کتاب چور

Posted on 11/02/2008. Filed under: تعلیم, رسم و رواج |

لوگ نہ جانےکیا کیا چراتے ہیں۔ کوئی دل چراتا ہے تو کوئی دماغ۔ بےشمار دولت، چند نام اور بےشمار نام والے الفاظ چراتے ہیں، منسوبیت چرا لیتے ہیں۔ کچھ تاریخی حقائق کو چھپا کر چرا لیتے ہیں۔ یونہی چند افراد کتاب چراتے ہیں۔ کوئی کسی لائیبریری سے تو کوئی کتب فروش کی دکان سے۔ چند لوگ کسی کےذاتی کتب خانہ سے کتاب چرا لیتے ہیں۔ چند تو عاریتاً مانگ کر واپس نہیں کرتے۔ بلکہ کہہ دیتے ہیں۔ آپکو تو واپس کر چکے ہیں۔ یوں کرتے کرتے کتب خانے ویران ہوتے چلے جاتے ہیں۔ تحقیق کر کےتحریر کرنےوالے تحریروں کو لکھتےلکھتے برسوں تک روکے رکھتے ہیں۔ اور چند تو کتاب کی واپسی کےانتظار میں ہی مر جاتے ہیں۔
جو کتاب چراتا ہے، وُہ کتاب نہیں پڑھتا۔ جو کتاب پڑھتا ہے وُہ چراتا نہیں۔گنجائش نہ ہو تو دیانتداری سے پڑھ کر فوراً احساس ذمہ داری کے تحت واپس کرتا ہے۔ کسی کی کتاب، کسی کی تحریر چُرا کر ہمیں اُسکا علم حاصل نہیں ہوتا۔ علم تمام کا تمام کتاب سے نہیں ہوا کرتا۔ علم مشاہدہ بھی ہوتا ہے اور خدا کی دین بھی۔ جو کسی کی کتاب کی تحریر نہیں ہوتا۔ تبھی کہتے ہیں ”علم ایک ایسی لازوال دولت ہے جوکوئی چور چاہے بھی تو چرا نہیں سکتا۔“
کتاب کسی کی خاموشی سے بطور کچھ خاص حاصل کرنے کے لیئے چرائی جائے اور پھر خاموشی سے بھی واپس رکھ دی جائے تو شائید اُس علم میں کچھ مل جائے۔ مگر جو واپس نہ کرنے کے ارادہ سے لی جائے تو پھر وُہ علم بھی ادھورا ہی ہوتا ہے۔ علم کی بنیاد ایمان سے ہے اور ایمان چوری، دغہ سے منع کرتا ہے۔
مشاہدہ علم پڑھ لینے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ حاصل کردہ علم کا باعمل ہوجانا مشاہدہ کا آغاز ہوتا ہے۔ تبھی اسلام میں ہے۔ اَمر بالمعروف ونہی ان المنکر (جو کرو اس ہی کی تلقین کرو، جو نہ کرسکوں اس کی تلقین نہ کرو)۔ اسلام کا علم عمل ہے۔ مشاہداتی انداز فکر عطاء کرتا ہے۔ فکر غور اور توجہ دینے سے ہوا کرتی ہے۔ یہی وُہ معاملہ ہے جس سے علم  پھیلتا اور وسیع ہوتا ہے۔ کتاب چور ایسے ہی ہے جیسے کوئی رٹا ساز۔ انگریزی بول لینے سے، مفکرین و دانشوروں کےجملے رَٹ کر سنا دینے سے اپنےعلم یافتہ ہونےکی دھاک تو بٹھائی جاسکتی ہے؛ مگر تعلیم یافتہ جملوں سے، زبان کی فراوانی سے نہیں ہوا کرتا۔ تعلیم تہذیب اور اخلاقیات کی پاسداری سے ہوتی ہے۔ علم جھاڑنا بدتہذیب کاعلم پر جھاڑو پھیر دینا ہے۔ علم کی تاثیر عمل سے ہوتی ہے۔ جو چور ہوتا ہے، اُس میں عمل نہیں ہوتا۔
علم کو چھپا لینے والا بھی ایک چور ہوتا ہے۔ یہ بھی کتاب چو ر ہی ہوتا ہے۔ یہ سمجھنا کہ کسی کو بتا دینے سے میری کیا اہمیت رہ جائےگی، میری وقعت کم ہو جائےگی۔ گھٹیا ذہن کی گھٹیا بات ہوتی ہے۔ ایسی اقوام دُنیا میں ذلیل و خوار ہوتی ہے۔ اسلام برہمن کا علم نہیں۔ اسلام دین اسلام ہے۔ اللہ کا علم تمام انسانیت کے لیئے ہیں۔ وُہ کسی مخصوص طبقہ کے لیئے نہیں۔ اُس کا حصول تمام اُمت پر بھی لازم ہے۔ سائینسی علم کو اپنی حد تک محدود کرلینا، حاصل کیئے گئے علم کے ساتھ شدید تر زیادتی ہے۔ علم کا فروغ علم کی ترقی ہے۔ علم کی ترقی ملک و ملت کی خوشحالی اور مستقبل کی نسلوں کے لیئے آبیاری ہے۔
کتاب چرانے کے لیئے نہیں بچانے کے لیئے ہوتی ہے۔ مگر آج ہم نہیں جانتے کہ ہم کتاب کیوں چرا رہے ہیں؟  کتاب چرانے والا کتاب لکھنے والا بھی ہوسکتا ہے؛ صرف پڑھ لینے والا نہیں۔ آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم لفظ کی اہمیت سے واقف نہیں۔ لفظ کی اہمیت کتاب کی اہمیت ہوتی ہے۔ مصنف اپنی نمائش نہیں چاہتا۔ کتاب کا مقصد لوگوں پر مثبت اثرات مرتب کرنا ہوتا ہی۔ مناسب اور درست سمت میں تعمیر ی صورت فراہم کر کےرہنمائی کرنا ہوتا ہی۔ چور اور غور کرنے والے کے مابین اصل فرق لفظوں کے پیچھےمشاہدہ کا ہوتا ہے۔ جملےایک ہو سکتے ہیں مگر مقصد، سوچ، خیال، وسعت ہمیشہ ہر ایک کی مختلف ہوتی ہے۔ سننے والے کے دِل میں میل ہے تو بات بھی میلی ہی رہ جائےگی۔ خلوص سامع کو توجہ اور غور سے اُجالا دِکھاتا ہے۔ ایک ہی با ت مختلف انداز سے preserve ہوتی ہے۔ جذب ہوکر منعکس مختلف زاویوں سے ہوتی ہے۔ ایک واقعہ میں کئی درس موجود ہوتے ہیں۔ کسی کی ناکامی سے ہمیں اپنی کوتاہیاں واضح محسوس ہوتی ہیں۔ مگر یہ سب علم چرانے سےنہیں، کتاب چرانےسے نہیں، نام غلط منسوب کرنے سے نہیں، لفظ اپنے سے منسوب کرنے سے نہیں ہوتی۔ یہ تو اپنا اپنا غور،  فکر اور مشاہدہ کی بات ہے۔ جو اللہ کی طرف سےعطاء ہوتی ہے۔
چور کا مقصد چوری کر کےضرورت پوری کرنا ہے۔ ہوس کا شکار ہو کر ڈاکو بن جانا ہے۔ فطرت چھیننا ہی ہے۔ دینا اور بانٹنا نہیں۔ علم والے پر اللہ کا فضل ہے؛ دیتا ہے، بانٹتا ہے، انسان کو محبت کے رشتہ سے جوڑتا ہے۔ خود عملی مثال بنتا ہے۔ لوگوں پر اثر اپنےعلم سے نہیں اپنےکردار سے بناتا ہے۔ یہی کردار اُسکے اثر کی تاثیر ہوتا ہے۔ جو لفظوں کےتاثر سے سامعین کے دلوں کو ملتا ہے۔ کتاب چور، علم چور کو سوچنا چاہیئے کہ اُسکا چوری کرنےکا یہ عمل کیا ہے؟ اُس کا اثر کیا تاثر دے گا۔ ذہنی الجھنوں اور مسائل کا۔ یہی دینا اور چھیننا کی فطرت ہے۔ چوری کرنےکی بجائےغور کیجیئے۔ علم بانٹنا ہے چھپانا نہیں۔ جبکہ چور حقیقت چھپاتا ہے اور حقیقت چھپانا بھٹک جانا ہے۔
عظیم اقوام حقیقت چھپایا نہیں کرتی، حقیقت کا سامنا کیا کرتی ہیں۔ جب حقیقت شناس حقیقت فروش ہو تو وُہ اقوام کو حقارت کی نگاہ عطاء کر کےحقیر ہی بناتا ہے۔
(فرخ)

Advertisements

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: