عذاب کا خطرہ! غور طلب تحریر

Posted on 09/06/2009. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, عشق ومعرفت | ٹيگز:, , , , , , |






Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

4 Responses to “عذاب کا خطرہ! غور طلب تحریر”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

میں بھی اس سلسلے میں بے حد خوف محسوس کر رہا ہوں اور مجھے میرا پاکستان خطرے میں لگ رہا ہے، یہ واقع جو بیان کیا گیا ہے اسکی حقیقت کیا ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا مگر اپنے نبی پاک کے اس واقع میں ذکر ہونے پر میں اسے جھٹلا کر گنہگار بھی نہیں ہونا چاہتا ، میں آج کوشش کروں گا اس سورہ مبارکہ کی تلاوت کروں ، اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے آپ حضرات بھی اللہ پاک کو راضی کرنے اور معافی مانگنے کا عمل شروع کر دیں
ہو سکتا ہے اللہ پاک ہم پر رحم فرما دے اور ہم عذاب سے بچ جائیں، آمین

یاسر عمران مرزا’s last blog post..3 Tips for Increasing WiFi Range of a Wireless Laptop

اس مضمون میں مفتی تقی عثمانی کا حوالہ دیا گیا ہے مگر یہ خواب جناب تقی عثمانی نے نہیں دیکھا بلکہ کسی اور شخص نے دیکھا اور وہ خواب دیکھنے والا سو کالڈ طالبانی نظام کا ماننے والا تھا یا نہیں؟
پھر بھی میں اس مضمون کے نصف حصے سے اتفاق کرلیتا ہوںمگر بقیہ نصف پر میرے تحفضات ہیں،
مساجد شعائر اللہ ہیں مگر وہ مسجدیں جہاں فساد کی سازشیں تیار کی جا رہی ہوں ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے،کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ضرار ڈھا نہیں دی تھی،
لکھنے والا ایک خاص گروہ کی ذہنیت کی نمائندگی کرتا ہے وہ گروہ جو پہلے چیف جسٹس کے مسلے کو اشو بناتا رہا اور جب وہاں دال نہیں گلی تو اب دوبارہ لال مسجد کا اشو اٹھا رہا ہے،اس کے پیچھے یہ خوف پوشیدہ ہے کہ اکتوبر کے بعد مشرف دوبارہ اقتدار میں نہ آجائے اس لیئے عوام کو ڈرایا جائے کہ وہ اللہ کا مجرم ہے اور اس کے دوبارہ آنے سے پاکستان پر اللہ کا عزاب نازل ہوگا،خیر اگر اس کے آنے سے اس ملک کی بہتری ہے اور اللہ کو منظور ہے تو اسے آنے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی اور اگر اس کا آنا مشیئت الہی نہیں ہے تو کوئی طاقت اسے لا نہیں سکتی،اب رہا سوال اللہ کی تعلیمات پر عمل کرنے کا تو بھائی کس نے تمھیں ان پر عمل کرنے سے روکا ہے،لال مسجد پر ہونے والا ظلم تو ان حضرت کو نظر آگیا اور وہ مظالم جو دن رات غریبوں اور مظلوموں پر پچھلے 62 سال سے توڑے جا رہے ہیں ان کی تو شائد اللہ میاں نے آپ حضرات کو کھلی اجازت دی ہوئی ہے کہ خوب کمزوروں پر ظلم کرو حقداروں کا حق مارو،اور جب ضرورت پڑے اسلام کا نام لے کر ہر غلط کام کرو،بقول علامہ
مسجد تو بنادی پل بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی تھا صدیوں میں نمازی بن نہ سکا
اگر یہ مضمون نوائے وقت میں چھپا ہے تو نوائے وقت کس کی نوا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ویسے تو پنجاب کے سارے ہی اخبارات کی ایک ہی ذہنی اپروچ ہے مگر نوائے وقت تو نوائے وقت ہی ہے 🙂
جس کا مالک مجید نظامی وزیر اعظم تک کو دھمکی لگا سکتا ہے کہ اگر آپ نے دھماکا نہ کیا تو ہم آپ کا دھماکہ کر دیں گے ؛)

حضور کا خواب میں آنا اور کوئی بات کہنا ایک زندہ حدیث ہے۔ اس پر بھی روایت و درایت کے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔
اگر امام بخاری موجود ہوتے، تو کچھ ایسے سوالات کرتے۔۔۔
وہ شخص کون ہے جس نے یہ خواب دیکھا؟
کیا اُس نے کبھی جھوٹ بولا؟
کیا اُس کی پُشت میں کوئی جھوٹ بولنے والا بھی تھا؟
کیا وہ صداقت و امانت میں لوگوں کے نزدیک محترم ہے؟

محترم یہ سبھی سوال اس ضمن میں اُٹھائے جا سکتے ہیں۔ ہماری سب سے بڑی کمزروی، ہم اسلام سے ناواقف ہیں اور پی ایچ ڈی ہیں، ہم اعتدال کے فلسفے سے دُور بھاگتے ہیں اور واہمات پر یقین رکھتے ہیں۔ دراصل اعلی عہدے پر فاہز شخص کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اللہ کے قرب میں بھی اُتنا ہی بلند ہو جتنا کہ اعلی عہدے پر بیٹھ کر ہمارے لیے بلند ہے۔
اور جن حضرت نے کالم تحریر کیا ہے، اُن کے اعتقاد پر مجھے حیرانی ہوئی۔ کیا یہ لوگ ہمارے لیے تحریر کا بازار سجائیں گے؟
کسی نے سچ ہی کہا ہے، جب حکمت خواص کے پاس سے رُخصت ہو جائے، تب عوام حکمت کی تلاش میں تحریر کے ایسے انبار لگا دیتے ہیں کہ سچ اور جھوٹ کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ اندھیرا چند دن کا مہمان ہے، پھر اُجالے کا سورج تباہ ہو گا۔ یاد رکھیے گا، ہم نے اُس حدیث مبارکہ کو پُورا کرنا ہے، جسے میں ہند امام مہندی کا ساتھ دے گا۔ ہم نے ساتھ دینا ہے، لہذا ہم اُس وقت تک موجود رہیں گے جب تک وہ وقت نہ آجائے۔
نوجوان بشمول عثمان خان، سیکس کی لذت میں ڈُوبے ہوئے ہیں۔ جس دن یہ نوجوان زندگی کے اصل مفہوم سے شناسائی پا گئے، وہ دن ہمارے لیے ہر وہم و وسوسے کو ختم کر دے گا۔ اور انشااللہ وہ دن بہت جلد آئے گا۔
.-= محمد عثمان خاں´s last blog ..امام غزالی کی ایک نظم =-.


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: