Archive for اکتوبر, 2008

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا!

Posted on 28/10/2008. Filed under: پاکستان, سیاست |

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

تنہا ایک میں

Posted on 22/10/2008. Filed under: شعروادب |

کرب کا لشکر تھا مقابل اور تنہا ایک میں
سینکڑوں لاکھوں مسائل اور تنہا ایک میں
آندھیوں گرداب موجوں اور طوفانوں کے ساتھ
در پئے آزاد ساحل اور تنہا ایک میں
میں جنہیں اپنا سمجھتا تھا انہیں ہمراہ لئے
آ رہا تھا میرا قاتل اور تنہا ایک میں
ایسے عالم میں کہاں جاؤں کسے آواز دوں
آگ صحرا دور منزل اور تنہا ایک میں
درد آنسو بیقراری یاس اور دیوانگی
کاوش پیہم کا حاصل اور تنہا ایک میں
ایک تو ۔۔ کہ زندگی دراصل تجھ پر ختم ہے
آبلہ پا روح گھائل اور تنہا ایک میں

فرحت شہزاد

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

عجیب ہے

Posted on 22/10/2008. Filed under: شعروادب |

سرشاریء وصال حسین تر سہی مگر
جو ہجر نے عطا کی وہ لذت عجیب ہے
امید کی ہر ایک کلی نوچ لی گئی
مایوسیوں کی دل میں بغاوت عجیب ہے
خود زندگی عطا کی مگر خود ہی چھین لی
انسان پر خدا کی عنایت عجیب ہے
خوشیوں سے بچ کر رہنا غموں کی تلاش میں
اپنے ہی آپ سے یہ عداوت عجیب ہے

فرحت شہزاد

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

زخموں کی بات

Posted on 21/10/2008. Filed under: شعروادب |

خالق کائنات کی بات رہنے دے
کیسے گزری حیات رہنے دے
تیری رحمت پہ حرف آئے گا
میرے زخموں کی بات رہنے دے

فرحت شہزاد

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

مسلمانی

Posted on 14/10/2008. Filed under: پاکستان, اسلام, تاریخ, رسم و رواج |

کالم . جاوید چوہدری، روزنامہ ایکسپریس

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ایک اور نمازِ جمعہ

Posted on 13/10/2008. Filed under: اسلام |

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

یہ آگ کیسے ٹھنڈی ہو؟

Posted on 12/10/2008. Filed under: پاکستان, سیاست |

جین مائیکل کارا دیش فرانس کا ایک معروف صحافی ہے۔ اس نے حال ہی میں پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب کا فرنچ زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ چھوٹی سی کتاب دو سال قبل پشتو میں شائع ہوئی تھی اور پھر اس کا فارسی ترجمہ بھی شائع ہوا۔ جین کا خیال ہے کہ بظاہر یہ کتاب ملا عبدالسلام ضعیف کی بگرام، قندھار اور گوانتا ناموبے جیل میں گزری یادوں پر مشتمل ہے لیکن یہ صرف ایک قیدی کی یادیں نہیں بلکہ وہ وجوہات ہیں جن کے باعث افغانستان میں طالبان کی مزاحمت ختم ہونے میں نہیں آرہی ۔ جین نے ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب کا ترجمہ محض اس لئے کیا ہے کہ مغرب میں رہنے والے عام لوگوں کو پتہ چلے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ ان سے شدید نفرت کیوں کرتا ہے۔ گوانتا ناموبے جیل کے قیدی نمبر تین سو چھ کی یاداشتیں پڑھ کر ہر سچے پاکستانی کا سرشرم سے جھک جاتا ہے کیونکہ ملا عبدالسلام ضعیف کی تذلیل بگرام سے نہیں بلکہ اسلام آباد اور پشاور سے شروع ہوئی تھی۔
ملا عبدالسلام ضعیف نے اپنی کتاب کا آغاز ایک خواب سے کیا ہے۔ پاکستان میں گرفتاری سے چھ دن قبل انہوں نے خواب دیکھا کہ ان کا بڑا بھائی ہاتھ میں چھری تھامے آیا اور انہیں کہا کہ وہ ذبح ہونے کیلئے تیار ہوجائیں۔ ضعیف نے بھائی کو بہت سمجھایا لیکن بھائی انہیں ذبح کرنے پر بضد تھا۔ آخر کار ضعیف اس خیال سے زمین پر لیٹ گئے کہ بھائی کے دل میں رحم آجائے گا لیکن بھائی نے ان کے گلے پر چھری پھیر دی، اس خواب نے ضعیف کو پریشان کردیا۔ چھ دن کے بعد 2جنوری 2002 کو ملا عبدالسلام ضعیف کو اسلام آباد میں گرفتار کیا گیا۔ سیاہ رنگت والے ایک بھاری بھرکم فوجی افسر نے ضعیف سے کہا کہ امریکہ ایک بہت بڑی طاقت ہے، کوئی اس کا حکم ماننے سے انکار نہیں کرسکتا۔ امریکہ کو پوچھ گچھ کیلئے آپ کی ضرورت ہے لہٰذا آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ ضعیف نے اس سیاہ رنگ شخص سے بحث شروع کردی لیکن اس ”فہیم“ شخص سے بحث کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ضعیف کو گرفتار کرکے پشاور لے جایا گیا۔ تین دن کے بعد انہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایئرپورٹ لے جایا گیا جہاں ایک ہیلی کاپٹر تیار کھڑا تھا۔ پاکستانی حکام نے اپنے قیدی کو جیسے ہی امریکیوں کے حوالے کیا تو انہوں نے ملا عبدالسلام ضعیف پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی۔ پھر چاقوؤں سے اس باریش قیدی کے تمام کپڑے پھاڑ دیئے گئے اور زمین پر الٹا لٹا کر مارا گیا۔ تشدد کے دوران ضعیف کی آنکھوں پر بندھی پٹی اتر گئی تو انہیں نظر آیا کہ ایک طرف قطار میں پاکستانی فوجی اور ان کی گاڑیاں کھڑی تھیں اور دوسری طرف امریکی انہیں بے لباس کرکے مار رہے تھے۔ ضعیف لکھتے ہیں کہ ”ان لمحات کو میں قبر تک نہیں بھول سکوں گا۔“
پشاور سے بگرام لے جاکر ملا عبدالسلام ضعیف کو بغیر کپڑوں کے برف پر پھینک دیا گیا اور امریکہ کی فوجی خواتین ایک بے لباس مسلمان کے سامنے کھڑے ہو کر تین گھنٹے تک گانے گاتی رہیں۔ بگرام میں کئی دن کی مار پیٹ کے بعد ضعیف کو قندھار بھجوایا گیا۔ قندھار میں ایک دفعہ پھرضعیف اور دیگر قیدیوں کو ننگا کرکے سب کی تصاویر لی گئیں۔ایک دن قندھار جیل میں ضعیف نماز فجر کی امامت کروا رہے تھے جیسے ہی وہ سجدے میں گئے تو ایک امریکی فوجی ان کے سر پر بیٹھ گیا۔ یہ نماز ضعیف کو دوبارہ پڑھنی پڑی۔ اپنی کتاب میں ملا عبدالسلام ضعیف لکھتے ہیں کہ امریکیوں کو جلد ہی معلوم ہوگیا کہ ہم ہر قسم کا تشدد برداشت کرلیتے ہیں لیکن قرآن مجید کی توہین برداشت نہیں کرتے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ قندھار جیل میں امریکی فوجی (نعوذباللہ) قرآن مجید پر پیشاب کرکے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے تھے اور قیدی یہ منظر دیکھ کر روتے تھے۔ آخر کار قیدیوں نے اپنے تمام قرآن اکٹھے کرکے ہلال احمر کو دے دیئے تاکہ ان کی توہین نہ ہو۔ عبدالسلام ضعیف نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ قندھار جیل سے انہیں گوانتا ناموبے جیل منتقل کیا گیا اور بد قسمتی سے یہاں بھی قرآن مجید کی توہین کا سلسلہ جاری رہا۔ اس امریکی جیل میں ساڑھے تین سالہ قید کے دوران کم از کم دس مرتبہ قرآن مجید کی توہین ہوئی۔ ضعیف کے بقول ”امریکی قرآن کی بے حرمتی کرکے مسلمانوں کو یہ پیغام دیتے تھے کہ تم ہمارے غلام اور تمہارا دین و قرآن ہمارے لئے قابل احترام نہیں۔“
گوانتا ناموبے جیل میں امریکی فوجیوں کے ظلم و زیادتی کے خلاف ملا عبدالسلام ضعیف نے کئی مرتبہ بھوک ہڑتالیں کیں۔ ایک سے زائد مرتبہ کرزئی حکومت کے نمائندے انہیں ملنے جیل آئے اور مشروط رہائی کی پیشکش کی، ضعیف انکار کرتے رہے۔ آخر کار انہوں نے خود ایک تحریر لکھی… ”میں مجرم نہیں ہوں، میں نے کبھی کوئی جرم نہیں کیا، ایک مظلوم مسلمان ہوں جس کے ساتھ پاکستان اور امریکہ نے ظلم کیا اور چار سال قید میں رکھا میں یقین دلاتا ہوں کہ امریکہ کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ نہیں لوں گا۔“ اس تحریر کے بعد انہیں رہا کرکے کابل بھیج دیا گیا اور ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس تک محدود کردیا گیا۔ یہاں ملا عبدالسلام ضعیف نے خفیہ طور پر اپنی یاداشتیں سپرد قلم کیں اور ایک دوست کی مدد سے کتابی صورت میں شائع کروا دیں۔ آج افغان طالبان اس کتاب کے اقتباسات خود شائع کرکے اپنے ہم وطنوں میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ انہیں باور کرایا جا سکے طالبان اور امریکہ کی اصل جنگ کیا ہے؟ سات سال سے یہ جنگ جاری ہے اور سات سال کے بعد افغان صدر حامد کرزئی کی کوشش ہے کہ ملا عبدالسلام ضعیف، وکیل احمد متوکل اور فضل ہادی شنواری کے ذریعے ملا محمد عمر سے مذاکرات کریں۔ اب کرزئی کو بھی یقین ہوچکا ہے کہ جب تک امریکی فوج افغانستان میں موجود ہے امن قائم نہیں ہوگا۔ پاکستانیوں کو اب یہ سوچنا ہے کہ اگر امریکی فوج افغانستان سے واپس چلی گئی تو کیا پاکستان میں امن قائم ہو جائے گا؟ ہمیں وہ وجوہات تلاش کرنے کی ضرورت ہے جن کے باعث افغانستان میں لگنے والی آگ ہمارے گھر میں بھی داخل ہوگئی۔ ہم نے اپنا گھر بچانے کیلئے ایک ملا عبدالسلام ضعیف نہیں بلکہ سیکڑوں مسلمان امریکہ کے حوالے کئے لیکن امریکہ کی تسلی نہ ہوئی۔ اس تسلی کیلئے اسلام آباد کی لال مسجد پر راکٹ برسائے گے۔ حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ پاکستان میں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کے قتل میں تیزی لال مسجد آپریشن کے بعد آئی۔ افغان طالبان امریکہ کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کیلئے ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب سے حوالے دیتے ہیں اورپاکستانی عسکریت پسند اپنی ہی فوج کے خلاف لڑائی کیلئے لال مسجد آپریشن کو جواز بناتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم خود کش حملوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ ان غلطیوں کا اعتراف بھی کریں جن کے باعث ہم نے اپنے گھر کو خود ہی آگ لگائی۔
ہماری قیادت کو اعتراف کرنا چاہئے کہ ملا عبدالسلام ضعیف کو پشاور میں بے لباس کرکے امریکہ کے حوالے کرنا ایک غلطی تھی، وزارت داخلہ کو بے خبر رکھ کر لال مسجد میں آپریشن ایک غلطی تھی اور قبائلی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران معصوم عورتوں اور بچوں کا مارا جانا افسوسناک تھا۔ ان تمام غلطیوں کے ذمہ دار اشخاص خواہ آج حکومت میں ہیں یا نہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی کے بغیر پاکستان میں نفرتوں کی آگ کو ٹھنڈا کرنا بہت مشکل ہوگا۔

کالم ۔۔ حامد میر

بشکریہ روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

کالکی اوتار

Posted on 05/10/2008. Filed under: اسلام |

حال ہی میں بھارت میں شائع کی جانے والی کتاب ‘کالکی اوتار‘ نے بھارت سمیت دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس کتاب میں یہ کہا گیا ہے کہ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں جس کالکی اوتار کا تذکرہ ہے وہ آخری رسول محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
اس کتاب کا مصنف اگر کوئی مسلمان ہوتا تو اب تک بھونچال آ چکا ہوتا، مصنف جیل میں اور کتاب پر پابندی لگ چکی ہوتی مگر پنڈٹ وید پرکاش برہمن ہندو ہیں اور الہ باد یونیورسٹی کے ایک اہم شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق کا نام بھی‘کالکی اوتار‘ رکھا ہے یعنی تمام کائنات کا رہنما۔
پنڈت وید پرکاش سنسکرت کے معروف محقق اور سکالر ہیں۔ انہوں نے اپنی اس تحقیق کو ملک کے آٹھ مشہور و معروف محققین پنڈتوں کو پیش کیا ہے کہ کتاب میں پیش کئے گئے حوالہ جات مستند اور درست ہیں۔
پنڈت وید پرکاش اپنی تحقیق ‘کالکی اوتار‘ میں لکھتے ہیں کہ ‘ہندوستان کی اہم مذہبی کتب میں ایک عظیم رہنما کا ذکر ہے جسے ‘کالکی اوتار‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو مکہ میں پیدا ہوئے۔ چنانچہ تمام ہندو جہاں کہیں بھی ہوں ان کو مزید کسی کالکی اوتار کا انتظار نہیں کرنا ہے بلکہ محض اسلام قبول کرنا ہے اور آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا ہے جو بہت پہلے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔‘
اپنے اس دعوے کی دلیل میں پنڈت وید پرکاش نے ہندوؤں کی مذہبی مقدس کتاب وید سے مندرجہ ذیل حوالے دلیل کے ساتھ پیش کئے ہیں۔
١۔ وید میں لکھا ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ بھگوان کا آخری اوتار ہو گا جو پوری دنیا کو رستہ دکھائے گا۔ ان کلمات کا حوالہ دینے کے بعد پنڈت وید پرکاش یہ کہتے ہیں کہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں درست ہو سکتا ہے۔
٢۔ مقدس کتاب کی پیشگوئی کے مطابق ‘کالکی اوتار‘ جزیرہ میں پیدا ہوں گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم جزیرہ العرب میں پیدا ہوئے۔
٣۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ کے والد کا نام ‘وشنو بھگت‘ اور والدہ کا نام ‘سومانب‘ ہو گا۔ سنسکرت زبان میں ‘وشنو‘ کا مطلب ‘اللہ کا بندہ‘ ہے اور ‘سومانب‘ کا مطلب ‘امن‘ ہے جو کہ عربی زبان میں آمنہ ہو گیا۔ اور آخری رسول کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا آمنہ ہے۔
٤۔ ہندوؤں کی بڑی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ زیتون اور کھجور استعمال کرے گا۔ اپنے قول میں سچا اور دیانت دار ہو گا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ ساری خوبیاں موجود ہیں۔
٥۔ وید میں لکھا ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ اپنی سرزمین کے معزز خاندان میں سے ہو گا اور یہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سچ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے معزز قبیلے میں سے تھے جس کی مکہ میں بے حد عزت تھی۔
٦۔ یہ بھی لکھا ہے کہ بھگوان ‘کالکی اوتار‘ کو اپنے خصوصی قاصد کے ذریعے ایک غار میں پڑھائے گا۔ اس معاملے میں یہ بھی درست ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں اللہ نے غارِ حرا میں جبرائیل کے ذریعے تعلیم دی۔
٧۔ یہ بھی لکھا ہے کہ بھگوان ‘کالکی اوتار کو ایک تیز ترین گھوڑا عطا فرمائے گا جس پر سوار ہو کر وہ زمین اور سات آسمانوں کی سیر کرے گا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا براق پر معراج کا سفر کیا یہ ثابت نہیں کرتا ہے؟
٨۔ یہ بھی لکھا ہے کہ بھگوان ‘کالکی اوتار‘ کی بہت مدد کرے گا اور اسے قوت عطا فرمائے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ جنگ بدر میں اللہ نے فرشتوں کے ذریعے مدد فرمائی۔
٩۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ گھڑ سواری، تیراندازی اور تلوار زنی میں ماہر ہو گا۔
پنڈت وید پرکاش نے اس پر جو تبصرہ کیا ہے وہ قابل غور ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ گھوڑوں، تلواروں اور نیزوں کا زمانہ بہت پہلے گزر چکا ہے۔ اب ٹینک، توپیں اور میزائل جیسے ہتھیار استعمال میں ہیں۔ لہذا یہ عقلمندی نہیں ہے کہ ہم تلواروں، تیروں اور برچھیوں سے مسلح ‘کالکی اوتار‘ کا انتظار کرتے رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری مقدس کتابوں میں ‘کالکی اوتار‘ کے واضح اشارے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہیں۔
پنڈت وید پرکاش نے اپنی تحقیق میں جن نقاط پر بحث کی ہے اس پر ہندوستان کے مذہبی رہنما اور پنڈت سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ان کا اگر اپنی مذہبی کتابوں پر یقین ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ ان میں دی گئی پیشگوئیوں کو جھٹلائیں ۔۔۔۔۔۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جس مذہب کو انہوں نے صدیوں سے گلے لگا رکھا ہے اسے چھوڑنے کے لئے جس ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہے  وہ درکار ہے کیونکہ جس وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو دعوتِ اسلام دی تو بہت سے ایسے بھی تھے جو یہ جانتے تھے کہ یہ حق ہے مگر ان کے دل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو تیار نہ تھے اور انہوں نے اپنے باپ دادا کے دین کو ہی پکڑے رکھا اور اسی کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے انکار اور اختلاف میں استعمال کیا۔

ایمیل سے موصولہ تحریر جسے قارئین کے لئے یونیکوڈ اردو میں یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ُ

Read Full Post | Make a Comment ( 7 so far )

’بیل آؤٹ‘ منصوبہ، کیا ہے، کیوں ہے؟

Posted on 04/10/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , |

ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں آجکل امریکی بیل آؤٹ پلان کا بڑا چرچا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس پلان کے بارے میں علم ہے کہ یہ دراصل کیا ہے اور کس بارے میں ہے۔ قارئین کی سہولت کے لئے یہاں اس بل کے مندرجات پیش کئے جا رہے ہیں تاکہ قارئین کو اس پلان کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ 

امریکی بینکوں کو کیش یا نقدی سے خالی ہاتھ ہونے سے بچانے یا ’بیل آؤٹ‘ کرنے کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جانے والا سات سو ارب ڈالر کے ترمیمی منصوبہ یا بِل کا مسودہ بھی کم و بیش وہی ہے جو کہ ایوانِ نمائندگان سے نامنظور ہونے والے بل کا تھا۔

اس بل میں چند تبدیلیاں کی گئی ہیں جو حکومتی ضمانت کی شقوں سے تعلق رکھتی ہیں اور کھاتے داروں کی بچتوں پر حکومتی ضمانت ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈھائی لاکھ ڈالر تک کر دی گئی ہے۔

بینکوں کو بیل آؤٹ بل کی ضرورت کیوں پڑی ہے؟

امریکہ کی مارٹگیج مارکیٹ میں بھاری سرمایہ کاری کے بعد ساری دنیا میں سرمائے کی مارکیٹیں شدید مشکلات کی شکار ہیں۔ بینکوں نے بڑے پیمانے پر گھروں کے لیے ایسے قرضے دے دیے جن کی واپسی کی توقعات غیر یقینی ہیں۔ بظاہر یہ معاملہ مقامی دکھائی دیتا ہے لیکن اب اس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

امریکی بینک اب یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں کہ انہوں نے جو قرضے دیے تھے ان کی حقیقی مالیت اب کتنی رہ گئی ہے، اس لیے ان قرضوں کو آگے فروخت نہیں کیا جا سکتا، اس ڈر سے کہ دوسرا مشکل میں پھنس جائے گا، بینک ایک دوسرے سے ان قرضوں کے سودے بھی نہیں کر رہے اور قرضوں کے اس بحران کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ کے کئی بینک بیٹھ چکے ہیں۔

بل پر سینیٹ میں ووٹنگ کیوں ہو رہی ہے؟

ترمیم شدہ بل پر پہلے سینیٹ میں ووٹنگ اس لیے کرائی گئی کیونکہ کانگریسی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ اسے سینیٹ میں زیادہ حمایت حاصل ہے۔

ایوان نمائندگان کے ارکان کے برخلاف سینیٹ میں ہر سال ایک تہائی رکن انتخاب کا سامنا کرتے ہیں۔ اس لیے بیل آؤٹ پلان سے اگر لوگوں میں ناراضی پیدا ہو گی تو اس کا اثر سینیٹ پر کم پڑے گا۔

اس کے علاوہ سینیٹ میں نظریاتی تقسیم بھی ایوانِ نمائندگان کے برخلاف کم ہے اور ریپبلکن سینیٹر ایوانِ نمائندگان کے ارکان کے مقابلے میں زیادہ میانہ رو ہیں۔

اس لیے بیل آؤٹ منصوبے کے حامیوں کا خیال تھا کہ سینیٹ میں بل کی منظوری سے ایوان نمائندگان کے ارکان پر دباؤ بڑھ جائے گا اور اس کے ارکان باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر بل کی منظوری دے دیں گے۔

ایوانِ نمائندگان نے بل کو مسترد کیوں کیا؟

اس بل کے مخالف امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں میں موجود ہیں اور انہوں نے مل کر کوشش کی کہ بل منظور نہ ہو۔ ان کا خیال ہے کہ بل انتہائی غیر منصفانہ ہے اور لالچی بینکاروں کو یہ تحفظ نہیں ملنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر اس بل کی منظوری دے دی گئی تو اس سے ٹیکس دہندگان پر پڑنے والے بوجھ میں مزید اضافہ ہو گا۔

اس کے علاوہ اس بل سے فیضیاب ہونے والے اداروں کے سربراہوں اور اعلیٰ افسران کی تنخواہیں بھی اعتراض کا باعث ہیں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تنخواہوں کی بھی حد مقرر کی جانی چاہیے۔

بیل آؤٹ پلان میں کن بڑی تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے؟

ترمیمی منصوبے میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ نہ صرف عوام کو اس مالیاتی امداد کا زیادہ فائدہ پہنچے بلکہ ٹیکس دہندگان کی رقم بھی کم خرچ ہو۔

ترمیم شدہ بل میں نہ صرف ’ڈپازٹر پروٹیکشن‘ کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے بلکہ چھوٹے کاروباروں کی مدد اور رینیو ایبل انرجی کی تشہیر کے لیے کچھ ٹیکسوں میں چھوٹ بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس منصوبے میں چائلڈ ٹیکس کریڈٹ کے پھیلاؤ اور امریکہ کے کچھ علاقوں میں آنے والے حالیہ سمندری طوفان کے متاثرین کی مدد کی بات بھی کی گئی ہے۔

ایوانِ زیریں میں کچھ ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ ان گھر مالکان کی مدد بھی کی جائے جنہیں دیوالیے کا سامنا ہے تاہم سینیٹ میں موجود ریپبلیکنز دیوالیہ ہونے کے قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

یہ تجاویز بھی ہیں کہ اس مالیاتی امداد میں حکومت کا حصہ کم کر دیا جائے اور اس کے لیے بینکوں کے اکاؤنٹنگ قوانین میں تبدیلی کی جائے جنہیں موجودہ قانون کے تحت اپنے سب پرائم قرضوں کے ڈوبنے سے ہونے والے نقصانات کی کل مالیت دینی ہوتی ہے۔

تاہم اگر اس بل میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جاتی ہیں تو اس پر اجماع کے امکانات کم سے کم ہو جائیں گے۔

اگر بل منظور نہ ہوا تو کیا ہو گا؟

ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ابتدائی بل کی نامنظوری کے بعد دنیا بھر میں بازارِ حصص شدید مندی کا شکار اور متزلزل رہے۔ صرف امریکی ڈاؤ جونز ہنڈریڈ انڈیکس میں سات سو ستر پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی۔ یہی نہیں بلکہ تیل کی قیمتوں اور ڈالر کی قدر میں بھی کمی ہوئی اور یہ تمام عوامل سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا دردِ سر ثابت ہوئے ہیں۔

بہت سے سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرکزی مسئلہ مالیاتی نظام کی بحالی کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے یقینی کی کیفیت ہے۔ بل منظور نہ ہونے کی صورت بینک باہمی قرضوں کی فراہمی سے کتراتے رہیں گے اور کریڈٹ مارکیٹیں منجمد رہیں گی۔

اس کے نتیجے میں بڑے اور چھوٹے کاروباری اداروں اور حتٰی کہ عام افراد کو بھی قرضوں کے حصول میں نہ صرف مشکلات کا سامنا ہوگا بلکہ جو لوگ یا کمپنیاں یہ قرضے حاصل کر بھی لیں گے انہیں زیادہ شرحِ سود ادا کرنا ہوگی۔

بیل آؤٹ بل کی منظوری کے بارے میں کتنی امید کی جا سکتی ہے؟

دونوں صدارتی امیدوارں، باراک اوبامہ اور جان میکین کی حمایت کے بعد یہ امید بڑھ گئی ہے کہ بل کی منظوری کے لیے مفاہمت کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا جائے گا۔

صدر بش متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر بل منظور نہ ہو سکا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سیاستدانوں پر زور دیا ہے کہ وہ مفاہمت کا راستہ تلاش کریں۔

بدھ کو سینیٹ میں ووٹنگ کے بعد امکان ہے کہ جمعرات کو ایوان نمائندگان میں بل پر بحث ہو گی اور توقع کی جا رہی ہے کہ سینیٹ میں بل کی منظوری ایوانِ نمائندگان میں بل کی منظوری کی راہ کو قدرے ہموار کر دے گی۔

بیل آؤٹ پلان کس طرح کام کرے گا؟

منصوبے کے تحت امریکی وزیر خزانہ ہنری پولسن اس سرمائے سے بڑے مالیاتی اداروں کے مشکوک قرضوں کی خریداری کریں گے اور اس کے بدلے میں امریکی ٹیکس دہندگان کو ان بینکوں میں نان ووٹنگ اختیار حاصل ہو جائے گا جن کے قرضے خریدے جائیں گے۔ اس طرح اگر بینک اس بحران سے نکل کر منافع میں آئے تو ٹیکس دہندگان کو بھی منافع حاصل ہو سکے گا۔ تاہم اگر ٹیکس دہندگان کو خسارہ ہوا تو مالیاتی اداروں کو اس کی کچھ نے کچھ قیمت ادا کرنی ہو گی۔

بینکوں کے سربراہوں اور اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں اور مالیاتی فوائد پر پابندیاں لگا دی جائیں گی اور اب انہیں ملازمتیں چھوڑنے کے صورت میں نام نہاد گولڈن پیرا شوٹ اور ان جیسے بھاری معاوضے حاصل نہیں ہو سکیں گے۔

بینکوں اور مالیاتی اداروں کو مستقبل میں مارٹگیج قرضوں میں خساروں سے تحفظ کے لیے ’انشورنس پالیسیاں‘ خریدنا ہوں گی۔

امریکی حکومت قرضے خریدنے کے لیے کیا منصوبہ بندی کر رہی ہے؟

امریکی حکومت عالمی مالیاتی مارکیٹوں سے قرضہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت وزارتِ خزانہ کو سات سو ارب ڈالر مالیت کی’ٹریژری سکیورٹیز‘ جاری کرنے کا اختیار مل جائے گا۔

منصوبہ یہ ہے کہ وزارتِ خزانہ ان ڈوبے ہوئے اثاثوں کو ہاؤسنگ مارکیٹ میں بہتری کے بعد دوبارہ مالیاتی مارکیٹ میں فروخت کر دے گی اور اسے کچھ نفع بھی ہوگا۔

یہ بھی خدشات ہیں کہ مزید حکومتی قرضوں کا اجراء اس مسئلے کا حل نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں بجٹ خسارہ قریباً دوگنا ہو جائےگا۔ اس سے غیر ملکی بینکوں پر امریکہ کو زیادہ انحصار کرنا پڑے گا کیونکہ ممکنہ طور پر یہی بینک ہی’ٹریژری سکیورٹیز‘ کے خریدار ہوں گے۔

اس ’بیل آؤٹ‘ کا عام امریکی پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟

اگر آپ امریکہ میں رہتے ہیں تو آپ کے حصہ کے قومی قرضے میں تیئیس سو ڈالر کا اضافہ ہو جائے گا۔ ان امدادی منصوبوں کی کل رقم ایک اعشاریہ آٹھ کھرب ڈالر ہونے کا امکان ہے اور یہ فی امریکی خاندان پندرہ ہزار ڈالر کے مساوی ہے۔

 

 

بشکریہ بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

رنجیدہ و دلگیر و حزیں عید مبارک

Posted on 01/10/2008. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, شعروادب | ٹيگز:, , , |

افسردہ ہیں افلاک و زمیں عید مبارک
آزردہ مکان اور مکیں عید مبارک

یہ صبح مسرت ہے کہ ہے شامِ غریباں
رنجیدہ و دلگیر و حزیں عید مبارک

کہنا ہے بصد عجز یہ اربابِ وطن سے
کب آئے گا وہ دور حسیں و عید مبارک

محبوس جوانوں کے عزیزوں سے یہ کہنا
مولا ہے نگہبان و امین عید مبارک

یہ بات قلندر کی قلندر ہی کہے گا
گو بات یہ کہنے کی نہیں عید مبارک

پھر نعرہ تکبیر سے گونجیں گی فضائیں
آ پہنچا ہے وہ وقت قریں عید مبارک

مومن کبھی مایوس نہیں رحمتِ حق سے
مومن کا ہے دل عرشِ بریں عید مبارک

ملت سے شہیدوں کا لہو کہتا ہے واصف
دنیا کے عوض بیچ نہ دیں عید مبارک

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...