تنہا ایک میں

Posted on 22/10/2008. Filed under: شعروادب |

کرب کا لشکر تھا مقابل اور تنہا ایک میں
سینکڑوں لاکھوں مسائل اور تنہا ایک میں
آندھیوں گرداب موجوں اور طوفانوں کے ساتھ
در پئے آزاد ساحل اور تنہا ایک میں
میں جنہیں اپنا سمجھتا تھا انہیں ہمراہ لئے
آ رہا تھا میرا قاتل اور تنہا ایک میں
ایسے عالم میں کہاں جاؤں کسے آواز دوں
آگ صحرا دور منزل اور تنہا ایک میں
درد آنسو بیقراری یاس اور دیوانگی
کاوش پیہم کا حاصل اور تنہا ایک میں
ایک تو ۔۔ کہ زندگی دراصل تجھ پر ختم ہے
آبلہ پا روح گھائل اور تنہا ایک میں

فرحت شہزاد

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

One Response to “تنہا ایک میں”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

کافی درد بھرے اشعار ہیں آج کے منافقیں کے کردار کو بخوبی بے نقاب کیا ہے سبحان الله


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: