تاریخ

قومی مورال

Posted on 08/09/2009. Filed under: پاکستان, تاریخ, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , |

جذبہ حُریت ہی قوموں کو بیدار رکھتا ہے، آزادی کی تڑپ ہی دِل میں ولولہ پیدا کئے رکھتی ہے۔ جنگیں جدید ہتھیار سے لیس ہو کر یا تعداد کی کثرت سے نہیں، جذبوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ملک کا دفاع ایسے ہی ہوتا ہے، جیسے اپنی بقاء کی جنگ۔ آج جنگ میں ہولناک ہتھیار، الفاظ کا پروپیگنڈہ ہے۔ جس قوم کا مورال گِر جائے، وُہ نفسیاتی طور پہ ہمت ہار بیٹھتی ہے۔ مورال قوم کے جذبوں میں خود اعتمادی اور ولولہ کو، حوصلہ اور برداشت کے ساتھ، برقرار رکھتے ہوئے بڑھاتا ہے۔ جس قوم کا مورال بڑھ جائے، وُہ کاغذ کے نقشہ پر بظاہر ہاری ہوئی بازی بھی جیت لیتی ہے۔
قومی مورال کیا ہی؟ ١٩٤٠ء سے لیکر ١٩٤٧ء تک کا سفر قومی مورال کی تشکیل کا مرحلہ تھا۔ اِسکا واضح عملی مظاہرہ ١٩٦٥ء کی جنگ کے شاندار ایام ہیں۔ پاکستانی قوم کا مورال اُن ساعات میں کچھ یوں تھا:
٦ ستمبر کی تاریکی میں بھارت نے لاہور پر اچانک تین اطراف جسٹر، واہگہ اور بیدیاں سے حملہ کر دیا۔ دشمن بھاری مقدار میں جدید ترین اسلحہ سےلیس تھا۔
ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا۔ ریڈ کراس کے مرکزی دفتر میں خون دینےوالوں کا بے پناہ ہجوم جمع ہوگیا۔ ریڈ کراس کے مراکز میں خون دینےوالوں کے ہجوم میں دھکم پیل یہ تھی کہ ہر کوئی دوسرے سے پہلےخون دینا چاہتا تھا۔ باوجود اسکےکہ ان ہجوموں میں بہت سےلوگ (مرد اور عورتیں) پہلے بھی خون دے گئے تھے۔ ایک روز ڈاکٹر نے زرد رو عورت کا خون لینے سے انکار کر دیا تو وُہ میک اَپ کر کے ”تندرست“ ہو آئی اور ڈاکٹر کو دھوکہ دے کر خون دےگئی۔
کمسن لڑکے وزن پورا کرنے کے لیئے پتلونوں کی جیبوں میں لوہے کے ٹکڑے ڈال لاتے اور خون دے جاتےتھے۔ کہیں ڈاکٹر نے کسی نو سالہ بچی کا خون نہ لیا تو بچی نےگھر جا کر بلیڈ سے اپنی رگ کاٹ ڈالی اور خون سے پیالی بھرنےلگی۔ گھر والوں نے بر وقت دیکھ لیا اور بچی کا خون روک لیا۔ ہائی کورٹ کے ججوں نے ایک روز مل کر خون دیا۔ خون دینے والوں کی قطاریں روز بروز بڑھتی رہیں، گجرات تک کےلوگ خون دینے لاہور آتے۔ شہری محاذ کا یہ عالم ہوا کہ ریڈ کراس والوں نے اندازہ لگایا ہے کہ پانچ دِنوں میں قوم نے اس مقدار سے کہیں زیادہ خون دے دیا ہے جتنی پچھلے پورے سال میں فراہم نہیں ہوسکی تھی۔
لاہور ”جہاد جہاد“ اور” پاکستان زندہ باد“ کےنعروں سےگونج رہا تھا۔ شہر بھارتی توپوں کے پھٹتےگولوں اور اپنی توپوں کےدھماکوں سے بلتا۔ روزمرہ کی زندگی ہیجانی کیفیت کے باجود روزمرہ کی طرح رواں دواں رہی۔
”داتا دربار عورتوں کی دعاؤں سےگونج رہا ہے۔ آج کوئی عورت داتا سے بیٹا نہیں مانگ رہی، سب آج دوپٹے پھیلائے، رو رو کر قوم کے ان بیٹوں کی سلامتی اور فتح کی دعائیں مانگ رہی ہیں جو بی آر بی کےکنارے ان کی آبرو پر جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔“
مغرب پسند خیال اور مشرقی ماحول کی لڑکیاں ایک ہی محاذ پہ کفر کے مقابلے میں سینہ سپر ہوگئی ہیں۔ عورتیں گھروں سے نکل آئیں اور نرسنگ، فرسٹ ایڈ اور شہری دفاع کی تربیت گاہوں میں جمع ہوگئیں۔ گھروں میں وُہ غازیوں اور کشمیری مجاہدین کےلیئےسویٹریں بننے لگیں۔ چٹاگانگ میں ایک نوجوان لڑکی فوج کے بھرتی دفتر میں گئی اور درخواست دی کہ وُہ بھرتی ہونا چاہتی ہے اُسےبتایا گیا کہ فوج میں لڑکیوں کو نہیں رکھا جاتا تو اُسکے آنسو نکل آئے۔ ایک بھکارن نے دِن بھر کا مانگا ہوا آٹا اور پیسے قوم کے حوالے کر دیئے۔ کئی عورتوں نے زیورات اور بیٹیوں کےجہیز دفاعی فنڈ میں دے دیئے۔
دیہات میں لوگوں نے اناج کی بوریاں اور بعض دودھ والی گائے، بھینس دے دیں۔ قوم غازیوں کے لیئے خون کے تالاب اور روپے پیسے کے انبار جمع کر چکی تھی۔
پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ریڈ کراس کےمراکز میں لوگوں نے خون کے علاوہ سگریٹوں، صابن، خوشبودار تیل، تولیوں، کتابوں، رسالوں اور اس نوع کی ضروریات کی چیزوں کےڈھیر لگا دیئے۔ ٹرانسسٹروں کےانبار الگ تھے۔ دفاعی فنڈ کےاعداد و شمار تیزی سے بڑھتے جا رہے تھے۔ اسی طرح بنکوں اور ریڈ کراس کے بلڈ بنک میں روپیہ، دیگر عطیات اور خون دینے والوں کا ہجوم اور زیادہ بڑھتا ہی گیا۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ ”دفاعی فنڈ اور خون کے ذخیروں میں حیران کن رفتار سےاضافہ ہو رہا ہے“ لیکن پاکستانی حیران نہ تھے کیونکہ زندہ قوموں کے ایثار کی رفتار یہی ہوا کرتی ہے۔
مال بردار پرائیویٹ ٹرکوں کی ایسوسی ایشن نے جنگ کے اگلے روز ہی سارے ملک میں سے چالیس ہزار ٹرک حکومت کے حوالے کر دئیے ان ٹرکوں کی ڈرایئور سینہ تان کر مورچوں تک جنگی سامان پہنچانے میں مصروف ہوگئے تھے۔ ٹرکوں کے علاوہ اس ایسوی ایشن نے مجاہد فنڈ کے لیئے چالیس ہزار روپیہ بھی دیا۔
مغربی اور مشرقی پاکستان میں فضائی حملوں کے بعد شہریوں میں جوش و خروش بڑھ گیا تھا۔ کسی چہرے پر خوف اور گھبراہٹ نہ ہوتی۔ پاکستانیوں کے چہروں کے تاثرات یکساں تھے، جیسے ہر چہرہ بزبان خاموشی سےکہہ رہا ہو پاکستان میرا ہے۔ پاکستان کا دفاع میری ذمہ داری ہے۔“
سکول اور کالج ٦ ستمبر کو ہی بند ہوگئےتھے۔لیکن بچےکھیل کود سے بےنیاز، اے۔آر۔پی کی وردیاں پہنےگلیوں، بازاروں اور میدانوں میں خندقیں کھودنے میں مصروف ہوگئے۔ یہ بچےایک دن میں جوان ہوگئے تھے۔ جن ننھے ننھے بچوں کو اور کچھ نہیں سوجھتا، وُہ ”ہندوستان مردہ باد“ اور ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے پھرتے تھے۔ والدین شام کے بعد بچوں کو ڈھونڈتے پھرتےلیکن بچےگلی محلوں میں بلیک آؤٹ کرانے کے لیئے بھاگتے دوڑتے اور وسلیں بجاتے پھرتےتھے۔
بچوں کو طیاروں کی قسمیں، بموں کے وزن، راکٹوں کی مار، توپوں کی قسمیں اور گولوں کے وزن زبانی یاد ہوگئے۔ وُہ طیارے کی آواز سن کر بتا دیتے تھے کہ یہ طیارہ اپنا ہے یا دشمن کا۔راولپنڈی میں ایک لڑکے نےدوسرے کو چاقو مار کر لہولہان کر دیا کیونکہ اُس نےاُسے شاستری کہا تھا۔ چاقو مارنے والےلڑکےنے پولیس کو بیان دیا ہے کہ یہ مجھےہٹلر کہا کرتا تھا لیکن میں نےکبھی برا نہ منایا کیونکہ ہٹلر جنگجو تھا مگر ”شاستری“ جیسی گالی میں برداشت نہ کرسکا۔
گلیوں میں اور سڑکوں پر فلمی گیت الاپنے والے ٹیڈی قوم کی آبرو کے امین بن گئے۔ فلمی گیت مرگئے، دیس کی فضا میں مِلی ترانے اور رزمیہ گیت گونجنےلگے۔ کس قدر ولولہ ہے ان نغموں میں۔ ایک ایک لفظ اور ایک ایک انگ روح میں اتر رہا ہے۔ قوم کو ان نغموں کی کس قدر ضرورت تھی؛ تب پتہ چلا۔
لوگ سڑکوں پرمنتظر کھڑے رہتے۔ پاک فوج کا کوئی مجاہد یا کوئی گاڑی نظر آجاتی تو وُہ اُسےگھیر لیتےتھے۔ ہر کسی کی خواہش ہوتی تھی کہ وُہ اپنےغازیوں کو چائے یا شربت پلانےمیں پہل کرے۔ ہر کوئی انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے کو بےتاب ہوتا تھا۔ لیکن جوانوں کو فرصت نہیں کہ دم بھر کر رُک جائیں۔ شہر کےلوگ چلتے ٹرکوں میں مشروب کی بوتلیں، فروٹ، کھانا اور پھول پھینک دیتے ہیں۔ لاہور سیکٹر میں جہاں تک شہریوں کو جانےکی اجازت تھی۔ وہاں انہوں نے فروٹ کے ٹوکروں، زردہ پلاؤ کی دیگوں اور کھانے کے انبار لگا دیئے ہیں۔ وُہ ہر روز ان انباروں میں اضافہ کر آتے۔ سیالکوٹ اور لاہور سیکٹروں میں جو بڑی توپیں پیچھے نصب ہوئیں اُن کےتوپچیوں کو دیہات کی عورتیں کھانا، پانی اور لسی پہنچاتی رہتی۔ توپچی انہیں روکتے۔ کیونکہ انہیں سرکاری طور پر کھانا پہنچتا رہتا تھا۔ اس کےعلاوہ وہاں خطرہ بھی ہوتا تھا لیکن لوگ انہیں ایک ہی جواب دیتے تھے۔”کیا تم کسی ماں کے بیٹے نہیں؟“ لوگ تو اپنی رگوں کا خون نچوڑ کر ان غازیوں کی رگوں میں ڈال دینےکو بےتاب ہوتے۔
ہسپتالوں میں محاذوں کے زخمی مجاہد، ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیئے پریشان کن مسئلہ بن گئے ہیں۔ وُہ ہسپتالوں میں رُکنا نہیں چاہتے تھےمحاذ پہ پہنچنا چاہتے تھے۔
ایک روز لاہور والوں نےفضائی جھڑپ دیکھی ۔بھارتی فضائیہ کے چار نیٹ اور دو ہنٹر طیارے پاکستان پر کہیں بمباری کرنے آئےلیکن ہمارے دو ہوا بازوں نے انہیں لاہور کے اوپر ہی روک لیا۔ فضا میں چھ اور دو کا معرکہ ہوا اور زمین پر لاکھوں تماشائیوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ چھتوں اور سڑکوں پر میدانوں اور باغوں میں”پاک فضائیہ زندہ باد“۔ ”وُہ مارا، وُہ مارا“ کےنعرے لگا رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں بھارت کا ایک طیارہ جلتا ہوا شالامار سے پرے جا گرا۔ دشمن کا ایک اور طیارہ مجروح ہوا جسے بھارت کی طرف گرتے ہوئے دیکھا گیا۔
کھلے میدانوں میں لاہوریوں کا ہجوم در ہجوم جمع ہو جانا جنگی حماقت تو تھا کہ یہ ہجوم اپنے ہوا بازوں کے لیئےبھی رکاوٹ بنا رہا تھا۔ لیکن اہل شہر کا جذبہ بے پناہ تھا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ وُہ کونوں کھدروں میں چھپ گئے تو اپنے ہوا باز فضا میں اکیلے رہ جائیں گے اور ان کی ”ہلا شیری“ کرنے والا کوئی نہ ہوگا لاہور والےتماشائی تو نہیں تھے۔ وُہ اس فضائی معرکے میں برابر کے شریک تھے۔
٨ ستمبر کے روز جب ریڈیو نےاعلان کر دیا تھا کہ بھارت پاکستان کے مختلف شہروں میں چھاتہ بردار جاسوس اُتار رہا ہے تو اُس رات پاکستان بھر میں کوئی بھی نہیں سویا۔ لوگ چاقو، چُھریاں، کلہاڑیاں شکاری بندوقیں اور ڈنڈے اُٹھائے رات بھر گلیوں، میدانوں، باغوں اور ریلوے لائنوں پر بھاگتے دوڑتے رہے۔ عورتیں اور بچے بھی ڈنڈوں اور چاقوؤں سے مسلح ہو کر صحنوں میں اور چھتوں پر گھومتے پھرتے رہے۔ تب قوم کو نیند نہیں آتی تھی اور دشمن کو شکست دینے تک قوم کو نیند نہیں آئی۔
نظم و نسق ایسا تھا کہ کوئی فرد بھی کھلےمیدان میں سگریٹ تک نہیں سلگاتا تھا۔ لوگ بلیک آؤٹ کا ”احترام“ دِل و جان سے کر رہے تھے۔ قوم احکام اور ہدایات کا انتظار نہیں کرتی تھی۔ تب بچہ بچہ جان گیا تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ کس قدر منظم ہے یہ قوم! بازاروں سےکوئی شے غائب نہیں ہوئی نہ مہنگی ہوئی۔
ملک بھر میں کسی کو خیال نہ تھ اکہ اتوار چھٹی کا دِن ہوتا ہے۔ دفتر بھی کھلے تھے اور بازار بھی قوم بے آرام تھی، بیقرار تھی، بپھری ہوئی تھی، محاذ پر لڑنا چاہتی تھی۔
جمعہ ١١ستمبر قائد اعظم کا یوم وفات تھا ، اُس روز مسجدوں اور گھروں میں قرآن خوانی ہوتی رہی اور ملک کی فضا مجاہدوں کی سلامتی اور فتح کی دعا سےگونج سے رہی تھی توپیں اور طیارےگرج گرج کر اپنے محبوب قائد کی روح کو سلامی دے رہے تھے۔
آج کیا ہم یوم وفات قائد پر قرآن خوانی اپنےگھروں میں کرتے ہیں؟
عرب اپنے مسلمان بھائیوں کے لیئے مرمٹنے کے لیئے بیتاب ہیں۔ خانہ کعبہ میں دعائیں مانگ رہے ہیں اور مالی امداد بھیج رہے ہیں۔
جنگ ختم ہوئی توتمام مساجد میں خدائے ذوالجلال کے حضور شکرانے ادا کیےگئے۔ قوم نے اپنے شہیدوں کی قبروں پر پھول چڑھائے۔ ہسپتالوں میں زخمی مجاہدوں کےگرد تحفوں کے انبار لگا رہے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارک بادیں دے رہے تھے۔ اس لیئے نہیں کہ جنگ ختم ہوگئی تھی۔ بلکہ اس لیےکہ قوم خدا کے حضور سرخرو ہوگئی تھی ۔
رات کی تاریکی میں ، مکمل بلیک آؤٹ میں پاکستانی قوم نے وُہ رموز پالیے تھےجو انہیں اجالوں میں کبھی نظر نہ آئے تھے۔

یہ تمام ایسے واقعات ہے جنھوں نے اس قوم کی تاریخ کو انمول بنا ڈالا۔ ہر فرد نے اپنے حصہ کا وُہ کردار ادا کیا، جو وُہ کر سکتا تھا۔ آج ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وُہ کیا عناصر تھے، کہ اس قوم پاکستان میں ایثار کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ یہ وُہ معاشرتی تاریخ ہے، جس نے پاکستان کو قومی تشخص عطاء کیا۔ قوموں کی عظمت ایثار سے قائم رہا کرتی ہے۔ ١٩٦٥ء میں ہر فرد کا کردار افسانوی کہانی نہ تھا، حقیقت تھا اِس عہد کا کہ اس وطن کی خاطر ہم جان کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ایسی ہی لازوال قربانیاں قوم پاکستان کو تا قیامت زندہ و جاوید رکھنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گی۔ آج ایک بار پھر ایسا وقت آن پڑا ہے کہ ہمیں ایسے ہی اَن مٹ ،اَن گنت جذبوں کی ضرورت ہے۔ ہمارا وطن ایک بار پھر بیرونی سازشوں کا شکار ہے، اندرونی طور پر کمزور تر کیا جا رہا ہے اور اب تو اس ملک کا دفاع بھی خطروں کی زد میں محسوس کیا جانے لگا ہے۔ اَشرافیہ ہوش کے ناخن نہ جانے کب لیں گی؟ شائد یہ باتیں کھوکھلے نعروں تک محدود ہو چلی۔ ممکن ہے کوئی اس بناء پر خاموش ہو کہ اُس کے منظر سے ہٹنے کے بعد پچاسوں افراد اُس کی جگہ وفاداری ثابت کرنے کے لیے تیار موجود ہیں۔ اُسکے باغی ہونے سے حالات مزید نازک ہو جائیں گے۔ ہم مسلسل برسوں سے خطروں میں گھرتے چلے جا رہے ہیں، بلی کےشکار کی زد میں ہونے پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ خطرے کے وقت، شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبائے ہوئے ہیں۔حالات کا سامنا نہیں کر رہے، حالات کو واقعات سے ٹال رہے ہیں۔ آخر کب تک؟ ایک دن سامنا کرنا ہے۔ عام فرد اپنے حصہ کا کردار ادا کرنے سے ڈرتا ہے۔ حقائق جان کر وُہ کئی سوالوں کی زد میں ہوتاہے۔ ذات کے سوالوں کےجواب میں؟ تحفظ کا خوف ہمارے سروں پر چڑھ دوڑا ہے۔
مجھے ایک فرد نے خصوصی ملاقات میں دفاع پاکستان پر لکھنے کے لیے کہا، بلکہ عملی طور پر١٩٦٥ء کی جنگ کا مواد مہیا بھی کیا، جو ١٩٦٦ء میں مضامین، یاداشتوں، ڈائری کی صورت میں چھپا۔ مگر میں راضی نہ تھا، کہ کیا لکھوں! لوگوں کے دِلوں پر باتیں اثر نہیں کرتیں۔ میں وُہ لکھنا چاہتا ہوں کہ دِل پر چوٹ پڑے۔ پڑھنے والے کے اندر وطن عزیز کی محبت جاگ پڑے۔ مگر لوگ آج صرف واہ، واہ تو کر سکتے ہیں مگر بات سمجھتے نہیں۔ اگر سمجھ لیں تو عذر ہزاروں پیش ہو جاتے ہیں۔ خیر میں نے ماضی کے وُہ حقائق پیش کیے جو شائد وقتی طور پر آپکےخیالات پر اثر تو کر جائیں گے، مگر عمل وہی رہےگا جو آپکا مزاج ہے۔ یہ سوچ کر میں نے یہ مضمون ترتیب دے ڈالا۔ آخری پیرا لکھنا ہنوز باقی تھا کہ کسی کا پیغام موصول ہوا۔ ہم اپنے لیئے ایس ایم ایس کا فیصلہ واپس لے سکتے ہیں، تو کیا اس ملک پر منڈلاتےخطرات کے فیصلے دُرست نہیں کروا سکتے۔ میں تب بھی یہ سطور لکھنے کو تیار نہ تھا۔ مگر میرے دِل کو چین نہ آیا، میرے ضمیر نےمجھےجھنجھوڑا۔ میں قومی مورال پر اتنی باتیں لکھتا ہوں ، اور اس ملک کے بقاء کے لیئے ڈر رہا ہوں، اسی اثناء میں مجھےخیال آیا ۔١٩٦٥ء والے جو جذبات عوامی سطح پر افراد میں تھے، وُہ کیوں تھے؟ اُنکے جذبوں میں ڈرنا اور سوچنا معنی نہیں رکھتا۔ اُنکو بس اللہ پر یقین ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان لیبارٹریز کے قریب ١٨ ایکڑ جگہ امریکی سفارت خانہ کی توسیع کے لیئےخریدی گئی ہے، جہاں ٧٠٠ میرین موجود ہیں، ١٠٠٠ میرین کی آمد ہیں۔٢٠٠ گھر اسلام آباد میں کرایہ پر حاصل کر کے جدید سیٹلائیٹ سے لیس کیےگئے ہیں۔” امریکی غنڈہ لشکر“ کالا پانی اپنی سیاہ حرکات کے لیئے چارسدہ کےقریب شب قدر میں زمین حاصل کر چکا ہے۔ افسوس! آج آگاہی کے باوجود بدقسمتی سے، ہمارا ایٹمی اثاثہ سازشی چنگلوں کا شکار ہو رہا ہے۔ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم سلطنت روم کے ماتحت اسرائیلی گورنر ہے، جو ابنیاء کو بھی قیصر روم کے حکم کے ماتحت رہتے ہوئے سولی پر چڑھا ڈالتے تھے۔ کبھی کبھی حالات کو دیکھتے ہوئے سوچتا ہوں، ہمارا حال بنی اسرائیل والا ہی ہے۔ ہم حقائق سے نابلد ہیں۔ مایوسیوں میں اس لیئےگھرتے جا رہے ہیں کہ عملی کوششیں ترک کر چکے۔ اے اللہ اس ملک کے ہر فرد میں موجود جذبہ حب الوطنی کو عملی دھارا بھی عطاء فرما، ہمیں مایوسیوں سے بچا اور وطن کو تحفظ فرمانے میں ہماری مدد فرما۔(آمین)

ایسے موضوعات پر میں لکھنےسے ہمیشہ اس قدر گریز کرتا ہوں کہ کسی کا اصرار بھی مجھ پر اثر نہیں کرتا۔ مگر آج میرے دِل پر چوٹ پڑی اور میں لکھنے پر مجبور ہوا۔ اُس پیغام میں یہ بات بڑی اہم تھی۔ ایس ایم ایس کا ٹیکس ختم ہو سکتا ہے تو کیا ایسے فیصلےدرست نہیں ہوسکتے۔ آج اس قوم کو قومی مورال کی ضرورت ہے۔’ہم زندہ قوم ہے‘، نعرہ لگاتے ہیں، اےاللہ ہمیں زندہ قوم بنا دے۔ ہمیں باضمیر اور غیرت مندی عطاء فرما دے۔

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

عظیم جناح، نہرو اور گاندھی

Posted on 17/08/2009. Filed under: تاریخ | ٹيگز:, , , , , |


ربط

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

سوالیہ تحریری حقائق

Posted on 11/06/2009. Filed under: پاکستان, تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , |

خیالات کے بےہنگم ہجوم میں سوچتاہوں، کہوں تو کیا کہوں۔ پھول کی خوشبو سحر انگیز تاثیر رکھتی ہے۔ لفظوں کے اثرات ما بعد ضبطِ تحریر کیاگل کھلا رہے ہیں، یہ دُنیا دیکھ رہی ہے۔ تحریر میں خیال اچھا ہو، تو کیا خوب بات ہے۔
آفرین! اِک نقطہ نظر ہے، دُنیا میں انسان کے رُجحانات کتابوں نے بدلے ہیں۔ قوموں کی تقدیر بدلی، ممالک کی قسمت بنی ۔۔۔۔ حتیٰ کہ زمانے کتابوں کے ٹھہر پائے۔ یہ دور کس کتاب کا ہے؟ کتابوں کے انبار میں، شائد کسی بھی کتاب کا دور نہیں چل رہا۔
لکھنے والے رہے نہیں، پڑھنے والےعالم بنے، پڑھانے والے نہ جانے کیا کر رہے ہیں۔ ہُو کا یہ عالم ٹھہرا کہ زمانے کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ دوڑ اپنی اپنی ہوئی، چور پوری قوم ہوئی۔ مایا کی تلاش میں، نام کمایا۔ فاترالعقل نے زمانہ میں، انجانہ خوف بنایا۔
حادثاتی مصنفین کا حادثاتی دور چل پڑا اللہ نہ کرے، یہ قوم بُرے حادثات کا شکار ہو۔اعتراض مصنف نہیں، معترض تو متنفر سوچ کی نفرت اور شر انگیز اشاعت سے ہوں۔ مغرب دشمن ہے، ہمارا مسلمان بھائی لسانی و مذہبی تنازعات کا شکار ہے، ہمارے خلاف ساز ش ہو رہی ہے، محبوب بے مروت ہے، زندگی گلیمر ہے، حقیقت کیا ہے؟ بس! جو مفروضے پیش ہوئے، وُہ حقیقت ٹھہرے۔ آج عام فرد کی دسترس میں ایسی ہی کتب دستیاب ہیں۔ جو مایوسی کا سبب بن رہی ہیں۔ اصل حقیقت غور و فکر سے محروم! حادثاتی دور کا یہ بھی اِک زمانہ ہے۔
محقق قلابے ملاتےہوئے، بنیادیں ہلا رہے ہیں، تحقیق کار تحقیق نہیں کر رہے۔ اشاعتی ادارے اغلاط سے بھرپور چند نشریات بھی چلا رہے ہیں۔ مگرمیں مایوس نہیں۔ اِن حالات میں بھی، اس قوم میں چند نَول کِشور (١) صاحب جیسے ناشر موجود ہیں۔
دو لفظ بولنے والا لکھنے والاہو گیا، چار باتیں جاننے والا محقق بن گیا، کسی کو متاثر کرنے کی کوشش میں ناکام ہو جانے والا شاعر بن بیٹھا۔ سستی شہرت والوں نے بہت کچھ لکھ ڈالا۔ مگر اُنکا مقصد صرف اپنی ذات کی رونمائی ہے۔ کاش! ایسے افراد کا مقصد قوم کی خدمت ہو جائے تو حقیقی مقصد کے حصول میں سمت کا تعین ہو جائےگا۔
عجیب عجیب تماشہ دیکھنے کو مِل رہا ہے۔ چور بے خبر بہروپیا کا انٹرویو لے رہا ہے، کتاب چھپی تو معلوم ہوا، تصوف سے نابلد افراد کی گفتگو مغربی نفسیا ت پہ چل پڑی، ایک اور سنجیدہ مضحکہ خیز حادثہ۔
دامن بچانے کایہ دور ہے، جس میں ہر شےءگنی جا رہی ہے۔ اَگنی کی تعلیم دُگنی، تِگنی، چُگنی سے ہے۔ حادثات ہمارے منتظر ہے، جبکہ ہم کسی خوشنما حادثہ کے انتظار میں ٹھہرگئےہیں۔
حادثہ ہمارا ہو چکا، کتاب ہماری اور ہے۔ تعلیم کسی اور جانب چل پڑی۔ہمارا مصنف آج گنتیوں میں مصروف ہے، مغرب اپنے جن دانشوروں کی تقلید پر ہے، اُنکا نشوونمائی دور محرومیات اور لالچ سے اثر انداز ہوا۔ اُنکے افکار سوالیہ نشان !عربی، فارسی اور ہندی سے ہوئے ناواقف ہم، تکیہ ٹھہرا ہمارا تراجم پہ، بھول چکے اپنےمشاہرین اسلام کی اَصل تعلیم کو۔
(فرخ )
(١) نَول کشور: قیام پاکستان سےقبل برصغیر کےنامور پبلشر، جنھوں نے قرآن پاک کی اشاعت بھی فرمائی۔ اُن پر مسلمانوں نے مقدمہ دائر کیا کہ یہ بےحُرمتی ہے۔ وُہ عدالت میں پیش ہوئے اور فرمانےلگے۔ میں ہندو ہوں، مگر میں چاہتا ہو کہ اس کی اشاعت دیکھو مگر ایسا کر نہیں سکتا۔ کیونکہ اُس جگہ تمام کام کرنے والے افراد مسلمان ہے، کوئی فرد بغیر وضو اور پاک لباس کے داخل نہیں ہو سکتا۔ وہاں استعمال ہونے والے پانی کا نکاس گنگا کی ندی میں ہے (جو ہندوؤں کے نزدیک پاکیزہ ترین ہے)۔ جس کے لئے ایک خصوصی نہر کھدوائی گئی ہے۔ اب بھی اگر مجرم ہو تو سزا دے دیجئیے۔ جس پر تمام حاضرینِ عدالت نادم ہوئے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

حقیقتِ زمانہ

Posted on 31/05/2009. Filed under: تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , |

نشوونما ایسا باقاعدہ عمل ہے، جو کبھی ٹھہرتا نہیں۔ مسلسل اپنی مخصوص رفتار سےچلتا رہتا ہے۔ قدرت کےعوامل میں ٹھہراؤ بالکل نہیں۔ اِن کےمشاہدہ کےلیئے نگاہ کا ٹھہراؤ ضروری ہے۔نشوونمائی عمل کو اگر روکا جائے تو وُہ بگاڑ لاتے ہیں۔ ایسی رکاوٹیں بربادی کا سبب بھی بن جایا کرتی ہیں۔ یہ ایسےعوامل ہیں جو قدرت کےرنگوں میں زندگی کی دانش کو سمجھنے کے لیئے لازم ٹھہرے۔ بیج کا پودا بننا ہر موسم میں ایک سا دِکھائی دیتا ہے مگر ہر دانہ ایک ہی ذائقہ نہیں رکھتا۔ یونہی بیرونی موسم اور حالات بھی افزائش پر اثر انداز ہوتےہیں۔
انسان کی نشوونما اُسکے مخصوص حالات کےمطابق ہو رہی ہے۔ جیسا کہ بیشمار نباتات مصنوعی ماحول سے مصنوعات کی بہترین صورت بن چکی ہیں۔ اسی طرح قدرتی ماحول سے ناواقفیت، مخصوص پیدا کردہ نظریات اِنسان کی افزائشی سوچ کو مخصوص اور محدود کر رہے ہیں مگر نتائج اُلجھنوں، بیماریوں اور رکاوٹوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
گنوار اقوام عروج حاصل کر کےمہذب ہوجایا کرتی تھی، نئی تہذیبوں کا جنم ہوا کرتا تھا۔ آج کی مہذب دُنیا وحشت سے دہشت پیدا کر رہی ہے۔ حقیقی تہذیبیں ختم ہو رہی ہیں۔ اِنکی موت اَصل دانشور کی موت ہے۔ دانشور اپنی حکمت سے ہر دور میں تہذیب کو حالات کے تحت نئی روح بخشتا ہے۔ یوں وُہ اقوام اپنی بنیادوں پر ٹھہرتے ہوئےتعمیری مراحل سےگزرتی ہیں۔
آج کا intellectual دانا و بینا نہیں رہا۔ وُہ اپنی intellectual ہونے کے زعم میں اسقدر مبتلا ہے کہ وُہ قوم کو تعمیر نہیں بخش رہا۔ وُہ انوکھی بات پیش کرنے کی عادت سے ملت کو مایوسی اور اضطراب دے رہے ہیں۔
تجزیہ خیالات کو فروغ دیتا ہے، دروغ پن چاشنی کے باوجود بیزاری پیدا کرتا ہے۔ واویلے حکمت سے عاری ہوتے ہیں۔وُہ بس سامعین کی رائے بدلتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ایک سچ کہتا ہے ننانوے کچھ اور ہی کہتے ہیں، حقیقت حقائق سے کچھ اور ہی حقیقت بن جاتی ہے۔ پیش آنےوالی نہیں، پیش کی جانے والی افواہ بیش بہاء انداز سے کی جاتی ہیں۔ آج انسان حقیقت سے محروم ہو رہا ہے، حقیقی چہرے معدوم ہو چکے ہیں۔ ہم کیا جانے حقیقی خوشی، حقیقی غمی کیا ہیں؟
ہم اصل حقائق سے بےخبر رکھے تو گئے ہی ہیں، اب غافل بھی ہو چکے ہیں۔ آزادیِ خیال ہی غلامیِ افکار ثابت ہوئی ہے۔ اِنسان آزادی کا خواہاں رہا ہے مگر آج ہنگامی خبر کی سرُخیوں نے انسانی سوچ کو مائوف کر ڈالا ہے۔ منفی پروپیگنڈہ کا رجحان انگریز نے برصغیر میں یوں پیدا کیا کہ جس قبیلہ نے انگریز کی غلامی قبول نہ کی، اُسکو معاشی و معاشرتی بدحالی سے دوچار کیا، جرائم پیشہ اور نکمے افراد حالات سے پیدا کیئے، ذاتوں کی تحقیق کے نام پر ایسے قبائل کےخلاف منفی اور غیر حقیقی آراء پیش کیں۔ مزید معاشرہ میں کردار کشی اور مکروہ القاب کےذریعہ سے اُنکے لیئےایسے حالات پیدا کر ڈالے کہ انگریز کا یہ افسانہ حقیقت کا روپ دھار گیا۔ آج بھی ہم ایسے پروپیگنڈہ کا شکار قبائل سے نفرت، اُنکی مسخ شدہ تاریخ سے کرتے ہیں۔ جبکہ اصل تاریخ سے ہم ناواقف ہو چکے ہیں۔ کھرل سپت رائےاحمد خان کھرل صاحب کی انگریز کے خلاف مزاحمت کا سامنا آج بھی کر رہے ہیں۔
پروپیگنڈہ expire ہو کر بھی کسی اور انداز سے سامنے آیا ہے۔ رِیت وہی رہی، مذہب کے نام پر اپنے مفاد کی جنگ، دین کی اشاعت کے نام پر اقتدار کی ہوس، حصول تخت کی خاطر مستحکم سلطنت کے نام پر نامزد ولی عہد بھائیوں کا قتل، آج جارحیت کے نام پر ہر طرح کی جارحیت۔ نعرے بدل چکے، امن اور سکون کے نام پر نیندیں کروٹیں بدلنے لگیں۔
جب ہم کسی کا سکون تباہ کرتے ہیں تو اپنا سکون بھی برباد کر ڈالتے ہیں۔ سوال تو اب یہ آن ٹھہرا ، اِن حالات میں امن، محبت، بھائی چارہ اور رواداری کا درس دینے والوں کے ہاں اب خیال کیا پرورش پائےگا؟ انقلاب یا انتقام جو بھی نتیجہ ہو تعمیر نہیں غارت گری ہے۔ ”صوفیاء کی سرزمین تعمیر“ کے حالات ہٹلر یا نپولین پیدا کرنے چل پڑے ہیں۔ منصوبہ ساز بہت کچھ طے کر چکے ہیں، جبکہ تقدیر ملت کچھ اور ہی طے ہے۔ (فرخ )

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

المیہ مشرقی پاکستان اور زبان کا مسئلہ ۔ ایک جائزہ

Posted on 17/12/2008. Filed under: پاکستان, تاریخ | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , |

١٩٥٢ء میں جب مرکزی حکومت نے بنگلہ زبان کے لئے عربی رسم الخط اختیار کرنے کی کوشش کی تو لسانی مسئلہ پھر سے کھڑا ہو گیا پاکستان کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین خود بنگالی تھے انہوں نے اردو کو قومی زبان بنانے کی تصدیق کی۔ خواجہ ناظم الدین کے اس اعلان سے حالات مزید بگڑ گئے اور مشرقی پاکستان میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ لسانی تحریک اس قدر پرتشدد تھی کہ مرکز اور صوبے میں تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اگر اس وقت ملک میں کوئی صیحح عوامی نمائندہ حکومت ہوتی تو حالات بہتر ہو سکتے تھے۔ دوسری طرف مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور پر بنگلہ کو قومی زبان تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کی لیکن مرکزی حکومت نے معاملے کو سلجھانے کی بجائے طول دینے کی پالیسی اختیار کی۔ بنگالیوں نے اسے مغربی پاکستان کی طرف سے اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش قرار دیا اور اپنے مطالبے کے لئے فروری ١٩٥٢ء میں مشرقی پاکستان میں ہڑتالوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ٢١ فروری کو پولیس کے ہاتھوں دو طالب علم ہلاک ہو گئے امن و امان کی نازک صورتحال کے باعث فوج طلب کرنا پڑی۔ اس تحریک نے گہرے اثرات چھوڑے اور اس میں ہلاک ہونے والوں کو بنگالی تحریک کے اولین شہداء کا خطاب دیا گیا۔ فسادات کو روکنے کے لئے جلسہ، جلوسوں اور پانچ سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی لگا دی گئی۔
مئی ١٩٥٩ء کے انتخابات میں جو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوئے  یونائٹیڈ فرنٹ نے ٢٣٧ میں سے ٢٢٣ نشتیں جیت کر مسلم لیگ کو زبردست شکست دی۔ مسلم لیگ کو صرف دس نشتوں سے کامیابی حاصل ہو سکی۔ یونائٹیڈ فرنٹ علاقائی اور صوبائی سیاسی قوتوں کا اتحاد تھا جس میں عوامی لیگ، کرسک سرامک پارٹی، نظام اسلام پارٹی، گاناتانتری عادل شامل تھیں۔ فرنٹ سے ٢١ نکات پر مبنی ‘منشور آزادی‘ کی بنیاد پر انتخاب میں حصہ لیا۔ منشور  کی بنیاد ہی صوبائی عصیبت اور مرکز خلاف سرگرمیوں کو فروغ دے کر خود مختاری حاصل کرنا تھی۔ اس اتحاد کے رہنما حسین شہید سہروردی اور اے کے فضل الحق تھے۔ سہروردی تقسیم ہند سے قبل مسلم لیگ بنگال کے صدر رہ چکے تھے۔ اور ان سے دس سال قبل اے کے فضل الحق مسلم لیگ کے صدر تھے۔ فرنٹ نے اپنے منشور میں کہا تھا ‘درس و تدریس کے لئے مشرقی زبان بنگالی کو نصاب کا لازمی جزو بنا جائے‘ انتخاب کے بعد صوبے میں صنعتی بدامنی بلوؤں مظاہروں اور قتل و غارت کا آغاز ہو گیا صوبے میں کئی مقامات پر بنگالیوں کے درمیان خوفناک تصادم ہوئے جن میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔
١٩٥٦ء کے آئین نے بھی دونوں حصوں کو قریب لانے کی بجائے ان میں دوریاں پیدا کیں۔ مشرقی پاکستان کی پارٹیاں مخلوط طریقہ انتخاب کے حق میں اور ون یونٹ کی تشکیل کے خلاف تھیں۔
جنرل محمد ایوب خان کے دور مین بنگالیوں کے احساس محرومی اضافہ ہوا، فوج میں ان کی تعداد پہلے ہی بہت کم تھی۔ فوج کے لئے ان کے جذبات مغربی پاکستان کے عوام سے مختلف تھے۔
١٩٦٢ء کا آئین بھی بنگالیوں کو مطمئین نہیں کر سکا۔ لسانی بنیادوں پر پیدا ہونے والے اختلافات بڑھتے چلے گئے اور ان اختلاف کا دائرہ زندگی کے تمام شعبوں میں پھیل گیا۔ ایوب خان کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مشرقی پاکستان میں نوجوان طبقہ تحریک میں آگے آگے تھا۔ پرتشدد مظاہروں اور جھڑپوں میں کئی نوجوان ہلاک اور زخمی ہوئے اور سینکڑوں گرفتار ہوئے۔ ایوب خان کے آخری دنوں میں اور یحییٰ خان کے دور میں مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا وہ ہماری تاریخ کا تلخ باب ہے جس کا انجام مشرقی پاکستان کی علحیدگی کی صورت میں ہوا۔ مشرقی پاکستان میں زبان کے مسئلے پر اختلافات آزادی کے فوراََ بعد شروع ہوئے تھے اگر اس مسئلے کو طاقت اور محلاتی سازشوں کے ذریعے حل کرنے کی بجائے سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو شاید پاکستان آج آدھا نہ ہوتا، ہم مکمل قوم ہوتے۔

حصہ اول کے لئے یہاں کلک کریں۔

۔۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

المیہ مشرقی پاکستان اور زبان کا مسئلہ ۔ ایک جائزہ

Posted on 15/12/2008. Filed under: پاکستان, تاریخ | ٹيگز:, , , , , , , |

قیام پاکستان سے قبل ہی بہت سے بنگالی دانشوروں اور سیاستدانوں نے انگریزوں سے خود مختیار اور آزاد بنگال کا مطالبہ شروع کر دیا تھا ان کے ذہن میں اول دن سے یہ بات تھی کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں رہنے والے ایک قوم نہیں بلکہ دو قومیں ہیں۔ بنگالی مسلمانوں کی زبان اور ثقافت مغربی پاکستان میں رہنے والوں سے یکسر مختلف ہے اور صرف اسلام کے نام پر وہ متحد نہیں رہ سکتے اس تعصب کو فروغ دینے میں بنگال میں رہنے والے ہندوؤں نے اہم کردار ادا کیا۔ ١٩٤٠ء میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جانے والی قرارداد میں خود مختار ریاست کے تصور پیش کئے گئے اور قرارداد میں ‘علحیدہ اور خود مختار ریاستوں‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ ١٩٤٦ء میں قرارداد لاہور میں لفظ ریاستوں کو حذف کر دیا گیا اور مغربی اور مشرقی پاکستان بطور ایک ریاست شامل کیا گیا۔ بنگالیوں نے اپنے ہاں علحیدگی اور الگ خود مختار ریاست کا خواب دیکھا تھا اس لئے حسین شہید سہروردی نے اپنی ٢٧ اپریل ١٩٤٧ء کی پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا تھا کہ ‘ہمیں تقسیم شدہ ہند میں ایک خود مختار، علحیدہ اور متحدہ بنگال چاہیئے‘۔ تقسیم کے وقت بنگالیوں کی اکثریت کی خواہش تھی کہ بنگلہ کو پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دیا جائے لیکن قائداعظم محمد علی جناح نے ١٩٤٨ء میں ڈھاکہ جا کر اعلان کیا کہ ‘پاکستان کی واحد قومی زبان اردو اور صرف اردو ہو گی‘۔ بدقسمتی سے قائداعظم جلد ہی ہم سے جدا ہو گئے ان کی وفات کے بعد لیاقت علی خان مشرقی پاکستان میں زبان کے مسئلے پر اٹھنے والے اختلاف کو دبانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے قوم پرست بنگالیوں نے مشرقی پاکستان کے عوام کو مغربی پاکستان کے خلاف خوب بھڑکایا۔ لسانی بنیادوں پر فسادات شروع ہو گئے یہ پاکستان کا ابتدائی دور تھا ابھی آئین کی تشکیل کا کام باقی تھا لسانی اختلاف کا یہ نتیجہ نکلا کہ مشرقی پاکستان کے مقامی رہنماؤں نے مغربی پاکستان کی قیادت پر بھی عدم اعتماد کرنا شروع کر دیا اور یہ کہا جانے لگا کہ مغربی پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور رہنما کسی صورت مشرقی پاکستان کے رہنے والوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کریں گے۔ ١٩٥١ء کی رائے شماری کے مطابق مغربی پاکستان کی کل آبادی تین کروڑ تیتیس لاکھ انتیس ہزار اور مشرقی پاکستان کی آبادی چار کروڑ بیس لاکھ ٹریسٹھ ہزار تھی۔ مشرقی پاکستان کا موقف تھا کہ مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں پنجاب، بلوچستان، سرحد اور سندھ میں چار مختلف قومیں ہیں ان کی زبانیں علحیدہ علحیدہ ہیں اردو ان میں سے کسی صوبے کی زبان نہیں جبکہ بنگالی چار کروڑ انسانوں کی زبان ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ڈھاکہ میں اپنی تقریر میں ان خدشات کا اظہار کر دیا تھا جو مشرقی اور مغربی پاکستان کی علحیدگی کا سبب بن سکتے تھے۔

‘میں اس صوبے کے لوگوں کو مشورہ دینا چاہتا ہوں، ایک خاص طبقہ میں قابل افسوس رحجان نظر آ رہا ہے یہ طبقہ نومولود آزادی کو اپنی آزادی نہیں سمجھ رہا جس سے ایک طرف اگر عظیم مواقع پیدا ہوئے ہیں تو دوسری طرف عظیم ذمہ داریاں بھی عائد ہوئی ہیں بلکہ وہ اسے بے معیار آزادی سمجھ رہے ہیں انہیں اس امر کی مکمل آزادی ہے کہ وہ آئینی ذرائع اور اپنی منشا کے مطابق حکومت بنائیں تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب کوئی گروہ غیر قانونی طریقوں سے اپنی مرضی ٹھونس سکے میں آپ سے صاف صاف پوچھنا چاہتا ہوں کہ جن ہندوستانی اخبارات اور سیاسی اداروں نے پاکستان کی تخلیق روکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا وہ یکایک مشرقی بنگال کے مسلمانوں کے ‘منصفانہ مطالبات‘ کے اتنے ہمدرد اور علمبردار کیوں ہو گئے ہیں۔ کیا یہ شیطانی صورتحال نہیں؟ کیا یہ بات واضح نہیں ہے کہ مسلمانوں کو حصول پاکستان کی جدوجہد میں ناکام نہ کر سکنے کے بعد اب یہ ادارے پاکستان کو اس طرح سے اندر سے تباہ کرنا چاہتے ہیں کہ اپنے شرانگیز پروپیگنڈے سے مسلمان بھائی کو دوسرے مسلمان بھائی سے لڑا دیں ؟ اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ صوبائی عصیبت کے اس زہر کے بارے میں ہوشیار رہیں جو دشمن ہمارے ملک میں پھیلانا چاہتا ہے‘۔

قائداعظم کی اس تاریخی تقریر کے بعد لسانی تحریک کا زور کم ہو گیا۔

حصہ دوم

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

عجیب قوم ہیں ہم!

Posted on 02/11/2008. Filed under: پاکستان, تاریخ, سیاست |

ابھی [[پرویز مشرف]] کی دھول ختم اور تڑپتی روحوں کو سکون نہیں ملا کہ ایک اور مشرف کی آمد کے نغمے گائے جا رہے ہیں۔
ایسا کیوں ہے؟
یقینا یہ سیاستدانوں کی بہت بڑی ناکامی ہے۔

ان سیاستدانوں کے الیکشن منشور کچھ اور ہوتے ہیں اور اقتدار کا ایجنڈا کچھ اور ہوتا ہے۔ جس سے عوام بہت جلد ان سے بددل ہو جاتی ہیں۔ اس وقت عوام اور سیاستدان دو دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک دھڑہ طالبان کے نام پر اپنی سیاست چمکا رہا ہے تو دوسرا طالبان کے تصور اسلام کا مخالف اور حکومت کا حامی و مددگار بلکہ وظیفہ خوار بن چکا ہے۔ مگر حقیقت میں دونوں ہی غلط ہیں دونوں ہی پاکستان اور اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
دراصل عوام نے آج تک کسی سیاستدان کا محاسبہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے یہ پوچھا کہ وہ اپنے الیکشن منشور پر کتنی حد تک عمل پیرا ہے۔ اگر عوام سیاستدانوں کا ‘انٹرویو‘ کرتے تو آج صورتحال قطعی مختلف ہوتی۔ ہمارے نظام کی گندگی بڑھتے بڑھتے اب ایک بہت بڑے گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس وقت ہمیں بھل صفائی کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک قوم اپنی آستینیں چڑھا کر اور پاجامے تخنوں سے اوپر کر کے اس گندگی کے دھیڑ میں اتر کر اس کی صفائی نہیں کرے گی تب تک آمروں اور مفاد پرست سیاستدانوں سے جان نہیں چھوٹے گی۔
عجیب قوم ہیں ہم !!!!!!!! کنوئیں میں پڑے کتے کو نکالنے کی بجائے پانی نکال کر کنویں کو پاک کرنا چاہتے ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

مسلمانی

Posted on 14/10/2008. Filed under: پاکستان, اسلام, تاریخ, رسم و رواج |

کالم . جاوید چوہدری، روزنامہ ایکسپریس

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ڈکٹیٹروں کے شوق

Posted on 11/02/2008. Filed under: تاریخ, سیاست |

کالم نگار کا ٹھیک طرح سے معلوم نہیں، اندازِ تحریر سے لگتا ہے کہ جاوید چوہدری ہی ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

قائد کی دلی خواہش

Posted on 25/12/2007. Filed under: پاکستان, تاریخ |

قائد اعظم کی دلی خواہش تھی کہ پاکستان میں عہد فارقی کی تصویر عملی طور پر کھنچی جائے۔ ٢١ مارچ ١٩٤٨ کو آپ نے بدعناصر کو مکاطب کر کے فرمایا کہ
‘‘ پاکستان قائم ہو چکا ہے اور یہ مسلمانوں کی قربانیوں سے بنا ہے۔ پاکستان کے مقاصد میں کامیاب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں میں مکمل اتحاد و اتفاق ہو۔ ہمارا خدا، رسول، کلمہ اور قرآن ایک ہے۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایک ہو کر اپنے ملک اور مذہب کی اشاعت اور ترقی کے لئے انتھک جدوجہد نہ کریں اگر آپ نے مکمل اتحاد و تعاون اور صحیح اسلامی جوش و خروش سے کام کیا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان جلد ہی دنیا کے عظیم ترین ممالک میں شمار ہونے لگے گا۔ تعمیر پاکستان کے لئے مسلمانوں کے تمام عناصر اور طبقوں میں یک جہتی اور اتحاد ضروری ہے۔
میں نے مسلمانوں اور اسلام کی جو خدمت کی ہے وہ اسلام کے ادنٰی سپاہی اور خدمت گزار کی حثیت سے کی ہے اب پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے آپ میرے ساتھ مل کر جدوجہد کریں۔
میری آرزو ہے کہ پاکستان صحیح معنوں میں ایک ایسی مملکت بن جائے کہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سنہری دور کی تصویر عملی طور پر کھنچ جائے۔ خدا میری اس آرزو کو پورا کرے۔
پاکستان میں کسی ایک طبقے کو لوٹ کھسوٹ اور اجارہ داری کی اجازت نہیں ہو گی۔ پاکستان میں بسنے والے ہر شخص کو ترقی کے برابر مواقع  میسر ہوں گے۔ پاکستان امیروں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور نوابوں کی لوٹ کھسوٹ کے لئے نہیں بنایا گیا۔ پاکستان غریبوں کی قربانیوں سے بنا ہے، پاکستان غریبوں کا ملک ہے اور اس پر غریبوں کو ہی حکومت کا حق حاصل ہے۔ پاکستان میں ہر شخص کا معیار زندگی اتنا بلند کر دیا جائے گا کہ غریب اور امیر میں کوئی تفاوت باقی نہ رہے گا۔ پاکستان کا اقتصادی نظام اسلام کے غیرفانی اصولوں پر ترتیب دیا جائے گا یعنی ان اصولوں پر جنہوں نے غلاموں کو تخت و تاج کا مالک بنایا۔‘‘

آہ! مگر قائد کی زندگی نے وفا نہ کی اور پاکستان کی باگ دوڑ امیروں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور نوابوں کے ہاتھوں میں چلا گیا جو ٤٧ سے آج تک عوام کا خون چوس رہے ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...