سچا انسان

Posted on 01/08/2008. Filed under: تعلیم, رسم و رواج, عشق ومعرفت |

سُچ انسان سُچِت ہوتا ہے۔ سچیت نہیں۔ سِچَّھک ہو کر سچوئی سے سُچِنتا ہے۔ یہی سَدا چار اُسکودُنیا میں سجیونی بنا دیتے ہیں۔
سچا انسان سُچا موتی ہوتا ہے۔ سُچے موتی روایت زمانہ نہیں بلکہ زمانے اُنکی روایات ہوتے ہیں۔ زمانہ اُنکی پہچان نہیں وُہ زمانےکی پہچان ہوتے ہیں۔
زمانہ سخن زمانہ شناس ہوتا ہے۔ زمانہ شناس نگاہ شناس ہوتا ہے۔ نگاہ شناس کھرا انسان ہوتا ہے۔ سچا انسان خالص انسان ہوتا ہے۔ قول خالص، عمل خالص، علم خالص، نام خالص، مزاج خالص، رنگ خالص، خالص ہی خالص۔ خلوص کا پیکر کشش ہی کشش۔ وُہ مقناطیسی کھچاؤ سا رکھتا ہے۔
لوگ اُس پہ نگاہ رکھتے ہیں۔ وُہ دُنیا کے عظیم العظیم انسان سے لو لگاتے ہیں۔ اُنکی تمام تر توجہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھرپور ہوتی  ہے۔ سچا انسان عاشق رسول رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوتا ہے۔ اُسکی ہر بات عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل (لبریز بھی اور تکمیل بھی) ہوتی ہے۔ وُہ خود عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اِک معمولی سا عملی کردار ہوتا ہے۔
سچےانسان کی سوچ منتشر نہیں مرتکز ہوتی ہی۔ ارتکاز کا نقطہ و نکتہ ذات رسول مقبول کےسواءکچھ نہیں۔
سچا انسان خود تو تعمیری ہوتا ہی۔ اُسکےدائرہ اثر میں زیر اثر افراد بھی تعمیری ہوتےہیں بےضرر ہوتےہیں یہ افراد تخلیق کار ہوتےہیں؛ نقال گُر نہیں۔ یہ نقش کار افرادتمثال گُر نہیں بناتے۔ یہ نقش چھوڑتے ہیں اور نقاش بناتے ہیں۔ گویا تخلیق گو نہیں، تخیل گو نہیں بلکہ تخیل کار اور تخلیق کار ان ہی سے ہوتے ہیں۔
جو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےلبریز ہے۔ اُسکا ہر عمل و قول تعمیری خیالات واثرات کا واضح نمونہ ہے۔ نہ صرف وُہ خود مثبت اثرات رکھتا ہے۔ بلکہ حلقہِ دائرہ کو تعمیری سوچ عطاء کرتا ہے۔ خطاء والے کو بھی سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ سچا انسان اعلٰی نمونہ بن کر خوبصورت درسگاہ بنتا ہے۔ جو زمانے کو خوب سیرت بناتی ہے۔ سچوئی زمانے کے محتاج نہیں زمانہ اُنکا محتاج ہوتا ہے۔
اِن سچے انسانوں سے کوئی سچل سرمست بنتا ہے تو کوئی علی ہجویری۔ جن کا سَحر سِحرحلال کی صورت میں سَحرخیز ہے۔ آج بھی کشف المعجوب کی سخن فہمی سدا بہار جیسی سحر خیزی رکھتی ہے۔ یہ تحریر جو خلوص ِقلب و نیت سے سچے انسان  کے راست جذبے سے ضبط تحریر میں لائی گئی تھی۔ آج بھی اپنا اثر قلوب پر رکھتی ہے۔ سچے انسان کا سچا پن آج بھی نیک اثرات رکھتا ہے۔
سچا انسان انسانیت سے محبت کرتا ہے۔ اُسکی تنقید تنقید ہوتی ہے، نکتہ چینی نہیں (١)۔ وُہ برائی سے نفرت کرتے ہیں۔ مگر بُرے انسان کی ذات سے نفرت نہیں بلکہ اُسکی تربیت کی کوشش کرتے ہیں۔ وُہ بغض، حسد و کینہ دِل میں نہیں رکھتے۔ وُہ رَشک کرتا ہے۔ وُہ چاہتا ہے جو اَوروں کے پاس ہے۔ وُہ سب کو مل جائے۔ کسی سے چِھن نہ جائے۔ وُہ انسانیت سوز دِل سوز ہوتا ہے۔
سچا انسان ہے کیا؟ سچ بولنے والا وُہ سچ بولنے والا جسکا قول اور عمل یکساں ہوں، تضاد سے پاک ۔جو اللہ ، اُسکے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کو صدق دِل سےتسلیم کر لے۔ تسلیم کرنا یہ ہے کہ جسکو دِل و دماغ قبول کر لیں۔ ایسا انسان امین، صادق، دیانتدار اور شرافت کا عملی کردار ہوگا۔ کھرا انسان مشکل وقت میں بھی حق گو رہتا ہے۔ گویا وُہ کلمہ طیبہ کا عملی اقرار کرتا ہے۔
سانچ لوگ سچی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اُنکی درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ سچا انسان سچی و کھری تعلیمات کا فروغ چاہتا ہے۔ اپنی نمائش، زیبائش اور آرائش کی تمنا نہیں رکھتا۔
اُولیاءکرام ہمیشہ تعمیر اور محبت کی بات کرتے ہیں۔ وُہ لوگوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں۔ تعلق غرض سے نہیں دِل کی محبت سے رکھو! شہر کام کی غرض سے مہمان لاتے ہیں مگر سچے انسان دِل کی محبت سے محبت کرنے آتے ہیں۔ جسکی یاد آئے اُسکے شہر چل پڑو۔ شہر ِیثرب میں محبوب کی محبت۔
سچا انسان قابل تنقید نہیں ہوتا نہ ہی اُسکی مکمل قابل تعریف کی جاسکتی ہے (٢)۔ سچا انسان عاشق رسول ہوتا ہے۔ یہی اُسکی اصل خوبی و تعریف ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا سچا و سُچا انسان نہ کبھی کوئی آیا ہے، نہ ہی آئےگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ مبارک کا ہر پہلو، قدم اور عمل صرف اور صرف تعمیری اثرات کی نمایاں مشعل ِراہ ہے۔ غزوات ہو یا تعلیم و تبلیغ ہر معاملہ تعمیری ہی تعمیری۔ اے اللہ ہمیں رسول پاک  کی تعلیمات پر تعمیری صورت میں عمل کرنے کی توفیق عطاء فرما۔
اے اللہ ہم سب کو ایک سچا انسان، سچا مسلمان بننے کی توفیق عطاء فرما۔ ہمیں صرف نیک تربیت حاصل کرنے والا ہی نہیں، عملی تربیت دینے والا انسان بھی بنا۔ بطور مسلمان لفظ پاکستانی اور عقیدہ اسلام کی پہچان بھی کروا۔ ہمیں اسلام کی اصل روح سے روشناس کروانے والے عاشقین رسول کی رہنمائی و رہبری عطاء فرما۔ جو پوری دُنیا کی رہنمائی تعمیری فکر سے کریں۔ ہمیں سچ کے نام پر تخریبی سوچ والے بنے بنائے رہنمائوں اور رہبروں کی شر انگیز قیادت سے بچا۔(آمین)
(فرخ)

وضاحت:
(١) تنقید دراصل تکمیل میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ gaps fill  کرتی ہے۔ مثبت بات ہے۔ منفی تنقید دراصل نکتہ چینی ہے۔
(٢) اُسکے ذکر میں تنقید اُسکی شان کے برخلاف ہوتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنٰی
ارتکاز / مرتکز ۔ ایک نقطہ پر اکٹھا ہونا
سُچ / سچل ۔ اصلی، صاف، پاک
سدا چار ۔ نیک چال چلن، نیک اخلاق
انسانیت سوز ۔ ہمدردانہ و غم خوانہ انسان دوستی
سُچا ۔ کھرا
گَھڑ ۔ خود سےبنا لینا
تعمیری ۔ Constructive, Positive Approach
سَچُت ۔ بےفکر، فکر سے آزاد
لبریز ۔ بھرپور بھرا ہوا ہونا
تخلیق کار ۔ بنانےوالا
سچوئی ۔ سچائی، راستی
لَو ۔ محب سے توجہ کا مرکز بننا
تخیل کار ۔ خیال پیش کرنےوالا
سچُنتا ۔ مناسب، غور، نیک خیال
منتشر ۔ بکھرا ہوا
تماثیل ۔ مشابہ صورت
سِچَّھک ۔ تعلیم دینے والا، اُستاد
سانچ ۔ سچائی، راستی، درستی، صحیح
تمثال گُر ۔ مصور ، نقاش
سچِیت ۔ ہوشیار، آگاہ، خبردار
نقاش ۔ نقش و نگار بنانےوالا
دِل سوز ۔ ہمدرد دوست
سَحر ۔ صبح
نقال گُر ۔ نقل پر عبور رکھنے والا جو حقیقت کو مسخرا بنا دے۔
زمانہ سخن ۔ عمدگی و خوبصورتی سے آگاہی
سِحرحلال ۔ جامع اور فصاحت والی بات
نقش ۔ چھاپ، صورت
زمانہ شناس ۔ باریک تہوں سے آگاہی
سَحرخیز ۔ صبح کا وقت، تازگی
نقش کار ۔ چھاپ کی صورت بنانے والا
سجیونی ۔ جان دینے والی (شی) آب حیات
سخن فہمی ۔ بات کا درست مطلب سمجھ آنا
نقطہ ۔ مرکز، صفر
سچ ۔ حق بات، راست گوئی
سدا بہار ۔ ہمیشہ تازہ و سرسبز رہنا
نکتہ ۔ باریک بات کی تہ

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

2 Responses to “سچا انسان”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

آپ نے میرے بچپن والی اُردو پڑھانا شروع کر دی ہے لوگوں کو تو آجکل والی اُردو بھی نہیں آتی ۔

میرے بلاگ کا ربط بھی درست کر لیجئے
http://www.theajmals.com/blog//

افتخار اجمل بھوپال’s last blog post..وزیرِ خزانہ

افتخار بھائی، ؔپ نے بڑی حسین بات کی۔ دراصل میں لکھتے لکھتے اپنی لَے میں ہندی کے الفاظ زیادہ ہی لکھ گیا۔ تو مجھ کو معنٰی دینا تھے۔ اس دوراں مجھ کو انگریزی میڈیم، بچے اور اساتذہ یاد ؔن پڑھے جن کو بڑے ہی سادہ الفاظ کے معنی بھی نہیں ؔتے۔ تو سوچا یوں ہی اُنکو تھوڑی سی لفظوں کی شناسائی اُنکے مطالب کے ساتھ کروا دو۔ اُن کے لیئے لفظ کے معنی سمجھنا ہوجائے گے۔ اور جو لفظوں کے معنٰی جانتے ہیں۔ اُنکے کے لیئے لفظوں کی باریکیاں اور مزید معنٰی بھی ظاہر ہوجائے۔ دونوں صورتوں میں بات مزید اُردو کی محبت سکھانا بھی تھی۔


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: