برائیوں کی جڑ نجد یا عراق

Posted on 01/07/2008. Filed under: اسلام |

Bismillahir Rahmanir Raheem

 

Assalam o Alaikum friends

 

 

 

This article is an honest overview of the topic Najdis and Wahabis and ahadees belongs to Najad etc. where you will find thinking and proves from both parties. I hope it will help clearing some misconceptions out of our minds. I have attached the email from brother Burhanud Deen at the end so you dont have to bear the pain to find what others are saying on the topic. The decision will be yours.

 

 

 

Wassalam,

 

Shakir



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

برائیوں کی جڑ نجد یا عراق (کیا نجدی یا وہابی ایک گالی ہے؟)

 اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔

 عزیز دوستوں۔۔۔

 موضوع پر بات شروع کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ دین کا ایک اصول سمجھ لیا جائے۔ اس اصول کی وضاحت ایک مشہور کہاوت سے بہت اچھے طریقے سے ہو جاتی ہے۔

 کہاوت کچھ یوں ہے کہ چار اندھے تھے ان کو ہاتھی دیکھنے کا شوق ہوا جس پر انہوں نے اپنے کسی ساتھی سے کہا کہ جب کبھی گاؤن میں ہاتھی آئے تو ہمیں بھی بتانا ہم نے دیکھنا ہے ہاتھی کس طرح کا ہوتا ہے چنانچہ جب کبھی ہاتھی آیا تو بتانے والے نے انہیں خبر دی اور وہ چاروں ہاتھی دیکھنے باہر نکل آئے اور ٹٹولتے ہوئے ہاتھی کے پاس پہنچے ان میں سے ایک ہاتھ ہاتھی کے پیٹ پر پڑا، دوسرے کا ہاتھ ہاتھی کی ٹانگ پر پڑا، تیسرے کا ہاتھ سونڈ پر اور چھوتھے کا ہاتھ کان پر اور انہی کو اپنے ہاتھوں سے ٹٹولتے رہے جب وہ دیکھ بھال کر واپس اپنے مرکز پہچنے تو کسی نے پوچھنے پر کہ حافظ صاحب ہاتھی کس طرح کا ہوتا ہے؟؟؟۔۔۔ تو پہلا نابینا بولا کہ بس موٹا چوڑا چکلا جسم ہی جسم ہوتا ہے۔۔۔ دوسرا کہنے لگا نہیں یہ جھوٹ کہتا ہے بلکہ ہاتھی تو ایک موٹے اور اونچے ستوں کی طرح ہوتا ہے۔۔۔ تیسرا بولا یہ دونوں جھوٹے ہیں ہاتھی ایک نرم نرم گاؤن دم گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے۔۔۔ چوتھے نے چلا کر کہا معلوم ہوتا ہے ان سب کو غلطی لگی ہے کیونکہ ہاتھی تو ایک پتلے اور چوڑے پنکھے (دستی) کی طرح ہوتا ہے۔۔۔

 
یہ تو ایک لطیفہ ہی ہے مگر اس سے ایک سبق ضرور ملتا ہے اور وہ یہ کہ جب تک چشم بصیرت سے باقاعدہ اصول کے تحت کسی چیز کی پرکھ نہ کی جائے تو نتیجہ غلط نکلتا ہے۔
 

 
دین کا ایک اصول ہے کہ فیصلہ کا مدار کبھی بھی صرف ایک آیت یا حدیث کو دیکھ کر نہیں کر دینا چاہئے۔ بلکہ اگر کسی مسئلہ کا حل نکالنا ہو
  تو قرآن و حدیث میں  ساری آیات و احادیث کو مجموعی طور پر پرکھا جانا چاہئے۔  اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ شروع اسلام میں دوران نماز باتیں کرنا جائز تھا۔ لہٰذا اب بھی ہماری کتب احادیث میں ایسی احادیث موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں باتیں کی جا سکتی ہیں۔ اب اگر کوئی نادان صرف ایسی ایک حدیث کو لے کر سب کو باور کروانا شروع کر دے کہ نماز میں باتیں کرنا تو حدیث سے ثابت ہے۔  تو ایسے نادان کو یہی اصول سمجھایا جائے گا کہ کبھی بھی ایک حدیث یا آیت (جبکہ اس مسئلہ میں دیگر آیات و احادیث موجود ہوں) پر فیصلہ کا مدار نہیں رکھا جاتا بلکہ کتاب وسنت کو بحیثیت مجموعی پرکھ کر فیصلے کئے جاتے ہیں۔

 
اس تمہید کے بعد آتے ہیں اصل بات کی طرف۔
  علاقہ نجد کے بارے میں ایک مشہور حدیث ہے:

 
یخرج منھا قرن الشیطان

وہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا (جاء الحق صفحہ۲۶۴ ٢٦٤ جلد ۲ ٢)۔۔۔

 
نوٹ ضروری:
  انشاء اللہ میں ثابت شدہ آیات و احادیث کو نیلے رنگ سے لکھوں گا اور دیگر حوالہ جات یا غیر ثابت شدہ احادیث کو اس رنگ سے لکھا جائے گا۔ جبکہ لال رنگ صرف ہیڈنگ یا توجہ مبذول کروانے کی خاطر استعمال کیا جائے گا۔

 
نجد کے متعلق اس مندرجہ بالا حدیث
سے نتائج اخذ کرتے ہوئے برہان الدین بھائی فرماتے ہیں کہ:

(ان کے اصل الفاظ انگلش میں ہیں، اردو مفہوم میرا ہے)

 
""
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نجد رحمت والی جگہ نہیں نہ ہی کوئی اچھی جگہ ہے بلکہ فتنہ اور برائی کا مرکز ہے۔ نجد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا سے نکال دیا اس لئے نجد پر بدقسمتی کی مہر ثبت ہے۔ اور اس جگہ سے کسی اچھائی کی توقع کرنا، اللہ کی مشیت (ارادہ) کے خلاف جانا ہے۔"

 
یہ وہی بات ہے جو ان اندھوں نے کہی تھی۔
  ہر شخص اپنے آپ کو سچا سمجھ رہا تھا۔  لیکن بہرحال، ہمارے خیال میں یہ علماء جنہوں نے اس پروپیگنڈا کو خوب پھیلایا ہے اندھے تو نہیں کہ ان کو دوسری احادیث نظر نہ آ سکیں۔

 
  اب مندرجہ بالا پیش کردہ اصول کی رو سے یہ ضروری ہے کہ ہم حدیث ‘ قرن الشیطان’ کے متعلق اسی اصول کے مطابق تحقیقات کریں سو واضح ہوکہ اس حدیث میں دو باتیں تشریح طلب ہیں اول یہ کہ نجد سے کونسا نجد مراد ہے کیونکہ نجد بہت زیادہ ہیں دوم یہ کہ اس وقت کونسا گروہ ہے جو قرن الشیطان ہے ان دونوں باتوں کی تحقیق ضد اور تعصب کی پٹی آنکھوں سے اُتار کر ملاحظہ کیجئے واللہ یھدی من یشاء۔۔۔

 

عزیز دوستوں!۔۔۔

اب ہم اس الزام اور شبہہ کا تفصلی جائزہ لیتے ہیں کہ آیا جو پروپیگنڈا یہ احباب کر رہے ہیں، اُس میں سچائی کا عنصر کتنا اور بغض وعناد کا عنصر کتنا شامل ہے۔۔۔

 
تعداد نجود!۔

ملک عرب میں نجد کے نام سے جو علاقہ جات معروف ہیں اُنکی مختصر فہرست علامہ زبیدی نے تاج العروس شرح قاموس کی دوسری جلد کے صفحہ ٥١١ میں اور علامہ حموی نے معجم البلدان صفحہ ٢٦٥ جلد ١٩ میں دی ہے جو کہ حسب ذیل ہے۔۔۔

 
١۔ نجد الوز، ٢۔ نجد اجا، ٣۔ نجد برق، ٤۔ نجد خال، ٥۔ نجد الشری، ٦۔ نجد عضر، ٧۔ نجد العقاب، ٨۔ نجد کبکب، ٩۔ نجد مریع۔ ١٠۔ نجد الیمن، ١١۔ نجد العراق، ١٢۔ نجد الحجاز۔۔۔

جب نجد نام کے متعدد مقامات ہیں اور عراق ویمن دونوں علاقوں میں پائے جاتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس نجد کی تلاش کی جائے جس کو زبان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے (قرن الشیطان) کہا ہے تاکہ پیشنگوئی کا ظہور پورے طور پر سمجھ میں آ سکے۔

 
قرن الشیطان کونسا نجد ہے؟۔

 
اس سوال کے جواب کیلئے سب سے اول ہم حدیث نبوی کو ہی لیتے ہیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روای ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دُعا فرمائی کہ!۔

 
اللھم بارک لنا فی اللھم بارک لنا فی یمننا قالوا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی نجد قال اللھم بارک لنا فی شامنا اللھم بارک لنا فی یمننا قالوا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفی نجدنا فاظنہ قال فی اللثالثۃ ھناک الزلازل والفتین و بھا تطلع قرن الشیطان (بخاری صفحہ ١٥١ جلد ٢)۔۔۔

 
یعنی اے اللہ ہمارے لئے شام میں برکت دے، اے اللہ ہمارے لئے یمن میں برکت دے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نجد میں (بھی برکت کی دُعا کیجئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دُعا فرمائی اے اللہ ہمارے لئے شام میں برکت دے ہمارے لئے یمن میں برکت دے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے پھر فرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورہمارے نجد میں (بھی برکت کی دعا کیجئے) راوی ابن عمر۔۔۔ نے کہا میرا خیال ہے کہ تیسری مرتبہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جواب میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ ظاہرہوگا۔۔۔

 
نوٹ ضروری: صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی تمام تر مرفوع متصل احادیث بالکل صحیح ہیں اس بات پر امت کا اجماع ہے۔ لہٰذا آپ کو جس حدیث کے حوالہ میں بخاری یا مسلم یا صحیحین (جو روایت بخاری و مسلم دونوں میں آئی ہو اس کیلئے حوالہ کے طور پر صحیحین لکھا جاتا ہے) لکھا نظر آئے تو اگر حوالہ درست ہے تو حدیث کے صحیح ہونے میں شبہ نہیں کرنا چاہئے۔

 
امام بخاری رحمۃ اللہ اس حدیث کو
‘ الفین قبل المشرق’کے عنوان کے تحت لاکر حدیث میں موجود لفظ ‘وفی نجد’ کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ نجد سے مراد اس جگہ کونسی سرزمین ہے اس تشریح کیلئے امام بخاری ایک اور حدیث لائے ہیں کہ!۔

 
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ!۔

 ان سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو مستقبل المشرق یقول الاان الفتنہ ھھنا من حیث یطلع قرن الشیطان (بخاری صفحہ ١٠٥٠)۔۔۔

 
یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق کی طرف منہ کر کے یہ کہتے ہوئے سنا کہ خبردار بیشک فتنہ یہاں سے نکلے گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔۔۔

 
اس حدیث نے بات صاف کردی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشنگوئی فرماتے ہوئے مشرق کی طرف اشارہ کرتے فرمایا تھا کہ
قرن شیطان اس طرف ہے اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ سید العرب والعجم حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ نے کب اور کس جگہ کھڑے ہوکر مشرق کی طرف اشارہ کیا تھا سو اس کی تشریح کیلئے امام بخاری ایک تیسری حدیث امام سالم رحمۃ اللہ کے واسطے سے لاتے ہیں جس میں یہ الفاظ ہیں کہ!۔

انہ قال الی جنب المنبر

یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات منبر کی ایک جانب کھڑے ہوکر کہی تھی (بخاری صفحہ ١٠٥٠ جلد ٢)۔۔۔

 
اس حدیث سے یہ بات کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ
قرن الشیطان اس طرف سے نکلے گا اور مدینہ طیبہ سے عین مشرق کی طرف نجد عراق ہے جو کہ اہل الرائے کا مرکز ہے چنانچہ علامہ محمد طاہر فتنی حنفی اس حدیث کا معنٰی بیان کرتے ہوئے نجد شیطان کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ!۔

 
ھو اسم خاص لمادون الحجاز ممایلی العراق

یعنی یہ ایک خاص جگہ کا نام ہے جو حجاز کے علاوہ عراق کے ساتھ ملتی ہے ( مجمع بحار الانوار صفحہ ٦٨٠ جلد ٤)۔۔۔

 
مزید وضاحت!۔

١۔ حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ راوی ہیں کہ!۔

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللھم بارک لنا فی مدینتنا اللھم بارک لنا فی شامنا اللھم بارک لنا فی یمننا فقال لہ رجل یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فالعراق۔۔۔ فان فیھا میرتنا وفیھا حاجتنا فسکت، ثم اعاد علیہ فسکت، فقال بھا یطلع قرن الشیطان و ھنالک الزلازل والفتن (کنزالعمال صفحہ ٧٧ جلد ١٤ رقم الحدیث ٣٨٢٧٣)۔۔۔

 
یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دُعا کی اے اللہ ہمارے مدینہ کو ہمارے لئے برکت والا بنا اے اللہ ہمارے شام میں برکت عطاء فرما اے اللہ ہمارے یمن کو ہمارے لئے بابرکت بناء ایک آدمی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
عراق کیلئے بھی دُعا فرمائیے کیونکہ وہاں سے ہمارے لئے گندم اور دیگر ضروریات کا سامان مہیا ہوتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس نے یہ دیکھ کر پھر گزارش کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھر خاموش رہے پھر فرمایا کہ وہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا وہاں زلزلے اور فتنے برپا ہوں گے (یعنی میں اس کے لئے کیسے دُعا کروں وہ تو زلزلوں اور فتنوں کی سرزمین ہے)۔۔۔

 
٢۔ حضرت عبداللہ بن عمر راوی ہیں کہ!۔

صلی رسول اللہ صلاۃ الفجر ثم انفتل فاقبل علی القوم فقال، اللھم بارک لنا فی مدینتنا و بارک لنا فی مدنا و صاعناء اللھم بارک لنا فی حرمنا و بارک لنا فی شامنا و یمننا فقال رجل والعراق یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! فسکت ثم اعاد فقال اللھم بارک لنا فی مدینتنا وبارک لنا فی مدنا و صاعنا اللھم بارک لنا فی حرمنا وبارک لنا فی شامنا ویمننا فقال رجل والعراق یا رسول اللہ فسکت ثم اعاد فقال اللھم بارک لنا فی مدینتنا وبارک لنا فی مدنا و صاعنا اللھم بارک فی حرمنا وبارک لنا فی شامنا و یمننا فقال رجل والعراق یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ثم یطلع قرن الشیطان و تھیج الفتن ( ایضاء صفحہ ٧١ جلد ١٤ رقم الحدیث ٣٨٢٢٨)۔۔۔

 
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا فرمانے کے بعد متقدیوں کی طرف منہ کر کے دُعا فرمائی اے اللہ ہمارے واسطے مدینہ میں برکت دے اور ہمارے واسطے مد اور صاع میں برکت دے اے اللہ حرم میں ہمارے لئے برکت دے شام اور یمن میں برکت دے ایک شخص نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
عراق (کیلئے بھی برکت کی دُعا کیجئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر فرمایا اے اللہ ہمارے واسطے مدینہ میں برکت دے اور ہمارے واسطے مد اور صاع میں برکت دے اے اللہ حرم میں ہمارے لئے برکت دے شام اور یمن میں برکت دے (اس پر) ایک آدمی نے گزارش کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عراق (کیلئے بھی برکت کی دُعا کیجئے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر دُعا فرمائی اے اللہ ہمارے واسطے مدینہ میں برکت دے اور ہمارے واسطے مد اور صاع میں برکت دے اے اللہ حرم میں ہمارے لئے برکت دے شام اور یمن میں برکت دے (اس پر پھر) ایک آدمی نے گزارش کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عراق (کیلئے بھی برکت کی دُعا کیجئے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (میں وہاں کیلئے کیسے دُعا کروں) جبکہ وہاں شیطان کا سینگ ظاہر ہوگا اور فتنے فساد جوش ماریں گے۔۔۔

 
اس حدیث کو مکرر ملاحظہ کیجئے یہ کسی حاشیہ آرائی کی محتاج نہیں بلکہ اپنی تفسیر آپ بیان کر رہی ہے کیونکہ یہاں
نجد کی بجائے صاف عراق کا لفظ موجود ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ بخاری کی روایت میں جو نجد کا لفظ آیا ہے اس سے مراد نجد عراق ہے نجد یمن جس کو آج کل نجد سعودیہ کہتے ہیں وہ مراد نہیں یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے اس حدیث کو باب الفتین قبل المشرق کے تحت لاکر اس بات کا اشارہ کیا تھا کہ یہاں نجد سے وہ نجد مراد ہے جو مدینہ سے جانب مشرق ہے اور سب جانتے ہیں کہ مدینہ سے مشرق کی جانب عراق ہے جس میں بصرہ و کوفہ جیسے شہر آباد ہیں جو کہ اہل الرائے کے مراکز اور فتنوں کی سرزمین ہے۔۔۔

 
ایک لطیفہ!

سنتے تھے کہ بدعات و خرافات اور شرک میں مبتلا احباب کی عقل سلب کر لی جاتی ہے۔ عملی مظاہرہ برہان الدین بھائی نے اپنی ای میل میں پیش کیا ہے ۔ تیسری حدیث کے عنوان سے وہ ایک حدیث لکھتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشرق سے ایک گروہ نکلے گا جو قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا یہ گروہ پھیلتا رہے گا حتٰی کہ قیامت آ جائے گی اور آخرکار یہ لوگ دجال کے ساتھ ہوں گے ۔ ان کی بڑی نشانی یہ ہوگی کہ یہ حلقوں (گروپس) میں بیٹھیں گے۔ (الدارالسنیہ صفحہ ۵۰)

 
ملاحظہ کیجئے کہ کیسی بے علمی ہے ، بے چاروں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ مدینہ کے مشرق میں نجد حجاز نہیں بلکہ نجد عراق ہے۔ بس اپنے دلائل کا حجم بڑھانے کیلئے ایسے دلائل نقل کرتے چلے جاتے ہیں جن کا تعلق مضمون سے ہوتا ہی نہیں یا خود ان کے دعوٰی کے خلاف ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ بھی دیکھیں کہ اس حدیث میں دو باتیں اور کہی گئی ہیں کہ یہ گروہ پھیلتا رہے گا قیامت تک۔
  جب کہ آج یہی اہل بدعت سب سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں اور دن بدن یہ جہالت پھیلتی جارہی ہے، توحید کم اور شرک زیادہ ہو رہا ہے۔ سنت کو بدعات اور بدعات کو سنت یہی احباب باور کروا رہے ہیں۔ دوسری نشانی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ حلقوں میں بیٹھیں گے۔ آج ذکر و اذکار کے خود ساختہ اوراد پڑھنے والے سب سے زیادہ حلقے انہی اہل بدعت حضرات کے ہوتے ہیں۔ تو یہ حدیث تو خود ان ہی پر فٹ ہوتی ہے۔ اسے وہ اپنی نافہمی یا تعصب میں دوسروں پر چسپاں کرنے چلے ہیں۔ اللہ فہم عطا فرمائیں۔ آمین

 
مزید ملاحظہ فرمائیں کہ برہان الدین بھائی کسی
  عالم مولانامسعود عالم ندوی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ نجد کے مشرق میں ریاض کا مشہور قصبہ ہے جو کہ( شیخ محمد بن عبد الوہاب ) کے ہیڈ کوارٹر دریہ کا دارالخلافہ ہے ۔ اور یہ دونوں قصبے وادی حنیفہ کہلاتے ہیں۔

پھر انہوں نے بغیر کسی حوالے کے ایک حدیث نقل کی ہے کہ وادی حنیفہ کے لوگ سب سے زیادہ قبیح فعل والے ہیں۔ وغیرہ۔ 

اب کون ان علامہ صاحب سے پوچھے کہ حدیث میں تو یہ ہے کہ مدینہ کے مشرق میں نجد ہے وہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔ اب ہر شخص نقشہ میں دیکھ سکتا ہے کہ مدینہ کے  مشرق میں نجد عراق ہے ۔ اب یہ مجتہد اعظم ثابت تو یہ کرنا چاہتے ہیں کہ مدینہ سے مشرق میں نجد حجاز ہے اور دلیل وہ دے رہے ہیں جس میں لکھا ہے کہ نجد سے مشرق میں ریاض (حجاز) ہے۔ سبحان اللہ۔  دعوٰی اور دلیل کی مطابقت کی کیا اعلٰی مثال ہے۔

اور پھر خود ساختہ احادیث کی بھرمار کر دی کہ وادی حنیفہ کے بارے میں نام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اور یہ فرمایا۔ حوالہ کسی کا موجود نہیں سوائے مشکوٰۃ کے ایک حوالہ کے۔ جبکہ مشکوٰۃ کی تمام احادیث صحیح نہیں۔ بلکہ اس میں ضعیف بھی ہیں من گھڑت احادیث بھی ہیں۔

اسی طرح کے لچردلائل کے بل بوتے پر یہ حضرات اپنے آپ کو پکا سنی اور دوسروں کو پکا وہابی یا نجدی ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ (حالانکہ وہابی بھی گالی نہیں، جیسا کہ آگے وضاحت آ رہی ہے انشاء اللہ)

 
اب ہم ثابت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئی کے مطابق نجد عراق سے بہت سے فتنے نکلے۔ جب کہ نجد حجاز سے ایسے فتنوں کاکوئی ثبوت نہیں مہیا کیا جاسکتا۔ لہٰذا اب اس مسئلے کو شریعت سے ہٹ کر تاریخ کی روشنی میں دیکھیں۔

 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئی کہ نجد عراق سے فتنے نکلیں گے،
 پر تاریخ کی شہادت!۔

١۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والا عجمی تھا۔۔۔

٢۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد کا فتنہ عراق ہی سے اُٹھ کر مصر تک پھیلا۔۔۔

٣۔ جنگ جمل اور صفین اس سرزمین عراق پر ہوئی جس کے نتیجے میں وہ قیمتی خون بہا جس کی تلافی رہتی دنیا تک نہ ہوسکے گی اور وہ پاک نفوس ان جنگوں میں کام آئے جن کی مثال دنیا کبھی پیش نہیں کر سکتے گی۔۔۔

٤۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ یہیں شہید ہوئے۔۔۔

٥۔ خوارج، اسلام کا پہلا گروہ جہمیہ کا فتنہ جس کا موجد جہم بن صفوان تھا عراق سے نکلا معتزلہ نے بھی یہیں سے سر نکالا جس کی وجہ سے بے شمار فقہاء محدثین کو ناقابل برداشت اذیتیں سہنا پڑیں اعتزال کے بانی مبانی واصل بن عطاء اور عمرو بن عبید بھی عراقی تھے۔۔۔

٦۔ جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم امام حسین رضی اللہ عنہ کا قافلہ یہیں فرات کے کنارے لٹا۔۔۔

٧۔ شیعیت جس نے اسلام کو دو حصوں میں تقسیم کیا یہیں عراق کی پیداوار ہیں۔۔۔

٨۔ حجاج کی سفاکیاں اسی سرزمین پر ہوئی۔۔۔

٩۔ مختار بن ابوعبید نے دعویٰ نبوت عراق سے ہی کیا۔۔۔

١٠۔ ترک وتاتار کی غارت گریوں کے نتائج (جنہوں نے اسلام کی رہی سہی طاقت اور عرب و خلافت عربی کا تارتار الگ کردیا) یہیں رونما ہوئے۔۔۔

١١۔ حتی کے جنگ عظیم میں واحد اسلامی طاقت کیساتھ غداری کے نتائج بھی اولا یہیں ظاہر ہوئے اور اسی کے اثرات بعدمیں کوفہ اور اطراف میں بھی رونما ہوئے۔۔۔

١٢۔ ماضی قریب میں عبدالکریم قاسم کا فتنہ بھی عراق سے نکلا۔۔

١٣۔ ماضی قریب میں بہایت اور بابیت نے یہیں سے جنم لیا اور اسی کی بگڑی ہوئی صورت قادیانیت ہمارے سامنے ہے۔۔۔

١٤۔ عراق ایران جنگ جس نے تمام مسلمانوں کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے جس کے دور رس نتائج نکل رہے ہیں اور صدام حسین کا تازہ فتنہ جس نے عالم اسلام کو تباہ کردیا ہے یہ تمام فتنے عراق سے ہی نکلے ہیں۔۔۔

١٥۔ اور آخر میں دجال بھی اس ہی سرزمین سے نکلے گا۔۔۔(مستفاد از سیرت النبی جلد سوم صفحہ ٣٨٩ وتاریخ اسلام مؤلفہ معین الدین ندوی)۔۔۔

 
ان تمام تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے
کہ عراق ہی قرن الشیطان اور زلازل وفتن کی سرزمین ہے۔۔۔

 
حدیث نبوی کے مطابق مشرق سے دس سے زیادہ بڑے بڑے فتنے کھڑے ہونگے تفصیل آپکے سامنے ہے آپ نے ملاحظہ کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم برحق کی یہ پیشنگوئی کس قدر حقیقت و سچائی پر مبنی ہے اس کے برعکس نجد سعود سے آج تک کوئی فتنہ کھڑا نہیں ہوا بلکہ بنو تمیم کے ایک مومن کامل نے فتنہ پروروں اور ملت فروشوں کا قلع قمع کرتے ہوئے توحید و سنت کے پیغام سے قبر پرستوں کے در و دیوار ہلا دئے، ولایت کے نام پر قبروں کو مال تجارت بننے سے منع کردیا طریقت کے نام سے ملت فروشی کو ختم کردیا جب مشرکین کے کاروبار ماند پڑھ گئے تو اس مرد حق کو اس قدر بدنام کیا گیا الامان والحفیط مگر دنیا نے دیکھا کہ اس کی دعوت حجاز و تہامہ یمن و شام تک عام ہوگئی اور اسی کی دعوت وجہاد ہی کے نتیجئے میں حرمین شریفین کو انکاپرانا وقار مل سکا اور ان کی حقیقی حرمت وعزت بحال ہوسکی۔۔۔

 
آہ رحمت کو زحمت کہنے والے تجدید واحیائے دین کو فتنہ بتانے والے کبھی اپنے گریبانوں میں منہ ڈالتے تو پرانی تاریخ کو دیکھتے شریف حسین کے زمانہ کے حالات کا جائزہ لیتے تو انہیں معلوم ہوتاکہ خاص مدینہ اور مکہ مکرمہ میں حالات انتہائی مخدوش نظم و ضبط کا فقدان اور خطرات کے بادل ہر وقت سر پر منڈلاتے رہتے تھے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے راستے میں حاجیوں کے قتل تک کی نوبت پہنچ جاتی تھی اور یہ راستہ اس قدر پرخطر اور اندوہ گین تھا کہ حاجی مسلح قافلوں کی صورت میں اپنے کو خطرات سے محفوظ نہیں پاتے تھے آج سے ساٹھ سال پیشتر کی تاریخ حاجیوں پر ظلم و زیادتیوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے پاک وہند کے نامور تاریخ دان مولانا عبدالرحمٰن شوق امرتسری لکھتے ہیں کہ!۔۔۔

 
حجاز کے حکمران کو شریف مکہ کہتے تھے لیکن وہ ملکی انتظام کے قیام و انصرام میں ناکام رہا لوٹ مار کی گرم بازاری تھی بدوی ڈاکوؤں نے حاجیوں پر چیرہ دستی کر کے ناک میں دم کر رکھا تھا حکومت ترکی یہ سب کچھ کانوں سے سنتی اور آنکھوں سے دیکھتی تھی لیکن جب کھبی وہ شریف کی سرکوبی کا ارادہ کرتی وہی احترام و پاکیزگی کا خیال اس کا دامن تھام لیتا اس رواداری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ١٩١٥ء میں شریف حسین نے بغاوت کا علم بلند کر دیا جس کے نتیجہ اس صورت میں رونما ہوا کہ حجاز میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہنے لگیں ١٩١٦ء میں شریف کی تقریب تاج پوشی سنائی گئی اور اسے خلعت ملوکیت سے سرفراز کیا گیا ١٩١٨ء میں تسخیر عرب پایہ تکمیل کو پہنچ گیا اس کے بعد حجاز میں شریفی حکومت کا شادیانہ اقتدار پورے زور سے بجنے لگا ١٩١٩ء میں معاہدہ سیورے نے ترکی کا تختہ اُلٹ دیا تو شریف کے گھر ساغر اطمعنان میں زہر گھولتے رہے مگر جنگ عظیم سے پائی ہوئی قوت کی پھونکیں بغاوت کے ان شعلوں کو گل کرتی رہیں بدویوں کی پیدا کی ہوئی شورش کا مقابلہ تو وہ آسانی سے کرتا رہا لیکن نجد یمن کی مخالفانہ بساط آرائی کے آگے اس کی بازی مات کھا گئی ١٩٢٤ء میں سلطان ابن سعود نے شریف کے ایوان حکومت کو پیوند زمین کردیا۔۔۔تاریخ اسلام صفحہ ٨٧٦ حصہ پنجم سلطان عبدالعزیز بن سعود نے ملک الحجاز بنتے ہی ملک کے گوشے گوشے میں امن وآسائش کا مینہ برسادیا (ایضا صفحہ٨٧٩ حصہ پنجم)۔۔۔

 
عراق حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں!۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روای ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ!۔

 
دخل ابلیس العراق فقضی فیہ حاجتہ ثم دخل الشام فطر دوہ ثم دخل مصر دخل فیھا وفرخ وبسط عبقریہ طبرانی کبیر صفحہ ٢٦٢ جلد ١٢) رقم الحدیث ١٣٢٩٠، الطبرانی اوسط صفحہ ٢٢١ جلد ٧ رقم الحدیث ٦٤٢ کنز العمال صفحہ ١٣٨ جلد ١٢ رقم الحدیث ٣٥١٥٤ ودرمنثور صفحہ ١١٢ جلد ٣۔۔۔

 
شیطان عراق میں داخل ہوا تو وہاں اپنی ضرورت پوری کی پھر شام گیا تو وہاں کے لوگوں نے اسے بھگا دیا پھر مصر گیا اور وہاں خوب انڈے بچے دیئے اور وہاں خوب مزے سے رہ بسا۔۔۔

 
علامہ ھیثمی فرماتے ہیں کہ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں البتہ اس کی سند میں انقطاع ہے کیونکہ یعقوب کی ابن عمر سے ملاقات وسماع ثابت نہیں (مجموعہ الزوائد صفحہ ٦٣ جلد ١٠ باب فی ماجاء فضل الشام)۔۔۔

یعنی یہ حدیث ہمارے نزدیک ضعیف ہے۔ لیکن

راقم عرض کرتا ہے کہ گویہ روایت منقطع ہے مگر بریلوی احباب کے نزدیک منقطع حجت ہے چنانچہ احمد رضا خان صاحب بریلوی ارشاد فرماتے ہیں کہ!۔

ہمارے نزدیک مرسل ہر اس حدیث کوکہتے ہیں جس کی سند متصل نہ ہو اور اس کے اقسام میں فرق کرنا اور ان کے جدا جدا نام مرسل و منقطع و مقطوع و مفعل رکھنا یہ محدثین کی ایک نری اصطلاح ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اس میں کتنی صورتیں ہوتی ہیں رہا حکم وہ ہمارے نزدیک ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ ثقہ اگر کوئی حدیث مرسل لائے تو مقبول ہے ( کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الداھم مندرجہ فتاوٰی رضویہ صفحہ ١٧٤ جلد ٧)۔۔۔

 
یعنی خان صاحب کی اس عبارت سے ثابت ہوا کہ وہ منقطع حدیث کو مرسل حدیث ہی کی ایک قسم قرار دیتے تھے اور اگر بیان کرنے والا ثقہ ہوتو وہ مقبول ہوتی ہے اور اس حدیث میں امام یعقوب بن عتیہ ثقہ ہیں (تہذیب صفحہ ٣٩٢ جلد ١١)۔۔۔

 

الغرض یہ روایت بریلوی علماء کے نزدیک صحیح و معتبر ہے آئیے اس سلسلہ میں دوسری حدیث ملاحظہ کریں۔۔۔

 
امام یسیر بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ!۔

دخلت علی سھل بن حفیف فقلت حدثنی ماسمعت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فی الحروریہ؟۔۔۔ قال احدثک ماسمعت لاازیدک علیہ سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یذکر قوما یخرجون من ھھنا واشاربیدہ نحو العراق یقران القرآن لایجاوز حنا جرھم یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیہ قلت ھل ذکر لھم علامۃ؟۔۔۔ قال ھذا ما سمعت لاایزیدک علیہ (مسند احمد صٍفحہ ٤٨٦ جلد ٣ وتہذیب مسند صفحہ ٣٦ جلد ٤)۔۔۔

 
میں حضرت سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے عرض کی کہ مجھ سے وہ بیان کیجئے جو آپ نے بنی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے انہوں نے کہا کہ (شاید تم) حرویہ (کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو) سو ان کے (متعلق) میں تم سے اپنی طرف سے بڑھائے بغیر بتاتا ہوں کہ میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کا تذکرہ کر رہے تھے جو ادھر سے نکلے گی یہ کہہ کر آپ نے عراق کی طرف اشارہ کیا (اور فرمایا کہ) جو قرآن پڑھیں گے ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر (راوی حدیث بسر) کہتے ہیں کہ میں کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کچھ نشانی بھی بتائی ہے وہ (سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ) بولے میں نے جو کچھ سنا تھا اس سے زیادہ میں کچھ نہیں بتاسکتا۔۔۔

 
معلوم ہوا کہ یقرون القرآن لایجاوز تراقیھم سے جو اہل بدعت حضرات اہل حق کو مطعون کرتے ہیں وہ سراسر جھوٹ اور فریب اور ان کی مکاری وعیاری ہے اور اس کے مصداق ان کے عراقی بھائی خوارج ہیں اور ہمارے بجائے اہل بدعت اس حدیث کے مصداق ہیں کیونکہ انکا تعلق عراق کے شہر کوفہ سے ہے۔۔۔

 
بصورت تسلیم!۔

اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ نجد قرن الشیطان اور ھناک الزلازل والفتن سے مراد وہی نجد ہے جسے آج نجد سعود کہا جاتا ہے جس سے توحید کی دعوت پھیلی اور حرمین شریفین میں امن و امان قائم ہوا کیا اتنی سی بات سے ہی دعوت توحید وسنت دینے والے یکسر غلط ٹھہریں گے اور ان کو گمراہ اور ناقابل اعتبار ثابت کرنے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ نجد کے رہنے والے ہیں؟؟؟۔۔۔

 
ایک سوال!

یہ ایک سوال ہے جس کا جواب بہت غور طلب ہے کہ آیا کسی شخص کو زمین بھی مقدس ومحترم بناتی ہے؟؟؟۔۔۔ یا کہ انسان کو اس کے اعمال ہی محترم و مقدس بناتے ہیں؟؟؟۔۔۔ جب اس کے جواب کیلئے ہم قرآن پاک میں غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ!۔

 
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ

اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے (الحجرات۔١٣)۔۔۔ترجمہ احمد رضا خان ۔۔۔

 
اس آیت کریمہ نے بات صاف کردی کہ انسان کی شخصیت محترم و مقدس ہونے میں کسی علاقہ وزمین کا دخل نہیں ہوتا بلکہ شرافت کیلئے عمل صالحہ کی ضرورت ہے سیدالعرب والعجم حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایک صحابی کے سوال کرنے پر ارشاد فرمایا کہ!۔۔

 
من اکرم الناس؟۔ قال اتقاھم۔۔۔

یعنی اللہ تعالٰی کے ہاں پرہیزگار لوگ سب سے زیادہ مرتبہ والے ہیں (بخاری صفحہ ٤٧٣ جلد ١ کتاب الانبیاء باب واتخذاللہ ابراھیم خلیلا و مسلم صفحہ ٢٦٨ جلد ٢ فی الفضائل باب من فضائل یوسف عن ابی ہریرہ رضی اللہ)۔۔۔

 
اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ کسی جگہ کے مقدس ہونے سے وہاں کا مقیم بھی مقدس و محترم بن جاتا ہے تو یہ بھی جاننا پڑے گا کہ ابو جہل اور ابولہب امیہ بن خلف وغیرہ کفارمکہ بھی مقدس ومحترم تھے نعوذ باللہ کیونکہ ارض حرم روز اول سے ہی پاکیزہ ومبارک اور عزت والی جگہ ہے ارشاد ہوتا ہے کہ!۔

 
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ

بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا وہی ہے جو مکہّ میں ہے، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لئے (مرکزِ) ہدایت ہے (ال عمران۔٩٦) احمد رضا خان

 
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان ظالم کافروں نے اس مقدس زمین میں سب سے زیادہ مقدس شخص کو ہجرت پر مجبور کر دیا تھا مگر خود کافروں کو مکہ کی شرافت محترم نہ بنا سکی پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں قدم مبارک رکھا تو یہ زمین ارض مقدس کہلائی (جیسا کہ حدیث میں اس کی صراحت ہے) مگر عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین اور اس کا گروہ اسی مدینہ کے باشندے تھے لیکن مدینہ ان کے لئے تقدس کی ضمانت نہ ہوسکا حرمین شریفین کی عزت و حرمت سے نعوذ باللہ انکار مقصود نہیں۔۔۔ بتانا یہ ہے کہ صرف حرمین کی حرمت اس کے باشندے کو شرافت کی ضمانت نہیں دے سکتی مصر و شام نص قرآنی سے ارض مقدس ہیں۔۔۔

 
الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ

مسجدِ اقصٰی تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے (سُورة الْإِسْرَاء۔ ١)۔۔۔

 
مگر اس کی وجہ سے وہاں کے باشندے کو علی الطلاق شرف تقدس کا سرٹیفیکٹ نہیں دیا جاسکتا کہ اس ارض مقدس میں یہود جیسی مغضوب و ملعون قوم آباد ہے اور مسلمانوں پر ظلم وستم کی انتہا کر رہی ہے۔۔۔

 
جس طرح کوئی زمین اپنی عظمت و حرمت کے باوجود کسی قوم یا شخص کو عظمت و حرمت عطا نہیں کرسکتی اسی طرح کوئی قوم یا شخص کسی مغضوب و مقہور جگہ پر رہنے سے غلط نہیں ہوسکتا۔۔۔

 
خلاصہ کلام!۔

اگر نجدی موحدین یا ان کو اچھا جاننے والوں کو صرف اس وجہ سے گمراہ بے دین ٹھہرایا جاتا ہے کہ وہ نجد سے تعلق رکھتے ہیں تو سراسر دھوکہ ہے اگر یہ اصول درست تسلیم کر لیا جائے تو حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے تلامذہ مقلدین پر بھی عراقی ہونے کی وجہ سے اس قسم کا فتوٰی لگایا جاسکتا ہے مگر ہم عرض کرتے ہیں کہ یہ اصؤل ہی لچر ہے اور اس کا قائل قرآن و حدیث سے محض نابلد ہے کیونکہ

 
 
ایک نجدی کو جنت کی خوشخبری زبان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے:

 ایک نجدی کو تو حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی خوش خبری دی ہے چنانچہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ روای ہیں کہ!۔

 
جاء رجل الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اھل نجد ثائر الراس تسمع دوی صوتہ ولانفقہ مایقول حتی دنا من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاذا ھویسال عن الاسلام فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمس صلوات فی الیوم واللیۃ فقال ھل علی غیرھن فقال لالا ان تطوع قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصیام شھر رمضان فقال ھل علی غیرہ قال لالا اتطوع قال وذکر لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الزکوٰۃ فقال ھل علی غیرھا فقال لالا ان تطوع قال فادبر الرجل وھو یقول اللہ لازید علی ھذا ولا انقص منہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افلح الرجل ان صدیق۔

 
ایک آدمی
نجد کا رہنے والا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے سر کے بال پراگندہ تھے اس کی آواز میں گنگناہٹ تھی ہم سنتے تھے لیکن سمجھتے نہ تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آگیا ناگہاں وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ نمازین دن رات میں اس نے کہا انکے علاوہ بھی کچھ مجھ پر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں مگر یہ کہ تو نفل پڑھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا اس نے کہا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں مگر یہ کہ و نفلی روزے رکھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کا ذکر کیا اس نے کہا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ ہے؟؟؟۔۔۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر یہ کہ تو نفلی صدقہ کرے۔۔۔

 
راوی حضرت طلحہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ اس آدمی نے پیٹھ پھیری اور وہ کہتے جارہا تھا کہ اللہ کی قسم ہے کہ میں اس پر زیادہ نہ کروں گا اور نہ کم کروں گا ( یہ سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا) اس نے فلاح پائی اگر سچا ہے (بخاری صفحہ ١١ جلد ١ و مسلم صفحہ ٣٠ جلد١)۔۔۔

 
وہ لوگ جو صرف لفظ نجدی کو دیکھ کر ہی آگ بگولہ ہوجاتے ہیں وہ خود ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ ایک نجدی کو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا میں ہی جنت کی بشارت سنائی ہے۔۔۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا مطلب ہے تعریف کیا ہوا۔ جب مشرکین مکہ نعوذ باللہ انہیں برا بھلا کہتے تھے تو چونکہ وہ عربی دان تھے اور مطلب سمجھتے تھے اس لئے انہیں بڑا عجیب لگتا تھا کہ یوں کہیں کہ تعریف کیا ہوا ایسا ہے اور ویسا ہے۔  لہٰذا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاذ اللہ خود ساختہ نام گھڑے اور پھر ان خود ساختہ ناموں سے انہیں پکار کر برا بھلا کہتے تھے۔ اس حسن تدبیر سے اللہ تعالٰی نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نامی کو مشرکین سے بچا لیا۔  بعینہ اسی طرح آج کچھ حضرات ہمارا نام خود ساختہ وہابی رکھتے ہیں کبھی نجدی کہتے ہیں۔ اپنی طرف سے تو وہ گالی دیتے ہیں لیکن اللہ تعالٰی نے ہمیں ان کے شر سے بچا رکھا ہے الحمدللہ۔ خود ہی وہابی نجدیوں کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں۔ حالانکہ نہ تو ہم شیخ محمد بن عبد الوہاب کے پیروکار یا ان کے مقلد ہیں، نہ ان کی تحریک سے کوئی تعلق ہے۔ نہ ہی آپ کبھی ہماری کتابوں میں ان کا کوئی حوالہ دیکھیں گے۔ کیونکہ ہمارے نزدیک دین اسلام صرف قرآن اور صحیح و حسن احادیث میں محفوظ ہے۔ ہم ہر مسئلہ کو کتاب وسنت ہی سے لیتے ہیں نہ کہ کسی غیر معصوم شخصیت سے۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہمیں شیخ محمد بن عبد الوہاب جو کہ نجد حجاز کے تھے، ان سے منسوب بھی کر دیا جائے تب بھی ہمارا نام وہابی نہیں بنتا بلکہ محمدی بنتا ہے۔  کیونکہ عبد الوہاب تو ان کے والد کا نام تھا۔ ان کا اپنا اصلی نام تو محمد تھا۔  ایں چہ بو العجبی است

 

ایک لطیفہ!

 
وہابی لفظ کو بدنام تو اس طرح سے کیا گیا ہے کہ جیسے یہ کوئی بہت بڑی گالی ہے، آج اگر کوئی تیجہ ، جمعرات یا ختم وغیرہ جیسی بدعات سے بچتا ہے تو لوگ اسے طعنہ کے طور پر وہابی کہتے ہیں
۔ حالانکہ وہاب تو اللہ کا ایک نام ہے۔ وہابی کا مطلب ہوا اللہ والے۔ 

دیکھئے کس طرح اللہ میاں نے جماعت حقہ کا دفاع اپنے حسن تدبیر سے کر دیا ہے کہ ہمارے مخالفین کی عقل پر ایسے پردے پڑے ہیں کہ ان کو سجھائی نہیں دیتا کہ وہ مخالفت میں بھی ہمارے لئے دعا ہی کر رہے ہوتے ہیں! 

 

 

لب لباب!

گزارشات کا خلاصہ فقط اتنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں جس نجد کو شیطان کا سینگ اور فتنہ کی جگہ قرار دیا ہے وہ نجد حجاز نہیں بلکہ نجد عراق ہے۔ اور یہ بات دیگر احادیث سے پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے۔ نیز اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی اس نجد کے متعلق ہے (جس سے شیخ محمد بن عبدالوہاب کا تعلق ہے) تو تب بھی اس پیشنگوئی میں ہر فرد بشر داخل نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ایک خاص گروہ ہے جو دین میں فتنہ اور بدعات کا مرتکب ہوگا جس سے کوئی ایسا فعل قبیح سرزد ہوگا جس کی تلافی ناممکن ہوگی اور امت اسلام کو اس سے ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب کا دامن ان تمام چیزوں سے پاک ہے اور شیخ کا کوئی ایسا عقیدہ ثابت نہیں کیا جا سکتا جو کہ غیر اسلامی یہاں چونکہ چنانچہ اور فلاں علامہ صاحب نے یوں لکھا اور فلاں نے اس طرح کہا ہے سے بات نہیں بنے گی بلکہ یہاں علماء آل سعود کی لکھی ہوئی کتب سے دلائل کے نقل کرنے کی ضرورت ہے کہنے کو تو شیطان رشدی ملعون نے حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کچھ نہیں کہا مگر مثل مشہور ہے چاند پر تھوکنے والے کے منہ پر آتا ہے۔۔۔

 

والسلام۔۔۔

وما علینا الاالبلاغ۔۔۔

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

8 Responses to “برائیوں کی جڑ نجد یا عراق”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

امت کو کسی اور چیز سے نقصان پہنچے نہ پہنچے اس طرح‌کی تقاریر اور مضامین سے سب سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔۔ قران مجید میں‌ آتا ہے "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں‌ تفرقے میں نہ پڑو” اس آیت کی رو سے تو فرقہ بندی مطلقا حرام ہے لہذا جو بھی اپنے آپ کو مسلمان کے علاوہ کوئی اور شے سنی ، شیعہ، وہابی اور کچھ اور کہلاوائے قرانی آیت سے روگردانی کا مرتکب ہے۔۔ اور اتنی سادہ اور آسان آیت کو سمجھنے کے لیے کسی بھی انسان کو مزید کسی ریفرینس کی ضرورت نہیں‌ رہتی ۔۔ بہتر ہوگا کے ہم اس کریہہ عمل سے باہر نکلیں‌اور احادیث‌سے ایک دوسرے کو شیطان ثابت کرنے کے بجائے اپنے مسائل کے حل اور زندگی گزارنے کے رہنما اصول کے طور پر لیں۔۔ ورنہ تباہی ایک نجد میں‌ آئے گی تو دوسرا سکون سے رہ نہیں‌سکے گا۔۔

راشد کامران’s last blog post..اب کسے ٹیگوں ؟‌

ہم راشد صاحب کی بات سے متفق ہیں اور گزارش کریں گے کہ ایسی تحاریر سے پرہیز کیا جائے۔ دوسرے اگر ایسی تحریر لکھنا ضروری ہو تو پھر دوسری پارٹی کا بھی نقطہ نظر پیش کیا جائے اور فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا جائے۔
سیدھی سی بات ہے اگر عراقی نجدی سعودی نجدیوں سے نفرت کرتے ہیں اور اس کے جواب میں‌ایسی تحریر لکھ کر جواب دیا جائے تو پھر آپ میں‌ان میں‌کوئی فرق نہیں‌رہ جائے گا۔
راشد صاحب کی بات میں‌وزن ہے موجودہ حالات پر نظر رکھیے اور دیکھیے کہ صدام حسین کے علاوہ اور کتنے مطلق العنان حکمران اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اگر اس کسوٹی پر موجودہ مسلمان حکمرانوں کو پرکھا جائے تو اہل سعود بھی اسی زمرے میں‌آئیں‌گے۔ معاف کرنا یہ موجودہ اہل سعود ہی ہیں‌جنہوں نے عیسائیوں سے مدد لی اور انہیں کئی سال اپنی متبرک زمین پر مہمان رکھے۔ کبھی کبھی یہ بات سن ہنسی آتی ہے جب اس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ اتحادیوں کو مکے اور مدینے میں‌ داخل ہونے کی اجازت نہیں‌تھی۔ مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں‌کہ آج کا سعودی عرب جو مقروض ہو چکا ہے انہی اتحادیوں کی سازشوں کا شاخسانہ ہے۔ ہماری مثال سے اب یہ مطلب نہ نکال لینا کہ ہم عراقی نجدی ہیں اور سعودی نجدیوں پر لعن طعن کر رہے ہیں۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ فی زمانہ سنی شیعہ وہابی سب مذہب سے دور ہوتے جارہے ہیں‌اور اتحادیوں کی سازشوں کا شکار ہیں۔

میرا پاکستان’s last blog post..ہم تم ہوں گے جنرل ہو گا

Pakistani » Blog Archive » برائیوں کی جڑ نجد یا عراق…

This article is an honest overview of the topic Najdis and Wahabis and ahadees belongs to Najad etc. where you will find thinking and proves from both parties. I hope it will help clearing some misconceptions out of our minds. I have attached the email…

مجھے کسی نے یہ ساری تحریر ای میل میں بھیجی ہے ۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ دور حاضر میں جبکہ مسلمانوں کی اکثریت کو یہی معلوم نہیں کہ مسلمان کیا ہوتا ہے ایسی بحث کیوں شروع کی جاتی ہے ۔
میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ ایسی بحث شرپسند شروع کرتے ہیں اور انجان مسلمان اس میں پھنس جاتے ہیں ۔
اللہ ہماری رہنمائی فرمائے ۔

اجمل’s last blog post..ایسا کیوں ؟

جو تحریر حلق سے نا اترے اس سے سب کو تکلیف ہوتی ہے- میرے خیال میں تو اتنی عمدہ اور جامع معلومات مزید لوگوں تک پہنچانی چاہیے-
بدعات اتنی پھیل چکی ہیں کہ ان کو منع کریں تو اگلے بندے کو یہ اسلام سے خارج گردانتے ہیں- جن کے عقائد غلط ہیں وہ ایسی تحریروں سے کبھی متفق نہیں ہوں گے-
پھر بھی یہ تحریر پیش کرنے والے کو سلام ہے- جزاک اللہ

عالم’s last blog post..جیو، حنا کے ساتھ

السلام علیکم

اوپر جو ایک سے چار نمبرز تک بھائیوں نے باتیں لکھی ہیں وہ بہت اچھی ہیں میں بھی ان سے متفق ہوں کہ اگر نجد عراق ھے یا نجد الریاض ھے اس پر اگر میں بھی بمہ مکمل بتا دوں تو مجھ میں اور شاکر میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جائے گا۔
نمبر 5 پر جو انفارمیشن دی گئی ھے وہ بھی ان کا قصور نہیں یہ لوگ صدقہ، زکوُٰۃ سے چلنے والے دینی اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر فتنہ بپا کرتے رہتے ہیں۔ ان کو ان دینی اداروں میں تعلیم ہی یہ دی جاتی ھے کہ کوا سفید ہی ھے کبھی نہیں ماننا کہ کالا ھے۔

والسلام

س حدیث سے یہ بات کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ قرن الشیطان اس طرف سے نکلے گا اور مدینہ طیبہ سے عین مشرق کی طرف نجد عراق ہے

is web site par app ko malom huga ky Madina Munwara say mashri ki janib kon sa najad hay Q logo ko baywaquf banatay hu

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

بھائی میں کسی مسلک کے بارے میں بات کرنے کا قائل نہیں اور مشرق عراق میں ھے یا کدھر ایسی پوسٹ لگانی ہی نہیں چاہئیے، صرف اتنا کہوں گا کہ عراق نہ پہلے مدینہ المنورہ سے قطب مشرق میں تھا اور نہ اب ھے اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو ایک ویب لنک دے سکتا ہوں جہاں پر میں نے قرآن مجید سے تصاریر کے ساتھ ایک پوسٹ لگائی ھے اس کا لنک پیش کر سکتا ہوں اور وہاں بھی میں نے کسی فقہ پر کوئی بات نہیں کی صرف مشرق کی تصدیق کی ھے۔ آپ عراق کو مدینہ سے قطب مشرق میں کہہ رہے ہیں تو آپ غلطی پر ہیں یہ مشرق کا رخ عراق کی طرف موڑنا کچھ سال پہلے ہی ہوا ھے پہلے نجد مشرق الریاض کی سمت ہی تھی۔

والسلام


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: