سیاست

طالبان سے صلح کراؤ، کشمیر لو، امریکی پیشکش

Posted on 24/03/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , |

لنک

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بچی سے ہی کچھ سیکھ لیں

Posted on 14/03/2009. Filed under: پاکستان, تعلیم, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , |

کچھ دن پہلے سکول سے واپسی پہ میری بیٹی سارہ مجھ سے کہنے لگی ‘بابا ایک لڑکی مجھے مارتی رہتی ہے، میں اسے کچھ بھی نہیں کہتی وہ پھر بھی مجھے مارتی رہتی ہے‘۔ میں نے کہا آپ ٹیچر سے کہا کرو کہ ٹیچر دیکھو یہ مجھے مار رہی ہے۔ سارہ نے جواب دیا ‘جب ٹیچر نہیں ہوتی وہ پھر مجھے مارتی ہے‘۔ میں نے کہا اچھا آپ ایسا کرو اس سے دوستی کر لو وہ پھر آپ کو نہیں مارے گی۔ بات ختم ہو گئی اور میں اسے بچوں کی عام بات سمجھ کر بھول گیا مگر ننھے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی، اُس کے ذہن میں نجانے کیا چلتا رہا اور معلوم نہیں یہ سب اس نے کیسے کر لیا۔ آج جب میں اُسے سکول سے لینے گیا تو اُس نے آتے ہی مجھے خوشخبری سنائی کہ ‘بابا میں نے اُس لڑکی سے دوستی کر لی ہے، اب وہ مجھے مارتی بھی نہیں ہے، ہم اکھٹے کھیلتے ہیں اور کھانا بھی اکھٹے کھاتے ہیں‘۔
اندازہ کریں اس بچی نے وہ کام کر دکھایا ہے جو ہمارے حکمران اور سیاسی لیڈر نہیں کر سکتے، ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں، مار رہے ہیں، برداشت اور حوصلہ نام کی کوئی چیز ان کے پاس ہے ہی نہیں، پورا ملک داؤ پہ لگا، اکانومی برباد ہو چکی ہے مگر ان کی حوس میں کمی نہیں آ رہی، اس بچی نے بتا دیا ہے کہ انسان مشکل کام کرنا چاہیے تو با آسانی کر سکتا ہے، بس اُسے اپنے کام سے مخلص ہونا چاہیے۔
خدارا اب بس کر دو بس، اس ملک کی معصوم عوام پہ رحم کرو اس بچی سے ہی کچھ سیکھ لو اور آپس میں دوستی کر لو۔

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

مروا دیا آپ کی رجائیت پسندی نے مروا دیا

Posted on 12/03/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , , |

ہم آپ کے مداح اور قارئین آپ کے کالم پڑھ کر یہ سمجھنے لگے تھے کہ مشرف کے منظر سے ہٹتے ہی خوش منظر سویرا ہوگااور سفینہ غم دل ساحل مراد پر لنگرانداز ہو جائے گامگر معاملہ منیر نیازی کے شعر کی طرح نکلا… ایک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو۔
ہم لوگ مشرف کے بعد کا منظر نامہ نہ دیکھ سکے۔ نہ صرف یہ کہ مشرف کو Scotfree چھوڑ دیا گیا بلکہ اس کی جگہ جو ذات شریف تخت طاؤس پر متمکن ہوئی ہے۔ اس کے خیال سے خوف آتا ہے کیا صدر پاکستان کا آفس اس قدر بے توقیر ہوگیا ہے کہ اس میں سیاسی مسخرے بیٹھا کریں گے؟
رشک سے بھارت کو دیکھتا ہوں، جہاں رادھا کرشنن اور ذاکر حسین خان جیسے عظیم المرتبت خدام وطن نے اس کرسی کو رونق اور عزت بخشی جبکہ ہمارے ملک میں کبھی مفلوج غلام محمد، مردود یحییٰ خان یا مجبور فضل الٰہی اس آفس کوبے وقار کرتے رہے۔ لگتا ہے پیپلز پارٹی کی قیادت اندھی اور گونگی ہوگئی ہے جسے صدارت کے لئے اعتزاز احسن نظر آئے نہ رضا ربانی۔
پیپلز پارٹی پر قبضہ جمانے کے بعد زرداری نے سب سے پہلے دونوں مخدوموں کو چت Out smart کیا، پھر مشرف والی کرسی پر قبضہ کرنے کے لئے الطاف حسین کی پارٹی سے مل کر ایک Un Hoby Alliance بنا لیا۔ امامت کے لئے انہوں نے ایسے مولانا کو منتخب کیا جو سیاسی بلیک میلنگ کے امام ہیں۔ اس ٹرائیکا کے کارناموں کو دیکھ کر لوگ مشرف کو بھول جائیں گے پاکستان کی زمین میں پوشیدہ خزانوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اس قدر لوٹ مار کے باوجود ختم ہونے میں نہیں آرہے۔ کیا زیر زمین دولت کا دریا اُبل رہا ہے؟ لیکن یہ ٹرائیکا اس سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کو ذبح کرکے ہی دم لے گا اور ہم آپ کے مداحین و قارئین آپ کے لئے عمر خضر کی دعا مانگیں گے۔ تاکہ آپ تا قیامت سچی جمہوریت کے قیام کے لئے کالم لکھتے رہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں نہ کبھی آئین نافذ رہا نہ آئین کے تحت بننے والے اداروں (پارلیمینٹ، عدلیہ، الیکشن کمیشن) کو تسلسل اور آزادی سے کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ آئین روح اور ادارے اعضائے رئیسہ کی مانند ہوتے ہیں۔ پاکستان اس لحاظ سے ایک سیاسی معجزہ ہے کہ روح اور اعضائے رئیسہ کے بغیر ہی چل رہا ہے۔ گو نمائش کے لئے یہ ادارے موجود ہوتے ہیں لیکن ان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر یا چمک دکھا کر ان سے مرضی کے مطابق فیصلے (یا فتوے) حاصل کرلئے جاتے ہیں۔ وزیراعظم پارلیمینٹ کو خود مختار بنانے کے دعوے کرتے رہتے ہیں لیکن جانتے ہیں کہ پارلیمینٹ سے باہر بیٹھیں ہوئی طاقتوں کی موجودگی میں پارلیمینٹ کو خود مختار نہیں بنایا جاسکتا۔ اخبار والے اشاروں اشاروں میں ان طاقتوں کو AA کہتے ہیں (یعنی آرمی اور ا مریکہ)۔ اس کے علاوہ ایک طاقت اور بھی ہے وہ سیاسی کھلاڑی جن کے پاس زر کے بڑے بڑے انبار ہیں، جنہیں دیکھ کر ممبران پارلیمینٹ کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، یہ تینوں طاقتیں ایک پاور فل الیکٹرومیگنیٹ کی طرح پارلیمینٹ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پارلیمینٹ کی آزادی جو عوام کی امنگوں اور خواہشوں کا دوسرا نام ہے ایک موہوم خواب کی طرح تعبیر کی تلاش میں بھٹکتی رہتی ہے۔
اس وقت ملک میں زبردست سیاسی اور معاشی بحران ہے، سماجی افراتفری ہے، بے یقینی ہے Confusion ہے۔ ملک کے حالات تیزی سے بے قابو ہوتے جا رہے ہیں۔ بیڑہ تباہی کے قریب آن لگا ہے یعنی ٹائی ٹینک چٹانوں میں گھرگیا ہے۔ اب پھر کوئی طالع آزما، سفاک مسیحا، یا عصا بردار موسیٰ کے روپ میں آن دھمکے گا سانپ اور سیڑھی کا کھیل پھر شروع ہوجائے گا۔ یعنی گردش تیز تر اور سفر آہستہ۔
محترم حقانی صاحب! لگتا ہے گلشن کا کاروبار یونہی چلتا رہے گا اور یہ چمن یونہی رہے گا۔ اجڑا، اجڑا، دنیا جہاں کے جانور یہاں چرتے پھریں گے۔
ہم احمقان چمن ہر روز جیئں گے، ہر روز مریں گے۔ گھبرا گھبرا کے کہا کریں گے: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟ البتہ دانشمندان چمن اپنے آئینہ ادراک میں بہت کچھ دیکھ رہے ہیں۔
اے حکمرانو! اے طبقہ اعلیٰ کے لوگو!
ڈرو اس وقت سے… پڑیں گے جب جان کے لالے… اور کوئی نہ ہوگا جو بچالے۔
خیر اندیش…عادل اختر، راولپنڈی
کالم ۔ ارشاد احمد حقانی

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

بلاول، بختاور اور آصفہ کے نام ممتاز بھٹو کا خط

Posted on 06/03/2009. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , , , , |


Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

انڈیا ۔ ہندو، مسلم

Posted on 03/03/2009. Filed under: وڈیو زون, پاکستان, سیاست, عالم اسلام | ٹيگز:, , , , |

دو قومی نظریہ کے مخالف، دوستی کا اراگ الاپنے والے اس وڈیو کو دیکھ لیں اُن پر دو قومی نطریے کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔

مزے کی بات یہ کہ تین بار اس وڈیو کو یوٹیوب پر اپلوڈ کیا گیا مگر وہاں فوراََ ہی اس وڈیو کو ختم کر دیا گیا مجبوراََ اسے دوسرے ہوسٹ پر لوڈ کرنا پڑا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

پیپلز پارٹی کی (دیدہ) دلیری

Posted on 28/02/2009. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , , , |

HTML clipboard

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

شام ہے دھواں دھواں

Posted on 23/02/2009. Filed under: وڈیو زون, سیاست | ٹيگز:, , |

شام ہے دھواں دھواں
جسم کا رواں رواں
الجھی الجھی سانسوں سے
بہکی بہکی دھڑکن سے
کہہ رہا ہے آرزوؤں کی داستاں

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

پاکستان کا وجود بھارت کے لئے سنگین خطرہ ہے

Posted on 11/01/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , |

بشکریہ سنڈے میگزین روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ممبئی حملے، ثبوت اور پاکستانی شہری

Posted on 10/01/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , |

کچھ دن پہلے ممبئی حملوں کے ثبوت جو بھارت نے امریکہ کے ذریعے پاکستان کو فراہم کئے ہیں کے بارے میں بھارت کا کہنا ہے کہ یہ ناقابلِ تردید ثبوت ہیں اور پاکستان ان ثبوتوں کو جھٹلا نہیں سکتا۔ ان ثبوتوں کے بارے میں اگر بات کی جائے تو دفترِ خارجہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان میں ممبئی حملوں کے دوران بنائی گئی وڈیو ریکارڈنگز، دہشت گردوں کی میڈیا کیمروں سے لی گئی تصاویر اور وہ نیٹ کالز کے نمبرز شامل ہیں۔ معلومات کے مطابق ان میں سے ایک نمبر امریکہ کا ہے اور دوسرا نمبر آسٹریا کا (واقعی ناقابل تردید ثبوت ہیں، تردید کی ضرورت ہی نہیں)۔ ممبئی حملوں حملے میں استعمال کیا گیا اسلحہ جس کا تعلق ایک ایسی پاکستانی آرڈیننس فیکٹری سے جوڑا جا رہا ہے جو پاکستان ہے ہی نہیں (ہے نا مزے کی بات)  سب کو معلوم ہے کہ پاکستان چھوٹے ہتھیاروں کا ایکسپورٹر ہے جسے وہ بہت سے ممالک کو فراہم کرتا ہے اور ویسے بھی کیا بھارت کے پاس پاکستانی اسلحہ نہیں ہو سکتا؟ اس طرح کا اسلحہ جس پر میڈ ان انڈیا لکھا ہوا ہے ہمارے پاس بھی بہت ہے ہم چاہیں تو ان کے سیریل نمبر بھارت تو دے سکتے ہیں تو کیا اس بنا پر بھارت کو دہشت گرد ملک تسلیم کر لیا جائے گا (کیا بچگانہ ثبوت ہیں، بھارت میں ذہن سے نہیں سوچا جاتا شاید اس لئے ان احمقانہ ثبوتوں کو ناقابل تردید کہا جا رہا ہے)۔ اس کے علاوہ جن چھے لوگوں کا تعلق پاکستان سے جوڑا گیا ہے ان  بے چاروں کے چہرے  یا پھر ان کی تصاویر اس قدر مسخ کر کے بنائی گئی ہیں جنہیں کوئی پہچان ہی نہیں سکتا کہ دراصل یہ ہیں کون۔ اس کے علاوہ  آٹا، میڈی کیم ٹوتھ پیسٹ، ٹچ می کریم اور اسی طرح کی دوسری چیزیں جنہیں بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے (اب بندہ پوچھے کہ یہ وہاں دہشت گردی کرنے گئے تھے یا پکنک منانے اور ساتھ میں رنگ گورا کرنے والی ٹچ می کریم ۔۔۔ سبحان اللہ) باقی تو خیر مگر ان دہشت گردوں کو اپنے ساتھ کراچی آٹا لیکر جانے کی کیا ضرورت تھی۔ شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ بیچارے بھارت کے پاس پہلے سے یہ سب چیزیں موجود ہیں یا پھر وہ بھارت کے آٹا خوار نہیں بننا چاہتے تھے یا پھر بھارت میں پاکستانی اشیاء کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ بھارت اس لئے بھی پاکستان کے ساتھ تجارت کے ڈھونگ رچاتا رہتا ہے کہ تجارت کے تحت آئی ہوئی ان اشیاء کو ہر دہشت گردی کے بعد بطور ثبوت پیش کر سکے۔
اس سارے واقعہ میں واحد زندہ مبینہ پاکستانی دہشت گرد اجمل قصاب کا ہندی میں لکھا ہوا خط (یہ ہندی اُس نے کہاں سے سکیھی، میرے خیال میں تو اسے ٹھیک طرح سے اردو نہیں آتی ہو گی)  کا اعترافی بیان جس کی قانونی حیثیت ہی مشکوک ہے۔ اس کے علاوہ ڈی این اے رپورٹ جو پکار پکار کے بھارت والوں کو کہہ رہی ہے کہ یہ پاکستانی خون ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اجمل قصاب پاکستانی ہے مگر بھارت یہ کیوں چھپا رہا ہے کہ اجمل قصاب کو کب، کیسے اور کہاں سے اغوا کر کے اس بھونڈے ڈرامے کا اہم کردار بنایا گیا ہے۔ بھارت اصل صورتحال سب کچھ واضح کرے پھر ہی بات آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ پاکستانی حکومت بھی اب آئیں بائیں شائیں بہت کر چکی، اب بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو دو ٹوک جواب دے اور دنیا پر واضح کرے کہ اجمل قصاب کو کب اور کہاں سے اغوا کیا گیا ہے جس کا ریکارڈ وہاں کی عدلیہ میں موجود ہے۔
دنیا کا کوئی بھی ملک ہو وہ اپنی شہری کو پہنچنے والی گزند پر آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے، پاکستان پر یہ سارا نزلہ صرف اس لئے گرا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کا تحفظ نہیں کرتی۔ اگر اجمل قصاب کے اغوا کے وقت ہی شور مچایا جاتا تو یہ سب بکھیڑا کھڑا ہی نہ ہوتا۔ حکومتیں ہی اپنے شہریوں کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہیں جب شہریوں کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اللہ حافظ ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

جوتے کا سائز دس تھا!!

Posted on 15/12/2008. Filed under: دنیا بھر سے, سیاست, عالم اسلام |

اتوار کا دن صدر بش کے لئے بد قسمت ثابت ہوا، عراق کے اچانک دورے کے دوران عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک عراقی صحافی نے اپنے جوتے صدر بش کو دے مارے اور کہا ’کتے، عراقی عوام کی جانب سے الوداع‘ اس کے بعد جواب میں صدر بش نے اپنے ازلی ڈھیٹ پن کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ’میں صرف یہ رپورٹ کر سکتا ہوں کہ اس کا سائز دس تھا۔‘
یہ وہی بات ہوئی جیسے بھٹو صاحب کے ساتھ ہوا تھا، کہا جاتا ہے کہ کسی جلسہ عام میں کسی نے بھٹو کی طرف جوتا پھینکا تھا جواب میں بھٹو نے کہا کہ مجھے پتہ ہے چمڑا بہت مہنگا ہو گیا ہے۔
بہرحال صدر کے لئے یہ الوداعی ملاقات انتہائی بُری ثابت ہوئی، کہا جاتا ہے کہ اچھے انسان کے ساتھ اچھی یادیں اور بُرے انسان کے ساتھ ہمیشہ بُری یادیں وابستہ رہتی ہیں۔ اب صدر بش بھی اپنی باقی ماندہ زندگی انہی بُری یادوں کے سائے میں گزاریں گے۔

وڈیو

Read Full Post | Make a Comment ( 7 so far )

« پچھلی تحاریر اگلے‌ تحاریر»

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...