سرائیکی کارڈ

Posted on 05/07/2009. Filed under: پاکستان, سیاست, سرائیکی وسیب | ٹيگز:, , , , , , |

لنک

لنک

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

7 Responses to “سرائیکی کارڈ”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

ناانصافی کبھی پھلتی نہیں ہے،پاکستان قائم رہنے کے لیئے بنا ہے اورانشاءاللہ قائم رہے گا،مگر اس کے لیئے یہاں رہنے والے ہر شخص کو اس کا حق دینا ہوگا،اس سے کم میں بات نہیں بنے گی،
پنجاب کے خلاف بات کرنا پاکستان کے خلاف بات کرنا ہے اس ذہنیت کو بدلنا ہوگا،
منیر صاحب اس حق پرستی کے لیئے شکریہ،دیر سے ہی سہی مگر بات آپ کی سمجھ میں آگئی ہے 🙂
اب اللہ کرے کے ارباب اختیار کی سمجھ میں بھی آجائے اس سے پہلے کے خدانخواستہ بہت دیر ہوجائے،:(

پنجاب کے خلاف بات کرنا پاکستان کے خلاف بات کرنا ہے
یہ تو عام طور سے انہی کے منہ سے سُنا جاتا ہے جو ہر وقت پنجاب اور پنجابی پر بندوق تانے رکھتے ہیں ۔ البتہ الطاف حسین کی منافقت کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی جائے تو نہ صرف تعصب کا طعنہ ملتا ہے بلکہ طوفان برپا کر دیا جاتا ہے ۔ الطاف حسین جو بھارت اور برطانیہ کے مال پر پل رہا ہے وہ سب سے بہتر مسلمان اور پاکستان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے مگر پاکستان کی سرزمین پر اس کے پاؤں جلتے ہیں اسلئے لندن کی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ گرم کرنے والے مشروب پیتا ہے

بھوپال صاحب الطاف حسین کی منافقت چاک کرنے سے پہلے یہ تو بتا دیں کے خمینی صاحب نے کتنے سال فرانس میں جلا وطنی گزاری تھی ؟

اور کچھ لوگوں کو جب آئینہ دکھایا جاتا ہے تو وہ اسی طرح کی الزام تراشی پر اتر آتے ہیں کیونکہ دلیل سے قائل کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی اور منافقت کی انتہا یہ ہے کہ عظیم احمد طارق کو عظیم شخص کہہ کر پکارتے ہیں اور اس وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ حقوق کی جس تحریک کو وہ سوکالڈ لسانیت کا طعنہ دیتے ہیں وہ اس کا روح رواں تھا، جس کا جرم ایجینسیوں کے اشاروں پر چلنے سے انکار کرنا تھا(اور یہی جرم جناب حکیم سعیداور غلام حیدر وائن کا بھی تھا)وہی ایجینسیاں جو مرتضی بھٹو کو مار کرالزام اس کی ماں جیسی بہن پر لگاتی ہیں،عظیم احمد طارق کو قتل کر کےالزام بھائی جیسے دوست الطاف حسین پر لگاتی ہیں،اور بے نظیر کو قتل کر کے الزام اس کے چاہنے والے شوہر پر لگاتی ہیں اور مقصد؟صرف ان پارٹیوں کو حصوں میں تقسیم کرنا تاکہ ان کی طاقت کو کم کیا جا سکےکیونکہ یہ عوام میں جڑیں رکھتی ہیں مگر وہ ایسی چالیں چلتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیںکہ اللہ ان کی چالوں کو ناکام بنانے والا اور سب سے بڑا تدبیر کرنے والا ہے ،اس کا فرمان ہے حق آنے اور چھا جانے کے لیئے ہے اور باطل مٹ جانے کے لیئے ہے اور بے شک باطل مٹ جانے کے لیئے ہی ہے،
ان لوگوں کی دکھتی رگ ہے پنجاب کی تقسیم،ظاہر ہے جسے لوگوں کے حقوق کھانے کی عادت پڑ جائےوہ آسانی سے نہیں چھوٹتی نا،
بزدلی کی وجہ سے سامنا کرنے کی تو ہمت نہیں ہوتی بس الزامات کی سیاست کیا کرتے ہیں اور لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،اللہ ایسے عقل کے اندھوں کوہوش کے ناخن عطا فرمائےآمین،
الطاف حسین کے لندن میں رہنے کی بات کرنے والوں کی پیاس لیاقت علی خان ،ذوالفقارعلی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے خون سے ابھی بجھی نہیں ہے شائد:(
فقطع دابرالقوم الزین ظلمو،والحمدللہ رب العالمین،

یہ دیکھ کر بڑی ہنسی آتی ہے کہ آج کل لوگوں کے پیٹ میں بڑے مروڑ اٹھ رہے ہیں،بے چارے پریشان ہیں کہ کہیں لوگ جاگ نہ جائیں اور آپس کی دھینگا مشتی چھوڑ کر ان کا اور ان کے آقاؤں کا گریبان نہ پکڑنا شروع کر دیں حفظ ما تقدم یا بزدلی کی وجہ سے اپنے بلاگ پر اپنے ناپسندیدہ تبصرے بلاک کر کے آزادی اظہار کا گلا گھونٹ کر بہت خوش ہیں اور جو دل چاہتا ہے آئیں بائیں شائیں لکھا کرتے ہیں،کوئی ان سے پوچھے بھلا کہ اگر یہ ملک خداداد بنانے والوں نے مسلمانوں کے لیئے ہی بنایا تھا تو ہندوستان کے مسلمانوں پر ان کے آقاؤں نے اس کے دروازے بند کیوں کردیئے ،بنگلہ دیش کو عذاب کہہ کر اس سے جان کیوں چھڑائی گئی مگر ایسے کسی سوال کا جواب دینا ان جیسے لوگ گوارا ہی نہیں کرتے،
اورمزید فرماتے ہیں کہ کراچی سے متحدہ والے ان سے مشورہ لینے کے لیئے ان کو فون کیا کرتے تھے چہ خوب!(پھر تو اس لسانیت کے جرم میں جناب بھی برابر کے شریک ہیں! کیوں؟):)
مگر ہم کیسے یقین کر لیں جب تک کوئی متحدہ کا بڑا اس بات کی تائید نہ کرے ورنہ ایسے افسانے تو ہم ان سے بہت سنا کرتے ہیں عظیم احمد طارق کے غم میں مگر مچھ کے آنسو بہانے والے غلام حیدر وائںن کے لیئے نہ تو کسی دکھ کا اظہار فرماتے ہیں اور نہ یہ بتاتے ہیں کہ ان کا قصور کیا تھا کہ انہیں جیتا نہ رہنے دیا گیا یا وہاں بھی ایم کیو ایم والے پہنچ گئے تھے!
آگے کہتے ہیں کہ اس کتاب کو بند ہی رہنے دیں میرا قلم چل پڑا تو۔۔۔۔۔۔۔۔
اجی حضرت قلم چلائیے نا آپ کو کس نے روکا ہے آدھی باتیں کرنے اور آدھا سچ بولنے کی عادت چھوڑیئے وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے،مزے دار بات یہ ہے کہ میری لکھی کسی بات کا آنجناب کے پاس کبھی کوئی جواب نہیں ہوتا، مزے لگے پڑے ہیں بھئی27 فیصد رو دھو کر دیتے ہیں اور 65 فیصد واپس لے لیتے ہیں،اور جاتا کہاں ہے ان کے اور ان کے پیاروں کے پیٹ میں،

لیجیئے اب تو دشمن بھی یہ بات مان رہے ہیں کہ ایم کیو ایم بننے سے سندھو دیش کی تحریک کمزور پڑ گئی،مگر بجائے ہمارا احسان ماننے کے الٹا ہمیں ہی برا بھلا کہا گیا،جنہوں نے پاکستان بنایا تھا انشاءاللہ وہی پاکستان بچائیں گے بھی،

ایسے تجزیہ نگار کراچی کی مثال دیتے ہیں جہاں ایم کیو ایم بنی اور ایک تجارتی ساحل نہ ہونے کی وجہ سے الگ سندھو دیش کا قیام اقتصادی طور پر سود مند نہیں رہا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسی طرح گوادار کو بھی الگ صوبہ بنا کر بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک پر اثر انداز ہوا جاسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگ ان تجزیوں سے اتفاق نہ کریں لیکن چھوٹےصوبوں کے حامی کہتے ہیں کہ بلوچستان کو گوادر، پشتون اور پختونخواہ صوبوں میں،سندھ کو کراچی حیدرآباد اور اندرون سندھ جبکہ پنجاب کو جنوبی،وسطی اور بہاولپور صوبوں میں آسانی سے تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090716_divide_punjab_fade.shtml
مزید تفصیل کے لیئے یہ لنک موجود ہے


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: