قدرتی عمل سے افسانوی کہانی تک

Posted on 21/07/2008. Filed under: تعلیم, رسم و رواج |

زمانہ بدلتے بدلتے اقدار بدل گئی ۔۔۔۔ رفتار بڑھاتے بڑھاتے زندگی بدل گئی۔ بدل کیا گیا؟ سب کچھ کھو گیا۔ حقیقی وراثت افسانوی کہانی بن گئی۔ افسانہ کے لیئے حقیقی کہانی کچھ ہونا ضروری ہے۔ حقیقی کہانی نہیں تو اُس میں حقیقت کا رنگ کچھ حد تک ہونا لازم ہے۔ مگر آج پیروکار گُرو کو مافوق الفطرت ثابت کر کے حقیقی صورت کو افسانوی رنگت بخش دیتے ہیں۔ مخبوط الحواس افراد آج اندھے ہیں اور خود چاہتے ہیں دوسرے بھی اندھے کی نگاہ سے دیکھے۔ افسوس! بناوٹ قدرت چاہتی ہے۔ مگر ہم قدرت بلکہ فطری عمل کو بناوٹی رنگوں سے سنوارتے ہیں۔ بناوٹی سے بے ہتھل ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ عِلم انسان کو باترتیب بناتا ہے مگر آج  بے ترتیب سے بد ترتیب ہونےکو ہیں۔(١)
میں پیدل چلتے چہرے دیکھتا ہوں۔ چہرہ افسردہ افسردہ دکھائی دیتے ہیں۔ چند چہرے مصنوعی مسکراہٹ رکھتے ہوئے دِل میں خار رکھتے ہیں۔ مگر چیدہ چیدہ چہروں میں کچھ رنگ ایسے بھی ہیں جو آپکے دِل کو فرحت بخشتے ہیں۔ بچہ قدرت کا ایک انمول عطیہ ہے۔ کھِلے پھول کو دیکھئیے، کھلے چہرے کو دیکھئیے دِل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ مگر یہی بچہ بڑا ہو کر افسردہ چہرہ اپنا لےگا۔ کیا دُنیا پریشانی کا گھر ہے؟ ہرگز نہیں۔ زندگی کے سفر میں پریشانی اور خوشی ہمراہی ہے۔ کوئی خاص مقام نہیں۔ مقام منزل ہوتی ہے۔ منزل بامقصد مقصد کا تعین ہوتا ہے۔ مرتبہ اُسکا حصول ہوتا ہے۔ آج مقصد مقصد نہیں رہے۔ تبھی چہرے انجان دباؤ کا شکار ہے۔ حقیقی خوشی ماضی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
حلال رزق کمانا عین عبادت ہے۔ بتدریج ہم اِس اہمیت سے ناواقف ہوتے جا رہے ہیں۔ حلا ل لقمہ اپنی تاثیر رکھتا ہے۔ ایسی تاثیر جو نسلوں تک کی آبیاری کرتی ہے۔ برکت ایک خیالی تصور رہ گیا ہے۔ محبت کا وجود دم توڑ رہا ہے۔ خلوص کا گلا گھونٹا جا رہا ہے بیشمار قدرتی عمل مفقود ہوتےجا رہے ہیں۔ مقصود یہ تھا کہ اِنکی عملی تربیت برقرار رکھی جاتی۔ ہرگز یہ مراد نہیں کہ یہ بامقصد اعمال جا چکے۔ یہ قائم ہے تو دُنیا قائم ہے۔ سچےلوگ آج بھی موجود ہے بہتانوں کے شکار میں جھوٹے ہی جھوٹے وقوع پذیر ہوتے چلے جارہے ہیں۔
آج اِس خطہ کے افراد سے یہ سوال بنتا ہے؟ جن مقاصد کے حصول کی خاطر وُہ اپنی وراثت کھو رہے ہیں؛ حقیقی وراثت اُسکے مقابل جوحالات حاصل کیئے۔ اُن میں اُنھوں نے کیا کیا تخلیق کیا؟ حاصل کیا کیا؟ غلطی یہ ہوگئی کہ اُنکے مقاصد کے پیچھےکوئی خاص بنیاد نہ تھی۔ بات ہوا میں تھی اور وُہ خود ہوا میں معلق ہوگئی۔
مجھےشکوہ ہے اپنے سے پہلی پود (نسل) سے اُنھوں نے اپنے بڑوں سے اُنکا حکمت و دانائی کا علم حاصل کیا۔ خود تو وُہ ہوا میں معلق ہوئے مگر یتیم اور جاہل ہمیں کر گئے۔ مسئلہ یہ ہوا کہ ہمارے دادا کا عِلم ہمارے والدین ہمیں منتقل نہ کر سکے۔ گزشتہ نسلوں اور ہماری نسل میں ایک فرق آگیا۔ علم اور عمل کا فرق۔ ہمارے بزرگ ہندکو ، پنجابی و دیگر علاقائی زبانیں بولتے تھے، اَن پڑھ تھے۔ مگر وُہ شیخ سعدی کی گلستان و بوستان کےعملی کردار تھے۔ یہ حکمت و دانائی اُنکو کیسے ملی جبکہ وُہ شیخ سعدی اور فارسی کو جانتے بھی نہ تھے؟
رشتے محبت قائم رکھنے کے لیئے بنائے جاتے ہیں، تعلق یاد برقرار رکھنے کے لیئے قائم کیے جاتے ہیں، کسی کےگھر ٹھہراؤ کام کی غرض سے نہیں ملاقات اور دِل کی چاہت سے ہوا کرتی ہیں۔ یہ تمام جملےلفظ کاش! اور ماضی کا صیغہ سے دور ہی رہے تو بہت اچھا!
ہمارے عمل، مزاج ہی صرف افسانے کی طرف نہیں جا رہے بلکہ تہذیب، ثقافت بھی افسانوی روپ دھار رہی ہے۔ ہمارے خود ساختہ Standards نے ہماری صحت کو بُری طرح سے متاثر کیا ہے۔ پھل موسم کےاعتبار سے تھے مگر آج بے موسم ہوگئے۔ اِن  بے موسم پھلوں نے مزاج بے موسم کر دیے یو ں امراض بے موسم ہوئے اور امراض علاج سے لاعلاج رہ گئے، جسم متاثر ہوگئے۔ غیر علاقائی پودوں کی بہتات نے موسم غیرفطری کر دیے۔ درخت کی چھاؤں ویران ہوگئی۔ علاقائی مشروب اور مشروب فروش یتیم سے مسکین اور پھر حقیر ہو چلے ہیں۔ نگاہ حسن رفتار کا شکار ہو کر دم گھٹتے محسوس کر رہی ہے۔
رفتار نے جسم کی بیماری کو ذہن کی بیماری میں تبدیل کر دیا۔ غیرت مجروح ہوئی۔ Diplomacy  کےنام پر نااہل اہل قرار پائے۔ طرز تعمیر کے حسن کو نقال نے نہ صرف بدترتیب کیا۔ بلکہ ناقابل رہائش بھی کر چھوڑا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے ہم گھر بناتے ہیں۔ مگر وُہ گھر رہنے کے قابل نہیں۔ کبھی کوئی زمانہ تھا۔لوگ گھر میں رہنے کے قابل نہ تھے۔ آج وُہ دور ہےگھر میں لوگ رہنے کے قابل نہیں۔ چپاتی کی طاقت fast food  سے replace ہوگئی۔ متبادل ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ مگر حکمرانوں کی طرح یہاں ہر متبادل پہلے سے کمزور ہی ہوا ہے۔ ذائقہ دار پانی بے ذائقہ ہوگیا ہے۔ خوراک صرف مقدار رہ گئی ہے۔ نگاہ چاہیے آج ہم نگاہ سے محروم، مشاہدہ  سے محروم ایک duffer کی بات کو دوسرا duffer سمجھے بغیر promote  کرتا ہے۔ تحقیق دور کی بات ہے۔
ہمیں افسانہ نہیں بننا۔ زندگی فسانہ نہیں۔ فسانہِ مبتلاء مبتلاِ امراض ہے۔ جس قوم کا وجود افسانہِ حقیقی بن جائے وُہ فساد و فسجود کا شکار ہو کر مبتلاِ فسانہ بن کر گمنام ہوا کرتی ہے۔ ہر مرض کا علاج ہے۔ اس مرض کا علاج توبةالنّصوح میں ہے۔ علاج مختصر مگر عمل طویل و دیرپا ہے۔
کروں اختیار فطرتی عمل کو۔
ہو جائے گے تمام امراض علاج با علاج۔
رکھوں گے جب محبت اِن  کناروں سے
جنکا نام ہے۔ قدرت!
پھر پیدا ہوگا اِس تخم سے شاندار اَناج۔
جو قدرت سے ٹکراتا ہے وُہ خود برباد ہوتا ہے۔ بقاءقدرت کا حسن ہی ہے۔
(فرخ)

حوالہ جات:
(١) اعجاز الحق
نیز دیگر تمام نیلے رنگ کے جملے بھی اِنکے ہی کہے ہوئے ہیں۔

Advertisements

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: