شعروادب

مسلم اُمہ کا امریکہ سے شکوہ

Posted on 22/01/2009. Filed under: شعروادب, طنز و مزاح |

علامہ اقبال کی روح سے معذرت کے ساتھ
(کلام ۔ نامعلوم)

کیوں گنہگار بنوں، ویزہ فراموش رہوں
کب تلک خوف زدہ صورتِ خرگوش رہوں
وقت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ خاموش رہوں
ہمنوا! میں کوئی مجرم ہوں کہ روپوش رہوں

شکوہ امریکہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو
چونکہ اس ملک کا صحرا بھی چمن ہے مجھ کو

گر ترے شہر میں آئے ہیں تو معذور ہیں ہم
وقت کا بوجھ اٹھائے ہوئے مزدور ہیں ہم
ایک ہی جاب پہ مدت سے بدستور ہیں ہم
اوباما سے نزدیک، زرداری سے دور ہیں ہم

یو ایس اے شکوہ، اربابِ وفا بھی سن لے
لبِ توصیٍف سے  تھوڑا سا گلہ بھی سن لے

تیرے پرچم کو سرِ عرش اڑایا کس نے؟
تیرے قانون کو سینے سے لگایا کس نے؟
ہر سینیٹر کو الیکشن میں جتایا کس نے؟
فنڈ ریزنگ کی محافل کو سجایا کس نے؟

ہیلری سے کبھی پوچھو، کبھی چک شومر سے
ہر سینیٹر کو نوازا ہے یہاں ڈالر سے

جیکسن ہائیٹس کی گلیوں کو بسایا ہم نے
کونی آئی لینڈ کی زینت کو بڑھایا ہم نے
گوریوں ہی سے نہیں عشق لڑایا ہم نے
کالیوں سے بھی یہاں عقد رچایا ہم نے

آ کے اِس ملک میں رشتے ہی فقط جوڑے ہیں
بم تو کیا ہم نے پٹاخے بھی نہیں چھوڑے ہیں

جب بُرا وقت پڑا ہم نے سنبھالی مسجد
کب تلک رہتی مسلمان سے خالی مسجد
جب ہوئی گھر سے بہت دور بلالی مسجد
ہم نے ‘تہہ خانے‘ میں چھوٹی سی بنا لی مسجد

ہم نے کیا جرم کیا اپنی عبادت کے لئے
صرف میلاد کیا جشنِ ولادت کے لئے

ہم نے رکھی ہے یہاں امن و اماں کی بنیاد
ہر مسلمان کو ‘یو ایس‘ میں پڑی افتاد
اپنی فطرت میں نہیں دہشت و دنگا و فساد
پھر بھی ہم نے ترے شہروں کو کیا ہے آباد

ہر مسلماں ہے یہاں امن کا حامی دیکھو
ہیوسٹن جاؤ، ایل اے دیکھو، میامی دیکھو

گر گیا تیز ہواؤں سے اگر طیارہ
پکڑا جاتا ہے مسلمان یہاں بے چارا
کبھی گھورا، کبھی تاڑا تو کبھی للکارا
کبھی ‘سب وے‘ سے اٹھایا، کبھی چھاپہ مارا

تو نے یہ کہہ کے جہازوں کو کراچی بھیجا
یہ بھی شکلاََ ہے مسلمان اسے بھی لے جا

میڈیا تیرا، دوات اور قلم تیرے ہیں
جتنے بھی ملک ہیں ڈالر کی قسم تیرے ہیں
یہ شہنشاہ یہ اربابِ حرم تیرے ہیں
تیرا دینار، ریال اور درہم تیرے ہیں

تو نے جب بھی کبھی مانگا تجھے تیل دیا
تجھ کو جب موقع لگا تو نے ہمیں پیل دیا

حالتِ جنگ میں ہم لوگ تیرے ساتھ رہے
تاکہ دنیا کی قیادت میں تری بات رہے
یہ ضروری تھا کہ تجدیدِ ملاقات رہے
دیکھیئے کتنے برس چشمِ عنایات رہے

ہم ترے سب سے بڑے حلقہِ احباب میں ہیں
پھر بھی طوفاں سے نکلتے نہیں گرداب میں ہیں

‘ایڈ‘ دیتا ہے تری حوصلہ افزائی ہے
تیرا دستِ کرم سود کا سودائی ہے
اسحلہ دے کے جو غیروں سے شناسائی ہے
یہ بھی اسلام کے دشمن کی پذیرائی ہے

رحمتیں ہیں تری ہر قوم کے انسانوں پر
چھاپہ پڑتا ہے تو بے چارے مسلمانوں پر

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

محترمہ بینظیر بھٹو شہید دی یاد اچ

Posted on 26/12/2008. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , |

 

توں ہانویں تاں
اتھ رونق ہئی
اتھ خشیاں ہن
اتھ ہاسے ہن
اتھ ہر کئی کھل تے ملدا ہا
اتھ مل تے ہر کئی کھلدا ہا
توں گئیں تاں سانول
ایں لگدے
اتھوں خشیاں گئین
اتھوں ہاساں گئین
ہر چہرہ مونجھ توں مونجھا ہے
ہے اکھ ہر کہیں دی نم رہندی
 در در تے ماتم ہے
پیا ہر کئی وین ولیندا ہے
تیڈی روہی رات کوں روندی ہے
دیدار تیڈے کوں لوہندی ہے
تیڈا تھر ہے سارا صدمے وچ
تیڈا گھر ہے سارا صدمے وچ
ہک وار ولا دیدار کرا
ساڈی اُجڑی جھوک تے پھیرا پا

 

رازش لیاقت پوری

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

یہ بارشیں بھی تم سے ہیں

Posted on 18/12/2008. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , |

اس وقت ڈیرہ غازی خان کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں موسم سرما کی بارشیں ہو رہی ہیں۔ موسم کے مطابق ایک نظم حاضر ہے، اس نظم کے ساتھ ساتھ بارش انجوائے کیجیئے۔

یہ بارشیں بھی تم سے ہیں
جو برس گئی تو بہار ہیں
جو ٹھہر گئی تو قرار ہیں
کبھی آ گئی یونہی بے سبب
کبھی چھا گئی یوں ہی روزِ شب
کبھی شور ہیں کبھی چپ سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سے ہیں
کسی یاد میں کسی رات کو
اک دبی ہوئی سی راکھ کو
کبھی یوں ہوا کہ بجھا دیا
کبھی خود سے خود کو جلا دیا
کبھی بوند بوند میں غم سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سے ہیں

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

قربانی سے پہلے ایک بکرے کے تاثرات

Posted on 08/12/2008. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , |

عیداضحٰی پر قریب آئی جو قربانی کی رات
چلتے چلتے ایک بکرا کہہ گیا مجھ سے یہ بات
عید یہ پیغام لے کر آئی ہے، حج کیجیئے
آج اپنی خامیوں کو آپ خود جج کیجیئے
ذبح کی جے مجھ کو یوں شانِ مسلمانی کے ساتھ
ذبح ہو جائے نہ خود مقصد بھی قربانی کے ساتھ
مجھ کو قرباں کر کے یہ پوچھے نہ آئندہ کوئی
اے عزیزو! میرے حصے کی کلیجی کیا ہوئی ؟
ایک صاحب گھر مری اک ران پوری لے گئے
کھال باقی تھی سو مصری خان پوری لے گئے
کتنی بیجا بات ہے میرے خریدارِ عزیز !
ذبح کر کے گوشت کر لیتے ہیں ڈبوں میں فریز
آپ سے یہ ‘دست و پا بستہ‘ گذارش ہے مری
گوشت جو میرا بچے، تقسیم کر دیجیئے فری
لب پہ قربانی کی  نیت، دل میں خوشبوئے کباب
میری قربانی، وسیلہ ہے اطاعت کے لئے
اس کی شہرت کیوں ہو صرف اپنی اشاعت کے لئے
ایسی قربانی سے کیا خوش ہو گا ربِ جلیل
رسمِ قربانی ہے باقی، اُٹھ گیا عشقِ خلیل
گامزن وہ شخص ہے اللہ کے احکام پر
آپ سے مجھ کو شکایت ہے کہ قربانی کے ساتھ
گوشت کیسا، پوست پر بھی صاف کر دیتے ہیں ہاتھ
میں تو کہتا ہوں کہ قربانی مری انمول ہو
آپ کہتے ہیں کہ بریانی میں بوٹی گول ہو
برف خانوں میں جو میرے گوشت کا اسٹال ہے
یہ تو قربانی نہیں ہے، میرا استحصال ہے
میرا سر، میری زباں، میری کلیجی، میرے پائے
سب غریبوں کو دیئے جائیں یہی ہے میری رائے
میرا گردہ اس کا حصہ ہے جو خود بے گردہ ہو
میرا دل اس کے لئے ہے جس کا دل افسردہ ہو
عید کہتی ہے بڑھاؤ حوصلے احباب کے
آپ ‘کھچڑا‘ کھائے جاتے ہیں شکم کو داب کے
فرض قربانی کا مقصد جذبہ ایثار ہے
آپ کہتے ہیں کہ یہ دنبہ بہت تیار ہے
آپ معدہ کی ڈپو میں عید کا کوٹا لئے
سُوئے صحرا جا رہے ہیں ہاتھ میں لوٹا لئے
غیر اسلامی اگر ہے جو چُھری مجھ پر گری
میری قربانی نہیں یہ ہلاکت ہے میری
مر گیا میں آپ کو کھانے کی آسانی ہوئی
اس کو قربانی کہا جائے؟ یہ قربانی ہوئی

 

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

تمنا

Posted on 12/11/2008. Filed under: شعروادب |

تمنا نے شوق کے آنچل سے جھانک کر پوچھا!
‘‘میں کب پوری ہوں گی‘‘
زندگی بولی ‘‘جو پوری ہو جائے وہ تمنا کہاں؟‘‘
‘‘تب میرے جنم کا مطلب کیا؟‘‘ تمنا گھبرائی۔
‘‘یہی کہ زندہ رہو اور دوسروں کو زندہ رہنا سکھاؤ‘‘
زندگی نے جواب دیا۔
کیا خود ناآسودہ اور نامکمل رہ کر؟
تمنا نے مایوسی سے پوچھا
زندگی نے کہا!
‘‘ہاں! اصل تکمیل وہی ہے جو دوسروں کو مکمل کر دے۔‘‘

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

تنہا ایک میں

Posted on 22/10/2008. Filed under: شعروادب |

کرب کا لشکر تھا مقابل اور تنہا ایک میں
سینکڑوں لاکھوں مسائل اور تنہا ایک میں
آندھیوں گرداب موجوں اور طوفانوں کے ساتھ
در پئے آزاد ساحل اور تنہا ایک میں
میں جنہیں اپنا سمجھتا تھا انہیں ہمراہ لئے
آ رہا تھا میرا قاتل اور تنہا ایک میں
ایسے عالم میں کہاں جاؤں کسے آواز دوں
آگ صحرا دور منزل اور تنہا ایک میں
درد آنسو بیقراری یاس اور دیوانگی
کاوش پیہم کا حاصل اور تنہا ایک میں
ایک تو ۔۔ کہ زندگی دراصل تجھ پر ختم ہے
آبلہ پا روح گھائل اور تنہا ایک میں

فرحت شہزاد

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

عجیب ہے

Posted on 22/10/2008. Filed under: شعروادب |

سرشاریء وصال حسین تر سہی مگر
جو ہجر نے عطا کی وہ لذت عجیب ہے
امید کی ہر ایک کلی نوچ لی گئی
مایوسیوں کی دل میں بغاوت عجیب ہے
خود زندگی عطا کی مگر خود ہی چھین لی
انسان پر خدا کی عنایت عجیب ہے
خوشیوں سے بچ کر رہنا غموں کی تلاش میں
اپنے ہی آپ سے یہ عداوت عجیب ہے

فرحت شہزاد

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

زخموں کی بات

Posted on 21/10/2008. Filed under: شعروادب |

خالق کائنات کی بات رہنے دے
کیسے گزری حیات رہنے دے
تیری رحمت پہ حرف آئے گا
میرے زخموں کی بات رہنے دے

فرحت شہزاد

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

رنجیدہ و دلگیر و حزیں عید مبارک

Posted on 01/10/2008. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, شعروادب | ٹيگز:, , , |

افسردہ ہیں افلاک و زمیں عید مبارک
آزردہ مکان اور مکیں عید مبارک

یہ صبح مسرت ہے کہ ہے شامِ غریباں
رنجیدہ و دلگیر و حزیں عید مبارک

کہنا ہے بصد عجز یہ اربابِ وطن سے
کب آئے گا وہ دور حسیں و عید مبارک

محبوس جوانوں کے عزیزوں سے یہ کہنا
مولا ہے نگہبان و امین عید مبارک

یہ بات قلندر کی قلندر ہی کہے گا
گو بات یہ کہنے کی نہیں عید مبارک

پھر نعرہ تکبیر سے گونجیں گی فضائیں
آ پہنچا ہے وہ وقت قریں عید مبارک

مومن کبھی مایوس نہیں رحمتِ حق سے
مومن کا ہے دل عرشِ بریں عید مبارک

ملت سے شہیدوں کا لہو کہتا ہے واصف
دنیا کے عوض بیچ نہ دیں عید مبارک

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

عالمی اردو کانفرنس رپورٹ

Posted on 18/07/2008. Filed under: تعلیم, دنیا بھر سے, شعروادب |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر اگلے‌ تحاریر»

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...