Archive for مارچ, 2008

سید بادشاہ!

Posted on 31/03/2008. Filed under: پاکستان |

میرے سید بادشاہ!
تمہارا تخت اور اختیار پانچ برس تک سلامت رہے۔ میں تمہارے یا تمہارے ساتھیوں کی طرح پڑھا لکھا اور سوجھ بوجھ والا تو نہیں ہوں لیکن میں نے سنا ہے کہ تم نے سولہ کروڑ میں سے ہم جیسے پندرہ کروڑ کے لئے سو دن میں بہت سے بڑے اور اچھے کام کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ خدا تمہیں اپنے ارادوں میں کامیاب کرے۔
سید بادشاہ! مجھ جیسے کروڑوں لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وزیرِاعظم ہاؤس کے اخراجات میں چالیس فیصد کمی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ سرکاری عمارتوں پر چراغاں کم ہوتا ہے یا زیادہ۔ وزیر اور جرنیل لینڈ کروزر میں سفر کرتے ہیں یا سولہ سو سی سی کی گاڑیوں میں۔ایئرپورٹوں پر ارکانِ پارلیمان کے خصوصی کاؤنٹر رہتے ہیں یا نہیں رہتے۔وزیر فرسٹ کلاس میں سفر کرتے ہیں یا اکانومی میں۔ نیب یا پیمرا خودمختار رہتے ہیں یا کسی کے تابع۔ مذہبی مدارس کا نصاب بدلتا ہے یا نہیں بدلتا۔ روزگار کا کمیشن بنتا ہے یا نہیں بنتا۔
سید بادشاہ! تمہاری بڑی مہربانی کہ تم نے کم سے کم اجرت چھ ہزار روپے ماہانہ کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اگر تم واقعی میرے جیسے کروڑوں لوگوں کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہو تو بس اتنا کرو کہ کاغذ پنسل لے کر بیٹھ جاؤ اور چھ ہزار روپے ماہانہ میں چار افراد کے گھر کا بجٹ بنا دو تاکہ مجھے یہ بات سمجھ میں آ جائے کہ اتنے پیسوں میں گھر کا کرایہ کیسے نکلتا ہے۔ دو وقت کے لئے آٹا کیسے خریدا جاتا ہے۔دو بچوں کی فیس اور بیوی کی دوا دارو کہاں سے ملتی ہے۔ایک ایک جوڑا کپڑا کیسے دستیاب ہوتا ہے۔ مہینے بھر کا مٹی کا تیل اور بجلی کا بل اور ویگن کا آنے جانے کا روزانہ کرایہ کس طرح پورا پڑتا ہے۔
سید بادشاہ! میں نے چار برس تک پیسے جوڑ جاڑ کر ایک ماہ پہلے ایک پرانا ٹی وی خریدا ہے تاکہ میرے بچوں اور بیوی کی شام اچھی گذر جائے لیکن جلد ہی مجھے احساس ہوگیا کہ میں نے ٹی وی نہیں بلکہ عذاب مول لے لیا ہے۔ بچوں نے سوالات پوچھ پوچھ کر ناک میں دم کردیا ہے۔
ابا! تم بینک سے موٹر سائیکل خریدنے کے پیسے کیوں نہیں لے لیتے۔ ابا! یہ بینک تو گھر بنانے کے لئے بھی پیسے بانٹ رہے ہیں۔ تم کیوں انکے پاس نہیں جاتے۔ ابا! تعلیم اور صحت کی انشورنس کتنی سستی مل رہی ہے۔ ہم انشورنس کیوں نہیں خرید سکتے۔ ابا! موبائل فون رکھنا کتنا آسان ہے۔ ہمارے پاس کیوں نہیں ہے۔
سید بادشاہ! تمہیں تو معلوم ہے کہ زندگی کو جنت بنانے والے ان اشتہاروں سے سولہ میں سے پندرہ کروڑ لوگوں کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ہماری تو اتنی بھی اوقات نہیں کہ بینک کا چوکیدار ہمیں اندر ہی جانے دے۔ کیا تم ہمیں ہمارا ہی ننگا پن یاد دلانے والے ان اشتہاروں کو بند نہیں کرواسکتے؟
سید بادشاہ! کل شام میری بیٹی مجھے بتا رہی تھی کہ تمہاری تقریر کے بعد تمہاری ایک ساتھی شیری رحمان ایک انٹرویو میں کہہ رہی تھی کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر غریب کی ٹیبل پر کم ازکم دو وقت کی روٹی ہو۔ میں سوچنے لگا کہ پاکستان کے کتنےگھرانوں میں ٹیبل ہوگی اور پھر خود ہی ہنس پڑا۔
سید بادشاہ!
میں نے سنا ہے کہ تم نے اپنے سو دن والے پروگرام میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے بھی کچھ کہا ہے۔
سید بادشاہ! جس دن تم ہمیں چھ ہزار روپے ماہانہ میں گزارے کا بجٹ بنانا سکھا دوگے۔ پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا درخت بھی سوکھنا شروع کردے گا۔
سید بادشاہ! تمہیں خدا نے موقع دیا ہے کہ اس وطن میں سیدوں کی شان پھر سے بحال کرو۔ ورنہ تو ہم نو سال سے ایک سید صدر کو دیکھ ہی رہے ہیں۔

بشکریہ –

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

لوڈشیڈنگ کی وجہ

Posted on 28/03/2008. Filed under: طنز و مزاح |

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

موجودہ حکومت اور امریکی کردار

Posted on 27/03/2008. Filed under: پاکستان, سیاست |

صدر، پارلیمنٹ اور فوج ۔ کردار کیا ہو گا کے بعد پاکستان امریکہ کے بڑھتے ہوئے کردار کے بارے میں لکھنا لازمی ہو گیا ہے، اس وقت پاکستان میں ہر گلی کوچے اور کھوکھے پہ یہی باعث جاری ہے کہ نئی حکومت کے ساتھ امریکی رویہ کیسا ہو گا، اصل میں دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن کے کردار امریکی اہمیت اور حمایت انتہائی اہم ہے۔ امریکہ کی یہی خواہش ہے کہ صدر مشرف کو برقرار رکھا جائے اور پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ یوں ہی جاری و ساری رہے۔ اسی لئے الیکشن نتائج کے فوراََ بعد امریکہ کی شدید خواہش تھی کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ق کے ساتھ مل کر حکومت بنائے مگر آصف علی زرداری نہ مانے اور انہوں میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر اعلان مری کیا جس سے سب کے منہ بند تو ہو گئے لیکن سوال یہ ہے کہ اب آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف مل کر امریکی کردار کے حوالے سے کن باتوں پر کیا فیصلہ کریں گے اور پھر ان کے نتائج کیا نکلیں گے۔ ابھی یہ بھی دیکھنا ہے کہ امریکہ صدر مشرف سے اپنے تعلق پر نظر ثانی کرتا ہے یا نہیں اور موجودہ حکومت سے کوئی اتحاد قائم کر سکے گا یا نہیں ان سب باتوں کا جواب کچھ ہی دنوں میں سامنے آ جائے گا جب امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے اور اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ رچرڈ باوچر کی پاکستان کے غیر اعلانیہ دورے سے واپسی ہو گی۔ واضح رہے کہ یہ دونوں صاحب اس وقت پاکستان کے دورے پر ہیں جب پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن بھی اسلام آباد میں موجود نہیں ہیں۔
میرے خیال سے امریکہ موجودہ حکومت پر اپنا اثر و رسوخ تیزی سے استعمال میں لائے گا، اور وہ موجودہ حکومت کو اپنا اتحادی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا کیونکہ صدر بش کے دور اقتدار کا سورغ غروب ہونے کے قریب ہے اس لئے ان دونوں شخصیت کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ صدر بش کے لئے ایک واضح راہ متعین کرکے جائیں اور اس تسلسل کو برقرار رکھیں۔ دراصل امریکی اپنی جنگ پاکستانی سرحدوں کے اندر پاکستانیوں کے ذریعے لڑنا چاہتے ہیں۔ امریکی حکام یہ بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہی صدر بش کو سہ بارہ کامیابی دلا سکتی ہے۔ کیونکہ صدر بش دو بار پہلے بھی اسی عنوان کے تحت کامیابی حاصل کر چکے ہیں اور اس سارے پراسیس میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔
اگر یہ سارا منظر نامہ ترتیب نہ پا سکا تو دوسری صورت میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کیس ری اوپن کر دیا جائیگا، نیو کلیئر کے اثاثہ جات کے حوالے سے سوالات کھڑے ہوں گے، نیوکلیئر ہتھیار انتہا پسندوں کے ہاتھ لگنے کی باتیں شروع ہو جائیں گی اور یوں پاکستان کے خلاف محاذ کھول کر موجودہ حکومت کو دبانے کی کوشش کی جائے گی، یہ محاذ تب تک کھلا رہے گا جب تک حکومت امریکی مفادات کی نگہبانی کا اقرار نہیں کر لیتی۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

صدر، پارلیمنٹ اور فوج ۔ کردار کیا ہو گا

Posted on 26/03/2008. Filed under: پاکستان, سیاست |

وزیراعظم کے انتخاب یا حلف کے ساتھ ہی اعلان مری کے مطابق کی ججز کی بحالی کے لئے الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے انتخاب کے فوراََ بعد ججز کی آزادی کا حکم دے کر صدر مشرف کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز تو کر دیا ہے مگر اس کی انتہا کیا ہو گی۔ کیا صدر مشرف عدلیہ کی بحالی کو آسانی سے قبول کر لیں گے؟ بہرحال صدر اور پارلیمنٹ کے درمیان تصادم کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے اور اگلے تیس دنوں میں نئی حکومت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہی ہو گا کہ وہ اس معاملے کو کتنی خوش اسلوبی سے حل کرتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلے کیا ہوں گے، صدر مشرف کیا کریں گے اور سپریم کورٹ پر کس کا حکم چلے گا۔ وزیراعظم گیلانی نے حلف اٹھانے کے ساتھ ہی واضح کر دیا ہے کہ صدر مشرف پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔ یعنی اب صدر مشرف خود کوئی فیصلہ نہیں کر سکیں گے پارلیمنٹ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ انہیں قبول کرنا پڑے گا۔ بہرحال یہ تو وقت بتائے گا کہ عدلیہ پر کس کا حکم چلے گا لیکن اگر ماضی پر ایک نظر دوڑائی جائے تو ایسے فیصلے ہمیشہ سے افواج پاکستان کرتی آئی ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یوں تو واضح اعلان کیا تھا کہ فوج کا اب سیاست میں کوئی کردار نہیں ہو گا لیکن انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ صدر اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا ہونے کا تاثر غلط ہے۔ ماضی کے تجربات پر نگاہ دوڑائی جائے تو آخری اور حتمی فیصلہ فوج ہی کرتی آئی ہے۔ اس بار شاید یہ ہو کہ وہ اس سارے پراسیس میں کوئی اہم کردار ادا نہ کریں بلکہ دور بیٹھ کر اپنی رائے کا اظہار کریں اور جب تک بات ملکی سلامتی تک نہ آ جائے کوئی قدم نہ اٹھائیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سیاسی پس منظر میں کون سا منظر ابھر کر سامنے آتا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

قوم کا ڈر دور کیجئے

Posted on 25/03/2008. Filed under: پاکستان, سیاست |

محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظر بندی
اکبر بگٹی کا قتل
کراچی حادثہ
لال مسجد و جامعہ حفصہ آپریشن
سوات و بلوچستان آپریشن
ایمرجنسی
ججوں کی برطرفی اور نظر بندی
محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت
ًایسے پے در پے واقعات سے پاکستانی قوم اپنے حال اور مستقبل سے بہت ڈری ہوئی ہے۔ میرے خیال سے آصف علی زرداری، میاں نواز شریف ملکی اور قومی مسائل کے بارے لاپراہ نہیں ہیں، انہیں ان مسائل کا پورا ادراک ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ نومنتخب وزیراعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی بھی یقیناََ نئے جذبے سے لیس ہیں اور یہ ان مسائل کے حل کے لئے دن رات محنت بھی کریں گے۔ ان سے پہلے سابقہ حکمرانوں نے بھی اپنے تئیں ان مسائل کے حل کے لئے پوری کوشش کی ہو گی، اس لئے نئے حکمرانوں کو مل بیٹھ کر سوچنا ہو گا کہ کانٹا کہاں ہے کیونکہ کہیں نہ کہیں ایسی خرابی ہے کہ قدم آگے نہیں بڑھ رہے۔ کوئی جھول ہے کہ مصرع وزن میں نہیں اور سُر ٹوٹ رہا ہے۔
اسے میرے جیسا کمزور ایمان مسلمان بے برکتی بھی کہہ سکتا ہے اور کوئی پڑھا لکھا پاکستانی ناقص منصوبہ بندی کہہ سکتا ہے۔ اس وقت ہماری حالت جوگنگ مشین پر کھڑے اس شخص کی سی ہے جو جوگنگ مشین پر کھڑا جوگنگ کر رہا ہے اور زور مار رہا ہے، پسینے میں شرابور ہو رہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کئی کلو میٹر بھاگ چکا ہے لیکن جب تھک کر مشین کے اوپر سے اترتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ تو وہیں کھڑا ہے جہاں مشقت سے پہلے کھڑا تھا۔ اس موقع پر منیر نیازی کا شعر یاد آ گیا، پیش ہے۔

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

ایک پاکستانی ۔۔۔۔۔ میں یا کوئی اور ۔۔۔ حکمرانوں کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ اصلاح احوال پر قوم جس قدر اس وقت تیار ہے اس سے پہلے نہ تھی کیونکہ وہ اپنے حالات سے ڈر گئی ہے انہیں بدلنا چاہتی ہے لیکن ظاہر ہے اس کے لئے اسے لیڈر شپ اور مدبر قیادت کی ضرورت تھی جسے انہوں نے آپ کی صورت میں پا لیا ہے، اسی لئے عوام نے آپ کو دوتہائی اکثریت سے نوازا ہے اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ عوام کو  کسی مثبت اور مفید تبدیلی کی طرف لیکر چلیں، ایک ایسی تبدیلی جس کے سرے پر روشنی کی لکیر دکھائی دیتی ہو۔
مشرقی پاکستان کے سانحے کے بعد قوم ایک بار پھر پگھلی ہو ئی ہے، انتہائی خطرناک اور نہایت ہی تشویشناک قومی مسائل کی وجہ سے قوم کی حالت کم و بیش ویسی ہی ہے جس طرح مشرقی پاکستان کے سانحے کے وقت تھی، آپ کی دوتہائی اکثریت اسی شدت احساس کا عملی نتیجہ ہے۔
اس پگھلی قوم کو لیڈر کسی بھی شکل میں ڈھال سکتے ہیں، یہ آپ کے لئے ایک انمول موقع ہے اسے ضائع مت کیجئے اور اس ڈری قوم کا ڈر دور کیجئے اسے امید دلائیے یہ آپ کا فرض بھی ہے اور ڈیوٹی بھی، یہ دوتہائی اکثریت اسی لئے ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بزنس اور حکومت کے کنکشن

Posted on 23/03/2008. Filed under: پاکستان |

 

مزید تفصیل یہاں

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تم ہنستی اچھی لگتی ہو

Posted on 22/03/2008. Filed under: شعروادب |

اے دوست میری کیوں روتی ہو
کیوں دکھ کو من میں بوتی ہو
یوں دل کو رنجور نہ کرو
اور آنکھوں سے غم دور کرو
غم بن مانگے مل جاتے ہیں
سب جھولی بھر کے پاتے ہیں
تم جوں جوں اس کو پاؤ گی
کندن بنتی جاؤ گی
تم جب بھی دکھ کو سہتی ہو
اور تنہا تنہا رہتی ہو
میں بھی تنہا ہو جاتی ہوں
اور غم کے تحفے پاتی ہوں
یہ جو تمھاری آنکھیں ہیں
یہ مجھ کو کتنی پیاری ہیں
تم جانتی اگر اے دوست میری
یوں چپکے چپکے نہ روتیں
جس کو پی پی کر تم جیتی ہو
یہ تم کو توڑ کے رکھ دیں گے
اور تنہا چھوڑ کے چل دیں گے
میں اسی لئے تو کہتی ہوں
تم ہنستی اچھی لگتی ہو

صباء رشید ۔۔ تونسہ شریف، ڈیرہ غازیخان

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

مینڈیٹ اور دوتہائی اکثریت

Posted on 22/03/2008. Filed under: سیاست |

کل ہوٹل سے روٹیاں لینے گیا تو ہوٹل والے نے ایک اخبار میں روٹیاں لپیٹ کر دے دیں، گھر آتے ہوئے راستے میں یونہی اخبار پر نظر پڑی تو ایک نہایت سے اہم خبر میری منتظر تھی، واضع رہے کہ یہ اخبار روزنامہ جنگ ١٦مارچ ١٩٩٨ کی اشاعت ہے، خبر نہایت دلچسپ ہے جو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر آپ کی نظر کر رہا ہوں۔

بڑے چوروں کا احتساب ہو رہا ہے لیکن انہیں سزا کیسے ملے گی، لوٹ مار کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں۔ ٢٣ کروڑ سامنے پڑا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ ثبوت کی ضرورت ہے، یہ آخر ثبوت نہیں تو اور کیا ہے، قانون دان بتائیں یہ کیسا نظام ہے؟
آج جو چور ہیں وہی دندناتے پھر رہے ہیں۔ ذرا سوچیں جسکے پاس ٢٣ کروڑ روپے نکلے ہیں اس نے کتنے ارب روپے زرداری اور بینظیر کو دیئے ہوں گے، میں تبدیلی کا وعدہ پورا کر کے چھوڑوں گا، کشتی کو بھنور سے ضرور نکالیں گے۔ 
ماڈل ٹاؤن لاہور میں وزیراعظم میاں نواز شریف کا مسلم لیگی وفود سے خطاب

کمال ہے یہ شخص ١٩٩٧ میں بھی تبدیلی کی یوید لیکر آیا تھا اور ٢٠٠٨ میں بھی۔
خزانہ اس وقت بھی خالی تھا، آج بھی خالی ہے۔
لوٹ مار اور کرپشن کی باتیں اس وقت بھی تھیں، آج بھی ہیں۔
بہت بڑا مینڈیٹ اس وقت بھی پاس تھا، دوتہائی اکثریت آج بھی ہے۔
اس مینڈیٹ کو ٹھوکر مارنے والا پاور میں اس وقت بھی تھا، دوتہائی اکثریت میں بھی وہی تخت نشین ہے۔
بڑے مینڈیت کے پانچ پورے اس وقت نہیں ہوئے، دوتہائی اکثریت کو دیکھتے ہیں، کیا رنگ لاتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

١٢ ربیع الاول

Posted on 21/03/2008. Filed under: اسلام |

آج ١٢ ربیع الاول کا دن ہے، ہم تمام مسلمانوں کے لئے انتہائی بابرکت اور پاکیزہ دن، یہ دن صرف ایک دن یا رسم نہیں بلکہ یہ تجدید عہد کے ساتھ ساتھ خود کا احتساب کرنے کا بھی دن ہے، اس میں صرف رنگ برنگی برقی قمقمے، جھنڈیاں لگانا یا جلوس نکالنا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس دن کہیں اکیلے بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ ہم کیا ہیں؟ اور کیا کر رہے ہیں؟ گزری زندگی کا جائزہ لینا چاہیے، آنے والے دنوں کے بارے میں سوچنا چاہیے اور سیرت مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اپنے دن و رات کو ڈھالنے کا عہد کرنا چاہیے۔ اللہ تعالٰی قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃحسنۃ لمن کان یرجوااللہ والیوم الآخر۔ (پارہ 21 ع 18 الاحزاب)
بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہترہے ۔ ہراس شخص کیلئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھا ہے۔

جب سے انسان نے اس دھرتی پر قدم رکھا ہے رحمت خداوندی نے اسے اکیلا اور سرگرداں نہیں چھوڑا، بلکہ نوع انسانی کی رہنمائی کے لئے مختلف زمانوں میں، مختلف علاقوں میں اللہ تعالٰی نے اپنے برگزیدہ بندے بھیجے تاکہ لوگوں کو ہدایت ربانی سے بہرہ ور کرتے رہیں۔ اس سلسلہ انبیآء کی آخری کڑی خاتم النبیین رحمتہ اللعالمین، للعٰلمین تدیرا سراجاََ منیرا، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے جن کی شریعت قیامت آنیوالی نسلِ انسانی کے لئے ایک کامل، جامع، محفوظ، روشن اور دائمی ضابطہ حیات ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے معلم اور رہبر و رہمنا ہیں۔ آپ نے امت مسلمہ کو ایسے ضابطہ ہدایت سے نوازا ہے جو ہدایت کے مدارجِ اربعہ، ہدایتِ حسی، ہدایتِ عقلی اور ہدایت ربانی پر استوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب مغرب میں الحاد و زندقہ کی ظلمیتیں وہاں کی تہذیب و تمدن پر گھٹاٹوپ اندھیروں کی صورت چھائی ہوئی ہیں اور یہ معرکہ ،سائنس و مذہب، اور معرکہ ، عقل و مذہب، جیسے تصورات ابھر رہے ہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا پیغامِ ہدایت آج بھی اعتدال و توازن پر مبنی، مادی اور روحانی تقاضوں کی تکمیل کرتا، اور عقلی و دینی تقاضوں کا حسین امتزاج پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
آج کا یہ دن ہم سے یہ تقاضا کرتا ہوا نظر آتا کہ ہم اسلامی معاشرے کے فردِ کامل اور مصلح ہونے کی حثیت سے اپنے طرزِ عمل سے کائناتِ انسانی کو ایسی اثر انگیز فضا مہیا کریں جس سے یہ دنیا اُلفتوں اور محبتوں کا گہوارہ بن جائے اور صلاح و فلاح کا وہ عملی نمونہ پیش کریں جو محبت و الفت، حسنِ اخلاق، غم خواری و مواسات و رواداری و مدارات اور صدق و صفا کا پیکر ہو کیونکہ ایک مومن کی شخصیت ایک شجر سایہ دار کی سی ہے جس کی گھنی چھاؤں میں ہر محروم و مظلوم کو پناہ ملتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

بلاول ہاؤس دبئی

Posted on 20/03/2008. Filed under: پاکستان, سیاست |

یہ تصویریں مجھے ایک ایمیل سے موصول ہوئی ہیں جس کے مطابق یہ عالیشان محل ‘موجودہ حالات میں‘ آصف علی زرداری کا ہے، کیا کوئی دوست اسے کنفرم کر سکتا ہے؟

 

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...