پیاسے کو کنوئیں تک بھیجنے کی روایت بدلنا ہو گی

Posted on 17/09/2008. Filed under: پاکستان |

کل کے ہردلعزیز کرکٹر اور کرپشن کے خلاف برسرپیکار آج کے سیاست دان عمران خان کی والدہ کینسر کے موذی مرض کے ہاتھوں اللہ کو پیاری ہو گئیں جس نے لاابالی کرکٹر کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ عمران نے ابھی کرکٹ چھوڑنے کا ارادہ بھی نہیں کیا تھا کہ پاکستان میں کینسر ہسپتال کے اچھوتے خیال نے اسے کچھ کر گزرنے پر ابھارا۔ خیال نے حقیتوں کا روپ دھارنا شروع کیا، خوابوں کو تعبیر ملنا شروع ہوئی اور سوچوں نے عملی جامہ پہننا شروع کر دیا۔ لاہور میں جوہر ٹاؤن کے علاقے میں زمین خرید لی گئی بنیادیں کھودیں گئیں، اینٹیں لائی گئیں، پہلی اینٹ رکھنے کے بعد خان گلیوں، بازاروں، محلوں، سکولوں، کالجوں، سڑکوں اور اداروں میں نکل گیا۔ اس نے ایک کال دی تو لبیک کی ہزاروں آوازیں سینہ افلاک کو چیرنے لگیں۔ اس نے ہاتھ پھیلایا تو چھن چھن کی موسیقی میں گرتے سکوں اور کرنسی نوٹوں نے اس کی جھولی بھر دی۔ اسی لگن نے اسے کرکٹ کا عالمی کپ جیتنے کا حوصلہ دیا۔ عالمی چمپیئن بننے کی دیر تھی کہ کینسر ہسپتال کا معجزہ بھی کر دکھایا۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے ہسپتال مکمل ہوا، اس وقت اسے چلانے پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔
عمران خان کے بعد آپ نامور گلوکار ابرارالحق کی مثال لے لیں۔ ابرار جو ‘بلو دے گھر‘ گا کر مشہور ہوا اور اس کی وجہ سے اسے کئی مکاتب فکر کی طرف سے کڑی تنقید بھی سننا پڑی۔ اس کھلنڈرے گلوکار پر بھی اس کی والدہ کی وفات نے گہرے اثرات مرتب کئے اس نے اپنی ماں کی یاد میں اپنے علاقے میں ٹی بی ہسپتال بنانے کا اعلان کیا تو کئی لوگوں نے اسے دیوانے کا خواب قرار دیا لیکن یہ اس کی ہمت اور قوت ارادی ہی تھی جس نے اسے دن رات پروگراموں میں جوتے رکھا۔ ہسپتال کے لئے جہاں سے اسے پیسے ملنے کی ذرا سے بھی امید ہوتی وہ وہیں گانے چلا جاتا۔ اس نے کہا تھا ‘میں مراثی یا قوال نہیں کہ شادی بیاہ اور عرس کی تقریبات پر بھی گاتا پھروں‘ لیکن ہسپتال کے لئے اس نے ان دونوں جگہوں پر بھی گانے سے انکار نہیں کیا۔ لوگوں نے بھی دل کھول کر اس پر اپنی محبتیں نچھاور کیں۔ اس نے زیرہ مانگا تو قوم نے اسے پورا اونٹ تھما دیا، اس نے رائی طلب کی تو لوگ اس پاس پہاڑ لیکر پہنچ گئے۔ اس کے گانوں کو معاشرے کے لئے ‘بے راہ رو‘ قرار دینے والے بھی اس کے نیک جذبے سے متاثر ہو کر ثواب سمجھ کر اس کے کنسرٹس میں شامل ہونے لگے۔ سینکڑے ہزاروں میں تبدیل ہوئے اور لاکھوں نے مل کر کروڑوں کی شکل اختیار کر لی پھر ایک روز نارووال میں صغریٰ شفیع میموریل ہسپتال کا افتتاح بھی ہو گیا۔
عمران خان اور ابرار الحق نے جس نیک جذبے سے یہ ادارے قائم کئے ہیں وہ یقینا لائق تحسین اور قابل ستائش ہیں۔ ماؤں کی محبت میں بننے والے یہ ہسپتال لاکھوں تاج محلوں سے بڑھ کر ہیں لیکن ان ہسپتالوں کو اگر پاکستان کے معاشرتی، جغرافیائی، اقتصادی حالات، شرح ترقی اور وسائل کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بھی محض عورت کی محبت میں بنے تاج محل ہی نظر آتے ہیں۔
روس افغانستان میں اور امریکہ ویت نام میں گھسا تو دونوں ملکوں کی افواج کو باقاعدہ شکست ہو گئی، دونوں عالمی طاقتیں اور دنیا کی بڑی قوتیں تھیں۔ کھلے میدانوں میں ایک ہی ہلے میں انہیں شکست دینے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ازل سے اب تک طاقتور کو شکست دینے کے لئے کمزور کے پاس ایک ہی ہتھار رہا ہے، یہی ہتھیار ویت نامی جنگجوؤں اور افغانی مجاہدین نے بھی استعمال کئے۔ چھ سالہ بچے سے لیکر نوے سالہ ضیعف تک سب گوریلا جنگ میں شامل ہو گئے۔ گوریلا جنگ کا ایک ہی اصول ہے بڑے گاؤ لگانے کی بجائے دشمن کو چھوٹے چھوٹے چرکے اور ‘ٹک‘ لگاتے رہنا۔ امریکی ہاتھی کو ویت نامیوں اور روسی ریچھ کو افغانیوں کے ہاتھوں چھوٹے چھوٹے اتنے ‘ٹک‘ اور کٹ لگے کہ آہستہ آہستہ دونوں کا جسم ناسور کی شکل اختیار کر گیا دونوں کو مقبوضہ ممالک سے ذلت آمیز شکست ہوئی اگرچہ گوریلا جنگ کا دورانیہ قدرے طویل ہو جاتا ہے لیکن بڑی قوت کو زمین چاٹنے کے لئے مجبور کرنے کے لئے اس سے کارگر دوسرا کوئی ہتھیار موجود نہیں ہے۔ آج بھی  آزادی کے متوالے بہت سے ممالک میں یہی گوریلا جنگ برسوں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا کی بڑی اور استعماری طاقتوں کے خلاف گوریلا وار کے دو محاذ عراق اور افغانستاں میں کھلے ہوئے ہیں۔ موصل سے لیکر قابل تک، بغداد سے لیکر قندھار تک، بصرہ سے لیکر خوست تک، اور تکریت سے لیکر ہرات تک کی گلیاں اور میدان قابض افواج کے لئے خوف اور دہشت کی علامت بنی ہوئی ہیں، کوئی نامعلوم شخص نکلتا ہے کہیں چار گولیاں چلاتا ہے، کہیں دستی بم پھنکتا ہے ایک دو امریکی اور اتحادی روز مرتے ہیں  دس بارہ زخمی ہوتے ہیں اور نامعلوم حملہ آور انہی گلیوں میں روپوش ہو جاتے ہیں اس گوریلا وار کا نتیجہ بھی یقینا وہی نکلے گا چھوٹے چھوٹے کٹ قابض افواج کا سارا جسم ناسور بنا دیں گے اور انہیں وہاں سے بھاگے بنا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔
ہمارے ملک میں جہالت، بےروزگاری اور صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی بھی تو ہمارے طاقتور دشمن ہیں ان کے خلاف کھلے میدان میں لڑنے سے کہیں بہتر ہوتا کہ ہم ان کے خلاف گوریلا وار کا راستہ اختیار کرتے۔ تیس تیس کروڑ کی لاگت سے بڑے ہسپتال بنانے سے کہیں بہتر تھا کہ ان کی مدد سے ملک بھر میں تین ہزار پسماندہ ترین گاؤں تلاش کر کے وہاں فری ڈسپنسریاں قائم کی جاتیں۔ ایک بڑی یونیورسٹی قائم کرنے کی بجائے اسی تخمینے سے پانچ ہزار سکول قائم کئے جا سکتے ہیں۔ اقتصادی اور معاشرتی دشمنوں کے خلاف گوریلا جنگ لڑنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ بڑے پراجیکٹس کے بجائے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس پر کام کیا جائے۔ بڑے ڈیم متنازعہ ہو چکے ہیں تو ہر علاقے کے لئے ایک چھوٹا ڈیم بنا دیا جائے۔ ان طاقتور اور قابض دشمنوں پر قبضہ پانے کے ضروری ہے کہ اقتدار کے ساتھ سہولیات اور وسائل بھی نچلی سطح تک منتقل کئے جائیں۔ ایک موٹروے سے بہتر تھا کہ چھوٹے قصبوں کو بڑی شاہراہوں سے ملانے کے لئے ایک سولنک روڈز بنا لی جاتیں اور سو کنوئیں کھودنے سے کہیں زیادہ اچھا کام ایک نہر نکالنا ہے جو پیاسی زمین کی تلاش میں خود ماری ماری پھرتی ہے۔ معاشرے میں انقلاب لانے کے لئے ہمیں پیاسے کو کنوئیں تک بھیجنے کی روایت بدلنا ہو گی۔

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

2 Responses to “پیاسے کو کنوئیں تک بھیجنے کی روایت بدلنا ہو گی”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ ان گنتی کے چند لوگوں نے اتنے بڑے بڑے کام کر لئے ہیں تو کیا ہم چھوٹے چھوٹے کام نہیں کر سکتے؟ انکی اوقات تھی کہ بڑے بڑے پراجیکٹ کر لئے۔ ہماری قوم کے لوگوں کے پاس کتنا پیسہ ہے شائد آپکو اندازہ نہیں۔ اگر کوئی نہیں کروڑوں خرچ کر سکتا یا کرنا چاہتا تو لاکھوں خرچ کرنے والے پانچ ہزار نہیں بے شمار ہیں لیکن کتنے لوگوں نے کھول دئے سکول اور ڈسپنسریاں؟ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں لیکن یہ بڑے پڑاجیکٹ بھی ہماری ضرورت ہیں بالکل اسی طرح جس طرح چھوٹے۔
بڑے لوگ ہمیشہ بڑے کام کرتے ہیں۔ اگر ان پراجیکٹس کی جگہ پیسہ چھوٹے پراجیکٹس میں لگا دیا جاتا تو شائد سب برباد ہو جاتا۔ آپ شائد اسی طرح کے گھوسٹ پراجیکٹس اور ہماری قوم میں سرائیت کر گئی ( اب تک تو خون بن کر دوڑنے والی) کرپشن سے بھی نا آشنا ہیں۔

ڈفر’s last blog post..بادشاہ

سلام پاکستان
میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ ۔ ۔
ہمیں واقعی چھوٹے کاموں کی طرف بھی توجہ دینی ہو گی۔ ۔
لیکن ڈفر کی بات میں بھی دم ہے کہ ہمیں بڑے لوگوں سے ایسے ہی پراجیکٹس کی توقع ہونی چاہیے ۔ ۔ ۔اور واقعی کتنے بڑے لوگ ہیں جنہوں نے یہ کام کیے ہیں۔ ۔ ؟!
جن لوگوں نے بھی یہ کام کیے ہیں ان کو سراہا جانا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کوئی نیا کام کرنا۔ ۔

عین لام میم’s last blog post..کچھ ‘انجینئرنگ’ کے بارے میں


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: