مینڈیٹ اور دوتہائی اکثریت

Posted on 22/03/2008. Filed under: سیاست |

کل ہوٹل سے روٹیاں لینے گیا تو ہوٹل والے نے ایک اخبار میں روٹیاں لپیٹ کر دے دیں، گھر آتے ہوئے راستے میں یونہی اخبار پر نظر پڑی تو ایک نہایت سے اہم خبر میری منتظر تھی، واضع رہے کہ یہ اخبار روزنامہ جنگ ١٦مارچ ١٩٩٨ کی اشاعت ہے، خبر نہایت دلچسپ ہے جو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر آپ کی نظر کر رہا ہوں۔

بڑے چوروں کا احتساب ہو رہا ہے لیکن انہیں سزا کیسے ملے گی، لوٹ مار کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں۔ ٢٣ کروڑ سامنے پڑا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ ثبوت کی ضرورت ہے، یہ آخر ثبوت نہیں تو اور کیا ہے، قانون دان بتائیں یہ کیسا نظام ہے؟
آج جو چور ہیں وہی دندناتے پھر رہے ہیں۔ ذرا سوچیں جسکے پاس ٢٣ کروڑ روپے نکلے ہیں اس نے کتنے ارب روپے زرداری اور بینظیر کو دیئے ہوں گے، میں تبدیلی کا وعدہ پورا کر کے چھوڑوں گا، کشتی کو بھنور سے ضرور نکالیں گے۔ 
ماڈل ٹاؤن لاہور میں وزیراعظم میاں نواز شریف کا مسلم لیگی وفود سے خطاب

کمال ہے یہ شخص ١٩٩٧ میں بھی تبدیلی کی یوید لیکر آیا تھا اور ٢٠٠٨ میں بھی۔
خزانہ اس وقت بھی خالی تھا، آج بھی خالی ہے۔
لوٹ مار اور کرپشن کی باتیں اس وقت بھی تھیں، آج بھی ہیں۔
بہت بڑا مینڈیٹ اس وقت بھی پاس تھا، دوتہائی اکثریت آج بھی ہے۔
اس مینڈیٹ کو ٹھوکر مارنے والا پاور میں اس وقت بھی تھا، دوتہائی اکثریت میں بھی وہی تخت نشین ہے۔
بڑے مینڈیت کے پانچ پورے اس وقت نہیں ہوئے، دوتہائی اکثریت کو دیکھتے ہیں، کیا رنگ لاتی ہے۔

Advertisements

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: