انتخابات کے بعد

Posted on 22/02/2008. Filed under: پاکستان |

روزنامہ جنگ کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر 1970ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے 18 فروری 2008ء کو 9 ویں انتخابات تھے ۔ انتخابات کے بعد نئی جمہوری حکومتوں کے قیام میں سب سے زیادہ عرصہ 1970ء میں لگا جب 2سال 8ماہ 18 دن بعد مرکز میں حکومت قائم ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا۔ 1990ء کے انتخابات میں نئی حکومت کے قیام میں سب سے کم عرصہ لگا اور صرف 11 دن بعد میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا کر مرکز میں حکومت قائم کی ۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد حکومت میں تاخیر کا بنیادی سبب مشرقی پاکستان کی علیحدگی تھی۔ 7/ دسمبر 1970ء کو قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے جبکہ 17 دسمبر 1970ء کوصوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی تھی لیکن حکومت کے قیام پر اتفاق نہ ہونے سے اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا جاسکا۔ 16/ دسمبر 1971ء کو سقوط ڈھاکا کا سانحہ رونما ہوا۔ 20 دسمبر 1971ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے باقیماندہ پاکستان کے صدر اور سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے عہدے سنبھالے۔ انتخابات کے ایک سال 3 ماہ 18 دن بعد بالآخر 14 اپریل 1972ء قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں باقیماندہ پاکستان کے ارکان قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا اور ذوالفقار علی بھٹو کو اسمبلی کا اسپیکر منتخب کیا گیا ۔ حلف اٹھانے والوں میں مغربی پاکستان کے 114 اور مشرقی پاکستان کے دو ارکان قومی اسمبلی نور الامین اور راجہ تری دیورائے شامل تھے۔ بعدازاں 30 اپریل 1972ء کو صوبائی اسمبلیوں کے بھی اجلاس منعقد کئے گئے اور یکم مئی 1972ء کو سندھ اور سرحد میں اور 2مئی 1972ء کو پنجاب اور بلوچستان میں صوبائی حکومتیں قائم کر دی گئیں۔پنجاب میں ملک معراج خالد، سندھ میں ممتاز علی بھٹو، سرحد میں مفتی محمود اور بلوچستان میں سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ بنے۔ 17/ اپریل 1972ء کو عبوری آئین منظور کیا گیا جس کے تحت 14 اگست 1973ء سے پہلے اسمبلی کو نہیں توڑا جا سکتا تھا۔10/اگست 1973ء کو اسمبلی نے متفقہ آئین کی منظوری دی۔ 12/اگست کو اس کی توثیق کی اور 14/اگست 1973ء کو یہ متفقہ دستور نافذ ہوا۔ اُسی دن ذوالفقار علی بھٹو نے وزارت عظمٰی کا حلف اٹھایا۔ 15/اگست 1973ء کو صاحبزادہ فاروق علی قومی اسمبلی کے اسپیکر بنے۔ انتخابات کے بعد نئی حکومت کے قیام میں تاریخ پاکستان کے دولخت ہونے کا عظیم سانحہ تھا۔ 1988، 1990، 1993اور 1997کے عام انتخابات کے بعد نئی حکومتوں کے قیام میں کوئی زیادہ تاخیر نہیں ہوئی اور 1سے 16دنوں کے اندر مرکز میں حکومتیں بن گئیں البتہ کچھ صوبوں میں مزید ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ کی تاخیر سے حکومتیں قائم ہوئیں کیونکہ ان چاروں انتخابات کے بعد کوئی زیادہ سیاسی جوڑ توڑ کی ضرورت نہیں پڑی۔ البتہ اس سے قبل 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات کے بعد حکومتوں کے قیام میں خاصی تاخیر ہوگئی۔ 25/فروری 1985ء کو قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے اور 28/فروری 1985ء کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ مرکز میں حکومت تقریباً 26 دن بعد 23/مارچ 1985ء کو قائم ہوئی اور محمد خان جونیجو نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ پنجاب میں ایک ماہ 8دن بعد یعنی 9/اپریل 1985ء کو میاں محمد نوازشریف نے وزارت اعلیٰ کا حلف لے کر حکومت تشکیل دی۔ سندھ میں سید غوث علی شاہ نے 6/اپریل1985ء کو، سرحد میں جہانگیر ترین نے 7/اپریل 1985ء کو اور بلوچستان میں جام میر غلام قادر نے 6/اپریل1985ء کو وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھاکر صوبائی حکومتیں قائم کیں۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد حکومتیں قائم کرنے میں سب سے زیادہ تاخیر2002ء کے عام انتخابات کے بعد ہوئی کیونکہ مسلم لیگ (ق) کو مرکز میں حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت حاصل نہیں تھی۔ حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی اور دیگر آزاد ارکان کو توڑنے کے لیے خاصا وقت لگ گیا اور تقریباً ایک ماہ 13دن بعد 23/نومبر2002ء کو میر ظفر اللہ خان جمالی نے وزارت عظمٰی کا حلف اُٹھاکر وفاقی حکومت تشکیل دی۔ دو دن بعد 25/نومبر2002ء کو متحدہ مجلس عمل کے اکرم خان درانی نے سرحد میں اور 6 دن بعد 29/نومبر2002ء کو مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب میں صوبائی حکومتوں کے سربراہ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ سندھ میں اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی کو حکومت نہیں بنانے دی گئی اور جوڑ توڑ کی وجہ سے یہاں حکومت بنانے میں اور زیادہ تاخیر ہوگئی۔ بالاخر 2ماہ 6دن کی تاخیر کے بعد 16/دسمبر 2002ء کو سردار علی محمد خان مہر نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ 1988ء میں قومی اسمبلی کے انتخابات 16/نومبر جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 19/نومبر کو منعقد ہوئے۔ صرف 16/دن بعد 2/دسمبر1988ء محترمہ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اُٹھایا جبکہ 2/دسمبر1988ء کو ہی پنجاب میں میاں محمد نوازشریف نے، سندھ میں سید قائم علی شاہ نے اور آفتاب احمد شیرپاؤ نے سرحد کے وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ البتہ بلوچستان میں حکومت بنانے میں تاخیر ہوگئی۔ انتخابات کے تقریباً 2/ماہ 16/دن بعد نواب اکبر بگٹی وزیراعلیٰ بنے۔ 1990ء میں قومی اسمبلی کے انتخابات 24/اکتوبر اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 27/اکتوبر کو منعقد ہوئے۔صرف 11دن کے بعد 6/نومبر1990ء میں میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم کا حلف اُٹھاکر مرکز میں حکومت قائم کی۔ اُسی دن سید مظفر حسین شاہ نے سندھ کے وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالا۔ 8/نومبر کو غلام حیدر وائین نے پنجاب اور 7/نومبر کو میر افضل خان نے سرحد کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ اس مرتبہ بھی بلوچستان حکومت کی تشکیل
میں قدرے تاخیر ہوگئی اور تقریباً 20/دن بعد تاج محمد خان جمالی نے وزارت اعلیٰ کا حلف اُٹھاکر بلوچستان کی حکومت تشکیل دی۔ تاخیر کی وجہ مطلوبہ اکثریت کا نہ ہونا اور سیاسی جوڑ توڑ تھی۔ 1993ء میں قومی اسمبلی کے انتخابات 6/اکتوبر اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 9/اکتوبر کو منعقد ہوئے۔ اس مرتبہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے صرف 13دن بعد 19/نومبر 1993ء کو وزارت عظمٰی کا حلف اُٹھایا اور 11سے 12دن میں چاروں صوبائی حکومتیں بھی قائم ہوگئیں۔ 20/نومبر1993ء کو میاں منظور وٹو نے پنجاب میں، اُسی دن سید صابر علی شاہ نے سرحد میں اور میر ذوالفقار علی مگسی نے بلوچستان میں وزرائے اعلیٰ کا منصب سنبھالا۔ 21/نومبر1993ء کو سید عبداللہ شاہ سندھ کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔1997ء میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پہلی مرتبہ ایک ہی دن 3/فروری1997ء کو منعقد ہوئے۔ 17/فروری1997ء کو میاں نوازشریف نے دوبارہ وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ 20/فروری کو میاں شہباز شریف نے پنجاب میں، 22/فروری کو لیاقت علی خان جتوئی نے سندھ میں، 21/فروری کو سردار مہتاب احمد خان عباسی نے سرحد میں اور 22/فروری 1997ء کو سردار اختر خان مینگل نے بلوچستان میں وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھاکر حکومتیں تشکیل دیں۔ 18/فروری 2008ء کو منعقد ہونے والے 9/ویں عام انتخابات کے نتائج کا سرکاری اعلان جمعہ 22کو متوقع ہے لیکن انتخابات میں جس طرح تقسیم شدہ مینڈیٹ آیا ہے اس سے کسی بھی سیاسی جماعت کو مرکز میں حکومت تشکیل دینے کے لیے سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کو اگرچہ نشستوں کی تعداد کے حوالے سے برتری حاصل ہے لیکن مرکز میں حکومت کے قیام کے لیے اُسے بہت سی ایسی مشکلات کا سامنا ہے، جو شاید پہلے کسی بھی سیاسی جماعت کو نہیں کرنا پڑا۔ حالات سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ نئی منتخب حکومتوں کے قیام میں غیرمعمولی تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: