Archive for دسمبر, 2009

شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ

Posted on 27/12/2009. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

امام حسن اور امام حسین دو بھائی تھے۔ حسن بڑے تھے اور حسین چھوٹے تھے۔ یہ دونوں شہزادے جب فرش زمین پر چلتے اور مدنیہ طیبہ کی گلیوں میں گھومتے تھے، جب مکہ معظمہ میں پھرتے تھے، کبھی احرام پہنے ہوئے، کبھی حلہ یمانی پہنے ہوئے تو ان کا ملاح دور سے دیکھ کر یہ کہتا تھا ‘‘معلوم ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے ہیں۔
ان کا پورا وجود نورانی تھا اور کیوں نہ ہو کہ

تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا

یہ شہزادے جب مدنیے کی گلیوں سے گزرتے تھے تو درودیوار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو آتی تھی اور کتنی عجیب بات ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “کیا زمین پر جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتے ہو؟“ صحابہ نے عرض کی! “بیشک“ تو ارشاد فرمایا “ جس کو جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنے کی تمنا ہو وہ حسن اور حسین کو دیکھ لے“ چنانچہ فرمایا “الحسن و الحسین سید شباب اھل الجنۃ“ (ترمذی شریف)
یہ دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ گلشن مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے مہکتے ہوئے پھول ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلشن کے اس مہکتے پھول (حسین) کو بڑی بے دردی سے امت کے ان منافقین، بدبخت اور بدنصیب لوگوں نے کربلا کے میدان مسل دیا۔
کربلا کا واقعہ کیا ہے؟
امام حسین مظلوم تھےاور یزید پلید تھا، بد نصیب اور بدبخت اور شقی القلب تھا، زمین پر چلتا پھرتا شیطان تھا، بدی کی قوتوں کی علامت تھا جو نیکی کی قوتوں سے ٹکرا رہا تھا۔ امام حسین نیکی کی قوتوں کی علمبردار تھے اور رحمانی قوتوں کی نمائندگی فرما رہے تھے۔ یہ رحمانی اور باطنی قوتوں کا مقابلہ تھا۔ حق و باطل کا معرکہ تھا۔ ظالم و مظلوم کا مقابلہ تھا اور اس مقابلہ میں دنیا نے دیکھا کہ مظلوم نے ظالم سے مقابلہ کیا، ظالم ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا اور مظلوم آج بھی مقبول ہے کہ زمین کے ذرے ذرے پہ اس کا ذکر ہو رہا ہے۔
امام عالی مقام، امام حسین رضی اللہ عنہ شہید کربلا، دافع کرب و بلا نیکی کی قوتوں کے ترجمان تھے اور شیطانی قوتوں کے مقابل صف آراء تھے۔ انہوں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ یزید کی عظیم الشان سلطنت کے سامنے جھکے بھی نہیں اور بکے بھی نہیں۔
ہم لوگ گرمی سے تڑپتے ہیں، پیاس لگتی ہے تو فریج کا ٹھنڈا پانی پیتے ہیں اور ہم میں سے بہت سے لوگ اکثر قرآن مجید پڑھتے ہیں، تلاوت کرتے ہوئے، وظلائف پڑھتے ہوئے زبان خشک ہونے لگتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ پانی پی لوں تو رک کر ٹھنڈا پانی پی لیتے ہیں اور پھر تلاوت شروع کرتے ہیں۔ لیکن یہ منظر کہیں نظر نہیں آتا کہ ایک شخص تلاوت قرآن کر رہا ہے تیروں کی بارش ہو رہی ہے خون بہہ رہا ہے۔ یہ منظر صرف کربلا والوں ںے دیکھا ہے۔ یہ نظارہ چشم فلک نے صرف کربلا میں دیکھا کہ ایک شخص زخموں سے چور ہے، خون بہہ رہا ہے، تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے اور آ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا سجدہ بھی آپ نے کہیں نہ دیکھا ہو گا تیروں کی برسات ہو رہی ہے، خون بہہ رہا ہے لیکن امام عالی مقام کی جبین اپنے رب کے حضور جھکی ہوئی ہے۔ یہ وہ سجدہ تھا جس کی نظیر صرف نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر آتی ہے۔
آج ہم حج کرنے جاتے ہیں، آمدنی کیسی ہے، کہاں سے آئی، کس طرح آئی، سرکاری حج ہے یا غیر سرکاری حج، سود کے پیسے ہیں یا رشوت کے، نشے کی کمائی ہے یا اسمگلنگ کی؟ یہ علحیدہ بات ہے لیکن بڑے آرام سے ہوائی جہاز سے جاتے ہیں، ائرکنڈیشنڈ کاروں میں سفر ہوتا ہے، ہوٹل میں قیام ہوتا ہے یا اپنے کسی جاننے والے کے پاس یعنی کتنے آرام اور پرمسرت طریقے سے حج ہوتا ہے۔ لیکن چشم فلک نے ایسا نظارہ کبھی نہیں دیکھا ہو گا کہ وہ جو صبح شام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں کھیلتے تھے۔ جن کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے سجدے سے سر نہیں اٹھایا اور خلاف توقع سجدہ طویل ہو گیا۔ ناز و نعم میں پلے ہوئے حسین جب حج کرنے جاتے تو سواری ہوتی مگر استعمال نہیں فرماتے تھے۔ ایک دو نہیں، پوری زندگی میں امام حسین نے ٢٥ حج پیدل کئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “ نیرے اہل بیت سفینہ نوح کی طرح ہیں“ جس نے اہل بیت کے دامن کو تھام لیا اس نے دامن مصطٰفٰے کو تھام لیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا حقدار ہو گیا۔ اس لئے کہ جنت کی کنجی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہے۔ کیونکہ میرے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ “جنت کی چابیاں میرے دست اقدس میں ہیں“
جنت کی کنجیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست کرم میں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کی نعمتوں کو لیتے ہیں اور اپنی امت میں تقسیم کرتے ہیں تو امت کو قیامت تک جو نعمت ملتی رہے گی وہ درِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے گی اور ظاہر ہے امام حسن و حسین خون رسول ہیں اس خون کی اللہ تعالٰی کے یہاں کیا قدروقیمت ہو گی اگر امت قدر نہ کرے تو یہ امت پر بات ہو گی۔

اتر جو امۃ قتلت حسینا
شفاعۃ جدہ یوم الحساب

یعنی امت کے وہ لوگ شفاعت کے حقدار کیونکر ہوں گے جنہوں نے امام حسین کو شہید کیا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ریڈیو این آر او

Posted on 27/12/2009. Filed under: سیاست | ٹيگز:, |



لنک روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

بینک لوٹنے والے شرفاء

Posted on 24/12/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

عدالت عظمیٰ این آر او پرتاریخی فیصلہ دینے کے بعد اب قوم کے اربوں روپے کھاجانے والوں کے حلق میں ہاتھ ڈال کر یہ پیسہ نکلواناچاہتی ہے۔ کیا یہ اس غریب قوم پرظلم کی انتہا نہیں کہ صرف 13 برس میں 196 ارب روپے کے قرضے لے کر معاف کرالیے گئی؟ فہرست اٹھاکر دیکھیں تو ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ نکلے گا جس کے قرضے اس کی غربت کی وجہ سے معاف کیے گئے ہوں۔ کتنے ایسے ہیں جنہوں نے ایک طرف تو قرضے ہڑپ کرلیے اور دوسری طرف ان کے عیش وعشرت میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ اب بھی اللیّ تللّے کرتے پھررہے ہیں۔ اب ان کی پکڑتو ہورہی ہے لیکن کیا ایسے لوگوں سے قوم کی دولت اگلوائی جاسکے گی‘ یہ ایک اہم سوال ہے۔ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمدچوہدری نے 2006ءہی میں اربوں روپے معاف کرانے والوں کے خلاف ازخود نوٹس لیا تھا جس کی سماعت 2007ءتک ہوتی رہی۔ اسی سال جنرل پرویز مشرف نے عدالتوں پر حملہ کردیا اور یہ اہم معاملہ کھٹائی میں پڑگیا۔ ممکن ہے کہ جسٹس افتخار محمدچوہدری کے خلاف آمرانہ اقدامات کے پس منظرمیں یہ بھی ایک وجہ رہی ہو۔ جنہوں نے قرضے معاف کروائے وہ بہرحال بااثر افراد ہیں اور ہرحکومت میں اقتدارکی غلام گردشوں کے چوب دار رہے ہیں ۔ تجارت‘ صنعت یا کسی بھی کاروبارکے لیے قرض لینا ایک معمول ہے اور کوئی معیوب بات نہیں۔ لیکن اس قرض کی ادائیگی بھی تو ضروری ہوتی ہے۔ بینک کسی کو قرضہ دیتے ہوئے ایسی ضمانتیں ضرور طلب کرتے ہیں کہ قرض ادانہ ہونے کی صورت میں رقم وصول کی جاسکے۔ یہ صورتحال عام افراد کے معاملہ میں آئے دن نظرآتی ہے اور بقول چیف جسٹس کے کہ اگر ایک بیوہ قرض ادانہ کرسکے تو اس کا مکان چھین لیا جاتاہے۔ ایک افسوسناک واقعہ کراچی میں یہ ہوچکاہے کہ ایک بینک سے لیے گئے قرض کی قسط وقت پر ادانہ کرنے پر بینک نے اپنے پالتو غنڈوں کو اس شہری کے گھرپر بھیج دیا اور انہوں نے خواتین تک کی ایسی بے عزتی کی کہ مقروض نوجوان نے خودکشی کرلی۔ کیا اس بینک یا دیگر بڑے بڑے بینکوں نے لاکھوں‘ کروڑوں کے قرضے لینے والوں کے گھروں پربھی اپنے غنڈے بھیجے؟ ہرگز نہیں۔ اس کی جرات ہی نہیں ہوسکتی کہ وہ سب بااثر افرادہیں۔اسٹیٹ بینک نے عدالت کے مطالبہ پرگزشتہ 13 برس میں قرضے معاف کرانے والے 19 ہزار 711 افراد کی فہرست جمع کرادی ہے۔ یہ لوگ ملک بھرکے 37 بینکوں سے 196 ارب روپے کے قرضے لے کر کھاگئے۔ سب سے زیادہ قرض حبیب بینک سے معاف کرایا گیا۔ چیف جسٹس نے ان قرض خوروں کو آخری انتباہ کیاہے اور اس عزم کا اظہارکیاہے کہ کسی کو قوم کا پیسہ نہیں کھانے دیاجائے گا۔ جناب افتخارمحمدچوہدری نے کہاہے کہ قرضوں کی واپسی کے لیے ایک موقع ضرور دیں گے اس کے بعد کرمنل کیسز بنائیں گے اور بلا امتیازکارروائی ہوگی۔ عدالت نے 1971ءسے قرضے معاف کرانے والوں کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ قوم کو معلوم تو ہونا چاہیے کہ یہ کون لوگ ہیں جو عوام کو لوٹ کر کھاگئے اور ان میں سے کئی شاید اب بھی ہیروبنے ہوئے ہوں معاملہ اب عدالت عظمیٰ میں ہے۔ یہ تحقیق بھی ہونی چاہیے کہ بینکوں نے کس کی ضمانت پر قرضے فراہم کیے اور کس کے دباﺅ پر معاف کیے۔ بینک ازخود تو قرضہ معاف کرنے سے رہے۔ ممکن ہے کچھ عناصرکی طرف سے اچھل کود بھی ہو تاہم چیف جسٹس نے کہاہے کہ وہ ہرمزاحمت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے بھی کہاہے کہ قرض خوروں کے خلاف ضروری قانون سازی کی جائے ورنہ آئین کی دفعہ 184(3)کے تحت عدالت اپنی ذمہ داریاں انجام دینے پرمجبورہوگی۔ انہوں نے نادہندگان سے وصولی پرحکومتی تساہل پرشدید تنقید بھی کی۔ ہمیں توقع ہے کہ موجودہ حکومت ان بڑے بڑے مگرمچھوں سے قوم کا پیسہ اگلوائے گی اور اس طرح اپنی نیک نامی کاسبب کرے گی اور اس معاملہ میں عدالت سے مزاحم ہونے کا تصورقائم نہیں کرے گی۔ اس ضمن میں کسی بھی پارٹی کا لحاظ نہ کیاجائے اورجوبھی نادہندہ ہو اس سے پیسہ وصول کیاجائے۔ 196 ارب روپے کچھ کم نہیں ہوتے ۔ممکن ہے کہ اس فہرست میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں جنہوں نے مجبوراً اورجائز وجوہات کی بناپر قرضے معاف کرائے ہوں کہ وہ اداکرنے کی پوزیشن ہی میں نہ ہوں تاہم نادہندگان کی موجودہ مالی پوزیشن کو دیکھ کر فیصلہ کیاجاسکتاہے۔ اتنی بڑی رقم واپس مل جائے تو اس سے بہت سے کام نکل سکتے ہیں۔ یہ مجبور وبے کس قوم ہرطرف سے پس رہی ہے۔ ایک طرف تو بڑے بڑے سرمایہ دار اور سیاستدان قوم کا پیسہ کھاگئے دوسری طرف مہنگائی کا عذاب مسلط ہورہاہے۔ آئے دن بجلی‘ گیس‘ ڈیزل ‘پیٹرول کے نرخ بڑھ رہے ہیں اوریہ سارا بوجھ عوام ہی پرپڑرہاہے۔ بینکوں نے جو قرضے معاف کیے ہیں وہ کسی بینکار نے اپنی جیب سے ادانہیں کیے۔ بینک ہوں یا خدمات فراہم کرنے والے سرکاری ادارے‘ عام آدمی پر ایک پیسہ بھی نہیں چھوڑا جاتا ۔یہ امتیاز کب تک ؟ کیا قرضے معاف کرانے والے بھی بینکوں کو لوٹنے والوں سے کم ہیں؟۔لنک

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

نیاسالِ مبارک

Posted on 20/12/2009. Filed under: اسلام, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , |

سالِ گزشتہ ہم نےسیکھا، زندگی مرضی کا نام نہیں
لمحوں کی خوشی، لمحوں کی غمی سراپا زندگی ہوئیں
ہر آمدِ سال پہ، اِک نیا پیغام پیش کیا جاتا ہے
اختتامِ سال پہ، حالات ایک ہی پیغام دیتے ہیں

ہم یومِ سال مناتے ہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی دِن منسوب کر کےگزارتے ہیں؛ عقیدت، جذبات اور احترام سے۔ ہر گزرنے والا دِن یادوں، غموں اور خوشیوں کےنقوش اذہان میں مرتب کر رہا ہے۔ ہم ہر نئے سال کے لیے جدا جدا پیغام ایک دوسرے کے لیے بھیجتے ہیں، نیک تمناؤں کا پیغام۔
ہمارا نیا سال جذبات سے بھرپور ہوتا ہے۔ مگر کبھی سوچا سال کا آغاز اور اختتام کیا ہوتا ہے؟ ہم اپنےعزیز و اقارب کو ایسےمواقع پہ یاد رکھتے ہیں۔ کیا اللہ کے حضور کوئی دعا، کوئی نفل ۔۔۔۔ ادا کرتے ہیں؟ کوئی صدقہ و خیرات غرباء میں اپنی استطاعت کےمطابق تقسیم کرتے ہیں؟ ہاں لوگ ایک کام ضرور کرتے ہیں، Wish!۔ نیت ہی حسن عمل ہے۔ آج کچھ جملے پیش ہوتے ہیں۔ایک ہی بات کئی طرح کےلوگ کہتے ہیں۔ آپکے دِل کے تار ہر مرتبہ مختلف طرح سےحرکت کرتے ہیں۔ شاید ایسی شاذونادر صورتحال کو کیفیت کہتے ہیں۔
ہماری زندگی میں بیک وقت کئی سال محو ِسفر ہیں؛ دنیاوی سال، مذہبی سال، قومی سال، پیدائشی سال۔ یہ انفرادی سال جدا جدا اپنےانداز ِزمانہ میں چل رہے ہیں۔
پیدائشی سال ہر فرد کا اپنے منفرد انداز سے چلتا ہے۔ اُس روز لوگ تعمیر و ترقی کے لیئے دُعائیں دیتے ہیں۔کچھ لوگ اُس روز اللہ کےحضور سر بسجود ہوتے ہیں، اللہ کی راہ میں خیرات تقسیم کرتے ہیں، سائل کو خصوصاً اُس روز خالی ہاتھ جانے نہیں دیا جاتا، قرآن خوانی کا اہتمام ہوتا ہے، غرباء میں کھانا تقسیم کرتے ہیں۔
قومی سال کےموقع پر تمام اقوام قومی سطح پر احتساب کرتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرتی ہیں۔ مقصد؛ یوں قومیں طےکرتی ہیں کہ منزل کی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقی و تعمیر کی شاہراہ پہ آگے کا سفر۔
مذہبی سال کا اختتام بھی قربانی کا درس اور آغاز بھی (حج اور محرم کےمواقع)۔ دونوں قربانیاں عظیم ہستیوں نے اللہ کی راہ میں صبر اور رضائےالٰہی کی خوشنودی کے لیے دیں۔خوف خدا بھی ایک درس ہوا۔
سالِ نو کا تہوار ”روش ہشنہ“ یہودی مناتے ہیں۔ اس تہوار کا آغاز استغفار اور اختتام کفارہ سے کرتے ہیں۔ آغاز سال کے روز خصوصی دعاؤں اور آنے والے سال کے لیے اچھی اُمید میں مٹھائی کھانے کے ذریعہ منایا جاتا ہے۔
دنیاوی (شمسی) سال تمام دُنیا کےلو گ مناتے ہیں۔ نیک دعاؤں کے پیغامات ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں ، بغیر کسی امتیاز کے۔
برصغیر کے بادشاہ بھی ہر نئے سال کےآغاز پہ عوام میں اپنے ذاتی خزانہ سے کچھ مال تقسیم کرتےتھے۔ جہانگیر اپنی خود نوشت تزک جہانگیری میں لکھتا ہے:
”اول میں سونےسے تلا تین من دس سیر چڑھا۔ ہندوستانی حساب سے پھر باقی فلزات (دھاتیں) اور اقسام خوشبویوں اور مکیفات میں بارہ دفعہ تلا اور اسی طرح سال میں دوبار میں اپنا وزن کرتا ہوں کہ ہر بار سونا چاندی اور باقی فلزات اور ریشم اور عمدہ کپڑوں میں اور اقسام غلہ سے وزن کرتا ہوں۔ اول شروع سال شمسی میں دوبارہ قمری میں اور نقدی اور سامان اپنےتلنےکا الگ تحویلداروں کو دیتا ہوں کہ فقراء اور حاجت مندوں کو تقسیم کر دیں۔“
آئیے ہم سب بھی نئےسالوں کا آغاز بانٹنے کےعمل سےکریں۔ محبت، خوشیاں، غموں، تجربات کو بانٹیے۔ اپنی زندگیوں کو منفی و تخریبی سوچ سے بچاتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن رکھیے۔ ہر سال اپنے اعزہ، اقربا و احباب کو نیک خواہشات اور دعاؤں میں یاد رکھیے۔ ایسےخوبصورت عمل جذبات کے ساتھ جاری رہیں۔وقت سے پہلی، سب سے پہلےدُعا کا پیغام دینا یا دیر سے پیغام دینا معنی نہیں رکھتا، ہاں! دُعا اہم ہوتی ہے۔
(فرخ نور)

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

پی پی پی منسٹر عبدالقیوم جتوئی کیٹ کلب سے گرفتار

Posted on 18/12/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , |

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

ڈیرہ بم دھماکہ

Posted on 16/12/2009. Filed under: ڈیرہ نامہ | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , |

جہاں آج پورے ملک میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جا رہا ہے وہی ڈیرہ غازی خان سوگ کا سماں ہے۔ کل برپا ہونے والی قیامت میں ٣٥ افراد شہید اور ٩٥ سے زیادہ زخمی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دو کار سوار جن ایک کی بالشت کالی داڑھی تھی، دونوں نے سفید پگڑیاں پہن رکھی تھیں۔ انہوں نے کھوسہ ہاؤس کے آگے بنی دکانوں کے سامنے روڈ پہ گاڑی کھڑی کی اور ٹھیک دو بج کے پنتالیس منٹ پر دھماکہ ہوا جس سے پورا شہر لرز اُٹھا۔ وقوعہ پر ١٨ فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا، شہداء کے اعضاء دور دور تک بکھر گئے، کھوسہ باؤس کے آگے روڈ پر بنی تمام دکانیں زمین بوس ہو گئیں اور کھوسہ ہاؤس کے قریب کی شیخاں والی بستی صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ دکانوں، بینکوں اور گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ڈی پی او کے مطابق دھماکے میں ایک ہزار کلو مواد استعمال ہوا ہے۔
کھوسہ ہاؤس روڈ ٹریفک چوک کے ساتھ واقع ہے اور یہ شہر کا انتہائی مصروف ترین علاقہ ہے جہاں عام دنوں میں بھی کافی رش رہتا ہے۔ اس واقع کے فوراََ بعد سردار ذوالفقار کھوسہ کا سیاسی بیان آیا کہ یہ انہیں ٹارگٹ کیا گیا جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ان دہشت گردوں کا ٹارگٹ صرف معصوم عوام تھے، اگر انہیں ٹارگٹ کرنے کی کوشش ہوتی تو یقینا وہ گاڑی کوٹھی کے اندر لے جانے کی کوشش کرتے۔
اس دھماکے نے پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ اس دھماکے سے ثابت ہو گیا کہ حکومتی اقدامت صرف بیان بازی تک ہی محدود ہیں۔
کچھ ہی عرصہ قبل راکھی گاج اور بواٹہ سے بارڈر ملٹری پولیس نے بھاری دھماکہ خیز مواد اور ڈیٹونیٹر پکڑا، اسی طرح تریمن چیک پوسٹ پر ٦٠ ہزار کلو دھماکہ خیز مواد پکڑا، یہی سے چند غیر ملکی بھی پکڑے گئے، اسی طرح شادن لنڈ کے علاقے سے بھی بارود سے بھرا ایک ٹرک پکڑا گیا تھا۔ ان حالات میں سیکورٹی ایجنسیوں کو اور سے اور تر اقدامات کرنے چاہیے تھے، اس کے ساتھ ساتھ بارڈر ایریا کی مناسب دیکھ بھال بھی ضروری تھی اور ان سارے اقدمات کی لئے ضروری تھا کہ بارڈر ملٹری پولیس کی نفری میں اضافہ کے ساتھ ان کو جدید اسحلہ سے بھی لیس کیا جاتا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ڈیرہ پولیس کی نفری بھی خاصی کم ہے، ڈیرہ کی حساس صورتحال کے پیش نظر اس کمی کو فورا پورا کیا جانا چاہیے۔ ان سارے اقدامات کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اداروں کو فعال کرنا ازحد ضروری ہے۔ کیونکہ دھماکے والی جگہ ایسے محل وقوع پر واقع ہے جہاں پولیس اور ٹریفک پولیس کی نفری چاروں طرف موجود رہتی ہے، انہوں نے اس بغیر نمبر کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ مالی نقصانات کا ازالہ تو شاید ہو جائے لیکن جانی نقصان کا ازالہ کسی طور ممکن نہیں۔ یہ ساری صورتحال قانون نافظ کرنے والے اداروں کے لئے سوالیہ نشان ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

خود کش حملوں سے اپنی حفاظت کا آسان طریقہ

Posted on 09/12/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , |

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!

Posted on 07/12/2009. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , |

آج صبح اپنی بیٹی سارہ کو سکول چھوڑنے جا رہا تھا تو راستے میں لگے ایک بینر پر نظر پر گئی۔ جس پر لکھا تھا۔
‘‘ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، زرداری کی شکل میں زندہ ہے‘‘
اسے پڑھنے کے بعد مجھے تو ایسا لگا جیسے خود پیپلز پارٹی والے بھٹو کو گالی دے رہے ہوں۔
کہاں اسلامی سربراہی کانفرنس اور کہاں سرئے محل
کہاں شملہ معاہدہ اور کہاں کیری لوگر بل
کہاں بھٹو کے کارنامے اور کہاں آج کل کی کرپشن کہانیاں
ہو سکتا ہے میں غلط ہوں، ویسے آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

کرپشن کرنا ہمارا حق ہے … پی پی پی منسٹر

Posted on 05/12/2009. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , , |

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

دعائے مغفرت

Posted on 02/12/2009. Filed under: بلاگ اور بلاگرز | ٹيگز:, , , , |

میرے والد بزرگوار اس دنیاِ فانی سے رخصت فرما گئے ہیں۔ اللہ تعالٰی بابا جان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین
آپ سب احباب سے مغفرت کی دعا کے لئے درخواست ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 14 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...