Archive for اگست, 2008

آخری سچ

Posted on 31/08/2008. Filed under: سیاست, طنز و مزاح |

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

آصف زرداری ۔ ذہنی بیمار شخص

Posted on 28/08/2008. Filed under: متفرق |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

صدر مشرف کے خطاب کا متن

Posted on 21/08/2008. Filed under: پاکستان |

مستعفی صدر پرویز مشرف نے پیر کو قوم سے خطاب میں اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ مستعفی صدر کے قوم سے خطاب کا متن درج ذیل ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو، بہنو اور بھائیو، السلام علیکم۔ ملک آج جن حالات سے گزر رہا ہے مجھے بھی اور سب کو معلوم ہے۔ میں نے ملک کی باگ ڈور 9 سال قبل سنبھالی، اس وقت صورتحال کیا تھی، یہ ملک ایک دہشتگرد ریاست قرار دیاجانے والا تھا، یہ ملک معاشی لحاظ سے ناکام ریاست قرار دیا جانے والا تھا۔

اس وقت میرے ذہن میں ایک ہی سوچ اور ایک ہی خیال تھا کہ میری اس ملک سے بے پناہ محبت ہے اور میں نے سوچا کہ تقدیر میں اس ملک کو بچانا اور اسے ترقی کی طرف لے کر جانا ہے تو میں اپنے تن، من ،دھن کی بازی لگا دوں گا۔

پچھلے9 سالوں میں میں نے اسی جذبے کے ساتھ پاکستان کو جو درپیش چیلنجز اور بحران آئے ان کا سامنا کیا۔ میرے خیال میں نو سالوں میں جو چیلنجز پاکستان کے سامنے آئے ہیں، کسی اور وقت کسی اور پریڈ میں چیلنجز نہیں آئے ہیں ، چاہے وہ معاشی تباہی سے پاکستان کو بچانا ہو چاہئے وہ 2000ءکی خشک سالی کا مقابلہ کرنا ہو اور عوام کو مصیبتوں سے بچانا ہو، چاہے وہ 2001ءکی ہندوستان کے ساتھ محاذآرائی ہو، جس میں کہ جنگ کے بادل پاکستان کے آسمانوں پر پاکستان پر منڈلا رہے تھے10 مہینے کےلئے، اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہو ،چاہئے وہ نائن الیون کا سانحہ ہو اور اس کے ”فال آؤٹس“ (اثرات) کے اس تمام خطے اور خاص طور پر پاکستان پر، چاہئے وہ 2005ءکا زلزلہ ہوجس سے شمالی علاقہ جات اور کشمیر کو ترقی کی طرف واپس اور چیلنج کو ایک موقع کی طرح تبدیل کرنا ہو، ان تمام بحرانوں میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال رہی۔

ہم نے ان تمام بحرانوں کا چیلنجزکا مقابلہ کیا اور ان سے نمٹا اور مجھے فخر ہے کہ ہم نے پاکستان اور اس کی عوام کو محفوظ رکھا۔ ہر کام میں میری نیت صاف رہی جو بھی حل دیکھا کسی مشکل کا ، کسی سانحہ کا ، کسی چیلنج کا اس میں ملک اور قوم کے مفادکو ہمیشہ ترجیح دی۔ ذات سے بالا تر ہوکر ملک کو اور عوام کو ترجیح دی۔ سب سے پہلے پاکستان، کا نعرہ لگایا، یہ نعرہ قوم کو دیا، یہ محض دکھاوا نہیں تھا، یہ میرے دل کی گہرائیوں کی آواز تھی اور اب بھی یہی آوازرہے گی، مستقبل میں بھی آواز سب سے پہلے پاکستان ہی رہے گی۔

اس ملک کے لئے پاکستان کےلئے دو جنگیں لڑیں اور ہمیشہ خون کا نذرانہ دینے کےلئے تیار رہے اور مجھے فخر ہے کہ اب بھی میرے میں یہی جذبہ قائم ہے اور آئندہ بھی یہی جذبہ رہے گا۔

بدقسمتی ہماری کچھ عناصر اپنے ذاتی مفاد کو ملکی مفاد سے اوپر رکھتے ہیں۔ جھوٹے بے بنیاد الزامات میرے پر لگائے، جھوٹ کو سچ، سچ کو جھوٹ بنانے کی کوشش کرتے رہے، عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی، عوام کو دھوکہ دیتے ہیں ، ان کو کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میرے خلاف تو شاید ان کو کامیابی مل جائے لیکن اس کا ملک کو کتنا نقصان اٹھانا پڑے گا اس کا انہوں نے کبھی احساس نہیں کیا۔ یہ عناصر وہ تھے وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری تمام پالیسیاں پچھلے نو سال غلط رہی ہیں،معاشی تباہی کی طرف ہم جارہے ہیں وہ پچھلے آٹھ سال کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے ۔

یہاں تک کہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بجلی کا بحران بھی ہماری پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ یہ بلکل غلط اور ملک کے ساتھ فریب ہے۔ کچھ حقائق میں قوم کے سامنے رکھنا چاہوں گا ۔ سب سے پہلے تو معیشت کی بات کرنا چاہوں گا ۔ یہ وقت اس کی تفصیلات میں جانے کا نہیں ہے اس کی تفصیلات ایک پیپر میں لکھ دی ہیں وہ میں ریلیز کردوں گا پریس میں کہ آپ سب کو کہ آپ سب آگاہ ہوجائیں کہ اصل صورتحال ہماری معیشت کی کیا ہے لیکن فی الحال میں یہ کہنا چاہوں گا کہ معیشت کے حوالے سے چند باتیں دسمبر 2007ء یعنی 8 مہینے پہلے پر ذرا نظر ڈالیں۔ کیا حالت تھی؟ معیشت بالکل ٹھیک تھی بلکہ پختہ تھی آٹھ مہینے پہلے ، جی ڈی پی ہماری 7 فیصد اوسط سے بڑھ رہی تھی اور 63 ارب ڈالر سے 160، 170 ارب ڈالر پر پہنچ گئی تھی ، ڈبل سے زیادہ، غیر ملکی زرمبادلہ کے ہمارے ذخائر 17 ارب ڈالر پر پہنچ گئے، ہماری ریونیو وصولیاں ایک ٹریلین یا ایک ہزار ارب روپے پر پہنچ گئی تھیں، ہماری سٹاک ایکسچینج انڈیکس تقریباً 16 ہزار کے قریب پہنچ گیا تھا اور سب سے بڑی بات ایکسچینج ریٹ ایک ڈالر کی قیمت 8 سال تک 60 روپے کے اردگرد رہی۔

یہ ہماری اکانومی کی طاقت تھی اس کی وجہ سے یہ ساری (مین انڈیکیٹرز ) بنیادی اعشاریے جو میں نے آپ کو بتائے ہیں معاشی خوشحالی کے اعشاریے اور میں یہ آٹھ مہینے پہلے کی صورتحال آپ کو بتا رہا ہوں۔ اس وجہ سے دنیا کی اسسمنٹ ایجنسیز (Assesment Agencies) ، ایویلو ایٹنگ ایجنسیز (Evaluating Agencies) انہوں نے پاکستان کو این 11 میں قرار دیا ۔ این 11 ، نیکسٹ 11 اور یہ نیکسٹ 11 وہ ممالک دنیا کے جو برک ممالک کے بعد اور برک کون سے۔۔۔۔؟ برازیل، روس ، انڈیا، چین ، برکس۔۔۔ یہ چار تو پروگریسو اکانومیز ، ڈائی نیمک اکانومیز ان کے بعد پوری دنیا میں جو نیکسٹ 11 تھیں ان میں پاکستان کا بھی شمار کیا گیا ۔ یہ میں کوئی ایسی چیز نہیں بتا رہا ہوں اپنی طرف سے دنیا کے کسی ادارے میں معلوم کریں اور آپ کو پتہ ہوجائے گا صورتحال پاکستان کی، معیشت کی پختگی کی یہ صورتحال تھی آٹھ مہینے پہلے۔

یہ بحران معاشی بحران تو چھ مہینے پہلے شروع ہوا، ہماری فارن ایکسچینج ریزروز 10 ارب ڈالر سے بھی نیچے چلی گئیں۔ ایکسچینج ریٹ جو آٹھ سال سے 60 روپے پے تھا آج 77 روپے پے چلا گیا ہے ۔ سٹاک ایکسچینج جو 15 ہزار 700 یا 16 ہزار کے قریب تھا آج 10 ہزار کے ارد گرد منڈلا رہا ہے ۔ سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی ہورہی ہے، لوگ اپنا سرمایہ بیرون ملک لے جارہے ہیں۔ سرمایہ کار چاہے وہ اپنے لوگ ہوں یا باہر کے انہوں نے اپنا ہاتھ روک لیا ہے۔

اس کا اثر غریب عوام پے مہنگائی کی صورت میں سامنے ہے، آٹا، دال، گھی کی قیمتیں، ڈیڑھ سے دگنی ہوگئی ہیں اور ان سے عام غریب عوام کو تکلیفیں اٹھانی پڑ رہی ہیں۔

یہ ضرور ہے کہ یہ انٹرنیشنل بحران جس کا پاکستان کو بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ انٹرنیشنل بحران تیل کی قیمتوں کی وجہ سے ، فوڈ گرینز خاص طور پر گندم کی قیمتوں کی وجہ سے اور ہمارے لئے کھانے کے تیل بھی جو ہم درآمد کرتے ہیں کی قیمتوں کی وجہ سے یہ ضرور ہماری معیشت کے اوپر اثر انداز ہوا لیکن چونکہ ہماری معیشت پختہ تھی 2007 ءنومبر تک ہم نے یہ تمام دھچکے ہماری معیشت نے سہے اور اسی لئے ایکسچینج ریٹ بھی مستحکم رہا، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھتے رہے، سب معاملات معاشی لحاظ سے ٹھیک چلتے رہے لیکن اب یہ (ڈاؤن سٹرائیک) تنزلی کی طرف بڑھ رہے ہیں تو یہ کہنا کہ یہ پالیسی نو سال سے ہی خراب تھی۔

میں سمجھتا ہوں کہ جو بھی یہ کہتا ہے پاکستان کیلئے نقصان دہ اور عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ بجلی کا بحران جو میں تفصیلی میں نہیں جانا چاہتا ہوں بجلی کی طلب میں چونکہ معاشی حالت بہتر ہورہی تھی، عوام میں ترقی ہورہی تھی، پیسے زیادہ ہوگئے تھے، تو بجلی کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے پچھلے سات آٹھ سال میں اور میں اعتراف کروں گا کہ اس کے مقابلے میں ہم نے اپنی (بجلی کی) پیداواری صلاحیت کو اسی رفتار سے اور مقدار میں نہیں بڑھا سکے لیکن یہ کہنا کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں کوئی اضافہ ہی نہیں ہوا پچھلے نو سالوں میں یہ سراسر غلط ہے۔

تین ہزار میگاواٹ سے زیادہ جنریشن گزشتہ نو سال میں ہوئی ہے لیکن جیسے میں نے کہا کہ ناکافی رہی کیونکہ اقتصادی ترقی بہت تیز تھی اور بجلی کی مانگ بہت زیادہ تھی۔ لیکن یہ کہنے کے بعد میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اب کیا صورتحال ہے۔ جون 2007 ءمیں ہم 14 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کررہے تھے۔ جون 2008 ءمیں 10 ہزار میگاواٹ ہم پیدا کررہے ہیں ۔ کیوں؟

پیداواری صلاحیت وہی ہے لیکن ’سرکلر ڈیٹ‘ کا مسئلہ ہوا ہوا ہے۔ پیسے نہیں مل رہے ہیں (بجلی)جنریٹ کرنے والی( نجی کمپنیاں ) آئی پی پیز کو اس لئے ان بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں نے بجلی پیدا کرنی کم کردی ہے تو لہذا یہ لوڈشیڈنگ زیادہ ہوگئی۔

یہ حائق میں نے اس لئے بتائے کہ قوم کو خاص طورپر یہ دو باتیں جن کے اوپر ایک فضا بنائی جارہی ہے کہ پچھلی حکومت نے گزشتہ نو سال کے دوران کچھ بھی نہیں کیا یہ سراسر جھوٹ ہے، قوم کے ساتھ فریب ہے اور میں یہ کہوں گا کہ یہ ساری باتیں کھلیں تو قوم کو اور ملک کو اور زیادہ نقصان ہونے کا خطرہ ہے۔

اس لئے ماضی کو چھوڑیں آئندہ کو مستقبل کو دیکھیں یہ جتنے بھی معاملے ہیں یہ حل ہوسکتے ہیں، حکومت کو ان کا حل ڈھونڈنا چاہئے اور میں چاہتا ہوں کہ اور میری یہ دعا ہے کہ اور یہ کیونکہ یقین بنایا جاسکتا ہے اس لئے میری دعا یہی ہے کہ حکومت مستقبل کی طرف دیکھ کر ان مسائل کا حل ڈھونڈے اور پاکستان کو آگے کی طرف لے کر جائے۔

بہنو اور بھائیو

کچھ اور حقائق میری نظر میں ہیں، میں ان پر نظر ڈالنا چاہوں گا۔ میرے خیال میں، میں یہ پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے ان پچھلے نوسالوں میں ہر شعبے کی بہتری کیلئے، ہر شعبے کے (مسائل) پر توجہ دی اور ہر شعبے میں پاکستان کو آگے ترقی کی طرف لے کر گئے۔

ترقیاتی منصوبوں کی سب سے پہلے میں بات کرنا چاہوں گا، بہت اختصار کے ساتھ ۔ سڑکوں کو دیکھیں، مواصلاتی نظام کو دیکھیں۔ ایک ایم ٹو بنائی گئی تھی راولپنڈی سے لاہور تک، اس کا بہت چرچا ہوا تھا، اس کے علاوہ مجھے نہیں نظر آتا کہ پہلے کیا گیا تھا اس ملک میں، لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان نو سالوں میں ساڑھے سات سو کلو میٹر کی کوسٹل ہائی وے بنائی گئی۔

ایم ون پشاور سے راولپنڈی اسلام آباد سڑک بنائی گئی، ایم تھری لاہور سے فیصل آباد کی طرف سڑک بنائی گئی، اسلام آباد مری ایکسپریس وے بنائی گئی۔ کراچی نادرن بائی پاس بنایا گیا۔ لواری ٹنل زیرتعمیر ہے، گوادر سے رتوڈیرو نوسوپچاس کلو میٹر کی سڑک زیر تعمیر ہے، شمالی علاقہ جات کی سڑکیں بنائی گئی ہیں جو چترال، گلگت ، ہنزہ، سکردو کو آپس میں ملاتی ہیں اور ان کے علاوہ کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد کی طرف نظر ڈالیں تو سڑکوں کا نظام، کتنی ترقی کررہا ہے یہ آپ خود ہی دیکھ سکتے ہیں۔

آبی منصوبوں کو لے لیں، جس کے بارے میں کچھ نہیں کیا جارہا تھا اس سے پہلے، تیس سال گزر گئے ہم نے بڑے ڈیم بنائے تھے، اب اللہ تعالی کے فضل وکرم سے میرانی ڈیم تیار ہوگیا ہے، سبکزئی ڈیم تیار ہوگیا اس کا افتتاح ہوگیا، ست پارہ ڈیم سکردو میں تیار ہوکر اس کا افتتاح ہوگیا ، منگلا ڈیم کی اونچائی مکمل ہوگئی ہے آج کل ادھر پانی بھرا جارہا ہے ، تیس فٹ زیادہ پانی اس کی اب پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت دوگنا ہوجائے گی اس سے جتنا زیادہ آبپاشی کو فائدہ ہوگا وہ آپ خود ہی جانتے ہیں۔ گومل زام ڈیم بنایا جارہا ہے ۔

اگر نہروں کو لیا جائے تو کچھی کینال بنایا جارہا ہے، ساٹھ ستر فیصد تک مکمل ہے تقریباً اس سے سات لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہوگی۔ رینی کینال بن رہا ہے۔ ٹل کینال بن رہا ہے، یہ کینال جب بن جائیں گے اور ڈیمز جو بن گئے ہیں یہ مجموعی طورپر تین ملین ایکڑ زمین، غیر کاشت شدہ زمین کو سیراب کریں گے۔ اس کا ہماری زراعت کو کیا فائدہ ہوگا اس کا آپ خود اندازہ لگا لیں۔ تیس لاکھ ایکڑ غیر کاشت شدہ زمین اس سے سیراب ہوگی۔

اس کے علاوہ کھالوں کو پختہ کرنے کا عمل چاروں صوبوں میں جاری ہے۔ ستر فیصد مکمل ہوگیا ہے۔ 65 ارب روپے کا یہ منصوبہ تھا اس سے بھی کاشتکاروں کا فائدہ ہے جو آخری سرے پر کاشتکار ہیں ان کا فائدہ ہوگا۔ گوادر بندرگاہ بن چکی ہے، نئے ہوائی اڈے بن رہے ہیں کچھ بنائے گئے ہیں، کچھ کو بہتر بنایا گیا ہے، ٹیلی کمیونیکیشن میں انقلاب آگیا ہے۔

پانچ سال پہلے پانچ چھ لاکھ موبائل فون ہوتے تھے آج آٹھ کروڑ موبائل ٹیلی فون ہیں، ٹیلی ڈینسٹی 2.9فیصد تھی جو آج پچاس فیصد سے زائد ہے یہ ایک انقلاب ہے۔ یہ تھی ترقیاتی منصوبوں کی بات۔

صنعت کو دیکھیں ہرطرف صنعتیں، ہرطرف انڈسٹری پھیل رہی تھی لوگوں کو نوکریاں مل رہی تھیں، سرمایہ کاری آرہی تھی، اسی سے اندازہ لگائیں کہ کسی ہوٹل میں جائیں۔ تو سو فیصد کمرے بک ہوتے تھے اس کی وجہ سے اسلام آباد میں بھی چار پانچ ہوٹل بنائے جارہے تھے۔

یہ صورتحال تھی سرمایہ کاری کی پاکستان میں اور چونکہ انڈسٹری یہاں لگ رہی تھی، بیرون ملک سے لوگ آرہے تھے ۔ ملک کے اندر اور باہر سے لوگ صنعتیں لگا رہے تھے جس کی وجہ سے لوگوں کو نوکریاں مل رہی تھیں، جب نوکریاں مل رہی ہوں تو بیروزگاری میں کمی آتی ہے۔ بے روزگاری کام ہونے سے غربت کم ہوتی ہے۔ جو 34 فیصد سے کم ہوکر 24 فیصد پر آگئی۔ یہ صورتحال تھی عوام کی بہتری اور خوشحالی کی۔

تعلیم کے شعبے کو اگر دیکھا جائے تو اس کی تفصیلات میں میں نہیں جانا چاہتا ہوں ، خواندگی کے مسئلے کو بحال کررہے تھے ، ہم سیکنڈری، پرائمری سطح پر توجہ دے رہے تھے لیکن میں یہاں پر صرف دو چیزوں کا ذکر کروں گا۔ فنی تعلیم اور ووکیشنل تربیت اس کا جال پھیل رہا تھا نیوٹیک کے نیچے اس میں آرمی بھی شامل تھی ، بورڈ اس میں شامل تھے کئی ہزار بچے ووکیشنل ٹریننگ لے رہے تھے اور ان کو نوکریاں مل رہی تھیں، ہنر سیکھ رہے ہیں اور پیسے کما رہے ہیں۔

یہ صورتحال تھی ٹیکینکل ایجوکیشن اور ووکیشنل ایجوکیشن کی، ہائر ایجوکیشن کا اگر میں نے ذکر نہ کیا تو بہت زیادتی ہوجائے گی۔ ہائیر ایجوکیشن میں دو باہر کی یونیورسٹیاں، ترقی یافتہ ممالک کی ،ہمارے ساتھ مشترکہ منصوبہ کے تحت آغاز کررہی تھیں۔ معاہدے ہورہے تھے اور وہ آنے کو تیار تھیں ،اراضی مختص کی جا چکی ہے ، پیسے مختص ہوچکے تھے، اور آگے کی ہم سوچ رہے تھے۔ اور اس کے علاوہ ایک پی ایچ ڈی پروگرام جو کہ ایک بہترین پروگرام ہے، جبکہ پہلے دو تین درجن پی ایچ ڈی سائنس اور انجینئرنگ کے مضامین میں ہوتے تھے آج فخر سے کہتا ہوں کہ ہمارا ہدف ڈیڑھ ہزار پی ایچ ڈی سالانہ 2010 ءتک بنایا ، اور میں یہ بات بھی فخر سے کہتا ہوں کہ تقریباً تین ساڑھے تین سو پی ایچ ڈی ملک واپس آگئے ہیں اور اس وقت تقریباً ایک ہزار پی ایچ ڈی پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یہ تعلیم کے شعبے میں۔

پھر صحت کا شعبہ، اس میں میں یہی کہوں گا کہ ہم نے پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر کو ترجیح دی، اس میں بے شمار بنیادی مراکز صحت ، تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کو قائم کیا اور سب سے بڑی بات کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا سلسلہ جس میں ہم نے پانی صاف کرنے کے پلانٹ پورے پاکستان بھر میں جال پھیلانے کا منصوبہ بنایا اس پر اربوں روپے لگائے گئے ہیں۔

ہمارا منصوبہ یہ تھا کہ یونین کونسل تک چھ ہزار پینے کا صاف پانی فراہم کرنے والے پلانٹ لگائے جائیں تاکہ یہ جو بیماریاں پھیلتی ہیں پینے کے پانی سے ، اس سے لوگوں کو عوام کو محفوظ رکھا جاسکے، یہ منصوبہ الگ تھا، خواتین کے شعبہ کی میں ضرور ذکر کرنا چاہوں گا، اس میں کیا ہوا ، خواتین کو بااختیار بنانے ، خواتین کی ترقی کیلئے میں سمجھتا ہوں کہ کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا جب تک کہ ہم خواتین کو جائز رول نہ دے سکیں اور برابری نہ دے سکیں۔

اس شعبہ میں ہم نے تین نکاتی حکمت عملی اختیار کی یعنی، سیاسی طورپر باختیار بنانا، معاشی طور پر بااختیار بنانا اور قوانین میں ترمیم لاکر خواتین کے ساتھ جو زیادتیاں ہورہی تھیں ، امتیازی قوانین کو ٹھیک کرنا۔ سیاسی طورپر بااختیار نہ بناتے تو آج جو بھی خواتین چاہے وہ اپوزیشن میں ہی بیٹھی ہوئی ہیں، چاہے وہ اتحادی حکومت کی ہیں سب کو پتہ ہونا چاہئے کہ ہماری پالیسی خواتین کو بااختیار بنانے کی جس میں ان کیلئے مخصوص نشستیں بنائی گئیں۔

لوکل گورنمنٹ لیول پر، صوبائی سطح پر، قومی سطح پر سینٹ میں جس کی وجہ سے وہ آج یہاں بیٹھی ہوئی ہیں اور اپنی آواز بلند کرسکتی ہیں۔ جیسا کہ معاشی طور پر انہیں بااختیار بنانے اور امتیازی قوانین کے بارے میں میں نے آپ کو بتا دیا، عزت کے نام پر قتل اور حدود آرڈیننس کو بھی ہم نے جائز طریقے سے اسلامی نظریے کے مطابق، اقلیتوں کا بھی ہم نے خیال رکھا ان کو بااختیار بنایا وہ بھی خوش ہیں۔

کیونکہ ہم نے ان کو مخلوط طرز انتخاب دے دیا اور دوہرا فائدہ دیا کہ وہ اپنی مخصوص نشستیں بھی قائم رکھیں۔ ثقافت اور ورثہ اس کو بھی ہم نے فروغ دیا اس کو بھی ہم نے نظرانداز نہیں کیا ، ہر ملک کو اپنے ورثہ اور ثقافت کا خیال رکھنا چاہئے تاکہ دنیا بھی دیکھے کہ ہم نئی عوام اور قوم نہیں ہیں ہماری ایک بھرپور تاریخ اور ثقافت ہے، اس میں آپ دیکھیں گے کہ ہم نے قائداعظم کے مزار کے ساتھ ہم نے بہتری کی جس کی وجہ سے وہاں ہزاروں لوگ ہر شام بیٹھ سکتے ہیں اور تفریح کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں آپ دیکھیں یہاں ایک ثقافتی میوزیم بنایا جس میں ہزاروں لوگ جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ کیا ہے اور ہماری ثقافت کیا ہے، علاقائی ثقافت کیا ہے پھر ہم نے یہاں قومی یادگار بنائی ہے جو خوبصورت یادگار ہے لوگ وہاں جاتے ہیں اس کے ساتھ ایک اور میوزیم بنایا گیا ہے جو تحریک پاکستان کے بارے میں عوام کو اور آنے والی نسلوں کو بتائے گا، ہم نے یہاں ایک آرٹ گیلری کھولی ہے جو دنیا کے لوگ وہاں آتے ہیں اسے دیکھتے اور حیران ہوتے ہیں کہ یہ اتنی زبردست آرٹ گیلری کھولی ہے اگر آپ لاہور جائیں تو بہت خوبصورت باغ پاکستان بنایا جا رہا ہے، والٹن میں بنایا گیا ہے، یہ خوبصورت قومی یادگار ایک سال بن کر سامنے آیا ہے، کراچی جائیں تو وہاں نیپا (نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ) یہ ہم نے بنائی ہے اور اس میں فخر سے کہتا ہوں کہ آج پرفارمنگ آرٹ جسے بعض لوگ عزت کی نظر سے نہیں دیکھتے آج پڑھے لکھے جوان ، بچے بچیاں یہاں سے ڈگریاں لے رہے ہیں۔ تین سال کا کورس کر کے ڈگریاں لے رہے ہیں۔ یہ ہم نے پرفارمنگ آرٹ کو فروغ دیا ہے اور ثقافت اور ورثہ کو آگے لے کر گئے ہیں۔

جمہوریت کی بات بہت ہوتی ہے ،میں فوجی ہوں، میرے خلاف یہ ہے کہ میں جمہوریت کے خلاف ہوں میرے خیالات اس کے بالکل برعکس ہیں، پہلے جمہوریت کی بات ہوتی تھی وہ صرف بوتل پر جمہوریت کا لیبل تھا اس بوتل کے اندر جمہوریت کی روح نہیں ہوتی، ہم نے گذشتہ نو سال کے اندر اس میں جمہوریت کی روح ڈالی۔

لوکل گورنمنٹ کا نظام متعارف کرایا، لوکل گورنمنٹ کا نظام وہ ہے جو پالیسی تشکیل دینے اور اس پر عملدرآمد میں جو خلاءتھا اس کو پورا کرتا ہے۔یہاں اسلام آباد میں یا صوبائی درالحکومتوں میں بیٹھ کر پالیسیاں تو بہت بنتی تھیں لیکن نچلی سطح پر ان پر عملدرآمد یونین کونسل کی سطح پر ، گاؤں کی سطح پر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا تھا۔یہ وہ ا یک ادارہ ہے جس نے عملدرآمد کے اس خلاءکو دور کیا۔

میری نظر میں جو شخص کوئی فرد اس کے خلاف بولتا ہے اس کے خلاف کارروائی کریں گے وہ میرے خیال میں پاکستان کے ساتھ پاکستان کو نقصان پہنچائے گا۔ہم نے دو انتخابات کرائے، سینٹ میں نیشنل اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں ، لوکل گورنمنٹ دو مرتبہ انتخابات کرائے اور تمام نے اپنی مدت پوری کی،اس کے علاوہ میں نے اقلیتوں اور خواتین کو با اختیار بنانے کے بارے میں پہلے بتا دیا ہے۔ یہ جمہوریت اس کی حقیقی روح کی میں بات کر رہا ہوں جسے ہم نے متعارف کرایا ہے۔

دنیا میں پاکستان کا رتبہ 1999ء سے پہلے کہاں تھا، پاکستان کی کوئی پہچان نہیں تھی، پاکستان کو کوئی جانتا نہیں تھا، پاکستان کی بات کوئی سنتا نہیں تھا، ہم نے پاکستان کو ایک رتبہ دیا،ہماری بات سنی جاتی ہے، فورمز پر جب ہم جاتے ہیں تو ہماری بات کی ا یک اہمیت ہوتی ہے تولہذا پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ڈال دیا اور اس کو اہمیت دی، اس کو رتبہ دیا، جو آج بھی اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہے۔

امن وامان کی بات بہت ہوتی ہے، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس میں ہم اپنی پوری کوشش کی اور کچھ کامیابیاں ہوئیں، امن و امان نافذ کرنے والے اداروں کو ہم نے چاہے وہ سول آرمڈ فورسز ہوں یا پولیس، پولیس میں بھرتیوں میرٹ پر مبنی، ان کی تربیت اس میں بہتری ان کیلئے ساز وسامان، ان کی استعداد کار میں اضافہ، فرینزک لیبارٹریاں کھولیں اور سول آرمڈ فورسز کی ان کی آرگنائزیشن بہتر کی اور ان کیلئے اسلحہ اور تربیت بہتر بنائی۔

اس کے نتیجے میں میرے خیال میں جو کامیابی ملی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے جو بھی کوئی اہم شخصیت جاتی تھی تو اس کے آگے پیچھے کلاشنکوف پکڑے ہوئے ہڈ پہنے ہوئے بعض اوقات لوگ ان کے آگے پیچھے گھوم رہے ہوتے تھے سڑکوں اورہوائی اڈوں پراور سب لوگوں کو پریشان کرتے تھے اور اگر کوئی جلسہ ہو رہا ہے تو وہاں سو آدمی ہڈ پہنے ہوئے کلاشنکوف پکڑے ہوئے کھڑے ہوتے تھے، یہ کیسا ملک چل رہا تھا، وہ الحمد اﷲ سب سلسلہ ختم ہوگیا تھا،اسلحہ کی نمائش، کلاشنکوف کی نمائش اور نقاب پوش لوگوں کی عوامی جلسوں میں سڑکوں پر کہیں نظر نہیں آتے تھے، یہ کامیابی ہے لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ ستمبر گیارہ کے بعد ایک نیا دہشت گردی کا کردار بدقسمتی سے شروع ہوا، خود کش حملوں کے سلسلے سے نمٹنا پڑے گا۔ پوری قوم کو مل کر امن امان نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دے کر سے نمٹنا پڑے گا۔

یہ تمام کامیابیاں تھیں جن پر مجھے فخر ہے،دنیا کے رتبے کی اگر میں نے بات کی ہے تو اس کا ثبوت آپ ڈونرز کانفرنس پر نظر ڈالیں جو زلزلے کے بعد ہم نے ڈونرز کانفرنس بلائی، 80 ممالک کے نمائندے اور مندوب آئے جبکہ ہمیں پانچ ارب ڈالر کی ضرورت تھی ہمیں ساڑھے چھ ارب ڈالر دینے کے وعدے کئے گئے، یہ ہمارا رتبہ تھا، یہ پاکستان کی پوزیشن تھی اور جیسے میں نے کہاکہ ان کامیابیوں پر مجھے فخر ہے۔ حکومت کو فخر ہے اور یہ تمام کامیابیاں پاکستان اور پاکستان کے عوام کیلئے کی گئیں۔

اب کچھ ان باتوں کے بعد موجودہ صورتحال پر آتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی دنگل میں شروع سے میری کوشش مفاہمت کی رہی ہے، یہی میری کوشش تھی کہ مفاہمت کی فضاء بنائی جائے، اس کا ثبوت میرا اپنا رویہ ذاتی سطح پر اور ادارے کی سطح پر، ذاتی سطح پر اپنے اس رویے کی میں وضاحت نہیں کرنا چاہتا، جو میں کہنا چاہا رہا ہوں لوگ وہ سمجھیں، کوئی انتقامی کارروائی، کوئی بدلہ لینے کا رویہ اختیار نہیں کیا اور میں نے ذاتی طور پر بھی ایسا رویہ اختیار نہیں کیا۔

ہم تین مراحل میں تبدیلی کی بات کی تھی کہ 1999ء سے بتدریج تبدیلی لاؤں گا اور بتدریج جمہوری عمل کو فروغ دیا جائے یہی تین مرحلوں کا پروگرام چلتا رہا، اس کا تیسرا مرحلہ آیا جس میں نے بری فوج کے سربراہ عہدے کو چھوڑا اور پھر 18 فروری کو ایک بہت شفاف اور صاف انتخابات کرائی جو پوری دنیا مانتی ہے کہ اس ملک میں سب سے شفاف اور صاف انتخابات ہوئے اور ان انتخابات کے بعد بہت خوش اسلوبی سے اختیارات منتقل کر دیئے گئے۔یہ ثبوت ہے ہمارا اور میرا ذاتی طور پر یقین مفاہمت اور مفاہمت کی فضاءکو قائم کرنے کیلئے کوشش رہی۔

18 فروری کے انتخابات کے بعد عوام کی کچھ امیدیں، امنگیں اپنے منتخب نمائندوں اور حکومت کی طرف سے وابستہ ہوئیں۔ وہ کیا امیدیں تھیں؟ وہ کیا امنگیں تھیں؟

وہ چاہتے تھے کہ مسائل کا حل ملے، ماضی کو چھوڑا جائے، مستقبل کی طرف دیکھا جائے۔ پاکستان اور پاکستان کی عوام کو اور خاص طور پر غریب عوام کو ترقی کی طرف لے کر جایا جائے۔ بے روزگاری کم کی جائے، ریاستی اداروں میں ہم آہنگی لائی جائے، کشیدگی ختم کی جائے، یہ ان کی امیدیں ہیں وابستہ تھیں حکومت سے اور اپنی منتخب نمائندوں سے۔

بدقسمتی میری تمام اپیلوں، مفاہمت کی طرف اور میری اپیلوں کہ پیچیدہ مسائل کو حل کیا جائے، ماضی کو چھوڑ کر مستقبل کو دیکھا جائے اور اس کے بارے میں سوچا جائے اور تمام کوششیں ، طاقتیں پیچیدہ مسائل پر لگا کر ان پر صرف کی جائیں لیکن میرے خیال میں بڑے افسوس کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ میری یہ تمام کوششیں ناکامیاب ہوئیں۔

کچھ عناصر ایسے تھے جو معیشت اور اکانومی کے ساتھ دہشت گردی کے ساتھ سیاست کھیل رہے ہیں۔نقصان پاکستان کا ہے، نقصان پاکستان کی عوام کا ہے۔مفاہمت کی بجائے تصادم کی فضاء شروع ہوگئی، ایک انتقام میں بدلہ لینے کے بہانے مجھ پرالزام لگایا گیا کہ ایوان صدر سے سازشیں ہوتی ہیں یہ بالکل بے بنیاد الزام حقائق کے بالکل برعکس اور منافی ہے۔

میں بتانا چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے تو آپ یہ د یکھیں کہ شفاف اور صاف انتخابات 18 فروری کو ہوئے جس میں تمام جماعتوں اور لوگوں نے شرکت کی، حصہ لیا اور اس میں تمام لوگوں کی شمولیت میں نے ہم نے ممکن بنائی۔ اگر کوئی سازش ہوتی تو ہم یہ کیوں کرتے؟ کیوں فیئر کرتے؟کیوں سب کو انتخابات میں حصہ لینے دیتے؟

وزیراعظم کے انتخاب کو دیکھیں بلا مقابلہ کیسے انتخاب ہوگیا۔اپوزیشن نے بھی،سندھ اسمبلی کی کوششوں کو دیکھیں، ا یم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی اور دیگر تمام جماعتوں کی، بلوچستان کو دیکھیں یہ تمام کلچر آف ڈی سینسی دیکھیںاپوزیشن کی طرف سے، صحت مند اپوزیشن اسمبلی میں، اس میں بجٹ میں بھی پاس ہوگیا اپوزیشن نے اس کی حمایت کی، یہ تمام کیسے ممکن ہوئے؟

اگر میں سازشیں کر رہا ہوں حکومت کے خلاف اور افراد کے خلاف، میں نے عوام کے سامنے اپنی حمایت کا حکومت کیلئے اعلان کیا، وزیراعظم کیلئے حمایت کا اعلان کیا اور میں نے یہ تک کیا ہے کہ ان آٹھ سالوں میں میرا جو بھی تجربہ ہے وہ حکومت کو دینے کیلئے تیار ہوں، میری کوشش رہی ہے کہ کوئی سرمایہ ہے، میرے اندر کوئی قابلیت ہے تو وہ میں حکومت کے حوالے کروں تاکہ جو پیچیدہ مسائل ہیں چیلنجز ہیں، بحران ہے، اس کی طرف میری کوشش ہو جائے حکومت کے ساتھ لیکن بدقسمتی سے اتحادی حکومت نے یہی سمجھا کہ میں ایک مسئلہ ہوں، حل نہیں۔

اب یہ میر امواخذہ کرنا چاہتے ہیں کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ میرے آئینی حق سے خوفزدہ ہیں، یہ آئینی حق ہے مجھے بہت سے چیزوں کا ،کیا یہ اپنے موجودہ اور آئندہ کی غلطیاں چھپانا چاہتے ہیں کیا یہی ان کا مقصد ہے؟

میری بہنوں اور بھائیو!

مواخذہ اور چارج شیٹ دینا پارلیمنٹ کا حق ہے اور اس کا جواب دینا میرا بھی حق ہے، مجھے اپنے آپ پر یقین ہے اور اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ ہے کہ کوئی بھی چارج شیٹ میرے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتی، کوئی ایک الزام بھی میرے خلاف ثابت نہیں ہوسکتا۔

مجھے اتنا اپنے آپ پر بھروسہ ہے کیونکہ میں نے اپنی ذات کیلئے کبھی کچھ نہیں کیا جو کچھ میں نے کیا وہ پاکستان کمز فرسٹ ، سب سے پہلے پاکستان، اس نظریے اور سوچ او رانداز کے ساتھ کیا۔عوام خاص طور پر غریب عوام ان کا درد ہمیشہ دل میں رکھا۔ ہر فیصلہ مشاورت سے کیا۔ تمام فریقین کو ساتھ ملا کر کیا۔ ہر فیصلے میں پیچیدہ ترین فیصلہ، خطرناک ترین فیصلہ اس میں پورے اعتماد کے ساتھ عوام کو کہتا ہوں کہ تمام فریقین کو اعتماد میں لیا اور یہ بات میری سنیں اور مانیں۔

وہ ”سٹیک ہولڈرز “ فوجی ہوں ،فوجیوں کو ہمیشہ اعتماد میں لیا۔ سیاستدان ہوں، سیاستدانوں کو اعتماد میں لیا۔بیورو کریٹس ، سول سرونٹس ہوں ان کو اعتماد میں لیا۔سول سوسائٹی کے ارکان کو اعتماد میں لےا، بلا کر ان سے مشورہ کیا، علماءکو اعتماد میں لیا جس بھی معاملے میں ان کا تعلق تھا تو تمام فریقین کو جو بھی معاملے سے متعلقہ تھے ان سے ہمیشہ مشاورت کی اور پھر فیصلوں پر پہنچے تو مجھے پورا یقین ہے کہ یہ جو چارج شیٹ ہے اس کی مجھے کوئی فکر نہیں ہے کیونکہ کوئی ایک بھی الزام میرے خلاف ثابت نہیں کیا جا سکتا اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم سے۔

لیکن سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ مواخذہ کے اس معاملے کو ایک ذاتی انا کا مسئلہ بنایا جائے،اس کا ملک پر کیا اثر ہوگا، یہ سوال آتا ہے، یہ دو سوال اٹھتے ہیں میرے ذہن میں،کیا ملک مزید عدم استحکام ، غیر یقینی برداشت کر سکتا ہے؟ کیا ملک مزید تصادم کی فضاء سہ سکتا ہے، کیا ملک کی معیشت اور زیادہ مزید دباؤ برداشت کرسکتی ہے، کیا یہ صحیح ہوگا کہ صدر کا آفس قوم کی وحدت کی علامت ہے۔اس کو مواخذے کے عمل سے گزارا جائے کیا یہ صحیح ہوگا ، کیا یہ دانشمندانہ اقدام ہوگا، مجھے کچھ سال چند دنوں سے یہ سوالات میرے ذہن میں گھوم رہے ہیں اور میں سوچتا ہوں کی یہ شخصی مفاد میں بہادری دکھانے کا وقت نہیں۔ سنجیدگی کا وقت ہے۔

سنجیدگی سے سوچنے کا وقت ہے، مواخذے میں میں جیتوں یا ہاروں، قوم کی ہر صورت میں شکست ہوگی۔ملک کی آبرو عزت پر ٹھیس آئے گی۔ صدر کا دفتر صدر کے دفتر کے وقار کو میری نظر میں بھی ٹھیس آ سکتی ہے۔ پاکستان میرا عشق ہے، پہلے بھی اور اب بھی اس ملک کیلئے اس قوم کیلئے جان حاضر رہی۔44 سال میں نے جان کو داؤ پر لگا کر پاکستان اور اس کی قوم کی حفاظت کی ہے اور کرتا رہوں گا۔ کچھ اور بھی خیال اور سوچ ذہن میں آتے ہیں۔

بعض اوقات سوچتا ہوں کہ ملک جس بحران سے گزر رہا ہے میں کچھ کروں، اس ملک کو اس بحران سے نکالوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اس بحران سے ملک کو نکالا جاسکتا ہے، اس میں صلاحیت ہے، اس کی عوام میں صلاحیت ہے اور اس کو اس بحران سے نکالا جاسکتا ہے۔

بعض دفعہ سوچتا ہوں کہ میں کچھ کروں کہ اس بحران سے اس ملک کو نکالوں، بعض دفعہ یہ بھی سوچتا ہوں کہ کچھ ایسی چیز بھی نہ کروں جس میں کہ غیر یقینی کی فضا اور لمبی ہو جائے یہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔ پارلیمنٹ کو ہارس ٹریڈنگ سے بچانے کا خیال بھی میرے ذہن میں آتا ہے کیوں اپنے ساتھیوں کو ایک مشکل امتحان میں ڈالوں، اس کا بھی خیال میرے ذہن میں آتا ہے۔

مواخذہ اگر ناکام ہو بھی جائے میری نظر میں حکومت کے تعلقات ایوان صدر سے کبھی ٹھیک نہیں ہونگے، کشیدگی رہے گی۔ ملکی اداروں میں کشیدگی رہے گی، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ریاستی ستونوں میں یعنی پارلیمنٹ اور عدلیہ میں کشیدگی ہو جائے، اختلافات ہو جائیں اور خدانخواستہ فوج بھی اس معاملے میں نہ گھسیٹی جائے جو کہ میں کبھی نہیں چاہوں گا لہٰذا اس تمام صورتحال کا جائزہ لے کر اپنے قانونی مشیروں سے، قریبی سیاسی حمایتیوں سے مشاورت کرکے اور ان کی ایڈوائس لے کر ملک اور قوم کی خاطر میں آج عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتا ہوں۔

میرا استعفیٰ آج سپیکر قومی اسمبلی کے پاس پہنچ جائے گا، مجھے کسی سے کچھ نہیں چاہیے، کوئی غرض نہیں ہے، میں اپنے مستقبل کو قوم اور عوام کے ہاتھوں میں چھوڑتا ہوں، انہیں فیصلہ کرنے دیں اور انہیں انصاف کرنے دیں۔

میں اس اطمینان اور تسلی کے ساتھ جارہا ہوں کہ میں جو کچھ بھی اس ملک، اس قوم، عوام کے لئے کر سکتا تھا وہ میں نے دیانتداری، ایمانداری کے ساتھ کیا، ہر کچھ وہ کیا ایمانداری اور دیانتداری سے لیکن میں بھی انسان ہوں، ہو سکتا ہے کوتاہیاں سرزد ہوئی ہوں، مجھے امید ہے کہ قوم اور عوام ان کوتاہیوں سے درگزر کریں گے، اس یقین کے ساتھ کہ میری نیت ہمیشہ صاف رہی، میری نیت میں کوئی کھوٹ نہیں تھا، کوئی کوتاہی ہوئی ہوگی تو وہ غیر ارادی طور پر ہوئی ہوگی۔

مجھے آج جبکہ یہ تسلی ہے اور اطمینان ہے، مجھے رنج اور پریشانی یہ ضرور ہے کہ پاکستان تیزی سے پیچھے کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا ہے، غریب عوام پسا جارہا ہے، اس کا مجھے دلی رنج، پریشانی ہے۔ مجھے امید ہے کہ حکومت ان کو ان پریشانیوں سے نجات دلانے کی طرف پوری کوشش کرے گی۔ میری دعا ہے کہ حکومت اس تنزلی کو روکے اور اس بحران سے کامیابی سے اس ملک کو اور اس ملک کے عوام کو چھٹکارہ دلائے۔

مجھے آج انتہائی خوشی ہے کہ آج میں ایک متحرک اور فعال میڈیا چھوڑ کے جارہا ہوں، مجھے امید ہے کہ جس طریقے سے یہ آزادی چل رہی ہے اتنی ہی ذمہ داری کے ساتھ آئندہ بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔ میرے بہت سے حمایتی اور خیر خواہ اور کچھ آراءپر مشتمل سروے بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ تقریباً 80,85 فیصد لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مجھے رہنا چاہیے۔ میرے حمایتیوں کو ہو سکتا ہے کہ توقع کسی اور فیصلے کی ہو اور ہاں میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بہت میرے حمایتی اور خیر خواہ مجھے کچھ اور راہ کی طرف کہہ رہے تھے۔

میں صرف ان سے یہ کہوں گا کہ میرے اس حقیقت پسندانہ فیصلے کو ملک و قوم کی خاطر قبول کریں۔ اگر ذاتی مفاد میں ہوتا تو میں ہو سکتا ہے کچھ اور کرتا لیکن جیسے میں نے کہا سب سے پہلے پاکستان، تو لہٰذا ’سب سے پہلے پاکستان’ ہمیشہ رہے گا اور میرے خیال میں اس وقت کا تقاضا یہی ہے جو میں نے فیصلہ کیا ہے۔

تمام دلائل میں نے آپ کے سامنے کھل کر دل کی آواز آپ کے سامنے کھل کر آج بتا دی ہے۔ میری نظر میں پچھلے کچھ مہینوں سے ایک خلفشار میرے ذہن میں تھا، میرے دل میں تھا اس قوم کے لئے، قوم کی عوام کے لئے میرے دل میں ہو رہا تھا کہ کس طرف جارہے ہیں، کہاں ہم اونچائی کی طرف جارہے تھے، کہاں میں سوچ رہا تھا کہ یونیورسٹیاں کھل جائیں گی یہاں، بچے تعلیم اور بہترین تعلیم کی طرف جائیں گے، عوام کی بہتری ہوگی، ان کی صحت بہتر ہوگی اور سماجی بہتری کی طرف جائیں گے، کہاں ہمیں اوپر جاتے ہوئے دنیا دیکھ رہی تھی اور اب ہم کہاں جارہے ہیں۔

مجھے امید ہے کہ میرے بغیر بھی یہ قوم، یہ عوام اتنی طاقت کے ساتھ اٹھے گی جو طاقت اور صلاحیت اس ملک نے ہمیشہ دکھائی ہے چاہے 1947ءکی آزادی ہو جبکہ یہ سمجھا جارہا تھا کہ یہ ملک نہیں رہے گا لیکن یہ قوم اور عوام تھی، لوگ تھے، اس کی طاقت تھی، اس کی صلاحیت، ہمت، جرات تھی جو پاکستان کو آگے لے کر گئی۔ آج بھی وہی جرات ، وہی ہمت چاہیے۔

مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم میں صلاحیت ہے، ہمارے پاس وسائل ہیں کہ ہم جو بھی مسائل ہیں، جو چیلنجز ہیں، جو بین الاقوامی فضا کی وجہ سے کا ہم مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس وقت بھی ہماری میکرو اکانومی ٹھیک ہے، نیچے بہت چلی گئی ہے لیکن یہ ریل جو پٹڑی سے اتری ہوئی ہے اس کو ہم واپس پٹڑی پر ڈال سکتے ہیں، مجھے پورا یقین ہے لیکن اگر ہم مفاہمت کی اس فضا میں نہ پڑے، تصادم کا شکار رہے، اس ملک کو دھوکہ دیتے رہے، عوام کو دھوکہ دیتے رہے تو ہم کچھ کر دکھانے میں ناکام ہو جائیں گے اور میرے خیال میں اس ملک کی قیادت کو عوام کبھی معاف نہیں کرے گی۔

اس موقع پر میں افواج پاکستان، آرمی، نیوی، ایئرفورس کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ جتنی انہوں نے مجھے محبت، مجھے احترام، عزت اور میرا کہا مانا، اپنائیت دی میں اس کو کبھی نہیں بھول سکوں گا اور جس دلیری سے جس بہادری سے، جس حب الوطنی سے افواج پاکستان نے ہمیشہ اس ملک کو بچایا، عوام اور لوگوں کی حفاظت کی، اس ملک کی حفاظت کی، اپنی جانوں کا نذرانہ، قربانیاں دی ہیں اس کے لئے تمام قوم اور میں افواج پاکستان کو سلیوٹ کرتے ہیں۔ امن و امان نافذ کرنے والے تمام ادارے، پولیس، سول آرمڈ فورسز جس دلیری اور بہادری سے دہشتگردی کا مقابلہ کرتے ہیں، اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، یہ بے مثال ہے، میں ان کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

میں شکر گزار ہوں میرے تمام سیاسی اور غیر سیاسی رفقاءکا جنہوں نے مجھے دور صدارت یا حکومت چلانے میں مدد کی، میرا ساتھ دیا اور مشکل وقت میں ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ میں ان کو کبھی بھلا نہ سکوں گا۔ میں تمام سول سرونٹس کو، بیورو کریٹس کا بھی شکر گزار ہوں، جن کے تعاون، جن کا کردار تمام حاصل کردہ اہداف میں حکومت کے نو سال میں، تعمیر و ترقی میں وہ انتہائی لائق تحسین ہے، میں ان سب کا بھی شکر گزار ہوں۔ میرے اپنے ساتھی، میرا سٹاف جس محنت اور وفاداری کے ساتھ میرا ساتھ دیا اور میرے کام کو آسان بنایا، میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور میں ان کو کبھی بھول نہیں سکتا۔

پھر اس قوم، عوام، پاکستان کے عوام خاص طور پر غریب، انہوں نے بھی بے پناہ محبت مجھے دی اور اپنائیت دی، مجھے احترام دیا، مجھے پیار دیا، ان کو میں کبھی نہیں بھلا سکوں گا اور اس لئے بھی کہ میں بھی کیونکہ عوام میں سے ہوں۔ میں کسی اونچے خاندان سے نہیں آیا، کوئی آسمان سے زمین پر نہیں آیا ہوں، میں ایک مڈل کلاس آدمی ہوں اور مڈل کلاس سے ابھرا ہوں، میں اس عوام میں سے ہوں۔ اس لئے مجھے ان کے دکھ درد کا ہمیشہ احساس رہتا ہے اور مجھے مشکلات، زندگی کی مشکلات اور ان کی تکلیفوں کا ہمیشہ احساس رہتا ہے۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ میں عوام میں سے ہوں اور ان کا دکھ درد ہمیشہ میرے ساتھ رہتا ہے، میں ان کا شکر گزار ہوں، ان کی حمایت کا میں تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

میری ماں کی دعائیں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں اور مجھے میری اہلیہ اور بچوں کی ہمیشہ بھرپور حمایت حاصل رہی جو بلاشبہ میرے لئے ایک طاقت ہے، آج بھی ان کی یہ حمایت مجھے حاصل ہے۔ میری اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو اپنی حفاظت میں رکھے، اللہ تعالیٰ اس ملک کو سازشوں سے محفوظ رکھے، اللہ تعالیٰ عوام کی مشکلیں آسان کرے۔ میری جان ہمیشہ اس ملک ، اس قوم کے لئے ہمیشہ حاضر رہے گی جیسے پہلے رہی تھی ویسے ہی اس کے بعد بھی رہے گی۔

پاکستان کا اللہ حامی و ناصر ہو، پاکستان ہمیشہ پائندہ باد۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

نو سالہ دورِ اقتدار کا طائرانہ جائزہ

Posted on 18/08/2008. Filed under: پاکستان |

جنرل پرویزمشرف کو سات اکتوبر سنہ انیس اٹھانوے کو اس وقت پاکستان کا آرمی چیف مقرر کیا گیا جب جنرل جہانگیر کرامت نے وزیراعظم نواز شریف سے اختلافات ہونے کی بناء پراستعٰفی دے دیا تھا۔

بارہ اکتوبر سنہ انیس ننانوے کو جنرل پرویزمشرف نے سری لنکا سے واپسی پر نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا اور آئین کو معطل کر کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھال لیا۔

جنرل پرویزمشرف نے سات نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا اور احتساب کے لیے نیب یعنی قومی احتساب بیورو کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔نیب کے روبرو سابق وزرا اعظم نواز شریف اور بینظیر بھٹو سمیت دیگر سیاست دانوں کے خلاف مقدمات کی سماعت ہوئی۔

ستائیس جنوری سنہ دو ہزار کو اعلٰی عدلیہ کے ججوں کے لیے پی سی او جاری کیا جس کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی سمیت ایک درجن کے قریب ججوں کو برطرف کردیا گیا۔

بارہ مئی سنہ دو ہزار کو سپریم کورٹ کے فل بنچ نے بارہ اکتوبر کے فوجی اقدام کے خلاف درخواست پر جنرل پرویز مشرف کو تین مہینے کے اندر انتخابات کرانے کے لیے حکم دیا۔

سنہ دو ہزار ایک میں جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں نیا ضلعی نظاِم حکومت متعارف کرایا جس کے تحت پہلے ملک بھر میں مرحلہ وار انتخابات ہوئے اور چودہ اگست دو ہزار ایک میں اس نظام کے تحت منتخب ہونے والوں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔

بیس جون سنہ دو ہزار ایک کو جنرل پرویز مشرف نے بھارت یاترا سے قبل اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کو برطرف کر کے ان کی جگہ خود صدر بن گئے جبکہ اسی روز پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کو بھی تحلیل کردیا۔

گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک نائن الیون کے واقعہ کےبعد جنرل پرویز مشرف امریکہ کےاتحادی کی حیثیت سے سامنے آئے اور ان کو امریکہ کی بھر پور حمایت حاصل رہی۔

پانچ اپریل سنہ دو ہزار دو کو صدر مشرف نے قوم سے اپنے خطاب میں صدارتی ریفریڈم کرانے کا اعلان کیا تھا۔

تیس اپریل سنہ دوہزار کو متنازعہ ریفرنڈم ہوا جس میں جنرل پرویز مشرف صدِر مملکت بن گئے۔

اگست دو ہزار دو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے معطل آئین میں ترمیم کے لیے ایل ایف او یعنی لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا جس کے تحت صدر اسمبلی تحلیل کرنے، نیشنل سیکیورٹی کونسل کا قیام اور اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کردی گئی۔

دس اکتوبر سنہ دو ہزار دو کو پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے انتخابات ہوئے ۔ان انتخابات میں منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی نے چھتیس دن بعد سولہ نومبر کو حلف اٹھایا۔ جبکہ انیس نومبر کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات ہوئے جس میں چوہدری امیر حسین سپیکر اور سردار یعقوب ڈپٹی سپیکر کے طور پر منتخب ہوئے۔

تیس نومبر سنہ دو ہزار دو کو صدر پرویز مشرف نے نئے وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی سے حلف لیا۔

پچیس دسمبر سنہ دو ہزار تین کوراولپنڈی میں صدر مشرف کے قافلے پر خود کش حملہ ہوا تاہم صدر مشرف محفوظ رہے۔ اس حملے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔اکتیس دسمبر سنہ دوہزار تین کو صدر جنرل پرویز مشرف کی توثیق کے بعد سترھویں ترمیم پاکستان کے آئین کا باقاعدہ حصہ بن گئی۔ سترھویں ترمیم متحدہ مجلِس عمل کے ساتھ معاہدے کے بعد پیش کی گئی۔ اس بِل کے تحت صدر مشرف آئندہ سال کے آخر تک فوجی وردی اتار دیں گے۔

یکم جنوری سنہ دو ہزار چار پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے چھ سو اٹھاون ارکان نے صدر مشرف کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

چار فروری سنہ دو ہزار چار کو ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدلقدیر خان نے ’ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے تمام الزامات قبول کرتے ہوئےصدر جنرل پرویزمشرف سے ملاقات کر کے رحم کی اپیل کی ہے۔

تیس جون سنہ دوہزار چار کو چودھری شجاعت حسین سے صدر مشرف نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا۔

اٹھائیس اگست سنہ دو ہزار چار کو صدر پرویز مشرف نے شوکت عزیز سے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا۔

پندرہ جولائی سنہ دو ہزار پانچ کو صدر مشرف کی جانب سے سرحد اسمبلی میں پاس کیے گئے حسبہ بل کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا ۔

پچیس ستمبر سنہ دو ہزار چھ کو صدر پرویزمشرف کی کتاب ’ان لائن آف فائر‘ْ کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب فروخت کے لیے پیش کی گئی ۔

نو مارچ سنہ دوہزار سات کو صدر مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کے خلاف ریفرنس دائر کردیا اور اس طرح صدر مشرف کے خلاف ایک احتجاجی تحریک شروع ہوگئی۔

ستائس جولائی کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے درمیان ابوظہبی میں ہونے والی ملاقات بغیر کسی اتفاق کے ختم ہوگئی ۔

پانچ اکتوبر کو صدر مشرف کی منظوری کے بعد بدعنوانی مقدمات کی واپسی کا قومی مصالحتی آرڈیننس جاری کرکیا گیا۔

دو اکتوبر کو پاکستان کے صدر اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق کیانی کو ترقی دے کر فوج کا نیا سربراہ نامزد کر دیا جبکہ لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید کو چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی نامزد کردیا ۔

چھ اکتوبر کو ہونےوالے صدارتی انتخاب میں جنرل مشرف دوبارہ صدر منتخب ہوگئے جبکہ ان کی اہلیت کے حوالے سےصدارتی امیدوار جسٹس وجیہ الدین کی درخواست سپریم کورٹ کے فل بنچ کے روبرو زیر سماعت تھی۔

تین نومبر سنہ دوہزار سات کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگادی ۔اُنہوں نے اعلی ججوں اور آئین کو معطل کردیا تھا اور پی سی او کے تحت ججوں سے حلف لیا گیا۔

گیارہ نومبر صدر مشرف نے اسمبلیاں پندرہ نومبر کو ختم کرنے اور عام انتخابات جنوری کے اوائل میں کرانے کا اعلان کیا۔

پندرہ نومبر کو صدر مشرف نے قومی اسمبلی کی آئینی مدت مکمل ہونے پر اس کو تحلیل کردیا اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کو پاکستان کا نگران وزیر اعظم مقرر کردیا۔

سولہ نومبر کو صدر جنرل مشرف نے نگران وزیراعظم اور کابینہ سے حلف لیا۔
اُنیس نومبر پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے ججوں نے صدر مشرف کی اہلیت کے خلاف دائر چھ میں سے پانچ آئینی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔

بائیس نومبر سپریم کورٹ نے صدر مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف دائراپیل مسترد کر دی۔ اس دن ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کے خلاف دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کردی۔

تئیس نومبر سپریم کورٹ نے صدر مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کو درست قرار دیا۔

ستائیس نومبر صدر مشرف نے فوجی دستوں اور اعلی فوجی افسران سے الوداعی ملاقات کی۔

اٹھائیس نومبر ایک فوجی تقریب کے دوران صدر مشرف نے فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے سپرد کردی۔

اُنتیس نومبر صدر مشرف نے سویلئن لباس میں دوسری بار ملک کے صدر کا حلف اُٹھا لیا اور ایک بار پھر قوم سے خطاب کیا۔

نو دسمبر صدر مشرف نے اعلان کیا کہ ملک سے ایمرجنسی پندرہ دسمبر کو اُٹھالی جائے گی۔

پندرہ دسمبر صدر مشرف نے ملک سے ایمرجنسی ختم کرتے ہوئے آئین بحال کردیا۔

اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات میں صدر پرویز مشرف کی حامی جماعت مسلم لیگ قاف کو ناکامی ہوئی۔

پچیس مارچ دو ہزار آٹھ کو صدر مشرف نےوزیراعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کوحلف دلوایا۔

سات اگست کو حکمران اتحاد میں شامل چار بڑی جماعتوں نے’جنرل مشرف‘ کا مواخذہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ پنجاب ،سندھ سرحد اور بلوچستان اسمبلی نے الگ الگ قرارداد منظور کی جن میں صدر پرویز مشرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا گیا۔

اٹھارہ اگست کو صدر پرویزمشرف نے قوم سے خطاب کر کے اپنے استعفیْ کا اعلان کردیا۔

بشکریہ ۔ بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

پی سی بی کے چیئرمین بھی مستعفی

Posted on 18/08/2008. Filed under: پاکستان |

صدر مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید اور چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے الگ الگ ان سے الوداعی ملاقات کی ہے جبکہ آج ٹی وی کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ صدر مملکت کے مستعفی ہونے کے بعد اب پی سی بی کے چیئرمین بھی مستعفی ہو گئے ہیں۔
مزید دیکھتے ہیں کہ صدر مشرف کے وفاداروں میں سے کون کون وفاداری کا حق ادا کرتا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

مشرف مستعفی ۔ آگے کیا ہو گا؟

Posted on 18/08/2008. Filed under: پاکستان |

صدر مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد آگے کیا ہو گا؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ابھی شاید کسی کے پاس نہ ہو!
مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد کیا اب جج بحال کر گئے جائیں گا؟
پاکستان کا اگلا صدر کون گا؟
یہ دو اہم سوال ہیں جس بارے ہر پاکستان سوچ رہا ہے، جج بحال ہوں گے یا نہیں اس بات سے قطع نظر بات کرتے ہیں ملک کے اگلے صدر کی جس کے بارے میں سوچ کر میرے پسینے چھوٹے جا رہے ہیں۔ کیا کہیں زرداری کی صورت میں قوم پر ایک نیا عذاب تو نہیں آنے والا؟
میری دعا ہے کہ ایسا کبھی نہ ہو، مگر پاکستانی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں چھوٹی برائی کو دور کرتے ہوئے بڑی برائی ہمارے گلے پڑ جاتی ہے۔
کاش ایسا دن کبھی نہ آئے جب ہمیں کہنا پڑے کہ تری یاد آئی تیرے جانے کے بعد!!

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

صدر مشرف: 1999 سے لیکر 2008 تک

Posted on 18/08/2008. Filed under: پاکستان |

 

صدر مشرف 1999 میں ایک ایسی فوجی بغاوت کے بعد برسرِ اقتدار آئے جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
انہوں نے اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کو چلتا کیا اور وعدہ کیا کہ وہ پاکستان میں جمہوریت لائیں گے۔
انہوں نے واشنگٹن اور نیو یارک پر 2001 کے حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کرنے کی پیشکش کی اور اس طرح ایک فوجی آمر راتوں رات صدر بش کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم کردار بن گیا۔ تاہم تجزیہ نگاروں نے پشین گوئی کرنا شروع کر دی کہ ان کا امریکہ سے یہ قریبی تعلق پاکستان میں اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ ٹکراؤ کا سبب بنے گا۔
ان پر دو مرتبہ خطرناک حملے ہوئے مگر خوش قسمتی ان کے ساتھ رہی اور وہ دونوں مرتبہ صاف بچ گئے۔
گزشتہ سال جولائی میں انہوں نے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں فوجی آپریشن کا حکم دیا تاکہ ان طلب علموں اور مولویوں کو قابو کیا جا سکے جو ملک میں مبینہ طور پر شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس فوجی آپریشن میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم غیر سرکاری ذرائع اس کی تعداد کہیں زیادہ بتاتے ہیں۔
صدر مشرف کے مسائل صرف سخت گیر اسلامی موقف رکھنے والوں کے ساتھ ہی نہیں رہے۔ اصلاحات کی سست رفتار اور صدر کے ساتھ ساتھ فوجی سربراہ رہنے کی خواہش نے بھی صدر مشرف کی مخالفت کو ہوا دی۔
انہوں نے ملک میں ایمرجنسی لگائی اور چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے کئی ججوں کو معطل کیا تاکہ کہیں وہ ان کے دوبارہ صدر بننے کے خلاف فیصلہ نہ دے دیں۔
تاہم گزشتہ نومبر حزبِ اختلاف کے شدید دباؤ میں انہوں نے فوجی سربراہ کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد قوم کا غصہ ایک مرتبہ پھر ان پر نکلا اور فروری میں ہونے والے انتخابات سے ابتک، جن میں ان کی اتحادی جماعت بری طرح ناکام رہی، وہ زیادہ تر پسِ پردہ رہے۔
اگرچہ آئینی طور پر صدر مشرف اب بھی پارلیمان تحلیل کر سکتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اب یہ ان کے بس میں نہیں رہا اور وہ اپنی آخری جنگ پہلے ہی لڑ چکے ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

قوم کے لئے خوشخبری

Posted on 18/08/2008. Filed under: پاکستان |

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صدر مشرف آج دوپہر ١ بجے قوم سے خطاب کر رہے ہیں جس میں وہ اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ قوم کے لئے ایک خوشخبری اور بھی ہے کہ باخبر اطلاعات کے مطابق صدر مشرف کے لئے اسلام آباد ائرپورٹ پر ایک طیارہ تیار کھڑا ہے، اپنے خطاب کے فوری بعد وہ اس میں سوار ہر کر نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

طہ کی سالگرہ

Posted on 15/08/2008. Filed under: بلاگ اور بلاگرز | ٹيگز:, , |

آج میرے پیارے بیٹے طہ منیر کی دوسری سالگرہ ہے۔ طہ نے گو کہ بولنا بہت دیر بعد شروع کیا مگر جب بولا تو ایسے لگا جیسے تمام باتیں اور تمام چیزوں کے نام اسے پہلے سے یاد تھے۔ دل کو لبھانا اور کسی کو باتوں سے اپنی متوجہ کرنا اس کے بایاں ہاتھ کا کام ہے۔ اور دنیا کا سب سے بڑا ننھا ایکٹر ۔۔۔ اس نے تو مجھے حیران ہی کر دیا ۔۔۔۔۔ ١٣ اگست کی صبح جب میں ناشتہ کرنے بیٹھا تو میں نے آواز دی آؤ بچو کھانا کھائیں (یاد رہے کہ میرے دو بچے ہیں ایک بیٹی سارہ جس کی سالگرہ ٣١ اگست کو ہے اور دوسرا بیٹا طہ جس کی سالگرہ ہم آج رات منانے جا رہے ہیں) دونوں آ کے میرے ساتھ بیٹھ گئے، سارہ نے غلطی سے پلیٹ کو ہاتھ لگا دیا جو کہ کافی گرم تھی اور اس کا ہاتھ معمولی سا جل گیا اور وہ ہاتھ پکڑ کر اسے دبانے لگی سارہ کی مما نے اس کے ہاتھ پر کریم لگا دی اور کہا کہ ابھی آرام آ جائے گا ۔۔۔ طہ یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس کے بعد اس نے ویسی ہی ایکٹنگ شروع کر دی۔ اپنا ہاتھ پکڑا اور زور سے دباتے ہوئے کہنے لگا ‘کیم لگاؤ ۔۔۔ اوئی آئی‘ ساتھ میں ہچکیاں لیتے ہوئے رونے لگا۔ میں اس کی اس بے باک ایکٹنگ پے عش عش کر اٹھا جب کریم لگا دی تو پھر زور زور سے ہنسنے لگا  ۔۔۔۔ ہے نا سب سے بڑا ننھا ایکٹر؟ ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اسے لمبی عمر اور خوبصورت سیرت دے اور زندگی میں تمام تر کامیابیاں و کامرانیاں اس کا مقدر بنیں ۔۔۔ آمین

Read Full Post | Make a Comment ( 11 so far )

درویش پاکستان

Posted on 14/08/2008. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

لفظ پاکستانی پُر عمیق حروف کا عقیق مجموعہِ لفظ ہے۔ جو پُر اثر تاثیر رکھتا ہے۔ پاکستان کا وِچار امن، محبت، بھائی چارہ کا پرچار ہے۔ پاکستانیوں کی تربیت اللہ کے درویش کر رہے ہیں۔ یوں سر زمین پاکستان کا ہر فرد قلندرانہ و درویشانہ رنگ رکھتا ہے۔ یہ ملک صرف ایک زمین کا خطہ نہیں، اِسکے پیچھے ایک بہت بڑا تربیت اور ترتیب کا سلسلہ جاری ہے۔ اسکے پیچھے اِک راز ہے ۔۔۔۔۔ راز ِحقیقت۔
ٰ ظاہری تعلق سےظاہری باتیں ہی سمجھ آتی ہے۔ نکتے اور بات کا احساس روحانی تعلق سے ہوتا ہے۔ والدین اور بچوں کا آپس میں احساس اور فکرمندی کا تعلق، بہن بھائیوں کا آپس میں خون کی کشش کا رشتہ، ہزاروں میل دور بیٹھے کسی کی تکلیف کا احساس ہو جانا۔ روحانی رشتہ ہے۔ یہی وُہ ربط ہے جو ہمیں بطور قوم پاکستانی بناتا ہے۔
ماں اور بچے کا آپس میں روحانی رشتہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ماں شفقت اور احساس کا ایسا امتزاجی تعلق ہے، جو ہمارے اندر کے احساسات کو محسوس کرتے ہوئےہماری  بے چینی دور کرنے کی حتیٰ الواسع کوشش فرماتی ہیں۔ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل ۔۔۔۔۔۔ وطن عزیز اور انسان کا رشتہ ماں اور بچہ کے رشتہ کی مانند ہے ۔۔۔۔۔ افسوس! آج یہ معاملہ کمزور محسوس ہو رہا ہے۔ ماں بچےکی تربیت کرتی ہے۔ اُسکی سب سے بڑی خوبی خودداری ہے۔ ہر ذی شعور ماں تربیت کا آغاز خودداری کے عمل سے کرواتی ہے۔
خودداروں میں سے سب سے بڑے خوددار خودداری کی علامت بنتے ہیں۔ شاہین ایک خوددار پرندہ کی علامت ہے۔ تناور درخت ہمیں خوددار بننا سکھاتے ہیں۔قدرتی مخلوقات ہمیں اللہ  پر بھروسہ رکھتے ہوئے خودداری کا درس دیتی ہیں۔
لفظ پاکستان بڑا ہی معنٰی خیز ہے۔ اِسکے ایک معنی ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ! یہ معنٰی صرف نام کی حد تک نہیں۔ بلکہ یہ مسلسل ایک چلتے رہنے والے عمل کا نام ہے۔ آج بھی یہ ملک اپنے ابتدائی معنوں کے مراحل سےگزر رہا ہے۔ تکمیل میں ابھی وقت باقی ہے!!!
یہ ملک درویشوں نے ملکر بنایا ہے۔ یہ ایک سنگ میل تھا۔ جس کی قیادت بغیر داڑھی والے درویشوں نے بھی کی۔ قیام پاکستان کے دوران درویش خاموش نہ تھے۔ بلکہ عملی طور پر سیاسی میدان میں قیادت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ علامہ محمد اقبال مسلم لیگ پنجاب کے صدر تھے، قائد اعظم کی قیادت ایک زندہ مثال ہے۔ فکر اور عملی یکجہتی کے یہ دو درویشانہ کردار ہیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد درویش ملکی قیادت میں خاموشی اختیار کرگئے۔ اُنکی یہ خاموشی بہت بڑی گویائی بیان کر رہی ہے۔
آج درویش قیادت کیوں نہیں کر رہا؟ اِس چپ اور خاموشی کی ریاضت میں کوئی بات ہے! ہوسکتا ہے درویش مسلسل فرد فرد کی تربیت محسوس کر رہا ہو۔ ملک کی آزادی کے بعد وُہ قوم کی روحانی تربیت میں مصروف عمل ہیں۔ مفکر درویش (مفکرِ پاکستان) نےخودی کی آگاہی دی۔
ذرا غور فرمائیے! اگر درویش اِس ملک کی قیادت کو چھوڑ سکتے ہیں تو وقت آنے پر اِس ملک کی بھاگ دوڑ سنبھال بھی سکتے ہیں۔وُہ مشیت الہی کےتابع ہیں۔
درویش حکم ِ الہی کے تابع ہوتے ہیں۔ اُنکی سوچ، افکار اور رویہ عام فرد کو حقیقی آزادی عطاء کرتے ہیں۔ وُہ انسان کی روح کو صحت بخش کر ہمیشہ کے لیئے ذہن کی غلامی اور پستی سے نکال باہر کرتے ہیں۔ یہ ملک ظاہری طور پر ہی نہیں، باطنی طور پر بھی آزاد ہوا۔ یوں حقیقی آزادی پاکستان کا نصیب بنی۔ ( ابھی یہ آزادی کےاندرونی مراحل سےگزر رہا ہے۔)
ہو سکتا ہے دورانِ سفر کسی درویش صفت شخصیت نے ملک کو اسلام کا قلعہ بنا کر خاموشی اختیار کر لی ہو۔ قیام پاکستان سے ہی درویش بہت سے نامورین کی عملی تربیت اور رہنمائی گمنامی میں رہ کر فرما رہے ہیں۔
پاکستان کی آزادی تمام دُنیا کے لیئے امن کا پیغام ہے۔ قوم کی تربیت جس سمت میں کی گئی، کی جائےگی وُہ ایک تعمیری شاہراہ ہے۔ کیونکہ قوم کی تعمیر میں اللہ والے مصروفِ عمل ہیں۔ اُولیاءکرام کی تعلیم منفی پہلوئوں سے پاک ہوتی ہے۔ اُنکی تعلیم نہ صرف باطن کو پاکیزگی عطاء فرماتی ہے بلکہ حلقہ احباب کو بھی ِمطہر (پاکیزہ) کر دیتی ہے۔ لفظ پاکستان مطہرِ عطرِمعطر (ایسی مسحور کن پاکیزہ خوشبو جو سارے جہاں میں پھیل کر دلکشی کا انمول نمونہ بن جائے) ہے۔
یہ ملک درویشوں کا ملک ہے۔ درویش موتی بکھیرتا ہے۔ وُہ انسان کو انسان کا احساس دلاتے ہوئے احساس کی اساس بتلاتا ہے۔ انسانیت سے محبت سکھاتا ہے۔ اُنکا مزاج رہا ہے کہ ”وُہ کبھی کسی کا احسان نہیں رکھتا“۔ وُہ دینے والا ہاتھ ہوتا ہے۔ وُہ بس دیتا ہے، بانٹتا ہے، بکھیرتا ہے درویش صفت انسان کٹ سکتا ہے مگر جھک نہیں سکتا۔
اللہ نے اس قوم کو کس قدر خوش نصیب بنایا ہے۔ یہ ملک بھیک میں مانگا نہیں گیا۔ اللہ نے حکمت سے عطاء کیا ہے۔ اللہ جسکو کچھ عطاء کر دے۔ وُہ بس پھر دیتا ہے، بانٹتا ہے، رہنمائی کرتا ہے۔ جو چھینتا ہے وُہ ہمیشہ چھینتا ہی رہےگا کیونکہ اُسکی فطرت چھیننا ٹھہر پائی ہے، جبکہ جو دیتا ہے وُہ ہر حال دیتا ہے، وُہ بے ہتھل ہو کر بھی دیتا ہے کیونکہ اُسکا نصیب دینا قرار پایا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے اللہ نے پاکستان کو دینے والا پیدا فرمایا ہے۔ یہ خطہِ زمین دُنیا بھر کو سونا اُگل کر دیتا ہے۔ ابھی تو اس کو بہت بڑا کردار ادا کرنا ہے۔ بڑے پن کا کردار
مملکت خدداد“  کی وُہ ابتدائی کوشش جو شہید ٹیپو سلطان نے جاری رکھی۔ پاکستان اُس جدوجہد کی عملی تصویر بھی بنا۔ تبھی اِس ملک کو ”مملکت خداداد“ قرار دیا گیا۔ مملکت خداداد کا تصور رکھنے والی شخصیت نے اُمت مسلمہ کو اپنی سوانح سے ایک قول دیا ۔”شیر کی ایک دِن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“۔۔۔۔۔۔
لاہور شہر میں ایک یاد گار ”مینار پاکستان“ ہے۔ جو سلسلہِ قوم ”پاکستان“  کی یگانگت اور اتحاد کی علامت ہے۔ جو سفر ٢٣ مارچ ١٩٤٠ء کو آغاز ِعمل میں آیا تھا۔ اُسکی ایک منزل ١٤ اگست ١٩٤٧ء کو طے ہو گئی۔ اُسکا اصل مقصد ابھی بھی باقی ہے۔ جسکی ایک یادگار لاہور ہی میں” سِمٹ مینار“  کی صورت میں باقی ہے۔ جو اتحاد ِ بین المسلمین کے لیئےتعمیر ہوا۔ ابھی یہ سفر ادھورا ہے آدھا باقی ہے۔
ہمیں ایک پاکستانی کی حیثیت سے یہ ضرور سوچنا ہوگا۔ اللہ نے ہمیں اُوپر والا ہاتھ ہونے کا اعزاز بخشا ہے مگر انتہائی افسوس!  ہم نیچےوالا ہاتھ بننے کی تگ و دو میں ہیں۔ آج ہماری غیرت مرگئی ہے، ہم میں اعناء کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہم دوسروں کی امداد پر نظریں لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ ”اپنی مدد آپ کےتحت“  کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔ ہم پہ آفت آتی ہے تو مفت کی امداد کے سہارے بیکار بیٹھ کر ناکارہ ہی ہو جاتے ہیں۔
اےاللہ ہمیں بطور قوم لفظ پاکستانی کی اہمیت سے روشناس کروا ۔ ہم میں خودداری، غیرت اور یگانگت کو اُجاگر فرما!
(فرخ)

 

 

 

(گیدڑ کی زندگی ہے کیا؟ وُہ میر صادق کی مانند تخت کے کھو جانے اور کھو جانے کےخوف میں موجود رہنا، میر جعفر کی طرح خدمات سرانجام دیتے ہوئے ریڑھ کی ہڈی تڑوا لینا۔ خدمات کا صلّہ اذیت کی موت سے بہتر کتے کی موت!  پستول سے نکلی گولی کا انعام موت کی صورت میں حاصل کر لینا۔)

 

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...