Archive for مارچ, 2009

تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

Posted on 15/03/2009. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , |

ہم معصوموں کے ساتھی
آواز ہیں ہم مظلوموں کی
انصاف کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

نہ لوٹوں سے کچھ آس رکھو
نہ جھوٹوں سے امید رکھو
ہم سچ کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

ہم اپنے رہبر خود ہوں گے
ہم اپنی منزل خود ہوں گے
امید کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

انصاف کا سورج نکلے گا
ہاں کوچہ کوچہ بدلے گا
ہم عدل کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

ہم جھکنے والے لوگ نہیں
ہم بکنے والے لوگ نہیں
اقدار کی خاظر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

ہم سب کا ایک ہی رستہ ہے
ہم سب کی ایک ہی منزل ہے
دھرتی کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

اب جینا مرنا دھرنا ۔۔۔ ہے
دم مست قلندر کرنا ہے
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو
عینی سیدہ

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

بچی سے ہی کچھ سیکھ لیں

Posted on 14/03/2009. Filed under: پاکستان, تعلیم, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , |

کچھ دن پہلے سکول سے واپسی پہ میری بیٹی سارہ مجھ سے کہنے لگی ‘بابا ایک لڑکی مجھے مارتی رہتی ہے، میں اسے کچھ بھی نہیں کہتی وہ پھر بھی مجھے مارتی رہتی ہے‘۔ میں نے کہا آپ ٹیچر سے کہا کرو کہ ٹیچر دیکھو یہ مجھے مار رہی ہے۔ سارہ نے جواب دیا ‘جب ٹیچر نہیں ہوتی وہ پھر مجھے مارتی ہے‘۔ میں نے کہا اچھا آپ ایسا کرو اس سے دوستی کر لو وہ پھر آپ کو نہیں مارے گی۔ بات ختم ہو گئی اور میں اسے بچوں کی عام بات سمجھ کر بھول گیا مگر ننھے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی، اُس کے ذہن میں نجانے کیا چلتا رہا اور معلوم نہیں یہ سب اس نے کیسے کر لیا۔ آج جب میں اُسے سکول سے لینے گیا تو اُس نے آتے ہی مجھے خوشخبری سنائی کہ ‘بابا میں نے اُس لڑکی سے دوستی کر لی ہے، اب وہ مجھے مارتی بھی نہیں ہے، ہم اکھٹے کھیلتے ہیں اور کھانا بھی اکھٹے کھاتے ہیں‘۔
اندازہ کریں اس بچی نے وہ کام کر دکھایا ہے جو ہمارے حکمران اور سیاسی لیڈر نہیں کر سکتے، ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں، مار رہے ہیں، برداشت اور حوصلہ نام کی کوئی چیز ان کے پاس ہے ہی نہیں، پورا ملک داؤ پہ لگا، اکانومی برباد ہو چکی ہے مگر ان کی حوس میں کمی نہیں آ رہی، اس بچی نے بتا دیا ہے کہ انسان مشکل کام کرنا چاہیے تو با آسانی کر سکتا ہے، بس اُسے اپنے کام سے مخلص ہونا چاہیے۔
خدارا اب بس کر دو بس، اس ملک کی معصوم عوام پہ رحم کرو اس بچی سے ہی کچھ سیکھ لو اور آپس میں دوستی کر لو۔

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

مروا دیا آپ کی رجائیت پسندی نے مروا دیا

Posted on 12/03/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , , |

ہم آپ کے مداح اور قارئین آپ کے کالم پڑھ کر یہ سمجھنے لگے تھے کہ مشرف کے منظر سے ہٹتے ہی خوش منظر سویرا ہوگااور سفینہ غم دل ساحل مراد پر لنگرانداز ہو جائے گامگر معاملہ منیر نیازی کے شعر کی طرح نکلا… ایک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو۔
ہم لوگ مشرف کے بعد کا منظر نامہ نہ دیکھ سکے۔ نہ صرف یہ کہ مشرف کو Scotfree چھوڑ دیا گیا بلکہ اس کی جگہ جو ذات شریف تخت طاؤس پر متمکن ہوئی ہے۔ اس کے خیال سے خوف آتا ہے کیا صدر پاکستان کا آفس اس قدر بے توقیر ہوگیا ہے کہ اس میں سیاسی مسخرے بیٹھا کریں گے؟
رشک سے بھارت کو دیکھتا ہوں، جہاں رادھا کرشنن اور ذاکر حسین خان جیسے عظیم المرتبت خدام وطن نے اس کرسی کو رونق اور عزت بخشی جبکہ ہمارے ملک میں کبھی مفلوج غلام محمد، مردود یحییٰ خان یا مجبور فضل الٰہی اس آفس کوبے وقار کرتے رہے۔ لگتا ہے پیپلز پارٹی کی قیادت اندھی اور گونگی ہوگئی ہے جسے صدارت کے لئے اعتزاز احسن نظر آئے نہ رضا ربانی۔
پیپلز پارٹی پر قبضہ جمانے کے بعد زرداری نے سب سے پہلے دونوں مخدوموں کو چت Out smart کیا، پھر مشرف والی کرسی پر قبضہ کرنے کے لئے الطاف حسین کی پارٹی سے مل کر ایک Un Hoby Alliance بنا لیا۔ امامت کے لئے انہوں نے ایسے مولانا کو منتخب کیا جو سیاسی بلیک میلنگ کے امام ہیں۔ اس ٹرائیکا کے کارناموں کو دیکھ کر لوگ مشرف کو بھول جائیں گے پاکستان کی زمین میں پوشیدہ خزانوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اس قدر لوٹ مار کے باوجود ختم ہونے میں نہیں آرہے۔ کیا زیر زمین دولت کا دریا اُبل رہا ہے؟ لیکن یہ ٹرائیکا اس سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کو ذبح کرکے ہی دم لے گا اور ہم آپ کے مداحین و قارئین آپ کے لئے عمر خضر کی دعا مانگیں گے۔ تاکہ آپ تا قیامت سچی جمہوریت کے قیام کے لئے کالم لکھتے رہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں نہ کبھی آئین نافذ رہا نہ آئین کے تحت بننے والے اداروں (پارلیمینٹ، عدلیہ، الیکشن کمیشن) کو تسلسل اور آزادی سے کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ آئین روح اور ادارے اعضائے رئیسہ کی مانند ہوتے ہیں۔ پاکستان اس لحاظ سے ایک سیاسی معجزہ ہے کہ روح اور اعضائے رئیسہ کے بغیر ہی چل رہا ہے۔ گو نمائش کے لئے یہ ادارے موجود ہوتے ہیں لیکن ان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر یا چمک دکھا کر ان سے مرضی کے مطابق فیصلے (یا فتوے) حاصل کرلئے جاتے ہیں۔ وزیراعظم پارلیمینٹ کو خود مختار بنانے کے دعوے کرتے رہتے ہیں لیکن جانتے ہیں کہ پارلیمینٹ سے باہر بیٹھیں ہوئی طاقتوں کی موجودگی میں پارلیمینٹ کو خود مختار نہیں بنایا جاسکتا۔ اخبار والے اشاروں اشاروں میں ان طاقتوں کو AA کہتے ہیں (یعنی آرمی اور ا مریکہ)۔ اس کے علاوہ ایک طاقت اور بھی ہے وہ سیاسی کھلاڑی جن کے پاس زر کے بڑے بڑے انبار ہیں، جنہیں دیکھ کر ممبران پارلیمینٹ کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، یہ تینوں طاقتیں ایک پاور فل الیکٹرومیگنیٹ کی طرح پارلیمینٹ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پارلیمینٹ کی آزادی جو عوام کی امنگوں اور خواہشوں کا دوسرا نام ہے ایک موہوم خواب کی طرح تعبیر کی تلاش میں بھٹکتی رہتی ہے۔
اس وقت ملک میں زبردست سیاسی اور معاشی بحران ہے، سماجی افراتفری ہے، بے یقینی ہے Confusion ہے۔ ملک کے حالات تیزی سے بے قابو ہوتے جا رہے ہیں۔ بیڑہ تباہی کے قریب آن لگا ہے یعنی ٹائی ٹینک چٹانوں میں گھرگیا ہے۔ اب پھر کوئی طالع آزما، سفاک مسیحا، یا عصا بردار موسیٰ کے روپ میں آن دھمکے گا سانپ اور سیڑھی کا کھیل پھر شروع ہوجائے گا۔ یعنی گردش تیز تر اور سفر آہستہ۔
محترم حقانی صاحب! لگتا ہے گلشن کا کاروبار یونہی چلتا رہے گا اور یہ چمن یونہی رہے گا۔ اجڑا، اجڑا، دنیا جہاں کے جانور یہاں چرتے پھریں گے۔
ہم احمقان چمن ہر روز جیئں گے، ہر روز مریں گے۔ گھبرا گھبرا کے کہا کریں گے: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟ البتہ دانشمندان چمن اپنے آئینہ ادراک میں بہت کچھ دیکھ رہے ہیں۔
اے حکمرانو! اے طبقہ اعلیٰ کے لوگو!
ڈرو اس وقت سے… پڑیں گے جب جان کے لالے… اور کوئی نہ ہوگا جو بچالے۔
خیر اندیش…عادل اختر، راولپنڈی
کالم ۔ ارشاد احمد حقانی

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

وکلاء کا لانگ مارچ ترانہ

Posted on 11/03/2009. Filed under: وڈیو زون, پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

وکلاء کی طرف سے لانگ مارچ کا ترانہ جاری کر دیا گیا ہے۔ لاہور بار سے خطاب کر تے ہوئے چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء اور عوام گرفتاریوں سے ڈرنے والے نہیں، پچھلی مرتبہ بھی وکلاء ہی نے سیکیورٹی کے انتظامات کئے تھے، اس مرتبہ بھی وکلاء موجود ہونگے۔ اس موقع پر لانگ مارچ کے حوالے سے چوہدری اعتزاز احسن کے مشہور نظم پر مشتمل ترانہ سنایا گیا۔ چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ ترانے کا منشور انصاف کا حصول ہے، یہ ترانہ صدر زرداری سمیت تمام پاکستانیوں کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس افتخار چوہدری بحال ہونگے یا نہیں، ہم اعلانات پر نہیں جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء نے جو ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے، تمام شرکا ء پر اس کی پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

عہد جوانی میں دیکھے تھے
کیسے کیسے خواب سہانے
ان خوابوں میں ہم لکھتے
اکثر خوشیوں کے افسانے

ایک نئی دنیا کی کہانی
ایک نئی دنیا کے ترانے
ایسی دنیا جس میں کوئی
دکھ نہ جھیلے بھوک نہ جانے

لگتا تھا ہم سب نے دیکھے
اس دھرتی کے درد انجانے
سوچا تھا کہ سب نکلیں گے
غربت کے سب پاپ مٹانے

ایک طرف تھی جنتا ساری
ایک طرف تھے چند گھرانے
ایک طرف تھے بھوکے ننگے
ایک طرف قاروں کے خزانے

مزید

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

کل، آج اور کل

Posted on 11/03/2009. Filed under: وڈیو زون | ٹيگز:, , , , , |

کل، آج اور کل ….. جیو ٹی وی

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

سرکار کی آمد مرحبا

Posted on 10/03/2009. Filed under: اسلام, رسم و رواج, عالم اسلام | ٹيگز:, |

عالم اسلام کو جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ہو۔

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایس ایم ایس

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

سانحہ لال مسجد پر احمد فراز کا کلام

Posted on 08/03/2009. Filed under: متفرق | ٹيگز:, , , |

وہ عجیب صبحِ بہار تھی

کہ سحر سے نوحہ گری رہی

مری بستیاں تھیں دُھواں دُھواں

مرے گھر میں آگ بھری رہی

میرے راستے تھے لہو لہو

مرا قریہ قریہ فگار تھا

یہ کفِ ہوا پہ زمین تھی

وہ فللک کہ مشتِ غبار تھا

کئی آبشار سے جسم تھے

کہ جو قطرہ قطرہ پگھل گئے

کئی خوش جمال طلسم تھے

جنھیں گرد باد نگل گئے

کوئی خواب نوک سناں پہ تھا

کوئی آرزو تہِ سنگ تھی

کوئی پُھول آبلہ آبلہ

کوئی شاخ مرقدِ رنگ تھی

کئی لاپتہ میری لَعبتیں

جو کسی طرف کی نہ ہوسکیں

جو نہ آنے والوں کے ساتھ تھیں

جو نہ جانے والوں کو روسکیں

کہیں تار ساز سے کٹ گئی

کسی مطربہ کی رگ گُلُو

مئے آتشیں میں وہ زہر تھا

کہ تڑخ گئے قدح و سَبُو

کوئی نَے نواز تھا دم بخود

کہ نفس سے حدت جاں گئی

کوئی سر بہ زانو تھا باربُد

کہ صدائے دوست کہاں گئی

کہیں نغمگی میں وہ بَین تھے

کہ سماعتوں نے سُنے نہیں

کہیں گونجتے تھے وہ مرثیے

کہ انیس نے بھی کہے نہیں

یہ جو سنگ ریزوں کے ڈھیر ہیں

یہاں موتیوں کی دکان تھی

یہ جو سائبان دھوئیں کے ہیں

یہاں بادلوں کی اڑان تھی

جہاں روشنی ہے کھنڈر کھنڈر

یہاں قُمقُموں سے جوان تھے

جہاں چیونٹیاں ہوئیں خیمہ زن

یہاں جگنوؤں کے مکان تھے

کہیں آبگینہ خیال کا

کہ جو کرب ضبط سے چُور تھا

کہیں آئینہ کسی یاد کا

کہ جو عکسِ یار سے دور تھا

مرے بسملوں کی قناعتیں

جو بڑھائیں ظلم کے حوصلے

مرے آہوؤں کا چَکیدہ خوں

جو شکاریوں کو سراغ دے

مری عدل گاہوں کی مصلحت

مرے قاتلوں کی وکیل ہے

مرے خانقاہوں کی منزلت

مری بزدلی کی دلیل ہے

مرے اہل حرف و سخن سرا

جو گداگروں میں بدل گئے

مرے ہم صفیر تھے حیلہ جُو

کسی اور سمت نکل گئے

کئی فاختاؤں کی چال میں

مجھے کرگسوں کا چلن لگا

کئی چاند بھی تھے سیاہ رُو

کئی سورجوں کو گہن لگا

کوئی تاجرِ حسب و نسب

کوئی دیں فروشِ قدیم ہے

یہاں کفش بر بھی امام ہیں

یہاں نعت خواں بھی کلیم ہے

کوئی فکر مند کُلاہ کا

کوئی دعوٰی دار قبا کا ہے

وہی اہل دل بھی ہیں زیبِ تن

جو لباس اہلِ رَیا کا ہے

مرے پاسباں، مرے نقب زن

مرا مُلک مِلکِ یتیم ہے

میرا دیس میرِ سپاہ کا

میرا شہر مال غنیم ہے

جو روش ہے صاحبِ تخت کی

سو مصاحبوں کا طریق ہے

یہاں کوتوال بھی دُزد شب

یہاں شیخ دیں بھی فریق ہے

یہاں سب کے نِرخ جدا جدا

اسے مول لو اسے تول دو

جو طلب کرے کوئی خوں بہا

تو دہن خزانے کے کھول دو

وہ جو سرکشی کا ہو مرتکب

اسے قُمچیوں سے زَبُوں کرو

جہاں خلقِ شہر ہو مشتعل

اسے گولیوں سے نگوں کرو

مگر ایسے ایسے غنی بھی تھے

اسی قحط زارِ دمشق میں

جنھیں کوئے یار عزیز تھا

جو کھڑے تھے مقتلِ عشق میں

کوئی بانکپن میں تھا کوہکن

تو جنوں میں قیس سا تھا کوئی

جو صراحیاں لئے جسم کی

مئے ناب خوں سے بھری ہوئی

تھے صدا بلب کہ پیو پیو

یہ سبیل اہل وفا کی ہے

یہ نشید نوشِ بدن کرو

یہ کشید تاکِ وفا کی ہے

کوئی تشنہ لب ہی نہ تھا یہاں

جو پکارتا کہ اِدھر اِدھر

سبھی مفت بر تھے تماشہ بیں

کوئی بزم میں کوئی بام پر

سبھی بے حسی کے خمار میں

سبھی اپنے حال میں مست تھے

سبھی راہروانِ رہِ عدم

مگر اپنے زعم میں ہست تھے

سو لہو کے جام انڈیل کر

مرے جانفروش چلے گئے

وہ سکوُت تھا سرِ مے کدہ

کہ وہ خم بدوش چلے گئے

کوئی محبسوں میں رَسَن بہ پا

کوئی مقتلوں میں دریدہ تن

نہ کسی کے ہاتھ میں شاخ نَے

نہ کسی کے لب پ گُلِ سخن

اسی عرصہء شب تار میں

یونہی ایک عمر گزر گئی

کبھی روز وصل بھی دیکھتے

یہ جو آرزو تھی وہ مرگئی

یہاں روز حشر بپا ہوئے

پہ کوئی بھی روز جزا نہیں

یہاں زندگی بھی عذاب ہے

یہاں موت بھی شفا نہیں

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

بلاول، بختاور اور آصفہ کے نام ممتاز بھٹو کا خط

Posted on 06/03/2009. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , , , , |


Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

A Wednesday

Posted on 06/03/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

ممبئی حملوں کے تناظر میں منیر احمد بلوچ کا تجزیہ


Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

دو خوشخبریاں

Posted on 05/03/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , |

کل کے اخبارات میں قوم کے لئے دو خوشخبریان تھی کہ اپریل اور مئی میں بجلی کے نرخ پھر بڑھائے جائیں گے اور چینی بھی مہنگی کرنا پڑے گی۔ نہ جانے حکومت چاہتی کیا ہے ایک طرف آئی ایم ایف سے قرض پہ قرض لیا جا رہا ہے دوسری طرف تمام اشیاء کے باری باری نرخ بڑھائے جا رہے ہیں، پیٹرول جو اس وقت عوام کو ٢٥ سے ٣٠ روپے لیٹر ملنا چاہیے وہ اس وقت تقریبا ٥٨ روپے مل رہا ہے۔ اس سے اچھے پرویز مشرف تھے جس کے دور میں اشیاء کے نرخ ایک طویل وقفے سے بڑھتے تھے مگر نئی قائم ہونے والی پی پی کی عوامی حکومت نے تو غریب عوام کے ساتھ اعلان جنگ کر رکھا ہے، اس جنگ میں عوام کو ایک لمحہ سانس لینے کی بھی فرصت نہیں مل رہی، ایک مہینے بجلی کے نرخ تو دوسرے مہینے کھاد اور گیس کے نرخ پھر بجلی، چینی اور نہ جانے کیا کیا ۔۔۔ یقینا اس وقت عوام کی بیشتر تعداد خودکشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
کل میں نادرا کیاسک فرنچائز پہ بیٹھا تھا کہ ایک عورت گیس کا بل ادا کرنی آئی جو کہ ٢٣٢٠ روپے کا تھا، اُس بیچاری نے روتے ہوئے انتہائی دکھ اور کرب سے کہا کہ ابھی لوگوں کے کپڑے دھوئے ہیں کچھ روپے وہاں سے ملے اور کچھ مانگ تانگ کے لائی ہوں کہ کسی طرح بل ادا ہو جائے، ابھی واپس جا کے بچوں کے لئے روٹی کا انتظام بھی کرنا ہے انہوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔
ایک اور عورت آئی کہنے لگی اس ماہ کی ساری تنخواہ ٹیلی فون، بجلی اور گیس کے بلوں میں چلی گئی ہے اب معلوم نہیں گھر کا خرچہ کیسے چلے گا، مرد بیچارے پریشان ہیں کہاں جائیں اور کون کون سا خرچہ پورا کریں۔
اندازہ کریں ایک طرف عوام کا یہ حال ہے کہ روٹی کے لئے ترس رہے ہیں اور دوسری طرف حکمرانوں کے اللے تللے ختم نہیں ہوتے، پنجاب میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے خزانے کا منہ کھول دیا گیا ہے، بڑی بڑی گاڑیاں، ہیلی کاہٹر خریدے جا رہے ہیں۔ اپنے خرچے پورے کرنے کے لئے عوام پر بوجھ کے اوپر بوجھ لاڈا جا رہا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ حکمران ٹولا نرخ بڑھنے کو تسلیم ہی نہیں کرتا بلکہ اسے سبسڈی کا حسین نام دیا جاتا ہے۔
اللہ پاکستانی عوام کا حامی و ناصر ہو۔

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

« پچھلی تحاریر اگلے‌ تحاریر»

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...