Archive for مئی, 2008

کفن چور

Posted on 29/05/2008. Filed under: سیاست |

ایک کفن چور کا جب آخری وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا ‘دیکھو بیٹا! میں اپنے کئے پر بہت نادم ہوں، ساری زندگی کفن چوری کرنے کی وجہ آج کوئی بھی مجھے اچھے لفظوں کی وجہ سے یاد نہیں کرتا، اب اس دنیا سے جاتے ہوئے میں تم سے گذارش کرتا ہوں کہ کچھ ایسا کرنا کہ کم از کم مرنے کے بعد تو لوگ مجھے اچھے لفظوں میں یاد کریں‘۔
بیٹے نے جواب دیا ‘آپ بے فکر رہو بابا‘
باپ مر گیا، بیٹا کفن دفن سے فارغ ہوا تو اسے باپ کی باتیں یاد آئیں، اس کے بعد اس نے باپ والے کام میں ایک اور کام کا اضافہ کر دیا یعنی کفن چوری کے ساتھ ساتھ لاش کی بحرمتی بھی کر دیتا۔
اس کا کام جب لوگوں کے سامنے آیا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھے کہ ‘اس سے اچھا تو اس کا باپ تھا جو صرف کفن چوری کرتا تھا، بیٹا تو کفن چوری کے ساتھ لاش کی بحرمتی بھی کرتا ہے۔
آج ہماری مثال بھی کچھ ایسی ہی ہے، ہمیں بھی لگ رہا ہے کہ اس حکومت سے تو شوکت عزیز کی حکومت ہی بہتر تھی جو کوئی بحران پیدا نہیں ہونے دیتی تھی، آٹے، بجلی، گیس اور پیٹرول کے بحران اس وقت بھی تھا لیکن وہ جیسے تیسے منیج کر لیتے تھے لیکن موجودہ حکومت تو کفن چوری کے ساتھ ساتھ لاش کی بحرمتی بھی کر رہی ہے۔ اپنے منشور اور وعدوں کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں ہوشربا اضافہ، کالا باغ ڈیم کا خاتمہ، عدلیہ کے بحران کو خوامخواہ طول دے کر خوامخواہ عوام کے جذبات سے کھلواڑ کرنے جیسے کاموں کی وجہ سے آج ہمیں شوکت عزیز کی بہت یاد آ رہی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

جہیز کی لعنت

Posted on 20/05/2008. Filed under: رسم و رواج |

روزنامہ نوائے وقت لاہور، مورخہ ٥ مئی ٢٠٠٨  خواتین ایڈیشن
جہیز کی لعنت، چھٹکارے کے لئے خواتین موثر کردار ادا کریں (فتوی از جناب ۔ مفتی محمد دارالافتاء والارشاد، ناظم آباد کراچی)

آپس میں ہدیہ تحفہ کا لین دین اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنا باہم الفت و محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ‘ یعنی ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو تاکہ آپس میں محبت و الفت پیدا ہو‘ مگر شریعت نے ہدیہ و تحفہ اور باہمی مدد کی جن مصلحتوں کے لئے ترغیب دی ہے آج کل جہیز کے لین دین میں ان مصلحتوں میں سے کوئی مصلحت بھی نہیں پائی جاتی بلکہ یہ ہندو معاشرے سے آئی ہوئی ایک لعنت ہے جس نے معاشرے میں بیٹی کی پیدائش کو غریب باپ پر بوجھ بنا کر رکھ دیا ہے۔ پاک وہند کے سوا بقیہ دنیا کے مسلمان آج بھی اس رسم سے بے خبر ہیں۔ موجودہ دور میں شادی کے موقع پر طرفین کے ایک دوسرے کو تحفے اور لڑکی کو جہیز دینے میں جس قدر غلو ہونے لگا ہے اس میں مندرجہ ذیل قباعتیں پائی جاتی ہیں۔
١۔ لڑکی کا باپ زبان سے تو لوگوں کو یہی بتا رہا ہوتا ہے کہ میں اپنی خوشی سے جہیز دے رہا ہوں مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اکثر و بیشتر وہ محض یہ سوچ کر جہیز دینے پر مجبور ہوتا ہے کہ اگر نہ دیا تو لڑکی سسرال کے طعنوں کا شکار ہو گی۔ اس صورت میں اس کے ‘بخوشی‘ جہیز دینے کے زبانی دعوؤں کا کوئی اعتبار نہیں اور ان مصنوئی دعوؤں کے باعث لڑکے والوں کے لئے اس کے دیئے ہوئے مال کا استعمال حلال  نہیں ہو گا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ‘ مسلمان کا مال اس کے دل کی مکمل خوشی کے بغیر حلال نہیں‘۔
٢۔ اللہ تعالٰی نے شوہر کو اپنی زوجہ کے لئے دوست ہونے کے ساتھ ساتھ بمنزلہ حاکم بھی قرار دیا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی، ترجمہ ‘مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں‘ سوچا جائے کہ اللہ تعالٰی جب شادی سے متعلق اور شادی کے بعد جتنے اخراجات ہیں سب کے سب مرد کے ذمے ڈال کر اسے حاکمیت کا پروانہ عطا فرما رہے ہیں اور مرد محکوم والا کردار ادا کرتے ہوئے سونے کے لئے بستر، دوستوں اور مہمانوں کو بٹھانے کے لئے صوفے اور کھانا کھلانے کے لئے برتن تک بھی بیوی یا اس کے والدین سے وصول کرے تو یہ مرد کے لئے کس قدر سبکی کی بات ہے مگر دنیا کی محبت نے عقل پر پردے ڈال دیئے ہیں اور اس کھلی حقیقت کی طرف دھیان نہیں جاتا۔
٣۔ جہیز دیتے وقت فخرونمود اور دولت کے اظہار کی خاطر اس کی خوب نمائش کی جاتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ‘جو شخص لوگوں میں شہرت اور اپنا چرچا کروانے کی نیت سے کوئی عمل کرے گا تو اللہ تعالٰی قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اس کی اس حرکت کو ظاہر کریں گے۔ (تاکہ سب کے سامنے ذلیل ہو) متفق علیہ۔
٤۔ ایک قباعت یہ بھی ہے کہ آجکل جہیز اتنی زیادہ مقدار میں دیا جاتا ہے جس سے لرکی پر حج فرض ہو جاتا ہے مگر حج کرواتے نہیں اور یوں حج میں سستی کی وجہ سے بیوی اور شوہر کے والدین سب گنہگار ہوتے ہیں۔
٥۔ اس قبیح رسم کی وجہ سے غریب آدمی کے لئے لڑکی کی شادی وبال جان بن گئی ہے۔ وہ جہیز کی مطوبہ مقدار پوری کرنے کے لئے حلال و حرام کی پرواہ کئے بغیر پیسہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بعض لوگ من گھڑت ضرورت کو پورا کرنے کے لئے صدقات و فطرہ مانگتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو حرام کھانے اور بھکاری بنانے پر مجبور کرنے والے لوگ وہ ہیں جو لڑکیوں سے جہیز وصول کرتے ہیں لہذا ایسے لوگ بھیک مانگنے اور حرام ذرائع اختیار کرنے کے جرم میں ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
٦۔ جہیز کی مطوبہ مقدار پوری نہ ہونے کی صورت میں لرکی کے نکاح میں تاخیر کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں یا تو بدکاریاں ہوتی ہیں یا عزت و عفت محفوظ رکھنے والی لڑکیاں گھٹ گھٹ کر نفسیاتی مریض بن جاتی ہیں۔ بہت سوں کو دیگر دوسرے جسمانی امراض بھی لاحق ہو جاتے ہیں کیونکہ جدید تحقیق کے مطابق لڑکی کی شادی میں بلوغت کے بعد زیادہ تاخیر اس کی صحت کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ نیز اس تاخیر میں حدیث کے اس حکم کی بھی مخالفت ہے جس میں لڑکی کے بالغ ہوتے ہی اس کے جلد نکاح کی ترغیب دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ارشاد فرمایا کہ ‘ تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو، ان میں سے ایک لڑکی کے بالغ ہونے اور مناسب رشتہ ملنے کے باوجود تاخیر ہے‘ (مشکٰوۃ ٦١)۔ واضح رہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہ کو جو جہیز دیا تھا وہ درحقیقت اس رقم سے خریدا تھا جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بطور مہر ادا کی تھی۔ کتب حدیث و تاریخ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ ملاحظہ ہو (الزرقانی ٣٢٠،٣٨٥/٢)۔

خلاصہ یہ کہ جہیز کی مروجہ صورت شریعت، عقل، غیرت کے خلاف ہونے اور مفاسد کثیرہ کی بنا پر ناجائز ہے۔ لہذا اگر کسی کا داماد واقعی اتنا غریب ہو کہ گھر کا ضروری سامان خریدنے کی قدرت بھی نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں لڑکی کے والدین اگر اس کے ساتھ مالی تعاون کرنا چاہیں تو حرج نہیں بلکہ باعثِ ثواب ہے مگر اس صورت میں تعاون بھی نقدی کی صورت میں ہونا چاہیے تاکہ وہ گھر کی ضرورت کی جو اشیاء خریدنا مناسب سمجھے خرید سکے اور اگر داماد کوئی دینی یا دینوی مشاغل کے باعث از خود خریدنے کی فرصت نہ رکھتا ہو تو ایسے غریب داماد کے ساتھ تعاون کے طور پر لرکی کے والدین از خود بھی یہ اشیاء خرید کر دے سکتے ہیں۔ جہیز کے معاملے اصل ذمہ داری لڑکے اور اس کے والدین کی بنتی ہے کہ وہ لرکی والوں کو جہیز دینے سے سختی سے باز رکھنے کی کوشش کریں تاکہ لڑکی کے باپ کو مکمل اطمینان ہو جائے کہ لڑکا جہیز سے واقعی نفرت کرتا ہے۔ اگر لرکے والے ایسا نہ کریں اور لڑکی کے باپ کو یہ خیال ہو کہ جہیز نہ دیا تو لڑکی طعنوں کا شکار ہو گی اور اس کی زندگی اجیرن ہو جائے گی تو اس مجبوری میں انشاءاللہ اسے جہیز دینے کا گناہ نہ ہو گا۔ اس صورت میں گناہ صرف جہیز وصول کرنے والے داماد اور اس کے والدین کو ہو گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 6 so far )

امریکن دوستی

Posted on 20/05/2008. Filed under: پاکستان, طنز و مزاح |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

قربت

Posted on 20/05/2008. Filed under: سیاست |

میاں نواز شریف کی علحیدگی کے بعد باؤچر، زرداری لندن ملاقات اصل بحران کا پیش خیمہ

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Missed Calls

Posted on 14/05/2008. Filed under: موبائیل زون, اسلام |

دور حاضر کی بہترین ایجادات میں سے ایک موبائل فون بھی ہے۔ جس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ ہم باآسانی Missed Calls معلوم کر سکتے ہیں اور اپنے دوستوں سے رابطہ کر کے ان کی Calls کا باآسانی جواب دے سکتے ہیں۔ ہمیں رات کو نیند اور دن میں چین نہیں ملتا جب تک ان  Missed Calls کا جواب نہ دے دیں جو واقعی ہمارے لئے اہم ہوں۔ ہم کسی ایسی Missed Calls کو جواب دیئے بغیر نہیں رہنے دیتے جو ہمارے لئے اہم ہو۔
تاہم مقام فکر ہے کہ روزانہ ہمارے مالک کی طرف سے آنے والی  Calls کے حوالے سے ہمارا کیا رویہ ہے؟ یہ  Calls روزانہ دن میں پانچ مرتبہ ‘حی علی الصلوۃ‘ (آؤ نماز کی طرف)، ‘حی علی الفلاح‘ (آؤ کامیابی کی طرف) کے الفاظ میں مسلسل آتی ہے۔ کیا ہم اس کو Call کا جواب دیتے ہیں یا اسے Unanswered ہی رہنے دیتے ہیں؟ کیا واقعی یہ Call ہمارے لئے اہم ہے؟؟
مقام فکر ہے کہ یہ Call ہمارے خالق، رازق اور مالک کی طرف سے آتی ہے! اور یہ کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے اسی کا عطا کردہ ہے، آج ہم اگر کسی مقام پر ہیں تو اسی کی وجہ سے ہیں، ہماری زندگی اسی کی اجازت سے قائم ہے جس کی اجازت کے بغیر ہمارے جسم کا ایک عضو بھی کام نہیں کر سکتا اور جس کے اذن کے بغیر ہم ایک حرکت بھی نہیں کر سکتے!!!!
کیا ہمارے لئے Call کی کوئی اہمیت ہے؟؟ اگر آج نہیں تو بہرحال کل یعنی روز قیامت تو اہم ترین Call یہی ہو گی جب سب سے پہلا سوال اسی Call کے متعلق ہو گا!!
‘ اے ایمان والو اللہ کی نافرمانی سے بچواور چاہئے کہ تم میں سے ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے خود کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ اور اللہ کی نافرمانی سے بچو، بے شک جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالٰی اس سے خوب واقف ہے!!!‘ (سورۃ الحشر، آیت ١٨)

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

میری ماں

Posted on 12/05/2008. Filed under: شعروادب |

میں کبھی بتلاتا نہیں
پر اندھیرے سے ڈرتا ہوں میں ماں
یوں تو میں دکھلاتا نہیں
تیری پرواہ کرتا ہوں میں ماں
تجھے سب ہے پتہ
ہے نا ماں؟
تجھے سب ہے پتہ
میری ماں
بھیڑ میں یوں نہ چھوڑو مجھے
گھر لوٹ کے بھی آ نہ پاؤں ماں
بھیجنا اتنا دور مجھ کو تو
یاد بھی نہ تجھ کو آ پاؤں ماں
کیا اتنا برا ہوں میں ماں
کیا اتنا برا۔۔۔
میری ماں
جب بھی کبھی پاپا مجھے
جو زور سے جھولا جھلاتے ہیں ماں
میری نظر ڈھونڈے تجھے
سوچوں یہی تو آ کے تھامے گی ماں
ان سے میں یہ کہتا نہیں
پر میں سہم جاتا ہوں ماں
چہرے پہ آنے دیتا نہیں
دل ہی دل میں گھبراتا ہوں ماں
تجھے سب ہے پتہ
ہے نا ماں؟
تجھے سب ہے پتہ
میری ماں
میں کبھی بتلاتا نہیں
پر اندھیرے سے ڈرتا ہوں میں ماں
یوں تو میں دکھلاتا نہیں
تیری پرواہ کرتا ہوں میں ماں
تجھے سب ہے پتہ
ہے نا ماں؟
تجھے سب ہے پتہ
میری ماں

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کیا ججز بحال ہوں گے؟

Posted on 11/05/2008. Filed under: پاکستان, سیاست |

مجھے نہیں لگتا کہ ١٢ مئی کو جج بحال ہوں گے، حسب سابق اس بار بھی اس معاملے تو طول دیا جا رہا ہے۔ ظاہری طور پر اس کی بیھٹک اسلام آباد اعتزاز ہاؤس اور پوشیدہ طور پر گال مہار دبئی کے بعد اب لندن میں جاری ہے۔
این آر او اور ٥٨ ٹو بی کی دو دھاری تلوار، آصف علی زرداری کے ذہن میں ججز اور صدر کا خوف بیٹھ چکا ہے، اس لئے صبح کچھ اور شام کو کچھ اور بیان ہم سب کا منتظر ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ معاملہ مزید الجھتا چلا جا رہا ہے۔ اس معمالے کو الجھانے کی تین وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ ۔ صدر مشرف، جن کی جانب سے اشاروں کنائیوں میں کہا جا رہا ہے کہ اگر جج بحال ہوئے تو ٥٨ ٹوبی کا ہتھورا بھی چلے گا۔ اس کے خلاف حکومت عدالت میں نہیں جا سکے گی کہ وہاں وہی جج بیٹھے ہیں جنہیں حکومتی اتحاد تسلیم نہیں کرتا۔
دوسری وجہ ۔ قانونی پیچیدگیاں، موجودہ ججز کا کیا بنے گا، ججز کی معیاد اور جج کیسے بحال ہوں گے قومی اسمبلی کی قرارداد سے، ایگزیکٹیو آرڈر سے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ اگر جج ایگزیکٹیو آرڈر سے بحال کر بھی دیئے گئے تو اس کے چند سیکنڈ بعد ہی اس آرڈر کو صدر کے قانونی مشیر عدالت میں چیلنج کر دیں گے اور عدالت سے اس کے خلاف فیصلہ دے دے گی جس کے بعد ایک نیا قانونی بحران شروع ہو جائے گا۔
تیسری وجہ۔ این آر او، آصف علی زرداری کے قانونی مشیروں کا خیال ہے کہ جب جسٹس افتخار محمد چوہدری بحال ہوں گے تو عدالت میں این آر او پر نظر ثانی کی رٹ دائر کی جائے گی جس کے نتیجے میں آصف علی زرداری کو ایک بار پھر ملک چھوڑنا پڑے گا۔
یہ ہیں وہ اسباب جس کے تحت کم از کم مجھے تو ججز کی بحالی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ یہ سارا ٹوپی ڈرامہ ہوشربا مہنگائی، افراط زر میں اضافہ اور آنے والے بجٹ سے عوام الناس کی توجہ ہٹانے کے لئے رچایا جا رہا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

یوم مزدور

Posted on 01/05/2008. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , |

ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...