Archive for ستمبر, 2008

عیدی!!

Posted on 30/09/2008. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

 

امی دیکھو!!
اُٹھو!!
فوجی انکل سے
مجھکو یہ عیدی ملی ہے!

کتنے اچھے ہیں یہ
سارے انک میرے
مجھ کو کھانا دیا
اور کھلونے دیئے
مجھ کو عیدی بھی دی
پر یہ کہتے ہیں ‘ابو نہیں آئیں گے‘
اور میں بھیا سے بھی اب نہ مل پاؤں گی
نہ ہی میں اپنے گاؤں جا پاؤں گی

امی!!!
اُٹھو!!!
بات میری کوئی
تم بھی سنتی نہیں
ابو آتے نہیں، نہ ہی بھیا یہاں
یہ جو کپڑے مجھے انکلوں نے دیئے
یہ پہن کے میں اب کس کو دکھلاؤں گی
اب کے میں عید کیسے منا پاؤں گی؟؟

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

در دِل کشا

Posted on 22/09/2008. Filed under: اقتباسات |

شاید زندگی اور موت کو صرف روشنی اور تاریکی سے تعبیر نہیں کر سکتے۔ بجائے خود زندگی نور اور ظلمت کی ٹکڑیوں کا مرقع ہے۔ دُنیوی رشتوں سے بالا محبت کے رشتے میں منسلک دو دلوں کا دھڑکنا زندگی ہے۔ دوستوں اور عزیزوں کی نیش زنی موت کے مترادف ہے یہ متوازی خطوط مرتکز ہوتے ہیں زندگی پر ۔۔۔۔!
یوں بھی مرنے سے پہلے انسان متعدد بار مرتا ہے۔ کبھی چرکا لگ گیا، کبھی زخم کاری، پھر ایسے محرکات بھی ہیں  ______ حق و باطل کی جنگ، زیر دستوں کی حمایت جو نیم جان انسان کو زندگی کی شاہراہ پر لا کھڑا کرتے ہیں۔ انصاف سے انحراف، حق کی بات کہنے سے پہلو تہی یا ضمیر کا سودا  ________ موت نہیں تو کیا ہے؟
وہ موت جو جسم کی تحلیل سے بہت پہلے واقع ہو جاتی ہے۔
بہت سے لوگ سالہا سال اپنی زندہ لاش اٹھائے پھرتے ہیں۔

منظور الہی ۔۔۔ در دِل کشا

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا مکمل متن

Posted on 21/09/2008. Filed under: پاکستان |

صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے بروز ہفتہ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنا پہلا خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے پاکستان درپیش چیلنجوں، اقتصادی اور معاشی اور دیگر تمام مشکلات کا تفصیل سے ذکر کیا۔ اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے دہشت گردی، انتہا پسندی  کشمیر اور بھارت سے متعلق حکمت عملی کے بارے میں بھی اراکین پارلیمنٹ کو آگاہ کیا۔
صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کے پارلیمنٹ سے خطاب کا مکمل متن درج ذیل ہے۔

میڈم سپیکر
معزز اراکین پارلیمنٹ
السلام علیکم
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے میں سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے یہ اعزاز بخشا۔ میں اراکین پارلیمنٹ اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا شکر گذار ہوں جنہوں نے اس اعلٰی ترین منصب کے لئے میرا انتخاب کیا اور مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا۔ میں جانتا ہوں کہ مجھے یہ منفرد اعزاز اور پذیرائی صرف اور صرف شہید محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے نام پر حاصل ہوئی ہے۔ آج میں پاکستان کی جمہوری قوت کے سامنے نہایت عاجزی کے ساتھ حاضر ہوا ہوں۔ آج کے دن کی اہمیت کے حوالے سے ہمارا خیال بار بار محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرف جاتا ہے۔ جو کہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں اور دو مرتبہ پاکستان کی منتخب وزیر اعظم رہیں۔ ان کی بے مثال جرآت اور قربانیوں کے طفیل پاکستان کو جمہوریت حاصل ہوئی۔ آج اس پارلیمنٹ کا وجود اور ہماری یہاں موجودگی سب کچھ محترمہ کے تاریخی کردار کی وجہ سے ممکن ہوا۔ درحقیقت آج یوم بے نظیر ہے۔کاش میرے بجائے آج وہ اس ایوان سے خطاب فرماتیں۔ آج کے دن ہم شہدائے کار ساز کو نہیں بھول سکتے۔ ہم ٢٧ دسمبر کے شہدائے لیاقت باغ۔ ١٧جولائی کے شہدائے اسلام آباد ۔اور ١٢ مئی کے شہدائے کراچی کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور وہ بھی جو ان واقعات میں زخمی ہوئے جمہوریت کے اصل ہیرو ہیں ۔ وہ ہمارے ہیرو ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں بھی اشکوں اور خون کا دریا پار کر کے اس منزل تک پہنچا ہوں ۔ میں ضمیر کا قیدی رہا ہوں، لیکن کوئی مجھے تاریخ کا قیدی نہیں بنا سکتا۔ کیونکہ میں تاریخ سے سیکھتا ہوں اور یہ سبق کبھی نہیں بھلا سکتا۔ میں اپنے فیصلوں کو تلخ یادوں اور انتقامی رویوں سے آلودہ نہیں کروں گا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم آگے بڑھیں، اللہ تعالی نے ہمیں کچھ کر دکھانے کا موقع دیا ہے ہم اسے ضائع نہیں کریں گے۔ میں تمام منتخب اراکین پارلیمنٹ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، میں جناب وزیر اعظم، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کر تا ہوں۔ آپ کو جو مینڈیٹ حاصل ہوا ہے وہ ایک اعلٰی اعزاز ہے اور ایک بھاری ذمہ داری بھی ہے ۔

طرز حکمرانی
میڈم سپیکر
صدر منتخب ہونے کے بعد صرف دو ہفتوں کے اندر اندر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے میرا خطاب کرنا ظاہر کرتا ہے کہ میرے لئے پارلیمنٹ کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ صدر کی حیثیت میں اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کے لئے میں پارلیمنٹ، آئین اور قانون کو ترجیح دیتا ہوں۔
دورِ آمریت میں پارلیمنٹ کے اختیارات سلب کر لئے گئے تھے اور اسے جائز مقام اور احترام بھی حاصل نہیں تھا۔ آئین کا تقاضا ہے کہ انتخابات کے بعد اور ہر پارلیمانی سال کے آغاز میں صدر مملکت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں۔ لیکن گذشتہ ٨ سال کے دوران سربراہ مملکت نے صرف ایک بار مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا ۔ لیکن اب میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ قومی اہمیت کے معاملات پر فیصلہ سازی کرتے ہوئے آئین سے رو گردانی اور پارلیمنٹ کو بائی پاس کرنے کا دور قصہ ماضی بن چکا ہے۔ سربراہ مملکت کی حیثیت سے میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ صدر اور حکومت اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے ہمیشہ پارلیمنٹ سے راہنمائی حاصل کریں گے، کیونکہ ہم نے آئین کے تقدس ، پارلیمنٹ کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی قائم رکھنے کا عہد کیا ہے۔ ہمارے طرز حکمرانی کا بنیادی ستون ١٨ فروری کو عوام کی طرف سے دیئے گئے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہے۔

ایجنڈا
میڈم سپیکر اور معزز اراکین پارلیمنٹ
پاکستان کے لئے میرا ایک تصور ایک خواب ہے کہ میں وطن عزیز کو افلاس، بھوک، دہشت گردی اور تفرقے سے پاک دیکھنا چاہتا ہوں۔ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ قانون ساز ہوتے ہوئے آپ لوگ بھی میرے اس خواب اور اس تصور کے شراکت دار ہیں۔ ہر امید کو بر لانے کیلئے ہمیں کچھ سوچنا ہوگا۔ کوئی پلان بنانا ہوگا اور پلان کے لئے کوئی لائحہ عمل کوئی ایجنڈا مرتب کرنا ہو گا۔ بلاشبہ، آپ کی حکومت کے سامنے چیلنجز سے نمٹنے کا ایک بھاری قومی ایجنڈا ہے۔ اس ایجنڈے کا تقاضا ہے کہ بغیر کسی تاخیر کے ماضی کے زخم بھرے جائیں اور وفاق پر اعتماد کو بحال کیا جائے۔ بلوچستان کے عوام سے معافی طلب کرنا اصلاح احوال کے لئے پہلا قدم تھا۔ حالانکہ یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیئے تھا۔ سابق وزیر اعلٰی بلوچستان کی رہائی بھی ایسا ہی اقدام تھا بلوچستان کے لئے طویل عرصے سے متنازعہ ادائیگیوں کی مد میں جو کئی ارب روپے رکے ہوئے تھے ان کی ادائیگی بھی ایک مثبت قدم ہے لیکن ابھی ہمیں اس ضمن میں اور بہت کچھ کرنا ہے ۔ پے در پے ہونے والی ناانصافیوں نے وفاق کو کمزور کر دیا ہمیں ان کا ازالہ کر کے وفاق کو مضبوط بنانا ہے ۔ ہمیں ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر قومی یکجہتی، مفاہمت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ١٩٧٣ کا آئین واحد ایسی متفقہ دستاویز ہے جس کی بنیاد پر ایک نیا عمرانی معاہدہ تشکیل دیا جا سکتا ہے ۔ ہمارے سامنے عرصہ دراز سے نظر انداز کئے جانے والے معاشرتی، معاشی اور ادارہ جاتی مسائل کا انبار ہے۔ جنہیں فوری حل کرنا بہت ضروری ہے۔ ہمیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے فتنے کو سر اٹھانے سے پہلے ہی کچلنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ قبائلی علاقوں میں دیرپا اصلاحات کر کے انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوششوں کو بھی زیادہ موثر اور تیز کرنا ہو گا۔ تاکہ ہمارے وہ بھائی بھی تمام پاکستانی بھائیوں کے ہم پلہ ہوکر زندگی گذار سکیں۔ شمالی علاقوں میں بھی بنیادی حقوق اور ضرورتوں کی فراہمی ایک اہم ذمہ داری ہے وہاں نمائندہ حکومت اور آزاد عدلیہ کا قیام بھی ضروری ہے۔ ہم عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اور اس حوالے سے تمام معاملات کو آئین اور قانون کی روشنی میں طے کیا جائے گا۔ آپ حضرات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آئین کو مسخ کرنے والی تمام ایسی شقوں کو ختم کردیں جو یکے بعد دیگرے آنے والے آمروں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے آئین میں شامل کر دیں تھیں۔ پاکستان کے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر کی حیثیت سے میں پارلیمنٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک کل جماعتی کمیٹی تشکیل دیں جو ١٧ ویں ترمیم اور ٥٨ ٹو بی کے خاتمے کے لیے آئینی ترامیم پیش کریں۔ پاکستان کی تاریخ میں کسی صدر نے اپنے اختیارات چھوڑنے کی بات نہیں کی ہوگی جیسا کہ آج میں کر رہا ہوں۔

قومی سلامتی
میڈیم سپیکر اور معزز ارکان پارلیمنٹ
پاکستان سلامتی کے حوالے سے بڑی نازک صورتحال سے دو چار ہے۔ ہمارے قبائلی علاقوں اور ان سے ملحقہ خطوں میں انتہا پسندوں اور دہشت گرد عناصر نے جو مسائل پیدا کر دیئے ہیں ان سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایک سہہ نکاتی حکمت عملی طے کی ہے۔
١۔ جو لوگ امن کے خواہش مند ہیں اور قانون شکنی ترک کرنا چاہتے ہیں ہم ان کے لیے امن کا قیام ممکن بنائیں گے۔
٢۔ ان علاقوں میں معاشرتی ترقی اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی جائے گی ۔
٣۔ طاقت کا استعمال آخری حربہ ہوگا۔لیکن صرف ان لوگوں کے خلاف جو ہتھیار پھیکنے سے انکار کریں گے، قانون اپنے ہاتھ میں لیں گے، جو حکومت کی عمل داری کو چلینج کریں گے اور جو سیکورٹی فورسز پر حملہ آور ہوں گے۔
میں چاہتا ہوں کہ تمام متعلقہ افراد اور ادارے اس پالیسی کو اپنائیں۔ میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ قومی سلامتی کے امور پر بریفنگ کے لیے پارلیمنٹ کا ایک اِن کیمرہ مشترکہ اجلاس منعقدکرے، تاکہ قوم کے نمائندہ افراد کو تمام معلومات کی روشنی میں فیصلہ کرنے کی سہولت حاصل ہو۔ اور وہ جان سکیں کہ ہمارے پیارے وطن کو کون کون سے خطرات درپیش ہیں۔ اور ہم ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے ایک واضح سمت کا تعین کر سکیں۔ میں حکومت سے یہ تقاضا کرتا ہوں کہ وہ ایسا بندوبست کریں کہ ہماری دھرتی ملک کے اندر یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کی کاروائیوں کے لیے استعمال نہ ہوسکے۔ ہم یہ برداشت نہیں کریں گے کہ کوئی دہشت گردوں کی سرکوبی کا بہانہ کر کے ہماری خود مختاری اور علاقائی حدود کی خلاف ورزی کرے۔

علاقائی سلامتی
میڈیم سپیکر اور معزز ارکان پارلیمنٹ
میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ ایسے ملک اور ایسی قومیں جنہیں اپنی سرحدوں پر شورش اور تنازعات کا سامنا ہو، دنیا میں ان کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے اس لیے ہمیں نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ اپنے ہمسائے میں بھی امن وامان کو یقینی بنانا ہے اسی سے ہمارے ملک و قوم کا مفاد وابستہ ہے۔ ہمیں تنازعات کی کیفیت کو سمجھنا چاہیئے اسی حکمت عملی  کے تحت میں نے تقریب حلف برداری میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی تاکہ افغانستان کے ساتھ حالات کو معمول پر لانے اور بردارانہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو نمایاں کیا جائے۔ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات ہمارے لیے اہمیت کے حامل ہیں ان پر ہمیں نئی جہت سے پیش رفت کرنا ہوگی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے یہ کہا تھا ”وقت آچکا ہے کہ نئی سوچ پیدا کریں۔ وقت آچکا ہے واضح طرز عمل اختیار کریں اور یہ وقت ہے کہ خلوص اور دیانتداری لوگوں کے مابین فروغ پائیں ہم بہت سی مصیبتیں جھیل چکے ہیں اب وقت آچکا ہے کہ مفاہمت کی راہ اختیار کی جائے”۔ ایسی ہی سوچوں کے ساتھ اس خطے میں پر امن تعلقات کی خواہش رکھنے پر ہمارے ناقدین نے ہمیں ”سیکورٹی رسک” قرار دیا تھا مگر سوچوں کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔ میثاق جمہوریت ہماری حکومت کو پابند کرتا ہے کہ پاکستان کے عوام کو امن و انصاف کی فراہمی کے لیے طے شدہ لائحہ عمل کو یقینی بنائے بھارت کے ساتھ امن اور دوستی کو آگے بڑھائے۔ پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کا عمل جاری رکھا جائے اور دوطرفہ تجارت کے ذریعے تعلقات کو بڑھایا جائے۔ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے بنیادی حقوق کی بحالی کیلئے کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ جموں کشمیر سمیت تمام تنازعات طے ہوجائیں تاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور امن قائم کرنے کی راہ میں جو رکاوٹیں جو حائل ہیں وہ دور ہوجائیں۔ کشمیر کے حوالے سے اعتماد سازی کو بڑھانے کے لیے ہم لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کو بڑھانے کے لیے تیار ہیں ہم اپنی ویزا پالیسی کو مزید آسان اور آزادانہ بنا رہے ہیں تاکہ دونوں طرف کی عوام کو رابطہ کرنے میں مشکل پیش نہ آئے ان کی دوستیوں میں اضافہ ہو ہم ہندو اور سکھ یاتریوں کو بھی  زیادہ سہولتیں پیش کریں گے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک اور پہل قدمی کر رہے ہیں میں چاہتا ہوں کہ پارلیمنٹ دوطرفہ منتخب نمائندوں پر مشتمل ایک ایساگروپ تشکیل دے جو کشمیر اور انڈس واٹر ہیڈ ورکس جیسے متنازع مسائل کو حل کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کرے اس گروپ میں تمام سیاسی پارٹیوں کو نمائندگی دی جائے تاکہ اہم معاملات پر پوری قوم یک جان اور یک زبان ہوسکے۔

غربت
میڈیم سپیکراور معزز ارکان پارلیمنٹ
حکومت کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ معاشی صورتحال ہے کوئی بھی منتخب حکومت اپنے لوگوں کو بھوکا مار کر زندہ نہیں رہ سکتی گورنمنٹ کے سامنے فوری حل طلب مسئلہ مہنگائی کے ستائے ہوئے عام آدمی کو غذائی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور غذائی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہمارے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ دوسری طرف ہمارا اپنا پیدا کردہ مسئلہ بھی ہے، کہ گذشتہ ٩ سال سے زرعی شعبہ مسلسل نظر انداز ہو تا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے لوگوں کی غربت میں اضافہ ہوا، حکومت نے غریبوں کو فوری طور پر ریلیف دینے کے لیے ملک بھر میں ایک فلاحی سکیم کا فیصلہ کیا ہے، ہر قسم کی سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر غریب خاندان اس سکیم سے مستفید ہوسکے گا۔ بے نظیر انکم سپورٹ سکیم پر عملدرآمد کے لیے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں ٣٤ ارب روپے رکھے گئے ہیں، جس سے ضرورت مندوں کو براہ راست مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ ٹریڈ یونین سے پابندی کا خاتمہ کیا جاچکا ہے اور مزدوروں کی کم از کم اجرت میں بھی اضافہ ہوچکاہے۔

معیشت
میڈیم سپیکر اور ارکان پارلیمنٹ
میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ بھی کیا جارہا ہے یہ کافی نہیں ہے لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ حکومت کو ایک ایسی معیشت ورثے میں ملی ہے جس کی بنیاد صارفیت پر تھی۔ پیٹرولیم مصنوعات، بجلی کے ٹیرف اور تعیشات کی درآمدت کے ضمن میں واجبات اور غیر ادا شدہ امدادی رقومات کا بارِگراں سابقہ حکومت نے اس حکومت کو منتقل کیا ہے، تیل اور گیس پر دی جانے والی سبسڈی کو ختم کرنے کا ناگوار فیصلہ موجودہ سیاسی حکومت کو کرنا پڑا، اگر ہم یہ کڑوی گولی نہ نگلتے تو روز مرہ کے اخراجات میں بھی مشکل پیش آتی۔ میں ایک نئی معیشت کا آغاز دیکھ رہا ہوں جس میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا، بیرونی سرمایہ کاری بحال ہوگی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج اضافہ ہوگا، زرمبادلہ کے نرخوں میں بہتری آئے گی اور انشاءاللہ ایک دیرپا ایک مسلسل بڑھوتری کا عمل شروع ہوجائے گا۔

توانائی
میڈم سپیکر!
میں اس تلخ حقیقت سے بھی آگاہ ہوں کہ پاکستان کو اس وقت توانائی اور بجلی کے شدید بحران کا سامنا ہے مگر کیا کریں کہ گزشتہ ٧ سال کے دوران ١ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی بھی کوشش نہیں کی گئی۔ ہم نے قلیل المدت اور طویل المیعاد منصوبے شروع کر دیئے ہیں۔ ہم ایک ماہ میں تو شاید یہ اندھیرے دور نہیں کر سکیں گے مگر ایک سال کے اندر اندر پاکستان ایک بار پھر روشن اور درخشاں ہوگا۔ انشاءاللہ

زراعت
میڈیم سپیکر اور ارکان پارلیمنٹ
حکومت کوچند بنیادی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ زرعی شعبے پر بھر پور توجہ دے کر اس قابل بنایا جاسکتا ہے کہ دیہاتوں میں آباد سینکڑوں بلکہ ہزاروں افراد غربت کے چنگل سے نکل سکتے ہیں۔ زرعی بنیاد پر ترقی کا عمل کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کریگا، غذائی اجناس کی قیمتیں کم ہونگی بلکہ اضافی پیداوار کو برآمد بھی کیا جا سکے گا اس لیے زراعت کو اپنی ترجیحات میں اولیت دی جائے تو دیرپا غذائی تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔ روزگار اور آمدنی کے ذرائع میں اضافہ ہونے سے ہمارے لوگ، ہمارے دیہات بلکہ ہمارا پورا ملک ترقی کرے گا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری سطح پر فصلوں کی انشورنس کا پروگرام بنایا جا رہا ہے۔

خواتین
میڈیم سپیکر!   
خواتین کو انصاف کی فراہمی ممکن بنائے بغیر کوئی ترقی مکمل نہیں ہو سکتی۔ میں انتہائی دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ قوانین کے ہوتے ہوئے بھی خواتین کو تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اس عظیم قوم کی عورتیں آج بھی جبر اور ظلم کا شکار ہیں۔ میں حکومت کو ہدایت کرتا ہوں کہ خواتین کا تحفظ یقینی بنایا جائے، خواتین کے معاشرتی مقام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ ان کے حقوق کی پاسداری کی جا رہی ہے اور وہ اس مملکت کی ایک معزز شہری ہیں۔ ہم معاشرتی پسماندگی کو بیک جنبش قلم ختم نہیں کر سکتے لیکن یقیناً بتدریج اسے دُور کرسکتے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے پہلی بار یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ سرکار کی طرف سے دی جانے والی کوئی بھی الاٹ منٹ، مالی امداد یا اراضی صرف اور صر ف خواتین کے نام پر دی جائے میری مرحومہ رفیقِ حیات بے نظیر بھٹو شہید عورت کو طاقتور بنانے کے لیے ایسا کرنا چاہتی تھیں سو ہم اس پر عمل کر رہے ہیں یہ اس طویل سفر کا آغاز ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کی عورت بہت جلد ہمارے برابر کھڑی ہوگی۔ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بھائیو ں کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، لیکن بڑے دُکھ کی بات ہے، کہ انہیں معاشرتی اور سیاسی حوالے سے وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ حقدار ہیں، مگر ہم اس محرومی کو ختم کریں گے اور قومی زندگی میں ان کے کردار کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں گے ،تاکہ ان کی صلاحتیں ملک وقوم کے کام آسکیں۔

میڈیا
میڈیم سپیکر ارکان پارلیمنٹ
پیپلز پارٹی کی حکومت تشکیل پاتے ہی میڈیا دوستی کا اظہار کیا گیا اور تمام نجی نیٹ ورکس کو نشریاتی آزادی فراہم کی گئی سابق حکومت نے پیمرا اور پرنٹ میڈیا آرڈیننس کی صورت میں جو جابرانہ ڈھانچہ کھڑا کیا تھا ہم نے اسے ختم کردیا اور میڈیا کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار توڑ ڈالی، جلد ہی بنیادی قانون سازی کی جائےگی جس سے معلومات کے حصول کی آزادی اور خبر رسانی کی فضا حکومتی مداخلت کے بغیر پھل پھول سکے میں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ صحافیوں کو آمدنی میں اضافے کے لیے سہولیات اور کم قیمت رہائشی مکانات فراہم کرنے پر توجہ دے ۔

قانون سازی
میڈیم سپیکر!
اس نئے سیٹ اپ میں پارلیمنٹ ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے اپنا کردار ادا  کر رہی ہے ۔ ٤٤ سال میں پہلی بار دفاعی بجٹ اسمبلی میں بحث کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ مکمل طور پر شفاف احتسابی عمل کی بنیاد اچھے طرز حکومت کے لیے ضروری ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں احتسابی عمل کو سیاسی انتقام دینے کے لیے آلہ کار بنایا گیا مجھے یقین ہے کہ حکومت نے نیب آرڈیننس کو نئی شکل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ایک نظامِ احتساب متعارف کروایا جائے گا جو وسیع اور شفاف ہوگا اور جو انصاف کے مروجہ اصول و ضوابط اور اقدار کو سامنے رکھ کر بنایا جائے گا۔ نو آبادیاتی دور کے کالے قوانین ایف سی آر کو ختم کر دیا گیا ہے صوبائی زیر انتظام قبائلی علاقوں کی بہتری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور ایک دوسری کمیٹی نئے قوانین تشکیل دینے کے لیے  بنائی جا چکی ہے۔ میں حکومت سے سفارش کرتا ہوں کہ صوبہ سرحد کا نام وہاں کے عوام کے دیرینہ مطالبے کی روشنی میں تبدیل کر کے پختونخواہ رکھ دیا جائے ۔

خارجہ پالیسی
میڈیم سپیکر ارکان پارلیمنٹ
ہماری خارجہ پالیسی کے چند بنیادی نکات یہ ہیں کہ ہم علاقائی اور عالمی امن کو یقینی بنائیں، سلامتی کے عمل کو آگے بڑھائیں تاکہ ہمارے لوگ معاشی اور معاشرتی ترقی سے فیض یاب ہوسکیں۔ دنیا میں تجارتی جمہوریت فروغ پا رہی ہے ہماری خارجہ پالیسی جہاں ہمارے دفاعی معاملات، علاقائی سلامتی اور خود مختاری کو سامنے رکھ کر ترتیب دی جارہی ہے وہاں اس میں ہمارے معاشی اور معاشرتی مفادات کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ پاکستان جغرافیائی اعتبار سے جنوبی اور وسطی ایشیاء کے لیے توانائی اور تجارت کے مرکز کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ ہم اپنے اخوت کے رشتوں کو مضبوط کریں گے جبکہ اپنے دیرینہ دوست عوام جمہوریہ چین کے ساتھ اپنی سٹرٹیجک پارنٹر شپ اور دوستی کو مزید مستحکم کریں گے۔ امریکہ اور اپنے یورپی دوستوں کے ساتھ اشتراک عمل کا جو طویل تعلق قائم ہے اسے باہمی مفادات کی بنیاد پر مزید وسعت دی جائے گی۔ پاکستان فلسطینی بھائیوں کے حق خود اختیاری کی مکمل حمایت کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ ہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور لیبیا کے ساتھ خصوصی تعلقات کی قدر کرتے ہیں۔ عرب لیگ، او آئی سی اور آسیان جیسی تنظیموں کے ساتھ تعلقات کو باہمی تجارت  اور سرمایہ کاری  کے فروغ کے لیے بہتر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔ تمام اسلامی ممالک اور خصوصا عرب ملکوں کے ساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں ہم ایشیا، لاطینی امریکہ اور افریقہ میں دوستیوں کو بڑھاتے رہیں گے اور مضبوط بنائیں گے۔ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین، اقدار اور انسانیت کے احترام کے عالمی اصولوں کی پیروی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
 
ماخذ
میڈیم سپیکر ارکان پارلیمنٹ
آخرکار پاکستان میں جمہوریت بحال ہوگئی لیکن اس نوخیز جمہوریت کو ایک تناور درخت بننے کے لیے بہت زیادہ نگہداشت کی ضرورت ہے۔ آج بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو اسے اکھاڑنا چاہتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دیئے گئے تصور کے مطابق، جمہوریت اور قومی مفاہمت کے جذبے پر یقین رکھتے ہوئے ہمیں جمہوریت دشمن عناصر پر نظر رکھنا ہوگی اور اسے بچانا ہوگا۔ موجودہ پارلیمنٹ سے پاکستان کے عوام کی بہت سی امیدیں اور توقعات وابستہ ہیں۔ اپنے لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے ہمیں چاہیئے کہ ہم اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور کسی تفریق کا شکار نہ ہوں۔ ہمیں تخریب اور مخاصمت کی سیاست کو خیرباد کہنا ہوگا۔ ایک بہتر مستقبل ہمارے لوگوں کا حق ہے ۔جو انہیں ملنا چاہیئے۔ ہمارے لوگوں کو قائد اعظم محمد علی جناح کے اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے پاکستان پر یقین ہے اور وہ اُن کا پاکستان ہی دیکھنا چاہتے ہیں وہ پاکستان جس کے لیے محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی قربان کی۔ وہ پاکستان جس کے لیے ہم زندہ ہیں۔ وہ پاکستان جس کے لیے ہماری جانیں بھی حاضر ہیں۔ ہاں یہی پاکستان ہے جس کے لیے میں آپ کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتا ہوں۔ میں جو پھانسی کی کال کوٹھڑی سے نکل کر قصرِِصدارت تک پہنچا ہوں۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ کوئی شے نا ممکن نہیں ہے ۔میں حکومت کے تعاون سے اس ملک پر چھائی ہوئی تاریکیوں کو دور کرنے کا عزم رکھتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ روشنی ہمارا مقدر ہے ہم اپنے لوگوں کی محرومیوں کو دور کریں گے اور اپنی ذات سے بالا تر ہو کر ان کی توقعات پر پورا اتریں گے۔  آیئے متحد ہوکر یہ عہد کریں کہ ہم ایک محفوظ، مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کریں گے۔
اللہ تعالٰی ہمارے نیک مقاصد میں ہمارا حامی و مددگار ہو!
پاکستان کھپے، پاکستان کھپے، پاکستان کھپے، پاکستان پائندہ باد

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

؟؟؟؟؟؟؟

Posted on 18/09/2008. Filed under: پاکستان, سیاست |

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

گیٹ آؤٹ طالبان

Posted on 18/09/2008. Filed under: پاکستان, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

سترہ سالہ دانیال کے ایک انکار نے اسلام آباد کی اشرافیہ کو حیران نہیں بلکہ پریشان کر دیا۔ انکار کا یہ واقعہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے ڈرامہ ہال میں پیش آیا جہاں وفاقی دارالحکومت کے ایک معروف انگریزی میڈیم اسکول کی تقریب تقسیم انعامات جاری تھی۔ رمضان المبارک کے باعث یہ تقریب صبح دس بجے سے بارہ بجے کے درمیان منعقد کی گئی اور اتوار کا دن ہونے کے باعث ڈرامہ ہال طلبہ و طالبات کے والدین سے بھرا ہوا تھا۔ ان والدین میں شہر کے معروف لوگ شامل تھے۔ اس تقریب پر مغربی ماحول اور مغربی موسیقی غالب تھی جس میں حیرانگی کی کوئی بات نہ تھی۔ تقریب کی تمام کارروائی انگریزی میں ہو رہی تھی اور انگریزی زبان جہاں بھی جاتی ہے اپنی تہذیب کو ساتھ لے کر جاتی ہے۔ اس دوران اسکول کی طالبات نے جنید جمشید کے ایک پرانے گیت پر رقص پیش کیا۔ یہ گیت ایک سانولی سلونی محبوبہ کے بارے میں تھا جو شہر کے لڑکوں کو اپنا دیوانہ بنا لیتی ہے۔ نو عمر طالبات نے اس گیت پر دیوانہ وار رقص کیا۔ حاضرین میں موجود کئی طلبہ نے اپنے والدین کی موجودگی کی پروا نہ کرتے ہوئے محو رقص طالبات کو چیخ چیخ کر داد دی۔
اس رقص کے بعد اسٹیج سے او لیول اور اے لیول کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے نام پکارے جانے لگے۔ گولڈ میڈل حاصل کرنے والی بعض طالبات اسکارف اور برقعے میں ملبوس تھیں۔ ایک طالب علم ایسا بھی تھا جس کے چہرے پر نئی نئی داڑھی آئی تھی اور جب پرنسپل صاحبہ نے اس کے گلے میں گولڈ میڈل ڈال کر اس کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہا تو دبلے پتلے طالب نے نظریں جھکا کر اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ پرنسپل صاحبہ نے پوچھا کہ کیا تم ہاتھ نہیں ملانا چاہتے؟ طالب علم نے نفی میں سر ہلایا اور اسٹیج سے نیچے اتر آیا۔ پھر دانیال کا نام پکارا گیا جو اے لیول مکمل کرنے کے بعد ایک امریکی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور صرف گولڈ میڈل حاصل کرنے اپنے پرانے اسکول کی تقریب میں بلایا گیا تھا۔ وہ گولڈ میڈل وصول کرنے کیلئے پرنسپل صاحبہ کی طرف نہیں گیا بلکہ ڈائس پر جا کھڑا ہوا اور مائیک تھام کر کہنے لگا کہ وہ اپنے اسکول کی انتظامیہ کا بہت شکر گزار ہے کہ اسے گولڈ میڈل کیلئے نامزد کیا گیا لیکن اسے افسوس ہے کہ مذکورہ تقریب میں اسکول کی طالبات نے رمضان المبارک کے تقدس کا خیال نہیں کیا اور واہیات گیت پر رقص پیش کیا۔ اس نے کہا کہ مسلمانوں کے ملک میں رمضان المبارک کے تقدس کی پامالی کے خلاف بطور احتجاج وہ گولڈ میڈل وصول نہیں کرے گا۔ یہ کہہ کر وہ اسٹیج سے اتر آیا اور ہال میں ہڑبونگ مچ گئی۔ کچھ والدین اور طلبہ تالیاں بجا کر دانیال کی حمایت کر رہے تھے اور کچھ حاضرین غصے میں پاگل ہو کر اس نوجوان کو انگریزی زبان میں برا بھلا کہہ رہے تھے۔ بوائے کٹ بالوں والی ایک خاتون اپنی نشست سے کھڑی ہو کر زور زور سے چیخیں … ” گیٹ آؤٹ طالبان، گیٹ آؤٹ طالبان “۔
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دانیال کے مخالفین حاوی ہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ شور کر رہے تھے لیکن یہ ہڑبونگ وفاقی دارالحکومت کی اشرافیہ میں ایک واضح تقسیم کا پتہ دے رہی تھی۔ یہ تقسیم لبرل عناصر اور بنیاد پرست اسلام پسندوں کے درمیان تھی۔ پرنسپل صاحبہ نے خود مائیک سنبھال کر صورتحال پر قابو پایا اور تھوڑی دیر کے بعد ہوشیاری سے ایک خاتون دانشور کو اسٹیج پر بلا لیا اور خاتون نے اپنی گرجدار آواز میں دانیال کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ تم نے جو کچھ بھی کیا وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کے خلاف تھا کیونکہ بانیٴ پاکستان رواداری کے علمبردار تھے۔ پچھلی نشستوں پر براجمان ایک اسکارف والی طالبہ بولی کہ بانیٴ پاکستان نے یہ کب کہا تھا کہ مسلمان بچیاں رمضان المبارک میں اپنے والدین کے سامنے سانولی سلونی محبوبہ بن کر ڈانس کریں؟ ایک دفعہ پھر ہال میں شور بلند ہوا اور اس مرتبہ بنیاد پرست حاوی تھے لہٰذا پرنسپل صاحبہ نے مائیک سنبھالا اور کہا کہ طالبات کے رقص سے اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ معذرت خواہ ہیں۔ اس واقعے نے اسلام آباد میں ایک مغربی سفارت خانے کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ سفارت خانے نے فوری طور پر ایک ماہر تعلیم کی خدمات حاصل کیں اور اسے کہا گیا کہ وہ اسلام آباد کے پانچ معروف انگریزی میڈیم اسکولوں میں او لیول اور اے لیول کے ایک سو طلبہ و طالبات سے امریکی پالیسیوں، طالبان اور اسلام کے بارے میں رائے معلوم کریں۔ اس سروے کے حتمی نتائج ابھی مرتب نہیں ہوئے لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ او لیول اور اے لیول کے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی اکثریت امریکہ اور طالبان دونوں سے نالاں ہے لیکن امریکہ کو بڑا دہشت گرد سمجھتی ہے۔ سروے کے دوران بعض طلبہ نے ” خطرناک حد تک “ طالبان کی حمائت کی اور کہا کہ طالبان دراصل امریکہ اور پاکستان حکومت کے ظلم اور بمباری کا ردعمل ہیں اور انہیں دہشت گرد قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم ایسے طلبہ دس فیصد سے بھی کم تھے۔ اس سروے سے مغرب کو کم از کم یہ پتہ ضرور چل جائے گا کہ اسلام آباد کے انگریزی میڈیم اسکولوں میں طالبان کے دس فیصد حامی موجود ہیں۔ یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ طالبان صرف دینی مدارس میں پیدا نہیں ہوتے بلکہ وقت اور حالات انگریزی میڈیم طالبان بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ ذرا سوچئے ! ان دس فیصد میں سے ایک یا دو فیصد طلبہ وہی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیں جو طالبان نے اختیار کر رکھا ہے تو ذمہ دار کون ہو گا؟ ذرا سوچئے ! پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آئے روز امریکی بمباری سے بے گناہ عورتوں اور بچوں کی ہلاکت پر آپ اور میں بے چین ہو جاتے ہیں تو کیا ہمارے پندرہ سولہ سال کے بچے بے چین نہ ہوتے ہوں گے؟ امریکی میزائل حملوں نے نئی نسل میں یہ تاثر عام کیا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی ریاستی دہشت گردی کا سامنا ہے اور پاکستان کی حکومت اس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ تاثر امریکہ مخالف جذبات کو تیزی سے بھڑکا رہا ہے اور اگر حکومت صورت حال کو سنبھال نہ سکی تو بہت جلد پاکستان میں ایک ایسی امریکہ مخالف عوامی تحریک جنم لے سکتی ہے جس کو نہ تو نئی حکومت روک سکے گی اور نہ ہی فوج روک سکے گی۔
ہماری حکومت کو تذبذب اور گومگو کی کیفیت سے نکلنا ہو گا۔ جب قبائلی علاقوں میں طالبان حکومت کی رِٹ تسلیم نہیں کرتے تو ہماری فوج ان پر ٹینک چڑھا دیتی ہے لیکن جب امریکی طیارے ہماری قومی خودمختاری کا مذاق اڑاتے ہیں تو ہم صرف چند بیانات پر اکتفا کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے ایک بیان دیا کہ امریکہ کو پاکستان پر مزید حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس بیان پر انہوں نے خوب داد وصول کی۔ قوم کا خیال تھا کہ قبائلی علاقوں میں تعینات ایک لاکھ فوج امریکیوں کو دوبارہ پاکستان میں نہیں گھسنے دے گی لیکن اگلے ہی دن شمالی وزیرستان میں ایک اور حملہ ہو گیا جس میں ایک دفعہ پھر عورتیں اور بچے مارے گئے۔
اس حملے کے بعد ہمارے وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں ہو سکتی۔ ایک ایٹمی طاقت کے وزیراعظم کا بیان پڑھ کر میرا سر شرم سے جھک گیا۔ آپ امریکہ سے نہیں لڑ سکتے تو نہ لڑیں لیکن کم از کم امریکی فوج کیلئے پاکستان کے راستے سے جانے والی سپلائی تو بند کر دیں۔ امریکی طیاروں کو پاکستان کے راستے سے ایندھن جاتا ہے اور یہ ایندھن پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ امریکہ کی لڑائی اب طالبان اور القاعدہ کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ہے۔ پاکستانی ریاست نے امریکی دہشت گردی کے خلاف کمزوری دکھائی تو پاکستان کے بڑے شہروں میں شدت پسندی کی لہر ابھر سکتی ہے جو جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کو کمزور کر دے گی۔ نئی جمہوری حکومت امریکی دہشت گردی کے خلاف عوامی جذبات کی ترجمانی کرے، مشتعل جذبات نے عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی تو حکومت کے پاس کچھ نہ بچے گا اور ” گیٹ آؤٹ طالبان “ کہنے والے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں طالبان سے بچتے پھریں گے۔

حامد میر ۔ روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

پیاسے کو کنوئیں تک بھیجنے کی روایت بدلنا ہو گی

Posted on 17/09/2008. Filed under: پاکستان |

کل کے ہردلعزیز کرکٹر اور کرپشن کے خلاف برسرپیکار آج کے سیاست دان عمران خان کی والدہ کینسر کے موذی مرض کے ہاتھوں اللہ کو پیاری ہو گئیں جس نے لاابالی کرکٹر کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ عمران نے ابھی کرکٹ چھوڑنے کا ارادہ بھی نہیں کیا تھا کہ پاکستان میں کینسر ہسپتال کے اچھوتے خیال نے اسے کچھ کر گزرنے پر ابھارا۔ خیال نے حقیتوں کا روپ دھارنا شروع کیا، خوابوں کو تعبیر ملنا شروع ہوئی اور سوچوں نے عملی جامہ پہننا شروع کر دیا۔ لاہور میں جوہر ٹاؤن کے علاقے میں زمین خرید لی گئی بنیادیں کھودیں گئیں، اینٹیں لائی گئیں، پہلی اینٹ رکھنے کے بعد خان گلیوں، بازاروں، محلوں، سکولوں، کالجوں، سڑکوں اور اداروں میں نکل گیا۔ اس نے ایک کال دی تو لبیک کی ہزاروں آوازیں سینہ افلاک کو چیرنے لگیں۔ اس نے ہاتھ پھیلایا تو چھن چھن کی موسیقی میں گرتے سکوں اور کرنسی نوٹوں نے اس کی جھولی بھر دی۔ اسی لگن نے اسے کرکٹ کا عالمی کپ جیتنے کا حوصلہ دیا۔ عالمی چمپیئن بننے کی دیر تھی کہ کینسر ہسپتال کا معجزہ بھی کر دکھایا۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے ہسپتال مکمل ہوا، اس وقت اسے چلانے پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔
عمران خان کے بعد آپ نامور گلوکار ابرارالحق کی مثال لے لیں۔ ابرار جو ‘بلو دے گھر‘ گا کر مشہور ہوا اور اس کی وجہ سے اسے کئی مکاتب فکر کی طرف سے کڑی تنقید بھی سننا پڑی۔ اس کھلنڈرے گلوکار پر بھی اس کی والدہ کی وفات نے گہرے اثرات مرتب کئے اس نے اپنی ماں کی یاد میں اپنے علاقے میں ٹی بی ہسپتال بنانے کا اعلان کیا تو کئی لوگوں نے اسے دیوانے کا خواب قرار دیا لیکن یہ اس کی ہمت اور قوت ارادی ہی تھی جس نے اسے دن رات پروگراموں میں جوتے رکھا۔ ہسپتال کے لئے جہاں سے اسے پیسے ملنے کی ذرا سے بھی امید ہوتی وہ وہیں گانے چلا جاتا۔ اس نے کہا تھا ‘میں مراثی یا قوال نہیں کہ شادی بیاہ اور عرس کی تقریبات پر بھی گاتا پھروں‘ لیکن ہسپتال کے لئے اس نے ان دونوں جگہوں پر بھی گانے سے انکار نہیں کیا۔ لوگوں نے بھی دل کھول کر اس پر اپنی محبتیں نچھاور کیں۔ اس نے زیرہ مانگا تو قوم نے اسے پورا اونٹ تھما دیا، اس نے رائی طلب کی تو لوگ اس پاس پہاڑ لیکر پہنچ گئے۔ اس کے گانوں کو معاشرے کے لئے ‘بے راہ رو‘ قرار دینے والے بھی اس کے نیک جذبے سے متاثر ہو کر ثواب سمجھ کر اس کے کنسرٹس میں شامل ہونے لگے۔ سینکڑے ہزاروں میں تبدیل ہوئے اور لاکھوں نے مل کر کروڑوں کی شکل اختیار کر لی پھر ایک روز نارووال میں صغریٰ شفیع میموریل ہسپتال کا افتتاح بھی ہو گیا۔
عمران خان اور ابرار الحق نے جس نیک جذبے سے یہ ادارے قائم کئے ہیں وہ یقینا لائق تحسین اور قابل ستائش ہیں۔ ماؤں کی محبت میں بننے والے یہ ہسپتال لاکھوں تاج محلوں سے بڑھ کر ہیں لیکن ان ہسپتالوں کو اگر پاکستان کے معاشرتی، جغرافیائی، اقتصادی حالات، شرح ترقی اور وسائل کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بھی محض عورت کی محبت میں بنے تاج محل ہی نظر آتے ہیں۔
روس افغانستان میں اور امریکہ ویت نام میں گھسا تو دونوں ملکوں کی افواج کو باقاعدہ شکست ہو گئی، دونوں عالمی طاقتیں اور دنیا کی بڑی قوتیں تھیں۔ کھلے میدانوں میں ایک ہی ہلے میں انہیں شکست دینے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ازل سے اب تک طاقتور کو شکست دینے کے لئے کمزور کے پاس ایک ہی ہتھار رہا ہے، یہی ہتھیار ویت نامی جنگجوؤں اور افغانی مجاہدین نے بھی استعمال کئے۔ چھ سالہ بچے سے لیکر نوے سالہ ضیعف تک سب گوریلا جنگ میں شامل ہو گئے۔ گوریلا جنگ کا ایک ہی اصول ہے بڑے گاؤ لگانے کی بجائے دشمن کو چھوٹے چھوٹے چرکے اور ‘ٹک‘ لگاتے رہنا۔ امریکی ہاتھی کو ویت نامیوں اور روسی ریچھ کو افغانیوں کے ہاتھوں چھوٹے چھوٹے اتنے ‘ٹک‘ اور کٹ لگے کہ آہستہ آہستہ دونوں کا جسم ناسور کی شکل اختیار کر گیا دونوں کو مقبوضہ ممالک سے ذلت آمیز شکست ہوئی اگرچہ گوریلا جنگ کا دورانیہ قدرے طویل ہو جاتا ہے لیکن بڑی قوت کو زمین چاٹنے کے لئے مجبور کرنے کے لئے اس سے کارگر دوسرا کوئی ہتھیار موجود نہیں ہے۔ آج بھی  آزادی کے متوالے بہت سے ممالک میں یہی گوریلا جنگ برسوں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا کی بڑی اور استعماری طاقتوں کے خلاف گوریلا وار کے دو محاذ عراق اور افغانستاں میں کھلے ہوئے ہیں۔ موصل سے لیکر قابل تک، بغداد سے لیکر قندھار تک، بصرہ سے لیکر خوست تک، اور تکریت سے لیکر ہرات تک کی گلیاں اور میدان قابض افواج کے لئے خوف اور دہشت کی علامت بنی ہوئی ہیں، کوئی نامعلوم شخص نکلتا ہے کہیں چار گولیاں چلاتا ہے، کہیں دستی بم پھنکتا ہے ایک دو امریکی اور اتحادی روز مرتے ہیں  دس بارہ زخمی ہوتے ہیں اور نامعلوم حملہ آور انہی گلیوں میں روپوش ہو جاتے ہیں اس گوریلا وار کا نتیجہ بھی یقینا وہی نکلے گا چھوٹے چھوٹے کٹ قابض افواج کا سارا جسم ناسور بنا دیں گے اور انہیں وہاں سے بھاگے بنا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔
ہمارے ملک میں جہالت، بےروزگاری اور صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی بھی تو ہمارے طاقتور دشمن ہیں ان کے خلاف کھلے میدان میں لڑنے سے کہیں بہتر ہوتا کہ ہم ان کے خلاف گوریلا وار کا راستہ اختیار کرتے۔ تیس تیس کروڑ کی لاگت سے بڑے ہسپتال بنانے سے کہیں بہتر تھا کہ ان کی مدد سے ملک بھر میں تین ہزار پسماندہ ترین گاؤں تلاش کر کے وہاں فری ڈسپنسریاں قائم کی جاتیں۔ ایک بڑی یونیورسٹی قائم کرنے کی بجائے اسی تخمینے سے پانچ ہزار سکول قائم کئے جا سکتے ہیں۔ اقتصادی اور معاشرتی دشمنوں کے خلاف گوریلا جنگ لڑنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ بڑے پراجیکٹس کے بجائے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس پر کام کیا جائے۔ بڑے ڈیم متنازعہ ہو چکے ہیں تو ہر علاقے کے لئے ایک چھوٹا ڈیم بنا دیا جائے۔ ان طاقتور اور قابض دشمنوں پر قبضہ پانے کے ضروری ہے کہ اقتدار کے ساتھ سہولیات اور وسائل بھی نچلی سطح تک منتقل کئے جائیں۔ ایک موٹروے سے بہتر تھا کہ چھوٹے قصبوں کو بڑی شاہراہوں سے ملانے کے لئے ایک سولنک روڈز بنا لی جاتیں اور سو کنوئیں کھودنے سے کہیں زیادہ اچھا کام ایک نہر نکالنا ہے جو پیاسی زمین کی تلاش میں خود ماری ماری پھرتی ہے۔ معاشرے میں انقلاب لانے کے لئے ہمیں پیاسے کو کنوئیں تک بھیجنے کی روایت بدلنا ہو گی۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

لاتوں کا بھوت

Posted on 16/09/2008. Filed under: متفرق |

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ایرانی صدر

Posted on 15/09/2008. Filed under: متفرق |










Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ملک دشمن اور سامراجی ایجنٹوں کے منہ پر طما نچہ

Posted on 15/09/2008. Filed under: پاکستان, سیاست |

امریکہ کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ امریکہ طالبان سے متعلق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر رہا ہے جس کے تحت اب سرحد پار کر کے پاکستان کے اندر طالبان پر بھی حملے ہو سکتے ہیں۔چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ یہ تبدیلی افغانستان کی سرحد کے پار سے طالبان کے نہایت کارگر حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی نے کہا ہے کہ ملک کی حاکمیت اور سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا اور کسی بھی غیر ملکی فوج کو پاکستان کی حدود میں آپریشن کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جنرل کیانی نے کہا ہے کہ اتحادی افواج کے ساتھ یہ بات صاف ہے کہ پاکستان کی سرحد میں آپریشن کا حق صرف پاکستان کا ہے۔ ایڈمرل مولن نے واشنگٹن میں کانگریس کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ وہ اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ امریکہ یہ جنگ جیت رہا ہے اگرچہ ‘انہیں یقین ہے کہ امریکہ یہ جنگ جیت سکتا ہے۔’ ایڈمرل مولن کا یہ بیان صدر بش کے افغانستان میں مزید 4,500 فوجی بھیجنے کے اعلان کے ایک دن بعد آیا ہے۔ افغانستان میں پہلے ہی 33,000 امریکی فوجی موجود ہیں۔ کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ایڈمرل مولن نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان میں شدت پسند ایک مشترکہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ‘میرے خیال میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرحدوں کے پار سے ہونی والی ایک پیچیدہ بغاوت میں الجھے ہوئے ہیں۔’انہوں نے کہا کہ ‘جب شدت پسند پاکستان سے سرحد عبور کر کے آتے ہیں تو ہم انہیں ڈھونڈ کر مار سکتے ہیں۔۔۔ لیکن جب تک ہم پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر ان پناہ گاہوں کو تباہ نہیں کر دیں گے جہاں سے وہ حملے کرتے ہیں، دشمن آتے رہیں گے۔’ دریں اثناءوائٹ ہاوس نے گذشتہ بدھ کو ایک بیان میں کہا گیاہے کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں ناکامی سے امریکی فوجی اور انٹیلیجنس کارروائیوں کی بندشوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ وائٹ ہاوس کی ترجمان دانا پرینو نے کہا کہ صدر بش کی القاعدہ کے رہنما کو قانون کے شکنجے میں دیکھنا چاہتے تھے لیکن امریکی حکام کے پاس ‘سپر پاورز’ نہیں ہیں۔ مورخہ گیارہ جو لائی کو’پہاڑی سلسلوں میں دس اور گولے گرے تھے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی البتہ قیمتی درختوں کو نقصان پہنچا تھا۔ جنوبی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق افغان سرحد کے قریب انگور اڈہ میں امریکہ اور ‘اتحادیوں’ کی گولہ باری سے ایک پاکستانی چیک پوسٹ پر آٹھ فوجی زخمی ہوگئے تھے مقامی لوگوں کے مطابق اس کے علاوہ مارٹر کے مزید دس گولے پاکستان کی سرحدی حدود میں گرے جس میں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی ۔مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھاکہ زخمیوں کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعہ بنوں منتقل کر دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ گولہ باری میں چیک پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئی ۔یاد رہے کہ اس پہلے گیارہ جون کوامریکی طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں بھی پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ایک ٹھکانے پربمباری کی تھی جس کے نتیجہ میں گیارہ اہلکاروں سمیت انیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ گولہ باری کے بعد امریکی جاسوس طیاروں نے جنوبی شمالی وزیرستان میں نچلی پروازیں شروع کی تھیں۔ مورخہ بیس اگست کوپاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی حدود سے داغے گئے دو میزائل ایک معروف قبائلی شخص کے مکان پر گرے جس میں کم از کم چھ لوگوں کے ہلاک ہونے کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ شام سات بجے کے قریب افغانستان کے علاقے پکتیکا سے داغے گئے دو میزائل وانا کے علاقے زیڑی نور میں یعقوب مغل خیل وزیر کے مکان پر گرے۔ انتظامیہ کے مطابق کچھ لوگ زخمی بھی تھے جس میںمالک مکان یعقوب بھی شامل تھا۔یادرہے کہ اس پہلے بھی جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں امریکہ کی جانب سے مقامی طالبان یا غیر ملکیوں کے ٹھکانوں کو جاسوس طیاروں یا میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجہ میں کئی مقامی لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ مورخہ تین ستمبر کوامریکی اور اتحادی افواج نے جنوبی وزیرستان میں کارروائی کی جس میں چھاتہ بردار فوجیوں نے بھی حصہ لیا ۔پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جنوبی وزیرستان میں امریکی فوجی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘حکومت پاکستانی سرزمین پر کسی بیرونی فورس کو حملے کی اجازت نہیں دے گی۔’پاکستان کے خارجہ سیکریٹری سلمان بشیر نے اسلام آباد میں امریکہ کی سفیر این پیٹرسن کو طلب کرکے انہیں اس حملے پر حکومت پاکستان کی سخت ناراضگی سے آگاہ کرایا۔ پاکستانی فوج کے مطابق امریکی اور اتحادی افواج نے جنوبی وزیرستان میں جو کارروائی کی اس میں چھاتہ بردار فوجیوں نے بھی حصہ لیا۔ یہ پہلا موقع تھا جس میں امریکی اور اتحادی افواج نے پاکستان کے اندر گھس کر زمینی فوج کا استعمال کیا اس سے قبل ہونے والے تمام حملے فضا سے کیے گئے تھے۔ گورنر سرحد کی جانب سے جاری ایک بیان میں مرنے والوں کی تعداد بیس بتائی گئی تھی جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ فوج کے ترجمان نے کہا تھاکہ یہ حملہ بلا اشتعال کیا گیا جس میں عام شہریوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔وزیر اعظم گیلانی نے کہا تھاکہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اپنی سرحدوں کے اندر انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ جبکہ دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا تھا کہ آئندہ پاکستان کی سرزمین پر کوئی حملہ ناقابل قبول ہوگا اور مزید ط
یش دلانے کے مترادف ہوگا۔ صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی نے جنوبی وزیرستان میں اتحادی افواج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی عوام مسلح افواج سے ملک کی سلامتی کی خاطر اس قسم کے حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کی توقع کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے انکشاف کیا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک مقام پر یقینی طور پر القائدہ کے رہنما ایمن الظواہری کا پتہ چلا لیا تھا لیکن انہیں گرفتار کرنے کا موقع ضائع ہو گیا۔ جبکہ مورخہ چار ستمبر کوپاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سرحد کے قریب افغان حدود سے داغے گئے تین میزائلوں سے پانچ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔حملے کے نتیجے میں ایک مکان بھی تباہ ہوگیا تھا۔مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ شام چار بجے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے علاقہ چارخیل میں افغان سرحد کے قریب رحمن والی خان اور فرمان کے مکان پر تین میزائل گرے، جس کے نتیجہ میں پانچ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ مقامی طالبان نے لاشوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے اس لیے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہلاک ہونے والے مقامی ہیں یا ان میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ میزائل گرنے سے علاقے میں زبردست خوف و ہراس پھیل گیا تھاگزشتہ ایک ہفتے سے میران شاہ وانا اور ملحقہ علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں میں اضافہ ہوا ہے ایک ہی وقت میں تین سے زیادہ جاسوس طیارے گشت کرتے ہوئے دیکھے گئے تھے عام لوگ جاسوس طیاروں اور میزائل حملوں سے سخت پریشان ہیں۔ یادرہے کہ اس پہلے بھی کئی بار قبائلی علاقوں میں نامعلوم مقام کی جانب سے میزائل داغنے کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔مقامی لوگ اس قسم کے واقعات کا الزام افغان حکومت یا امریکہ پر لگاتے ہیں۔لیکن حکومت پاکستان اس قسم کے واقعات کو محض ایک حادثہ قرار دیتی رہی۔جنوبی وزیرستان کے علاقہ انگوراڈہ میں امریکہ اور اتحادی فوج کے حملے میں کم از کم بیس عام شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستانی حکومت گزشتہ کئی سالوں سے طاقت، دولت اور بات چیت کے ذریعے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے مصرفِ عمل ہے مگر اس میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ لڑائی چند سال قبل جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے شروع ہوئی تھی اور آج سات قبائلی ایجنسیوں اور صوبہ سرحد کے زیادہ تر اضلاع تک پھیل گئی ہے۔ اس دوران شدت پسندوں اور سکیورٹی کو جتناجانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا اس سے کہیں زیادہ نقصان ان علاقوں کے معصوم لوگوں کو پہنچا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مسلسل جنگ نے بڑی تعداد میں لوگوں سے روزگار چھین لی اور ان علاقوں میں کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ تعلیمی اداروں کو نذرِ آتش اور دیگر شہری سہولیات سے لوگوں کو محروم کر دیا گیا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ مقامی لوگوں کے اٹھ جانے سے جاری جنگ میں برسِر پیکار فریقین کا کردار بدل سکتا ہے۔ کل تک حکومت اور طالبان دونوں آمنے سامنے تھے جبکہ مقامی آبادی کو خاموش رہنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں سوجھ رہا تھا مگر اب مقامی لشکر کے بن جانے سے طالبان اور مقامی آبادی کا آمنا سامنا ہوسکتا ہے جس کا ساتھ بظاہر’سول وار’ کا خطرہ جڑا ہوا ہے۔صرف چند سالوں کے دوران تین سو سے زائد قبائلی مشران کو’ٹارگٹ کلنگ’ کا نشانہ بنایا گیا جس سے سینکڑوں سالوں سے موجود جرگہ سسٹم کمزور جبکہ لوگوں کو ابتر صورتحال سے نمٹنے کا حوصلہ پست ہوگیا۔ حالات کی خرابی نے لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا اور انہوں نے طالبان کو اپنے اپنے علاقوں سے بیدخل کرنے کے لیے مقامی لشکر تشکیل دینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس رجحان کا آغاز صوبہ سرحد کے ضلع بونیر سے ہوا جہاں پر مقامی لوگوں نے حملہ کر کے چھ طالبان کو مار کر انہیں علاقے سے نکال باہر کیا۔اس کے بعد ضلع دیر میں مقامی لوگوں نے طالبان کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ پشاور کے مضافات میں واقع متنی کے علاقے میں مقامی لوگوں کے ایک جرگے نے سنیچرکے روز سولہ کے قریب طالبان کو پولیس کے حوالے کر دیاتھا۔لکی مروت اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں لوگوں نے اٹھ کر شدت پسندوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے حیران کن بات طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے باجوڑ ایجنسی میں دیکھنے کو ملی جہاں پر سکیورٹی فورسز کی تین ہفتوں تک جاری رہنے والی فضائی حملوں کے بعد لوگوں نے ایک مقامی لشکر تشکیل دیکر طالبان کو علاقے سے بیدخل کرنے کا اعلان کیاگیا۔ اس کا آغاز پہلے صدر مقام خار سے ہوا جہاں پر اب بھی مقامی مسلح رضاکار شب وروز پہرہ دے رہے ہیں جبکہ سالازئی کی تحصیل میں اتوار کو قبائلی لشکر نے مشکوک طالبان کے گھروں کو مسمار کردیا۔ باجوڑ میں مقامی لوگوں کی جانب سے اٹھایا جانے والے اس قدم کو اس لحاظ سے غیرمعمولی سمجھا جاتا ہے کہ وہاں پر بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی خوف سے ایک عام شخص اشاروں کنایوں میں طالبان کے خلاف بات کرنے کی جرات تک نہیں کرسکتا تھا۔ حکومت ابھی تک شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے طاقت، بات چیت اور ترقیاتی منصوبوں کی بظاہر’ ناکام’ پالسی پر عمل پیرا ہے مگر حالات سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کے اٹھ کر کھڑے ہونے نے اس میں ایک اور ‘موثر’ حکمت عملی کا اضافہ کر دیا ہے۔ لیکن شدت پسندی کی روک تھام کے لیے یہ حکمت عملی جتنی کامیاب نظر آرہی ہے اس کے ساتھ کئی ایک خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ان علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف مقامی لشکر کی جانب سے ہونے والی کاروائیوں کے بعد طالبان مقامی آبا
دی کو حکومت یافتہ سمجھنے لگے ہیں جس سے ان کی غیرجانبداری کے تاثر کو بظاہر ایک دھچکا پہنچا ہے۔ اگر چہ طالبان نے جوابی کاروائی کے حوالے سے محتاط رویہ اپنا رکھا ہے لیکن اگر اس میں شدت آتی ہے تو گھیرا تنگ ہوتے دیکھ کر وہ مقامی آبادی کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ مبصرین کے خیال میں اس حکمت عملی کی کامیابی اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومت اور متعلقہ علاقوں کے عوام کے درمیان ایک مربوط اور موثر رابطہ کی ضرورت ہے۔ آٹھ ستمبر کو پیر کو گیارہ بجے کے قریب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے قریباً چار کلومیٹر دور مغرب کی جانب ڈانڈے درپہ خیل میں ایک مکان پر سات میزائل گرے ۔ یہ میزائل حملہ امریکی جاسوس طیاروں نے کیا جو حملے کے دوران فضاءمیں گشت کر رہے تھے۔ میزائل حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس تک پہنچ گئی ۔ ہلاک ہونے والے تمام مقامی لوگوں تھے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ زیادہ تھا وہ اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے میں مصروف رہے۔ جلال الدین حقانی کے مکان کے قریب ایک میزائل لڑکیوں کے ایک اسلامی مدرسہ پر گرا ہے جس کے نتیجہ میں دو بچیاں اور دو خواتین استانیاں ہلاک ہوئیں جبکہ نو بچیوں اور دو خواتین اساتذہ کو زخمی حالت میں سول ہسپتال میرانشاہ لایا گیا تھا۔ نئی منتخب حکومت کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اورگزشتہ چند ہفتوں میں ایسے حملوں میں ساٹھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ۔ان حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے ممکنہ ردِ عمل پر امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی واشنگٹن میں ڈائریکٹر ایشیا پروگرام سیلیگ ہیریسن نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اگر امریکی حملے جاری رہے تو پاکستان میں پشتون آبادی میں احساس محرومی بڑھ جائے گا۔ امریکہ کو پشتون علاقوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں اور انہوں نے برطانیہ کی تاریخ نہیں پڑھی اور اسی لیے امریکہ وہ تمام غلطیاں کر رہا جواس علاقے میں برطانیہ نے کی تھیں۔’ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ موجود ہے اور اپنے مالی استحکام کو استعمال کرتے ہوئے طالبان کو اپنا حمایتی بناتی ہے۔’لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی اور اس کی تلافی کی جا سکتی ہے۔ ایک ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے طالبان کا القاعدہ کی طرف مزید مائل ہونے کو روکا جا سکے۔’ سیلیگ ہیریسن پانچ کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ‘اِن افغانستان شیڈو’ اور ‘سٹڈی آف بلوچ نیشنلزم’ شامل ہیں، سیلیگ ہیریسن واشنگٹن پوسٹ کے سابق شمالی ایشیا کے بیورو چیف بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ طالبان اور القاعدہ میں تفریق کی جائے کیونکہ القاعدہ ایک عالمی دہشتگرد تنظیم ہے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے جب کہ طالبان سے دنیا کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ‘طالبان سے بات چیت کرنے کا جواز درست ہے اور اس کے ساتھ ہی القاعدہ کو ڈھونڈنے اور شکست دینے کے لیے موثر منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح میں کافی بے اطمینانی ہے اور دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا نئی حکومت اس صورتحال پر قابو پا سکتی ہے یا نہیں۔ طالبان کے مبینہ ٹھکانوں پر امریکی بمباری کی پالیسی غلط ہے چاہے وہ افغانستان میں ہو یا پاکستان میں۔اس قسم کی بمباری سے مزید لوگ طالبان کے حامی ہوتے جا رہے ہیں اور پشتون قبیلے مزید شدت پسند ہو گئے ہیں۔’ضرورت اس بات کی ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں تفریق کی جائے۔ یہ درست ہے کہ کچھ طالبان مالی طور پر القاعدہ کے ساتھ ہیں لیکن زیادہ تر جن میں پاکستان طالبان بھی شامل ہیں ان کو القاعدہ سے ملانا غلط ہو گا۔ ایسے طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں تفریق نہیں کی جا رہی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور ان کو کنٹرول کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔’ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی نے کہا ہے کہ ملک کی حاکمیت اور سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا اور کسی بھی غیر ملکی فوج کو پاکستان کی حدود میں آپریشن کرنے کی اجازت نہیں ہے۔آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق یہ بات جنرل کیانی نے اتحادی فوج کے پاکستان میں حملوں میں ہلاک ہونے والے معصوم شہریوں کی ہلاکت پر کی۔ جنرل کیانی نے کہا ہے کہ اتحادی افواج کے ساتھ یہ بات صاف ہے کہ پاکستان کی سرحد میں آپریشن کا حق صرف پاکستان کا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ کوئی ایسا معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت اتحادی افواج پاکستان کے اندر آپریشن کر سکتی ہے۔ امریکہ کے سینیئر فوجی افسران کے ساتھ یو ایس ایس ابراہم لنکن پر ستائیس اگست کو ملاقات کے حوالے سے جنرل کیانی نے کہا کہ ان کو حالات کی نزاکت کے متعلق بتا دیا گیا تھا جس کے جامع حل کے لیے صبر و تحمل کے ساتھ کام لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنا موقف سمجھایا تھا اور کہا تھا کہ اس قسم کے مسائل کا واحد حل فوجی کارروائی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے ساتھ مذاکرات کی بھی ضرورت ہے۔ بیان کے مطابق جنرل کیانی نے فوجی کارروائیوں کے خلاف عوامی ردِ عمل کا بھی ذکر کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائک مولن نے جنرل کیانی کے بتائے ہویے حقائق کااعتراف کیا اور کہا کہ ‘جنرل کیانی پاکستان کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں اور وہ کرتے رہیں گے۔’ پاک فوج کے سربراہ نے بیان میں چار ستمبر کو انگور اڈہ میں ہونے والے حملے میں شہریوں کی ہلاکت پر افسوس ک
ا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حملے شدت پسندوں کو مزید مضبوط کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج نے ماضی میں شدت پسندوں کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے ہیں اور ابھی بھی قبائلی علاقوں اور سوات سے شدت پسندی ختم کرنے کے لیے کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے اس جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں اور ان کی موجودگی کی وجہ سے القاعدہ اور اس کے ساتھیوں کی نقل و حمل میں مشکلات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں عوام کی سپورٹ فیصلہ کن ہو گی۔ جنرل کیانی نے کہا کہ عدم اعتمادی اور غلط فہمیاں مزید مشکلات پیدا کرسکتی ہیں اور ان علاقوں میں کارروائی کرنے کی مجبوریوں کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ میں کوئی فوری حل نہیں ہوتا۔ اس میں کامیابی کے لیے اتحادی فوج کو سٹریٹیجک صبر و تحمل اور ہماری مدد کرنی چاہیے۔ جنرل کیانی کا بیان پاکستان کے سو لہ کروڑ مایوس عوام کو ایک امید کی کرن دکھائی دی ہے کہ ہم ابھی ایک آزاد پا کستان کے محفوظ شہری ہے۔اس بیان سے قبل وطن عزیز کے اندر جو سا مراجی ایجنٹوں کی پنیری لگی ہوئی ہے ان کے منہ پر بھی ایک طمانچہ پڑا ہے کہ ملک و قوم اور اس مٹی سے محبت کرنے والا بھی جنرل مو جودہے کیو نکہ ما ضی میں قانون شکن جر نیلوں اور سول حکمرانوں کی غلط پا لیسیوں سے امریکی اس غلط فہمی میں یہ بھی بکواس کرتے رہے ہیں کہ پا کستانی چند ٹکوں کے عوض اپنی ماں کو بھی بیچ دیتے ہیں۔ لیکن اس بار ملک دشمن اور سا مراجی ایجنٹ اپنی ما ئیں،بہنیں بھی فروخت کرکے اپنے عزائم میں کا میاب نہیں ہونے پا ئیں گے۔اس وقت سب پر نظر رکھی جا رہی ہے کہ پا کستان میں حامد کر زئی کا کون کردار ادا کر رہا ہے ؟

تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

پچاس دن

Posted on 15/09/2008. Filed under: پاکستان, سیاست |

 


کالم جاوید چوہدری

 

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...