Archive for اگست, 2009

آزادی اور جمہوریت

Posted on 14/08/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

آج ١٤ اگست ہے آزادی کا دن، یہ ملک جمہوریت کے نام پر بنا لیکن ٣٣ سال مارشل لاء کی نذر ہو گئے۔ دنیا کے کئی ممالک کی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں فوجی حکومتوں کے آنے سے ترقی کی رفتار تیز ہو گئی۔ انڈونیشیا کی مثال سامنے ہے جہاں فوجی آمریت کی ایک شکل کے باوجود ترقی کی رفتار تیز تر ہوتی رہی۔ لیکن پاکستان میں فوجی آمریت اور مارشل لاء سے جمہوریت کا راستہ تو رکتا ہی رہا ترقی کی رفتار پر بھی اس کے مثبت اثرات نہ پڑ سکے۔ پاکستانی قوم کے مزاج میں آزادی اور جمہوریت رچی بسی ہوئی ہے۔ جس کسی بھی آزادی چھیننے کی کوشش کی اس کے خلاف سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں نے تحریکیں چلائیں اور بالآخر جمہوریت بحال ہو کر رہی۔ ماضی کے مارشل لاء کا جائزہ لیکر ہم جہاں ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لے سکتے ہیں وہاں اس بات کی پیش بندی بھی کر سکتے ہیں کہ آئندہ ایسے حالات ہی پیدا نہ ہوں جس سے جمہوریت کا بستر گول ہو جائے۔
آزادی کے اس دن ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ جمہوری نظام کامیابی سے چللانا ہے کیونکہ اسی میں ہم سب کی بقا ہے، اس سلسلے میں عدلیہ تو اپنا کردار کامیابی نبھا رہی ہے، اب نگاہیں پارلیمنٹ پر لگی ہیں کہ وہ کیا کردار ادا کرتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

اُستاد حامد علی خان بمقابلہ اُستاد پرویز مشرف علی خان

Posted on 10/08/2009. Filed under: موبائیل زون, وڈیو زون, پاکستان, سیاست, طنز و مزاح | ٹيگز:, , |

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

وطن کی مٹی گواہ رہنا

Posted on 10/08/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , |

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

لوگو سوچو!

Posted on 09/08/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , |

کافی دنوں بعد آپ سے مخاطب ہوں اس لئے آج کرنے کو بہت سی باتیں ہیں، کچھ ہوں گی بھی سہی، ہو سکتا ہے ان میں ربط نظر نہ آئے کیونکہ آجکل کے حالات نے میرے ذہن کو ماؤف سا کر دیا ہے۔ میں کسی ڈرامے یا فلم میں بھی ظلم یا دھوکہ ہوتا دیکھوں تو ٹی وی بند کر دیتا ہوں یا اٹھ کر باہر چلا جاتا ہوں جبکہ حقیقی زندگی میں پورا ملک ظلم اور فریب کی منڈی دکھائی دیتا ہے، ایسے حالات میں باتوں کے اندر ربط کیسے باقی رہ سکتا ہے۔ میرا بس چلے تو ان ظالموں، فریب کاروں اور بہروپیوں کی دھجیاں اڑا دوں، ان کا ریشہ ریشہ علحیدہ کر دوں، جھوٹ اور استحصال کی ہر علامت کو عبرت کی ایسی مثال بنا دوں کہ سالہا سال کسی کو آدم خوری کی جرآت نہ ہو، ان کے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک کروں جو بنوعباس نے بنواُمیہ کے ساتھ کیا تھا۔
قسم اللہ کی بزرگی و برتری کی، قسم پاکستان اور پاکستانیوں کی محرومیوں اور بدنصیبیوں کی اس قوم کے حکمران ‘ایک نمبر‘ ہوں تو اس جیسی ایک نمبر قوم پوری دنیا میں نہیں مگر مغرب سے مرعوب زدہ ہمارے یہ روبوٹس نما حکمران اس ملک کو مقروض منڈی کے طور پر چلا رہے ہیں۔ ان کا زیادہ سے زیادہ فخر صرف یہی ہے کہ ‘آئی ایم ایف راضی ہو گیا‘ اور ‘ہم قرضہ لے آئے ہیں‘ یا ہم قرضے کی قسط جاری کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں، ہم نے آئی ایم ایف کو رجھا لیا ہے ۔۔۔۔۔لیکن قوم کو کبھی نہیں بتائیں گے کہ یہ سب کس قیمت پر کیا ہے۔
قوموں اور ملکوں کو نہ ایٹم بم بچاتے ہیں نہ ان کی میعشت۔
ملک ایٹم بموں سے بچائے جا سکتے تو روس ٹکڑے ٹکڑے نہ ہوتا۔
ملک معاشی مضبوطی سے مضبوط ہوتے تو برونائی اور سعودی عرب مضبوط ترین ہوتے۔
قوموں کی حفاظت ۔۔۔ خود قومیں کرتی ہیں جیسے کسی بھی گھر کا آخری اور حقیقی محافظ چوکیدار نہیں ۔۔۔ اہل خانہ ہی ہوتے ہیں، اُسی طرح ملکوں کے محافظ اس کے عوام ہوتے ہیں، یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب عوام کو اقتدار میں شرکت اور عزت دی جائے، اہمیت دی جائے، انصاف دیا جائے ۔۔۔ لیکن یہاں کیا ہے؟
پیپلز پارٹی کے وڈیرے اور جاگیردار، مسلم لیگ کے سرمایہ دار
لوگو سوچو!
کیا یہ تمھارے بارے میں کبھی کچھ سوچ سکتے ہیں؟

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

وفا

Posted on 05/08/2009. Filed under: پاکستان, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

ہم کواُن سے وفا کی ہے اُمید
جو نہیں جانتے کہ وفا کیا ہے؟

اس زمانے میں کوئی کسی سے وفا نہےں کرتا۔ اعتبار کسی پر کرتے ہے وفا کوئی اور کرتا ہے۔ وفا تو دِل کی الفت سے ہوتی ہے۔ جس میں وفا نہےں اُس میں کچھ نہیں ہے۔ وُہ زندگی کےجذبات سے محروم ہے۔ دُعا وفا ہے۔ محبت کے لئے وفا کا ہونا لازم ہے۔
وفا کا عمل دِل میں احترام سے ہوتا ہے، یہ مادی جذبہ نہےں روحانی معاملہ ہے۔
انسانی جذبوں میں سب سے حسین جذبہ ”وفا“ہے۔ ہرخوبصورت رشتہ کی بنیاد ایفا ہے۔ رشتہ دار کا فخر وفا میں ہے۔ محبت کا درخت وفا کے پانی سے پھلتا پھولتا ہے اور اعتماد کا پھل دیتا ہے۔ وفا ایک عہد ہے اپنی ذات کے ساتھ قربانی کا جذبہ۔ وفا میں ہمیں صرف وُہ چہرہ پسند ہوتا ہے؛ جسکی خاطر ہم جیتے ہیں۔ اُسکی خوشی ہماری خوشی، اُسکا غم ہمارا غم ہوتا ہے۔
وفا ایک ایسا جذبہ ہے، جس کے رشتے بے شمار ہیں۔ دین، ملک، خطہ، قوم، خاندان، دوست ہمیں تمام اپنی جان سےعزیز ہیں۔ وفا میں فریب موجود نہیں۔ وفا میں دھوکہ نہیں ہوت اوفا تو مر مٹنا ہوتا ہے۔
وفا احساس نہیں بلکہ عہد نبھانا ہے۔ ایساعہد جو فخر کا باعث ہو۔ تمام زندگی کا اثاثہ وفا ہے۔ وفا محبت کا ایسا لمحہ ہے۔ جس میں فراق نہیں۔ وفا محبوب کی جانب سے نہیں اپنی جانب سے ہوا کرتی ہے۔ وفا محبت کی ترجیح طے کرتی ہے۔ وفا زندگی جینے کا ڈھنگ سکھاتی ہے۔ وفامادہ پرستی کی بجائےخلوص سکھاتی ہے۔ حقیقت سے روشناس کراتی ہے۔ وفا ہی انسان میں وُہ جذبہ پیدا کرتی ہے۔ جس میں انسان کسی کے لئے کٹ مرتا ہے۔ حسین جذبہ! وفا۔
باکردار انسان وفا کاجذبہ رکھتا ہے۔ با وقار اقوام اپنے وطن سے وفا کا رشتہ نبھاتے ہیں۔ خود کو قربان کرڈالتے ہیں۔ وفا میں اپنی ’میں‘ نہیں رہتی۔ دوسرے کی تعظیم و تکریم ہی تحریم بن جاتی ہے۔ قوموں میں عظمت کا نشاں وفا کا ہی ہوا ہے۔
آج ایک سوال آن پڑا! وفا کا کبھی جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔ میاں بیوی کا رشتہ وفا سے ہی پھلتا پھولتا ہے۔ امپورٹڈ کلچر نے اس خطہ کے حسین ترین جذبہ وفا کا قتل عام شروع کردیا۔
ایک دور تھا،؛ آقا و غلام کا رشتہ تھا۔ مالک خیال رکھتا تھا، ملازم جان پیش کرتا تھا۔ Profesionalism رویہ اپنے ساتھ leg pulling کو قانونی اجازت دے رہا ہے۔ آج وفا معدوم ہے۔ ملکی حالات مخدوش تر ہوئے۔ نااہل اہل بن بیٹھے۔ ہر فرد دوسرے کی کرسی پہ نظر لگائے بیٹھا ہے۔ آج زندگی کیلیئے امان کی دُعا کرنے والاکوئی نہیں، ایمان خود امان میں نہیں رہے۔
خاندان دولت کے بکھیڑوں میں، آپسی دشمن بن کر بکھر چکے، دوست دوستی میں نفع کما رہا ہے، فائدہ گن رہا ہے۔ جذبات کی تباہی گنتی سے ہوا کرتی ہے۔ جذبات کیلیئے تعداد بے معنٰی ہے، خلوص اہم ہے۔ دین کی وفاداری کو چند لوگ دُکان بنائےبیٹھے ہیں۔ مجاورین مزار پہ مزار والے کےنام پہ اپنی اپنی جلیبیوں کی کڑھائیاں سجائے بیٹھے ہیں۔
ملازمین ملازمت کر رہے ہیں، ملکی خدمت کتابی بات رہ گئی ہے۔ افسوس! جذبات میں وفا کا قتل ہوچکا۔ محبت ناپید ہوئی۔
وفادار تو ہر لمحہ امتحان میں ہوتا ہے۔ وفا تو دِل میں ہوتی ہے۔ اُسکی نمائش نہیں ہوسکتی۔ وفا تو ظاہراً محسوس ہوتی ہے مگر حقیقتاً یہ احساس دلوں سے دِلوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اِسکی پیمائش کے لیئے پیمانے مقرر نہیں۔ آپکے دِل میں جو درجہ ہے اُسکی کیا کوئی درجہ بندی کرسکتا ہے؟ ایسا کرنا تو نا انصافی ہے۔ جذبات کا مجروح کر دینا ہے جرم ہے۔ اندر کے انسان کے خوبصورت احساس کوقتل مت کرو۔ جو خود کو تمہارے حق میں بیچ چکا۔ جیسا بھی ہو! اُسکی قدر رکھو! بات تسلیم کرو یا نہ کرو مگر اُسکو جھٹلاؤ مت۔ وفادار توخدمت میں ہمیشہ کے لیئے خود پیش ہوچکا۔ پیش کیا نہیں گیا۔ جس نے خود اپنے اندر وفا پیدا نہ کی۔ وُہ محبت کو کیا جان پائےگا؟
آج وفا کیوں نہیں رہی؟ مادہ پرستی نے وفا کو حالت نزع پہ لا ٹھہرایا۔ اب مزید ایک سوال آن پڑا، وفا خود میں کیسے پیدا کی جائے؟ دِلوں میں خلوص پیدا کیجیئے، وفا خود بخود پیدا ہونے لگےگی۔ خلوص کیسے پیدا ہوتا ہے؟ چاہت سے۔ دوسروں کا خیال رکھنے سے بھی وفا پیدا ہوتی ہے۔ میاں بیوی کا ’قبول کرنا‘ دراصل یہی ہے۔ پاکستا ن کو تحریک پاکستان سےسمجھیئے؛ اِک روز کوئی جملہ، کوئی بات آپکےدِل پر اثر کر جائےگی۔ وطن سے وفا کیا ہے؟ ملازمت کو ضرورت نہ سمجھیئے، ملکی خدمت جانیئے۔ ماہوار ٢٤٨٠٠ روپوں تنخواہ ١٨ گھنٹے یومیہ کی ڈیوٹی کو کم نہ جانیئے بلکہ مزید١٠ گھنٹوں کو بھی قومی خدمت سمجھیے۔
وطن کی مٹی میں خوشبو وفا کے جذبہ سے ہے۔ وفا پریشانیاں لاتی نہیں پریشانیاں دور کرتی ہے۔ وطن کی مٹی کو وفا کےجذبہ سے ماتھے پہ مل لو، بھول جاؤ گے تمام غموں کو۔ پاکیزہ مٹی بھی اِک روحانی دوا ہے۔ مٹی کی پاکیزگی وفا میں ہے۔
اللہ والے اللہ اور رسول سے وفا رکھتے ہوئےمٹی میں شامل ہوکر بھی وفا کی خوشبو بکھیرتے ہیں، یہی وفا عشق کی معراج ہے۔
(فرخ نور)

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

اگلے‌ تحاریر»

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...