؟؟؟؟؟؟؟

Posted on 18/09/2008. Filed under: پاکستان, سیاست |

Advertisements

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

3 Responses to “؟؟؟؟؟؟؟”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

خبر کی آتھینٹیسیٹی کیا ہے؟
ویسے احمدی پہلے سے ہی ’کی پوسٹس‘ پر تعینات ہیں، اور انکا نیٹورک بہت بہت مضبوط ہے۔

ڈفر’s last blog post..بادشاہ

"خبر کی آتھینٹیسیٹی کیا ہے؟”

آتھینٹیسیٹي؟ سنی سنائی باتوں کا جو مزا ہے وہ آتھینٹیسیٹی ميں کہاں؟ 🙂

اب کی صورتِ حال کے متعلق میں کچھ نہیں جانتا البتہ ماضی کے کچھ حقائق بیان کر سکتا ہوں ۔ پاکستان کی خاص اہم اسامیاں عام طور پر مرزائیوں کے پاس ہی رہی ہیں کیونکہ اتفاق سے پہلا وزیرِ خارجہ ظفراللہ مرزائی تھا ۔نوابزادہ لیاقت علی خان صاحب کی شہادت کے بعد غلام محمد گورنر جنرل بنا وہ بھی مرزائی تھا ۔ لیاقت علی خان کو ہلاک کرنے میں غیرملکی قوتوں کے علاوہ مرزائی قیادت بھی موردِ الزام تھی ۔ اس کے بعد ایم ایم احمد اور شعیب احمد جو کہ یکے بعد دیگرے مشیرِ مالیات اور حکومت کے بڑے کرتا دھرتا تھے وہ بھی مرزائی تھے ۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنسانے والا شعیب احمد ہی تھا جو اپنے غیر ملکی آقاؤں کی ہدائت پر کام کرتا تھا ۔ مرزائیوں کو انگریزوں اور صیہونیوں کی پشت پناہی اور مالی امداد ہمیشہ حاصل رہی ہے کیونکہ یہ جماعت اُنہی کی تشکیل تھی ۔ 1970ء کے انتخابات سے قبل مرزائیوں کے خلیفہ کا بیان میں نے ان کے اخبار الفضل میں خود پڑھا تھا جس میں تمام مرزائیوں کو ہدائت کی گئی تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو ووٹ دیا جائے ۔ 1971ء میں لیفٹننٹ جنرل کے عہدے کے بری اور ہوائی فوج میں کم از کم سات افسر تھے جنہوں نے آغا محمد یحیٰ خان سے حکومت ذوالفقار علی بھٹو کو دلوائی تھی اور غالباً یہ کام ڈھاکہ کی شکست سے چار روز قبل ہوا تھا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں مرزائیوں کی بہت پذیرائی ہوئی تھی اسی وجہ سے دوسری تحریک ختمِ نبوّت شروع ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کے زوال کا آغاز ہوا ۔ جب معاملہ ہاتھ سے نکلتا محسوس ہوا تو ذوالفقار علی بھٹو نے بغیر مرزائیوں کی فہرست بنائے جو کہ مطالبہ تھا مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا ۔ اس طرح مرزائیوں کو بچا لیا گیا کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلم ہی لکھتے اور ہمیں کافر کہتے تھے ۔
یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ ہم جو اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں نہ ہمیں معلوم ہے کہ مسلم ہوتا کیا ہے اور نہ ہم صحیح مسلم بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔

افتخار اجمل بھوپال’s last blog post..قوم کے سوداگر


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: