سرائیکی وسیب

سرائیکی کارڈ

Posted on 05/07/2009. Filed under: پاکستان, سیاست, سرائیکی وسیب | ٹيگز:, , , , , , |

لنک

لنک

Read Full Post | Make a Comment ( 7 so far )

شادی کی خوبصورت رسمیں ۔ حصہ دوم

Posted on 12/11/2007. Filed under: رسم و رواج, سرائیکی وسیب |

حصہ اول پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیئے۔
شادی کی رسم میں برات (بارات) سب سے اہم اور دلچسپ مرحلہ ہے۔ پہلے وقتوں میں برات سجے سجائے اونٹوں پر جاتی تھی، اونٹوں پر کچاوے رکھ کر اس پہ بیٹھا جاتا تھا اور اونٹوں کی ایک لمبی قطار ہوتی تھی۔ سب سے آگے والے اونٹ کو مرھی کہا جاتا تھا، جس پر دلہن کو بیٹھا کر لایا جاتا تھا، دوسرے تمام باراتی پیدل چلتے تھے صرف خواتین کو اونٹوں پر سواری کرتی تھی۔ دلہا بھی اپنی دلہن کے کچاوے کو سہارا دیئے سارا راستہ پیدل چلتا رہتا تھا۔ اصل بارات یعنی جنج یہی تھی لیکن اب اونٹوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔ اس لئے اب باراتیں پیدل، بیل گاڑیوں، ٹریکٹر ٹرالیوں، بسوں اور کاروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ لیکن برات کا اصل حسن پیدل جانے اور آنے والی برات میں ہے۔ سب سے آگے ڈھول نقارے اور بین والے ہوتے ہیں، دلہا اور سربالا اس کے بعد باراتی ہوتے ہیں۔ دوست اور رشتے دار نوجوان سارا راستہ بھنگڑے ڈالتے جاتے ہیں، جہاں جہاں سے برات گزرتی ہے لوگ گھروں سے باہر آ کر اسے دیکھتے ہیں، بچے اور خواتین تو بڑے شوق سے برات دیکھتے ہیں۔ جونہی یہ برات لڑکی والوں کے گھر کے قریب پہنچتی ہے جوش اور جذبے میں مزید تیزی آ جاتی ہے۔ دلہن کے گھر سے ذرا فاصلے پر برات کچھ دیر کے لئے رک جاتی ہے اور لڑکی کے گھر میں موجود خواتین اور بچے دروازے اور دیواروں کے اوپر سے اس کا نظارہ کرتی ہیں۔ ویلیں دینے، بھنگڑا ڈالنے کے بعد اس برات کا لڑکی والے استقبال کرتے ہیں۔ خواتین گھر اور مرد باہر لگے ٹینٹوں، شامیانوں یا درختوں کے نیچے رکھی چارپائیوں، کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ لڑکی کی ماں اور دیگر خواتین لڑکے کی طرف سے آنے والی خواتین کو دروازے پر روک لیتی ہیں اور اندر سے دروازہ بند کر دیتی ہیں۔ دلہے کی ماں جب تک اندر پھیلائے ہوئے کپڑے جسے جھل کہتے ہیں میں رقم نہ ڈالے دروازہ نہیں کھولا جاتا۔ بعض دفعہ ہلکی پھلکی مذاق بھی کی جاتی ہے اور اندر داخل ہونے والی خواتین کو درختوں کی ٹہنیاں بھی ماری جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ لڑکے والے خوشی سے برداشت کرتے ہیں۔ دلہا کا برادری کی موجودگی میں نکاح پڑھایا جاتا ہے۔ دلہے کے والد کو سب لوگ مبارک باد دیتے ہیں اور پھر دلہا وہاں موجود سب افراد کے پاس سلام کرتا ہے اور لوگ اسے سلامی میں رقم پیش کرتے ہیں۔ پھر نائی سب لوگوں سے ایک مخصوص رقم جو سو سے لیکر ہزار تک کی ہو سکتی ہے بطور نیندر وصول کرتا ہے اور بلند آواز میں کہتا ہے فلاں شخص نے جس کی قوم فلاں اور فلاں جگہ کا رہنے والا ہے نے اتنے سو نیندر اور اتنے روپے ویل دی ہے۔ ایک آدمی رقم وصول کرتا جاتا ہے اور کاپی میں درج کرتا جاتا ہے۔ دلہا کو اس کے بعد دلہن کے گھر لے جایا جاتا ہے۔ (یہاں سے دلہے کو لوٹنے کا عمل شروع ہوتا ہے) جہاں پر دلہن تیار ہو کر گھونگھٹ میں بیٹھی ہوتی ہے، اندر داخل ہوتے ہی دلہے کی سالی اسے دودھ کا گلاس پیش کرتی ہے اور دودھ پلائی وصول کرتی ہے۔ دلہے کی بہن عموماََ چھوٹی بہن دلہے کی لنگی یا قمیض کا ایک کونہ مضبوطی سے باندھ دیتی ہے، اسے پلو بندھائی کہتے ہیں۔اور یہ خواہش ہر بہن کو ہوتی ہے، پلوبندھائی کے غوض چھوٹی بہن منہ مانگی رقم وصول کرتی ہے۔ جہاں دلہن بیٹھی ہوتی ہے اس کے کچھ فاصلے پہ ایک مضبوط پیندے والا مٹی کا برتن رکھا جاتا ہے، دلہے کو ایڑی کے زور پر اسے پہلی ٹھوکر میں توڑنا ہوتا ہے اگر دلہا اس میں ناکام رہے تو ساری لڑکیاں اس پہ زور زور سے ہنستی ہیں اور دلہے کو شرمساری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد دلہے کو جوتا اتار کر دلہن کے پاس بیٹھنے کو کہا جاتا ہے وہ جونہی جوتا اتارتا ہے، تاک میں بیٹھی ہوئی سالی جوتا چھپا دیتی ہے۔ ننگے پاؤں چلنے کے خوف سے دلہا کچھ دیکر ہی اپنی جان چھڑواتا ہے۔ اس کے بعد رخصتی کا وقت آ جاتا ہے۔ ماں باپ دل پر ہاتھ رکھ کر آنسوؤں اور نیک دعاؤں کے ساتھ لاڈوں سے پلی بیٹی کو رخصت کر دیتے ہیں۔ دلہا والے دلہن کو لیکر ہنسی خوشی ناچتے گاتے ہوئے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔
گھر پہنچنے سے قبل کسی دربار پر پہنچ کر دعا بھی کی جاتی ہے۔ سسرال میں دلہن اپنے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے دروازہ پکڑ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اسے موہاڑی پکڑنا کہتے ہیں۔ اس موقع پر دلہن کا سسر یا خاوند دلہن کو کہتا ہے فلاں گائے یا بھینس تمھاری ہے، نقد رقم دینے کا بھی رواج ہے۔ پھر دلہن کمرے کے اندر داخل ہوتی ہے۔ گھونگھٹ اٹھانے سے قبل دلہن دلہے سے گھنڈ کھلائی لیتی ہے۔
شادی کے ساتوین دن  دلہن کی ماں اپنے رشتے داروں کے ہمراہ اپنی بیٹی کے گھر آتی ہے اور اپنی بیٹی اور داماد کو اپنے ساتھ لے آتی ہے اسے ست واڑہ کہتے ہیں۔ دوسرے دن دلہن اور دلہا واپس اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔ اس طرح آنے جانے اور میل ملاپ   کا سلسلہ پوری زندگی چلتا رہتا ہے۔
 — ختم شد —

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

شادی کی خوبصورت رسمیں

Posted on 07/11/2007. Filed under: رسم و رواج, سرائیکی وسیب |

جنرل مشرف کی طرف سے ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی کی وجہ سے کنواروں کے مزے ہو گئے ہیں۔ ہر طرف سے بینڈ، باجوں اور شہنائیوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ ماحول اور موسم کے مطابق آجکل شادیوں کی رسمیں زوروں پر ہیں۔ یہاں ڈیرہ غازی خان میں ہر جمعرات، جمعہ اور ہفتے کی راتوں میں آدھے شہر کی سڑکیں ٹینٹوں اور قناعتوں کی وجہ سے بند ہوتی ہیں۔ خود مجھے ایک ماہ سے مسلسل ہر ہفتے دو تین شادیوں میں شرکت کرنی پر رہی ہے، اس وجہ سے میں نے سوچا کہ کیوں نہ آپ کو سرائیکی خطے میں شادی کی خوبصورت رسمیں متعارف کرائی جائیں۔
شادی ایک خوبصورت بندھن اور مقدس فریضہ ہے۔ سرائیکی خطے کے لوگ عرصہ دراز سے اس کی ادائیگی اپنے روایتی طریقے سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ سائنس اور کمپیوٹر کے اس تیز رفتار دور میں جہاں خود انسان متاثر ہوا ہے وہاں ان  رسموں میں بھی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں مگر ان رسموں کی بنیاد وہی زمانہ قدیم والی ہی ہیں۔
جس گھر میں لڑکی پیدا ہوتی ہے ماں، باپ اسی دن سے اس کی رخصتی کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں۔ ماں ہر وقت بیٹی کے اچھے نصیب کی دعائیں کرتی رہتی ہے۔ سرائیکی خطہ پسماندگی اور غربت کا شکار ہے اس لئے دیہی خواتین اپنی جمع پونجی اور مال مویشی پال کر آہستہ آہستہ ‘ڈاج‘ یعنی جہیز اکٹھا کرتی رہتی ہیں، کیونکہ ایک ہی وقت میں وہ پورا انتظام نہیں کر سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیٹی کی تربیت، اسے ہنرمند بنانے اور کھانے پینے میں مہارت پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ جب لڑکی جوان ہو جاتی ہے تو ماں باپ پہلی فرصت میں مناسب ‘ور‘ یعنی رشتہ ملتے ہی اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کر دیتے ہیں۔ شادی کی رسومات کئی مرحلوں اور دنوں پر مشتمل ہوتی ہیں لیکن مل جل کر کام کرنے کی وجہ سے بڑی آسانی سے تمام مراحل طے ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلے لڑکے کے گھر سے اس کی ماں یا کوئی قریبی رشتے دار عورت لڑکی والوں کے گھر جاتی ہے۔ لڑکی کو ہر لحاظ سے دیکھ کر، گھر اور دیگر چیزوں کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔ اگر لڑکی پسند آ جائے تو اپنے گھر والوں خصوصاََ شوہر کو رضا مند کیا جاتا ہے۔ ادھر لڑکی کی ماں اپنے شوہر سے رشتے کے بارے میں بات کرتی ہے۔ اس کے بعد خواتین کا ایکدسرے کے گھر میں آنا جانا، تحفے تحائف دینا شروع ہو جاتا ہے۔ بالآخر جب دونوں خاندان رشتہ کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں تو ایک رات مخصوص کر دی جاتی ہے، اُس رات لڑکے والے اپنے چند قریبی رشتے داروں کے ہمراہ لڑکی والوں کے گھر آتے ہیں اور اس رات شادی کی تاریخ طے کی جاتی ہے جسے گنڈھیں باندھنا کہتے ہیں۔ اس موقع پر گڑ، بتاشے یا لڈو بانٹتے ہیں۔ تاریخ ایک سے دو ماہ کے اندر رکھی جاتی ہے اور زیادہ تر چاند کی تاریخ پر شادیاں رکھی جاتی ہیں، چاند کی چودھویں کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔
سردی اور گرمی میں مہمانوں کو ٹھہرانے کے لئے مسئلہ ہوتا ہے اس لئے کوشش کی جاتی ہے کہ شادی ٹھنڈے میٹھے موسم یعنی اکتوبر، نومبر یا فروری، مارچ میں کی جائے۔ تاریخ طے ہوتے ہی دونوں طرف سے شادی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ مکانوں کو میں چکنی مٹی یا رنگ روغن سے سجایا جاتا ہے۔ شادی سے چند دن قبل لڑکے کے گھر والے، لڑکی کے گھر والوں کو لیکر بازار جاتے ہیں جہاں سے لڑکی اور لڑکے کے لئے کپڑے، میک اپ کا سامان اور زیور وغیرہ خریدا جاتا ہے۔ اس سامان کو ‘وڑی‘ کہتے ہیں اور یہ لڑکے والوں کے خرچے پر ہوتا ہے۔ لڑکی والے بھی باقی ماندہ جہیز کی چیزیں خریدتے ہیں۔
شادی سے دو روز قبل خواتین کا ایک فنکشن ہوتا جسے مینڈھی کہتے ہیں۔ لڑکے کے گھر سے بہت بڑی تعداد میں خواتین ڈھولک بجاتی ہوئی اور خوشی کا اظہار کرتی ہوئی لڑکی والوں کے گھر آتی ہیں۔ یہاں پر ‘جھمر‘ یعنی جھومر ڈالی جاتی ہے اور ڈھولک پر خوشی کے گیت گائے جاتے ہیں۔ دلہن کو باہر صحن میں لایا جاتا ہے اور ایک بزرگ خاتون دلہن کے بالوں میں گندھی ہوئی مینڈھی یعنی بالوں کے بل کھولتی ہیں۔ شادی سے قبل لڑکیاں اپنے بالوں کو رسی کی طرح بل دے کر باندھے رکھتی ہیں۔ مینڈھی سے لیکر شادی تک دلہن بلاضرورت کمرے سے باہر نہیں نکلتی۔
لڑکے والوں کے گھر شادی سے ایک دن قبل رشتے دار اکھٹے ہو جاتے ہیں جن  کی رہائش کے لئے نزدیکی ہمسائیوں کے گھروں سے چارپائیاں، بستر اور دیگر سامان اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اس خاص موقع پر ہمسائے بہت تعاون کرتے ہیں۔ جن لوگوں کو رات کا بلاوا ہوتا ہے وہ اکثر دور کے رشتے دار ہوتے ہیں، اس لئے وہ سرشام ہی آ جاتے ہیں۔ شادی کے بلاوے کے لئے علاقے کا نائی ہر گھر جا کر دعوت دیتا ہے کہ فلاں دن مینڈھی، فلاں دن جاگا اور فلاں دن رخصتی اور ولیمہ ہے۔
جس دن شادی ہوتی ہے اس رات گھر میں جاگا منعقد کیا جاتا ہے۔ خواتین لڈی، جھومر اور بھنگڑے ڈالتی ہیں اور مراثن گانے گاتی ہے، مرد حضرات باہر چوپال میں ڈھول کی تھاپ پر جھومر اور بھنگڑے ڈالتے ہیں۔
یہ فنکشن رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ شادی والے دن گھر والے برات ‘بارات‘  کے لئے کھانے کے انتظام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اکثر شادیوں میں دلہن کا گھر نزدیک ہونے کی وجہ سے کھانا اور برات ایک ہی دن ہوتے  ہیں۔ سرائیکی خطے میں اکثر شادیاں اسی وسیب میں کی جاتی ہیں، برادری سے باہر یا دور بہت کم شادیاں ہوتی ہیں۔ کھانے کا انتظام حسب توفیق کیا جاتا ہے۔ عام طور پر سالن روٹی یا گوشت چاول پکائے جاتے ہیں۔ جانور ذبح کرنا، دیگیں پکانا اور تقسیم کرنا سب کام مل جل کر کیا جاتا ہے۔ جوں جوں مہمان آتے جاتے ہیں انہیں عزت و احترام سے بیٹھا کر کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ خواتین صحن میں بچھی ہوئی چٹائیوں پر بیٹھ کر کھانا کھاتی ہیں۔ کھانا کھا کر بارات کی روانگی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک دلہا ‘دولہا‘ پھٹے پرانے کپڑوں میں دلہن کے گھر جا کر وہی نئے کپڑے پہنتا تھا مگر اب رواج بدل گیا ہے۔ دلہا کو پوری برادری سر پر خوشبودار تیل لگاتی ہے۔ دلہا کے ساتھ ایک آدمی مستقل طور پر رہتا ہے جسے سربالا کہتے ہیں۔ دلہا کے ہاتھ میں تلوار، کلہاری، بندوق، چاقو، یا لوہے کی کوئی چیز ضرور ہوتی ہے۔ اس کے بعد کسی مسجد کے سامنے جا کر دلہے کے ہاتھ میں اس  کا دادا، چچا یا قریبی بزرگ رشتے دار گانا پہناتے ہیں، یہ لال رنگ کے دھاگوں سے بنا ہوا ہوتا ہے۔ تمام لوگ دعا مانگتے ہیں۔ دلہا کو پوری برادری کے درمیان کھڑا کیا جاتا ہے اور درود شریف پڑھ کر پگڑی کو پھونک ماری جاتی ہے اور نائی دلہے کو نئے کپڑے پہناتا ہے۔ اس موقع پر ڈھول اور نقارہ پر خاص دھن بجائی جاتی ہے۔ مراثی اور نائی کو ہر شخص ویل دیتا ہے اور باقاعدہ باآواز بلند اعلان کیا جاتا ہے کہ دلہے کے نام پر دلہے کے فلاں رشتےدار یا شخص نے اتنے روپے ویل دی۔ دلہا کے کپڑے سفید،  ساتھ میں پگڑی اور ایک لنگی ضرور ہوتی ہے۔ اس موقع پر دلہے کے دوست اور رشتےدار نوٹوں کے ہار ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد بارات روانہ ہو جاتی ہے۔
حصہ دوم پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیئے

Read Full Post | Make a Comment ( 6 so far )

سرائیکی وسیب کی محرومیاں، نئے بجٹ کی روشنی میں۔2

Posted on 28/06/2007. Filed under: سرائیکی وسیب |

ظہوراحمد دھریجہ مزید لکھتے ہیں: وزارت خزانہ حکومت پاکستان نے خوشحال پاکستان پروگرام کے تحت 68555.989ملین کی لاگت کے 88منصوبے منظور کئے۔ ان 88منصوبوں میں بدحال سرائیکی علاقے کے لئے کچھ نہیں۔ وزارت خزانہ کا اپنا آئین شاید پاکستان کے بدحال علاقوں کو خوشحال بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ وزارت تعلیم کے 103منصوبے جو 44179.103ملین کی لاگت سے مکمل ہوں گے۔ ان میں فورٹ منرو کیڈٹ کالج کے علاوہ سرائیکی وسیب کے لئے کچھ نہیں۔ وزارت صحت کے 100منصوبے 95549.418ملین کی لاگت سے مکمل ہوں گے، بجٹ کتاب کا مطالعہ کریں تو صحت کے ان 100منصوبوں میں اسلام آباد، کراچی اورلاہور کے منصوبہ جات کی بھرمار ہے، ایسے لگتا ہے کہ بیمار صرف ان شہروں میں رہتے ہیں باقی سارا ملک بیماریوں سے پاک ہو چکا ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت 124منصوبے 37295.676ملین کی لاگت سے مکمل کرے گی، سرائیکی علاقے وہاڑی سے تعلق اور سرائیکی وسیب سے بے پناہ محبت کرنے والے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نواب اسحاق خان خاکوانی کو شاید اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ ان 124منصوبوں میں سے سرائیکی وسیب کے لئے ایک بھی نہیں اگر ان کو اس کا علم ہوتا تو وہ بجٹ کا اعلان سنتے ہی استعفیٰ دے کر گھر آجاتے۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت نے 23856.902 ملین کے 141منصوبوں میں سرائیکی وسیب کو 79ملین این ایف سی کالج کے لئے بہبود آبادی نے 21345.053ملین کے 30منصوبوں میں ملتان کیمپ آفس کے لئے محض پانچ ملین۔ سوشل ویلفیئرکی وزارت نے 4865.577ملین کے 77منصوبوں میں سے سرائیکی وسیب کو ڈیرہ غازی خان، رحیم یارخان، اوکاڑہ اور جھنگ سنٹروں کی مرمت کے لئے (سب کو ملا کر) صرف 61ملین دیئے۔ محنت و افرادی قوت کی وزارت نے 657.015ملین کے 13منصوبوں میں سرائیکی وسیب کو ایک بھی نہیں دیا۔ اس طرح وزارت ماحولیات کے 24299.921ملین کے 48منصوبے، وزارت ثقافت کے 20منصوبے تخمیناً لاگت 2190.761ملین، اور منسٹری آف سپورٹس کے 1081.305ملین کے 39منصوبوں میں سے سرائیکی وسیب کے لئے کچھ نہیں۔ ملتان کے سکندر خان بوسن کی وزارت خوراک و زراعت بھی 19162.946ملین کے 63منصوبوں میں سے کوئی منصوبہ سرائیکی وسیب کودینے کی سخاوت سے خالی ہے۔ پلاننگ کمیشن کا ہر کام پلاننگ کے مطابق ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ پلاننگ کمیشن نے اپنے 49688.669ملین کے 35منصوبوں میں سے سرائیکی وسیب کے لئے کسی ایک منصوبے کوبھی ہوا نہیں لگنے دی۔ وزارت صنعت و پیداوار کے 21منصوبے تخمینہ لاگت 17681.624ملین کی وزارت تجارت کے 9منصوبے تخمیناً لاگت 9515.961ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے 52منصوبے تخمیناً لاگت 5576.247اور نارکوٹکس کنٹرول کے 15منصوبے جن کا تخمینہ لاگت 3037.477ملین ہے، میں سے سرائیکی وسیب کا کوئی حصہ شامل نہیں۔ احمد پورشرقیہ کی مردم خیز دھرتی کے سپوت محمد علی درانی کی وزارت اطلاعات و نشریات میں 6051.880ملین کے 45منصوبوں میں صرف ملتان ٹی وی اسٹیشن کے لئے 280ملین رکھے گئے ہیں، اس رقم سے نہ جانے زمین کی رقم ادا ہوگی، بلڈنگ بنے گی یا پھر مشینری آئے گی، ملتان ٹیلی ویژن کا افتتاح ہوئے بھی دو سال گزر گئے مگر ہر طرف خاموشی ہے اگر یہی حال اور یہی رفتار رہی توملتان ٹیلی ویژن کی خاموشی اگلے پانچ سالوں میں بھی ختم نہ ہو سکے گی۔ محمد علی درانی توجہ کریں کم ازکم یہاں ریکارڈنگ شروع کرائیں، یہاں عملہ بھرتی کریں اور یہاں سے پروگرام چلوائیں تاکہ ملتان ٹیلی ویژن کے افتتاح کا مذاق توختم ہو۔ یاد ہے جاوید جبار صاحب وزیر اطلاعا ت تھے ہم ان سے ملے اور ٹیلی ویژن اسٹیشن والوں کی طرف سے سرائیکی وسیب کی حق تلفیوں کی بات کی تو انہوں نے فوری آرڈر کیا۔ دوسرے دن نیلام گھر اور میوزک پروگراموں کی ریکارڈنگ کے لئے لاہور ٹی وی والے ملتان آرٹس کونسل پہنچے ہوئے تھے اسی طرح اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے 45منصوبے 1236.025ملین سے مکمل ہوں گے مگر سرائیکی وسیب کے لئے کوئی منصوبہ نہیں۔ لاء اینڈ جسٹس ڈویژن میں بھی 19992.516ملین سے سرائیکی وسیب کے نصیب میں کوئی حصہ نہیں آیا۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ جو 5کروڑ آبادی پر وسیع خطہ سرائیکستان سے سب سے زیادہ ریونیو حاصل کرتا ہے، اس نے 12229.296ملین کے 69منصوبے منظور کرائے اس میں سرائیکی وسیب کوساہیوال، ملتان اور بہاولپور کے کسٹم ہاؤسزکی مرمت کے لئے محض 82ملین ملیں گے ٹیکسٹائل انڈسٹری اور شوگر انڈسٹری جس کی مجموعی خام پیداوار کا 80فیصد سرائیکی وسیب مہیا کرتا ہے اس انڈسٹری کا صنعت کار جو اس علاقے کے غریبوں کا خون چوس رہا ہے، کی حکومت مسلسل سرپرستی کررہی ہے۔ شوگر مافیا نے انڈسٹری سرائیکی وسیب میں قائم کی ہے مگر مقامی لوگوں کو روزگارنہیں دیتے۔ ٹیکسٹائل والے کپاس یہاں سے حاصل کرتے ہیں انڈسٹری اپر پنجاب یا پھر کراچی میں قائم کرتے ہیں۔ ٹیکسٹائل کی وزارت نے بھی 24952.701ملین کے چھ منصوبے منظور کرائے مگرسرائیکی وسیب کے لئے ایک نہیں۔ محروم اور پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کے دعوے نقش بر آب ثابت ہورہے ہیں۔ صدر پرویز مشرف یقینا پسماندہ علاقوں کی ترقی کے خواہش مند ہوں گے۔ بیورو کریسی کے روائتی ہتھکنڈوں اور پسماندہ علاقوں کی نااہل قیادت کے باعث زمینوں کی زرخیزی وسائل کی فراوانی کے باوجود سرائیکی وسیب کے لوگ بھوک افلاس اور جہالت سے خودکشیاں کر رہے ہیں، اعلیٰ تعلیمی ادارے نہ ہونے سے مدارس سے طالبان کو بڑی کھیپ سرائیکی وسیب سے میسر آرہی ہے، معاملہ خودکشیوں سے بڑھ کر خودکش حملوں کی طرف جارہا ہے، ہمارے حکمران اورعالمی برادری سرائیکی وسیب کے اس اہم مسئلے کی طرف توجہ کرے اور سرائیکی وسیب کی حق تلفیوں کا ازالہ کرے۔ اسی میں ملک و قوم کی بہتری ہے۔ بنگالی رہنما م
لانا عبد الحمید بھاشانی نے ایک بجٹ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے علاقے میں غربت اور پسماندگی ہے اسے نظر انداز نہ کریں وگرنہ یاد رکھنا چاہئے کہ زیادتیوں اور حق تلفیوں کے نتیجے میں لوگوں کی صرف سوچ ہی نہیں بدلتی بلکہ جغرافیے بھی بدل جاتے ہیں۔ہمارے عاقبت نا اندیش ارباب اختیار نے مولانا بھاشانی کی اس بات کو دیوانے کی بڑ سمجھا مگر وقت نے ان کی بات سچ ثابت کر دی، آج پھر اس بات کی ضرورت ہے کہ محروم طبقات کی فریادوں پر توجہ دی جائے تاکہ کل کسی اور بھاشانی کو یہ نہ کہنا پڑے کہ ”زیادتیوں اور حق تلفیوں کے نتیجے میں لوگوں کی صرف سوچ ہی نہیں بدلتی بلکہ جغرافیے بھی بدل جاتے ہیں“۔ فقط والسلام نہایت ادب سے ظہور احمد دھریجہ،ملتان خوش آئند فیصلے؟ ایک نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق صدرجنرل پرویز مشرف نے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ صدر منتخب ہونے کا فیصلہ ترک کردیا ہے اور قبل از وقت انتخابات کرا کرنئی اسمبلیوں سے منتخب ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر نے اپنے اس فیصلے سے وزیراعظم شوکت عزیز اور چودھری شجاعت کو بھی اعتماد میں لیا ہے۔ حکومت کی ایک اتحادی جماعت کے انتہائی معتبر ذرائع نے بتایاہے کہ امریکا، یورپی یونین اور دیگر عالمی اداروں کے شدید دباؤ، 9مارچ اور12مئی کے واقعات اورملک میں پیدا شدہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں مقتدر حلقوں کی مشاورت کے بعد صدر مشرف نے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کا فیصلہ ترک کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جولائی میں قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی جائیں گی اوراکتوبر میں عام انتخابات کرائے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق صدر کو قریبی دوستوں نے مشورہ دیا ہے کہ موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں اپوزیشن اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دے دے گی جس سے ملک کی سیاسی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ صدر کو قریبی دوستوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ اگران حالات میں وہ موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہوبھی جاتے ہیں تواپوزیشن صدرکوتسلیم نہیں کرے گی اوراپوزیشن کی چلنے والی یہ تحریک آئندہ عام انتخابات کے بعد بھی جاری رہے گی۔ ذرائع کے مطابق امریکا کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی صدر جنرل پرویزمشرف کو یہی مشورہ دیا کہ وہ موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب نہ ہوں اگر صدر مشرف نے ایسا کیاتوامریکا کے لئے بھی مشکل پیدا ہوجائے گی کہ وہ اس کی حمایت جاری رکھے تاہم امریکی عہدیداروں نے صدر جنرل پرویز مشرف کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں آئندہ اسمبلیوں سے منتخب کرانے کے لئے امریکا اپنا رول ادا کرے گا، ذرائع کے مطابق قبل از وقت انتخابات کرانے کی وجہ سے کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف قوم سے خطاب کریں گے جس میں وہ نئے انتخابات کرانے اور خطے کودرپیش چیلنجوں کے حوالے سے قوم کو اعتماد میں لیں گے۔ ذرائع کے مطابق صدرجنرل پرویز مشرف آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل وردی اتار دیں گے اورا ٓئندہ صدارتی الیکشن بغیر وردی کے لڑیں گے۔ اصلاحات تواوربھی بہت سی مطلوب ہیں لیکن متذکرہ صدر خبر میں جن فیصلوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اس مرحلے پران کا ہونا بھی غنیمت ہے۔

بشکریہ ۔۔ ارشاد احمد حقانی صاحب روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

سرائیکی وسیب کی محرومیاں، نئے بجٹ کی روشنی میں

Posted on 28/06/2007. Filed under: سرائیکی وسیب |

سرائیکی وسیب کے دانشور ظہور احمد دھریجہ کاغور طلب خط ملاحظہ فرمایئے۔وہ لکھتے ہیں: نہایت ادب و احترام سے سپاس گزار ہوں کہ آپ علالت کے باوجود جمہوریت کے احیاء کے سلسلے میں قوم کے دلی جذبات کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں آپ کی سوچ ایک قومی رہنما اور ایک قومی مدبر کی سوچ ہے آپ نے کبھی بھی علاقائی حوالے سے نہیں سوچا، البتہ پاکستان کے جس علاقے میں کوئی کمی یا محرومی نظر آئی آپ نے اس کے حق میں آواز بلند کی۔ موجودہ بجٹ میں پسماندہ سرائیکی وسیب جو 17 اضلاع پر مشتمل ہے ، مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے، حالانکہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء کے آئین میں ایک شق شامل کرائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ دس سال کے لئے ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی کو موقوف کرکے پاکستان کے پسماندہ اور پس افتادہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جائے گا مگر آئین کی اس شق، آئین پاکستان اور خود اس آئین کے خالق کا جو حشر ہوا اس بارے کچھ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ 60 سالوں میں کس کو کیاملا؟ یہ جاننے کے لئے گزشتہ 60 سالوں کے سالانہ میزانیوں کا جائزہ لے لیں تو پس منظر کی مکمل تصویر سامنے آسکتی ہے اوراس سے یہ صورتحال بھی واضح ہوسکتی ہے کہ مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے بعدمغربی پاکستان کے بلوچ، سندھی، سرائیکی یا پختون محرومی یا استحصال کا جو مسلسل شکوہ کرتے آرہے ہیں، اس میں کچھ حقیقت بھی ہے یا یہ سب جھوٹا پروپیگنڈہ ہے؟ مزید برآں اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوسکتی ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں سب سے زیادہ قصور شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات، جماعت اسلامی کی الشمس البدر تحریک یا ذوالفقار علی بھٹو کے نعرے ”اِدھر ہم اُدھر تم“ کا ہے یا پھرمغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے بجٹ ساز سب سے بڑے مجرم ہیں۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں بہت کچھ بتایا گیا ہے مگر حقیقت حال جاننے کے لئے حمود الرحمان کمیشن سے بڑا کمیشن ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ زیر نظر سطور میں موجودہ سالانہ بجٹ 2007-08ء میں پسماندہ سرائیکی علاقے سے ہونے والے سلوک کا جائزہ لیا گیا ہے جو کہ حاضر خدمت ہے۔ شکر گزار ہوں کہ آپ نے سالانہ بجٹ 2006-07ء میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے سرائیکی بیلٹ کے ساتھ ہونے والی حق تلفیوں کے بارے میری توجہ مبذول کرائی۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ حق تلفیوں کا ازالہ ہوگا۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن جناب عطاء الرحمان نے بہاولپور کے سرائیکی دانشور غازی امان اللہ کی عرض داشت کے جواب میں لکھے۔ امسال کے بجٹ میں حلق تلفیوں کا کتنا ازالہ ہوا؟ اس کی چھوٹی سی جھلک ملاحظہ کریں، امسال وفاقی بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے 275874.495 ملین کے 397 منصوبے حاصل کئے، ان میں ملتان کی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کو 450 ملین جبکہ لاہوریونیورسٹی آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو مضبوط بنانے کے لئے 5000 ملین دیئے گئے۔ لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کو مضبوط بنانے کے لئے 4000 ملین ملے، گورنمنٹ کالج لاہورکو 2500 ملین ملے۔ پانچ سال قبل ملتان کے جلسہ عام میں صدر پرویز مشرف نے ملتان میں انجینئرنگ یونیورسٹی اورخواتین یونیورسٹی کا اعلان کیا، گزشتہ چار سالوں کی طرح امسال بھی انجینئرنگ یونیورسٹی کے لئے کوئی بجٹ نہیں رکھا گیا البتہ چارسال کے شدید انتظار کے بعد ملتان کی خواتین یونیورسٹی کے لئے صرف 280 ملین رکھے گئے اس کے مقابلے میں سیالکوٹ کی انجینئرنگ یونیورسٹی کا اعلان گزشتہ سال ہوا اورموجودہ بجٹ میں سیالکوٹ انجینئرنگ یونیورسٹی کے لئے 36927 ملین رکھے گئے۔ یہ بجٹ ملتان کی خواتین یونیورسٹی کے مقابلے میں تقریباً پونے چار ہزار گنا زائد ہے، اس سے بڑھ کر ستم ظریفی کیا ہو سکتی ہے کہ لاہورکالج آف وومن کے دو سوئمنگ پولز کے لئے 98 ملین دیئے گئے جس کی پاکستان کرنسی میں مالیت 9 کروڑ 80 لاکھ بنتی ہے۔ ایک اور فرق ملاحظہ کریں کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کورحیم یار خان کیمپس کی تعمیر کے لئے 367ملین اور بہاولنگر کیمپس کی تعمیر کے لئے 388 ملین دیئے گئے جبکہ اس کے مقابلے میں فرنٹیئر یونیورسٹی آف انجینئرنگ کو جلوزئی کیمپس کے لئے 7792ملین دیئے گئے یہ رقم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے دونوں کیمپس کو ملانے کے باوجود بھی سات ہزار گنا زائد ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین جناب عطاء الرحمان کی سائنس کیا بتاتی ہے کہ ترقی کے اس ہوشربا تفاوت یا پھر پسماندہ علاقوں کے استحصال کی بدترین شکل کے خطے کے معصوم طلبہ کو تعلیم کے بنیادی حق سے بہرہ مند کیاجا سکے گا؟ ہر سال بجٹ سے پہلے اور بجٹ کے بعد ہونے والی حق تلفیوں کی اس دہائی کوہم دہراتے ہیں، نہ جانے کیوں محروم اور پسماندہ خطوں کو پاکستان کا حصہ نہیں سمجھا جاتا، نہ جانے اس علاقے کے ارکان اسمبلی اوراس علاقے سے تعلق رکھنے والی وزراء کی فوج ظفرموج کیا کر رہی ہے؟ تعلیم کے حوالے سے ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں لکھا ہے کہ میں ڈیرہ غازی خان میں ڈپٹی کمشنر تھا، ڈیرہ غازی خان کے سردار تعلیم اور تعلیمی اداروں کے قیام کے سخت خلاف تھے، ایک دن ایک سردار میرے دفتر آئے، آتے ہی مجھے کہا ڈپٹی کمشنر صاحب !میں زمین دیتا ہوں فلاں علاقے میں فوری سکول قائم کریں، میں نے کہا ویری گڈ، اتنے اچھے کام کے لئے میں آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، سردار نے فوراً کہا میں یہ سکول خوشی سے نہیں بنوا رہا بلکہ فلاں سردار نے میرے خلاف سازش کرکے میرے علاقے میں سکول بنوایا ہے تاکہ میرے علاقے کے لوگ پڑھ لکھ کر میرے لئے مسئلہ بنی
ں اب میں اس سردار کو سبق سکھانے کے لئے اپنی زمین پر اس کے علاقے میں سکول بنوانا چاہتاہوں۔ ہمارے آج کے سیاستدان سرداروں کے مقابلے میں تو وہ سردار ہی بہتر تھے جنہوں نے ضد میں آکر ہی سہی سکول بنوانے کی کوشش تو کی۔ یہ تو ضد میں آکر بھی ایسا نہیں کرتے۔ ان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ بجٹ میں ہمارے علاقے کو کیا مل رہا ہے؟ اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی نہ تو یہ بجٹ کی تیاری میں حصہ لیتے ہیں، نہ بجٹ پڑھتے ہیں، ان کی کارستانیاں دیکھ کر ان کی اپنی روح بھی ان سے یقینا شرمندہ ہوگی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فنڈز کی انتہائی غیر منصفانہ تقسیم کے بعد دوسرے محکموں کا جائزہ لیں تو سرائیکی وسیب کے حوالے سے صورتحال بد سے بدتر نظر آتی ہے مثلاً پانی و بجلی کی وزارت میں 513461.286 ملین کے 47 منصوبے منظور کئے گئے، ان میں سرائیکی علاقے کے لئے ایک بھی نہیں۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن 31 منصوبے مالیت 96265.496 ملین۔ پاکستان نیوکلیئر اتھارٹی منصوبوں کی تعداد 6 تخمیناً لاگت 207 ملین۔ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل منصوبہ جات 22 مالیت 2709.563 ملین میں سے سرائیکی وسیب کی قسمت کا خانہ خالی ہے۔ وزارت مواصلات نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے84 منصوبے 354549.329 ملین کی لاگت کے لئے منظورکئے، ان 84 منصوبوں میں سرائیکی وسیب کے لئے محض دو منصوبے ایک لودھراں خانیوال روڈ اورایک فیصل آباد خانیوال موٹروے کے لئے بجٹ میں رقم رکھی گئی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ رقم بھی ریلیز ہوتی ہے کہ نہیں کیونکہ ماضی میں اکثر یہ ہوتا آیا ہے کہ سرائیکی وسیب کے لئے آٹے میں نمک کے برابر فنڈ بھی اپر پنجاب کی فوری ضرورتوں کی نذر ہوتے آئے ہیں۔ (جاری ہے

بشکریہ ۔۔ ارشاد احمد حقانی صاحب روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

احمد خان طارق

Posted on 15/05/2007. Filed under: ڈیرہ نامہ, سرائیکی وسیب, شعروادب |

احمد خان طارق سرائیکی وسیب کا نمائندہ اور تخلیق کار ہے۔ جاگیردرانہ ماحول کا یہ باسی کچلی ہوئی انسانیت کے دکھ درد کی بھرپور عکاسی کرتا نطر آتا ہے۔ ان کے کلام میں نعرہ بازی، پھکڑ پن اور نام نہاد انقلاب کی بات نہیں بلکہ اس میٹھے کرب کا اظہار ہے جس سے صدیوں کی غلامی کی وجہ سے حسِ احتجاج تقریبا ختم سی ہو گئی ہے۔ کھوسہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا یہ بلوچ آسان زندگی اور وہ بھی ‘ٹاہلی دی چھاں تلے‘ گزارنے کا خواہش مند ہے، حالانکہ اسے بخوبی علم ہے کہ یہ سایہ بھی اسے حقیقی سکون نہیں بخش رہا۔ ‘ماندی چھاں‘ کا شکوہ ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔

اساں کیہل فقیر ہمسائے تیڈے
تیڈے ناں دی چھاں تے پئے ہیں
تیڈے چنتے چوڑھے مترلگن
متراں دی چھاں تے پئے ہیں
تیڈی مونجھ دی گھر دی ٹاہلی ہے
من بھاندی چھاں تے پئے ہیں
پر طارق جھٹ محسوس تھیندے
کہیں ماندی چھاں تے پئے ہیں
احمد خان طارق حقیقتاَ عشق و محبت کا آدمی ہے۔ خلوص و نیاز مندی ہر حرف سے ٹپکتی نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنے خیال سے ایک بے قرار وجود کو مجسم کر دیا ہے۔

اج قاصد گونگا بن کے ونج
مونہو نہ الوائیں، مونجھ ڈسائیں
انہوں اضطراب و بے قراری کا اظہار نہ صرف ڈوہرے میں کیا بلکہ اسے اپنے رس بھرے گیتوں میں بھی خوب استعمال کیا۔

سوئیاں دھاگے پھولے اُچھلاں
مندری کان تعویز لکھانواں
ڈاج کھندانواں سندرے پھولاں
اسی طرز کی بے قراری کا ایک اور شعر بھی ملاحظہ کیجیئے۔

جوسی سڈا جھترے پُھلا
گل باہیں وچ تعویز پا
در تے سدا دھوئیں
دُکھا حرمل دے پُک
احمد خان طارق سرائیکی وسیب کے کلچر کا شاعر ہے۔ بیٹ، ٹاہلی، کاہاں، سر، کاں، گاج، بانگاں یہ سب ہماری وسیبی مزاج کی باتیں ہیں۔ وہ مقامی ثقافت کے کامیاب مصور ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے وہ کبھی مایوس نہیں ہوئے۔

طارق غم دا کوئی غم کائینی
ول آسن غمخوار جیہاڑے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پہلے تاں اپنی ذات دا عرفان حاصل کر گھنوں
ول اپنی طارق ذات دے گنبد توں باہر ڈیکھسوں

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ہیرے موتی لوگ

Posted on 03/05/2007. Filed under: ڈیرہ نامہ, سرائیکی وسیب |

ڈیرہ غازی خان کی دھرتی میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی ہے، اگر کمی ہے تو حوصلہ افزائی کی ہے۔ یہاں اچھے سے اچھا شاعر، اعلٰی سے اعلٰی گلوگار، مصور، مجمہ ساز، خطاط اور دستکار پڑا ہوا ہے۔ لیکن زندگی بھر ان کی شہرت اور پذیرائی ان کی شکستہ، بوسیدہ، جابجا سے آثار قدیمہ کی تصویر پیش کرتی ہوئی چاردیواری کی حدود سے آگے نہیں بڑھ پاتی، یہاں تک کہ یہیں پر گھٹ کر مر جاتی ہے۔ اس علاقے کے فنکاروں کے ساتھ یہ ظلم اور ناانصافی کیوں؟ یہ سوال برسہا برس سے ڈیرہ غازی خان کی گرد کے ساتھ کوچہ و بازار میں رسوا پھرتا ہے، مگر کوئی نہیں جو اسے جواب کے سانچے میں ڈھال کر رنگ و روپ کے اجالوں سے نکھار دے۔ اندھیرے، گمنامیاں اور ناقدری کی دھول نہ جانے کب تک ان کے چہروں کو دھندلائے رکھے گی۔ شمیم خطاط کو کون نہیں جانتا؟ جو اسی سرزمین پر برسہا برس سے خطاطی سکھا کر اپنا پیٹ پال رہا تھا، صرف دو دن پہلے ہی گمنامی کے گھپ اندھیروں میں کہیں گم ہو گیا۔ میڈا عشق وی توں، میڈا دین وی توں‘ گا کر سوز و آواز کا جادو جگانے والے پٹھانے خان مرحوم سے کون واقف نہیں، انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اپنی آخری زندگی گزارنے والے پٹھانے خان مرحوم کے گھرانے کو دو وقت کی روٹی کے لئے آخر کار پٹھانے خان مرحوم کے ساز بجانے والے آلات کی بولی لگوانے کا سوچنا پڑا۔ کوئی ایک دکھ ہو تو بندہ رونا بھی روئے، یہاں تو دکھوں کا ایک جہان آباد ہے۔ لوگ تڑپتے پھرتے ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں جو ان کے درد کا درماں بنے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہم لوگ جن کو اپنے کندھوں پر بیٹھا کر اسلام آباد کی عظمتوں کے سپرد کرتے ہیں وہ ان فضاؤں میں جاتے ہی زمینی لوگوں کو یوں بھول جاتے ہیں جیسے کبھی ان کے پاس لوٹ کر زمین پر نہیں آنا۔ اپنے ہی مفادات کی ہیبتناکیوں میں گم لوگو! ہوش میں آؤ اور مٹی میں ملے ہوئے ان ہیرے، موتیوں کو مٹی میں دفن ہونے سے بچا لو، ان کی چمک سے دنیا کو خیرہ کرنے کے لئے انہیں بھی وہی مواقع فراہم کرو جو تم نے لاہور، اسلام آباد اور اس جیسے دیگر علاقوں کو فراہم کیئے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ملک کے ایک علاقے پر تو نوازشات کی بارش اور دوسرا ایک قطرے کو ترستا رہے، مساوات کا دعوٰی کرتے ہو تو اس کی لاج بھی رکھو۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

جھمر ۔ سرائیکی وسیب کا رقص

Posted on 23/11/2006. Filed under: سرائیکی وسیب |

٢٠ نومبر بروز سوموار کو ایک دوست کی شادی میں شرکت کرنے شادن لنڈ گیا جو کہ ڈیرہ غازی خان سے تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ کی مسافت پر ہے تو وہاں جھمر کا اچھا خاصا انتظام تھا، انتہائی ماہر جھومریوں کی جھمر دیکھ کر دل خوش گیا۔ ہر علاقے کے اپنے رسم و رواج ہوتے ہیں جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں ہمارے علاقے میں بھی صدیوں سے جھمر کا عمل دخل رہا ہے، جھمر سرائیکی علاقے کا ایک شاندار رقص ہے جو شادیوں اور دیگر خوشیوں کے موقع پر دیکھا جاتا ہے۔ جھمر کا انداز منفرد اور حسین ہوتا ہے جو خوشیوں کے لمحات کو یادگار بنا دیتا ہے۔ جس شادی یا خوشی میں جھمر نہ ہو وہ بے مزہ لگتی ہے۔
جھمر کے وقت جسم کا ہر اعضاء حرکت میں ہوتا ہے، پاؤں اور ٹانگیں ایک ترتیب سے حرکت کرتے ہیں، سر اور گردن جسم کے ساتھ گردش میں ہوتے ہیں اور ساتھ ہی سانس کی آمد و رفت معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ بڑے دلکش انداز میں جھومری رقص کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں کو بہلاتے ہیں جس سے طبعیت کو قرار آ جاتا ہے۔ طاق اور ماہر جھومری جب شوق اور محبت میں ڈوب کر جھمر مارتے ہیں تو ان کی جھمر دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے اور بے ساختہ جھومریوں کے ہاتھ چومنے کو دل کرتا ہے۔
دولہا کے آگے ڈھول کی تھاپ اور گھنگرو کی جھنکار پر جھمر نغمے کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور یہ منظر بڑا ہی دلکش اور خوبصورت ہوتا ہے۔ خوشی کے وقت جھمر سے دل کو سکون ملتا ہے، دل مچل مچل جاتا ہے، اس وقت جھومری توجہ کا مرکز ہوتے ہیں ان کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ جھمر کا وہ انداز اپنایا جائے جسے دیکھنے والے عش عش کر اٹھیں۔
جھمر خوشی اور محبت کی نشانی ہے جو کہ شادیوں اور خوشیوں میں خوشی کا احساس دوبالا کر دیتی ہے، جھمر ہمارے سرائیکی وسیب کی علامت ہے، جسے یہاں کے لوگ خاصی دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔
جھمر سے دل کی گہرائیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایک قسم کی بے تابی ہوتی ہے جو خوشیوں کے موقع پر جھمر کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

چنگیر

Posted on 15/11/2006. Filed under: سرائیکی وسیب |

کھجور کے پتوں سے تیارکردہ چنگیریں ہمارے علاقے کی ثقافت کی ایک علامت تصور کی جاتی ہیں، کھجور کے پتوں سے تیارکردہ چنگیریں اپنے اندر سادگی اور خوبصورتی کا حسیں امتزاج رکھتی ہیں۔ ان کی دو اقسام ہوتی ہیں سادہ چنگیریں اور رنگین چنگیریں۔ سادہ چنگیروں میں کھجور کے عام پتے استعمال کئے جاتے ہیں جبکہ رنگین چنگیروں میں کھجور کے پتوں کو مختلف رنگوں میں رنگ کر مہارت کے ساتھ اس طرح ترتیب دی جاتی ہے کہ یہ دیکھنے میں انتہائی خوبصورت نظر آتی ہے۔ دیہاتوں میں اب بھی مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے کھانا چنگیروں میں رکھ کر پیش کیا جاتا ہے، البتہ جو لوگ شہری رکھ رکھاؤ کے عادی ہیں وہ ڈنرسیٹ اور پلاسٹک یا شیشے کے برتنوں میں کھانا پیش کرنا قابل فخر بات سمجھتے ہیں، جبکہ چنگیروں میں کھانا پیش کرنا ہمارے علاقے کی روایت اور ثقافت ہے اس سے ایک تو سادگی کا تاثر ملتا ہے دوسرا اگر ایک طرف قیمتی ڈنرسیٹ ہوں اور دوسری طرف سادہ چنگیروں میں کھانا موجود ہو تو تہذیب و ثقافت کے اظہار کے طور پر چنگیروں کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔
ہمارے وسیب میں چنگیریں گھروں میں تیار کی جاتی ہیں، اور ان کی فروخت سے نسبتا کم منافع حاصل کیا جاتا ہے، آج کے جدید دور میں بھی چنگیریں دکانوں پر فروخت ہوتی نظر آتی ہیں، دیہات والے رشتے دار جب بھی شہر آتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ چنگیروں کا تحفہ لازمی ساتھ لاتے ہیں، کچھ لوگ تو خاص تو فرمائشی طور پر بھی چنگیریں بنواتے ہیں۔
چنگیر کی تیاری میں تازہ کھجور کے پتے استعمال ہوتے ہیں، چنگیروں میں بنائے گئے خوش نما ڈیزائن آنکھوں کو بھلے لگتے ہیں اور ان کی خوبصورتی سے بنانے والے کی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے۔ بعض چنگیروں کے کنارے پر لہریے دار ڈیزائن بھی بنا دیا جاتا ہے، اور بعض کے درمیان میں ایک ایک پھول بنا دیا جاتا ہے جس سے اس کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے، چنگیروں کے علاوہ کھجور سے پتوں سے تیارکردہ ناشتہ دان بھی اپنے مثال آپ ہیں ان میں کھانا رکھا جاتا ہے یا کھانا کہیں لے جانے میں استعمال ہوتا ہے، چنگیریں ہمارے ثقافت کا حصہ ہیں مگر شہروں میں یہ روایت ختم ہوتی جا رہی ہے اب ان کی جگہ ڈنرسیٹ، پلاسٹک یا شیشے کے برتن لے رہے ہیں البتہ دیہاتوں میں اب بھی چنگیریں ہمارے کلچر اور تہذیب کی علامت کے طور پر تیار کی جاتی ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

وہاج دا انت

Posted on 20/05/2006. Filed under: اقتباسات, سرائیکی وسیب |

سرائیکی وسیب میں موجود ہندوؤں کو ‘کراڑ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ عموما نجی ساہو کاری سے وابستہ رہے ہیں اور اس حوالے سے کئی لوک کہانیاں وجود میں آئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ہندوؤں نے پنچائت بلائی اور آپس میں مشورہ کیا کہ مسلمان مسجدیں بنا رہے ہیں اس لئے ہمیں بھی پوجا کے لئے ایک مندر تعمیر کرنا چاہیے۔ پس انہوں نے مندر بنایا اور اکھٹے ہو کر پوجا کرنے اور بھجن گانے لگے؛
“دیوا تارن آیا، سنو میڈے سادھو!
دیوا تارن آیا او بھائی راما!
دیوا تارن آئے“
( مولا ہمیں ترقی اور خوشحالی دینے آیا ہے بھائیو! سن لو ہمیں ترقی دینے آیا ہے۔ بھائی رام! مولا ہمیں ترقی دینے آیا ہے)
ایک دن مندر میں وہ یہی بھجن گا رہے تھے کہ انہیں خبر ہوئی کہ دور دراز سے کوئی بڑا بیوپاری آیا ہے۔ وہ اپنی پوجا چھوڑ کر فورا باہر آئے اور بیوپاری سے دھڑادھڑ بھاری بھر قیمت والی اشیاء خریدنے لگے۔ جب انہوں نے خریداری مکمل کر لی تو اچانک انہیں اطلاع ملی کہ ان کی خرید کردہ اشیاء کی قیمت گر گئی ہے۔ اس پر سب لوگ اپنا سر پیٹ کر رہے گئے۔ دوبارہ مندر میں گئے اور اپنے گلے میں اجتجاجا پٹہ ڈال کر دیوتا کے آگے یہ بھجن گانے لگے؛
“دیوا گالن آئے، او بھائی سادھو!
دیوا گالن آئے“
( مولا ہمیں برباد کرنے آیا ہے، بھائیو! مولا ہمیں برباد کرنے آیا ہے)
اس بیوپار سے نقصان اٹھانے کے فورا بعد انہیں کسانوں کا لین دین یاد آ گیا۔ اپنا نقصان پورا کرنے کے لئے انہوں نے ایک کسان کو پکڑ لیا اور اسے کہنے لگے؛
“ سن بیلی! ٹکا تیل والا تے ٹکے دا تیل، آناں دال والا تے آنے دی دال“
( سنو بھائی! ایک ٹکا تیل والا اور ایک ٹکے کا تیل، ایک ٹکا دال کا اور ایک ٹکے کی دال)
اس طرح انہوں نے حساب دوگنا کر دیا اور دیگر اشیاء جو کسان نے ان سے خریدی تھیں کی قیمت بتانے لگے کہ دو آنے کا صابن اور دو آنے صابن کے، ٹکے کا مشک اور ٹکا مشک والا، ایک پیسے کی ملتانی مٹی اور ایک پیسہ ملتانی مٹی والا، بارہ آنے کا دوپٹہ اور بارہ آنے دوپٹے کے، آٹھ آنے کی قمیص اور آٹھ آنے قمیص کے، ڈیڑھ روپے کی پگڑی اور ڈیڑھ روپے پگڑی والے، روپے کا کرتا اور روپیہ کرتے کا وغیرہ وغیرہ۔
اس طرح وہ اس کسان کو سارا ادھار بتلا کر کہنے لگے کہ تمھارے ذمے ٢٩ روپے رقم اور ساڑھے تین من غلہ ہے، سو اب سود سمیت تم ٧٠ روپے رقم اور پانچ من غلہ دو گے۔ اس کے بعد انہوں نے کسان اس ادھار کا اسٹامپ بھی لکھوا لیا۔ جب فصل اٹھانے کا وقت آیا تو کسان کی ساری فصل وہ اپنے گدھوں پر لاد کر گھر لے گئے اور جاتے ہوئے اس کہہ گئے ؛
“ آویں تے حساب سمجھ ونجیں“
( گھر آ جانا اور حساب سمجھ لینا)
جب کسان ادھار سے متعلق ان کو دی ہوئی اپنی فصل کی پیداوار کا حساب سمجھنے کے لئے ان کے گھر گیا تو انہوں نے گزشتہ اور موجودہ دو فصلوں کا حساب ملا کر ٥٠ روپے رقم اور بارہ من غلہ مزید کسان کے کھاتے میں لکھ کر اسے خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔

ایف ڈبلیو سکیمپ کی لاطینی رسم الخط میں لکھی گئی سرائیکی کتاب ‘ ملتانی سٹوریز‘ سے انتخاب

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...