جیراسک پارک

Posted on 18/03/2008. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, طنز و مزاح |

سائنس دان غلط کہتے ہیں کہ لاکھوں سال پہلے اس دنیا میں ایسی مخلوق بستی تھی جن کی خوراک انہی کے جنگل باسیوں سے ہزارہا گنا زیادہ تھی۔ ایسی خوش خوراک مخلوق آج بھی موجود ہے۔ جن کے ایک دن کا رزق باقی مخلوق کے سال بھر کے رزق سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ رزق کو جاننے والے جانتے ہیں کہ اس سے مراد صرف وہ خوراک نہیں ہوتی جس سے تن کا پیٹ بھرا جائے۔ ایسا حقیر رزق صرف بے زبان جانوروں سے تعلق رکھتا ہے۔ انسان کے رزق کی تعریف میں ہر وہ آسانی اور آسائش آجاتی ہے جس کی انسان خواہش پالتا ہے۔ جس کی جستجو کرتا ہے۔ اور جسے حاصل کرنے کے لئے بھاگ دوڑ، محنت اور سازشیں کرتا ہے۔ ہم پڑھے لکھے لوگوں نے خوامخواہ ان پڑھ جانوروں کو بدنام کرنے کی خاطر ان سے الٹی سیدھی کہانیاں وابستہ کررکھی ہیں۔ انہی کہانیوں میں سے ایک کہانی لاکھوں سال پہلے اس کرہ ارض پہ رہنے والے ”ڈائنوسارز“ کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈائنوسارز کئی طرح کے ہوتے تھے۔ ہوتے سبھی دیوہیکل تھے۔ پہاڑ جیسے اونچے لمبے جسم، شہتیروں جیسے بڑے بڑے ہاتھ پاؤں، تلواروں جیسے نوکیلے دانت اور اندھے غاروں جیسے کبھی نہ بھرنے والے پیٹ۔ ان ڈائنوسارز کی کئی قسمیں بتائی جاتی ہیں۔ کچھ سبزی خور ہوتے تھے۔ وہ ناشتہ کرنے پہ آتے تو جنگل کے پانچ سو درختوں کی ہری کونپلیں اور کم عمر شاخیں پتوں سمیت چبا جاتے۔ باقی دن جگالی کرتے کرتے کوئی ڈیڑھ ہزار مزید پودے چٹ کرجاتے۔ شام تک آدھا جنگل ٹنڈمنڈ ہوجاتا۔ اگلی صبح وہ ساتھ والے جنگل میں جاپڑاؤ ڈالتے۔
گوشت خور ڈائنو سارز کو جگالی کی عادت نہیں تھی۔ جگالی کرنے والے جانوروں کے کاٹنے کے دانت نہیں ہوتے۔ منہ کے اندر چوڑی داڑھیں ہوتی ہیں۔ جو چکی کے پاٹوں کی طرح چلتی ہیں۔ گوشت خور ڈائنوسارز کے دانت نوکیلے ہوتے تھے۔ وہ کاٹتے اور ہڑپ کرجایا کرتے تھے۔ وہ قیلولہ کرنے کے بعد سر اٹھاکے دائیں بائیں جنگل میں چند قدم چلتے اور کسی جوہڑ کنارے گھونٹ گھونٹ پانی پیتے ہرنوں کے ادھے جتھے کو کھاجاتے۔ شام کو پیٹ میں بھوک اٹھتی تو بڑے بڑے ڈگ بڑھتے معصوم گائیوں کے گلوں کو جا دبوچتے۔ ایک گائے سے مشکل سے ان کے تین نوالے بنتے تھے۔ اڑنے والے ڈائنوسارز کی کتھائیں بھی مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے پر بہت چوڑے، پنجے مضبوط اور چونچیں لمبی ہوتی تھیں۔ وہ ایک اڑان اڑتے اور جہاں انہیں من بھاتی خوراک نظر آتی، وہاں جھپٹ کے بکریوں کے ریوڑ سے چند بکریاں پنجوں میں پکڑ کے اڑ جاتے۔ کہتے ہیں ان کے گھونسلے اونچی جگہوں پر ہوا کرتے تھے۔ ان کے گھونسلوں کے آس پاس چونڈی ہوئی ہڈیوں اور بچے کھچے چھیچھڑوں کے انبار ہوا کرتے تھے۔ ڈائنوسارز کی اور بھی کئی قسمیں بتائی جاتی ہیں۔ بہرحال ان سب ڈائنوسارز میں مشترک بات ایک تھی۔ جنگل کے باقی باسیوں کی نسبت وہ ہزار گنا زیادہ بھوک پالے ہوئے تھے۔ کہتے ہیں اسی بڑھی ہوئی بدمست اور بے لگام بھوک کے ہاتھوں وہ ہولے ہولے اس کرہ ارض کی بستی مٹا بیٹھے۔ نیست و نابود ہوگئے۔غلط کہتے ہیں۔
ساری سائنس اس بدمست، بے لگام اور ناختم ہونے والی بھوک کے نتیجے سے جو نتیجہ نکال رہی ہے وہ صحیح نظر نہیں آتا۔ سائنس فکشن لکھنے والوں نے کمال ہنرمندی سے لاکھوں سال پہلے مٹے ان ڈائنوسارز کے جین ڈھونڈلئے۔ کسی مچھر کے پیٹ میں خون کی بوند میں بند کسی ڈائنوسار کے خون خلیوں کے جین تلاش کرکے انہیں پھر سے ترتیب دے دیا۔ پھر کسی پھدکتے مینڈک کی شریانوں میں لاکھوں سال پہلے کے متروک ڈائنوسار کے جین ڈال کے نئے سرے سے ڈائنوسارز کی تخلیق کرلی۔ پھر ان ڈائنوسارز کو ایک خوش رنگ وسیع پارک میں مقید کرکے اس پارک کا نام جیراسک پارک رکھ دیا۔ اور دنیا کے سیاحوں کو وہاں سیر سپاٹے کے لئے بلوانے لگے۔ سائنس فکشن کی کہانی میں بھی جیراسک پارک کے ڈائنوسارز، ڈائنو سارز ہی رہے۔ وہ اپنی جبلت پر ڈٹے رہے۔ انسانوں کو پکڑ پکڑ کے اپنا پیٹ بھرتے رہے۔ میں صرف یہ سوچتا ہوں ان سائنس فکشن لکھنے والوں کو ڈائنو سارز دیکھنے اور دکھانے کے لئے سیاحوں کی منافع بخش سیاحت کی خاطر جس جیراسک پارک کا خیال آیا تھا۔ وہ اس خیال سے باز آجاتے اگر کبھی وہ کچھ دن خود سیاح بن کے ہی سہی ہمارے ملک پاکستان آجاتے۔ انہیں محسوس ہوتا وہ خیالی جیراسک پارک جس کے خد و خال وہ سوچے بیٹھے ہیں، وہ حقیقت میں اپنے تمام تر تناظر کے ساتھ یہیں موجود ہے۔
یہاں، ہمارے جیراسک پارک میں ڈائنوسارز کی بہت ورائٹی ہے۔ لاکھوں سال پہلے تو ڈائنوسارز صرف تین قسم کے ہوتے تھے۔ سبزی خو ر، گوشت خور یا اڑنے والے۔ ہمارے جیراسک پارک کو ہر ڈائنوسار میں یہ تینوں صلاحیتیں موجود ہیں۔ پھر بھی ان کے شکار کا طریقہ الگ ہے۔ یہاں کا ہر ڈائنوسارز صبح آنکھ کھولتا ہے تو ہزارہا کھلنے والی کونپلوں کا آنے والا کل چبا جاتا ہے۔ صبح دفتر وقت کے بعد جب لنچ ٹائم آتا ہے تو اس وقت تک وہ ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ لوگوں کے حصے کا گوشت بھنبھوڑ چکا ہوتا ہے۔ شام کے ڈنر سے پہلے تک ہمارا ڈائنوسار اپنے مقام سے اڑ کر کسی نئے شکار تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ آپ کو میری یہ بات بھی کہانی لگ رہی ہوگی۔ نہیں۔ یہ سچ کہہ رہا ہوں۔ آپ کو سند چاہئے۔ تو سنئے۔ ایک سو، ڈیڑھ سو روپیہ دیہاڑی دار مزدور نے اپنی ساری زندگی کی محنت کے ساتھ ہر طرح کی جمع تفریق کرکے اپنے بڑھاپے کے لئے جتنی دولت سوچی ہوتی ہے، وہ ہمارے یہاں کے ڈائنوسار کے عموماً ایک دن کے ایک قلیل عرصے کا منافع ہوتا ہے۔ پتہ نہیں آپ کو اس بات کا تجربہ ہے یا نہیں کہ اگر معاملہ ارب ہا روپیوں کی کمائی کا ہوتو ایک دو کروڑ کی کوئی گنتی نہیں رکھتا۔ یوں اگر کروڑوں میں بیوپار ہوتو دو تین لاکھ کے لئے کوئی تردد نہیں کرتا۔ لاکھوں کے سودے میں چند ہزار کی خاطر کون بحث کرتا ہے۔ ہزاروں کی بات میں لوگ چھوٹے نوٹ نہیں گنتے۔ مگر ہمارے سولہ کروڑ لوگوں کے اس جیراسک پارک میں پونے سولہ کروڑ لوگ انہی چھوٹے نوٹوں بلکہ سکوں کو گن گن کے جیتے اور مرتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے زندگی کا ہر نیا دن نئے سوال لے کر آتا ہے۔ صبح ہوتی ہے وہ انڈے گنتے ہیں۔ بچوں کی تعداد ذہن میں رکھ کے گھر میں موجود ڈبل روٹی کے توشوں کی گنتی کرتے ہیں۔ دوپہر کے کھانے کے لئے انہیں سوچنا پڑتا ہے کہ آج پیٹ بھرکر کھالیا تو کل کیا کریں گے۔ یہ مسکین سفید پوش لوگ نہ اپنا خالی پیٹ دوسروں کو دکھاتے ہیں نہ دکھانا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ زندگی گزارنے کی سعی میں ہزار محنت کے بعد بھی جو وہ خریدتے ہیں اس خریدی ہوئی ہر شے اندر سے کم از کم پندرہ فیصد ان کے خون پسینے کی کمائی ان کے اپنے پیٹ میں نہیں جاتی، کسی نہ کسی ڈائنوسار کے ایک لقمے کے لئے جمع ہوتی رہتی ہے۔ ایسے کم نصیب لوگ جو سولہ کروڑ لوگوں میں سے پونے سولہ کروڑ سے بھی زیادہ ہے، وہ یہ نہیں جانتے کہ بوند بوند ان کے جسم کا خون نکل نکل کے کس کے حلق میں جارہا ہے۔ کوئی دس ہزار مزدور، کلرک یا خوانچہ فروش ڈبل روٹی، انڈے، سگریٹ، گھی، تیل یا آٹا خریدنے کے بعد جتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں ان سب کو ملاکے کسی ایک ڈائنوسار کے کسی چمکیلے ہوٹل کا ایک سرکاری ڈنر بنتا ہے۔ کوئی دو ہزار گاؤں کے کاشتکار لوگوں کی خریدی ہوئی کھاد، فصلوں کے بیج، کھیتوں کو لگائے پانی پہ خرچ ہوئی بجلی یا تیل، کیڑے مار دوائیوں کے حصول میں دی ہوئی جی ایس ٹی سے کسی ایک ڈائنوسار کے فارن ٹور میں کسی شاہانہ ہوٹل میں قیام کے دوران ایک رات کا بل بنتا ہے۔ یہ کم نصیب کچی بستیوں کے باسی اپنے پچاس ہزار گھروندوں کو بناتے بناتے جیراسک پارک کی انتظامیہ کو جتنی سلامی دے دیتے ہیں اس سے حکومت وقت کے کسی ایک ڈائنوسار کی حفاظت کے لئے بدیس سے منگوائی ایک بلٹ پروف گاڑی کی لاگت پوری ہوتی ہے۔ تاکہ ناانصافی کے ہر موسم میں یہ ڈائنوسار اپنی رعایا سے محفوظ رہیں۔ حیرت ہے۔ سائنس دان اب بھی بضد ہیں کہ ڈائنوسارز کا زمانہ لد گیا۔ ڈائنوسارز ہیں۔ اس جیراسک پارک میں تو وہ اتنی قوت اور اتنے دبدبے سے ہیں کہ اس بار انہوں نے سائنس کی ساری تھیوریاں غلط ثابت کردینی ہیں۔ اپنی حد سے بڑھی خوش خوراکی سے انہوں نے خود ختم نہیں ہونا۔ اپنے پالنے والوں کو ختم کردینا ہے۔ ایسا ہونا فطرت کے قانون کے خلاف بھی نہیں۔ اس لئے ہم جیراسک پارک کے وہ کوتاہ اندیش باسی ہیں جو اپنی رکھوالی کے لئے جب بھی گڈریے چنتے ہیں تو اپنے جیسی کوئی بھیڑ بکری نہیں چنتے۔ کوئی نہ کوئی ڈائنوسار چن لیتے ہیں۔۔۔ بشکریہ ابدال بیلا، روزنامہ جنگ

Advertisements

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: