دلچسپ ملک

Posted on 21/01/2008. Filed under: پاکستان |

اس ملک میں حمود الرحمان کمیشن نام لے لے کر ذمہ دار ٹھہراتا ہے کہ فلاں کا مشرقی پاکستان میں یہ کردار تھا، فلاں نے یہ کیا اور فلاں نے کس کس موقع پر انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔لیکن ہوا کیا۔کچھ ملزم خاموشی سے ریٹائر ہوگئے۔کچھ وزیر یا سفارتکار بن گئے اور کچھ نے اپنی یادداشتیں لکھ کر صفائی پیش کی اور کتاب کی رائلٹی بھی وصول کرلی۔

یہاں انیس سو اٹھاسی میں آئی جے آئی بنوانے والے اور مہران گیٹ سکینڈل کے سب کردار ماسوائے غلام اسحاق خان زندہ ہیں۔ان میں سے کچھ حضرات شواہد اور عدالتی گواہیوں کے باوجود مختلف اداروں کے کنسلٹینٹ ہیں۔کچھ حالاتِ حاضرہ کے مبصرین کی کھال اوڑھے بیٹھے ہیں اور بعض تھنک ٹینکس بنا کر ملک و قوم کی حالت پر آنسو بہا رہے ہیں۔

یہاں مرتضی بھٹو قتل کیس گیارہ برس سے عدالتی فائیلوں میں سو رہا ہے۔اس کیس میں ماخوذ بیشتر اہلکار اور شخصیات یا تو ترقی پا چکے ہیں، یا ریٹائر ہوچکے ہیں یا پھر فوت ہوگئے ہیں۔نہ کوئی بری ہوا نہ کسی کو سزا ملی۔

انیس سو ننانوے میں کارگل کے پہاڑوں پر کیوں چڑھائی کی گئی۔اتنے فوجی کس مقصد کے لئے مرے۔حکمتِ عملی کا خالق کون تھا ۔سب کردار زندہ ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ باعزت اور طاقتور انداز میں زندہ ہیں۔کارگل تحقیقاتی کمیشن نہیں بننے دیا گیا۔ویسے بن بھی جاتا تو کیا کرلیتا۔

وزیرستان میں قبائلیوں پر چڑھائی کی حکمتِ عملی کس نے بنائی۔پھر انہی قبائلیوں کے رہنماؤں کو دہشت گرد قرار دے کر ہار پھول پہنا کر امن معاہدے کس کے کہنے پر ہوئے اور یہ معاہدے کس کے حکم پر توڑے گئے۔

ان دھشتگرد سرغنوں کو خفیہ فنڈ سے لاکھوں روپے کس نے ادا کئے اور پھر یہ رقم حاصل کرنے والوں نے فوجیوں کو کیوں اغوا اور قتل کرنا شروع کردیا۔اور سوات میں ایک حجرے سے نشریات شروع کرنے والے ایف ایم ریڈیو ٹرانسمیٹر نے پورے ضلع کو کس کی آنکھوں کے سامنے ایک جہادی کش مکش میں جھونک دیا۔کیا آج تک مذکورہ مہم جوئی اور بد انتظامی کی ذمہ داری کسی کمانڈر یا پولٹیکل ایجنٹ یا سرکاری سیاستداں نے اپنے سر لی۔کیا کسی سے پوچھ گچھ ہوئی۔

لال مسجد اسلام آباد میں اسلحہ جمع کرنے والوں کو سات ماہ تک کس نے سلیمانی ٹوپیاں فراہم کیں۔اور جب رائی کا پہاڑ بن گیا اور سو سے زائد لوگ مارے گئے تو کیا یہ سب خود بخود ہوگیا یا کوئی ادارہ یا اہلکار بھی تھوڑا بہت ذمہ دارتھا۔کیا سب کچھ مرنے والوں کے ساتھ قبر میں دفن ہوگیا۔

سٹاک ایکسچینج میں مارچ دو ہزار پانچ میں تیرہ ارب روپےڈوب گئے۔وزیرِ اعظم شوکت عزیز یہ وضاحت کئے بغیر کیسے ملک چھوڑ گئے کہ اس بدقسمت مالیاتی دن کا ریکارڈ کہاں اور کس نے کس کے حکم پر غائب کردیا۔

صدر پرویز مشرف نے سینہ ٹھونک کر کہا کہ تین نومبر کو ایمرجنسی کا نفاز ایک غیر آئینی اقدام تھا لیکن اس کا نفاز ایک مجبوری تھی۔کس عدالت میں ہمت ہے کہ صدر کے اس بیان کا ازخود نوٹس لیتی۔

بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد جائے حادثہ کو دو گھنٹے میں فائر بریگیڈ کے پانی نے دھو دیا۔صدر مشرف نے کہا یہ غلطی تھی۔آج تک یہ کیوں نہیں پتہ چل سکا کہ کس کی غلطی تھی اور اس کے خلاف کیا کاروائی ہوئی۔

صدر مشرف نے کہا بینظیر کو بینظیر کی غلطی نے مار ڈالا۔وزیرِ داخلہ نے کہا گولی لگنے سے موت ہوئی۔ان کی وزارت کے ترجمان نے کہا لینڈ کروزر کا لیور لگنے سے موت ہوئی۔پھر کہا گیا کہ ترجمان ایک سیدھے سادے فوجی ہیں لہذا جلد بازی میں یہ سب کہہ گئے۔کوئی اور ملک ہوتا تو ان تینوں سیدھے سادے فوجیوں کو تحقیقات غلط رخ پر ڈالنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا لیکن سب اپنی اپنی جگہ موجود ہیں۔

اگر یہاں کسی کا احتساب ہوسکتا ہے تو افتخار چوہدری اور اعتزاز احسن جیسوں کا ہوسکتا ہے جنہوں نے اس نظام کی نفسیات سمجھنے میں شدید غلطی کی ۔

اگر کسی نے صحیع معنوں میں اس نظام کو سمجھا ہے تو وہ بیت اللہ محسود اور مولانا فضل اللہ جیسے لوگ ہیں۔۔۔۔۔ہے نا پاکستان ایک دلچسپ ملک !!!

وسعت اللہ خان، بی بی سی اردو

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: