اسلام

شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ

Posted on 27/12/2009. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

امام حسن اور امام حسین دو بھائی تھے۔ حسن بڑے تھے اور حسین چھوٹے تھے۔ یہ دونوں شہزادے جب فرش زمین پر چلتے اور مدنیہ طیبہ کی گلیوں میں گھومتے تھے، جب مکہ معظمہ میں پھرتے تھے، کبھی احرام پہنے ہوئے، کبھی حلہ یمانی پہنے ہوئے تو ان کا ملاح دور سے دیکھ کر یہ کہتا تھا ‘‘معلوم ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے ہیں۔
ان کا پورا وجود نورانی تھا اور کیوں نہ ہو کہ

تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا

یہ شہزادے جب مدنیے کی گلیوں سے گزرتے تھے تو درودیوار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو آتی تھی اور کتنی عجیب بات ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “کیا زمین پر جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتے ہو؟“ صحابہ نے عرض کی! “بیشک“ تو ارشاد فرمایا “ جس کو جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنے کی تمنا ہو وہ حسن اور حسین کو دیکھ لے“ چنانچہ فرمایا “الحسن و الحسین سید شباب اھل الجنۃ“ (ترمذی شریف)
یہ دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ گلشن مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے مہکتے ہوئے پھول ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلشن کے اس مہکتے پھول (حسین) کو بڑی بے دردی سے امت کے ان منافقین، بدبخت اور بدنصیب لوگوں نے کربلا کے میدان مسل دیا۔
کربلا کا واقعہ کیا ہے؟
امام حسین مظلوم تھےاور یزید پلید تھا، بد نصیب اور بدبخت اور شقی القلب تھا، زمین پر چلتا پھرتا شیطان تھا، بدی کی قوتوں کی علامت تھا جو نیکی کی قوتوں سے ٹکرا رہا تھا۔ امام حسین نیکی کی قوتوں کی علمبردار تھے اور رحمانی قوتوں کی نمائندگی فرما رہے تھے۔ یہ رحمانی اور باطنی قوتوں کا مقابلہ تھا۔ حق و باطل کا معرکہ تھا۔ ظالم و مظلوم کا مقابلہ تھا اور اس مقابلہ میں دنیا نے دیکھا کہ مظلوم نے ظالم سے مقابلہ کیا، ظالم ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا اور مظلوم آج بھی مقبول ہے کہ زمین کے ذرے ذرے پہ اس کا ذکر ہو رہا ہے۔
امام عالی مقام، امام حسین رضی اللہ عنہ شہید کربلا، دافع کرب و بلا نیکی کی قوتوں کے ترجمان تھے اور شیطانی قوتوں کے مقابل صف آراء تھے۔ انہوں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ یزید کی عظیم الشان سلطنت کے سامنے جھکے بھی نہیں اور بکے بھی نہیں۔
ہم لوگ گرمی سے تڑپتے ہیں، پیاس لگتی ہے تو فریج کا ٹھنڈا پانی پیتے ہیں اور ہم میں سے بہت سے لوگ اکثر قرآن مجید پڑھتے ہیں، تلاوت کرتے ہوئے، وظلائف پڑھتے ہوئے زبان خشک ہونے لگتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ پانی پی لوں تو رک کر ٹھنڈا پانی پی لیتے ہیں اور پھر تلاوت شروع کرتے ہیں۔ لیکن یہ منظر کہیں نظر نہیں آتا کہ ایک شخص تلاوت قرآن کر رہا ہے تیروں کی بارش ہو رہی ہے خون بہہ رہا ہے۔ یہ منظر صرف کربلا والوں ںے دیکھا ہے۔ یہ نظارہ چشم فلک نے صرف کربلا میں دیکھا کہ ایک شخص زخموں سے چور ہے، خون بہہ رہا ہے، تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے اور آ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا سجدہ بھی آپ نے کہیں نہ دیکھا ہو گا تیروں کی برسات ہو رہی ہے، خون بہہ رہا ہے لیکن امام عالی مقام کی جبین اپنے رب کے حضور جھکی ہوئی ہے۔ یہ وہ سجدہ تھا جس کی نظیر صرف نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر آتی ہے۔
آج ہم حج کرنے جاتے ہیں، آمدنی کیسی ہے، کہاں سے آئی، کس طرح آئی، سرکاری حج ہے یا غیر سرکاری حج، سود کے پیسے ہیں یا رشوت کے، نشے کی کمائی ہے یا اسمگلنگ کی؟ یہ علحیدہ بات ہے لیکن بڑے آرام سے ہوائی جہاز سے جاتے ہیں، ائرکنڈیشنڈ کاروں میں سفر ہوتا ہے، ہوٹل میں قیام ہوتا ہے یا اپنے کسی جاننے والے کے پاس یعنی کتنے آرام اور پرمسرت طریقے سے حج ہوتا ہے۔ لیکن چشم فلک نے ایسا نظارہ کبھی نہیں دیکھا ہو گا کہ وہ جو صبح شام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں کھیلتے تھے۔ جن کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے سجدے سے سر نہیں اٹھایا اور خلاف توقع سجدہ طویل ہو گیا۔ ناز و نعم میں پلے ہوئے حسین جب حج کرنے جاتے تو سواری ہوتی مگر استعمال نہیں فرماتے تھے۔ ایک دو نہیں، پوری زندگی میں امام حسین نے ٢٥ حج پیدل کئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “ نیرے اہل بیت سفینہ نوح کی طرح ہیں“ جس نے اہل بیت کے دامن کو تھام لیا اس نے دامن مصطٰفٰے کو تھام لیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا حقدار ہو گیا۔ اس لئے کہ جنت کی کنجی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہے۔ کیونکہ میرے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ “جنت کی چابیاں میرے دست اقدس میں ہیں“
جنت کی کنجیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست کرم میں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کی نعمتوں کو لیتے ہیں اور اپنی امت میں تقسیم کرتے ہیں تو امت کو قیامت تک جو نعمت ملتی رہے گی وہ درِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے گی اور ظاہر ہے امام حسن و حسین خون رسول ہیں اس خون کی اللہ تعالٰی کے یہاں کیا قدروقیمت ہو گی اگر امت قدر نہ کرے تو یہ امت پر بات ہو گی۔

اتر جو امۃ قتلت حسینا
شفاعۃ جدہ یوم الحساب

یعنی امت کے وہ لوگ شفاعت کے حقدار کیونکر ہوں گے جنہوں نے امام حسین کو شہید کیا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

نیاسالِ مبارک

Posted on 20/12/2009. Filed under: اسلام, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , |

سالِ گزشتہ ہم نےسیکھا، زندگی مرضی کا نام نہیں
لمحوں کی خوشی، لمحوں کی غمی سراپا زندگی ہوئیں
ہر آمدِ سال پہ، اِک نیا پیغام پیش کیا جاتا ہے
اختتامِ سال پہ، حالات ایک ہی پیغام دیتے ہیں

ہم یومِ سال مناتے ہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی دِن منسوب کر کےگزارتے ہیں؛ عقیدت، جذبات اور احترام سے۔ ہر گزرنے والا دِن یادوں، غموں اور خوشیوں کےنقوش اذہان میں مرتب کر رہا ہے۔ ہم ہر نئے سال کے لیے جدا جدا پیغام ایک دوسرے کے لیے بھیجتے ہیں، نیک تمناؤں کا پیغام۔
ہمارا نیا سال جذبات سے بھرپور ہوتا ہے۔ مگر کبھی سوچا سال کا آغاز اور اختتام کیا ہوتا ہے؟ ہم اپنےعزیز و اقارب کو ایسےمواقع پہ یاد رکھتے ہیں۔ کیا اللہ کے حضور کوئی دعا، کوئی نفل ۔۔۔۔ ادا کرتے ہیں؟ کوئی صدقہ و خیرات غرباء میں اپنی استطاعت کےمطابق تقسیم کرتے ہیں؟ ہاں لوگ ایک کام ضرور کرتے ہیں، Wish!۔ نیت ہی حسن عمل ہے۔ آج کچھ جملے پیش ہوتے ہیں۔ایک ہی بات کئی طرح کےلوگ کہتے ہیں۔ آپکے دِل کے تار ہر مرتبہ مختلف طرح سےحرکت کرتے ہیں۔ شاید ایسی شاذونادر صورتحال کو کیفیت کہتے ہیں۔
ہماری زندگی میں بیک وقت کئی سال محو ِسفر ہیں؛ دنیاوی سال، مذہبی سال، قومی سال، پیدائشی سال۔ یہ انفرادی سال جدا جدا اپنےانداز ِزمانہ میں چل رہے ہیں۔
پیدائشی سال ہر فرد کا اپنے منفرد انداز سے چلتا ہے۔ اُس روز لوگ تعمیر و ترقی کے لیئے دُعائیں دیتے ہیں۔کچھ لوگ اُس روز اللہ کےحضور سر بسجود ہوتے ہیں، اللہ کی راہ میں خیرات تقسیم کرتے ہیں، سائل کو خصوصاً اُس روز خالی ہاتھ جانے نہیں دیا جاتا، قرآن خوانی کا اہتمام ہوتا ہے، غرباء میں کھانا تقسیم کرتے ہیں۔
قومی سال کےموقع پر تمام اقوام قومی سطح پر احتساب کرتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرتی ہیں۔ مقصد؛ یوں قومیں طےکرتی ہیں کہ منزل کی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقی و تعمیر کی شاہراہ پہ آگے کا سفر۔
مذہبی سال کا اختتام بھی قربانی کا درس اور آغاز بھی (حج اور محرم کےمواقع)۔ دونوں قربانیاں عظیم ہستیوں نے اللہ کی راہ میں صبر اور رضائےالٰہی کی خوشنودی کے لیے دیں۔خوف خدا بھی ایک درس ہوا۔
سالِ نو کا تہوار ”روش ہشنہ“ یہودی مناتے ہیں۔ اس تہوار کا آغاز استغفار اور اختتام کفارہ سے کرتے ہیں۔ آغاز سال کے روز خصوصی دعاؤں اور آنے والے سال کے لیے اچھی اُمید میں مٹھائی کھانے کے ذریعہ منایا جاتا ہے۔
دنیاوی (شمسی) سال تمام دُنیا کےلو گ مناتے ہیں۔ نیک دعاؤں کے پیغامات ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں ، بغیر کسی امتیاز کے۔
برصغیر کے بادشاہ بھی ہر نئے سال کےآغاز پہ عوام میں اپنے ذاتی خزانہ سے کچھ مال تقسیم کرتےتھے۔ جہانگیر اپنی خود نوشت تزک جہانگیری میں لکھتا ہے:
”اول میں سونےسے تلا تین من دس سیر چڑھا۔ ہندوستانی حساب سے پھر باقی فلزات (دھاتیں) اور اقسام خوشبویوں اور مکیفات میں بارہ دفعہ تلا اور اسی طرح سال میں دوبار میں اپنا وزن کرتا ہوں کہ ہر بار سونا چاندی اور باقی فلزات اور ریشم اور عمدہ کپڑوں میں اور اقسام غلہ سے وزن کرتا ہوں۔ اول شروع سال شمسی میں دوبارہ قمری میں اور نقدی اور سامان اپنےتلنےکا الگ تحویلداروں کو دیتا ہوں کہ فقراء اور حاجت مندوں کو تقسیم کر دیں۔“
آئیے ہم سب بھی نئےسالوں کا آغاز بانٹنے کےعمل سےکریں۔ محبت، خوشیاں، غموں، تجربات کو بانٹیے۔ اپنی زندگیوں کو منفی و تخریبی سوچ سے بچاتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن رکھیے۔ ہر سال اپنے اعزہ، اقربا و احباب کو نیک خواہشات اور دعاؤں میں یاد رکھیے۔ ایسےخوبصورت عمل جذبات کے ساتھ جاری رہیں۔وقت سے پہلی، سب سے پہلےدُعا کا پیغام دینا یا دیر سے پیغام دینا معنی نہیں رکھتا، ہاں! دُعا اہم ہوتی ہے۔
(فرخ نور)

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

رمضان مبارک

Posted on 22/08/2009. Filed under: پاکستان, اسلام, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , |

رمضان ایس ایم ایس

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ہر نظارہ ۔ سبحان اللہ

Posted on 06/06/2009. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , , , , |






Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھادی جائے

Posted on 11/04/2009. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , |

اپنی زندگی پہ غور کریں
نماز جو ہم پہ فرض کر دی گئی

فجر بسترمیں
ظہر نوکری میں
عصر چائے میں
مغرب راستے میں
عشاء ٹی وی میں
جمعہ سونے میں
عید بازاروں میں

نہ درود نہ قرآن
یہ کیسا ہے مسلمان
پھر کہتے ہو کیوں نہیں ہے
اللہ ہم پر مہربان

تو نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھادی جائے






























Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

سرکار کی آمد مرحبا

Posted on 10/03/2009. Filed under: اسلام, رسم و رواج, عالم اسلام | ٹيگز:, |

عالم اسلام کو جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ہو۔

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایس ایم ایس

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

اندرونِ خانہ کعبہ

Posted on 21/02/2009. Filed under: وڈیو زون, اسلام | ٹيگز:, |

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

میرا پاکستان ڈوب رہا ہے

Posted on 16/02/2009. Filed under: پاکستان, اسلام | ٹيگز:, , , , |

اللہ تعالٰی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے
‘تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو، اے مومنو! تاکہ تم فلاح پا جاؤ’ (سورہ النور من آیت ٣١)
ہم جانتے ہیں کہ پاکستان ہم نے اللہ کے نام پر لیا تھا اور اللہ نے ٢٧ رمضان کو یہ تحفہ ہمیں عطا فرمایا۔
پھر ہم نے کیا کیا؟؟؟؟؟؟؟
اللہ سے اس ملک کو بچانے کی دعا تو بعد میں کریں گے پہلے اپنے گناہوں کا اعتراف تو کر لیں۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ رشوت لینا اور دینا لعنت زدہ فعل ہے، اپنے لئے ناجائز سفارش کروانا اپنے بھائی کا حق مارنا ہے۔ ہم نے پاکستان کو ان برائیوں سے داغدار کیا۔
اللہ نے فرمایا سود برباد کر دیتا ہے، ہم نے کہا سود کے بغیر آج کام کون سا ہوتا ہے۔
اللہ نے بتایا کہ ناجائز زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا بھی روز قیامت گلے میں آگ کا طوق ہو گا، ہم نے ناجائز زمین اپنے نام لگوانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔
اللہ نے فرمایا حرام کمائی بےبرکت ہے، عذاب ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘جو گوشت حرام سے پیدا ہوا اسے آگ ہی جلائے گی’ تو ہم نے حرام کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔
اللہ نے فرمایا مال اور اولاد فتنہ و آزمائش ہیں ہم نے مال کو دین اور اولاد کو ایمان بنا لیا۔
جب ہمیں پتا چلا کہ بے حیائی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ باتوں میں سے ہے تو ہم نے
Cable, Vulgar e-mails, non-sense SMS, Movies, Video Songs … ets
کو زندگی کا حصہ بنا لیا۔
ہمیں معلوم ہوا کہ وقت کی قدر کرو، اس کو ضائع نہ کرو، ہم نے گھنٹوں موبائل پر وقت برباد کرنا فرض سمجھ لیا۔
جب عورت کو حکم ہوا کہ تمھارے پاؤں کی جھانجر کی آواز بھی پردہ ہے تو عورت نے فیشن اور its to move in society کے نام پر ہر حد پار کر دی۔
اللہ نے تمام مسلمانوں کو آپس میں بھائی بہن بنایا تو ہم نے اس رشتے کو دوستی میں بدل دیا۔
رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ام المنومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کو اند بھیج دیا کہ نابینا صحابی پر بھی نظر نہ پڑے، وہ پاکیزہ نگاہ کہ جس کی معصومیت کی گواہی فرشتے بھی دیں اور ایک طرف صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن کے مرتبے کو ہم جان ہی نہیں سکتے، یہ صرف امت کو بتانے کے لئے کہ اندازہ کر لو، مرد اور عورت میں فاصلہ اور پردہ کس حد تک ضروری ہے! تو ہم نے کہا لڑکے لڑکیوں کی دوستی تو بہت پاکیزہ ہے، تھوڑا اور حد سے گزرے اور اس بیہودگی کو تہوار کی شکل دے دی اور Valentine Day منانا شروع کر دیا۔
اللہ نے دوستی کے لئے مرد کو مرد اور عورت کو عورت کے لئے منتخب کیا تو ہم نے دوستی تو بنی ہی لڑکی لڑکے کے لئے ہے۔
اللہ نے نامحرم پر ایک نظر اٹھانے سے بھی منع فرمایا تو ہم نے کہا کہ ہماری یہ دوستیاں، phone calls اور ملاقاتیں تو بے ضرر ہیں۔
اللہ نے موسیقی اور آلات موسیقی کو حرام کہا تو ہم نے اسے Music, Songs, FM radio کی شکل میں روح کی غذا بنا لیا۔
دل کا سکون قرآن پاک میں رکھا گیا تو ہم نے حرام موسیقی میں ڈھونڈنے کی کوشش شروع کر دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘نماز کے لئے نہ نکلنے والوں کے گھروں کو آگ لگا دینے کو دل کرتا ہے تو ہم نے سرے سے نماز پڑھنے کے تصور کو ہی ذہن سے رخصت کر دیا، یہاں کوئی جمعے والا مسلمان ہے تو کوئی عید والا اور کسی کو یہ توفیق بھی نہیں ہوتی۔
اللہ نے فرمایا کہ دنیا کے کھیل تماشوں میں پڑ کر کہیں وقت برباد نہ کر دینا تو ہم نے entertainment کے نام پر Restuarants, Clubs, Shopping, Dresses, Jewelry, Shoes کو ہی زندگی مان لیا۔
شیطان نے کہا کہ میں اولاد آدم کو گمراہ کروں گا تو ہم نے کہا لبیک، ہم تمھارے ساتھ ہیں۔
اللہ نے سورہ الاحزاب میں فرمایا کہ ‘اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کا فیصلہ (یا حکم) فرما دیں تو ان کے لئے (مومنوں کے لئے) اپنے کام میں (کرنے یا نہ کرنے کا) کوئی اختیار ہو اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے تو یقیناََ کھلی گمراہی میں بھٹک گیا’۔
ہم نے سب کام، سب احکام اپنے ہاتھ میں لے لئے۔
میرے مالک! کس کس گناہ کی معافی مانگوں
میرا پاکستان ڈوب رہا ہے۔
میرے لوگ بے آسرا ہیں۔
میرے بہن بھائی تکلیف میں ہیں۔
دکھ مرنے کا نہیں، موت تو برحق ہے، دکھ عذاب میں گھِر کر مرنے کا ہے۔
یا اللہ!
جو جان تیری راہ میں تیرے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے نکلنی تھی وہ گناہوں کے سبب تیرے عذاب کا شکار ہو کر نکلے تو ہم مسلمان رہ گئے یا منافق ہو گئے۔
پھر بھی میرے اللہ! تو معاف فرما دے۔
میرے مالک! ہم اپنے گناہوں سے توبہ کر لیتے ہیں تو ہمیں توفیق بخش۔
اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں ہمیں معاف فرما دے۔
اس سیلاب کو آخری آزمائش بنا کر گزار دے
کہیں یہ طوفان نوح بن کر ہم کو غرق نہ کر دے
کہیں عاد و ثمود کی طرح ایسا نہ ہو کہ ایک پل کی مہلت بھی نہ ملے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہم اجتماعی پر عذاب نہیں آئے گا کہ یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے اپنی امت کے لئے۔
میرے مالک! ہمیں انفرادی عذاب سے بچا۔
اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ (سورہ البقرہ ٢٠١)

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

کربلا ۔ پس منظر

Posted on 08/01/2009. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , |

تاریخ میں دین کے نام پر بہت سی لڑائیاں لڑی گئی ہیں، ان سب کا تعلق ایک یا دوسرے طریق عبادت یا نظریہ الوہیت کے اختلاف سے ہوتا تھا۔ اپنے اپنے آباء کے دین کا فروغ یا دفاع اور اپنی اپنی سرزمین پر قبضہ ہی ان کا محرک ہوتا تھا۔ پھر ان میں اکثر اچانک یا وقت کے ایک پیمانے کے اندر چھڑتیں، لڑی جاتیں اور ختم ہو جاتیں، ان میں کوئی لڑائی ایسی لڑائی نہیں جو تمام انسانیت کے لئے کسی بنیادی، اخلاقی، تہذیبی اور معاشرتی قدر کے کے دفاع میں لری گئی ہو۔ ان میں کوئی معرکہ ایسا نہیں جس کے دوران ایک فریق نے جنگ سے پہلے اپنے دشمن کو اس مقصد پر وعظ و تقریر سے نوازا ہو، جس مقصد کے دفاع اور بقاء کے لئے خطیبِ فوج میدان میں اتری ہو۔ ان جوع الارض کے نام خونریز معرکوں میں کوئی ایسا نہیں جس کا پہلا وار کئی صدیاں پہلے، فائنل راؤنڈ کے جرنیل کے آباؤ اجداد نے، ایک شک و شبہ سے بالا اور ایک معتبر آسمانی صحیفے میں درج، اعلٰی تہذیبی اور عمرانی مقصد کے لئے کیا ہو اور پھر اسی نسل کے فرزند جری نے ہزاروں صدیاں بعد معرکے کی تکمیل کی ہو، ۔۔۔ اور ہاں ۔۔ کربلا وہ تنہا معرکہ ہے کہ جس میں رن میں کام آنے والے سپہ سالار اور سپاہی زندہ جاوید ہو گئے ہوں اور فاتح آمروں اور بادشاہوں کی عبرتناک شکست کی یاد دہانی کرہ ارض کے ہر کونے میں ہر سال، ایام مقرہ پر، سرعام، ابن آدم کو یاد دلائی جائے۔ ہاں! ایسا لافانی اور درحقیقت قرآنی معرکہ کربلا ہے، صرف کربلا ۔۔۔۔ ہر آمر کے لئے موت کا پیغام۔
اقبال نے کربلا کے فاتح سپہ سالار، جناب امام حسین رضی اللہ عنہ کے حضور یہ تاریخی ہدیہ پیش کیا۔

تاقیامت قطع استبداد کرد
موج خون اوچمن ایجاد کرد

یعنی، امام عالی مقام نے اپنے خون سے ایسا چمن ایجاد کیا جس میں قیامت تک آمریت کو کاٹ کے پھینک دیا گیا۔
معرکہ کربلا کب شروع ہوا اور کب تکمیل کو پہنچا؟ آج کا طالب علم جس کی تعلیم آستانہ فرہنگ پہ ہوئی یا جس نے اس معرکہ سے سرسری تعارف ایام عاشورہ کے دوران وعظ و تقریر سے حاصل کیا، اس کا جواب یہ ہو گا کہ کربلا کی لڑائی کا زمانہ یکم محرم الحرام سے  دس محرم الحرام ہے۔ یقیناََ امام حسین اور یزید کی فوج میں ظاہری ٹکر انہی دنوں میں ہوئی۔ لیکن اس مجادلہ عظیم کی ابتداء اصل میں ٢٢٦٠ قبل مسیح میں کوہ خاران کی وادی میں ہوئی، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے فرزند اور نبی حضرت اسماعیل علیہ السلام سے مل کر کعبہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے یہ دعا مانگی۔

‘اے میرے رب، میری اولاد سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو، جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے، کتاب اور دانائی سکھائے، ان کے دلوں کو پاک صاف کرے، بیشک تو غالب اور حکمت والا ہے‘۔ سورہ البقرہ

اس عظیم موقع پر جناب ابراہیم علیہ السلام، الوالانبیاء کو خواب میں یہ حکم ملا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں ذبح کر کے، اللہ کی درگاہ میں قربانی پیش کریں۔ قرآن نے یہ قصہ یوں بیان کیا ہے۔

‘لڑکا حضرت اسماعیل، جب اس عمر کو پہنچا کہ باپ کے ساتھ دوڑ سکے تو باپ نے کہا، فرزند من! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، دیکھو اس میں تمھارا کیا خیال ہے، بیٹے نے کہا کہ اے میرے باپ جو حکم ملا ہے اسے کر گزریئے، آپ مجھے انشاءاللہ صابر پائیں گے‘۔ سورہ الصافات

اللہ نے اپنے نبی کی آزمائش کر لی، ان کی قربانی کے عزم کو پسند فرمایا، لیکن چونکہ حضرت اسماعیل کی نسل کو جاری رکھنا اور اس نسل میں خاتم النبین جناب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور دینِ ابراہیم کی تکمیل منشائے ایزدی میں صبح ازل سے طے پا چکی تھی اس لئے جب جناب ابراہیم علیہ السلام، جناب اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری پھیرنے لگے تھے اور آپ نے احتیاطاََ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی تو اللہ نے اس چھری کے آگے حضرت اسماعیل کی جگہ جنت کا ایک دنبہ لٹا دیا، وہ ذبح ہو گیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بچا لیا گیا۔ ہر مسلمان جانتا ہے کہ اس تمام واقعہ کے دوران ابلیس نے اس قربانی کو روکنا چاہا، اللہ نے اپنے کلام میں ابن آدم کو اور خصوصاََ ملت ابراہیمی اور پیروان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قربانی کا فلسفہ مزید تشریح کے ساتھ بیان کیا ہے فرمایا ‘ہم نے اس قربانی کو آنے والی نسلوں میں ایک بڑی قربانی کے عوض ملتوی کر دیا‘۔ قرآن کی زبان یہ ہے ‘فدینہ بذبح عظیم‘ لوگوں نے یہی سمجھا اور قرآن کے سطحی علماء نے اس کا یہی مطلب کیا کہ چونکہ عیدالضحٰی پر رسالت مآب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سنت نبوی کی صورت میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس قربانی کے بدلے جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ قرآن نے اس مسنون ذبح الحیوان کو ہی ذبح عظیم کہا، لیکن سلسلہ یوں نہیں، قرآن کے عالم اور فکر فی القرآن کے ماہر، قرب مصطفٰی کے مسلم فیضیاب ڈاکٹر محمد اقبال کے یہ شعر سنیئے
١۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سپہ سالار کربلا امام عالی مقام حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا۔

الہہ الہہ بائے بسم اللہ پدر
معنی ذبح عظیم آمد پسر

سبحان اللہ، باپ کو قرآن کے تمام معنی بسم اللہ کی ‘ب‘ میں سمٹے نظر آئے۔ (قول علی)
٢۔ حضرت اسماعیل کی ملتوی شدہ قربانی، میدان کربلا میں شہادت حسین پر پوری ہوئی۔ اقبال کا شعر

غریب و سادہ و رنگین ہے داستاں حرم
نہایت اس کی حسین، ابتدا ہے اسماعیل

یہ ہے معرکہ کربلا کا ابدی، ازلی اور روحانی پس منظر، یہ ایک جنگ ہے حرم اور ابلیس کے درمیان یہ معرکہ ٢٢٦٠ ق م میں شروع ہوا۔ اس کی ابدیت کے خطوط رقم کرنے کے لئے، نینوا کے صحرا میں حسین ابن علی نے حرم اور ابلیس، ابراہیم اور نمرود کی پہلی جھڑپ کے قریباََ سات سو سال ٦٨٠ بعد مسیح آخری اور محکم صف آرائی کی۔ بظاہر نینوا کا معرکہ اولاد ابراہیم نے نینوا کے مقام پر جیتا اور نمرود وقت کو شکست دی، عظیم جنگوں میں کئی معرکے ہوتے ہیں، معرکہ نینوا میں نمرود یزید ہارا لیکن جنگ کربلا ابھی جاری ہے فلسطین میں، کشمیر میں، عراق میں، افغانستان میں اور اصلاََ تمام آمریت تلے سسکتی، اسلامی سرزمینوں میں۔ اقبال نے دور حاضر میں جاری اس ابدی جنگ کے روز و شب برپا معرکے کے متعلق ہمیں خبر دیتے ہوئے یہ کہا۔

آگ ہے، اولاد ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عید مبارک

Posted on 09/12/2008. Filed under: پاکستان, اسلام, رسم و رواج | ٹيگز:, |

ہماری طرف سے تمام عالم اسلام کو دلی عید مبارک ہو۔ ہماری دعا ہے کہ یہ عید آپ سب کے لئے خوشیوں اور کامرانیوں کا پیغام لائے اور اللہ تعالٰی آپ کو ہر مصیبت اور دکھ سے محفوظ رکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین

Read Full Post | Make a Comment ( 7 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...