تمدن، تاریخ، رواج، رسم ناپید ہو جاتے ہیں۔ مذہب دیومالائی کہانی بن جاتا ہے۔ ہندوستان میں دیوناگری رسم الخط ناپید ہونے لگا۔ تو اُسکو اُنیسویں صدی میں ایک انگریز بنگال کے کمشنر لارڈ شیکسپئیر نے دوبارہ کوشش کر کے زندہ کر ڈالا۔ آج یہ دیوناگری script ہندوستان کی منفرد تاریخ کی پہچان ہے۔ تعلق رکھنا انسان کی ضرورت ہے، زبان کی نہیں۔ زبان کا ہم پر احسان ہے کہ وُہ ایک وسیلہ ہے رابطے کا، احساسات کی ترجمانی کا، پہچان کا اور اشاروں کا۔ آج ہمارا تعلق کیوں لاتعلق ہے؟ برصغیر کی زبان فارسی تھی، علم فارسی زبان میں تھا۔ تو انگریز نے یہاں نومولود زبان اُردو کو سرکاری حیثیت سے ایک پہچان دلوائی۔ اور ہم فارسی اور انگریزی کے بیچ الجھائو کا شکار ہوگئے۔ ہمارا تمام ماضی، علمی خدمات اور سرمایا، مذہبی تحقیقات و تخلیقات حتٰی کہ برصغیر میں قرآن مجید کا پہلا ترجمہ شاہ ولی اللہ نے فارسی زبان میں کیا۔ پھر اُنکے بیٹوں شاہ رفیع االدین نے قرآن مجید کا پہلا لفظی ترجمہ اُردو زبان میں کیا اور شاہ عبدالقادر نے پہلا بامحاورہ اُردو ترجمہ کیا۔ جبکہ شاہ اسمعٰیل شہید شاہ ولی اللہ ہی کے پوتے تھے۔ پہلا ترجمہ ہمیشہ کافی دقت طلب کام ہوتا ہے۔ جو ان بزرگ ہستیوں نے کیا۔ برصغیر میں کسی بھی زبان میں ترجمہ ہو، کسی بھی مکاتب فکر کی بزرگ ہستیاں جب بھی کرےگی ہمیشہ اُنکی رہنمائی شاہ ولی اللہ، شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد القادر کےتراجم سے ہوگی ۔ یوں زبان کا ہی وُہ تعلق ہے جو ہم میں اختلافات کو کم کر کےختم کرسکتا ہے۔ یوں ان جیسی تمام بزرگ ہستیوں کا احترام ہر مکتبہ فکر کے افراد کو کرنا چاہیے۔ دوسری جانب جدید تراجم اور علم انگریزی زبان میں تھی۔ بس ہم زبان پر ہی الجھ گئے۔ ملک میں دو متضاد طبقوں کا آغاز تو٢ صدیوں پہلے ہی شروع ہوگیا تھا۔ ہمارے ملک کا آج بھی بیشمار طبقہ تعلیم سے راہ فرار زبان کےمسائل کی وجہ سےاختیار کرتا ہے۔ پھر نیا مسئلہ علاقائی سیاستدانوں نے شروع کر ڈالا۔ علاقائی زبانوں کا۔ آج ایک مسئلہ زبان کےنام  پر لڑنےکا ہے۔ پاکستان میں ایک انداز کےمطابق ٢٣ زبانیں بولی جاتی ہیں تو کیا پھر ملک کے زبان کی بنیا پر٢٣ حصےکر دیے جائیں۔ اتنی توجہ زبان سیکھنے پر دے ڈالےتو الجھائو رہے ہی نہ۔ واصف صاحب نے غالباً کرن کرن سورج میں اسی بات پر روشنی ڈالی جسکا مفہوم یوں ہے”کیا عجیب بات ہےکہ ہم اپنے ملک میں غیر ہے۔ اپنےعلاقہ سے نکل کر اپنے ہی ملک کے کسی دوسرا علاقہ میں چلے جائے تو وہ صوبہ علاقہ ہمارے لیے انجان ہے، زبان سے ناواقفیت ہے۔ لہذا  ہر پاکستانی کو بلوچی، پشتو، پنجابی، سندھی سیکھنا چاہیے۔ تو زبان کا مسئلہ ہی نہیں رہےگا اور اپنے ملک میں غیر نہیں رہےگے۔ “(مجھے انکے exact الفاظ یاد نہیں، اپنی سمجھ کےمطابق مفہوم لکھنےکی کوشش کی) ہمیں زبان کی ان غیر ضروری الجھنوں، بحثوں سے باہر نکل کر انکی افادیت اور اہمیت سےخود کو روشناس کروانا ہے۔ اپنی ثقافت کو اُجاگر کرنا ہے۔ تہذیب کو دُنیا کی اک منفرد تہذیب بنانا ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس وُہ سب کچھ موجود ہے جو ہمیں دنیا کا سب سے richist country   بنا دیں گی۔
لیجیئے! ایک کہانی سن لیں۔ چند صدیوں قبل کا واقعہ ہے۔ اللہ کا ایک نیک بندہ یہ چاہتا تھا کہ اُس کا بیٹا عالم بنے۔ باپ نے بڑی محنت کی اور بیٹا عالم بن گیا۔ وُہ اُس مدرسہ کا معلم اور پھرمہتمم (نگران) بھی بن گیا۔ بیٹا گھر آتا تو اپنے اباجان کو اپنی وجاہت، شان و شوکت، عزت، مرتبت اور منزلت سے آگاہ کرتا۔ باپ کے دِل میں بڑی تمنا تھی ہر باپ کی طرح کہ وُہ اپنے بیٹے کےاِس عروج کو دیکھ کر خوشی محسوس کرسکے۔ ٠٢ برس تک وُہ اپنے بیٹے کے واقعات زبانی سنتے رہے۔ بیٹے کو اکثر مدرسہ لیجانے کا کہتے تو وُہ ٹال جاتا ۔ آخر ایک روز تمنا اتنی جاگی کہ وُہ بیٹے کےمدرسہ جا پہنچے۔ بیٹا درس و تدریس میں مصروف تھا۔ اُسکے والد محترم آخری نشست کےایک کونےمیں بیٹھ گئے اور بیٹےکو خاموشی سےسنتے رہے۔ جب درس ختم ہوا تو تمام افراد عالم صاحب سےمصافحہ کرنے لگے؛ باپ نےبھی آکر ایک عام حیثیت سےمصافحہ کے لیئے ہاتھ بڑھائے مگر بیٹا نے بڑی مشکل سے ہاتھ ملائے۔ باپ نےچہرے کےتاثرات جان لیئے کہ بیٹا کو اُسکی آمد کی خوشی نہیں ہوئی بلکہ وُہ اِسکو اپنی ہتک سمجھ رہا ہے لوگوں سے اپنے باپ کا تعارف کروانے سے بھی گریز کیا۔ بیٹا کی اس حرکت پر والد صاحب اسقدر نالاں ہوئے کہ وُہ گھر آ کر روتے رہے اور خیال کرتے رہے کہ میں نے اِسکو کیا دینی تعلیم دلوائی۔ جو اپنے باپ کو اپنی ہتک سمجھتا ہے۔ خدا کی لاٹھی بڑی بےآواز ہوتی ہے۔ بیٹا اُسی وقت ٨٢ برسوں سے حاصل کی گیا عِلم بھول گیا۔ اُس نےبڑی کوشش کی کہ یاد آجائے مگر بیکار رہا۔ اُس نے اپنےابا جان سے معافی طلب کی تو اُنھوں نےانکار کر دیا اور عالم صاحب تمام عمر علم سے بیگانہ ہی رہا۔ یاد رکھیئے!! والدین چاہے جیسے بھی ہیں وُہ ہماری پہچان ہیں اور ہمیں ہمیشہ اُن پر فخر کرنا چاہیے۔ اپنےدوستوں سے اپنےوالدین کا تعارف کروانا چاہیے۔ یہی اُنکی خوشی ہوتی ہے۔ کہ وُہ اپنی اُولاد کا سُکھ دیکھیں۔ پنجابی میں کہتےہیں ”ساریاں دے ماں پیوئوں اِکوں جئے ہوندے نے، ساڈھی طرح ہی گنوار، پینڈوں ہوندے نے، ساڈھے بچےکی لکائوندے نے“
ایک تعلق شفقت اور محبت کا ہوتا ہے۔ ایک پڑدادی اپنے پڑپوتے کے لیئے اُون سے سویٹر بنتی ہے اُسکی نگاہ  کام نہیں کرتی ؛ رات کو جاگ کر بنتی ہے۔صرف دِل میں تمنا لیئے کہ جلد از جلد اُسکا پڑپوتا سویٹر پہن سکے خود چل نہیں سکتی تو کسی کےہاتھ بجھواتی ہیں۔ اُسکی زبانی تاثرات جانتی ہے۔ بڑا ہو کر وُہ پڑپوتا اگر کہے میرے لیئے سویٹر کیوں بُنا، نہ بنتی تو سوچئیے اُس پڑدادی کے دِل پر کیا بیتےگی، کیونکہ اُس سویٹر کی وُہ بیش بہاءقیمت ہے جو کوئی سوچ نہیں سکتا۔ اسی طرح ایک بھائی اپنے جذبات کے تحت اپنی جیب خرچ سے اپنی چھوٹی بہن کے لیئےگڑیا روپیہ روپیہ اکٹھا کر کےتحفہ میں دے اور بہن بڑی ہوکر کہہ دے میرے لیئےگڑیا کیوں لائے تھے۔ میں نےکہا تھا کہ میرے لیئےگڑیا لائو۔ یہ جملہ لازوال پرخلوص جذبات کا قتل کردیتے ہیں۔ اس بات کا جو دُکھ ہوگا وُہ علیحدہ ہے۔ اسکےساتھ جو خاموشی اختیار کریں گے وُہ اس طرح ہوگی کہ کوئی کسی عالم صاحب سے مناظرہ کرتے ہوئےغیر مستند کتاب مثلاً پکی روٹی وغیرہ کا حوالہ دے ڈالےتو عالم صاحب خاموشی اختیار کرلیں گے کہ بحث کا کوئی فائدہ نہیں جب کوئی بات حاصل نہیں ہونی۔ یہ تمام واقعات ہمارے خاندانوں، گھروں  کے روزمرہ  زندگی سے متعلق ہے۔
لوگ یہ سمجھتے ہیں تعلق تھا ہی نہیں تو ختم کرنے کی بات ہی دور ہے۔ تعلق ایک بات ہوتی ہے۔ تعلق سے لاتعلق ہو جانا ایک خاص بات ہوتی ہے یہ معاملہ ثبات کا ہوتا ہے۔ اثبات میں نہ سہی ثبت تو ہے۔ ضروری نہیں تعلق دو جوانب سے ہو۔ تعلق ایک جانب سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ پھر دو ہو، تین ہو یا بےشمار کوئی مشترکہ point مل جائے تو تعلق ایک ہو کر مضبوط تر ہو جاتا ہے۔ جب وُہ نقطہ اپنا وجود کھو دیتا ہے۔ تو تعلق بھی کمزور ہونا شروع جاتا ہے۔ جب کوئی مشترکہ point نہ ملےتو بھی ایک مشترکہ نقطہ مل جاتا ہے۔ مضبوط تعلق کا اور وُہ خاص نقطہ اختلاف کا؛ جس میں تعلق قربت کا نہیں نفرت کا ہوسکتا ہے۔ اعتراف کا نہیں تو اختلاف ہی سہی۔ آج کی مادی دُنیا میں وقتی پوائنٹ کا نام تعلق، رشتہ، contact، دوستی، جان  پہچان وغیرہ ہیں۔ ہر معاملہ کی ایک بنیاد ہوتی ہے۔ اگر یہ بات مفاد کی حد تک رہےگی تو یہ کمزور بات ہے۔ جاندار معاملہ مفاد سے ہٹ کر ہوتا ہے۔ تو پھر تعلق کی بنیاد ایک ہوئی خالص نیت اور خالص نیت کے لیے کوئی خاص مقصد یا خالص مقصد ہونا ضروری ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان اپنی ذات کے مفاد سے ہٹ کر انسانیت کی فلاح کو مدنظر رکھے۔ بلا تمیز و تفریق انسانیت کی بہبود ہی ہر فرد کی کامیابی ہے۔
تعلق کے لیئے نیت کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ وُہ اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی۔ محبت بھی ہو سکتی ہے اور نفرت بھی۔ مگر جو بھی ہوتی ہے۔ اُس میں بھرپور خلوص ہوتا ہے۔ تعلق سےخلوص ہوتا ہے۔ تعلق خلوص سے بنا کرتے ہیں۔ خلوص سے ہی ٹوٹا کرتے ہیں (یہاں دوسروں کی ذات کی بجائے اپنی ذات مقدم ہوتی ہے۔ اپنےمفاد سے خلوص رکھنا) ۔ خلوص سے ہی ٹوٹ کر پھر خلوص سے ہی جڑ جاتے ہیں۔ تعلق سے یہ مراد ہی نہیں کہ تعلق رکھا ہی نہیں گیا تو تعلق کیا ہوا؟ یہ بات کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ تخلیق کار کے بیشمار مداح ہوتے ہیں۔ مداح تخلیق کار سےتعلق رکھتے ہیں؛ تخلیق کار ہر مداح سے نہیں۔ وُہ تعلق اُسکی تخلیق بھی ہوسکتی ہے۔، اُسکی کارکردگی بھی، اُسکا فن بھی، اُسکی ذات کا کوئی پہلو بھی۔ یہ بھی ممکن ہے صرف وُہ نام، شخصیت سے ہی تعلق پیدا کر لیتے ہیں۔ اکثر ہمیں ایک بچہ بڑا ہی معصوم، پیارا لگتا ہے تو اُس سے ہمارا شفقت اور الفت کےمعاملہ سے ایک انجان خوشگوار تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ہم اپنے ارد گرد کسی خاص شخص کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرنے مسلسل ignore  کرتے ہیں بات کا جواب دینا پسند نہیں کرتے تو یہ نظر انداز کرنا بھی ایک تعلق ہوا۔ کیونکہ اُس شخصیت پر ہماری ایک منفی رائے بھی قائم ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی کے لیئے ہماری رائے مثبت ہی رہتی ہے۔ اکثر اوقات رائے تبدیل بھی ہو جاتی ہے۔ تعلق صرف انسان تو پیدا ہی نہیں کرتے بلکہ پیدا ہو بھی جاتے ہیں۔ یہ کیا معاملہ ہے کہ ایک شخص محفل میں آتا ہے۔ انجان ہوتا ہے اور میزبان کا دِل فوراً احساس دِلا دیتا ہے یہی ہے وُہ جسکی تلاش تھی۔ یو ں انجان کو دیکھتے ہیں ایک خوشگوار تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ تعلق دو جانب سے ہوتا ہے یا یک جانب۔
مولانا جلال الدین رومی اپنے وقت کے بہت بڑے مستند عالم دین تھے۔ مدرسہ کے متعلم و مہتمم تھے۔ شمس تبریزی اُنکی زندگی میں ایک عام ملازم کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ اِک روز مولانا نے کہا یہ کتابیں تمہارے کام کی نہیں تو شمس تبریزی نے کتابیں پانی میں ڈال دی اور ہمیشہ کے لیئے چلےگئے۔ مولانا پر غوروفکر کا ایک نیا دروازہ کھلا۔ شمس تبریزی کی تلاش شروع کر دی مگر وُہ اپنا تعلق مکمل کر کے جا چکے تھے اور وہی تعلق درحقیقت مثنوی مولانا روم کی تخلیق کا سبب بنا۔ ذرا اس واقعہ کو مختلف زاویوں سےدیکھیئے تو ایک تعلق کتنے ہی معاملات کےلیئے درس رکھتا ہے۔
کتاب سے انسان کا ایک تعلق ہوتا ہے ایک کتاب انسان سے تعلق رکھتی  ہے یا انسان کتاب سے۔ یہ تعلق فکر اور سوچ کا اثر رکھ کر کئی نئی صورتیں واضح کرتا ہے۔ دولت انسان سے تعلق نہیں رکھتی۔ انسان دولت سے تعلق رکھتا ہے۔ اور دولت خوف سے متعلق ہے۔ خوف کھو جانے کا اندیشہ یہی سندیسہ ہے کہ انسان اگر یہ سمجھے کہ اُسکا خوف سے تعلق نہیں تو پھر یہ بات نہیں۔ Transtivity  کے اُصول کے تحت تو انسان کا دولت سے براہ راست تعلق ہوا تو پھر انسان کا خوف اور کھو جانے کے احساس سے بھی تعلق  ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ایسا ہی ہے۔ ہمارا اللہ سے تعلق ہے۔ اور اللہ کا ہر انسان سے انفرادی مساوّی تعلق  ہے اب یہ ضروری نہیں کہ ہر انسان اللہ سےتعلق رکھے۔ کچھ  بےدین بھی  ہے تو کچھ دین والے ہوکر بھی  بےدینی  رکھتے ہیں۔ مگر اللہ کا تعلق تو سب سے ہی ہے۔ اللہ کا انسان سے خوراک کا وعدہ ہے۔ تو بنیادی ضرورت تک ہر انسان کو خوراک مہیا ہو جانا ایک تعلق کا ہی نتیجہ ہے۔
بندے کا اللہ  سےتعلق ہے۔ مگر اُمید غیر اللہ سے لگا دینا کہ وہی دے گا۔ شرک ہے اور شرک  کا تعلق غیر اللہ  سے ہے۔ روحانیت اور عاملیت میں بڑا واضح فرق ہے۔ روحانیت اللہ سےتعلق جوڑتی ہے۔ عاملیت وظائف، منتروں اور تعویذ و گنڈا کےذریعہ اللہ سےتعلق کی قربت کو بگاڑتی ہے۔ اور شرک کا مئوجب بھی بن جاتی ہے۔ بیشتر اُوقات ہاتھ کی لکیروں کا تعلق انسان کو اللہ کے معاملات سے دور لیجاتا ہے۔ اور بعض اوقات اللہ کی واحدانیت نمایاں نظر آ جاتی ہے۔ تعلق لکیر کو سمجھنے کا ہے۔ اعداد کے علم  کے تحت ایک خاص عدد سے تعلق جوڑ لینا اپنے آپکو وقت سے پہلے قید کر دینا ہے۔ اللہ  کی  پابندی کو برداشت کر نہیں سکتے مگر وقتی مفاد کے لیئے انجانے عدد کی قید بخوشی منظور کر لیتے ہیں۔ مگر جب اسی معاملہ کو وسیع نظری سے دیکھتے ہیں تو پھر خدا کی خدائی نظر آتی ہے۔ اور بندے کی خدا  کے نظام سے لڑائی نظر آتی  ہے۔ ذرا یہ سوچئیے اختلاف کا تعلق ہم کس سے رکھ  رہے ہیں؟ یقینا اللہ  کی ذات سے۔ اللہ  کی ذات سے اختلاف کرنا کیا معنی دیتا ہے؟ یہ غور طلب بات ہے۔ قرآن میں اللہ سے اختلاف کا تعلق رکھنے کے سنگین ترین نتائج بیان ہوئے ہیں۔
تعلق کے لیئے دیکھ لینا ضروری نہیں نسبت رکھ لینا ضروری ہے۔ احترام کرنا معنی رکھتا ہے۔ نظر انداز کر دینا بھی ایک معنی رکھتا ہے۔ انجان ہونا بھی ایک تعلق ہے۔ تعلق مزاج سے بھی ہوتا ہے۔ حکایت سے بھی،  بات سے بھی، نام سے بھی، چہرہ سے بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ تعلق ایک جملہ کا بھی ہوسکتا ہے، ایک نصحیت کا بھی، ایک تھپڑ بھی، ایک ڈانٹ بھی تعلق شناسی سے نہیں ناشناسی سے شروع ہوتا ہے۔ شناسی سے تعلق بگڑ بھی سکتا ہے۔ اور ناشناسی سے بن بھی سکتا ہے اور رُک بھی۔ بیچ کا فرق صرف یقین اور اعتماد کا ہے۔
ہم زندگی میں بے شمار تعلقات بناتے ہیں۔ کچھ  رشتے بناتے ہیں۔ زندگی میں بے شمار ایسے لمحات آتے ہیں جب لوگ تعلق توڑ جاتے ہیں کچھ چھوڑ جاتے ہیں، چند تو بھول جاتے ہیں اور کچھ  کےساتھ  ہم ہی  ایسا برتائو  کرتے ہیں۔ مراد ہم زندگی بھر لوگ کھوتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اختلافات کھولتے ہی رہتے ہیں۔ ہماری زندگی کا وُہ لمحہ بڑا ہی یادگار و خوشگوار ہوتا ہے جب ہم اپنے بے شمار پھیلے ہوئے اختلافات کو اَحسن طریقہ سے ختم کر لیتے ہیں اور متنازعہ سےغیرمتنازعہ ہو جاتے ہیں۔ یقینا یہ اللہ کی طرف سے بڑے ہی بانصیب کے نصیب کی  بات ہے۔ وُہ لمحہ خدا کی رحمت ہوتا ہے کہ کھوئی ہوئی بیشمار،  بےبہا قیمتی جواہر (پہلا درجہ کی٩ اقسام کےپتھر) کی دولت پھر مل جاتی ہے۔
تعلق کیسے قائم رہتا ہے؟  تعلق یہ نہیں کہ سابقین کو بھولتے چلے جائیں بلکہ تعلق یہ ہے کہ سابقین کے ساتھ ساتھ  موجودہ  ہم عصروں،  ہم نوائوں اور نئے آنے والوں سب کے ساتھ اُنکی نوعیت جیسا تعلق برقرار رہے!!! یہ بات قانون قدرت سے مطابقت رکھتی ہے متصادم نہیں۔ اللہ کا تمام انسانوں سے رابطہ، والدین کا تمام بچوں کے ساتھ شفیق رہنا تعلق ہی ہے۔ یہ نہیں بڑے بچےکو چھوٹے بچوں کی وجہ سے لاتعلق کردیا جائے۔ اگر ایسا کر دیا جائے تو گھر اور معاشرے کا توازن بگڑتا ہے۔ آپس کے تعلق میں بگاڑ  کشیدگی کےانجام کا انتباہ دے دیتے ہیں۔ تعلق نہ تو خود انسان بناتا ہے اور نہ ہی توڑ سکتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے بنتا ہے۔ انسان  ردّ ضرور کرتا ہے۔ مگر اس میں ہی خدا کی مصلحت و مشیت ہوتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں ایک کہانی عام سننے کو ملتی ہے۔ کہ ایک شخص کہتا ہے کہ اُس نے پورے خاندان کی ذمہ داریاں اُٹھائی اپنے رشتہ داروں، بہنوں اور بھائیوں کی  بے لوث امداد کی۔ اُنکے بچے بیاہے، وُہ  اُنکی اکثر مشکل لمحات میں مدد کرتا تھا۔ مگر جب اُسکو ضرورت پیش آئی تو اُن تمام افراد نے مجھ سے معذرت کر لی یا انکار کر دیا جبکہ وُہ میری مدد کر سکتے تھے۔ یوں وُہ دلبرداشتہ ہو کر دُنیا کو تمام قصّہ سناتا رہتا ہے۔ کہ اُسکے اپنوں نے اُسکے ساتھ  برا  کیا۔ دراصل غلطی اسکی بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ اُس نے اُنکے اذہان کی تربیت یوں کی کہ وُہ شخص اُنکو دینے والا ہے اور وُہ اُس سے لینے والے ہیں۔ انھوں نے اُس سے لینا ہی سیکھا؛ دینا نہیں۔ اس لیئے اُنھوں نے کبھی خیال ہی نہ کیا کہ کبھی اُنکو مدد کی صورت میں دینا پڑے گا۔ اگر وُہ شخص اُنکے اذہان کی تربیت اس انداز میں کرتا کہ وُہ بھی کسی نہ کسی صورت میں اُس کو دیتے رہتے تو حالات اس نہج تک نہ پہنچ  پاتے کہ ناراضگیاں  بول کر مول لی جاتیں۔
تعلق جیسا بھی ہو ہمیں ایک دوسرے کے لیئے نیک تمنائیں رکھنی چاہیں۔ دشمن کے لیئے بھی دعا  کرنی چاہیے۔ بددعا نہیں۔ بداعمال کی اصلاح  کے لیئے اللہ  سے درخواست کرنی چاہیے۔ نیک اعمال والے کے لیئے نظربد سے تحفظ کی بھی گزارش کرنی چاہیے۔ اس بات کی کبھی کوئی فکر نہیں کرنی چاہیےکہ کوئی ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ رائے رکھنا دوسرے کی بات ہے ہماری بات تو یہ ہے کہ ہماری توجہ صرف اور صرف اپنے مثبت عمل کی جانب ہونی چاہیے۔ لوگ تو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ تبھی تو کہتے ہیں تعلقات اکثر وبال جان بھی بن جایا  کرتے ہیں اور اکثر پناہ بھی۔ یہ معاملہ اللہ  پر چھوڑنا چاہیے۔ بس تعلقات میں ہمیں اپنی سوچ کو اچھا اور صحتمند رکھنا چاہیے۔
(فرخ)

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

One Response to “تعلق سے لاتعلق”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

دراصل غلطی اسکی بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ اُس نے اُنکے اذہان کی تربیت یوں کی کہ وُہ شخص اُنکو دینے والا ہے اور وُہ اُس سے لینے والے ہیں۔ انھوں نے اُس سے لینا ہی سیکھا؛ دینا نہیں۔ اس لیئے اُنھوں نے کبھی خیال ہی نہ کیا کہ کبھی اُنکو مدد کی صورت میں دینا پڑے گا۔ اگر وُہ شخص اُنکے اذہان کی تربیت اس انداز میں کرتا کہ وُہ بھی کسی نہ کسی صورت میں اُس کو دیتے رہتے تو حالات اس نہج تک نہ پہنچ پاتے کہ ناراضگیاں بول کر مول لی جاتیں>woman in a men’s world’s last blog post..Silence


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: