Archive for جولائی, 2008

نظربندی کے ساتھ زبان بندی

Posted on 22/07/2008. Filed under: پاکستان |

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظر بندی ختم کرنے کی درخواست خارج کرتے ہوئے انہیں اندرون ملک اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے سفر کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ ایٹمی پھیلاؤ سے متعلق بیانات پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے قریبی دوست بیرسٹر اقبال جعفری کی جانب سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست پر چیف جسٹس سردار محمد اسلم پر مشتمل عدالت نے سوموار کو اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ ڈاکٹر قدیر کو اپنے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں سے اپنے گھر اور ملک کے دیگر شہروں میں ملنے کی اجازت ہو گی۔ تاہم ایسا متعلقہ حکام کی جانب سے مناسب سیکورٹی کے بندوبست کے بعد ممکن ہو گا۔
بیرسٹر اقبال جعفری نے ایک رکنی بنچ کے اس فیصلے کے خلاف اسی عدالت میں نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عدالت نے ڈاکٹر قدیر کو پابند کیا ہے کہ وہ ان قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کی فہرست سیکورٹی سے متعلق اداروں کو فراہم کریں گے جن سے ملاقات کی وہ خواہش رکھتے ہیں۔
عدالت نے ڈاکٹر قدیر کو ایٹمی پھیلاؤ سے متعلق بیان جاری کرنے یا اس موضوع پر اپنے کسی دوست یا رشتے دار سے گفتگو کرنے سے باز رہنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنی پسند کے ڈاکٹر سے علاج کروا سکیں گے اور حکومت کو ان کی خواہش پر انہیں پاکستان سائنس فاؤنڈیشن جانے کا بندوبست کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
بیرسٹر اقبال جعفری نے اس درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ ڈاکٹر قدیر کی نظر بندی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی نقل و حرکت اور میڈیا سے بات کرنے پر پابندی کو ختم کیا جائے۔
فیصلے کے بعد کمرہ عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر اقبال جعفری نے کہا کہ آج کے فیصلے سے یہ بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ ڈاکٹر قدیر زیر حراست ہیں۔
عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں ایٹمی سائنسدان کے لئے زیرحراست ہونے کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جبکہ حکومت کا موقف رہا ہے کہ ڈاکٹر قدیر قطعی طور پر نظر بند نہیں ہیں اور یہ کہ ان کے گھر کے باہر پولیس حفاظتی نکتہ نظر سے تعینات ہے کیونکہ بطور ایٹمی سائنسدان وہ دشمنوں کے لئے فوجی ہدف جتنی اہمیت رکھتے ہیں۔
بیرسٹر اقبال جعفری کی اس استدعا پر کہ ڈاکٹر قدیر کو میڈیا کے سامنے آنے کی اجزات دی جائے، عدالت نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر سمیت ملک کے تمام اہم افراد اور وزیروں کو روایتی پروٹوکول سے اجتناب برتنا چاہیے۔ وکیل کی اس زبانی درخواست پر عدالت نے کہا کہ جتنا غیر ضروری پروٹوکول ہمارے ملک میں رائج ہے، دنیا میں کہیں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
اسی عدالت میں ڈاکٹر قدیر کی اہلیہ کی ایک درخواست زیرسماعت ہے جس میں انہوں نے استدعا کی ہے کہ عدالت ایک کمیشن کے ذریعے ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث افراد کی نشاندہی کا بندوبست کرے۔

کیا واقعی عدالتیں آزاد ہیں؟  یا کروڑ کمانڈرز (کور کمانڈرز)  کے احکامات عوام الناس کے لئے نشر کرنے کی جگہیں؟
یہ تو فوجی عدالتیں Military Courts ہیں۔ جہاں کروڑ کمانڈرز کے پاس سے آیا ہوا فرمان پڑھ کر سنایا جاتا ہے اور اس سے زیادہ تو ان کی کوئی حیثیت  پہلے کبھی تھی نہ آج ہے، نہ موجودہ ‘ملازموں‘ میں سے کوئی ان حالات کو بدلنے کے حق میں کبھی ہو گا۔
یقیناََ اگر فخرامت ڈاکٹر عبدالقدیر خان زبان کھولیں گے تو جرنیلوں کا ڈالر کمانے کا نیو کلئیر کاروبار جو ہر چہار طرف پھیلا ہوا ہے وہ دنیا کو پتہ چلے گا۔ لیکن وہ وقت دور نہیں جب یہ سب کچھ دنیا کو معلوم ہو کر ہی رہے گا۔

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

قدرتی عمل سے افسانوی کہانی تک

Posted on 21/07/2008. Filed under: تعلیم, رسم و رواج |

زمانہ بدلتے بدلتے اقدار بدل گئی ۔۔۔۔ رفتار بڑھاتے بڑھاتے زندگی بدل گئی۔ بدل کیا گیا؟ سب کچھ کھو گیا۔ حقیقی وراثت افسانوی کہانی بن گئی۔ افسانہ کے لیئے حقیقی کہانی کچھ ہونا ضروری ہے۔ حقیقی کہانی نہیں تو اُس میں حقیقت کا رنگ کچھ حد تک ہونا لازم ہے۔ مگر آج پیروکار گُرو کو مافوق الفطرت ثابت کر کے حقیقی صورت کو افسانوی رنگت بخش دیتے ہیں۔ مخبوط الحواس افراد آج اندھے ہیں اور خود چاہتے ہیں دوسرے بھی اندھے کی نگاہ سے دیکھے۔ افسوس! بناوٹ قدرت چاہتی ہے۔ مگر ہم قدرت بلکہ فطری عمل کو بناوٹی رنگوں سے سنوارتے ہیں۔ بناوٹی سے بے ہتھل ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ عِلم انسان کو باترتیب بناتا ہے مگر آج  بے ترتیب سے بد ترتیب ہونےکو ہیں۔(١)
میں پیدل چلتے چہرے دیکھتا ہوں۔ چہرہ افسردہ افسردہ دکھائی دیتے ہیں۔ چند چہرے مصنوعی مسکراہٹ رکھتے ہوئے دِل میں خار رکھتے ہیں۔ مگر چیدہ چیدہ چہروں میں کچھ رنگ ایسے بھی ہیں جو آپکے دِل کو فرحت بخشتے ہیں۔ بچہ قدرت کا ایک انمول عطیہ ہے۔ کھِلے پھول کو دیکھئیے، کھلے چہرے کو دیکھئیے دِل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ مگر یہی بچہ بڑا ہو کر افسردہ چہرہ اپنا لےگا۔ کیا دُنیا پریشانی کا گھر ہے؟ ہرگز نہیں۔ زندگی کے سفر میں پریشانی اور خوشی ہمراہی ہے۔ کوئی خاص مقام نہیں۔ مقام منزل ہوتی ہے۔ منزل بامقصد مقصد کا تعین ہوتا ہے۔ مرتبہ اُسکا حصول ہوتا ہے۔ آج مقصد مقصد نہیں رہے۔ تبھی چہرے انجان دباؤ کا شکار ہے۔ حقیقی خوشی ماضی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
حلال رزق کمانا عین عبادت ہے۔ بتدریج ہم اِس اہمیت سے ناواقف ہوتے جا رہے ہیں۔ حلا ل لقمہ اپنی تاثیر رکھتا ہے۔ ایسی تاثیر جو نسلوں تک کی آبیاری کرتی ہے۔ برکت ایک خیالی تصور رہ گیا ہے۔ محبت کا وجود دم توڑ رہا ہے۔ خلوص کا گلا گھونٹا جا رہا ہے بیشمار قدرتی عمل مفقود ہوتےجا رہے ہیں۔ مقصود یہ تھا کہ اِنکی عملی تربیت برقرار رکھی جاتی۔ ہرگز یہ مراد نہیں کہ یہ بامقصد اعمال جا چکے۔ یہ قائم ہے تو دُنیا قائم ہے۔ سچےلوگ آج بھی موجود ہے بہتانوں کے شکار میں جھوٹے ہی جھوٹے وقوع پذیر ہوتے چلے جارہے ہیں۔
آج اِس خطہ کے افراد سے یہ سوال بنتا ہے؟ جن مقاصد کے حصول کی خاطر وُہ اپنی وراثت کھو رہے ہیں؛ حقیقی وراثت اُسکے مقابل جوحالات حاصل کیئے۔ اُن میں اُنھوں نے کیا کیا تخلیق کیا؟ حاصل کیا کیا؟ غلطی یہ ہوگئی کہ اُنکے مقاصد کے پیچھےکوئی خاص بنیاد نہ تھی۔ بات ہوا میں تھی اور وُہ خود ہوا میں معلق ہوگئی۔
مجھےشکوہ ہے اپنے سے پہلی پود (نسل) سے اُنھوں نے اپنے بڑوں سے اُنکا حکمت و دانائی کا علم حاصل کیا۔ خود تو وُہ ہوا میں معلق ہوئے مگر یتیم اور جاہل ہمیں کر گئے۔ مسئلہ یہ ہوا کہ ہمارے دادا کا عِلم ہمارے والدین ہمیں منتقل نہ کر سکے۔ گزشتہ نسلوں اور ہماری نسل میں ایک فرق آگیا۔ علم اور عمل کا فرق۔ ہمارے بزرگ ہندکو ، پنجابی و دیگر علاقائی زبانیں بولتے تھے، اَن پڑھ تھے۔ مگر وُہ شیخ سعدی کی گلستان و بوستان کےعملی کردار تھے۔ یہ حکمت و دانائی اُنکو کیسے ملی جبکہ وُہ شیخ سعدی اور فارسی کو جانتے بھی نہ تھے؟
رشتے محبت قائم رکھنے کے لیئے بنائے جاتے ہیں، تعلق یاد برقرار رکھنے کے لیئے قائم کیے جاتے ہیں، کسی کےگھر ٹھہراؤ کام کی غرض سے نہیں ملاقات اور دِل کی چاہت سے ہوا کرتی ہیں۔ یہ تمام جملےلفظ کاش! اور ماضی کا صیغہ سے دور ہی رہے تو بہت اچھا!
ہمارے عمل، مزاج ہی صرف افسانے کی طرف نہیں جا رہے بلکہ تہذیب، ثقافت بھی افسانوی روپ دھار رہی ہے۔ ہمارے خود ساختہ Standards نے ہماری صحت کو بُری طرح سے متاثر کیا ہے۔ پھل موسم کےاعتبار سے تھے مگر آج بے موسم ہوگئے۔ اِن  بے موسم پھلوں نے مزاج بے موسم کر دیے یو ں امراض بے موسم ہوئے اور امراض علاج سے لاعلاج رہ گئے، جسم متاثر ہوگئے۔ غیر علاقائی پودوں کی بہتات نے موسم غیرفطری کر دیے۔ درخت کی چھاؤں ویران ہوگئی۔ علاقائی مشروب اور مشروب فروش یتیم سے مسکین اور پھر حقیر ہو چلے ہیں۔ نگاہ حسن رفتار کا شکار ہو کر دم گھٹتے محسوس کر رہی ہے۔
رفتار نے جسم کی بیماری کو ذہن کی بیماری میں تبدیل کر دیا۔ غیرت مجروح ہوئی۔ Diplomacy  کےنام پر نااہل اہل قرار پائے۔ طرز تعمیر کے حسن کو نقال نے نہ صرف بدترتیب کیا۔ بلکہ ناقابل رہائش بھی کر چھوڑا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے ہم گھر بناتے ہیں۔ مگر وُہ گھر رہنے کے قابل نہیں۔ کبھی کوئی زمانہ تھا۔لوگ گھر میں رہنے کے قابل نہ تھے۔ آج وُہ دور ہےگھر میں لوگ رہنے کے قابل نہیں۔ چپاتی کی طاقت fast food  سے replace ہوگئی۔ متبادل ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ مگر حکمرانوں کی طرح یہاں ہر متبادل پہلے سے کمزور ہی ہوا ہے۔ ذائقہ دار پانی بے ذائقہ ہوگیا ہے۔ خوراک صرف مقدار رہ گئی ہے۔ نگاہ چاہیے آج ہم نگاہ سے محروم، مشاہدہ  سے محروم ایک duffer کی بات کو دوسرا duffer سمجھے بغیر promote  کرتا ہے۔ تحقیق دور کی بات ہے۔
ہمیں افسانہ نہیں بننا۔ زندگی فسانہ نہیں۔ فسانہِ مبتلاء مبتلاِ امراض ہے۔ جس قوم کا وجود افسانہِ حقیقی بن جائے وُہ فساد و فسجود کا شکار ہو کر مبتلاِ فسانہ بن کر گمنام ہوا کرتی ہے۔ ہر مرض کا علاج ہے۔ اس مرض کا علاج توبةالنّصوح میں ہے۔ علاج مختصر مگر عمل طویل و دیرپا ہے۔
کروں اختیار فطرتی عمل کو۔
ہو جائے گے تمام امراض علاج با علاج۔
رکھوں گے جب محبت اِن  کناروں سے
جنکا نام ہے۔ قدرت!
پھر پیدا ہوگا اِس تخم سے شاندار اَناج۔
جو قدرت سے ٹکراتا ہے وُہ خود برباد ہوتا ہے۔ بقاءقدرت کا حسن ہی ہے۔
(فرخ)

حوالہ جات:
(١) اعجاز الحق
نیز دیگر تمام نیلے رنگ کے جملے بھی اِنکے ہی کہے ہوئے ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عالمی اردو کانفرنس رپورٹ

Posted on 18/07/2008. Filed under: تعلیم, دنیا بھر سے, شعروادب |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

نگاہِ حسن شناس

Posted on 12/07/2008. Filed under: شعروادب |

نگاہ چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن نگاہ چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک ایسی نگاہ چاہیے۔
جو حسن شناس ہو۔
پُر فطرت، پُر اثر حسن نگاہِ حسن
آب تازہ ہوتی ہے۔
حسنِ نگاہ سے۔
فطرت کے جلوؤں کے لئے نگاہ چاہیے
نگاہ حسن شناس چاہیے۔
حسن شناس!
ہر لمحہ، ہر دم تازہ رہتا ہے۔
حسن قدرت اِنسان کے خیال کو جلا بخشتا ہے۔
اُمید کی کرن اللہ کے فطری فنگوں میں جلوہ گر ہے۔
نگاہ کرم!
نظر شناس بناتی ہے۔
نظر شناس!
حسن شناس بنتا ہے۔
حسن شناس پھر جلوے ہی جلوے دیکھتا ہے۔
تربیتِ انسان!
اِن خلوتوں، جلوتوں میں پنہاں ہے۔
حسن شناسی!
دل کی تازگی برقرار رکھتی ہے۔
ہر جلوہ چمن میں کھلا گل گلزار ہے۔
حسنِ نگاہ چاہیے۔
(فرخ)

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

تجھےعشق ہو خدا کرے

Posted on 10/07/2008. Filed under: متفرق, شعروادب |

تجھےعشق ہو خدا کرے

تجھے اس سے کوئی جدا کرے

تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائیں

تیری آنکھ پرنم رہا کرے

تو اسکی باتیں کیا کرے

تو اسکی باتیں سنا کرے

تو اسے دیکھ کر رُک پڑے

وہ نظر جھکا کر چلا پڑے

تجھے ہجر کی وہ چھڑی لگے

تو ہر پل ملن کی دعا کرے

تیرے خواب بکھریں ٹوٹ کر

تو کرچی کرچی چنا کرے

تو نگر نگر پھرا کرے

تو گلی گلی صدا کرے

تجھے عشق ہو پھر یقین ہو

تو تسبیحوں پہ اسے پڑھا کرے

میں کہوں عشق ڈھونگ ہے

تو نہیں نہیں کہا کرے

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

نقطہِ نگاہ

Posted on 05/07/2008. Filed under: رسم و رواج |

نقطہِ نگاہ نقطہ سے نہیں، نگاہ سے ہوتا ہے۔ نگاہ کا معاملہ اللہ کی جانب سے ہوتا ہے۔ منفرد زاویہِ نظر انوکھی بات سے نہیں، متاثر کن انداز سے نہیں، دِل کے خیال کی کشش کی تاثیر سے ہوتا ہے [١] ۔ انداز بیاں یہ نہیں کہ حقیقت سے پَرے ہو، انداز تو یہ ہے کہ اندھیرے میں بھی روشنی کی کرن ہو۔ منفرد نقطہِ بیان مایوسی میں جلتا ہوا چراغ ہے تو عروج میں زوال کے خطرات سے تنبیہہ بھی۔ دانشور کی نظر خامیوں کی تلاش نہیں ہوتی۔ بلکہ خامی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ علاج کا نسخہ بھی پیش نظر ہوتا ہے۔ بلا وجہ نقطوں میں نکتہ نکالنا، اُلجھے ہوئے اذہان کا اُلجھے رہنا ہے۔ دانشور اُلجھا نہیں کرتے سلجھا دیا کرتے ہیں۔ یہی دانش کی حقیقت ہے سچائی کے ہمراہ  بہتر سے بہتر کی تلاش میں غوروفکر۔

نکتہ وروں نے ہم کو سکھایا ہے، خاص بنو اور عام رہو۔
محفل محفل صحبت رکھو مگر دُنیا میں گمنام رہو۔(١)

ایک تصویر کے کئی رُخ ہوتے ہیں، ہر رُخ چہرہ کی طرح جُدا ہوتا ہے، چہرے لفظوں کی بناوٹ کی مانند مختلف الاشکال ہوتے ہیں؛ نہ صرف بناوٹی بلکہ خاصیتی و تاثیری اعتبار سے لفظ، الفاظ سے منفرد ہوتے ہیں۔ انسان کی ظاہری اور باطنی کیفیات و حالات سے آگاہی صرف وُہ ( خاص) نگاہ والا ہی جان سکتا ہے، جسکو اللہ کی جانب سے خاص بصر سے بصیرت عنائیت ہو جائے۔ ہماری حد لفظوں کی عام معنٰی کی ظاہری حد تک رہتی ہے۔ یونہی خواص کے لیئے الفاظ خاص معنی اور خاص الفاظ مخفی معنی بھی رکھتے ہیں۔ اِن پوشیدہ معنوں کا (خاص بندوں پر ) کھل جانا، اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اکثر انسان اسی کوشش میں غلط ترجمہ کر کے غلطی بھی کھا جاتا ہے۔ ’عنائیت ہو جانا‘ اور ’عنائیت کی توقع کرنا‘ یہی فرق ہے۔
”دلوں کےحال اللہ ہی جانتا ہے۔“ کسی کی نیکی اللہ کی رضا کے لیئے ہیں تو کسی کی ظاہری نمود کے لئے۔ ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہیں۔“ ہم کسی کے دِل کا حال اور نیت نہیں جانتے لہذا رائے قائم کرتے وقت احتیاط برتنی چاہیے۔ ہوسکتا ہے جو دوسروں کی نگاہ میں گناہگار ہو، وُہ اللہ کے ہاں عالی مرتبت کا مقام رکھتا ہو۔ یہ صرف خاص اشخاص اللہ کی مرضی سے جان پاتے ہیں۔ مگر یہ بھی ہر شخص کی حد کی حدود تک ہی رہتی ہے۔
کسی کی نیت کیا ہے؟ اُس نیت سےعمل کیا ہے؟ کونسا ردعمل رونما ہوگا؟ اُس عمل کی صورت میں’وقتی نتیجہ‘ اور ’حاصل نتیجہ‘  کیا ہوگا۔ ہم نہیں جان سکتے۔ بیشمار وقتی کامیابیوں کا حاصل نتیجہ ناکامی بھی ہوسکتا ہے اور زندگی بھر کی تمام ناکامیوں کا آخر نتیجہ بہت بڑی کامیابی بھی ہوسکتا ہے۔ ایجاد انسان کے تحفظ کے لیئے بنائی جاتی ہے (وقتی کامیابی)، مستقبل میں وہی ایجاد اِنسانی بقاء کے لیئے خطرہ ہو سکتی ہے (حاصل نتیجہ)۔ شادی دو خاندانوں کو قریب لاتی ہے، مگر طلاق دوری کا سبب بنتی ہے۔ کیا کوئی شادی کا انجام ناکامی سوچ سکتا ہے؟ وقتی نتیجہ کےثمرات تو ہر کوئی اپنی سمجھ بوجھ سے بیان کر سکتا ہے۔ مگر اُس معاملہ میں ہماری زندگی کی فی الحقیقت کیا تربیت ہوئی؟  کیا مقصد تھا؟ حاصل نتیجہ کیا ہوگا؟ وُہ آگاہی ہمیں اللہ وقت کے ساتھ ساتھ کرتا ہے۔ ہم نقطہ نگاہ مخصوص زاویوں سے پیش کرتے ہیں۔ ہر انداز اپنے مخصوص حالات کے تحت بڑے مضبوط دلائل، جاندار قواعد، اور عمدہ کلیات کی مدد سے پیش کرتا ہے۔ ہر زاویہ اپنی اپنی جگہ درست مگر اللہ کے معاملات کسی مخصوص دائرہ کے ماتحت نہیں۔ اُسکی مشیت کیا ہے۔ اُس راستے پر ہم اپنی رائےقائم نہیں کر سکتے۔ اللہ کی منشاء اللہ ہی سے ہے۔
ہم ہر روز مختلف مقامات سے منزل کا تعین کرتے ہیں۔ مقصد کی راہ میں سفر کا آغاز کہاں سے کرتے ہیں۔ منزل کیا سے کیا ہوگئی۔ توجہ کیا تھی۔ تبدیل ہوتے ہوتے کہاں تبدیل ہوگئی۔ کہ اس تبدل نے زندگی بدل ڈالی۔ سفر کہاں سے شروع  کیا؟  کدھر جا پہنچا، تصور بھی نہ تھا۔ یہ اللہ کی جانب سے بڑے ہی بانصیب کے نصیب کی بات ہے۔ کوئی مجازی عشق سے عشق حقیقی تک جا پہنچتا ہے۔ تو کوئی مجازی سے بربادی تک کا سفر اختیار کرتا ہے۔
ایک ہی نقطہ پر نگاہِ زاویہ مختلف ہوتے ہیں۔ اُس ہی نقطہ کے نتائج مختلف افراد کے لیئے بیک وقت متضاد بھی ہو سکتے ہیں۔ بارش ایک فصل کی آبیاری ہے تو دوسری فصل کی بربادی بھی ہوسکتی ہے۔ سانپ کا زہر انسان کی موت کا سبب تو دوسری جانب زہر زہر کا تریاق ہے۔ ایک ہی پھل کا چکھنا کسی کی حیات ہے تو دوسری جانب کسی کی موت بھی۔ کل جو نکتہِ خیال تھا آج اُس میں خامیاں نظر آتی ہیں۔ آج کا نکتہ نگاہ آئندہ مزید بہتر بھی ہوسکتا ہے۔
لیجئیے ایک کہانی سن لیں: ایک صاحب نے ایک صاحبہ سے دوران گفتگو کچھ سوال کیئے جس میں دونوں کو دورانِ شام ٹہلنا پسند تھا، فارغ اُوقات میں کتابیں پڑھنا مشغلہ تھا، اچھا لباس اور شائستہ گفتگو دونوں کو پسند تھیں۔ یکایک صاحب کے دِل میں خیال آیا کہ نوجوان لڑکا اور لڑکی ان ہی باتوں کو اپنی common understandings سمجھتے ہیں وجہ یوں ہے کہ صاحب اور صاحبہ کے مزاج بظاہر تو بڑےہ ی یکساں تھے۔ مگر حقیقتاً اطوارِ مقاصد مکمل طور پر یکسانیت کے باوجود متضاد تھے۔ کیا بات ہی! ایک ہی چیز کسی کے لیئے مزاج شناسی بنا رہی  ہےاور کہیں بگاڑ رہی ہے۔
کبھی ہم اپنی نگاہ سے دیکھتےہیں، رائےقائم کرتے ہیں۔ یونہی جب کبھی ہم دوسروں کی کیفیت اور حالات میں سےگزرتے ہیں۔ تو پھر خود کو دوسروں کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔ کوئی مجبوری کے تحت سوال کرتا ہے، تو ہم اُس سے حقارت کرتے ہیں۔ جب ہم خود مجبوری میں مانگنے پر مجبور ہوتے ہیں تو ہمار ااندازِ نگاہ بدل جاتا ہے۔ ہم حالات کے تحت اُس کو درست سمجھتے ہیں۔ یوں ہماری رائے پہ رائےقائم ہوتی ہے۔
جیسا کہ ہر کردار دوسرے کردار سے مختلف ہے۔ اسی طرح ہر کردار کی دوسرے کردار کے بارے میں رائے بھی اُسکی سمجھ کے مطابق ہے۔ جسطرح بھانت بھانت کی بولیاں ہیں، اسی طرح ہر نگاہ کے نکتہ کا اپنا اپنا نقطہ اور اپنا اپنا زاویہ ہے۔ جو سب جُدا جُدا ہیں۔ انسان ہر رشتہ کو مختلف نگاہ (رشتہ کی نگاہ) سےدیکھتا ہے۔ ایسے ہی انسان کو ہر نظر اپنے اپنے رشتہ سے دیکھتی ہے۔ یہی کائنات کا حسن ہے کہ ہر نگاہ کا اپنا ہی نظارہ ہے۔ منظر ایک ہی مگر اُسکا لطف ہر نظار (ناظر کی جمع)  کا اپنا ہی ہے۔ یونہی نقطہ نگاہ یکساں نہیں ہو سکتے جیسا کہ مشترکہ مشاہدہ مشترک نہیں ہوسکتا۔
نقطہِ نگاہ ٹھہرتی نہیں ہے۔ بلکہ یہ نظر بڑھتی ہی رہتی ہے۔ ہم زاویوں کی تلاش میں رہتے ہیں، نئے رُخ آشکار ہوتے ہیں۔ وقت کےساتھ ساتھ ایک ہی بات کے نئے نئے پہلو اُجاگر ہوتے ہیں۔ میں نے ہر عام اِنسان کی طرح حضرت یوسف کا واقعہ بھائیوں کی زیادتی ہی جانا۔ جس سےنتیجہ یہ اَخذ کیا صبر کا پھل میٹھا ہے۔ میرے بڑوں نے رہنمائی کی، کنواں میں ڈالا جانا ایک آزمائش تھی، میرے بڑوں نے اپنے بڑوں سے جانا۔ کنواں بدنصیبی نہیں تھا۔ نصیب کا آغاز تھا۔ مجھے فی الوقت یہی سمجھ آیا اللہ پر کامل بھروسہ ہی ایمان ہے۔ کچھ نکتہ جات صدیوں کی مسافت طے کر چکے ہیں اور کرتے ہی رہیں گے۔ اُنکی وسعت کا سلسلہ ہمیشہ چلتا رہےگا۔ جو مسلسل انسان کی رہنمائی کا وسیلہ بھی رہےگی۔ میرا انداز نظر بڑا ہی محدود تھا۔ رہنمائی کرنے والوں نے میری سوچ کو نیا رنگ دیا۔ زندگی کا مشاہدہ نئے راستے کھولےگا۔ یہ ایک نکتہ زندگی بھر مختلف اُوقات ہماری رہنمائی کرتا رہےگا۔ صرف ایک زندگی نہیں۔ صدیوں کی زندگیاں بیت چکی، بیشمار زندگیاں اَن گنت حالات، مختلف الاحوال صورتوں میں بسر ہو رہی ہیں۔ یونہی یہ آب رواں جاری و ساری رہےگا۔ نظریات بدل جاتے ہیں، سوچ بدل جاتی ہے، عقائد بدل جاتے ہیں، حالات بدل جاتے ہیں۔ اللہ کی رہنمائی باقی رہتی ہے۔ اللہ کی رہنمائی کامل بھروسہ ہے۔
ہرانسان کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے۔ یہی نقطہ نظر ہمارے رویہ طےکرتا ہے۔ ایک شخص کا عِلم سے متعلق نظریہ اُسکی ذاتی وقعت ہے تو کسی کی عِلم کی وسعت۔ یہی سے رویے بدلتے بھی ہیں اوربنتے بھی ہیں، اکثر بگڑتے بھی ہیں۔
آج بیشتر نقطہ نظر حاسد کی بو رکھتے ہیں۔ تبھی ہم کسی کو برداشت نہیں کرسکتے۔ ہم نقطہ نظر سے اختلاف کو ذات کا اختلاف بنا لیتے ہیں۔ ہم برے انسان کی برائی سے نہیں، انسان سے نفرت کرتے ہیں۔ نقطہ نظر بد نظر کو بے نظر کرتا ہے، بانظر کو بے نظیر بناتا ہے۔ آج نکتہ سے نقات نکلتے ہیں۔ نقاط میں سے نقاد نقطوں سے نکتے نکال کر لطف کی لطافت کو کثیف بھی کرتے ہیں۔ اور لطیف بھی۔ مایوس خیال مایوسی  پھیلاتا ہے، اُمید خوشی کا مظہر ہوتی ہے۔جیسا کوئی چہرہ خوشگوار ہوتا ہے تو کوئی پریشان حال یونہی خیال بھی ہوتے ہیں۔ آج چہروں کی اکثریت پریشان ہے۔ خیال مایوس ہے تو نقطہ نگاہ غصّوں سے بھرپور ہیں۔ فطرت پہ غوروفکر کرنے والی، اذہان میں تازگی و خوشگواری بیدار رکھتے ہیں۔ ایسے مفکر قوموں کو ذہنی خوشحالی میں رکھتے ہیں۔ نقطہ نظر کیا ہے؟ یہ انسان کے اندر کا حالات کے مطابق اظہار خیال ہے۔ نقطہ نگاہ مختلف زاویوں سے دیکھ لینے کی بات نہیں، بلکہ یہ انسان کے فہم کے ادراک اور پھر اعلیٰ ہستیوں کی سمجھ اور فکر کے درجات سے بھی ہوتی ہے۔ اسی کو نگاہ کہاجاتا ہے۔
وردھامنا مہاویر کا بیان کرنے سے متعلق یہ نظریہ تھا کہ ایک سچائی سات طرح سے بیان کی جاسکتی ہے۔
١ سیاد آستی: ہے۔
٢ سیاد ناستی : نہیں ہے۔
٣ سیاد آستی ناستی: ہے اور نہیں ہے۔
٤ سیاد آویکتیا: ناقابل بیان
٥ سیاد آستی آویکتیا: ہے اور ناقابل بیان
٦ سیاد ناستی آویکیتا: نہیں ہے اور ناقابل بیان
٧ سیاد آستی ناستی آویکتیا: ہے، نہیں ہے اور ناقابل بیان

ہر نقطہ نظر ایک خاص پیرائے کے پیرہن کے تحت ہوتا ہے۔ایک نگاہ قبول کرتی ہے۔ تو دوسری ردّ بھی کر دیتی ہے۔ میں اپنےایک مخصوص انداز سے رائے پیش کرتا ہوں۔ آپکا حق ہے مجھ سے اختلاف کرنا۔ نہ صرف اختلاف بلکہ اپنی رائے سے آگاہ بھی کر کے میری دُرست سمت میں رہنمائی بھی فرمانا۔ ہوسکتا ہے میں خیالات کے ایک مخصوص بہاؤ کے دوران آپ سے متفق نہ ہو سکوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ہی کی کوئی رہنمائی گھنٹوں، دنوں کی رہنمائی کے باوجود میں تسلیم نہ کر پا رہا ہو، مگر ایک ہی نسیم [٢]  کا جھونکا میرے خیال کو شمیم [٣]  کر جائے۔ یوں میں راہ سلیم [٤]  پر آجاؤ۔ یہی معاملہ نقطہ نگاہ سے نکتہ نظر ہے۔
نوٹ:
نقطہ (مرکز، صفر) اور نکتہ (باریک بات) میں فرق ہے۔ بہت بڑا فرق۔ ہوسکتا ہے لفظ نقطہ نظر یا نقطہ نگاہ  پر اعتراض ہو۔ مگر لغت میں مجھے نکتہ نظر اور نکتہ نگاہ نہیں ملی۔
(فرخ)

توضیح:
[١] ۔ دل سے نکلی ہوئی بات اثر رکھتی ہے۔
[٢] نسیم: ہوا،
[٣] شمیم: خوشبو
[٤] راہِ سلیم: سیدھی راہ

حوالہ جات:
(١)۔ معلوم نہیں یہ کس کا شعر ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عجیب ہے

Posted on 04/07/2008. Filed under: شعروادب |

سرشارئِ وصال حسین تر سہی مگر
جو ہجر نے عطا کی وہ لذت عجیب ہے

امید کی ہر ایک کلی نوچ لی گئی
مایوسیوں کی دل میں بغاوت عجیب ہے

خود زندگی عطا کی مگر خود ہی چھین لی
انسان پر خدا کی عنایت عجیب ہے

خوشیوں سے بچ کر رہنا غموں کی تلاش میں
اپنے ہی آپ سے یہ عداوت عجیب ہے

فرحت شہزاد

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اندھا اعتماد

Posted on 03/07/2008. Filed under: رسم و رواج |

سب سے مشکل کام اعتبار کرنا ہے اور سب سے آسان کام بھی اعتبار کرنا ہی ہے۔ اعتبار جیتنے کے لئے ہم اندھے اعتبار کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اندھا اعتبار الفاظ نہیں مانگتا بلکہ کچھ نہیں مانگتا۔ اندھا اعتبار اندھا قانون نہیں ہوتا، اندھا اعتبار دِل کی آنکھ سے ہوتا ہے۔ اعتماد احترام قائم رکھتا ہے یہی سے اعتبار کا آغاز ہوتا ہے۔ قابلِ بھروسہ کامل اعتبار سے ہوتا ہے۔
رشتہ اعتماد سے ہوتا ہے، اعتماد رشتہ سے نہیں۔ اعتماد کے لئے رشتے بنائے جاتے ہیں، ادھور ے رشتے مکمل رشتوں پر ہم اعتماد رکھتے ہی نہیں۔ ادھوری بات کے ادھیڑے رشتے، اُدھڑی سوچ کا ادھورا اعتماد ہی ہوتا ہے۔ بےاعتمادی کی فضا سے اعتماد کیا ہوتا ہے؟ بس یہ بے اعتنائی سے شروع کیا گیا بےاعتباری سے بےاعتمادی تک کا سفر ادھورا اعتماد ہوتا ہے۔ جو انسان کو اُدھیڑ کر اَدھورا بناتا ہے۔ دھیرے دھیرے اَڈیٹھ کے یہ اَدِھشٹَان انسان کو اَدویگ کر چھوڑتے ہیں۔ دُھت انسان دَھت ہو جاتا ہے۔ بس یہ ڈھیر انسان کو دھر لیتے ہیں۔ یہ سلسلے دھرائے جا رہے ہیں۔ ان سلسلوں کا شکار اَدھاری (ادھرو) لوگ دُھر، دُھر ہی ہوا  کرتے ہیں۔ ہم سے اعتماد کے نام پر اعتماد چھین لیا گیا ہے۔ دِھیر سے اَدِھیر ہوگئے۔

جن رشتوں پر بھروسا ہی نہ ہو، وُہ رشتے رشتے نہیں رہا  کرتے۔ شوہر اور بیوی کا ایک رشتہ ہے، اعتماد کا اگر اعتبار ہے تو رشتہ کا حسن قائم ہے۔ اعتماد نہ ہو تو وُہ شکستہ رشتہ دِقت زندگی کی علامت ہے۔ اَدبُھت یہ ہے کہ دوست دوست پہ اعتماد نہیں کرتا، بھائی بھائی سےنفرت کر رہا ہے۔
اعتماد کا رشتہ ہم مزاجوں میں قائم ہوا کرتا ہے۔ غیر مزاج غیر ہی ہوا  کرتے ہیں۔ گھروں میں جب مزاج یکساں نہ رہے تو فاصلے اندر ہی اندر  پیدا ہو جایا کرتے ہیں۔ بھائی بھائی کو اس لیئے تسلیم نہیں کرتا کہ وُہ غیر مزاج ہوگئے ہیں۔
افسوس صد ہا افسوس زمانے کی رفتار کےنام پر مادیت نے ہمیں کس قدر تنہا چھوڑ ڈالا ہے کہ ہمارے وجود کا رشتہ جو اعتماد سے موجود تھا وُہ بھی باقی نہیں رہا۔ شک انسان کی صلاحیتوں کو ناسور کی طرح کھا جاتا ہے۔ شکی مزاج انسان متلون مزاجی کے ساتھ ساتھ ایک ذہنی مریض کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔
ہم ہر روز اپنی الجھنوں میں رہتے ہوئے کسی نہ کسی پر اعتماد کرتے ہیں، آدھا اعتماد ………..۔ ہم مجبور ہوتے ہیں؛ ہم سائل بنتے ہیں۔ ہم سخی کے بھیس میں چھپے بخیل، سائل، کاذب لوگوں کے پاس سوال لےکر جاتے ہیں۔ تو کوئی اپنا عذر بیان کر کے، تو کوئی ٹال کر انکار کرتا ہے، چند تو ٹامک ٹوئیاں دِکھا کر ہمارے دِل توڑتے ہیں۔ جو خود مزاجاً سوال کرنے والا ہو، اُس سے کیا سوال کیا جائے۔ جسکے پاس خود کوئی حل نہیں وُہ دوسروں کا کیا حال احوال جانے۔ بات تو اقرار سے قرار تک کی ہوتی ہے۔ یہاں سے ہی ہم انسان کی فطرت اور مزاج کو جانتے ہیں۔ ہم ظاہری بھیس پر نظر تو رکھتے ہیں۔ انسان میں چھپی خصوصیات پر نظر نہیں رکھتے۔ ہم لوگوں کے اندر جھانکنا شروع کر دیں تو ہم لوگوں پر اعتمار کرنا سیکھ جائےگے۔ مگر پہلے خود ہمیں اپنےاندر جھانک لینے کی ضرورت ہے۔ پھر دوسروں میں جھانکیئے۔ میری نیت صاف ہے تو دوسرے کی نیت بھی صاف ہو جائےگی۔ اپنی صفائی کیجیئے دوسرے کے دِل کی صفائی، آپکے دِل کی صفائی سے ہو جائےگی۔ یہ سب خلوص سے ہوتا ہے۔ خلوص اعتماد سے ہوتا ہے۔ اور اعتماد قائم بھی رکھتا ہے۔
کچھ لوگ سانگ لگاتے ہیں تو کچھ سانگوں میں رہتے ہوئے ہمیشہ کے لیئے سنگ کا رنگ بنتے ہیں۔ بڑے ہی نصیب کی بات ہے۔
کچھ لوگ اکثر ہمارے ساتھ جھوٹ بول جاتے ہیں۔ مگر ہم اُنکے جھوٹ کو جھوٹ جانتے ہوئے بھی اعتماد کرتے ہیں۔ ہمارے لیئے اُنکا جھوٹ بھی سچ ہے اور سچ بھی سچ ہے۔ جھوٹ اُن سے بولا جاتا ہے، جن پہ اعتماد نہ ہو۔ جو تعلق ہمیشہ کے لیئے قائم کیا جا رہا ہو۔ اُس میں کوئی جھوٹ بول لے، فریب کر لے، آخر جب اُس کو اِک دِن آخری اُمید کی کرن کے واسطے واپس لوٹنا ہے تو وُہ واپسی دِل کےدُکھ کے ساتھ، سچائی سے بھرپور ہوگی۔ نہ صرف سچائی کی حقیقت، خلوص کی تاثیر بھی موجود ہوگی۔ اُس روز اعتماد ہوگا اندھا اعتماد، آدھا اعتماد نہیں۔ تمام سابقہ جھوٹ ایک بڑے سچ کے سامنے  بےمعنی ہو جائیں گے۔ لوگ فریب دے لیں تو بھی غرض نہیں۔ آخر اِک دن جب اعتبار کی ضرورت ہوگی۔ تو وُہ اعتماد کا درجہ اُنھی کو حاصل ہوگا جو اُنکےساتھ مخلص ہوں گے جبکہ اُن مخلصین کےساتھ بیشمار جھوٹ بولے گئے ہونگے۔ پھر بھی وُہ نہ صرف آپکو معاف کریں گے، بلکہ آپ کےساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ بھی کریں گے اور آپ پر ہمیشہ کی طرح کوئی نہ کوئی احسان بھی کر ڈالیں گے۔
کچھ لوگ ہم پہ اتنا اعتماد کرتے ہیں۔ کہ وُہ ہم پہ اپنی جان نچھاور کرتے ہیں، چند ساتھی تو ایسے ہوتے ہیں۔ جن کی بات ہم پہ اثر رکھتی  ہے۔ کہنے والا اظہار کرتا ہے اور ہم سےانکار نہیں ہو پاتا۔ بلکہ ہم میں تو بات ٹال دینے کی سکت ہی نہیں ہوتی۔ ہم یہی جانتے ہیں کہ کہنے والا ہر حال ہمارا بھلا ہی چاہتا ہے۔ یہی سلسلہ چلتے چلتے اندھا اعتماد بنتا ہے۔ دُنیا کے نزدیک یہ اندھا اعتماد ہوتا ہے، دِل کا یہ رشتہ حقیقی اعتبار بنتا ہے۔
دراصل اندھا اعتماد ادھورا بنا دیتا ہے۔ جب ایسے قابل اعتماد لوگ دُنیا سے رُخصت ہو جاتے ہیں تو ہم خود کو تنہائی میں ادھورا محسوس کرتے ہیں۔ مشکلات در مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اسی دور میں ہمارے اس ہم نواء کی گفتگو ہماری رہنما بنےگی۔ یہ محبت کی اِک نئی حسین داستان بن جائےگی۔ جو ہو سکتا ہے کہ کیفیت تک محدود رہے۔ یہی کیفیات ہماری زندگی کی مشکلات میں حل کشا ہوں گی۔ ہمیں صبر عطاء کریں گی۔ بلکہ ان کی وفات اور ہماری وفات کےدرمیان صبرو برداشت کا اِک کٹھن مرحلہ ہوگا۔ ہمیں برداشت کا درس دینے والے بعد میں ہمیں برداشت کا پریکٹیکل کروا جاتے ہیں۔ برداشت کے اس سارے سلسلے کا نام اندھا اعتماد ہے۔
جو خود کسی پر اعتماد نہیں کرتا اُسکا بھی کوئی اعتبار نہیں کرتا ۔ہمیں اعتماد کے لیئے کسی کی تلاش کی ضرورت نہیں ۔اللہ پر بھروسہ کیجئیے، آپکو اعتماد کرنے والے ملنے لگیں گے۔ بھانڈوں پہ اعتماد کرنے والوں کے بھانڈے ہی  پھوٹا کرتے ہیں۔ جس میں جذب کی کیفیت نہیں وُہ راز کا راز داں نہیں ہو سکتا۔ دوست ہمیں عمر بھر برداشت کرتا ہے۔ وُہ اسی باعث عمر بھر ہمارا رازداں بھی رہتا ہے۔
اعتماد صرف برداشت کرلینا نہیں، قول و اقرار کا ہر حال تکمیل کی منزل تک پہنچنا بھی ہے۔ قابل اعتماد شخص commited بھی ہوتا ہے۔ وُہ ہر حال اپنے قول کو نبھاتا ہے۔ محبت دِل سے، اعتماد دِل سے اور اللہ پر یقین بھی دِل سے ہوتا ہے۔
کچھ لوگ ہر اِک  پر اعتماد کرتے ہیں مگر لوگ ٹھیس پہنچا دیتے ہیں۔ چند افراد ایسے بھی ہیں جو بہت سوں پہ اپنا اعتماد قائم رکھتے ہیں۔ دوسروں پر سے بھروسہ اُٹھ جانے پر بھی اُنکی ذات پر اعتماد کا بھرم قائم رکھتے ہیں۔ وُہ دوسروں پر اپنی ذات کا اعتماد ہر حال قائم رکھتے ہیں۔ وُہ رشتوں کو اعتماد کی ڈوری سے پروتے ہیں۔
کفار مکہ اپنے وعدوں سے پھر جاتے تھے۔ مگر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر وُہ ہمیشہ اعتماد قائم رکھتے تھے۔ بطور مسلمان قوم ہمیں یہ دیکھنا چاہیے۔ ہم رسول پاک  صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل پر کتنا پورا اُترتے ہیں۔ ہم دوسروں پر اعتماد کریں یا نہ کریں۔ کم از کم ہمارے اقرباء ہماری ذات پر اعتماد رکھتے ہوں۔ یہی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا ایک عملی عمل کا معمولی سا قدم ہے۔
ہم بازاروں میں، دفاتر میں، مذہب کے نام  پر اعتماد کروا کر اپنا اعتماد رکھتے ہیں۔ حدیث شریف دُکانوں پر آویزاں کر کے ”ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں“  پھر ملاوٹ کرتے ہیں۔ اپنا اعتماد ہم کس طرح کھوتے ہیں۔ قرآن  پاک پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی گواہی دے دینا ہمارے معمول کے عمل بن چکے ہیں۔ قوم کا مزاج بنتے جا رہے ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ اُسکے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ہیں۔ تو کیا یہ عمل ہمارے ایمان کے عمل کے شایان شان ہے۔ ذرا سوچئیے، غور کیجیئے یہ ہم روزمرہ میں کیا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ رسی کی ڈھیل تو ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم پہ اللہ کی لعنت پڑ جائے۔
جب اعتماد نہ ہو تو پھر بےسمتوں میں بےسمتی سے بے بسی کے سفر ہوا  کرتے ہیں۔ زندگی اجیرن ہو جایا کرتی ہے۔ زندگی کا حسن اعتماد  سے ہے۔
(فرخ)

معنی الفاظ:
اجیرن: وُہ کام جس سےطبیعت اُکتا جائے
ادھیر: بے ہمت
دَھت: خراب حالت، عیب، لت
اَدبُھت:: تعجب، حیرت
اڈیٹھ: (انفی) جو نظر نہ آئے
دُھت: مخمور، نشےمیں چور
اَدویگ: پریشانی،گھبراہٹ
دھیر: مستقل مزاج
ادھاری: (اَنفی) وُہ شخص جسکی زندگی صرف دودھ پر ہو
بےاعتنائی: پرواہ نہ کرنا، ہمدردی نہ کرنا
سانگ: بھیس یا روپ بدل کر تماشا کرنا، رسوا کرنا
اَدِھشٹَان: اعتبار، بھروسا، تکیہ
بھانڈ: Joker، دوسروں کی برائی بیان کرنے والا، جھوٹی تعریف کرنے والا۔
کاذب: جھوٹا
ادھرو: ڈاواں ڈول، Un-stable
ٹامک ٹوئیاں: اندازے سےکام کرنا
متلون مزاجی: Confuse decision personality

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

تنہا تنہا مت سوچا کر

Posted on 01/07/2008. Filed under: متفرق |

تنہا تنہا مت سوچا کر
مر جائے گا مت سوچا کر

اپنا آپ گنوا کر تو نے
پایا ہے کیا مت سوچا کر

دھوپ میں تنہا کر جاتا ہے
کیوں یہ سایہ مت سوچا کر

پیار گھڑی بھر کا بھی بہت ہے
جھوٹا، سچا مت سوچا کر

راہ کٹھن اور دھوپ کڑی ہے
کون آئے گا مت سوچا کر

وہ بھی تجھ سے پیار کرے ہے
پھر دُکھ ہو گا مت سوچا کر

خواب حقیقت یا افسانہ
کیا ہے دنیا مت سوچا کر

موندے آنکھیں اور چلا چل
منزل رستہ مت سوچا کر

جس کی فطرت ہی ڈسنا ہو
وہ تو ڈسے گا مت سوچا کر

دنیا کے غم ساتھ ہیں تیرے
خود کو تنہا مت سوچا کر

جینا دو بھر ہو جائے گا
جاناں! اِتنا مت مت سوچا کر

مان مرے شہزاد وگرنہ
پچھتائے گا مت سوچا کر

فرحت شہزاد

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

برائیوں کی جڑ نجد یا عراق

Posted on 01/07/2008. Filed under: اسلام |

Bismillahir Rahmanir Raheem

 

Assalam o Alaikum friends

 

 

 

This article is an honest overview of the topic Najdis and Wahabis and ahadees belongs to Najad etc. where you will find thinking and proves from both parties. I hope it will help clearing some misconceptions out of our minds. I have attached the email from brother Burhanud Deen at the end so you dont have to bear the pain to find what others are saying on the topic. The decision will be yours.

 

 

 

Wassalam,

 

Shakir



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

برائیوں کی جڑ نجد یا عراق (کیا نجدی یا وہابی ایک گالی ہے؟)

 اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔

 عزیز دوستوں۔۔۔

 موضوع پر بات شروع کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ دین کا ایک اصول سمجھ لیا جائے۔ اس اصول کی وضاحت ایک مشہور کہاوت سے بہت اچھے طریقے سے ہو جاتی ہے۔

 کہاوت کچھ یوں ہے کہ چار اندھے تھے ان کو ہاتھی دیکھنے کا شوق ہوا جس پر انہوں نے اپنے کسی ساتھی سے کہا کہ جب کبھی گاؤن میں ہاتھی آئے تو ہمیں بھی بتانا ہم نے دیکھنا ہے ہاتھی کس طرح کا ہوتا ہے چنانچہ جب کبھی ہاتھی آیا تو بتانے والے نے انہیں خبر دی اور وہ چاروں ہاتھی دیکھنے باہر نکل آئے اور ٹٹولتے ہوئے ہاتھی کے پاس پہنچے ان میں سے ایک ہاتھ ہاتھی کے پیٹ پر پڑا، دوسرے کا ہاتھ ہاتھی کی ٹانگ پر پڑا، تیسرے کا ہاتھ سونڈ پر اور چھوتھے کا ہاتھ کان پر اور انہی کو اپنے ہاتھوں سے ٹٹولتے رہے جب وہ دیکھ بھال کر واپس اپنے مرکز پہچنے تو کسی نے پوچھنے پر کہ حافظ صاحب ہاتھی کس طرح کا ہوتا ہے؟؟؟۔۔۔ تو پہلا نابینا بولا کہ بس موٹا چوڑا چکلا جسم ہی جسم ہوتا ہے۔۔۔ دوسرا کہنے لگا نہیں یہ جھوٹ کہتا ہے بلکہ ہاتھی تو ایک موٹے اور اونچے ستوں کی طرح ہوتا ہے۔۔۔ تیسرا بولا یہ دونوں جھوٹے ہیں ہاتھی ایک نرم نرم گاؤن دم گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے۔۔۔ چوتھے نے چلا کر کہا معلوم ہوتا ہے ان سب کو غلطی لگی ہے کیونکہ ہاتھی تو ایک پتلے اور چوڑے پنکھے (دستی) کی طرح ہوتا ہے۔۔۔

 
یہ تو ایک لطیفہ ہی ہے مگر اس سے ایک سبق ضرور ملتا ہے اور وہ یہ کہ جب تک چشم بصیرت سے باقاعدہ اصول کے تحت کسی چیز کی پرکھ نہ کی جائے تو نتیجہ غلط نکلتا ہے۔
 

 
دین کا ایک اصول ہے کہ فیصلہ کا مدار کبھی بھی صرف ایک آیت یا حدیث کو دیکھ کر نہیں کر دینا چاہئے۔ بلکہ اگر کسی مسئلہ کا حل نکالنا ہو
  تو قرآن و حدیث میں  ساری آیات و احادیث کو مجموعی طور پر پرکھا جانا چاہئے۔  اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ شروع اسلام میں دوران نماز باتیں کرنا جائز تھا۔ لہٰذا اب بھی ہماری کتب احادیث میں ایسی احادیث موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں باتیں کی جا سکتی ہیں۔ اب اگر کوئی نادان صرف ایسی ایک حدیث کو لے کر سب کو باور کروانا شروع کر دے کہ نماز میں باتیں کرنا تو حدیث سے ثابت ہے۔  تو ایسے نادان کو یہی اصول سمجھایا جائے گا کہ کبھی بھی ایک حدیث یا آیت (جبکہ اس مسئلہ میں دیگر آیات و احادیث موجود ہوں) پر فیصلہ کا مدار نہیں رکھا جاتا بلکہ کتاب وسنت کو بحیثیت مجموعی پرکھ کر فیصلے کئے جاتے ہیں۔

 
اس تمہید کے بعد آتے ہیں اصل بات کی طرف۔
  علاقہ نجد کے بارے میں ایک مشہور حدیث ہے:

 
یخرج منھا قرن الشیطان

وہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا (جاء الحق صفحہ۲۶۴ ٢٦٤ جلد ۲ ٢)۔۔۔

 
نوٹ ضروری:
  انشاء اللہ میں ثابت شدہ آیات و احادیث کو نیلے رنگ سے لکھوں گا اور دیگر حوالہ جات یا غیر ثابت شدہ احادیث کو اس رنگ سے لکھا جائے گا۔ جبکہ لال رنگ صرف ہیڈنگ یا توجہ مبذول کروانے کی خاطر استعمال کیا جائے گا۔

 
نجد کے متعلق اس مندرجہ بالا حدیث
سے نتائج اخذ کرتے ہوئے برہان الدین بھائی فرماتے ہیں کہ:

(ان کے اصل الفاظ انگلش میں ہیں، اردو مفہوم میرا ہے)

 
""
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نجد رحمت والی جگہ نہیں نہ ہی کوئی اچھی جگہ ہے بلکہ فتنہ اور برائی کا مرکز ہے۔ نجد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا سے نکال دیا اس لئے نجد پر بدقسمتی کی مہر ثبت ہے۔ اور اس جگہ سے کسی اچھائی کی توقع کرنا، اللہ کی مشیت (ارادہ) کے خلاف جانا ہے۔"

 
یہ وہی بات ہے جو ان اندھوں نے کہی تھی۔
  ہر شخص اپنے آپ کو سچا سمجھ رہا تھا۔  لیکن بہرحال، ہمارے خیال میں یہ علماء جنہوں نے اس پروپیگنڈا کو خوب پھیلایا ہے اندھے تو نہیں کہ ان کو دوسری احادیث نظر نہ آ سکیں۔

 
  اب مندرجہ بالا پیش کردہ اصول کی رو سے یہ ضروری ہے کہ ہم حدیث ‘ قرن الشیطان’ کے متعلق اسی اصول کے مطابق تحقیقات کریں سو واضح ہوکہ اس حدیث میں دو باتیں تشریح طلب ہیں اول یہ کہ نجد سے کونسا نجد مراد ہے کیونکہ نجد بہت زیادہ ہیں دوم یہ کہ اس وقت کونسا گروہ ہے جو قرن الشیطان ہے ان دونوں باتوں کی تحقیق ضد اور تعصب کی پٹی آنکھوں سے اُتار کر ملاحظہ کیجئے واللہ یھدی من یشاء۔۔۔

 

عزیز دوستوں!۔۔۔

اب ہم اس الزام اور شبہہ کا تفصلی جائزہ لیتے ہیں کہ آیا جو پروپیگنڈا یہ احباب کر رہے ہیں، اُس میں سچائی کا عنصر کتنا اور بغض وعناد کا عنصر کتنا شامل ہے۔۔۔

 
تعداد نجود!۔

ملک عرب میں نجد کے نام سے جو علاقہ جات معروف ہیں اُنکی مختصر فہرست علامہ زبیدی نے تاج العروس شرح قاموس کی دوسری جلد کے صفحہ ٥١١ میں اور علامہ حموی نے معجم البلدان صفحہ ٢٦٥ جلد ١٩ میں دی ہے جو کہ حسب ذیل ہے۔۔۔

 
١۔ نجد الوز، ٢۔ نجد اجا، ٣۔ نجد برق، ٤۔ نجد خال، ٥۔ نجد الشری، ٦۔ نجد عضر، ٧۔ نجد العقاب، ٨۔ نجد کبکب، ٩۔ نجد مریع۔ ١٠۔ نجد الیمن، ١١۔ نجد العراق، ١٢۔ نجد الحجاز۔۔۔

جب نجد نام کے متعدد مقامات ہیں اور عراق ویمن دونوں علاقوں میں پائے جاتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس نجد کی تلاش کی جائے جس کو زبان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے (قرن الشیطان) کہا ہے تاکہ پیشنگوئی کا ظہور پورے طور پر سمجھ میں آ سکے۔

 
قرن الشیطان کونسا نجد ہے؟۔

 
اس سوال کے جواب کیلئے سب سے اول ہم حدیث نبوی کو ہی لیتے ہیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روای ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دُعا فرمائی کہ!۔

 
اللھم بارک لنا فی اللھم بارک لنا فی یمننا قالوا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی نجد قال اللھم بارک لنا فی شامنا اللھم بارک لنا فی یمننا قالوا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفی نجدنا فاظنہ قال فی اللثالثۃ ھناک الزلازل والفتین و بھا تطلع قرن الشیطان (بخاری صفحہ ١٥١ جلد ٢)۔۔۔

 
یعنی اے اللہ ہمارے لئے شام میں برکت دے، اے اللہ ہمارے لئے یمن میں برکت دے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نجد میں (بھی برکت کی دُعا کیجئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دُعا فرمائی اے اللہ ہمارے لئے شام میں برکت دے ہمارے لئے یمن میں برکت دے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے پھر فرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورہمارے نجد میں (بھی برکت کی دعا کیجئے) راوی ابن عمر۔۔۔ نے کہا میرا خیال ہے کہ تیسری مرتبہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جواب میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ ظاہرہوگا۔۔۔

 
نوٹ ضروری: صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی تمام تر مرفوع متصل احادیث بالکل صحیح ہیں اس بات پر امت کا اجماع ہے۔ لہٰذا آپ کو جس حدیث کے حوالہ میں بخاری یا مسلم یا صحیحین (جو روایت بخاری و مسلم دونوں میں آئی ہو اس کیلئے حوالہ کے طور پر صحیحین لکھا جاتا ہے) لکھا نظر آئے تو اگر حوالہ درست ہے تو حدیث کے صحیح ہونے میں شبہ نہیں کرنا چاہئے۔

 
امام بخاری رحمۃ اللہ اس حدیث کو
‘ الفین قبل المشرق’کے عنوان کے تحت لاکر حدیث میں موجود لفظ ‘وفی نجد’ کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ نجد سے مراد اس جگہ کونسی سرزمین ہے اس تشریح کیلئے امام بخاری ایک اور حدیث لائے ہیں کہ!۔

 
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ!۔

 ان سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو مستقبل المشرق یقول الاان الفتنہ ھھنا من حیث یطلع قرن الشیطان (بخاری صفحہ ١٠٥٠)۔۔۔

 
یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق کی طرف منہ کر کے یہ کہتے ہوئے سنا کہ خبردار بیشک فتنہ یہاں سے نکلے گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔۔۔

 
اس حدیث نے بات صاف کردی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشنگوئی فرماتے ہوئے مشرق کی طرف اشارہ کرتے فرمایا تھا کہ
قرن شیطان اس طرف ہے اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ سید العرب والعجم حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ نے کب اور کس جگہ کھڑے ہوکر مشرق کی طرف اشارہ کیا تھا سو اس کی تشریح کیلئے امام بخاری ایک تیسری حدیث امام سالم رحمۃ اللہ کے واسطے سے لاتے ہیں جس میں یہ الفاظ ہیں کہ!۔

انہ قال الی جنب المنبر

یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات منبر کی ایک جانب کھڑے ہوکر کہی تھی (بخاری صفحہ ١٠٥٠ جلد ٢)۔۔۔

 
اس حدیث سے یہ بات کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ
قرن الشیطان اس طرف سے نکلے گا اور مدینہ طیبہ سے عین مشرق کی طرف نجد عراق ہے جو کہ اہل الرائے کا مرکز ہے چنانچہ علامہ محمد طاہر فتنی حنفی اس حدیث کا معنٰی بیان کرتے ہوئے نجد شیطان کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ!۔

 
ھو اسم خاص لمادون الحجاز ممایلی العراق

یعنی یہ ایک خاص جگہ کا نام ہے جو حجاز کے علاوہ عراق کے ساتھ ملتی ہے ( مجمع بحار الانوار صفحہ ٦٨٠ جلد ٤)۔۔۔

 
مزید وضاحت!۔

١۔ حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ راوی ہیں کہ!۔

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللھم بارک لنا فی مدینتنا اللھم بارک لنا فی شامنا اللھم بارک لنا فی یمننا فقال لہ رجل یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فالعراق۔۔۔ فان فیھا میرتنا وفیھا حاجتنا فسکت، ثم اعاد علیہ فسکت، فقال بھا یطلع قرن الشیطان و ھنالک الزلازل والفتن (کنزالعمال صفحہ ٧٧ جلد ١٤ رقم الحدیث ٣٨٢٧٣)۔۔۔

 
یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دُعا کی اے اللہ ہمارے مدینہ کو ہمارے لئے برکت والا بنا اے اللہ ہمارے شام میں برکت عطاء فرما اے اللہ ہمارے یمن کو ہمارے لئے بابرکت بناء ایک آدمی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
عراق کیلئے بھی دُعا فرمائیے کیونکہ وہاں سے ہمارے لئے گندم اور دیگر ضروریات کا سامان مہیا ہوتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس نے یہ دیکھ کر پھر گزارش کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھر خاموش رہے پھر فرمایا کہ وہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا وہاں زلزلے اور فتنے برپا ہوں گے (یعنی میں اس کے لئے کیسے دُعا کروں وہ تو زلزلوں اور فتنوں کی سرزمین ہے)۔۔۔

 
٢۔ حضرت عبداللہ بن عمر راوی ہیں کہ!۔

صلی رسول اللہ صلاۃ الفجر ثم انفتل فاقبل علی القوم فقال، اللھم بارک لنا فی مدینتنا و بارک لنا فی مدنا و صاعناء اللھم بارک لنا فی حرمنا و بارک لنا فی شامنا و یمننا فقال رجل والعراق یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! فسکت ثم اعاد فقال اللھم بارک لنا فی مدینتنا وبارک لنا فی مدنا و صاعنا اللھم بارک لنا فی حرمنا وبارک لنا فی شامنا ویمننا فقال رجل والعراق یا رسول اللہ فسکت ثم اعاد فقال اللھم بارک لنا فی مدینتنا وبارک لنا فی مدنا و صاعنا اللھم بارک فی حرمنا وبارک لنا فی شامنا و یمننا فقال رجل والعراق یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ثم یطلع قرن الشیطان و تھیج الفتن ( ایضاء صفحہ ٧١ جلد ١٤ رقم الحدیث ٣٨٢٢٨)۔۔۔

 
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا فرمانے کے بعد متقدیوں کی طرف منہ کر کے دُعا فرمائی اے اللہ ہمارے واسطے مدینہ میں برکت دے اور ہمارے واسطے مد اور صاع میں برکت دے اے اللہ حرم میں ہمارے لئے برکت دے شام اور یمن میں برکت دے ایک شخص نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
عراق (کیلئے بھی برکت کی دُعا کیجئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر فرمایا اے اللہ ہمارے واسطے مدینہ میں برکت دے اور ہمارے واسطے مد اور صاع میں برکت دے اے اللہ حرم میں ہمارے لئے برکت دے شام اور یمن میں برکت دے (اس پر) ایک آدمی نے گزارش کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عراق (کیلئے بھی برکت کی دُعا کیجئے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر دُعا فرمائی اے اللہ ہمارے واسطے مدینہ میں برکت دے اور ہمارے واسطے مد اور صاع میں برکت دے اے اللہ حرم میں ہمارے لئے برکت دے شام اور یمن میں برکت دے (اس پر پھر) ایک آدمی نے گزارش کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عراق (کیلئے بھی برکت کی دُعا کیجئے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (میں وہاں کیلئے کیسے دُعا کروں) جبکہ وہاں شیطان کا سینگ ظاہر ہوگا اور فتنے فساد جوش ماریں گے۔۔۔

 
اس حدیث کو مکرر ملاحظہ کیجئے یہ کسی حاشیہ آرائی کی محتاج نہیں بلکہ اپنی تفسیر آپ بیان کر رہی ہے کیونکہ یہاں
نجد کی بجائے صاف عراق کا لفظ موجود ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ بخاری کی روایت میں جو نجد کا لفظ آیا ہے اس سے مراد نجد عراق ہے نجد یمن جس کو آج کل نجد سعودیہ کہتے ہیں وہ مراد نہیں یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے اس حدیث کو باب الفتین قبل المشرق کے تحت لاکر اس بات کا اشارہ کیا تھا کہ یہاں نجد سے وہ نجد مراد ہے جو مدینہ سے جانب مشرق ہے اور سب جانتے ہیں کہ مدینہ سے مشرق کی جانب عراق ہے جس میں بصرہ و کوفہ جیسے شہر آباد ہیں جو کہ اہل الرائے کے مراکز اور فتنوں کی سرزمین ہے۔۔۔

 
ایک لطیفہ!

سنتے تھے کہ بدعات و خرافات اور شرک میں مبتلا احباب کی عقل سلب کر لی جاتی ہے۔ عملی مظاہرہ برہان الدین بھائی نے اپنی ای میل میں پیش کیا ہے ۔ تیسری حدیث کے عنوان سے وہ ایک حدیث لکھتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشرق سے ایک گروہ نکلے گا جو قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا یہ گروہ پھیلتا رہے گا حتٰی کہ قیامت آ جائے گی اور آخرکار یہ لوگ دجال کے ساتھ ہوں گے ۔ ان کی بڑی نشانی یہ ہوگی کہ یہ حلقوں (گروپس) میں بیٹھیں گے۔ (الدارالسنیہ صفحہ ۵۰)

 
ملاحظہ کیجئے کہ کیسی بے علمی ہے ، بے چاروں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ مدینہ کے مشرق میں نجد حجاز نہیں بلکہ نجد عراق ہے۔ بس اپنے دلائل کا حجم بڑھانے کیلئے ایسے دلائل نقل کرتے چلے جاتے ہیں جن کا تعلق مضمون سے ہوتا ہی نہیں یا خود ان کے دعوٰی کے خلاف ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ بھی دیکھیں کہ اس حدیث میں دو باتیں اور کہی گئی ہیں کہ یہ گروہ پھیلتا رہے گا قیامت تک۔
  جب کہ آج یہی اہل بدعت سب سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں اور دن بدن یہ جہالت پھیلتی جارہی ہے، توحید کم اور شرک زیادہ ہو رہا ہے۔ سنت کو بدعات اور بدعات کو سنت یہی احباب باور کروا رہے ہیں۔ دوسری نشانی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ حلقوں میں بیٹھیں گے۔ آج ذکر و اذکار کے خود ساختہ اوراد پڑھنے والے سب سے زیادہ حلقے انہی اہل بدعت حضرات کے ہوتے ہیں۔ تو یہ حدیث تو خود ان ہی پر فٹ ہوتی ہے۔ اسے وہ اپنی نافہمی یا تعصب میں دوسروں پر چسپاں کرنے چلے ہیں۔ اللہ فہم عطا فرمائیں۔ آمین

 
مزید ملاحظہ فرمائیں کہ برہان الدین بھائی کسی
  عالم مولانامسعود عالم ندوی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ نجد کے مشرق میں ریاض کا مشہور قصبہ ہے جو کہ( شیخ محمد بن عبد الوہاب ) کے ہیڈ کوارٹر دریہ کا دارالخلافہ ہے ۔ اور یہ دونوں قصبے وادی حنیفہ کہلاتے ہیں۔

پھر انہوں نے بغیر کسی حوالے کے ایک حدیث نقل کی ہے کہ وادی حنیفہ کے لوگ سب سے زیادہ قبیح فعل والے ہیں۔ وغیرہ۔ 

اب کون ان علامہ صاحب سے پوچھے کہ حدیث میں تو یہ ہے کہ مدینہ کے مشرق میں نجد ہے وہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔ اب ہر شخص نقشہ میں دیکھ سکتا ہے کہ مدینہ کے  مشرق میں نجد عراق ہے ۔ اب یہ مجتہد اعظم ثابت تو یہ کرنا چاہتے ہیں کہ مدینہ سے مشرق میں نجد حجاز ہے اور دلیل وہ دے رہے ہیں جس میں لکھا ہے کہ نجد سے مشرق میں ریاض (حجاز) ہے۔ سبحان اللہ۔  دعوٰی اور دلیل کی مطابقت کی کیا اعلٰی مثال ہے۔

اور پھر خود ساختہ احادیث کی بھرمار کر دی کہ وادی حنیفہ کے بارے میں نام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اور یہ فرمایا۔ حوالہ کسی کا موجود نہیں سوائے مشکوٰۃ کے ایک حوالہ کے۔ جبکہ مشکوٰۃ کی تمام احادیث صحیح نہیں۔ بلکہ اس میں ضعیف بھی ہیں من گھڑت احادیث بھی ہیں۔

اسی طرح کے لچردلائل کے بل بوتے پر یہ حضرات اپنے آپ کو پکا سنی اور دوسروں کو پکا وہابی یا نجدی ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ (حالانکہ وہابی بھی گالی نہیں، جیسا کہ آگے وضاحت آ رہی ہے انشاء اللہ)

 
اب ہم ثابت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئی کے مطابق نجد عراق سے بہت سے فتنے نکلے۔ جب کہ نجد حجاز سے ایسے فتنوں کاکوئی ثبوت نہیں مہیا کیا جاسکتا۔ لہٰذا اب اس مسئلے کو شریعت سے ہٹ کر تاریخ کی روشنی میں دیکھیں۔

 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئی کہ نجد عراق سے فتنے نکلیں گے،
 پر تاریخ کی شہادت!۔

١۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والا عجمی تھا۔۔۔

٢۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد کا فتنہ عراق ہی سے اُٹھ کر مصر تک پھیلا۔۔۔

٣۔ جنگ جمل اور صفین اس سرزمین عراق پر ہوئی جس کے نتیجے میں وہ قیمتی خون بہا جس کی تلافی رہتی دنیا تک نہ ہوسکے گی اور وہ پاک نفوس ان جنگوں میں کام آئے جن کی مثال دنیا کبھی پیش نہیں کر سکتے گی۔۔۔

٤۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ یہیں شہید ہوئے۔۔۔

٥۔ خوارج، اسلام کا پہلا گروہ جہمیہ کا فتنہ جس کا موجد جہم بن صفوان تھا عراق سے نکلا معتزلہ نے بھی یہیں سے سر نکالا جس کی وجہ سے بے شمار فقہاء محدثین کو ناقابل برداشت اذیتیں سہنا پڑیں اعتزال کے بانی مبانی واصل بن عطاء اور عمرو بن عبید بھی عراقی تھے۔۔۔

٦۔ جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم امام حسین رضی اللہ عنہ کا قافلہ یہیں فرات کے کنارے لٹا۔۔۔

٧۔ شیعیت جس نے اسلام کو دو حصوں میں تقسیم کیا یہیں عراق کی پیداوار ہیں۔۔۔

٨۔ حجاج کی سفاکیاں اسی سرزمین پر ہوئی۔۔۔

٩۔ مختار بن ابوعبید نے دعویٰ نبوت عراق سے ہی کیا۔۔۔

١٠۔ ترک وتاتار کی غارت گریوں کے نتائج (جنہوں نے اسلام کی رہی سہی طاقت اور عرب و خلافت عربی کا تارتار الگ کردیا) یہیں رونما ہوئے۔۔۔

١١۔ حتی کے جنگ عظیم میں واحد اسلامی طاقت کیساتھ غداری کے نتائج بھی اولا یہیں ظاہر ہوئے اور اسی کے اثرات بعدمیں کوفہ اور اطراف میں بھی رونما ہوئے۔۔۔

١٢۔ ماضی قریب میں عبدالکریم قاسم کا فتنہ بھی عراق سے نکلا۔۔

١٣۔ ماضی قریب میں بہایت اور بابیت نے یہیں سے جنم لیا اور اسی کی بگڑی ہوئی صورت قادیانیت ہمارے سامنے ہے۔۔۔

١٤۔ عراق ایران جنگ جس نے تمام مسلمانوں کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے جس کے دور رس نتائج نکل رہے ہیں اور صدام حسین کا تازہ فتنہ جس نے عالم اسلام کو تباہ کردیا ہے یہ تمام فتنے عراق سے ہی نکلے ہیں۔۔۔

١٥۔ اور آخر میں دجال بھی اس ہی سرزمین سے نکلے گا۔۔۔(مستفاد از سیرت النبی جلد سوم صفحہ ٣٨٩ وتاریخ اسلام مؤلفہ معین الدین ندوی)۔۔۔

 
ان تمام تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے
کہ عراق ہی قرن الشیطان اور زلازل وفتن کی سرزمین ہے۔۔۔

 
حدیث نبوی کے مطابق مشرق سے دس سے زیادہ بڑے بڑے فتنے کھڑے ہونگے تفصیل آپکے سامنے ہے آپ نے ملاحظہ کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم برحق کی یہ پیشنگوئی کس قدر حقیقت و سچائی پر مبنی ہے اس کے برعکس نجد سعود سے آج تک کوئی فتنہ کھڑا نہیں ہوا بلکہ بنو تمیم کے ایک مومن کامل نے فتنہ پروروں اور ملت فروشوں کا قلع قمع کرتے ہوئے توحید و سنت کے پیغام سے قبر پرستوں کے در و دیوار ہلا دئے، ولایت کے نام پر قبروں کو مال تجارت بننے سے منع کردیا طریقت کے نام سے ملت فروشی کو ختم کردیا جب مشرکین کے کاروبار ماند پڑھ گئے تو اس مرد حق کو اس قدر بدنام کیا گیا الامان والحفیط مگر دنیا نے دیکھا کہ اس کی دعوت حجاز و تہامہ یمن و شام تک عام ہوگئی اور اسی کی دعوت وجہاد ہی کے نتیجئے میں حرمین شریفین کو انکاپرانا وقار مل سکا اور ان کی حقیقی حرمت وعزت بحال ہوسکی۔۔۔

 
آہ رحمت کو زحمت کہنے والے تجدید واحیائے دین کو فتنہ بتانے والے کبھی اپنے گریبانوں میں منہ ڈالتے تو پرانی تاریخ کو دیکھتے شریف حسین کے زمانہ کے حالات کا جائزہ لیتے تو انہیں معلوم ہوتاکہ خاص مدینہ اور مکہ مکرمہ میں حالات انتہائی مخدوش نظم و ضبط کا فقدان اور خطرات کے بادل ہر وقت سر پر منڈلاتے رہتے تھے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے راستے میں حاجیوں کے قتل تک کی نوبت پہنچ جاتی تھی اور یہ راستہ اس قدر پرخطر اور اندوہ گین تھا کہ حاجی مسلح قافلوں کی صورت میں اپنے کو خطرات سے محفوظ نہیں پاتے تھے آج سے ساٹھ سال پیشتر کی تاریخ حاجیوں پر ظلم و زیادتیوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے پاک وہند کے نامور تاریخ دان مولانا عبدالرحمٰن شوق امرتسری لکھتے ہیں کہ!۔۔۔

 
حجاز کے حکمران کو شریف مکہ کہتے تھے لیکن وہ ملکی انتظام کے قیام و انصرام میں ناکام رہا لوٹ مار کی گرم بازاری تھی بدوی ڈاکوؤں نے حاجیوں پر چیرہ دستی کر کے ناک میں دم کر رکھا تھا حکومت ترکی یہ سب کچھ کانوں سے سنتی اور آنکھوں سے دیکھتی تھی لیکن جب کھبی وہ شریف کی سرکوبی کا ارادہ کرتی وہی احترام و پاکیزگی کا خیال اس کا دامن تھام لیتا اس رواداری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ١٩١٥ء میں شریف حسین نے بغاوت کا علم بلند کر دیا جس کے نتیجہ اس صورت میں رونما ہوا کہ حجاز میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہنے لگیں ١٩١٦ء میں شریف کی تقریب تاج پوشی سنائی گئی اور اسے خلعت ملوکیت سے سرفراز کیا گیا ١٩١٨ء میں تسخیر عرب پایہ تکمیل کو پہنچ گیا اس کے بعد حجاز میں شریفی حکومت کا شادیانہ اقتدار پورے زور سے بجنے لگا ١٩١٩ء میں معاہدہ سیورے نے ترکی کا تختہ اُلٹ دیا تو شریف کے گھر ساغر اطمعنان میں زہر گھولتے رہے مگر جنگ عظیم سے پائی ہوئی قوت کی پھونکیں بغاوت کے ان شعلوں کو گل کرتی رہیں بدویوں کی پیدا کی ہوئی شورش کا مقابلہ تو وہ آسانی سے کرتا رہا لیکن نجد یمن کی مخالفانہ بساط آرائی کے آگے اس کی بازی مات کھا گئی ١٩٢٤ء میں سلطان ابن سعود نے شریف کے ایوان حکومت کو پیوند زمین کردیا۔۔۔تاریخ اسلام صفحہ ٨٧٦ حصہ پنجم سلطان عبدالعزیز بن سعود نے ملک الحجاز بنتے ہی ملک کے گوشے گوشے میں امن وآسائش کا مینہ برسادیا (ایضا صفحہ٨٧٩ حصہ پنجم)۔۔۔

 
عراق حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں!۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روای ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ!۔

 
دخل ابلیس العراق فقضی فیہ حاجتہ ثم دخل الشام فطر دوہ ثم دخل مصر دخل فیھا وفرخ وبسط عبقریہ طبرانی کبیر صفحہ ٢٦٢ جلد ١٢) رقم الحدیث ١٣٢٩٠، الطبرانی اوسط صفحہ ٢٢١ جلد ٧ رقم الحدیث ٦٤٢ کنز العمال صفحہ ١٣٨ جلد ١٢ رقم الحدیث ٣٥١٥٤ ودرمنثور صفحہ ١١٢ جلد ٣۔۔۔

 
شیطان عراق میں داخل ہوا تو وہاں اپنی ضرورت پوری کی پھر شام گیا تو وہاں کے لوگوں نے اسے بھگا دیا پھر مصر گیا اور وہاں خوب انڈے بچے دیئے اور وہاں خوب مزے سے رہ بسا۔۔۔

 
علامہ ھیثمی فرماتے ہیں کہ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں البتہ اس کی سند میں انقطاع ہے کیونکہ یعقوب کی ابن عمر سے ملاقات وسماع ثابت نہیں (مجموعہ الزوائد صفحہ ٦٣ جلد ١٠ باب فی ماجاء فضل الشام)۔۔۔

یعنی یہ حدیث ہمارے نزدیک ضعیف ہے۔ لیکن

راقم عرض کرتا ہے کہ گویہ روایت منقطع ہے مگر بریلوی احباب کے نزدیک منقطع حجت ہے چنانچہ احمد رضا خان صاحب بریلوی ارشاد فرماتے ہیں کہ!۔

ہمارے نزدیک مرسل ہر اس حدیث کوکہتے ہیں جس کی سند متصل نہ ہو اور اس کے اقسام میں فرق کرنا اور ان کے جدا جدا نام مرسل و منقطع و مقطوع و مفعل رکھنا یہ محدثین کی ایک نری اصطلاح ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اس میں کتنی صورتیں ہوتی ہیں رہا حکم وہ ہمارے نزدیک ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ ثقہ اگر کوئی حدیث مرسل لائے تو مقبول ہے ( کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الداھم مندرجہ فتاوٰی رضویہ صفحہ ١٧٤ جلد ٧)۔۔۔

 
یعنی خان صاحب کی اس عبارت سے ثابت ہوا کہ وہ منقطع حدیث کو مرسل حدیث ہی کی ایک قسم قرار دیتے تھے اور اگر بیان کرنے والا ثقہ ہوتو وہ مقبول ہوتی ہے اور اس حدیث میں امام یعقوب بن عتیہ ثقہ ہیں (تہذیب صفحہ ٣٩٢ جلد ١١)۔۔۔

 

الغرض یہ روایت بریلوی علماء کے نزدیک صحیح و معتبر ہے آئیے اس سلسلہ میں دوسری حدیث ملاحظہ کریں۔۔۔

 
امام یسیر بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ!۔

دخلت علی سھل بن حفیف فقلت حدثنی ماسمعت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فی الحروریہ؟۔۔۔ قال احدثک ماسمعت لاازیدک علیہ سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یذکر قوما یخرجون من ھھنا واشاربیدہ نحو العراق یقران القرآن لایجاوز حنا جرھم یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیہ قلت ھل ذکر لھم علامۃ؟۔۔۔ قال ھذا ما سمعت لاایزیدک علیہ (مسند احمد صٍفحہ ٤٨٦ جلد ٣ وتہذیب مسند صفحہ ٣٦ جلد ٤)۔۔۔

 
میں حضرت سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے عرض کی کہ مجھ سے وہ بیان کیجئے جو آپ نے بنی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے انہوں نے کہا کہ (شاید تم) حرویہ (کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو) سو ان کے (متعلق) میں تم سے اپنی طرف سے بڑھائے بغیر بتاتا ہوں کہ میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کا تذکرہ کر رہے تھے جو ادھر سے نکلے گی یہ کہہ کر آپ نے عراق کی طرف اشارہ کیا (اور فرمایا کہ) جو قرآن پڑھیں گے ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر (راوی حدیث بسر) کہتے ہیں کہ میں کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کچھ نشانی بھی بتائی ہے وہ (سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ) بولے میں نے جو کچھ سنا تھا اس سے زیادہ میں کچھ نہیں بتاسکتا۔۔۔

 
معلوم ہوا کہ یقرون القرآن لایجاوز تراقیھم سے جو اہل بدعت حضرات اہل حق کو مطعون کرتے ہیں وہ سراسر جھوٹ اور فریب اور ان کی مکاری وعیاری ہے اور اس کے مصداق ان کے عراقی بھائی خوارج ہیں اور ہمارے بجائے اہل بدعت اس حدیث کے مصداق ہیں کیونکہ انکا تعلق عراق کے شہر کوفہ سے ہے۔۔۔

 
بصورت تسلیم!۔

اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ نجد قرن الشیطان اور ھناک الزلازل والفتن سے مراد وہی نجد ہے جسے آج نجد سعود کہا جاتا ہے جس سے توحید کی دعوت پھیلی اور حرمین شریفین میں امن و امان قائم ہوا کیا اتنی سی بات سے ہی دعوت توحید وسنت دینے والے یکسر غلط ٹھہریں گے اور ان کو گمراہ اور ناقابل اعتبار ثابت کرنے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ نجد کے رہنے والے ہیں؟؟؟۔۔۔

 
ایک سوال!

یہ ایک سوال ہے جس کا جواب بہت غور طلب ہے کہ آیا کسی شخص کو زمین بھی مقدس ومحترم بناتی ہے؟؟؟۔۔۔ یا کہ انسان کو اس کے اعمال ہی محترم و مقدس بناتے ہیں؟؟؟۔۔۔ جب اس کے جواب کیلئے ہم قرآن پاک میں غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ!۔

 
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ

اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے (الحجرات۔١٣)۔۔۔ترجمہ احمد رضا خان ۔۔۔

 
اس آیت کریمہ نے بات صاف کردی کہ انسان کی شخصیت محترم و مقدس ہونے میں کسی علاقہ وزمین کا دخل نہیں ہوتا بلکہ شرافت کیلئے عمل صالحہ کی ضرورت ہے سیدالعرب والعجم حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایک صحابی کے سوال کرنے پر ارشاد فرمایا کہ!۔۔

 
من اکرم الناس؟۔ قال اتقاھم۔۔۔

یعنی اللہ تعالٰی کے ہاں پرہیزگار لوگ سب سے زیادہ مرتبہ والے ہیں (بخاری صفحہ ٤٧٣ جلد ١ کتاب الانبیاء باب واتخذاللہ ابراھیم خلیلا و مسلم صفحہ ٢٦٨ جلد ٢ فی الفضائل باب من فضائل یوسف عن ابی ہریرہ رضی اللہ)۔۔۔

 
اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ کسی جگہ کے مقدس ہونے سے وہاں کا مقیم بھی مقدس و محترم بن جاتا ہے تو یہ بھی جاننا پڑے گا کہ ابو جہل اور ابولہب امیہ بن خلف وغیرہ کفارمکہ بھی مقدس ومحترم تھے نعوذ باللہ کیونکہ ارض حرم روز اول سے ہی پاکیزہ ومبارک اور عزت والی جگہ ہے ارشاد ہوتا ہے کہ!۔

 
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ

بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا وہی ہے جو مکہّ میں ہے، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لئے (مرکزِ) ہدایت ہے (ال عمران۔٩٦) احمد رضا خان

 
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان ظالم کافروں نے اس مقدس زمین میں سب سے زیادہ مقدس شخص کو ہجرت پر مجبور کر دیا تھا مگر خود کافروں کو مکہ کی شرافت محترم نہ بنا سکی پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں قدم مبارک رکھا تو یہ زمین ارض مقدس کہلائی (جیسا کہ حدیث میں اس کی صراحت ہے) مگر عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین اور اس کا گروہ اسی مدینہ کے باشندے تھے لیکن مدینہ ان کے لئے تقدس کی ضمانت نہ ہوسکا حرمین شریفین کی عزت و حرمت سے نعوذ باللہ انکار مقصود نہیں۔۔۔ بتانا یہ ہے کہ صرف حرمین کی حرمت اس کے باشندے کو شرافت کی ضمانت نہیں دے سکتی مصر و شام نص قرآنی سے ارض مقدس ہیں۔۔۔

 
الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ

مسجدِ اقصٰی تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے (سُورة الْإِسْرَاء۔ ١)۔۔۔

 
مگر اس کی وجہ سے وہاں کے باشندے کو علی الطلاق شرف تقدس کا سرٹیفیکٹ نہیں دیا جاسکتا کہ اس ارض مقدس میں یہود جیسی مغضوب و ملعون قوم آباد ہے اور مسلمانوں پر ظلم وستم کی انتہا کر رہی ہے۔۔۔

 
جس طرح کوئی زمین اپنی عظمت و حرمت کے باوجود کسی قوم یا شخص کو عظمت و حرمت عطا نہیں کرسکتی اسی طرح کوئی قوم یا شخص کسی مغضوب و مقہور جگہ پر رہنے سے غلط نہیں ہوسکتا۔۔۔

 
خلاصہ کلام!۔

اگر نجدی موحدین یا ان کو اچھا جاننے والوں کو صرف اس وجہ سے گمراہ بے دین ٹھہرایا جاتا ہے کہ وہ نجد سے تعلق رکھتے ہیں تو سراسر دھوکہ ہے اگر یہ اصول درست تسلیم کر لیا جائے تو حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے تلامذہ مقلدین پر بھی عراقی ہونے کی وجہ سے اس قسم کا فتوٰی لگایا جاسکتا ہے مگر ہم عرض کرتے ہیں کہ یہ اصؤل ہی لچر ہے اور اس کا قائل قرآن و حدیث سے محض نابلد ہے کیونکہ

 
 
ایک نجدی کو جنت کی خوشخبری زبان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے:

 ایک نجدی کو تو حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی خوش خبری دی ہے چنانچہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ روای ہیں کہ!۔

 
جاء رجل الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اھل نجد ثائر الراس تسمع دوی صوتہ ولانفقہ مایقول حتی دنا من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاذا ھویسال عن الاسلام فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمس صلوات فی الیوم واللیۃ فقال ھل علی غیرھن فقال لالا ان تطوع قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصیام شھر رمضان فقال ھل علی غیرہ قال لالا اتطوع قال وذکر لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الزکوٰۃ فقال ھل علی غیرھا فقال لالا ان تطوع قال فادبر الرجل وھو یقول اللہ لازید علی ھذا ولا انقص منہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افلح الرجل ان صدیق۔

 
ایک آدمی
نجد کا رہنے والا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے سر کے بال پراگندہ تھے اس کی آواز میں گنگناہٹ تھی ہم سنتے تھے لیکن سمجھتے نہ تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آگیا ناگہاں وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ نمازین دن رات میں اس نے کہا انکے علاوہ بھی کچھ مجھ پر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں مگر یہ کہ تو نفل پڑھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا اس نے کہا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں مگر یہ کہ و نفلی روزے رکھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کا ذکر کیا اس نے کہا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ ہے؟؟؟۔۔۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر یہ کہ تو نفلی صدقہ کرے۔۔۔

 
راوی حضرت طلحہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ اس آدمی نے پیٹھ پھیری اور وہ کہتے جارہا تھا کہ اللہ کی قسم ہے کہ میں اس پر زیادہ نہ کروں گا اور نہ کم کروں گا ( یہ سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا) اس نے فلاح پائی اگر سچا ہے (بخاری صفحہ ١١ جلد ١ و مسلم صفحہ ٣٠ جلد١)۔۔۔

 
وہ لوگ جو صرف لفظ نجدی کو دیکھ کر ہی آگ بگولہ ہوجاتے ہیں وہ خود ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ ایک نجدی کو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا میں ہی جنت کی بشارت سنائی ہے۔۔۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا مطلب ہے تعریف کیا ہوا۔ جب مشرکین مکہ نعوذ باللہ انہیں برا بھلا کہتے تھے تو چونکہ وہ عربی دان تھے اور مطلب سمجھتے تھے اس لئے انہیں بڑا عجیب لگتا تھا کہ یوں کہیں کہ تعریف کیا ہوا ایسا ہے اور ویسا ہے۔  لہٰذا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاذ اللہ خود ساختہ نام گھڑے اور پھر ان خود ساختہ ناموں سے انہیں پکار کر برا بھلا کہتے تھے۔ اس حسن تدبیر سے اللہ تعالٰی نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نامی کو مشرکین سے بچا لیا۔  بعینہ اسی طرح آج کچھ حضرات ہمارا نام خود ساختہ وہابی رکھتے ہیں کبھی نجدی کہتے ہیں۔ اپنی طرف سے تو وہ گالی دیتے ہیں لیکن اللہ تعالٰی نے ہمیں ان کے شر سے بچا رکھا ہے الحمدللہ۔ خود ہی وہابی نجدیوں کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں۔ حالانکہ نہ تو ہم شیخ محمد بن عبد الوہاب کے پیروکار یا ان کے مقلد ہیں، نہ ان کی تحریک سے کوئی تعلق ہے۔ نہ ہی آپ کبھی ہماری کتابوں میں ان کا کوئی حوالہ دیکھیں گے۔ کیونکہ ہمارے نزدیک دین اسلام صرف قرآن اور صحیح و حسن احادیث میں محفوظ ہے۔ ہم ہر مسئلہ کو کتاب وسنت ہی سے لیتے ہیں نہ کہ کسی غیر معصوم شخصیت سے۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہمیں شیخ محمد بن عبد الوہاب جو کہ نجد حجاز کے تھے، ان سے منسوب بھی کر دیا جائے تب بھی ہمارا نام وہابی نہیں بنتا بلکہ محمدی بنتا ہے۔  کیونکہ عبد الوہاب تو ان کے والد کا نام تھا۔ ان کا اپنا اصلی نام تو محمد تھا۔  ایں چہ بو العجبی است

 

ایک لطیفہ!

 
وہابی لفظ کو بدنام تو اس طرح سے کیا گیا ہے کہ جیسے یہ کوئی بہت بڑی گالی ہے، آج اگر کوئی تیجہ ، جمعرات یا ختم وغیرہ جیسی بدعات سے بچتا ہے تو لوگ اسے طعنہ کے طور پر وہابی کہتے ہیں
۔ حالانکہ وہاب تو اللہ کا ایک نام ہے۔ وہابی کا مطلب ہوا اللہ والے۔ 

دیکھئے کس طرح اللہ میاں نے جماعت حقہ کا دفاع اپنے حسن تدبیر سے کر دیا ہے کہ ہمارے مخالفین کی عقل پر ایسے پردے پڑے ہیں کہ ان کو سجھائی نہیں دیتا کہ وہ مخالفت میں بھی ہمارے لئے دعا ہی کر رہے ہوتے ہیں! 

 

 

لب لباب!

گزارشات کا خلاصہ فقط اتنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں جس نجد کو شیطان کا سینگ اور فتنہ کی جگہ قرار دیا ہے وہ نجد حجاز نہیں بلکہ نجد عراق ہے۔ اور یہ بات دیگر احادیث سے پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے۔ نیز اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی اس نجد کے متعلق ہے (جس سے شیخ محمد بن عبدالوہاب کا تعلق ہے) تو تب بھی اس پیشنگوئی میں ہر فرد بشر داخل نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ایک خاص گروہ ہے جو دین میں فتنہ اور بدعات کا مرتکب ہوگا جس سے کوئی ایسا فعل قبیح سرزد ہوگا جس کی تلافی ناممکن ہوگی اور امت اسلام کو اس سے ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب کا دامن ان تمام چیزوں سے پاک ہے اور شیخ کا کوئی ایسا عقیدہ ثابت نہیں کیا جا سکتا جو کہ غیر اسلامی یہاں چونکہ چنانچہ اور فلاں علامہ صاحب نے یوں لکھا اور فلاں نے اس طرح کہا ہے سے بات نہیں بنے گی بلکہ یہاں علماء آل سعود کی لکھی ہوئی کتب سے دلائل کے نقل کرنے کی ضرورت ہے کہنے کو تو شیطان رشدی ملعون نے حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کچھ نہیں کہا مگر مثل مشہور ہے چاند پر تھوکنے والے کے منہ پر آتا ہے۔۔۔

 

والسلام۔۔۔

وما علینا الاالبلاغ۔۔۔

Read Full Post | Make a Comment ( 8 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...