اقتباسات

در دِل کشا

Posted on 22/09/2008. Filed under: اقتباسات |

شاید زندگی اور موت کو صرف روشنی اور تاریکی سے تعبیر نہیں کر سکتے۔ بجائے خود زندگی نور اور ظلمت کی ٹکڑیوں کا مرقع ہے۔ دُنیوی رشتوں سے بالا محبت کے رشتے میں منسلک دو دلوں کا دھڑکنا زندگی ہے۔ دوستوں اور عزیزوں کی نیش زنی موت کے مترادف ہے یہ متوازی خطوط مرتکز ہوتے ہیں زندگی پر ۔۔۔۔!
یوں بھی مرنے سے پہلے انسان متعدد بار مرتا ہے۔ کبھی چرکا لگ گیا، کبھی زخم کاری، پھر ایسے محرکات بھی ہیں  ______ حق و باطل کی جنگ، زیر دستوں کی حمایت جو نیم جان انسان کو زندگی کی شاہراہ پر لا کھڑا کرتے ہیں۔ انصاف سے انحراف، حق کی بات کہنے سے پہلو تہی یا ضمیر کا سودا  ________ موت نہیں تو کیا ہے؟
وہ موت جو جسم کی تحلیل سے بہت پہلے واقع ہو جاتی ہے۔
بہت سے لوگ سالہا سال اپنی زندہ لاش اٹھائے پھرتے ہیں۔

منظور الہی ۔۔۔ در دِل کشا

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

درِ دل کشا

Posted on 11/06/2008. Filed under: اقتباسات |

وقت اور حادثات ہماری شخصیت پر تعمیری اور تخریبی تجربے کرتے رہتے ہیں۔ ہر لحظہ ہم کچھ کھوتے، کچھ پاتے ہیں لیکن کیا جبلی طور پر ہم بدل بھی جاتے ہیں؟
شاید یہ کہا جا سکے کہ ایک اہم حادثہ ہو جانے کے بعد ہم وہ نہیں رہتے جو پہلے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت گزر جاتا ہے یا ہم خود گزر جاتے ہیں؟

اگر تم آئیڈیل کی تلاش میں ہو تو اسے اپنی ہونے والی بیوی میں نہ ڈھونڈنا۔ اگر پا بھی لو گے تو کچھ عرصہ بعد سوچو گے کہ دھاکا ہوا حالانکہ اس میں وہ سب خوبیاں موجود تھیں جو تم نے چاہی تھیں۔

 دوسروں کی تکریم وہی کرتا ہے جسے اپنی عزتِ نفس کا پاس ہو، جس شخص کی نظر میں اپنی ذات لائق احترام نہیں وہ دوسروں کو ذلیل کرنے میں پیش پیش ہو گا۔

منظور الہی، درِ دل کشا

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

کچھ ٹکٹ، کچھ امیدوار

Posted on 12/12/2007. Filed under: اقتباسات, طنز و مزاح |

جن لوگوں کو ان انتخابات میں کسی نہ کسی پارٹی کا ٹکٹ مل گیا ہے وہ اہلے گہلے شادماں پھر رہے ہیں حالانکہ ٹکٹ ملنا اور بات ہے سیٹ ملنا اور۔ آپ سینما کا ٹکٹ لیں سینما میں سیٹ یقینی ہے، ڈاک کا ٹکٹ لیں اور لفافے پر چسپاں کریں تو وہ منزل پر پہنچے نہ پہنچے لیکن بیرنگ ہر گز نہیں ہوگا، بس کا ٹکٹ لیں تو بس میں جگہ مل جاتی ہے بلکہ بعض اوقات تو جگہ مل جاتی ہے پیسے بھی دے دیئے جاتے ہیں لیکن ٹکٹ کی ضرورت نہیں پڑتی، ریلوے میں بھی ٹکٹ ملنے کے بعد سیٹ ملنا بڑی حد تک یقینی ہو جاتا ہے، اگر کوئی اہلکار نذرانہ لے کر آپ کی سیٹ پر کسی اور کو نہ بٹھا دے، چڑیا گھر کا ٹکٹ لینے کے بعد بھی یقین جانیئے کہ آپ جانوروں کو اور جانور آپ کو جی بھر کر دیکھ سکیں گے لیکن الیکشن میں کسی پارٹی کا ٹکٹ؟ یہ صورت الگ ہے۔ یہی وجہ تھی کہ گزشتہ الیکشنوں میں ہمارے ہم محلہ میر دلدار علی سابق ریلوے گارڈ کو کسی پارٹی کا ٹکٹ نہ ملا دائیں بائیں آگے پیچھے اوپر نیچے کی ساری جماعتوں کی منتیں کر دیکھیں تو ریلوے ٹکٹ پر ہی کھڑے ہو گئے اور ٹکٹ بھی ریڑن لیا کہ اسمبلی میں نہ جا سکیں تو لوٹ کر اپنے گھر کو تو آسکیں ۔
میر صاحب نے اعلان کیا کہ میں تحریک پاکستان کے مخلص کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کروں گا ان کے تجربے کے پیش نظر یہ وعدہ کچھ غلط نہ تھا لیکن قوم ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہونے کو راضی نہ تھی کہ بھیڑ بھڑ کا بہت ہو جاتا ہے پس جب انتخابات کا نتیجہ برآمد ہوا تو ہمارے میر صاحب کے باب میں۔ گاڑی نکل چکی تھی، پٹڑی چمک رہی تھی شکست و فتح تو خیر نصیبوں سے ہے لیکن میر صاحب کی مہم خوب چھکا چھک چلی، دھواں دھار تقریریں کرتے تھے اور ایسا فراٹا بھرتے تھے کہ بڑے بڑے جنکشنوں پر بھی نہ رکتے تھے۔ بس ایک آدھ جگہ ٹھہرتے تھے وہ بھی پانی لینے کے لئے یعنی پانی پینے کے لئے ان کی تقریر کا پیرا یہ کچھ یوں ہوتا تھا۔
”صاحبان! یہ دنیا مسافر خانہ ہے ہم سب یہاں پسنجر کے موافق ہیں۔ نفرت اور عناد کو ہمیشہ لال جھنڈی دکھانی چاہئے اور محبت اور اخوت کا سگنل ڈاؤن رکھنا چاہئے اس وقت ہمارا معاشرہ پٹڑی سے اترا ہوا ہے فرسٹ اور سیکنڈ کلاس تو عیش کی سیٹیاں بجاتے ہیں اور تھرڈ کلاس لوگ جوتیاں چٹخاتے ہیں“
ایسا بھی ہوتا کہ حاضرین میں سے کوئی نعرہ لگاتا ”اسلام خطرے میں ہے“ میر صاحب ترنت ڈانٹ دیتے ”اسلام خطرے میں نہیں ہے بار بار خطرے کی زنجیر مت کھنچو، جرمانہ دینا پڑے گا“۔ ریلوے کی ٹکٹ پر بھی کبھی کبھی رش ہو جاتا ہے بس ہمارے کرم فرما خان بنارس خان نے لانڈھی سے اور منی بس کے ٹکٹ پر کھڑا ہونا بہتر سمجھا۔ انہوں نے الیکشن کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کو اشارہ کیا۔ ”جانے دو بس“ اپنی تقریر کا آغاز وہ ہمیشہ کسی حسب حال شعر سے کرتے۔

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

ان کا نعرہ تھا ” ہارن دے کر پاس کریں“ اور تقریر کچھ یوں ہوتی تھی ”بائیو! اوپر آجاؤ، پائیدان پر مت کھڑے ہو۔ جیب پاکٹ سے ہوشیار آج کل ووٹ کترے بہت ہو گئے ہیں ہاں تو بائیو! تم ام کو سیٹ پر بٹھاؤ ام تم کو سیٹ پر بٹھائے گا ہمارے مقابلے میں جتنے امیدوار ہیں سب کنڈم ہیں کسی کی باڈی پرانی ہے، کسی کی بریک فیل ہے ، کسی کا ٹائی راڈ کھلنے والا ہے ، کسی کا سائلنسر ناکارہ ہے ان لوگوں کا تو چالان ہونا چاہئے“ ایسا بھی ہوتا کہ لوگ اٹھ کر کوئی مخالفانہ نعرے لگاتے یا جانے لگتے۔ ایسے میں ہمارے بنارس خان صاحب فرماتے۔ ”پپو یار تنگ نہ کر“ ۔

ہر بشر کو ہے یہ لازم صبر کرنا چاہئے
جب کھڑی ہو جائے گاڑی تب اترنا چاہئے

بابو محمد دین سابق پوسٹ ماسٹر ڈاک کے ٹکٹ پر کھڑے ہوئے تھے ان کی تقریر بھی ہم نے سنی۔ محترم حضرات السلام علیکم مزاج شریف، خیریت موجودہ خیریت مطلوب ، دیگر احوال یہ ہے کہ ہمارے تھیلے میں باتیں تو بہت ہیں لیکن ان کو سارٹ کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ حضرات یہ جو دوسرے امیدوار ہیں ان سب کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہے ان کی باتیں لفافہ ہیں یہ تو پوری قوم کو ڈیڈ لیٹر آفس میں دھکیل دیں گے پوری قوم کو بیرنگ کر دیں گے پس التماس ہے کہ میرے خط کو تار سمجھتے ہوئے الیکشن کے روز اپنے سارے ووٹ قریب ترین لیٹر بکس میں ڈال دیں۔ والسلام۔ مشہور اداکار متوالا سینما کے ٹکٹ پر کھڑے ہوئے ان کی تقریر کا مکھڑا عموماً مقبول عام فلمی گیت پر مبنی ہوتا تھا مثلاً

اے دیکھنے والے دیکھ کے چل
ہم بھی تو ”کھڑے“ ہیں راہوں میں

اس کے بعد فرماتے ۔ حضرات! قوم کی خدمت بڑی مشکل ہے لیکن

جب پیار کیا تو ڈرنا کیا
اور چھپ چھپ آہیں بھرنا کیا

کھڑا ہونا میرا کام تھا وہ میں نے کر لیا اب ممبر بنانا آپ کا کام ہے ”تہاڈی عزت دا سوال اے“ صاحبان ! آپ کے پاس طرح طرح کا امیدوار آکر ڈائیلاگ بولے گا۔ ایکٹنگ کرے گا لیکن ان سب سے ہوشیار ، خاکسار کی ساری عمر قوم کی خدمت میں ریہرسل کرتے گزری ہے اب اسے قومی ہیرو بننے کا موقع ملنا چاہئے آپ اس ”شیراں دے شیر“ کو ووٹ نہ دیں گے تو اور کسے دیں گے“۔
خان شیر خان گاندھی کے علاقے سے کھڑے ہوئے تھے اور ان کے پاس چڑیا گھر کا ٹکٹ تھا ان کی تقریر بھی سننے کی ہوتی تھی۔
”صاحبان! آج کل ہر کوئی اپنی اپنی بولی بول رہا ہے دھاڑ رہا ہے ، چنگھاڑ رہا ہے لیکن ہاتھی کی طرح ان لوگوں کے کھانے کے دانت اور ہیں دکھانے کے اور ہیں، قربانی کا وقت آئے گا تو سب کو سانپ سونگھ جائے گا طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیں گے۔ دم دبا کر بھاگ جائیں گے۔ یاد رکھئے ان لوگوں کا آگا شیر کا پیچھا بھیڑ کا ہے۔ بگلا بھگتوں کو ووٹ مت دیجیئے مجھے دیجیئے کہ شاہیں رابلنداست آشیانہ“۔
سب سے مختصر تقریر مرزا برکت اللہ کی ہوتی تھی آپ لاٹری کے ٹکٹ پر کھڑے ہوئے، فرماتے تھے۔
”بھائی صاحبان! میں کوئی لمبے چوڑے وعدے نہیں کرتا صرف اتنا کہوں گا کہ مجھے ووٹ دیجیئے اور اسمبلی میں پہنچائیے پھر میں آپ کی خدمت کرتا ہوں یا آپ کو دھوکہ دیتا ہوں یہ آپ کی قسمت پر منحصر ہے۔ٹکٹوں میں یہی ٹکٹ تھا جو خصوصیت میں کسی پارٹی ٹکٹ سے قریب ترین کہا جا سکتا تھا۔
ابن انشاء کی کتاب ‘باتیں انشاء جی کی‘ سے (بشکریہ روزنامہ جنگ)

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

حبیب جالب

Posted on 26/11/2007. Filed under: اقتباسات |

ایوب خان کے زمانے میں حبیب جالب نے اپنی ایک سیاسی پارٹی بنائی۔ اس کا نام یاد نہیں رہا۔ جب ان سے ممبر سازی پر سوال کیا جاتا یا دفتر کا پتہ پوچھا جاتا تو اس کا جواب وہ یہ دیتے …نہ دفتر نہ بندہ، نہ پرچی نہ چندہ ۔ اسی دور میں الیکشن آیا تو حبیب جالب صوبائی اسمبلی کے امیدوار بن گئے۔ سب جانتے تھے کہ ووٹ کیسے لیے جاتے ہیں؟ ووٹروں کے بغیر امیدوار بننے کا سبب پوچھا گیا تو جالب کا جواب تھا ”مجھے معلوم ہے کہ ووٹ نہیں ملیں گے لیکن ووٹروں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا موقع تو مل جائے گا“۔ جالب نے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی مہم چلائی تو علاقے کے ایک بدمعاش نے ان کے خلاف ارادئہ قتل کا پرچہ درج کرا دیا۔ یار لوگ بہت خوش تھے کہ حبیب جالب نے بھی کسی پر قاتلانہ حملہ کیا۔ جلد ہی یہ خوشی مایوسی میں بدل گئی۔ جب پتہ چلا کہ بدمعاش نے خود ہی اپنے آپ کو چاقو سے زخم لگایا اور قاتلانہ حملے کا الزام حبیب جالب پر لگا دیا۔ جالب الیکشن میں تو کامیاب کیا ہوتے؟ اپنے خلاف قتل کا پرچہ کرانے میں کامیاب ہو گئے۔
نذیر ناجی کے کالم سوری! جج صاحب سے

………….

 

اب تو خیر اچھے خاصے ”مرد“ بھی حکمرانوں کے اشارہ اَبرو پر رقص کرتے نہیں شرماتے اور کئی تو ایسے ہیں کہ کئی حکومتیں گزر گئیں ان کا پیشہ نہیں بدلا لیکن ایک وقت تھا کہ عورتیں اور وہ بھی ڈانسر‘ جنہیں ہمارے ہاں بڑی تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے‘ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود حکمرانوں کی محفلوں میں ناچنے سے انکار کردیتی تھیں۔ ایوب خان کا اقتدار عروج پر تھا‘ شاید شاہ ایران کو خوش کرنے کیلئے محفل سجائی گئی۔ اس وقت کی نامور ایکٹریس اور ڈانسر نیلو کو بلایا گیا اس نے انکار کردیا جس پر اسے گرفتار کرلیا گیا حبیب جالب نے لکھا

تو کہ ناواقفِ آدابِ غلامی ہے ابھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

چار مصرعے تھے جو بعد میں فلم ”زرقا“ کا ٹائٹل سانگ بنے‘ گانا مہدی حسن نے گایا۔ فلم نے بزنس کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ ریاض شاہد جن کی نیلو سے شادی ہوچکی تھی فلم کے ہدایتکار تھے۔ اس شادی کا ایک نشان آج کا ہیرو شان ہے جو ایک تقریب میں جنرل پرویزمشرف کے سامنے اس طرح رقص کررہا تھا کہ اس کی والدہ بھی کیا کرتی ہوں گی….؟
ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایک ایسی ہی محفل لاڑکانہ میں سجائی۔ اس وقت کی خوبرو ترین اداکارہ ممتاز کی طلبی ہوئی‘ انکار پر تھانے لے جانے کی دھمکی دی گئی‘ جالب نے جو بھٹو کا معروف عاشق تھا لکھا

قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا
لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو

اطہر مسعود کے کالم صحافی یا بھانڈ سے

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

جرنیل مشاعرہ

Posted on 23/11/2007. Filed under: اقتباسات |

ایک کُل پاکستان مشاعرے میں ایک فوجی جرنیل صدر بنا دیئے گئے۔ اُن کے رعب اور طنطنے کا کچھ ایسا عالم تھا کہ دس پندرہ منٹ تک سامعین کو کھل کر داد دینے کی ہمت نہ پڑی۔ اتفاق سے ایک شاعر نے بہت ہی اچھا شعر سنایا ۔۔۔۔ سامعین کے درمیان میں سے ایک نوجوان تڑپ کر اٹھا اور بولا
مکرر۔۔۔۔۔۔۔ارشاد فرمائیے
اس کی دیکھا دیکھی کچھ اور لوگوں نے بھی مکرر مکرر کے نعرے بلند کئے۔ صاحبِ صدر نے اسٹیج سیکرٹری سے پوچھا کہ
یہ لوگ کیا چاہا رہے ہیں؟
اسٹیج سیکرٹری نے ادب سے کہا
جناب!! یہ شاعر سے کہہ رہے ہیں کہ دوبارہ یہی شعر سناؤ
اس پر جرنیل صاحب نے اپنے سامنے رکھا مایئک اٹھایا اور یوں گویا ہوئے۔
کوئی مکرر وکرر نہیں ہوگا ۔۔ شاعر صاحب آپ کے والد کے نوکر نہیں ہیں، جس نے سننا ہے تو پہلی بار دھیان سے سنو۔

چشم تماشا، امجد اسلام امجد

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

وہاج دا انت

Posted on 20/05/2006. Filed under: اقتباسات, سرائیکی وسیب |

سرائیکی وسیب میں موجود ہندوؤں کو ‘کراڑ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ عموما نجی ساہو کاری سے وابستہ رہے ہیں اور اس حوالے سے کئی لوک کہانیاں وجود میں آئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ہندوؤں نے پنچائت بلائی اور آپس میں مشورہ کیا کہ مسلمان مسجدیں بنا رہے ہیں اس لئے ہمیں بھی پوجا کے لئے ایک مندر تعمیر کرنا چاہیے۔ پس انہوں نے مندر بنایا اور اکھٹے ہو کر پوجا کرنے اور بھجن گانے لگے؛
“دیوا تارن آیا، سنو میڈے سادھو!
دیوا تارن آیا او بھائی راما!
دیوا تارن آئے“
( مولا ہمیں ترقی اور خوشحالی دینے آیا ہے بھائیو! سن لو ہمیں ترقی دینے آیا ہے۔ بھائی رام! مولا ہمیں ترقی دینے آیا ہے)
ایک دن مندر میں وہ یہی بھجن گا رہے تھے کہ انہیں خبر ہوئی کہ دور دراز سے کوئی بڑا بیوپاری آیا ہے۔ وہ اپنی پوجا چھوڑ کر فورا باہر آئے اور بیوپاری سے دھڑادھڑ بھاری بھر قیمت والی اشیاء خریدنے لگے۔ جب انہوں نے خریداری مکمل کر لی تو اچانک انہیں اطلاع ملی کہ ان کی خرید کردہ اشیاء کی قیمت گر گئی ہے۔ اس پر سب لوگ اپنا سر پیٹ کر رہے گئے۔ دوبارہ مندر میں گئے اور اپنے گلے میں اجتجاجا پٹہ ڈال کر دیوتا کے آگے یہ بھجن گانے لگے؛
“دیوا گالن آئے، او بھائی سادھو!
دیوا گالن آئے“
( مولا ہمیں برباد کرنے آیا ہے، بھائیو! مولا ہمیں برباد کرنے آیا ہے)
اس بیوپار سے نقصان اٹھانے کے فورا بعد انہیں کسانوں کا لین دین یاد آ گیا۔ اپنا نقصان پورا کرنے کے لئے انہوں نے ایک کسان کو پکڑ لیا اور اسے کہنے لگے؛
“ سن بیلی! ٹکا تیل والا تے ٹکے دا تیل، آناں دال والا تے آنے دی دال“
( سنو بھائی! ایک ٹکا تیل والا اور ایک ٹکے کا تیل، ایک ٹکا دال کا اور ایک ٹکے کی دال)
اس طرح انہوں نے حساب دوگنا کر دیا اور دیگر اشیاء جو کسان نے ان سے خریدی تھیں کی قیمت بتانے لگے کہ دو آنے کا صابن اور دو آنے صابن کے، ٹکے کا مشک اور ٹکا مشک والا، ایک پیسے کی ملتانی مٹی اور ایک پیسہ ملتانی مٹی والا، بارہ آنے کا دوپٹہ اور بارہ آنے دوپٹے کے، آٹھ آنے کی قمیص اور آٹھ آنے قمیص کے، ڈیڑھ روپے کی پگڑی اور ڈیڑھ روپے پگڑی والے، روپے کا کرتا اور روپیہ کرتے کا وغیرہ وغیرہ۔
اس طرح وہ اس کسان کو سارا ادھار بتلا کر کہنے لگے کہ تمھارے ذمے ٢٩ روپے رقم اور ساڑھے تین من غلہ ہے، سو اب سود سمیت تم ٧٠ روپے رقم اور پانچ من غلہ دو گے۔ اس کے بعد انہوں نے کسان اس ادھار کا اسٹامپ بھی لکھوا لیا۔ جب فصل اٹھانے کا وقت آیا تو کسان کی ساری فصل وہ اپنے گدھوں پر لاد کر گھر لے گئے اور جاتے ہوئے اس کہہ گئے ؛
“ آویں تے حساب سمجھ ونجیں“
( گھر آ جانا اور حساب سمجھ لینا)
جب کسان ادھار سے متعلق ان کو دی ہوئی اپنی فصل کی پیداوار کا حساب سمجھنے کے لئے ان کے گھر گیا تو انہوں نے گزشتہ اور موجودہ دو فصلوں کا حساب ملا کر ٥٠ روپے رقم اور بارہ من غلہ مزید کسان کے کھاتے میں لکھ کر اسے خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔

ایف ڈبلیو سکیمپ کی لاطینی رسم الخط میں لکھی گئی سرائیکی کتاب ‘ ملتانی سٹوریز‘ سے انتخاب

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...