Archive for جون, 2009

پاکستانی طالبعلم نے چوتھا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

Posted on 25/06/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

ڈیرہ کے جواں سالہ پاکستانی بابر اقبال نے کمپیوٹر کی فیلڈ میں دبئی میں ہونیوالے امتحان میں چوتھا ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق بارہ سالہ بابر اقبال جن کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے پہلے ہی مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل’ سرٹیفائیڈ انٹرنیٹ ویب’ سرٹیفائیڈ وائرلیس نیٹ ورکنگ ایڈمن فیلڈ میں تین ورلڈ ریکارڈ بنا چکے ہیں نے اب حال ہی میں دبئی میں ہونیوالے مائیکرو سافٹ ٹیکنیکل اسپیشلسٹ ڈیولپرکے امتحان میں 91% نمبر حاصل کر کے چوتھا ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بابر اقبال نو سال کی عمر سے ورلڈ ریکارڈ قائم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے چوتھا ورلڈ ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ ان کی اعلیٰ کارکردگی کی بناء پر وزیراعلیٰ سرحد نے انہیں بیس ہزارروپے نقد انعام دیا تھا۔
لنک

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

پاکستانی بچے …. آہ ہماری نوجوان نسل!!!

Posted on 17/06/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |



















Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

شریف برادران کی سزا معاف کرنے کی دستاویزات

Posted on 16/06/2009. Filed under: پاکستان |

جنرل پرویز مشرف کی طرف سے میاں نواز شریف کو دی گئی ١٤ سال قید با مشقت کی سزا معاف کرنے کیلئے صدر سے اپیل

چیف ایگزیکٹوسیکرٹریٹ ، اسلام آباد
عنوان: معافی کی منظوری
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ ٤٥ کے تحت صدر کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ :
(الف ) سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ٣٠ اکتوبر ٢٠٠٠ء کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ٤٠٢-بی اور سیکشن ٧ کے تحت خصوصی اے ۔ ٹی اپیل نمبر ٤٣ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ ١٩٩٧ء میں میاں محمد نواز شریف کو سنائی گئی عمر قید کی سزا معاف کی جائے۔
( ب ) احتساب عدالت اٹک قلعہ کی جانب سے ٢٢ جولائی ٢٠٠٠ء کو قومی احتساب بیورو آرڈیننس ١٩٩٩ ء کی شق ٩(اے) (وی) ، ریفرنس نمبر ٢ کے تحت میاں محمد نواز شریف کو سنائی گئی ١٤ سال قید با مشقت کی سزا معاف کی جائے۔
جنرل پرویز مشرف
چیف ایگزیکٹو آف پاکستان اور
چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف
اینڈ چیف آف آرمی اسٹاف

صدر مملکت:

درخواست منظور کی جاتی ہے، سزائیں معاف کر دی گئیں
(دستخط )

صدر کے نام سزا معاف کرنے کی اپیل

دی چیف ایگزیکٹو
نمبر ٢٢٩/٣/(اے)/ڈائر-سی/٢٠٠٠ بتاریخ ١٠ دسمبر ٢٠٠٠ء
بخدمت جناب صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان
ڈیئر سر
یہ کہ درخواست گزار نمبر ایک پر دیگر کے ہمراہ کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک میں انسداد دہشت گردی ایکٹ ١٩٩٧ ء کی شق نمبر ٦/٧ اور تعزیرات پاکستان کی دفعات نمبر ١٢٠ بی, ١٢١, ١٢١ اے, ١٢٣, ٣٦٥, ٤٠٢ بی, ٣٢٧ کے تحت جرائم پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔
درخواست گزار نمبر ایک کے دیگر شریک ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا لیکن درخواست گزار نمبر ایک کو مذکورہ عدالت کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلے کے تحت ٦ اپریل ٢٠٠٠ء کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٤٠٢ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ ١٩٩٧ء کی شق ٧ کے تحت جرائم پر سزا سنائی گئی اور مندرجہ ذیل سزائیں سنائی گئیں۔
تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٤٠٢-بی کے تحت جرائم پر:) (١) عمر قید با مشقت (٢) پانچ لاکھ روپے جرمانہ ( عدم ادائیگی کی صورت میں )
(٣) تمام جائیداد کی ضبطی
انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ ٧ کے تحت جرائم:(١) عمر قید (٢) پانچ لاکھ روپے جرمانہ ( عدم ادائیگی کی صورت میں پانچ سال قید با مشقت ) (٣) پرواز نمبر پی کے ٨٠٥ کے تمام مسافروں کو مساوی شرح سے ٢٠ لاکھ روپے ہرجانے کی ادائیگی
٣۔ یہ کہ درخواست گزار نمبر ایک کی جانب سے فیصلے کے خلاف اپیل پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٤٠٢-بی اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ ٧ پر سزا برقرار رکھی گئی ہے لیکن سزا میں مندرجہ ذیل تبدیلی کی گئی ہے (١) عمر قید (٢) پانچ لاکھ روپے جرمانہ ( جرمانے کی عدم ادائیگی پر پانچ سال قید با مشقت ) (٣) جائیداد کی ضبطی (٥٠ کروڑ کی مالیت کی حد تک منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد )
٤۔ یہ کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے نیب آرڈیننس ١٩٩٩ء کے تحت دائر کئے گئے ریفرنس میں درخواست گزار نمبر ایک پر احتساب عدالت اٹک قلعے میں مقدمہ چلایا گیا اور نیب آرڈیننس کی دفعہ ٩(اے) (وی) کے تحت سزا سنائی گئی اور مندرجہ ذیل سزائیں دی گئیں۔ ( ١) ١٤ سال کیلئے قید با مشقت (٢) ٢ کروڑ روپے جرمانہ ( جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں تین سال کی قید با مشقت ) (٣ ) حکومت پاکستان کی آئینی یا مقامی اتھارٹی یا کسی عوامی عہدے کی نمائندگی یا بطور رکن نامزد یا مقرر، منتخب کئے جانے کیلئے ٢١ سال تک نااہلی ۔
٥۔ یہ کہ درخواست گزار نمبر ایک کو صحت کے سنگین مسائل درپیش ہیں۔ یہ کہ درخواست گزار نمبر ایک اور درخواست گزار نمبر دو سے چار تک کے طرز عمل کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کے پاس بعض انکوائریز اور تحقیقات زیر التواء ہیں اور تحقیقات کے نتیجے میں سزا ہو سکتی ہے۔
مندرجہ بالا نکات کے پیش نظر یہ درخواست کی جاتی ہے کہ درخواست گزار نمبر ایک کی قید کی سزا معاف کر دی جائے تا کہ وہ علاج کیلئے بیرون ملک جانے کے قابل ہو سکے اور درخواست گزاروں کو ماضی کے کسی مبینہ طرز عمل کے حوالے سے سزا نہ دی جائے۔
دستخط :
درخواست گزار نمبر ایک : میاں محمد نواز شریف
درخواست گزار نمبر دو: میاں شہباز شریف
درخواست گزار نمبر تین: میاں عباس شریف
درخواست گزار نمبر چار : حسین نواز

خفیہ اور ضررسے پاک قرار دینے کا معاہدہ

میں زیر دستخطی محمد نواز شریف تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے اپنی جانب سے پاکستان میں قید سے اپنی رہائی کیلئے ” جنٹلمین “ کی مذاکرات میں معاونت کرنے کی منظوری دی ہے۔ میں زیر دستخطی مزید تسلیم کرتا ہوں کہ میں اپنی جانب سے مذاکرات کے نتائج اور تسلسل سے پوری طرح مطمئن ہوں، یہ کہ مجھ سے مذاکرات پر پوری طرح مشورہ کیا جاتا رہا ہے، یہ کہ میں مذاکرات کے ہر مرحلے سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں اور یہ کہ میں نتائج سے پوری طرح متفق اور اسے تسلیم کرتا ہوں۔ میں نے جس ملک میں جانا منظور کیا ہے وہاں اپنی آمد پر، میں زیر دستخطی عہد اور اتفاق کرتا ہوں کہ میں ١٠ سال تک کے عرصے کیلئے پاکستان میں اپنی قید کے حوالے سے یا پاکستان کے مفادات کے خلاف کسی بھی نوعیت کی سرگرمیوں، سیاسی یا کاروباری سرگرمیوں میں شمولیت اختیار نہیں کروں گا۔ مزید یہ کہ میں زیر دستخطی پاکستان سے باہر، جس ملک میں رہائش پزیر ہونا میں نے منظور کیا ہے، ١٠ سال تک قیام کروں گا لیکن میں اس شرط پر سفر کر سکوں گا کہ میں اپنی جائے قیام پر واپس آؤں گا۔ میں زیر دستخطی مزید اتفاق کرتا ہوں کہ میں ماسوا پہلے سے حاصل کردہ تحریری منظوری کے پاکستان سے اپنی رہائی اور منظور شدہ مقام پر اپنے قیام میں شامل نہ تو ” جنٹلمین “ اور نہ ہی ملک کا نام کسی فریق پر منکشف کروں گا۔ مزید یہ بھی کہ میں زیر دستخطی خاص طور سے تمام شامل فریقوں کو پاکستان سے اپنی رہائی، میری جانب سے ” جنٹلمین “ کے مذاکرات اور میرے منظور کردہ ملک میں رہائش کے حوالے سے خواہ کسی بھی نوعیت کے دعوے ہوں یا رہے ہوں بری الذمہ کرتا ہوں۔
٢ دسمبر٢٠٠٠ء کے دن دستخط کئے گئے۔

خفیہ اور ضررسے پاک قرار دینے کا معاہدہ

میں زیر دستخطی محمد شہباز شریف تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے اپنی جانب سے پاکستان میں قید سے اپنی رہائی کیلئے ” جنٹلمین “ کی مذاکرات میں معاونت کرنے کی منظوری دی ہے۔ میں زیر دستخطی مزید تسلیم کرتا ہوں کہ میں اپنی جانب سے مذاکرات کے نتائج اور تسلسل سے پوری طرح مطمئن ہوں، یہ کہ مجھ سے مذاکرات پر پوری طرح مشورہ کیا جاتا رہا ہے، یہ کہ میں مذاکرات کے ہر مرحلے سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں اور یہ کہ میں نتائج سے پوری طرح متفق اور اسے تسلیم کرتا ہوں۔ میں نے جس ملک میں جانا منظور کیا ہے وہاں اپنی آمد پر، میں زیر دستخطی عہد اور اتفاق کرتا ہوں کہ میں ١٠ سال تک کے عرصے کیلئے پاکستان میں اپنی قید کے حوالے سے یا پاکستان کے مفادات کے خلاف کسی بھی نوعیت کی سرگرمیوں، سیاسی یا کاروباری سرگرمیوں میں شمولیت اختیار نہیں کروں گا۔ مزید یہ کہ میں زیر دستخطی پاکستان سے باہر، جس ملک میں رہائش پزیر ہونا میں نے منظور کیا ہے، ١٠ سال تک قیام کروں گا لیکن میں اس شرط پر سفر کر سکوں گا کہ میں اپنی جائے قیام پر واپس آؤں گا۔ میں زیر دستخطی مزید اتفاق کرتا ہوں کہ میں ماسوا پہلے سے حاصل کردہ تحریری منظوری کے پاکستان سے اپنی رہائی اور منظور شدہ مقام پر اپنے قیام میں شامل نہ تو ” جنٹلمین “ اور نہ ہی ملک کا نام کسی فریق پر منکشف کروں گا۔ مزید یہ بھی کہ میں زیر دستخطی خاص طور سے تمام شامل فریقوں کو پاکستان سے اپنی رہائی، میری جانب سے ” جنٹلمین “ کے مذاکرات اور میرے منظور کردہ ملک میں رہائش کے حوالے سے خواہ کسی بھی نوعیت کے دعوے ہوں یا رہے ہوں بری الذمہ کرتا ہوں۔
٢ دسمبر ٢٠٠٠ء کے دن دستخط کئے گئے۔

حلف نامہ

مجھے، میاں شہباز شریف ،ہنگامی طور پر محض علاج کیلئے سعودی عرب سے امریکا جانے کی ضرورت ہے کیونکہ میری بیماری آپریشن کی متقاضی ہو سکتی ہے اور یہ سہولت سعودی عرب میں دستیاب نہیں ہے۔ میں حامی بھرتا ہوں کہ میں اپنے علاج کی تکمیل پر فوری طور پر سعودی عرب واپس آ جاؤں گا۔ میں مزید حامی بھرتا ہوں کہ امریکا میں اپنے قیام کے دوران میں اور میرے ہمراہی کوئی انٹرویو دیں گے نہ میڈیا سے رابطہ کریں گے اور نہ ہی میں اپنی موجودہ یا سابقہ حیثیت کے حوالے سے یا پاکستان اس کی موجودہ حکومت ، سیاسی حالات یا پاکستان اور اس کی حکومت کے کسی بھی معاملے کے حوالے سے خواہ اس کی نوعیت کچھ بھی ہو کوئی عوامی بیان جاری نہیں کروں گا۔
بتاریخ ٢٦ جنوری ٢٠٠٣ء
میاں شہباز شریف


بشکریہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

سوالیہ تحریری حقائق

Posted on 11/06/2009. Filed under: پاکستان, تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , |

خیالات کے بےہنگم ہجوم میں سوچتاہوں، کہوں تو کیا کہوں۔ پھول کی خوشبو سحر انگیز تاثیر رکھتی ہے۔ لفظوں کے اثرات ما بعد ضبطِ تحریر کیاگل کھلا رہے ہیں، یہ دُنیا دیکھ رہی ہے۔ تحریر میں خیال اچھا ہو، تو کیا خوب بات ہے۔
آفرین! اِک نقطہ نظر ہے، دُنیا میں انسان کے رُجحانات کتابوں نے بدلے ہیں۔ قوموں کی تقدیر بدلی، ممالک کی قسمت بنی ۔۔۔۔ حتیٰ کہ زمانے کتابوں کے ٹھہر پائے۔ یہ دور کس کتاب کا ہے؟ کتابوں کے انبار میں، شائد کسی بھی کتاب کا دور نہیں چل رہا۔
لکھنے والے رہے نہیں، پڑھنے والےعالم بنے، پڑھانے والے نہ جانے کیا کر رہے ہیں۔ ہُو کا یہ عالم ٹھہرا کہ زمانے کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ دوڑ اپنی اپنی ہوئی، چور پوری قوم ہوئی۔ مایا کی تلاش میں، نام کمایا۔ فاترالعقل نے زمانہ میں، انجانہ خوف بنایا۔
حادثاتی مصنفین کا حادثاتی دور چل پڑا اللہ نہ کرے، یہ قوم بُرے حادثات کا شکار ہو۔اعتراض مصنف نہیں، معترض تو متنفر سوچ کی نفرت اور شر انگیز اشاعت سے ہوں۔ مغرب دشمن ہے، ہمارا مسلمان بھائی لسانی و مذہبی تنازعات کا شکار ہے، ہمارے خلاف ساز ش ہو رہی ہے، محبوب بے مروت ہے، زندگی گلیمر ہے، حقیقت کیا ہے؟ بس! جو مفروضے پیش ہوئے، وُہ حقیقت ٹھہرے۔ آج عام فرد کی دسترس میں ایسی ہی کتب دستیاب ہیں۔ جو مایوسی کا سبب بن رہی ہیں۔ اصل حقیقت غور و فکر سے محروم! حادثاتی دور کا یہ بھی اِک زمانہ ہے۔
محقق قلابے ملاتےہوئے، بنیادیں ہلا رہے ہیں، تحقیق کار تحقیق نہیں کر رہے۔ اشاعتی ادارے اغلاط سے بھرپور چند نشریات بھی چلا رہے ہیں۔ مگرمیں مایوس نہیں۔ اِن حالات میں بھی، اس قوم میں چند نَول کِشور (١) صاحب جیسے ناشر موجود ہیں۔
دو لفظ بولنے والا لکھنے والاہو گیا، چار باتیں جاننے والا محقق بن گیا، کسی کو متاثر کرنے کی کوشش میں ناکام ہو جانے والا شاعر بن بیٹھا۔ سستی شہرت والوں نے بہت کچھ لکھ ڈالا۔ مگر اُنکا مقصد صرف اپنی ذات کی رونمائی ہے۔ کاش! ایسے افراد کا مقصد قوم کی خدمت ہو جائے تو حقیقی مقصد کے حصول میں سمت کا تعین ہو جائےگا۔
عجیب عجیب تماشہ دیکھنے کو مِل رہا ہے۔ چور بے خبر بہروپیا کا انٹرویو لے رہا ہے، کتاب چھپی تو معلوم ہوا، تصوف سے نابلد افراد کی گفتگو مغربی نفسیا ت پہ چل پڑی، ایک اور سنجیدہ مضحکہ خیز حادثہ۔
دامن بچانے کایہ دور ہے، جس میں ہر شےءگنی جا رہی ہے۔ اَگنی کی تعلیم دُگنی، تِگنی، چُگنی سے ہے۔ حادثات ہمارے منتظر ہے، جبکہ ہم کسی خوشنما حادثہ کے انتظار میں ٹھہرگئےہیں۔
حادثہ ہمارا ہو چکا، کتاب ہماری اور ہے۔ تعلیم کسی اور جانب چل پڑی۔ہمارا مصنف آج گنتیوں میں مصروف ہے، مغرب اپنے جن دانشوروں کی تقلید پر ہے، اُنکا نشوونمائی دور محرومیات اور لالچ سے اثر انداز ہوا۔ اُنکے افکار سوالیہ نشان !عربی، فارسی اور ہندی سے ہوئے ناواقف ہم، تکیہ ٹھہرا ہمارا تراجم پہ، بھول چکے اپنےمشاہرین اسلام کی اَصل تعلیم کو۔
(فرخ )
(١) نَول کشور: قیام پاکستان سےقبل برصغیر کےنامور پبلشر، جنھوں نے قرآن پاک کی اشاعت بھی فرمائی۔ اُن پر مسلمانوں نے مقدمہ دائر کیا کہ یہ بےحُرمتی ہے۔ وُہ عدالت میں پیش ہوئے اور فرمانےلگے۔ میں ہندو ہوں، مگر میں چاہتا ہو کہ اس کی اشاعت دیکھو مگر ایسا کر نہیں سکتا۔ کیونکہ اُس جگہ تمام کام کرنے والے افراد مسلمان ہے، کوئی فرد بغیر وضو اور پاک لباس کے داخل نہیں ہو سکتا۔ وہاں استعمال ہونے والے پانی کا نکاس گنگا کی ندی میں ہے (جو ہندوؤں کے نزدیک پاکیزہ ترین ہے)۔ جس کے لئے ایک خصوصی نہر کھدوائی گئی ہے۔ اب بھی اگر مجرم ہو تو سزا دے دیجئیے۔ جس پر تمام حاضرینِ عدالت نادم ہوئے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کسی کو کچھ کہنا ہے؟

Posted on 11/06/2009. Filed under: دنیا بھر سے | ٹيگز:, , , , , |

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

عذاب کا خطرہ! غور طلب تحریر

Posted on 09/06/2009. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, عشق ومعرفت | ٹيگز:, , , , , , |






Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

تنہا انسان

Posted on 07/06/2009. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز:, , , |

انسان تنہا ہو رہا ہے، تنہائی میں تنہائی کا شکار خوف میں مبتلا انسان تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آج کاالمیہ؟ انسان خود نہیں جانتا کہ المیہ کا پیش خیمہ ہی المیہ کا شکار ہوگیا۔
تنہائی کہاں نہیں رہی؛ گھر میں ہر فرد اپنے اندر تنہا ہوگیا۔ اپنے اپنے دائرہ میں محدود انسان نے اپنی سوچ کو دائروں کی حد میں مخصوص کر دیا۔ دائرے ویژن بڑھانےکی بجائے بصیرت کو مفقود کر رہے ہیں۔ انسان اپنے دائروں میں دوسروں کی سوچ محدود کرتے ہوئےخود فنا ہو رہا ہے۔ کل کا انسان دوسروں کی خاطر خود کو محدود کر کے اَمر ہو رہا تھا۔
خدا کی یاد سےغافل ہو کر کاہل انسان تنہائی کے خوف کا شکار، سہارا کی تلاش میں بے آسرا خود کو محسوس کر رہا ہے، حیرت تو یہ ہے عملی طور پر ہر فرد تنہا ہے، بقول قوم اس ملک کا اللہ ہی مالک ہے۔ ملت خود کو تنہا محسوس کرنے لگی۔ اللہ کی یاد انسان کو کامل یقین عطاء کرتی ہے۔
ہر فرد اپنے رویوں میں خود کو تنہا کر چکا ہے۔ رویّے انسان بناتے ہیں، انسان رویہ سے انسان بگاڑ رہے ہیں، حالات موسم کی طرح مزاج خراب کر رہے ہیں۔ رشتوں، الفتوں، محبتوں، خاندانوں، خانوادوں، مملکتوں، قوموں کو کمزور کرنے میں برسر پیکار رویے ہی ہیں ۔
محفل میں مقررین کی باتیں بےموضوع ہونے لگیں، نقطہ نگاہ تنہائی کا منظر پیش کرنےلگی۔ اَن گنت لاچار افراد کی پکاریں صرف صدا تک رہ گئیں۔ بےربط خواہشات تنہائی کا پیش خیمہ بنتی جا رہی ہیں۔ انسان خود کوتنہا تب محسوس کرتا ہےجب وُہ کسی خاص شخص کو کچھ کہنا چاہے اور وُہ نہ سنے۔
ہمارا لوگوں سے اختلاف بڑھنے لگا، ہم ہر فرد سے اعتراض رکھنےلگے۔ہمیشہ دوسرے کے مقابلے پر خود کو مقابل جان کر مفت میں خود کو تنہا کرنے لگے ہیں۔ اس اختلاف کی وجہ یہ ہے، جب ہم خود کو پارٹی سمجھنے لگتے ہیں تو دوسروں میں خامیاں محسوس ہونے لگتی ہیں۔انسان تنہا تب ہوتا ہے جب اُسکی سوچ تنہا ہوجائے۔
وقت کی قلت اور مصروفیات کے بے ہنگم ہجوم نے انسان کو انسان سے تو دور کیا۔ اُسکی اپنی سوچ کو اُسکے خیالات کی دُنیا میں تنہا کر دیا ہے۔ اسقدر تنہا کہ اُسکے پاس سوچنے کا وقت نہیں کہ وُہ چند لمحوں کے لیئے رُک کر یہ طے کر سکے کہ اُسکا فیصلہ درست ہے بھی یا نہیں۔ اکثر یہ خیال ذہن میں وارد ہوتا ہے کہ انسان آتا اور جاتا تو تنہا تھا، مگر دونوں لمحات دعاؤں سےلبریز ہوا کرتےتھے۔ شائد اب دعا سے محروم ہونے لگے ہیں۔ قبرستان فاتحہ خوانوں سے محروم، بچہ والدین کی شفقت کا منتظر تنہائی ہی تنہائی۔ خوشیاں بیچ کر تنہائیاں کما رہے ہیں۔ شائد تنہائی انسان کے خمیر میں تھی تنہا آنا اس دُنیا میں تنہا جانا اورتنہا ہی اپناحساب دینا۔
نفسا نفسی کا عالم اور بےہنگم خواہشات کی دوڑ نے زندگی سے محبت کو چھین کر پُرکیف لمحات کو بےرنگ کر چھوڑا۔ تنہائی بھی تنہائی کا شکار ہے یادوں سے محروم، کتب بھی تنہائی کا ہی درس دے رہی ہیں، نفرت اور اُلجھنوں کا راگ الاپ رہی ہیں۔اداروں کو ملازمین نہیں انسان کی صورت میں مسلسل چلتے رہنے والی disposal مشین چاہیے۔ تنہائی ہی نفسیات کا مرض پیدا فرما رہی ہے۔
ہر فرد کو زندگی کے نشیب و فراز میں ہمدرد و خیرخواہ کی ضرورت ہیں مگر زندگی کی بھیڑ میں انسان تنہا ہو گیا ہے۔ بات سننے کا وقت کسی کے پاس نہیں رہا۔ بڑھاپا میں ہمیں ایک ایسے ملازم کی ضرورت ہوگی جو ہماری گفتگو تو سُن سکے۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا۔ آج کا انسان تنہا کیوں ہے اور اس تنہائی کا حل کیسے ممکن ہے۔ ڈھائی انچھر پریم کے، پڑھے سو پنڈت ہو۔ (محبت کےچند حروف ہیں جو ان پر عمل کرے گا وہی عالم فاضل ہوگا۔)
(فرخ)

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ہر نظارہ ۔ سبحان اللہ

Posted on 06/06/2009. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , , , , |






Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

بلاول بھٹو کی حیثیت

Posted on 04/06/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , |

اس میٹنگ میں بلاول بھٹو زرداری کس حیثیت سے بیٹھا ہے اور اس کا اس میں کیا کردار ہے؟

Read Full Post | Make a Comment ( 7 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...