Archive for دسمبر, 2008

نیا سال

Posted on 31/12/2008. Filed under: پاکستان, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , |

اذیتوں بھرا ٢٠٠٨ رخصت ہو رہا ہے، ٢٠٠٨ چیخ وپکار میں گزرا، حکومت پریشان اور عوام بے حال رہے۔ دھماکے، خود کش حملے، دہشت گردی کی وجہ سے ہر طرف قیامت برپا ہے، ایسے عالم میں نئے سال کی کیسی مبارک باد؟
جس دیس کے کوچے کوچے میں
افلاس آوارہ پھرتی ہو
جو دھرتی بھوک اگلتی ہو
اور ۔۔۔!
دکھ فلک سے گرتا ہو
جہاں بھوکے ننگے بچے بھی
آہوں پر پالے جاتے ہوں
جہاں سچائی کے مجرم بھی
زندان میں ڈالے جاتے ہوں
جہاں مظلوم کے خون سے
اپنے محل دھوئے جاتے ہوں
اُس دیس کی مٹی برسوں سے
یہ دُکھ جگر پر سہتی ہو
اُس دیس، اُس ملک میں کیسا سویرا، نئے سورج کی کیسی باتیں
جہاں ماتم ہوتے ہوں وہاں خوشیاں نہیں منائی جاتیں
 اس عالم  میں تو صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے، آئیں اور ہم سب اللہ تبارک و تعالٰی سے گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔
اے تمام جہانوں کے رب!
وطنِ عزیز کو امن و آشتی کا گہوارہ بنا اور ہمیں ایسے حکمران عطا کر جو ہماری راہنمائی کر سکیں۔
اے ہمارے رب!
ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہو جائیں اُن پر گرفت نہ کر ‘مالک‘ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔
پروردگار!
ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار نہ ہو اور ہمیں معاف فرما اور بخش دے اور ہم پر رحم کر تو ہمارا مولٰی ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔
اے اللہ!
تو بخش دے میری واقعی بات اور میری ہنسی مذاق کو، خطاؤں کواور جو میں نے جان کر کیا اور اس گناہ کو جو میرے پاس ہے، تو ہی آگے کرنے والا اور پیچھے کرنے والا اور ہر چیز پر تو ہی قادر ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

محترمہ بینظیر بھٹو شہید دی یاد اچ

Posted on 26/12/2008. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , |

 

توں ہانویں تاں
اتھ رونق ہئی
اتھ خشیاں ہن
اتھ ہاسے ہن
اتھ ہر کئی کھل تے ملدا ہا
اتھ مل تے ہر کئی کھلدا ہا
توں گئیں تاں سانول
ایں لگدے
اتھوں خشیاں گئین
اتھوں ہاساں گئین
ہر چہرہ مونجھ توں مونجھا ہے
ہے اکھ ہر کہیں دی نم رہندی
 در در تے ماتم ہے
پیا ہر کئی وین ولیندا ہے
تیڈی روہی رات کوں روندی ہے
دیدار تیڈے کوں لوہندی ہے
تیڈا تھر ہے سارا صدمے وچ
تیڈا گھر ہے سارا صدمے وچ
ہک وار ولا دیدار کرا
ساڈی اُجڑی جھوک تے پھیرا پا

 

رازش لیاقت پوری

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

یہ بارشیں بھی تم سے ہیں

Posted on 18/12/2008. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , |

اس وقت ڈیرہ غازی خان کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں موسم سرما کی بارشیں ہو رہی ہیں۔ موسم کے مطابق ایک نظم حاضر ہے، اس نظم کے ساتھ ساتھ بارش انجوائے کیجیئے۔

یہ بارشیں بھی تم سے ہیں
جو برس گئی تو بہار ہیں
جو ٹھہر گئی تو قرار ہیں
کبھی آ گئی یونہی بے سبب
کبھی چھا گئی یوں ہی روزِ شب
کبھی شور ہیں کبھی چپ سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سے ہیں
کسی یاد میں کسی رات کو
اک دبی ہوئی سی راکھ کو
کبھی یوں ہوا کہ بجھا دیا
کبھی خود سے خود کو جلا دیا
کبھی بوند بوند میں غم سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سے ہیں

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

المیہ مشرقی پاکستان اور زبان کا مسئلہ ۔ ایک جائزہ

Posted on 17/12/2008. Filed under: پاکستان, تاریخ | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , |

١٩٥٢ء میں جب مرکزی حکومت نے بنگلہ زبان کے لئے عربی رسم الخط اختیار کرنے کی کوشش کی تو لسانی مسئلہ پھر سے کھڑا ہو گیا پاکستان کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین خود بنگالی تھے انہوں نے اردو کو قومی زبان بنانے کی تصدیق کی۔ خواجہ ناظم الدین کے اس اعلان سے حالات مزید بگڑ گئے اور مشرقی پاکستان میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ لسانی تحریک اس قدر پرتشدد تھی کہ مرکز اور صوبے میں تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اگر اس وقت ملک میں کوئی صیحح عوامی نمائندہ حکومت ہوتی تو حالات بہتر ہو سکتے تھے۔ دوسری طرف مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور پر بنگلہ کو قومی زبان تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کی لیکن مرکزی حکومت نے معاملے کو سلجھانے کی بجائے طول دینے کی پالیسی اختیار کی۔ بنگالیوں نے اسے مغربی پاکستان کی طرف سے اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش قرار دیا اور اپنے مطالبے کے لئے فروری ١٩٥٢ء میں مشرقی پاکستان میں ہڑتالوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ٢١ فروری کو پولیس کے ہاتھوں دو طالب علم ہلاک ہو گئے امن و امان کی نازک صورتحال کے باعث فوج طلب کرنا پڑی۔ اس تحریک نے گہرے اثرات چھوڑے اور اس میں ہلاک ہونے والوں کو بنگالی تحریک کے اولین شہداء کا خطاب دیا گیا۔ فسادات کو روکنے کے لئے جلسہ، جلوسوں اور پانچ سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی لگا دی گئی۔
مئی ١٩٥٩ء کے انتخابات میں جو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوئے  یونائٹیڈ فرنٹ نے ٢٣٧ میں سے ٢٢٣ نشتیں جیت کر مسلم لیگ کو زبردست شکست دی۔ مسلم لیگ کو صرف دس نشتوں سے کامیابی حاصل ہو سکی۔ یونائٹیڈ فرنٹ علاقائی اور صوبائی سیاسی قوتوں کا اتحاد تھا جس میں عوامی لیگ، کرسک سرامک پارٹی، نظام اسلام پارٹی، گاناتانتری عادل شامل تھیں۔ فرنٹ سے ٢١ نکات پر مبنی ‘منشور آزادی‘ کی بنیاد پر انتخاب میں حصہ لیا۔ منشور  کی بنیاد ہی صوبائی عصیبت اور مرکز خلاف سرگرمیوں کو فروغ دے کر خود مختاری حاصل کرنا تھی۔ اس اتحاد کے رہنما حسین شہید سہروردی اور اے کے فضل الحق تھے۔ سہروردی تقسیم ہند سے قبل مسلم لیگ بنگال کے صدر رہ چکے تھے۔ اور ان سے دس سال قبل اے کے فضل الحق مسلم لیگ کے صدر تھے۔ فرنٹ نے اپنے منشور میں کہا تھا ‘درس و تدریس کے لئے مشرقی زبان بنگالی کو نصاب کا لازمی جزو بنا جائے‘ انتخاب کے بعد صوبے میں صنعتی بدامنی بلوؤں مظاہروں اور قتل و غارت کا آغاز ہو گیا صوبے میں کئی مقامات پر بنگالیوں کے درمیان خوفناک تصادم ہوئے جن میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔
١٩٥٦ء کے آئین نے بھی دونوں حصوں کو قریب لانے کی بجائے ان میں دوریاں پیدا کیں۔ مشرقی پاکستان کی پارٹیاں مخلوط طریقہ انتخاب کے حق میں اور ون یونٹ کی تشکیل کے خلاف تھیں۔
جنرل محمد ایوب خان کے دور مین بنگالیوں کے احساس محرومی اضافہ ہوا، فوج میں ان کی تعداد پہلے ہی بہت کم تھی۔ فوج کے لئے ان کے جذبات مغربی پاکستان کے عوام سے مختلف تھے۔
١٩٦٢ء کا آئین بھی بنگالیوں کو مطمئین نہیں کر سکا۔ لسانی بنیادوں پر پیدا ہونے والے اختلافات بڑھتے چلے گئے اور ان اختلاف کا دائرہ زندگی کے تمام شعبوں میں پھیل گیا۔ ایوب خان کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مشرقی پاکستان میں نوجوان طبقہ تحریک میں آگے آگے تھا۔ پرتشدد مظاہروں اور جھڑپوں میں کئی نوجوان ہلاک اور زخمی ہوئے اور سینکڑوں گرفتار ہوئے۔ ایوب خان کے آخری دنوں میں اور یحییٰ خان کے دور میں مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا وہ ہماری تاریخ کا تلخ باب ہے جس کا انجام مشرقی پاکستان کی علحیدگی کی صورت میں ہوا۔ مشرقی پاکستان میں زبان کے مسئلے پر اختلافات آزادی کے فوراََ بعد شروع ہوئے تھے اگر اس مسئلے کو طاقت اور محلاتی سازشوں کے ذریعے حل کرنے کی بجائے سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو شاید پاکستان آج آدھا نہ ہوتا، ہم مکمل قوم ہوتے۔

حصہ اول کے لئے یہاں کلک کریں۔

۔۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

المیہ مشرقی پاکستان اور زبان کا مسئلہ ۔ ایک جائزہ

Posted on 15/12/2008. Filed under: پاکستان, تاریخ | ٹيگز:, , , , , , , |

قیام پاکستان سے قبل ہی بہت سے بنگالی دانشوروں اور سیاستدانوں نے انگریزوں سے خود مختیار اور آزاد بنگال کا مطالبہ شروع کر دیا تھا ان کے ذہن میں اول دن سے یہ بات تھی کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں رہنے والے ایک قوم نہیں بلکہ دو قومیں ہیں۔ بنگالی مسلمانوں کی زبان اور ثقافت مغربی پاکستان میں رہنے والوں سے یکسر مختلف ہے اور صرف اسلام کے نام پر وہ متحد نہیں رہ سکتے اس تعصب کو فروغ دینے میں بنگال میں رہنے والے ہندوؤں نے اہم کردار ادا کیا۔ ١٩٤٠ء میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جانے والی قرارداد میں خود مختار ریاست کے تصور پیش کئے گئے اور قرارداد میں ‘علحیدہ اور خود مختار ریاستوں‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ ١٩٤٦ء میں قرارداد لاہور میں لفظ ریاستوں کو حذف کر دیا گیا اور مغربی اور مشرقی پاکستان بطور ایک ریاست شامل کیا گیا۔ بنگالیوں نے اپنے ہاں علحیدگی اور الگ خود مختار ریاست کا خواب دیکھا تھا اس لئے حسین شہید سہروردی نے اپنی ٢٧ اپریل ١٩٤٧ء کی پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا تھا کہ ‘ہمیں تقسیم شدہ ہند میں ایک خود مختار، علحیدہ اور متحدہ بنگال چاہیئے‘۔ تقسیم کے وقت بنگالیوں کی اکثریت کی خواہش تھی کہ بنگلہ کو پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دیا جائے لیکن قائداعظم محمد علی جناح نے ١٩٤٨ء میں ڈھاکہ جا کر اعلان کیا کہ ‘پاکستان کی واحد قومی زبان اردو اور صرف اردو ہو گی‘۔ بدقسمتی سے قائداعظم جلد ہی ہم سے جدا ہو گئے ان کی وفات کے بعد لیاقت علی خان مشرقی پاکستان میں زبان کے مسئلے پر اٹھنے والے اختلاف کو دبانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے قوم پرست بنگالیوں نے مشرقی پاکستان کے عوام کو مغربی پاکستان کے خلاف خوب بھڑکایا۔ لسانی بنیادوں پر فسادات شروع ہو گئے یہ پاکستان کا ابتدائی دور تھا ابھی آئین کی تشکیل کا کام باقی تھا لسانی اختلاف کا یہ نتیجہ نکلا کہ مشرقی پاکستان کے مقامی رہنماؤں نے مغربی پاکستان کی قیادت پر بھی عدم اعتماد کرنا شروع کر دیا اور یہ کہا جانے لگا کہ مغربی پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور رہنما کسی صورت مشرقی پاکستان کے رہنے والوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کریں گے۔ ١٩٥١ء کی رائے شماری کے مطابق مغربی پاکستان کی کل آبادی تین کروڑ تیتیس لاکھ انتیس ہزار اور مشرقی پاکستان کی آبادی چار کروڑ بیس لاکھ ٹریسٹھ ہزار تھی۔ مشرقی پاکستان کا موقف تھا کہ مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں پنجاب، بلوچستان، سرحد اور سندھ میں چار مختلف قومیں ہیں ان کی زبانیں علحیدہ علحیدہ ہیں اردو ان میں سے کسی صوبے کی زبان نہیں جبکہ بنگالی چار کروڑ انسانوں کی زبان ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ڈھاکہ میں اپنی تقریر میں ان خدشات کا اظہار کر دیا تھا جو مشرقی اور مغربی پاکستان کی علحیدگی کا سبب بن سکتے تھے۔

‘میں اس صوبے کے لوگوں کو مشورہ دینا چاہتا ہوں، ایک خاص طبقہ میں قابل افسوس رحجان نظر آ رہا ہے یہ طبقہ نومولود آزادی کو اپنی آزادی نہیں سمجھ رہا جس سے ایک طرف اگر عظیم مواقع پیدا ہوئے ہیں تو دوسری طرف عظیم ذمہ داریاں بھی عائد ہوئی ہیں بلکہ وہ اسے بے معیار آزادی سمجھ رہے ہیں انہیں اس امر کی مکمل آزادی ہے کہ وہ آئینی ذرائع اور اپنی منشا کے مطابق حکومت بنائیں تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب کوئی گروہ غیر قانونی طریقوں سے اپنی مرضی ٹھونس سکے میں آپ سے صاف صاف پوچھنا چاہتا ہوں کہ جن ہندوستانی اخبارات اور سیاسی اداروں نے پاکستان کی تخلیق روکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا وہ یکایک مشرقی بنگال کے مسلمانوں کے ‘منصفانہ مطالبات‘ کے اتنے ہمدرد اور علمبردار کیوں ہو گئے ہیں۔ کیا یہ شیطانی صورتحال نہیں؟ کیا یہ بات واضح نہیں ہے کہ مسلمانوں کو حصول پاکستان کی جدوجہد میں ناکام نہ کر سکنے کے بعد اب یہ ادارے پاکستان کو اس طرح سے اندر سے تباہ کرنا چاہتے ہیں کہ اپنے شرانگیز پروپیگنڈے سے مسلمان بھائی کو دوسرے مسلمان بھائی سے لڑا دیں ؟ اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ صوبائی عصیبت کے اس زہر کے بارے میں ہوشیار رہیں جو دشمن ہمارے ملک میں پھیلانا چاہتا ہے‘۔

قائداعظم کی اس تاریخی تقریر کے بعد لسانی تحریک کا زور کم ہو گیا۔

حصہ دوم

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

جوتے کا سائز دس تھا!!

Posted on 15/12/2008. Filed under: دنیا بھر سے, سیاست, عالم اسلام |

اتوار کا دن صدر بش کے لئے بد قسمت ثابت ہوا، عراق کے اچانک دورے کے دوران عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک عراقی صحافی نے اپنے جوتے صدر بش کو دے مارے اور کہا ’کتے، عراقی عوام کی جانب سے الوداع‘ اس کے بعد جواب میں صدر بش نے اپنے ازلی ڈھیٹ پن کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ’میں صرف یہ رپورٹ کر سکتا ہوں کہ اس کا سائز دس تھا۔‘
یہ وہی بات ہوئی جیسے بھٹو صاحب کے ساتھ ہوا تھا، کہا جاتا ہے کہ کسی جلسہ عام میں کسی نے بھٹو کی طرف جوتا پھینکا تھا جواب میں بھٹو نے کہا کہ مجھے پتہ ہے چمڑا بہت مہنگا ہو گیا ہے۔
بہرحال صدر کے لئے یہ الوداعی ملاقات انتہائی بُری ثابت ہوئی، کہا جاتا ہے کہ اچھے انسان کے ساتھ اچھی یادیں اور بُرے انسان کے ساتھ ہمیشہ بُری یادیں وابستہ رہتی ہیں۔ اب صدر بش بھی اپنی باقی ماندہ زندگی انہی بُری یادوں کے سائے میں گزاریں گے۔

وڈیو

Read Full Post | Make a Comment ( 7 so far )

واعتصمو بحبل اللہ جميعا و لاتفرقوا

Posted on 13/12/2008. Filed under: پاکستان, دنیا بھر سے, عالم اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اس وقت عالم اسلام کو مخلص قیادت کے ساتھ ساتھ آپس کے سیاسی نفاق کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے کبھی عراق ایران کے ساتھ آٹھ سال لڑتا ہے تو کبھی کویت پر حملہ کر دیتا ہے۔ کبھی سعودی عرب کے تعلقات ایران سے بگڑ جاتے ہیں تو کبھی ایران اور پاکستان کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان آزاد ہوتا ہے تو افغانستان اسے اقوام متحدہ میں تسلیم ہی نہیں کرتا اور پھر جب افغانستان پر بُرا وقت آتا ہے تو پاکستان تیس لاکھ افغانیوں کو اپنے ہاں پناہ دے دیتا ہے۔ لیکن شمالی اتحاد کی حکومت سارے اقدامات ماننے سے انکاری ہوتی ہے اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھاتا ہے، افغانستان کی دوبارہ تعمیرِنو میں زیادہ تر ٹھیکے ہندوؤں کو مل جاتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالٰی واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے۔
‘‘واعتصمو بحبل اللہ جميعا و لاتفرقوا‘‘
کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ نہ ڈالو ”
لیکن اس کے باوجود مسلمان آپس میں متحد نہیں ہو رہے ہیں۔
نفاق کی حد تو یہ ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر کئی پاکستانی فوجیوں نے ایرانی ساخت کے بم بھی پکڑے ہیں جبکہ (او، آئی، سی) اسلامی سربراہی کانفرنس کے تقریباََ چونتیس ممالک بھارت سے دوستی اور تجارت کی پینگیں بڑھاتے نظر آ رہے ہیں، کچھ عرصہ پہلے ایران اور بھارت کے درمیان جنگی معاہدے کی بازگشت بھی گردش میں رہی ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلے پر عربوں کا ساتھ دیا جبکہ خود یاسر عرفات مرحوم اور ان رفقاء بھارت کے حامی ہیں اور سابق مرحوم عراقی صدر صدام حسین کی طرح یاسر عرفات نے کشمیر کے بارے میں کبھی پاکستان کی حمایت نہیں کی بلکہ الٹا بھارت سے دوستی بڑھاتے نظر آئے۔
پاکستان اسلامی نظریہ کے اصول پر معرض وجود میں آتا ہے تو مصر کے حکمران ہنس پڑتے ہیں کہ پاکستانیوں کو دیکھو اب یہ ہماری رہنمائی کریں گے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہی پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور واحد ایٹمی ملک بن گیا۔
بھارت کے شہر ممبئی میں دو ہوٹلوں پر حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے پاکستان کا نام لیا جاتا ہے پھر جماعت الدعوۃ کر اس میں ملوث کیا جاتا ہے۔ اس کے فوراََ بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوتا ہے اور اس میں جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے اور پاکستان کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ جبکہ اس کے برعکس بھارت میں گجرات اور دیگر علاقوں میں ہزاروں مسلمانوں کو مار دیا جاتا ہے، سینکڑوں کو زندہ جلایا جاتا ہے، ہندو انتہا پسند تنظیم اس سارے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ سلامتی کونسل چپ سادھ لیتی ہے۔
ان سارے واقعات کی روشنی میں بتائیے اس وقت پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ عالم اسلام میں مخلص قیادت نہ ہونے اور آپس کا نفاق مسلسل پاکستان اور خود عالم اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

عید مبارک

Posted on 09/12/2008. Filed under: پاکستان, اسلام, رسم و رواج | ٹيگز:, |

ہماری طرف سے تمام عالم اسلام کو دلی عید مبارک ہو۔ ہماری دعا ہے کہ یہ عید آپ سب کے لئے خوشیوں اور کامرانیوں کا پیغام لائے اور اللہ تعالٰی آپ کو ہر مصیبت اور دکھ سے محفوظ رکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین

Read Full Post | Make a Comment ( 7 so far )

قربانی سے پہلے ایک بکرے کے تاثرات

Posted on 08/12/2008. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , |

عیداضحٰی پر قریب آئی جو قربانی کی رات
چلتے چلتے ایک بکرا کہہ گیا مجھ سے یہ بات
عید یہ پیغام لے کر آئی ہے، حج کیجیئے
آج اپنی خامیوں کو آپ خود جج کیجیئے
ذبح کی جے مجھ کو یوں شانِ مسلمانی کے ساتھ
ذبح ہو جائے نہ خود مقصد بھی قربانی کے ساتھ
مجھ کو قرباں کر کے یہ پوچھے نہ آئندہ کوئی
اے عزیزو! میرے حصے کی کلیجی کیا ہوئی ؟
ایک صاحب گھر مری اک ران پوری لے گئے
کھال باقی تھی سو مصری خان پوری لے گئے
کتنی بیجا بات ہے میرے خریدارِ عزیز !
ذبح کر کے گوشت کر لیتے ہیں ڈبوں میں فریز
آپ سے یہ ‘دست و پا بستہ‘ گذارش ہے مری
گوشت جو میرا بچے، تقسیم کر دیجیئے فری
لب پہ قربانی کی  نیت، دل میں خوشبوئے کباب
میری قربانی، وسیلہ ہے اطاعت کے لئے
اس کی شہرت کیوں ہو صرف اپنی اشاعت کے لئے
ایسی قربانی سے کیا خوش ہو گا ربِ جلیل
رسمِ قربانی ہے باقی، اُٹھ گیا عشقِ خلیل
گامزن وہ شخص ہے اللہ کے احکام پر
آپ سے مجھ کو شکایت ہے کہ قربانی کے ساتھ
گوشت کیسا، پوست پر بھی صاف کر دیتے ہیں ہاتھ
میں تو کہتا ہوں کہ قربانی مری انمول ہو
آپ کہتے ہیں کہ بریانی میں بوٹی گول ہو
برف خانوں میں جو میرے گوشت کا اسٹال ہے
یہ تو قربانی نہیں ہے، میرا استحصال ہے
میرا سر، میری زباں، میری کلیجی، میرے پائے
سب غریبوں کو دیئے جائیں یہی ہے میری رائے
میرا گردہ اس کا حصہ ہے جو خود بے گردہ ہو
میرا دل اس کے لئے ہے جس کا دل افسردہ ہو
عید کہتی ہے بڑھاؤ حوصلے احباب کے
آپ ‘کھچڑا‘ کھائے جاتے ہیں شکم کو داب کے
فرض قربانی کا مقصد جذبہ ایثار ہے
آپ کہتے ہیں کہ یہ دنبہ بہت تیار ہے
آپ معدہ کی ڈپو میں عید کا کوٹا لئے
سُوئے صحرا جا رہے ہیں ہاتھ میں لوٹا لئے
غیر اسلامی اگر ہے جو چُھری مجھ پر گری
میری قربانی نہیں یہ ہلاکت ہے میری
مر گیا میں آپ کو کھانے کی آسانی ہوئی
اس کو قربانی کہا جائے؟ یہ قربانی ہوئی

 

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

حج مبارک

Posted on 07/12/2008. Filed under: پاکستان, اسلام, رسم و رواج |

حج بیت اللہ ایک مقدس سفر اور اسلام کی افضل ترین عبادت ہے۔ وہ عازمین حج کتنے خوش نصیب ہیں جنہیں یہ سعادت حاصل ہوئی ہے۔ اللہ رب العزت اس مقدس سفر کے دوران اپنی رحمتیں نازل فرمائے، حج قبول فرمائے اور باعافیت وطن واپس لائے۔ ہماری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو حج کرنے کی استطاعت، مصمم ارداہ، خلوص نیت سے حج کرنے کی سعادت نصیب فرمائے اور صیحح معنوں میں اسلام پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...