Archive for فروری, 2008

پاکستانی سروے

Posted on 21/02/2008. Filed under: بلاگ اور بلاگرز |

پاکستانی بلاگ پر کئے گئے سروے اور ان کی تفصیل

پاکستانی بلاگ پر کیا گیا پہلا سروے

سانحہِ لال مسجد، ذمہ دار کون؟
پہلے سروے کے حصے میں کل ٢١ ووٹ آئے جس کے مطابق
٨ افراد نے اس سانحہ کا ذمہ دار مشرف حکومت کو قرار دیا ہے۔
٩ افراد نے لال مسجد انتظامیہ کو۔
٣ افراد نے دونوں کو۔
١ نے اس سے لا علمی کا اظہار کیا۔

دوسرا سروے

مشرف، بھٹو ملاقات ۔ فائدہ کس کا؟
اس سروے کے حصے میں ١١١ ووٹ آئے جس کے مطابق
٥٦ افراد کے مطابق اس ملاقات کا فائدہ پرویز مشرف کو ہو گا۔
٣٣ افراد نے محترمہ بینظیر بھٹو کو
١٩ افراد نے کہا ہے کہ یہ ملاقات دونوں کے فائدے میں ہے جبکہ ٣ افراد نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

تیسرا سروے

پاکستان کا اگلا صدر کون ہو گا؟
٢٤٣ افراد نے پرویز مشرف کے حق میں ووٹ دیئے ہیں۔
٢٦ افراد نے جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو ملک کا آئندہ صدر قرار دیا۔
جبکہ ١١ افراد مخدوم امین فہیم کو پاکستان کا اگلا صدر دیکھنا چاہتے ہیں۔

چوتھا سروے

کیا صدر مشرف پندرہ نومبر تک وردی اتار دیں گے؟
٤٢ افراد نے صدر مشرف پر اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ صدر صاحب ١٥ نومبر تک وردی اتار دیں گے۔
٧٤ افراد نے کہا ہے کہ جی نہیں ایسا نہیں ہو گا۔
١٠١ افراد نے کہا کہ وہ اعتبار کھو چکے ہیں، اب ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
١٩ افراد نے اس سلسلے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

پانچواں سروے

(ایمرجنسی کے بعد کی صورتحال) اس نازک صورتحال میں ایسا کون ہے جو امن و سلامتی سے پاکستان کو اس بحران سے نکال کے لے جائے گا؟
٨ افراد نے کہا کہ ایسی صلاحتیں صرف صدر پرویز مشرف میں ہیں۔
١٨ افراد نے وکلاء اور سٹوڈنٹ کے حق میں ووٹ دیئے۔
١٩ افراد نے پاکستانی پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا۔
٥ افراد نے مسلم لیگ نون کے حق میں ووٹ دیئے۔
٢١ افراد نے عمران خان کے بارے میں کہا کہ صرف اسی میں ایسی خوبیاں ہیں جو اس بحران کو اپنے قابو میں کر سکتے ہیں۔
٣ افراد نے ایم ایم اے کو اپنا نجات ہندہ قرار دیا۔
یہاں مسلم لیگ ق کے حق میں کوئی ووٹ نہیں پڑا، اور ٨ افراد رائے دی کہ ان میں کوئی بھی ایسا نہیں جو امن و سلامتی سے پاکستان کو اس بحران سے نکال کے لے جائے۔

چھٹا سروے

بینظیر بھٹو کی ہلاکت میں کون ملوث ہو سکتے؟
٦ افراد نے القاعدہ پر الزام عائد کیا۔
٤ افراد نے چوہدری برادران کو ذمہ دار قرار دیا۔
٨ افراد نے پرویز مشرف کو۔
٥ افراد نے الطاف حسین۔
٧ افراد نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
جبکہ میاں نواز شریف پر کسی نے انگلی اٹھانے کی جرات نہیں کی۔

ساتواں سروے

پاکستان میں ہونے والے الیکشن کے بعد حکومت کون بنائے گا؟
١ افراد نے متحدہ مجلس عمل کو حکومت میں دیکھنا چاہتا ہے۔
٥٣ افراد پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خواہاں ہیں۔
١ افراد پاکستان مسلم لیگ ق کے بارے نیک خواہشات رکھتا ہے۔
٦٠ افراد نے پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں ووٹ دیئے ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کل آج اور کل

Posted on 16/02/2008. Filed under: پاکستان, شعروادب |

کچھ خواب، کچھ اندیشے، کچھ سوال
 اعتزاز احسن

 

 

عہد جوانی میں دیکھے تھے
کیسے کیسے خواب سہانے
ان خوابوں میں ہم لکھتے
اکثر خوشیوں کے افسانے

 

ایک نئی دنیا کی کہانی
ایک نئی دنیا کے ترانے
ایسی دنیا جس میں کوئی
دکھ نہ جھیلے بھوک نہ جانے

 

لگتا تھا ہم سب نے دیکھے
اس دھرتی کے درد انجانے
سوچا تھا کہ سب نکلیں گے
غربت کے سب پاپ مٹانے

 

ایک طرف تھی جنتا ساری
ایک طرف تھے چند گھرانے
ایک طرف تھے بھوکے ننگے
ایک طرف قاروں کے خزانے

 

ایک طرف تھیں مائیں بہنیں
ایک طرف تحصیل اور تھانے
ایک طرف تھی تیسری دنیا
ایک طرف بے داد پرانے

 

ایک طرف سچل اور باہو
ایک طرف ملاء اور مسلک
ایک طرف تھے ہیر اور رانجھا
ایک طرف قاضی اور چوچک

 

ایک طرف امرت کے دھارے
ایک طرف تھے دھارے بھس کے
ساری دنیا پوچھ رہی تھی
بولو! اب تم ساتھ ہو کس کے؟

 

سوچا تھا ہم مل کر سارے
دنیا کو تبدیل کریں گے
دکھ اور درد کی یہ مسافت
طے ہم میل ہا میل کریں گے

 

سب بھائیوں کی سوچ تھی یکساں
ہاتھ میں ڈالے ہاتھ کھڑے تھے
سولی کو کچھ چوم چکے تھے
کچھ سولی کے ساتھ کھڑے تھے

 

آنکھوں میں سب خواب تھے روشن
ہاتھوں میں امید کا پرچم
دنیا ساری مٹھی میں تھی
لب پہ ترانہ، مدھم، مدھم

 

قدم سے اپنے قدم ملا کر
ابھی مسافت طے کرنا تھی
محکومی کے گیت ہم نے
آزادی کی لے بھرنا تھی

 

نیا سویرا آنے کو تھا
رات اندھیری جانے کو تھی
آزاد، اور آزادی بھی
تیری میری، آنے کو تھی

 

گرتی ہوئی دیوار کا لوگو!
باقی نہ تھا کوئی سہارا
لگنے کو تھا ایک ہی دھکا
ملنے پر بس ایک اشارہ

آج

 لیکن ہم تو بکھر رہے تھے
اور ہم کو احساس نہیں تھا
خواب ادھورے بھی رہتے ہیں
اس کا ہم کو پاس نہیں تھا

 

علم و ہنر کو چھوڑ کے ہم نے
اپنے اپنے مسلک پالے
رنگ و نصب، تہذیب اور مذہب
کیا کیا آپ تفرقے ڈالے

 

دیکھو دیکھو کتنے بیٹے
سرینگر میں کھیت ہوئے ہیں
دیکھو دیکھو کتنے بھائی
جھیل کی خونی ریت ہوئے ہیں

 

ہتھیاروں کی دوڑ لگی ہے
جنگ کرنے ہر فوج کھڑی ہے
مذہب اور تہذیب کے بل پر
قوم سے دیکھو قوم لڑی ہے

 

ایک مہذب قوم کو دیکھو
خود ہم نے بدنام کیا ہے
باقی جو کچھ بچا تھا اس کا
غیروں نے وہ تمام کیا ہے

 

دنیا کی تاریخ گواہ ہے
عدل بنا جمہور نہ ہو گا
عدل ہوا تو دیس ہمارا
کبھی بھی چکنا چور نہ ہو گا

 

عدل بنا کمزور ادارے
عدل بنا کمزور اکائیاں
عدل بنا بے بس ہر شہری
عدل بنا ہر سمت دھائیاں

 

دنیا کی تاریخ میں سوچو
کب کوئی منصف قید ہوا ہے؟
آمر کی اپنی ہی اَنا سے
عدل یہاں ناپید ہوا ہے

 

یوں لگتا ہے ایک ہی طاقت
ارض خدا پر گھوم رہی ہے
یوں لگتا ہے ہر اک قوت
پاؤں اس کے چوم رہی ہے

 

اس کی بمباری کے باعث
خوں میں سب لبریز ہوئے ہیں
مذہب میں شدت آئی ہے
خودکش جنگجو تیز ہوئے ہیں       
 

 

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

الیکشن 2008

Posted on 15/02/2008. Filed under: ڈیرہ نامہ |

آجکل ہر وقت ہر جگہ الیکشن کا چرچا ہے اس لئے سوچا ہے کہ آج کچھ الیکشن اور مقامی سیاست کے بارے میں لکھا جائے، ڈیرہ غازی خان کے سرداروں اور جاگیرداروں کا کردار ملکی سیاست میں ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ ضلع ڈیرہ غازی خان قومی اسمبلی کی تین اور اور صوبائی اسمبلی کی سات نشتوں پر مشتمل ہے۔اس کی مجموعی طور پر کل آبادی تقریباََ اٹھارہ لاک نفوس پر مشتمل ہے، اور مجموعی طور پر گیارہ لاکھ پانچ سو چوہتر رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ہے جن میں چھ لاکھ پچیس ہزار آٹھ سو سولہ مرد اور چار لاکھ انناسی ہزار نو سو اٹھاسی خواتین ووٹر شامل ہیں، جبکہ الیکشن کے لئے ضلع بھر میں ٨١٤ پولنگ اسٹیشن اور ١٧٩٩ پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ ضلع کی مجموعی طور پر ٥٩ یونین کونسلیں ہیں جن ٤١ تحصیل ڈیرہ غازی خان اور ١٣ تحصیل تونسہ شریف تحصیل ٹرائبل ایریا پانچ یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔
١٨ فروری کے قریب ہونے کی وجہ سے اس وقت ڈیرہ غازی میں انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ الیکشن ٢٠٠٨ سے صرف چند دن قبل ڈیرہ غازی خان کی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی سے الیکشن مہم میں مزید تیزی آ گئی ہے سات سال بعد سابق صدر سردار فاروق احمد خان لغاری اور ضلع ناظم سردار مقصود احمد خان لغاری کے درمیان صلح سے لغاری گروپ کی پوزیشن اب قدرے بہتر ہوئی ہے، تاہم کہا یہ جا رہا ہے کہ اس صلح میں صدر پرویز مشرف اور چودھری پرویز الہی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مدمقابل سیاسی حریف سردار ذولفقار علی خان کھوسہ گروپ بھی اپنی کامیابی کے لئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے، اس سلسلے میں کل ہی میاں شہباز شریف یہاں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کر کے گئے ہیں جس سے ق لیگ کے مایوس کارکنوں میں نئی جان پیدا ہو گئی ہے اور کھوسہ گروپ کو بھی بہت بڑی سپورٹ مل گئی ہے۔
سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اپنے صاحبزادوں سردار سیف الدین خان کھوسہ اور سردار دوست محمد خان کھوسہ کی جیت کو یقینی بنانے کے لئے بھرپور محنت کر رہے ہیں۔ بہرحال دونوں روایتی حریفوں کے درمیان انتہائی کانٹے دار اور سخت مقابلے کی توقع ہے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ١٧١ تحصیل تونسہ شریف پر مسلم لیگ ق کے امیدوار خواجہ شیراز، مسلم لیگ ن کے امیدوار میربادشاہ قیصرانی، پیپلز پارٹی کے امیدوار خواجہ مدثر محمود اور آزاد امیدوار سابق ممبر قومی اسمبلی سردار امجد فاروق خان کھوسہ کے درمیان انتہائی سخت مقابلہ ہے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ١٧٢ سے مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر سابق صدر فاروق احمد خان لغاری امیدوار ہیں جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن اور ایم ایم اے کے حمایت یافتہ امیدوار حافظ عبدالکریم ہیں جو اپنی کامیابی کے لئے کوشاں ہیں، حافظ عبالکریم کو سردار ذولفقار علی خاں کھوسہ گروپ کی سپورٹ کے ساتھ ساتھ دینی و مذہبی جماعتوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ١٧٣ پر سابق وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری اور سردار ذولفقار علی خان کھوسہ کے صاحبزادے سابق چیئرمین ضلع کونسل سردار سیف الدین خان کھوسہ کے درمیان انتہائی سخت اور دلچسپ مقابلہ ہو گا۔ کیونکہ اس وقت دونوں کی پوزیشن مستحکم نظر آ رہی ہے، کسی کے بارے میں واضع طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اسی حلقے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار شبیر احمد خان لغاری کی انتخابی مہم بھی کہیں کہیں نظر آ رہی ہے، لگتا ہے وہ ان دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلے کے لئے میدان خالی چھوڑنا چاہتے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان شہر کی نشست حلقہ پی پی ٢٤٤ پر مسلم لیگ ق کے امیدوار سید عبدالعلیم شاہ جن کو سردار فاروق احمد خان لغاری کی حمایت حاصل ہے جبکہ ان کے مدمقابل سردار ذوالفقار علی خان کے چھوٹے صاحبزادے سردار دوست محمد خان کھوسہ اور پیپلز پارٹی کے امیدوار شبلی شب خیز غوری کے علاوہ آزاد امیدوار مینا احسان لغاری اور ایم ایم اے کے امیدوار عبدالعزیز بلوچ میدان میں ہیں۔
اس وقت پورے شہر میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں، پورے شہر کی سڑکیں امیدواروں کے انتخابی پوسٹروں اور بینروں خصوصاََ شہر کے مین چوکوں پر بڑے پوٹریٹ نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔ شہر کے تمام ہوٹلوں، قہوہ خانوں، چوکوں، گلیوں اور گھروں میں ہر جگہ انتخابات کے بارے میں بحث و مباحثہ، تبصرے اور شرطیں لگائی جا رہی ہیں۔ شہر میں ہونے والی کوئی نماز جنازہ، قل خوانی اور دیگر اجتماعات و تقریبات میں تمام امیدوار موجود ہوتے ہیں اور تعزیت، ہمدردی اور اپنائیت کا احساس دلا کر کنویسنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ موجودہ الیکشن انتہائی ٹاکرے دار اور عوام کے باشعور ہونے کی وجہ سے اب کی بار مقامی سردار ڈور ٹو ڈور عوام کے پاس جانے پر مجبور ہو گئے ہیں، اگر یہی لوگ اقتدار کے ایونوں تک عوام کے ساتھ لیکر چلتے تو آج یوں گلی گلی دروازے کھٹکاتے نظر نہ آتے، بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ ١٨فروری کا دن ڈیرہ غازی خان کے سیاسی منظر نامے پر کیا تبدیلیاں لیکر آتا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

محبت

Posted on 15/02/2008. Filed under: اسلام, رسم و رواج |

محبت اعتماد سے نہیں، اعتماد محبت سے ہوتا ہے۔
محبت ہمیں لوگوں سے جُدا نہیں کرتی۔ ہمیں لوگوں سے جوڑتی ہے۔ ایک محبت ہمارا تعلق اللہ سے جوڑتی ہے۔ جو عشق کہلاتا ہے۔ محبت ہی وفا دیتی ہے اور محبت ہی یقین دیتی ہے۔ محبت ایک ایسا پھول ہے جسکی خوشبو ماحول کو معطر کردیتی ہے۔ محبت یہ نہیں کہ مزاج میں تلخی پیدا کرے بلکہ یہ تو تشنگی کو دور کرتی ہے۔
مانوسیت اُنس پیدا کرتی ہے۔ یہیں سے اُلفت؛ چاہت کا احساس پیار کی صورت میں دِلاتی ہے۔ محبت حب ہوتی ہے، جو محب کی وفا ہوتی ہے۔ عشق تو انسان کو ذات کی فنا سے معرفت کا مقام دِلاتا ہے۔ دوستی ہمیں یارانہ سکھاتی ہے۔ یہ تمام رفاقتیں لُطف و کرم کا ساگر ہیں۔ یہی پریم ہے۔ اسی پریت ( عاجزی )میں کوئی پریتم (سب سے زیادہ پیارا ) ہوتا ہے تو کہیں منزل کی تلاش
ماسواء سے ماوراء تک لیجاتی ہے۔
سب کے اپنے انداز ہیں۔کوئی حمد لکھتا ہے تو کوئی مناجات، نعت ہو یا مرثیہ، کلام لکھے یا سلام بھیجے۔ اللہ نے بندے کو محبت کرنےکا سلیقہ سکھا دیا۔ بندہ جب اللہ سے اظہار کرتا ہے تو عاجزی اختیار کرتا ہے۔ منکسر المزاج ہو جاتا ہے۔ مزاج میں خاموشی ہو جاتی ہے۔ جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، لوگوں میں نمائش کرتے ہیں۔ وُہ محبت نہیں کیا کرتے۔ وُہ دنیا کو دِکھاوا دِکھاتے ہیں۔ جسکو حقیقی محبت حاصل ہوجائے وُہ محبت کا اظہار خاموشی میں رکھتا ہے۔ عاشق اور معشوق دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ ایک کی خوشی دوسرے کی خوشی، ایک کا غم دوسرے کا غم ہوتا ہے۔ جو محبت دل میں ہوتی ہے۔ وُہ کہہ دینے سے نہیں بڑھتی، وُہ توجہ دینے سے بڑھتی ہے۔
جب تک ہم کسی کو بڑا تسلیم نہیں کرتے، ہم محبت کر نہیں سکتے۔ ایک نقطہ پر توجہ ہمیں محبت سکھاتی ہے۔ رہنما قوم کا باپ ہوتا ہے۔ وُہ عوام میں محبت بانٹتا ہے۔ سگی اُولاد کو اصول پر قربان کرتا ہے۔ وُہ مخلص ہوتا ہے۔ خلوص معاشرے کو ہم آہنگی سے جوڑتا ہے۔ آج ہمیں حقیقی محبت کی ضرورت ہے۔ افسوس! ہم لالچی ہیں، محبت لالچ کا علاج ہے۔ آپ محبت کیجیئے، معاشرے میں محبت پیدا ہو جائے گی تو قائدین پیدا ہونے لگیں گے۔ جو اپنا ایک متفقہ رہنما بھی تسلیم کر لیں گے۔ کامیاب قوم کی طاقت محبت میں ہے۔
دریائوں کے پانی خشک ہو رہے ہیں ۔ خدشہ ہے کہ بہاولپور کے دریائے ہاکرہ (ڈھائی سو سال پہلے یہ دریا ختم ہو گیا تھا۔)  کی طرح یہ زمین خشک ہو کر بنجر ہو جائےگی۔اس بیماری کا علاج ہے۔ دریائوں کے کنارے درختوں کے جنگل لگا دیجئیے دریا روانی سے بہہ پڑیں گی۔ سبزے پر بارش ہوتی ہے۔ ہر جان کی خوراک کا ذمہ اللہ نے لیا ہے۔ پتھر درخت کو راستہ دے سکتا ہے تو اللہ کے حکم سے پانی بھی میسر آئے گا۔ آپ درخت لگائیں گے۔ اِن پودوں کی محبت سے پرورش کریں گے اور اللہ اپنی رحمت فرمائےگا۔ ذرا سوچئیں! محبت کا یہ چھوٹا سا عمل ہم میں الفت کے جذبات تو پیدا کرتا ہی ہے۔ بےشمار ماحولیاتی مسائل بھی حل کرتا ہے۔
محبت اندھی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ یوں بھی ہوتے ہیں کہ محبت کرنے والا بخوبی جانتا ہے کہ کون اُس سے مفاد کا تعلق رکھتا ہے اور کون خلوص کے جذبات رکھتا ہے۔ وُہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی محبت کرتا ہے۔ لوگ اُسے چھوڑ جاتے ہیں، بھول جاتے ہیں، نظر انداز کر جاتے ہیں۔ مگر وُہ خاموش رہتا ہے۔ وُہ ایک خوبصورت تناور درخت ہوتا ہے۔ جب لوگ مایوسی کے اندھیروں کا شکار ہوتے ہیں، ناکام ہوتے ہیں تو پھر اُس سے رجوع کرتے ہیں۔ وُہ نظرانداز نہیں کرتا، اُس سے ہو سکے تو اللہ کی مرضی سے اگلے کی مطلوبہ ضرورت پوری کر دیتا ہے۔اُسکی محبت اُن سےکسی مفاد کی نہیں ہوتی بلکہ ذات کی تربیت ہوتی ہے، محبت برداشت سکھاتی ہے۔ جس نے برداشت پیدا کر لی، اُس نےزندگی سہل کر لی۔ جو لوگ رابطہ نہیں رکھتے؛ محب اُنکی بھی پروا کرتا ہے، کامیابی کے لیئے بھی دُعا کرتا ہے۔ محبت کرنے والا ایک روشن چراغ ہوتا ہے۔ اپنے دِل میں کئی کہانیاں لیئے ہوتا ہے۔ لوگوں سے مایوس کسی بھی حال نہیں ہوتا۔ محبت اُمید کی کِرن ہوتی ہے یہی اس کا اقبال ہے مگر آج یہ تصور خاصا سحرزدہ ہے۔ پریوگ پرتاپ (شاندار عمل کی مثال) یہی ہے کہ محبت کرنے والا کسی سے جواب کی توقع نہیں رکھتا۔ وُہ بغیر جواب کے بھی رابطہ رکھتا ہے۔ چند لوگ اِس رابطہ کو دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں، پریشان ہو جاتے ہیں۔ آخر یہ رابطہ کیوں؟ ایک ہی نگاہ پڑتی؛ بندے کی اہلیت واضح ہوجاتی ہے۔ یہ نگاہ والا ہی جانتا ہے کہ وُہ قابلیت کیا ہے۔ سینکڑوں لوگوں میں آخر ایک کا انتخاب کیوں ہوتا ہے۔ وُہ قابل ہوتا ہے۔ یہ لوگوں کی خامیوں کو درگزر کرتے ہیں۔ عفو کا درس دیتے ہیں۔
محبت ایک روحانی عمل ہے۔ جو اخلاقیات کی تعلیم دیتا ہے۔ اعلیٰ اخلاق اِنسان کو محبت کےعمل سے روشناس کرواتا ہے۔ محبت یہ ہے کہ ہر فرد کو اُس کےمرتبہ کے اعتبار سے اُسکا مقام دیا جائے۔ بڑوں کا احترام کرو، چھوٹوں پر شفقت کرو ہم مرتبہ افراد سے اچھا سلوک کرو یہی مقام محبت ہے۔
”بڑوں سےمحبت کرنا یہ ہے کہ اُنکو تسلیم کرو درجہ بدرجہ۔ ہم اللہ اور رسول پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ہوئے اُنکو تسلیم کرتے ہیں۔ یوں دیگر تمام انبیاکرام، صحابہ کرام، بزرگ ہستیوں، معاشرہ اور خاندان کے بزرگوں، بڑوں اور والدین کا احترام درجہ کی ترتیب سے کرتے ہیں۔ نہ کسی کا مقام دوسروں سے زیادہ کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کا کم۔ جو جس کا حق ہے وُہ اُسکا مقام ہے۔ پیرصاحب کی ہم بیعت کرتے ہوئے اُنکو اپنا بڑا تسلیم کرتے ہیں۔ اُن سے وعدہ کرتے ہیں کہ اُنکی رہنمائی میں رہتے ہوئے اللہ نے جو احکامات اور تعلیمات دی ہیں اُنکی پیروی کریں گے، والدین کے حکم کی بھی فرمانبرداری سے ہم اطاعت کرتے ہیں۔ چھوٹوں سے محبت کا عملی نمونہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےشفقت میں فرما دیا، کمزوروں کی مدد کرنا۔ ہم درجہ افراد سے محبت مساوات اختیار کر لینے میں ہیں۔ حدیث مبارک ہے ”دوسروں کے لیئے وہی پسند کرو، جو تم اپنے لیئے پسند کرتے ہو۔“ صلہئِ رحمی دوسروں کے لیئے نیک جذبات رکھنا۔ دُنیا میں نسل اِنسانی کے مابین محبت کی عظیم ترین مثال مواخات انصار اور مہاجرین کا آپس میں بھائی بھائی بن کر تمام اثاثوں کی مساوی تقسیم، جنگ میں ایک سپاہی زخمی ہے مگر وُہ چاہتا ہے دوسرا زخمی پہلے پانی پیئے۔ یہ ہم درجہ اور ہم مرتبہ افراد کی محبت مساوات کی بنیاد پر صلہئِ رحمی کا عملی نمونہ تھی۔“
”دین اسلام مکمل طور پر ایک عملی محبت ہے۔ ہم کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئےاللہ اور رسول کریم سے محبت کا اقرار کرتے ہیں۔ نماز میں امام صاحب کو اپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں۔ دوران جماعت مساوات اختیار کرتے ہوئےخلا کو پُر کرتے ہیں، اتحاد قائم ہوتا ہے۔ خلا پُر کرنےسے نفرت دور ہوتی ہے۔ جب نفرت نہ رہے تو معاشرہ محبت کا عملی نمونہ بنتا ہے۔ دوران نماز ہر فرد اللہ کی جانب محبت سے لَو لگانےکی کوشش کرتا ہے۔ بیک وقت ہر فرد انفرادی اور اجتماعی محبت کے احساس سےگزرتے ہیں۔ایک جانب اللہ سے محبت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب انسانوں سے محبت بڑھ رہی ہے۔ روزہ ہمیں دوسروں کا احساس دِلاتے ہوئے؛ برداشت پیدا کرتا ہے۔ ہوس، لالچ اور بغض کو دور کرنےکی تربیت ہے۔ زکوٰۃ اللہ کی راہ میں ضرورتمند، محتاج اور کمزور افراد کو دیتے ہیں۔ اپنی ذات کی نمائش کو ختم کر کے اللہ کی راہ میں یہ فریضہ عاجزی سے ادا کرتے ہیں۔ جب ہم انسانیت سےعملی محبت کرنا سیکھ جاتے ہیں تو اللہ ہمیں حج کے ذریعہ سے اپنی قربت کا احساس دِلاتا ہے۔ ہمارے دِلوں کو منور کرتا ہے، ہماری ذات میں مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے، ہماری کوتاہیوں کو معاف کرتا ہے۔ سوچیئے! دین اسلام ہمیں محبت کرنا سِکھاتا ہے۔ محبت کے ہر درجہ کی عملی تربیت بھی کرواتا ہے۔ ذرا سمجھیئے محبت حقیقتاً  کیا ہے؟ ایک پاکیزہ عمل، جو دِل میں خدا کے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔ “
اللہ نے عید کے دِن کو محبت کا دِن بنایا ہے۔ اُس روز  ہر فرد خوش اسلوبی سے پیش آتا ہے۔ ماتھے پر شکن نہ لائے۔ یوں ہم کم از کم سال میں عید کو محبت کا دِن بنا سکتے ہیں۔ جو خوشیوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ ہم نے بھی اللہ کے مقابلے پر محبت کا ایک دِن مقرر کیا ہے۔ خود دیکھ لیجئیےاللہ کے مقرر کردہ دن اور ہمارے قائم کردہ دِن۔ ہماری نفسیات پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں؟ ہم اپنےاندر کیا محسوس کرتے ہیں؟ عید کا دِن ہمارے اندر کچھ خاص سکون لاتا ہے۔ مگر ہمار ا دِن بے چینی کے سواء کچھ نہیں دے پا رہا ہوتا۔
محبت نفسانی خواہشات سے نہیں نہ ہی ذاتی تسکین سے ہے۔ بلکہ دوسروں کی تسکین میں اپنا سکون ہے، محبت دوسرے کا خیال کرنے سے ہوتی ہے۔ وُہ ایک رضا کی توجہ ہوتی ہے۔ بےشمار نوجوان کہتے ہیں اُنکو ایک خواب کی طرح محبت ہوگئی ۔ میں لمحہ بھر فلاں کےبغیر رہ نہیں سکتا۔ عموماً یہ علامات I am in Love  کا عروج نہیں ہوتی۔ یہ اُسکا زوال ہوتی ہے۔ جب یوں کوئی شدت اختیار کر جائے۔ معاملہ مادی زندگی کا ہو تو وُہ شدت ضرورت بن جاتی ہے۔ ضرورت پوری ہو جائے تو وُہ بیزار لگتی ہے۔ اکثر ایسی انتہائیں ناکامیوں پر ختم ہوتی ہے۔ روحانی عمل میں محبت کی انتہائیں ہمیں عرفان کا مقام دِلاتی ہیں۔
خط میں تحریر الفاظ محبت کے احساس سے بھرے ہوتے ہیں۔ کسی کا خلوص سے ملنا بھی محبت ہے،  پودے کو پانی دینا، درخت لگانا، کسی کو مسکرا کر دیکھ لینا، کسی ضرورتمند کی حاجت پوری کر دینا محبت ہے۔ جو شخص محبت کرتا ہے۔ اُس میں خلوص ہوتا ہے۔ اُس کا خلوص کسی ایک فرد کے لیئے نہیں تمام انسانیت کے لیئے ہوتا ہے۔ محبت چاہت ہے۔ مگر اُس میں کامیابی یا ناکامی کا کوئی تصور نہیں۔ وُہ ایک کوشش ہے۔ جسکا نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
محبت دِل سے ہوتی ہے دِل احساس سے ہوتا ہے اور احساس انسانیت سے ہوتا ہے۔ جب احساس ہی مر جائے تو محبت وجود کھو دیتی ہے۔ ہمیں کسی کے جذبات کا قتل بھی نہیں کرنا چاہیے۔ بعض اُوقات کوئی اپنے جذبات کے تحت ایک معاملہ محبت کے عمل سے کرتا ہے تو کسی کی بری بات، مغرور پن سے بھر پور لہجہ کسی زندہ انسان کے احساس کا قتل کرتا ہے۔ تکبر سے جذبات قتل ہو سکتے ہیں۔ جس سے دِل بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ ذہن بےچین رہتے ہیں۔
یہ ایک پھول کی مانند ہے۔ جسکی خوشبو ماحول کو معطر کر رہی ہے۔ مگر وُہ خود کانٹوں کے دُکھوں سے بھرا پڑا ہے۔ دُکھ ایک ایسا احساس ہے۔ جو ہمارے اندر کے حساس احساس کو جگا دیتا ہے۔ جو ہمیں انسانیت سے محبت کرنے کا عملی راستہ بتلاتا ہے۔ ہمیں direction دیتا ہے۔ ہر بڑے انسان کو ایک غم ہوتا ہے۔ غم جتنا بڑا ہوتا ہے مقصد بھی اُس قدر بڑا ہوجاتا ہے۔ اقبال کو بھی قوم اور اُمت کا غم تھا (غالباً واصف صاحب)۔ اُسکی محبت کی dimension  بھی اُس قدر وسیع ہے۔
ہم دُنیا کو محبت کا گہوارہ بنا سکتے ہیں کیونکہ محبت اختلاف کو ختم کرتی ہے، ایک دوسرے کا احساس کرنا سکھاتی ہے، محبت تکلیف محسوس کرنے سے بھی ہوتی ہے۔ محبت ذات کی تکمیل نہیں ہوتی بلکہ ذات کی تشکیل ہوتی ہے۔ ذات کی تکمیل محبت بانٹنے سےشروع ہوتی ہے۔ بانٹنا ایک پُر خلوص معاملہ ہے۔ جسکی کوئی قیمت نہیں۔ دُکھ بانٹ لینا، دُکھ سن لینا، اچھا مشورہ دینا محبت ہی ہے۔ محبت اللہ کی جانب سے رحمت ہوتی ہے۔ محبت ایک ایسا عمل ہے۔ جو جتنی بانٹی جائے، بڑھتی ہے۔ اچھےعمل کی ایک فطرت ہوتی ہے۔ وُہ بانٹنے سے پھیلتا ہے، قلیل ہو جانے کا تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ محبت ہر اچھےعمل کا لازمی جزو ہے۔ انسان اِس کےمرہون منت آگے بڑھتا ہے، ترقی کرتا ہے۔ کامیاب انسان بنتا ہے۔ انسان کی مثبت سوچ کا وجود محبت کو دِل میں پیدا کرنے سے ہوتا ہے۔ اے اللہ ہمیں انسانوں سے محبت کرنےوالا بنا۔(آمین)
(فرخ)

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Valentine Special

Posted on 13/02/2008. Filed under: طنز و مزاح |

١٤ فروری کی خوفناک جھلک

 

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

بلا تبصرہ

Posted on 13/02/2008. Filed under: پاکستان |

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

معصوم بچے

Posted on 12/02/2008. Filed under: تعلیم, رسم و رواج |

(وُہ معصوم معذور بچے جو عمر بھرخود سے چل نہ سکے، حرکت نہ کر سکے، بول نہ سکے، جو پیدائشی ذہنی یا جسمانی معذور ہوتے ہیں۔ جو بچے عمر بھر بستر پر ہی لیٹے رہتےہیں۔)

مجذوب پر خدا کی شریعت ساقط ہوجاتی ہے، قانون کی سزا معطل ہو جاتی ہے مگر ہماری بے رحم حدود عائد ہو جاتی ہے۔ معصوم بچےمجذوب ہو، مجنون ہو یا شکستہ پا وُہ معصوم ہوتے ہیں۔
اعجازِ معین یہی ہے کہ وُہ مبین ہے۔ مسکین ہوکہ بھی متین ہے۔ نہ غمگین ہے، نہ نمکین یہی تو ہے اُسکی تسکین ۔ جو خود ہو قابل تحسین، وُہ ہر سو حسین ۔ یہی ہے معین کا اعجاز کہ وُہ سنگین ہو کہ بھی متین ہے۔
یہ معصوم بچے والدین کے لیئے خدا کی جانب سے ایک بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ معاشرہ اِن کو ایک بوجھ سمجھتا ہے، اکثر معاشرہ کے چند افراد اِنکے لیئے بوجھ بن جاتے ہیں۔ بچہ خدا کی جانب سے انعام ہوتا ہے۔ انعام جیسا بھی ہو اُسکو قبول کر لینا چاہیے۔ جب کوئی تحفہ اللہ اپنے بندے کو عطاء کر دے تو ناپسندیدگی کی خطاء ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ معذور اِس دُنیا میں کوئی نہیں ہوا کرتا۔ معصوم سبھی ہوتے ہیں۔ معصوم رہتا کوئی نہیں۔ معذور سب ہو جاتے ہیں۔ یہی ہماری ذہنی صلاحیتوں کی معزولی ہے ہم دوسروں کو بوجھ سمجھ لیتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں یہ بچےوالدین کی کسی غلطی سزا ہے۔ حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا۔ سزا تو ان بچوں کی موت کے بعد جُدائی کی صورت میں ہوتی ہے۔
والدین کی بیماری، بچوں کی پرورش ہماری تربیت کا ایک حصّہ ہے۔ ایک تربیت ہم کرتے ہیں، ایک تربیت ہماری خدا تربیت سے کرواتا ہے۔ اکثر ہم سمجھتے ہیں ہماری تربیت مکمل ہوگئی۔ حقیقت میں ہماری تربیت کا ایک نیا انداز شروع ہوتا ہے۔ پیدائش سے ہی اگر ہمارا بچہ معذور ہوجائے، مجذوب ہو، مجنون ہو یا شکستہ پا؛ وُہ ہماری اُولاد ہے۔ اللہ کی جانب سےمصلحت ہے۔ ہوسکتا ہے وُہ ہماری تربیت کیلیئے ہو۔ اِن خاص بچوں کو معمولی مت سمجھو۔ یہ خدا کی جانب سے ایک بڑا وسیلہ ہوتے ہیں۔ والدین ، رشتہ داروں اور معاشرہ کو اِن بچوں کی قدر کرنی چاہیے۔ اِن کا خیال رکھنا چاہیے۔ اِنکو حقیر مت جانو۔ جو اِن کو حقیر جانتا ہے۔ وُہ خود حقیر ہوتا ہے۔ یہ فقیر کی فقیری ہے، حقیر سوچ حقیر ہی رہتی ہے۔
انجان لوگ اِن کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ یہ خود محبت کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔ یہی اِنکی ممتازی ہے۔ لوگ صرف محبت وصول کرنے کا امتیاز رکھتے ہیں۔ اِنکا اعزاز یہ ہے کہ یہ روشن جسم کی طرح محبت وصول کر کے بانٹتے بھی ہیں۔ کتنے نصیب کی بات ہے کہ لوگ اِن سے محبت کر کے محبت کرنا سیکھتے ہیں۔ یہ انسان کے اندر کے احساس کو نہ صرف جگاتے ہیں، احساس کے اندر کے احساس کو بھی بیدار رکھتے ہیں۔ دُنیا کا احساس کرنا سکھاتے ہیں۔ خود حساس ہوکر احساس دیتے ہیں۔ لوگ اِن پر توجہ دیتے ہیں۔ یہ لوگوں کو توجہ دیتے ہیں۔ یہ محبت کا حسین احساس عیاں کرتے ہیں۔ لوگوں میں الفت کو نمایاں کر دیتے ہیں۔ یہ معصوم بچے ہمیں محبت کرنا سِکھاتے ہیں۔ اِنکی محبت مفاد نہیں ہوتی۔ ہماری محبت جوالا مکھی (آتش فشاں اور لاوہ) کی مانند ہوتی ہے۔ اِنکی محبت سورج اور سورج مکھی (پھول) کی طرح ہوتی ہے۔ اِن سورج مکھی پھول نما بچوں کا سورج کبھی زوال نہیں ہوتا۔ یہ پائیدار محبت کا عملی نمونہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسے آئینہ کی مانند ہے جس میں حقیقت کا عکس بھی موجود ہے، محبت کا درس وجود سے بھرپور ہے۔ اِنکی ذات مثبت انداز کا منعکس ہونا ہے۔ آئینہ کےقریب آئیے صورت واضح ہوتی جائےگی۔ دور جائیے چہرہ دھندلا ہوتے ہوتے غائب ہو جائے گا۔
یہ بچے بڑے خاص بچے ہوتے ہیں، ہم انکو غریب تر سمجھتے ہیں۔ اپنی محفلوں، تقریبات اور تہواروں میں اِنکی شرکت کو باعث ہتک، دقت یا ذلت سمجھتے ہیں۔ افسوس! یہ ہمارے مصنوعی لبادوں کا ننگ پن ہے۔ وُہ بچے جنھیں توجہ دینا ہر فرد کا فرض ہے۔ اُنھیں ہم محروم رکھتے ہیں۔ دراصل یہ ہماری سوچ کی محرومی ہوتی ہے۔ نفاست انسان کی ترتیب سے ہوتی ہے۔ تہذیب یافتہ کہلانے سے نہیں۔ گھر معصوم بچے کےگند سےگندہ نہیں ہوتا۔ یہ انسان کی سوچ سے ہوتا ہے۔ سوچ محبت سے چندن ہوکر کندن ہو جاتی ہے۔ نفرت سے ذہن کُند ہو کر دھندلا ہی ہو جاتا ہے۔ ہمارے یہ معصوم بچہ، بچہ ہماری جان ہوتے ہیں۔ ہم اِنکی جان، یہ ہماری جان ہوتے ہیں۔ ہر وقت سب کے لیئے دعا گو رہتے ہیں۔ یہ گھر کی جان ہوتے ہیں۔ وُہ گھر، وُہ خاندان، وُہ والدین خوش قسمت ہیں جو اِن سے محبت کرتے ہیں۔ یہ محبت کی ڈوری میں سب کو پرئوے رکھتے ہیں۔ اُس دادی کو سلام!  جو اپنے اس معصوم بچے کا خیال سب سے بڑھ کر رکھتی ہے۔ اُسکو ہر تقریب ہر تفریح، ہر سیر وسیاحت میں اپنے ساتھ لازمی جز رکھتی ہے۔ اُس خاندان پر رحمت ہو؛ جو اپنی ہر آسائش کو اِن بچوں پر قربان کرتا ہے۔ میں اُس گھر کا ممنون ہو۔ جس نےمجھے یہ سکھلایا کہ اگر تقریب کی دعوت میں اس معصوم بچےکی شرکت ممنوع ہے تو تمام خاندان بائیکاٹ کرے گا۔
جو خاندان اپنے معصوم بچےکا خصوصی خیال رکھتا ہے۔ تو گھر کا ہر فرد اِن سے منسلک رہتا ہے۔ آپس کے اختلافات اپنی جگہ مگر یہاں محبت قائم رہتی ہے۔ یہ بچےگھر کا مرکز ہوتے ہیں۔ جب یہ نہ رہے تو گھر ویران لگتے ہیں۔ برسوں یا شائید عمر بھر اِنکے وجود کا احساس ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ یہ دُنیا کے لیئے تو مر جاتے ہیں۔ مگر اِن کا احساس، اُنکی محبت بھری نگاہیں، اچانک کانوں میں پڑنےوالی پر خلوص آواز، وُہ باتیں ہمارے تصور کا حصہ ہوتی ہے۔ جن کے لیئے کوئی مصور نہیں۔ یہ اللہ کی جانب سے محبت کی صورت ہوتی ہے۔ جو کدورت سے پاک ہوتی ہے۔
موت کے وقت وُہ ہم انسانوں کی طرح موت سے بھاگتے نہیں۔ وُہ اللہ کے فیصلےکو بخوشی تسلیم کر لیتے ہیں۔ نزاع کی حالت میں بھی وُہ بڑے ہی معصومانہ انداز میں محبت بھری نظروں سے ہی ہمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کہ محبت بانٹتے بانٹتے سانس ٹوٹ جاتی ہے مگر محبت کا سلسلہ رُکتا نہیں۔
اِن بچوں کی موت کے بعد ہماری زندگی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ جس میں ہم کبھی اپنے آپکو ادھورا سمجھتے ہیں۔ تو کبھی اِنکے وجود احساس سے اپنی ذات کی تکمیل کرتے ہیں۔ دراصل یہ بچے ہمیں محبت کرنے کا گُر سکھا جاتے ہیں۔ یہ اپنے حصہ کا کام مکمل کرتے ہیں۔ یہ بے مقصد نہیں بامقصد جیتے ہیں۔
یہ معذور بچے ہماری تربیت کیلئیے آتے ہیں۔ ایسی تربیت جو ہم میں انسانیت کا، زندگی کا اور مقصد کا احساس جگا دیتی ہے۔ اِنکی موت پر ہماری training مکمل نہیں ہوتی۔ بلکہ اِنکی جدائی ہماری تربیت کے ایک نئے رُخ کا نیا انداز لاتی ہے۔ یہ بچے ہمیں زندگی کا مقصد عطاء کرتے ہیں۔ کہ کسطرح ہمیں دوسروں کے دُکھوں اور غموں میں شریک ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہت۔
یہ ہمیں لفظوں کے تعلق سے نہیں، احساس کے تعلق سے جوڑتے ہیں۔ یہ ہمیں سمجھا دیتے ہیں بات سمجھنے کے لیئے زبان کےلفظوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ ہمیں توجہ دینے اور لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لفظ خود ہی بن جاتے ہیں۔ ادا بھی خود ہی ہوجاتے ہیں۔ اِنکی محبت ضرورت کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ محبت کیلیئے آتے ہیں۔ جو انسانیت کا درس دیتی ہے۔
اِن بچوں سے بے حسی اختیار کرنے والے دراصل اِن بچوں کو بے بس سمجھ لیتے ہیں۔ اِنکی اس ظاہری بے بسی کو بے بسی سمجھ لینے والےخود بے حس رہ جاتے ہیں۔ والدین اِن بے بس بچوں پر توجہ دیکر اِن کی حس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور وُہ احساس نام کی حس کو جان لیتے ہیں۔ کیا خوب بات ہے! جن کو ہر کوئی بےحس سمجھتا ہے۔ اُنکے اندر ایک حِس فراہم کردینے والا؛ ایک لازوال احساس ِمحبت موجود ہے۔ یہ بچےمحبت کا پیکر ہوتے ہیں۔ اِنکی فکر ہمارے اندر موجود محبت کا وسیلہ ہوتی ہے۔ اِن بچوں کی وفات سے اُداسی پھیل جاتی ہے۔ وُہ بچہ جو کچھ نہیں کرسکتا۔ وُہ بھی اپنا وجود برقرار رکھتا ہے اور وُہ کچھ کر جاتا ہے۔ جو بڑے بڑے لوگ نہیں کر پاتے۔
یہ معاملہ بڑا ہی خوب سیرت ہے لوگ اِن سے کتراتے ہیں مگر یہ کتراتے نہیں۔ معاشرہ اِن بچوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جبکہ یہ معاشرہ کو محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جو نظر انداز کرتے ہیں۔ اُن کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ بُرا کرنے والوں کا بھی بھلا ہی چاہتے ہیں۔ چاہنے والوں کو بھی چاہتے ہیں۔ سوچئیے یہ بچے مثبت انداز کا عملی کردار ہے۔ یہ ہماری سوچ کو وسعت عطاء کرتے ہیں۔ یہ خدا کا معاملہ ہے کہ اِنکے طوسل سے ہماری سمت کو خوبصورت راہ حاصل ہوتی ہے۔ یہ ہمارے دکھوں، غموں، خوشیوں کے ہمراز ہوتے ہیں۔ ہمارے مخلص دوست ہوتے ہیں۔ اِن بچوں کے معاملہ کو اپنی سمت کی جانب سے دیکھنے کی بجائے دوسری جانب سے دیکھئیے تو کئی راز افشاں ہوگے۔
“یہ بچے معاشرے میں ایک بڑا ہی فعال کردار ادا کرتے ہیں ہم اِنکو بیکار سمجھتے ہیں، یہ بڑے ہی باکمال ہوتے ہیں۔ جو لوگوں کے اندر کو حسن ِجمال کی جَلا بخشتے ہیں۔ یہ نگاہ کی بات ہوتی ہے جو ہر کوئی سمجھ نہیں سکتا۔ یہ وہی سمجھ سکتا ہے۔ جسکی نگاہ کو کچھ خاص عطاء ہو جائے۔ ہنسنے والےحقیقت کو نہیں جانتے۔ جن کے نزدیک کوئی قابل نہیں حقیقت میں وُہ ایک قیمتی جوہر ہوتا ہے۔ جس کی پہچان جوہری ہی جانتا ہے۔ کوئی عام فرد نہیں جان سکتا ۔ یوں ہی توجہ کے طالب خاص بچے ہمارے شہزادہ، شہزادی ہوتے ہیں۔ جب وُہ اپنا اختیار استعمال کریں گے تب دُنیا جان پائےگی۔ کہ یہ واقعی ہمارے سب سے قیمتی بچے ہوتے ہیں۔ اِن بچوں میں خاص بات یہ ہوتی ہے۔ کہ یہ بے مروت نہیں ہوتے۔ یہ ہم سے محبت کرتے ہیں۔ اور اس کا اقرار قیامت کے روز عمل کی صورت میں کریں گے۔ یہ ہماری آزمائش بنتے ہیں۔ اللہ آزمائش اپنےقریبی لوگوں سے ہی لیا کرتا ہے۔ جواللہ کو پسند ہو۔ یہ بچے ہمیں وُہ کچھ سکھا دیتے ہیں جو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیتے ہیں۔ یہ بچے جب آپکے لیئے کچھ  کریں گے تب دُنیا والے بس دیکھ ہی سکیں گی۔ یہ بچے مجذوب ہوتے ہیں۔ درویش کہہ لو تو پھر ایسے بچوں کی دیکھ بھال کرنےوالوں کا خدا کے ہاں کیا مرتبہ و مقام ہوگا۔ ذرا ہم سب کو سوچنا چاہیے۔ وُہ تو ہمارے لیئے رحمت ہیں۔ صرف والدین کے لیئے نہیں ہر اُس کے لیئے جو اُن سے ملتا ہے۔ کتنی بڑی نعمت ہیں یہ بچے اگر ہم سمجھے تو۔ مگر یہ تمام احساس ہمیں اُنکی موت کے بعد ہی ہوتا ہی۔“
(فرخ)

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ڈکٹیٹروں کے شوق

Posted on 11/02/2008. Filed under: تاریخ, سیاست |

کالم نگار کا ٹھیک طرح سے معلوم نہیں، اندازِ تحریر سے لگتا ہے کہ جاوید چوہدری ہی ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

Posted on 11/02/2008. Filed under: پاکستان, شعروادب, طنز و مزاح |

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی بم سے ہو محفوظ خدایا میری

میں جو دفتر کے لئے گھر سے نکل کر جاؤں
روز مرہ کی طرح خیر سے واپس آؤں

نہ کوئی بم کے دھماکے سے اڑا دے مجھ کو
مفت میں جام شہادت نہ پلا دے مجھ کو

جو اڑا دے مجھے خودکش تو دعائیں دونگا
بے وضو پو کے چچا بش کو دعائیں دونگا

بیوی بچوں کو میری جان کی قیمت مل جائے
بیٹھے بیٹھے مرے گھر والوں کو دولت مل جائے

ہائے جن لوگوں سے کل تک تھی وطن کی زینت
آج وہ لوگ ہوئے قبر و کفن کی زینت

گھر مرا ہو گیا ویرانے کی صورت یارب
اور بدلی نہ کسی تھانے کی صورت یارب

ان پہ جائز ہے زبردستی حکومت کرنا
اور ہے جرم مجھے اپنی حفاظت کرنا

روزی ہم سب کی بچا روز کی ہڑتالوں سے
جان اور مال ہو محفوظ پولیس والوں سے

جب نہ اسکول کھیلیں گےتو پڑھیں گے کیسے
اور زندہ نہ رہیں گے تو بڑہیں گے کیسے

میرے اللہ لڑائی سے بچانا مجھ کو
اور سکھا دے کوئی بندوق چلانا مجھ کو

خیر سے لوٹ کے آئیں میرے ابو گھر میں
اڑ نہ جائیں دھماکے سے کہیں دفتر میں

رات دن جام ٹریفک نہ رہے سڑکوں پر
کوئی نالہ نہ گٹر بھر کر بہے سڑکوں پر

کلمہ گو کو مسلمان بنا دے یارب
نیک اور صاحب ایمان بنا دے یارب

نام اسلام کی حرمت کی بچا لے یارب
وقت کے سارے یزیدوں کو اٹھا لے یارب

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

محشرلکھنوی

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

کتاب چور

Posted on 11/02/2008. Filed under: تعلیم, رسم و رواج |

لوگ نہ جانےکیا کیا چراتے ہیں۔ کوئی دل چراتا ہے تو کوئی دماغ۔ بےشمار دولت، چند نام اور بےشمار نام والے الفاظ چراتے ہیں، منسوبیت چرا لیتے ہیں۔ کچھ تاریخی حقائق کو چھپا کر چرا لیتے ہیں۔ یونہی چند افراد کتاب چراتے ہیں۔ کوئی کسی لائیبریری سے تو کوئی کتب فروش کی دکان سے۔ چند لوگ کسی کےذاتی کتب خانہ سے کتاب چرا لیتے ہیں۔ چند تو عاریتاً مانگ کر واپس نہیں کرتے۔ بلکہ کہہ دیتے ہیں۔ آپکو تو واپس کر چکے ہیں۔ یوں کرتے کرتے کتب خانے ویران ہوتے چلے جاتے ہیں۔ تحقیق کر کےتحریر کرنےوالے تحریروں کو لکھتےلکھتے برسوں تک روکے رکھتے ہیں۔ اور چند تو کتاب کی واپسی کےانتظار میں ہی مر جاتے ہیں۔
جو کتاب چراتا ہے، وُہ کتاب نہیں پڑھتا۔ جو کتاب پڑھتا ہے وُہ چراتا نہیں۔گنجائش نہ ہو تو دیانتداری سے پڑھ کر فوراً احساس ذمہ داری کے تحت واپس کرتا ہے۔ کسی کی کتاب، کسی کی تحریر چُرا کر ہمیں اُسکا علم حاصل نہیں ہوتا۔ علم تمام کا تمام کتاب سے نہیں ہوا کرتا۔ علم مشاہدہ بھی ہوتا ہے اور خدا کی دین بھی۔ جو کسی کی کتاب کی تحریر نہیں ہوتا۔ تبھی کہتے ہیں ”علم ایک ایسی لازوال دولت ہے جوکوئی چور چاہے بھی تو چرا نہیں سکتا۔“
کتاب کسی کی خاموشی سے بطور کچھ خاص حاصل کرنے کے لیئے چرائی جائے اور پھر خاموشی سے بھی واپس رکھ دی جائے تو شائید اُس علم میں کچھ مل جائے۔ مگر جو واپس نہ کرنے کے ارادہ سے لی جائے تو پھر وُہ علم بھی ادھورا ہی ہوتا ہے۔ علم کی بنیاد ایمان سے ہے اور ایمان چوری، دغہ سے منع کرتا ہے۔
مشاہدہ علم پڑھ لینے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ حاصل کردہ علم کا باعمل ہوجانا مشاہدہ کا آغاز ہوتا ہے۔ تبھی اسلام میں ہے۔ اَمر بالمعروف ونہی ان المنکر (جو کرو اس ہی کی تلقین کرو، جو نہ کرسکوں اس کی تلقین نہ کرو)۔ اسلام کا علم عمل ہے۔ مشاہداتی انداز فکر عطاء کرتا ہے۔ فکر غور اور توجہ دینے سے ہوا کرتی ہے۔ یہی وُہ معاملہ ہے جس سے علم  پھیلتا اور وسیع ہوتا ہے۔ کتاب چور ایسے ہی ہے جیسے کوئی رٹا ساز۔ انگریزی بول لینے سے، مفکرین و دانشوروں کےجملے رَٹ کر سنا دینے سے اپنےعلم یافتہ ہونےکی دھاک تو بٹھائی جاسکتی ہے؛ مگر تعلیم یافتہ جملوں سے، زبان کی فراوانی سے نہیں ہوا کرتا۔ تعلیم تہذیب اور اخلاقیات کی پاسداری سے ہوتی ہے۔ علم جھاڑنا بدتہذیب کاعلم پر جھاڑو پھیر دینا ہے۔ علم کی تاثیر عمل سے ہوتی ہے۔ جو چور ہوتا ہے، اُس میں عمل نہیں ہوتا۔
علم کو چھپا لینے والا بھی ایک چور ہوتا ہے۔ یہ بھی کتاب چو ر ہی ہوتا ہے۔ یہ سمجھنا کہ کسی کو بتا دینے سے میری کیا اہمیت رہ جائےگی، میری وقعت کم ہو جائےگی۔ گھٹیا ذہن کی گھٹیا بات ہوتی ہے۔ ایسی اقوام دُنیا میں ذلیل و خوار ہوتی ہے۔ اسلام برہمن کا علم نہیں۔ اسلام دین اسلام ہے۔ اللہ کا علم تمام انسانیت کے لیئے ہیں۔ وُہ کسی مخصوص طبقہ کے لیئے نہیں۔ اُس کا حصول تمام اُمت پر بھی لازم ہے۔ سائینسی علم کو اپنی حد تک محدود کرلینا، حاصل کیئے گئے علم کے ساتھ شدید تر زیادتی ہے۔ علم کا فروغ علم کی ترقی ہے۔ علم کی ترقی ملک و ملت کی خوشحالی اور مستقبل کی نسلوں کے لیئے آبیاری ہے۔
کتاب چرانے کے لیئے نہیں بچانے کے لیئے ہوتی ہے۔ مگر آج ہم نہیں جانتے کہ ہم کتاب کیوں چرا رہے ہیں؟  کتاب چرانے والا کتاب لکھنے والا بھی ہوسکتا ہے؛ صرف پڑھ لینے والا نہیں۔ آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم لفظ کی اہمیت سے واقف نہیں۔ لفظ کی اہمیت کتاب کی اہمیت ہوتی ہے۔ مصنف اپنی نمائش نہیں چاہتا۔ کتاب کا مقصد لوگوں پر مثبت اثرات مرتب کرنا ہوتا ہی۔ مناسب اور درست سمت میں تعمیر ی صورت فراہم کر کےرہنمائی کرنا ہوتا ہی۔ چور اور غور کرنے والے کے مابین اصل فرق لفظوں کے پیچھےمشاہدہ کا ہوتا ہے۔ جملےایک ہو سکتے ہیں مگر مقصد، سوچ، خیال، وسعت ہمیشہ ہر ایک کی مختلف ہوتی ہے۔ سننے والے کے دِل میں میل ہے تو بات بھی میلی ہی رہ جائےگی۔ خلوص سامع کو توجہ اور غور سے اُجالا دِکھاتا ہے۔ ایک ہی با ت مختلف انداز سے preserve ہوتی ہے۔ جذب ہوکر منعکس مختلف زاویوں سے ہوتی ہے۔ ایک واقعہ میں کئی درس موجود ہوتے ہیں۔ کسی کی ناکامی سے ہمیں اپنی کوتاہیاں واضح محسوس ہوتی ہیں۔ مگر یہ سب علم چرانے سےنہیں، کتاب چرانےسے نہیں، نام غلط منسوب کرنے سے نہیں، لفظ اپنے سے منسوب کرنے سے نہیں ہوتی۔ یہ تو اپنا اپنا غور،  فکر اور مشاہدہ کی بات ہے۔ جو اللہ کی طرف سےعطاء ہوتی ہے۔
چور کا مقصد چوری کر کےضرورت پوری کرنا ہے۔ ہوس کا شکار ہو کر ڈاکو بن جانا ہے۔ فطرت چھیننا ہی ہے۔ دینا اور بانٹنا نہیں۔ علم والے پر اللہ کا فضل ہے؛ دیتا ہے، بانٹتا ہے، انسان کو محبت کے رشتہ سے جوڑتا ہے۔ خود عملی مثال بنتا ہے۔ لوگوں پر اثر اپنےعلم سے نہیں اپنےکردار سے بناتا ہے۔ یہی کردار اُسکے اثر کی تاثیر ہوتا ہے۔ جو لفظوں کےتاثر سے سامعین کے دلوں کو ملتا ہے۔ کتاب چور، علم چور کو سوچنا چاہیئے کہ اُسکا چوری کرنےکا یہ عمل کیا ہے؟ اُس کا اثر کیا تاثر دے گا۔ ذہنی الجھنوں اور مسائل کا۔ یہی دینا اور چھیننا کی فطرت ہے۔ چوری کرنےکی بجائےغور کیجیئے۔ علم بانٹنا ہے چھپانا نہیں۔ جبکہ چور حقیقت چھپاتا ہے اور حقیقت چھپانا بھٹک جانا ہے۔
عظیم اقوام حقیقت چھپایا نہیں کرتی، حقیقت کا سامنا کیا کرتی ہیں۔ جب حقیقت شناس حقیقت فروش ہو تو وُہ اقوام کو حقارت کی نگاہ عطاء کر کےحقیر ہی بناتا ہے۔
(فرخ)

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر اگلے‌ تحاریر»

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...