اب تو لمحوں کی بھی فرصت نہیں، آرام کہاں؟

Posted on 11/11/2009. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , , |

لے کے آیا ہے کہاں وقت کا گرداب مجھے
کر دیا اپنے ہی خیالات نے غرقاب مجھے

پھر مخاطب ہوں شبِ ہجر کی تنہائی سے
اے سحر! اور کوئی گی کوئی خواب مجھے

درد ہی درد ملے ہاتھ کی ریکھاؤں میں
کم نصیبی نے دئیے حیف یہ اسباب مجھے

اب تو لمحوں کی بھی فرصت نہیں، آرام کہاں؟
زندگی اور سکھائے گی کچھ آداب مجھے

خشک سالی کا یہ عالم ہے کہ شاہین اب تو
اپنے دریا میں بھی پانی ملے، نایاب مجھے

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: