عشق ومعرفت

عذاب کا خطرہ! غور طلب تحریر

Posted on 09/06/2009. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, عشق ومعرفت | ٹيگز:, , , , , , |






Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

دُعا

Posted on 13/11/2008. Filed under: اسلام, تعلیم, رسم و رواج, عشق ومعرفت |

اے اللہ   ہمارے گناہ معاف فرما دے۔
اے اللہ   ہماری خطاؤں کو درگذر فرما۔
اے اللہ   ہمیں نیکیوں کی توفیق عطا فرما، ہمارے چھپے اور کھلے گناہ، اگلے پچھلے گناہ معاف فرما، بے شک تیری معافی بہت بڑی ہے۔
اے اللہ   اپنی رحمت کے دامن میں چھپا لے۔
اے اللہ   ہمیں رات اور دن کے فتنوں سے بچا۔
اے اللہ   ہمیں جنوں اور انسانوں کے فتنوں سے بچا۔
اے اللہ   زندگی اور موت کے فتنوں سے بچا۔
اے اللہ   ہماری آہ زاری سن لے۔
اے اللہ   ہماری جسمانی اور روحانی بیماریوں کو صحت عطا فرما۔
اے اللہ   ہمیں جسمانی طاقت اور قوت عطا فرما۔
اے اللہ   ہم کو مصیبت سے نجات عطا فرما۔
اے اللہ   ہمیں حضرت آدم علیہ السلام جیسی توبہ نصیب فرما۔
اے اللہ   حضرت یعقوب علیہ السلام جیسی گریہ و زاری نصیب فرما۔
اے اللہ   ہمیں ابراہیم علیہ السلام جیسی دوستی نصیب فرما۔
اے اللہ   ہمیں ایوب علیہ السلام جیسا صبر نصیب فرما۔
اے اللہ   ہمیں داؤد علیہ السلام جیسا سجدہِ شکر نصیب فرما۔
اے اللہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عمل نصیب فرما۔
اے اللہ   حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا صدقہ نصیب فرما۔
اے اللہ   عمر رضی اللہ عنہ جیسا جذبہ نصیب فرما۔
اے اللہ   حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جیسا غنا عطا فرما اور شرم و حیا نصیب فرما۔
اے اللہ   حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسی شجاعت و بہادری نصیب فرما۔
اے اللہ   آئمہ دین جیسی خدمتِ اسلام نصیب فرما
اے اللہ   ہمیں خلفائے راشدین جیسی بھلائیاں نصیب کر، ہمیں پیغمبری زندگی اور پیغمبری موت تحفہ بنا کر بھیج۔
اے اللہ   ہمیں موت تحفہ بنا کر بھیج، ہماری موت کو رحمت بنانا زحمت نہ بنانا۔
اے اللہ   ہماری قبروں کو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنانا۔
اے اللہ   ہمیں ایمان اور علم کی دولت سے مالامال کر دے۔
اے اللہ   تمام بے نمازیوں کو نمازی بنا دے۔
اے اللہ   بے روزگار کو رزقِ حلال عطا فرما۔
اے اللہ   گمراہوں کو راہ پر لے آ۔
اے اللہ   مفلس کو غنی کر دے۔
اے اللہ   مسلمانوں کو حلال روزی نصیب فرما۔
اے اللہ   بے اولادوں کو نیک اور صالح اولاد نصیب فرما۔
اے اللہ   جو اولاد سے گھبرا گئے ہیں انہیں معاف فرما دے۔
اے اللہ   بدکردار کے کردار کو درست فرما دے۔
اے اللہ   بد اخلاق کو مکرم الاخلاق فرما دے۔
اے اللہ   سلامتی والا دل، ذکر والی زبان اور رونے والی آنکھیں نصیب فرما دے۔
اے اللہ   ہمیں دین و دنیا کی عزت نصیب فرما۔
اے اللہ   ماں باپ کے نافرمانوں کو ان کا فرمابردار فرما دے۔
اے اللہ   بے چینوں کو چین عطا فرما، اجڑے ہوئے گھروں کو آباد کر دے اور جن گھروں میں نااتقافی ہے انکو اتفاق کی دولت سے مالامال کر دے۔
اے اللہ   ہمارے بچوں کو پاک دامنی عطا فرما اور انہیں زندگی کا نیک ساتھی نصیب فرما۔
اے اللہ   پاکستان کی حفاظت فرما اور اسے دشمنوں اور اپنوں کی چیرہ دستیوں سے محفوط رکھ۔
اے اللہ   ہمارے حکمرانوں کو حقائق جاننے، سمجھنے اور اس کی روشنی میں صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ   عالم اسلام میں اتحاد و اتقاق عطا فرما۔
اے اللہ   عالم اسلام کے حکمرانوں کے ایک دوسرے پر انحصار کرنے کی قوتِ فیصلہ عطا فرما۔
اے اللہ   ہماری قبروں کو جہنم کا گڑھا نہ بنا۔
اے اللہ   منکرِ نکیر کر سوالات کے وقت ہمیں ثابت قدم رکھنا۔
اے اللہ   ہماری زندگی اور موت کے بعد قرآن کو ہمارا مونس و غمگسار بنا دے۔
اے اللہ   ہمارے اعمال نامے ہمارے داہنے ہاتھ میں دینا۔
اے اللہ   ترازو کا پلڑا نیکیوں سے وزنی کرنا۔
اے اللہ   ہمارے چہروں کو قیامت کے دن چمکتا رکھنا۔
اے اللہ   پُل صراط ہمارے آسان فرما۔
اے اللہ   ہم پر اپنی رحمتوں اور کرموں کی بارش کر دے۔
اے اللہ   ہمیں جہنم سے بچا کر جنت الفردوس نصیب فرما۔
اے اللہ   ساقیِ کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے حوض کوثر سے پانی پلانا۔
اے اللہ   تو سراپا عطا ہی عطا ہے مگر ہمیں مانگنے کا سلیقہ نہیں۔
اے اللہ   ان ٹوٹے پھوٹے لفظوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرما۔

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

سچا انسان

Posted on 01/08/2008. Filed under: تعلیم, رسم و رواج, عشق ومعرفت |

سُچ انسان سُچِت ہوتا ہے۔ سچیت نہیں۔ سِچَّھک ہو کر سچوئی سے سُچِنتا ہے۔ یہی سَدا چار اُسکودُنیا میں سجیونی بنا دیتے ہیں۔
سچا انسان سُچا موتی ہوتا ہے۔ سُچے موتی روایت زمانہ نہیں بلکہ زمانے اُنکی روایات ہوتے ہیں۔ زمانہ اُنکی پہچان نہیں وُہ زمانےکی پہچان ہوتے ہیں۔
زمانہ سخن زمانہ شناس ہوتا ہے۔ زمانہ شناس نگاہ شناس ہوتا ہے۔ نگاہ شناس کھرا انسان ہوتا ہے۔ سچا انسان خالص انسان ہوتا ہے۔ قول خالص، عمل خالص، علم خالص، نام خالص، مزاج خالص، رنگ خالص، خالص ہی خالص۔ خلوص کا پیکر کشش ہی کشش۔ وُہ مقناطیسی کھچاؤ سا رکھتا ہے۔
لوگ اُس پہ نگاہ رکھتے ہیں۔ وُہ دُنیا کے عظیم العظیم انسان سے لو لگاتے ہیں۔ اُنکی تمام تر توجہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھرپور ہوتی  ہے۔ سچا انسان عاشق رسول رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوتا ہے۔ اُسکی ہر بات عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل (لبریز بھی اور تکمیل بھی) ہوتی ہے۔ وُہ خود عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اِک معمولی سا عملی کردار ہوتا ہے۔
سچےانسان کی سوچ منتشر نہیں مرتکز ہوتی ہی۔ ارتکاز کا نقطہ و نکتہ ذات رسول مقبول کےسواءکچھ نہیں۔
سچا انسان خود تو تعمیری ہوتا ہی۔ اُسکےدائرہ اثر میں زیر اثر افراد بھی تعمیری ہوتےہیں بےضرر ہوتےہیں یہ افراد تخلیق کار ہوتےہیں؛ نقال گُر نہیں۔ یہ نقش کار افرادتمثال گُر نہیں بناتے۔ یہ نقش چھوڑتے ہیں اور نقاش بناتے ہیں۔ گویا تخلیق گو نہیں، تخیل گو نہیں بلکہ تخیل کار اور تخلیق کار ان ہی سے ہوتے ہیں۔
جو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےلبریز ہے۔ اُسکا ہر عمل و قول تعمیری خیالات واثرات کا واضح نمونہ ہے۔ نہ صرف وُہ خود مثبت اثرات رکھتا ہے۔ بلکہ حلقہِ دائرہ کو تعمیری سوچ عطاء کرتا ہے۔ خطاء والے کو بھی سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ سچا انسان اعلٰی نمونہ بن کر خوبصورت درسگاہ بنتا ہے۔ جو زمانے کو خوب سیرت بناتی ہے۔ سچوئی زمانے کے محتاج نہیں زمانہ اُنکا محتاج ہوتا ہے۔
اِن سچے انسانوں سے کوئی سچل سرمست بنتا ہے تو کوئی علی ہجویری۔ جن کا سَحر سِحرحلال کی صورت میں سَحرخیز ہے۔ آج بھی کشف المعجوب کی سخن فہمی سدا بہار جیسی سحر خیزی رکھتی ہے۔ یہ تحریر جو خلوص ِقلب و نیت سے سچے انسان  کے راست جذبے سے ضبط تحریر میں لائی گئی تھی۔ آج بھی اپنا اثر قلوب پر رکھتی ہے۔ سچے انسان کا سچا پن آج بھی نیک اثرات رکھتا ہے۔
سچا انسان انسانیت سے محبت کرتا ہے۔ اُسکی تنقید تنقید ہوتی ہے، نکتہ چینی نہیں (١)۔ وُہ برائی سے نفرت کرتے ہیں۔ مگر بُرے انسان کی ذات سے نفرت نہیں بلکہ اُسکی تربیت کی کوشش کرتے ہیں۔ وُہ بغض، حسد و کینہ دِل میں نہیں رکھتے۔ وُہ رَشک کرتا ہے۔ وُہ چاہتا ہے جو اَوروں کے پاس ہے۔ وُہ سب کو مل جائے۔ کسی سے چِھن نہ جائے۔ وُہ انسانیت سوز دِل سوز ہوتا ہے۔
سچا انسان ہے کیا؟ سچ بولنے والا وُہ سچ بولنے والا جسکا قول اور عمل یکساں ہوں، تضاد سے پاک ۔جو اللہ ، اُسکے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کو صدق دِل سےتسلیم کر لے۔ تسلیم کرنا یہ ہے کہ جسکو دِل و دماغ قبول کر لیں۔ ایسا انسان امین، صادق، دیانتدار اور شرافت کا عملی کردار ہوگا۔ کھرا انسان مشکل وقت میں بھی حق گو رہتا ہے۔ گویا وُہ کلمہ طیبہ کا عملی اقرار کرتا ہے۔
سانچ لوگ سچی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اُنکی درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ سچا انسان سچی و کھری تعلیمات کا فروغ چاہتا ہے۔ اپنی نمائش، زیبائش اور آرائش کی تمنا نہیں رکھتا۔
اُولیاءکرام ہمیشہ تعمیر اور محبت کی بات کرتے ہیں۔ وُہ لوگوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں۔ تعلق غرض سے نہیں دِل کی محبت سے رکھو! شہر کام کی غرض سے مہمان لاتے ہیں مگر سچے انسان دِل کی محبت سے محبت کرنے آتے ہیں۔ جسکی یاد آئے اُسکے شہر چل پڑو۔ شہر ِیثرب میں محبوب کی محبت۔
سچا انسان قابل تنقید نہیں ہوتا نہ ہی اُسکی مکمل قابل تعریف کی جاسکتی ہے (٢)۔ سچا انسان عاشق رسول ہوتا ہے۔ یہی اُسکی اصل خوبی و تعریف ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا سچا و سُچا انسان نہ کبھی کوئی آیا ہے، نہ ہی آئےگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ مبارک کا ہر پہلو، قدم اور عمل صرف اور صرف تعمیری اثرات کی نمایاں مشعل ِراہ ہے۔ غزوات ہو یا تعلیم و تبلیغ ہر معاملہ تعمیری ہی تعمیری۔ اے اللہ ہمیں رسول پاک  کی تعلیمات پر تعمیری صورت میں عمل کرنے کی توفیق عطاء فرما۔
اے اللہ ہم سب کو ایک سچا انسان، سچا مسلمان بننے کی توفیق عطاء فرما۔ ہمیں صرف نیک تربیت حاصل کرنے والا ہی نہیں، عملی تربیت دینے والا انسان بھی بنا۔ بطور مسلمان لفظ پاکستانی اور عقیدہ اسلام کی پہچان بھی کروا۔ ہمیں اسلام کی اصل روح سے روشناس کروانے والے عاشقین رسول کی رہنمائی و رہبری عطاء فرما۔ جو پوری دُنیا کی رہنمائی تعمیری فکر سے کریں۔ ہمیں سچ کے نام پر تخریبی سوچ والے بنے بنائے رہنمائوں اور رہبروں کی شر انگیز قیادت سے بچا۔(آمین)
(فرخ)

وضاحت:
(١) تنقید دراصل تکمیل میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ gaps fill  کرتی ہے۔ مثبت بات ہے۔ منفی تنقید دراصل نکتہ چینی ہے۔
(٢) اُسکے ذکر میں تنقید اُسکی شان کے برخلاف ہوتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنٰی
ارتکاز / مرتکز ۔ ایک نقطہ پر اکٹھا ہونا
سُچ / سچل ۔ اصلی، صاف، پاک
سدا چار ۔ نیک چال چلن، نیک اخلاق
انسانیت سوز ۔ ہمدردانہ و غم خوانہ انسان دوستی
سُچا ۔ کھرا
گَھڑ ۔ خود سےبنا لینا
تعمیری ۔ Constructive, Positive Approach
سَچُت ۔ بےفکر، فکر سے آزاد
لبریز ۔ بھرپور بھرا ہوا ہونا
تخلیق کار ۔ بنانےوالا
سچوئی ۔ سچائی، راستی
لَو ۔ محب سے توجہ کا مرکز بننا
تخیل کار ۔ خیال پیش کرنےوالا
سچُنتا ۔ مناسب، غور، نیک خیال
منتشر ۔ بکھرا ہوا
تماثیل ۔ مشابہ صورت
سِچَّھک ۔ تعلیم دینے والا، اُستاد
سانچ ۔ سچائی، راستی، درستی، صحیح
تمثال گُر ۔ مصور ، نقاش
سچِیت ۔ ہوشیار، آگاہ، خبردار
نقاش ۔ نقش و نگار بنانےوالا
دِل سوز ۔ ہمدرد دوست
سَحر ۔ صبح
نقال گُر ۔ نقل پر عبور رکھنے والا جو حقیقت کو مسخرا بنا دے۔
زمانہ سخن ۔ عمدگی و خوبصورتی سے آگاہی
سِحرحلال ۔ جامع اور فصاحت والی بات
نقش ۔ چھاپ، صورت
زمانہ شناس ۔ باریک تہوں سے آگاہی
سَحرخیز ۔ صبح کا وقت، تازگی
نقش کار ۔ چھاپ کی صورت بنانے والا
سجیونی ۔ جان دینے والی (شی) آب حیات
سخن فہمی ۔ بات کا درست مطلب سمجھ آنا
نقطہ ۔ مرکز، صفر
سچ ۔ حق بات، راست گوئی
سدا بہار ۔ ہمیشہ تازہ و سرسبز رہنا
نکتہ ۔ باریک بات کی تہ

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

مربوط سلسلہِ ربط

Posted on 16/10/2007. Filed under: اسلام, تاریخ, عشق ومعرفت |

خدا کی کائنات حُسن کائنات ہے۔ آپ غور کرتے چلے جائیں آپکو جواب ملتے ہی چلے جائیں گے۔ آپ تھک جائیں گے مگرسوال آپکی نگاہوں کے سامنے خود بخود حل ہو رہے ہوں گے۔ یہ خدا کا ایسا مربوط ربط ہے کہ جس میں رابطے ہی رابطےنظر آتے ہیں۔
انسان کےجسم سے لےکر پانی کے بہاؤ تک دارالحکومتوں سے لے کر اللہ  کے ولیوں تک مستقل مربوط ایسا نظام نظر آتا ہے جس میں ذرہ ذرہ رابطے میں ربط ہی پیدا کرتا چلا جا رہا ہے۔ ہر ربط میں مناسب مرکز ہے۔
اِنسانی جسم میں خون پیدا ہوتا ہے۔ جسم کےخلیوں تک خون کا مستقل بہاؤ ہوتا ہے۔ سانس لیتے ہیں ہوا پھیپھڑوں میں جاتی ہے۔ جسم کےخلیوں میں موجود خون کی صفائی و تازگی کا عمل سر انجام ہوتا ہے۔ خوراک کھاتے ہیں ایک ایک خلیہ کو یہ خوراک قوت مہیا کرتی ہے خون کا حصہ بنتی ہے۔ گردے سےفضلہ بھی بنتا ہے۔ ہمارے جسم میں سات گلینڈز بھی اپنے اپنے حصہ کا مخصوص کردار و فعل سرانجام دیتے ہیں۔ ہمارے جسم کے بنیادی مراکز وُہ  سات گلینڈز  کے اعضاء ہیں۔
پانی دریاؤں سے سمندروں میں اپنے مخصوص راستوں سے ہوتا ہوا گرتا ہے۔ کبھی خیال کیا کہ کنواں میں پانی کیسے آیا۔ زمین میں ہر جگہ تو پانی موجود نہیں۔ دراصل یہ قدرتی کارخیزوں کا ایک سلسلہ سا ہی  ہے۔ سمندر میں بھی سمندر ہے۔ زمین میں (زمین کی سطح کےنیچے) بھی دریا، ندی ، نالے ہمارے جسم کی شریانوں اور وریدوں کی ہی طرح بہہ رہے ہیں۔ مثل مشہور ہے ”پیاسا کنواں کے پاس آتا ہے۔“ غور کیجئیے”کنواں پیاسے کے پاس آتا ہے۔“ زمین کے اندر پانی بہہ رہا ہے۔ یہ پانی اسی طرح بہہ رہا ہے جیسےہمارے جسم کی رگوں میں خون بہہ رہا ہے۔ اگر کنواں کی کھدائی بڑی رگوں میں ہوتی ہے تو کنواں پانی سے بھرا رہتا ہے۔ پتھر سے چشمہ پھوٹ پڑتا ہے۔ یہ پانی ہماری شریانوں تک جاتا ہے۔ کبھی غور کیا۔ گندہ  پانی بھی صاف پانی کا حصہ بن جاتا ہے۔ زمین کے نیچے پانی بہہ رہا ہے۔ تو سمندر کے پانی کےنیچے ایک اور زمین ہے۔ آتش فشاں کا لاوہ بھی تو زمین کے اندر کی نہروں سے ہی جوالا مُکھی کےدامن تک پہنچ کر اکٹھا ہوتا ہے۔ یہ انسانی جسم کے بے شمار نظاموں کی طرح mix-up نہیں ہوتے۔ مربوطیت قائم رہتی ہے۔
گائے کا دودھ دینے کا عمل کتنا مربوط ہے۔ خون بھی بہہ رہا ہے، چارہ ہضم بھی ہورہا ہے، پھیپھڑے اور گردے بھی اپنا فعل سرانجام دے رہے ہیں، دودھ دینےکا عمل بھی جاری ہے۔ مگر کبھی کوئی چیز آپس میں ملی نہیں۔ یہ اللہ ہی کی حکمت ہے۔
تمام شہر مرکزی شہروں سےصرف ربط ہی نہیں ہوتے، مرکزی شہر تمام شہروں کو رابطے میں رکھتے ہیں۔ دارالحکومت ایک ربط کے ذریعے ملک بھر میں اتحاد اور اتفاق کا ربط پیدا کرتا ہے۔ دِل کمزور ہو جائے تو جسم متاثر ہوتا ہے۔ مرکز کے حالات خراب ہوں تو ملک کمزور ہوتا جاتا ہے۔ اسی سلسلہ میں اِن مرکزوں کے بھی مرکز ہوتے ہیں۔ جو خطوں کےمراکز کہلاتے ہیں۔ یہاں پر خدا  کا نظام ہے خطوں کے مرکز بدلتے رہتے ہیں کبھی مگدھ کی ریاست مرکز تھی تو کبھی نندا(١) اور پھر دِلی مرکز رہا، مدینہ سے دمشق اور پھر بغداد بنا عظیم مرکز، لندن، ماسکو اور واشنگٹن مرکز رہ چکے، ثمرقند، غزنی، کابل اور استنبول ماضی کا حصہ کا بن چکے، نیا مرکز بھی تو کوئی  ہے کوئی نیا دارالحکومت۔
آپ پاکستان کے نقشہ کو دیکھئیے ہمارے سیاسی مفکر یورپی یونین کی طرز کا ایک وفاقی اتحاد سوچ رہے ہیں۔ کبھی وہ ثقافتی و لسانی مماثلت کی بناء پرسارک کو دیکھتے ہیں اور کبھی ملی و دینی حوالے سےعرب یونین کو سوچتے ہیں، خاموش قوموں کے بغض اور اشخاصیات کے لالچ اقتدار میں کر جاتے ہیں۔ وُہ غلط سوچتے ہیں وہ بیچ میں کچھ بھول جاتے ہیں۔ تاریخ کا جغرافیہ صحیح سمجھ نہیں پاتے۔ اسلام اس خطہ میں مغرب سےآیا تھا مشرق سےنہیں۔ ہندوستان کا سنہری دور مغل دور کہلاتا ہے۔ مستحکم سلطنتیں وسط ایشیاء سےآئی تھیں۔ ہم بیچ کے بےساحل ممالک کو نظر انداز کر جاتے ہیں۔ اِن خطوں کے جغرافیہ سے ہمارے خطہ کا جو ربط ہے۔ وُہ ایسا مربوط ربط ہے کہ یہ کسی اور خطہ سےمنسلک رہ کر مضبوط نہیں ہوسکتے۔ ان سات ستان (قازقستان، کرغیزستان، اُزبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان) ممالک کی مضبوطی صرف اور صرف پاکستان کی مضبوطی میں ہے۔ ہمیں سیاسی طور پر اِس جانب سوچنا ہوگا۔ یہ بیچ کا وُہ راستہ ہے جس کا تاج ہمیشہ اللہ کی جانب سے ہمیشہ ہمارے سر پر رہےگا۔ بس ہمیں یہاں سوچ کر ایک جلد مضبوط فیصلہ کرنا ہے۔ اِن تمام قوموں کی ایک قومیت ہیں اور مشترکہ قومیت پاکستان ہے اور پاکستان سےمراد اِسلام ہے۔
انبیاء کا سلسلہ چلا۔ اللہ کہتا ہے کہ اُس نے ہر خطہ میں اپنے پیغمبر بھیجے۔ یہ اللہ کا بڑا ہی systematic نظام تھا۔ ہم برصغیر کی تاریخ کو دیکھ لیں تو ہم پر اللہ کی یہ بات کھل جائےگی۔ (آرٹیکل کےاختتام تک بات کو مختلف حوالوں سےسمجھنےکی کوشش کیجیئےگا۔ یہاں صرف اولیاءکرام کا تذکرہ نہیں بلکہ کئی پہلو ہیں جن کو تحریر نہیں کر رہا مگر وہ اس میں موجود ہیں۔) مکہ اور مدینہ سے اسلام بغداد تک جا پہنچا، مرکز بدلا، علم کا گہوارہ  بنا، اُولیاءکرام کی آمد ہوئی۔ حضرت علی کی اُولاد کے ایک بڑے حصہ نے حالات کے باعث خراسان و ہرات ہجرت کیں اور پھر سلطان محمود غزنوی کے ہمراہ برصغیر پر حملہ آور ہونا اور پھر یہاں خاموشی سےسکونت اختیار کر جانا۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی نے اُولیاءکرام کو برصغیر بھیجا ہر علاقے کےلیئے ایک بڑے ولی اللہ مقرر ہیں ایک انگریز مورخ نےکہا تھا ہندوستان پر کوئی شخص حکومت نہیں کر رہا ایک قبر کر رہی ہے اور وہ مزار شیخ الہند خواجہ معین الدین چشتی کا ہے۔ اسی طرح لاہور میں داتا گنج بخش یہ بڑے نام ہیں۔آپ اُولیا کی تواریخ پڑھیئے تو آپ جانیں گے کہ ہر ولی اللہ نے ہر ولی اللہ کو کوئی نہ کوئی نامزدگی و علاقہ سپرد کیا۔ (ایک مادی حکومت ہے جو بادشاہوں کی ہوا کرتی ہے اور اُولیاء کی یہ روحانی حکومت ہوتی ہے۔) اور یہ سلسلہ آج تک چلا آ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مربوط نظام ہے کہ ہمارے لیئے راہیں کھلتی ہیں۔
آج کچھ متعصب لوگ لاہور کو ایک عیاش شہر سمجھتے ہیں۔ تقسیم در تقسیم، نظریہ پاکستان پر چند متعصب افراد نے جواب میں لاہور شہر پر جو غلیظ کیچڑ اُچھالا اُنکے لیئےبھی جواب ہے۔
لاہور شہر کے بارہ دروازے ہیں۔ ہر دروازہ کے احاطہ میں کم از کم ایک تکیہ (Rest House) موجود ہے۔ جس کےساتھ اکھاڑی، بیٹھکیں منسلک تھی۔ اِن تکیوں کے میزبان اللہ والے ہوا کرتےتھے۔ یہ سلسلہ کئی صدیاں چلا اب تکییّ ویران ہیں دروازے بھی ویران ہیں۔ اِس شہر میں اُولیاءکرام تشریف لاتے تھے اور اِسکو مسکن بنا لیتے۔ شاہ حسین زنجانی پھر شاہ اسمعیل انکے بعد حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ایک سلسلہِ ربط ہے۔ جو آج تک رُکا نہیں۔ غور کیجئیے شاہ حسین زنجانی کی جس روز وفات ہوئی اُس سےاگلے روز حضرت علی ہجویری اپنے مرشد کے ارشاد کے مطابق لاہور پہنچے تو جنازہ آ رہا تھا۔ آپ شاہ حسین زنجانی کےجنازہ میں شریک ہوئے۔ آپ دونوں پیر بھائی تھے۔
یہ سلسلوں کے ربط سمجھنے کی بات ہے یہ کہاں سے شروع ہوتے ہیں۔ صدیوں سے یہ معاملات چلے آ رہے ہیں۔ ہر بڑا بزرگ اپنے مرشد کے ارشاد کے مطابق حکم دیےگئے علاقےمیں قیام پذیر ہوتا ہے۔ بری امام نے چکوال سے اسلام آباد کو اپنا مرکز ِمسکن بنا لیا۔ تخلیق پاکستان کے دوران لاہور شہر میں ادیبوں کا ایک مسکن چل پڑا اور یہ میلا کبھی روحانیت کی صورت میں اور کبھی دینی معاملات کےحوالے سے بڑھتا ہے، اکثر اس میلے میں ادبی رنگ غالب ہوجاتا ہے۔ علامہ اقبال قدرت اللہ شہاب، واصف علی واصف، اشفاق احمد اور آج غامدی اپنے اپنے رنگ میں محفلیں سجھائے ہوئے ہیں اور یہ محفلیں اس شہر کے اختتام تک جاری رہنی چاہیں۔ اللہ  کرے یہ محفلیں گمنام افراد سے جاری رہے (نامور نام دوسروں کو خوش رکھنےکی خاطر، بات گول رکھتے ہیں۔)
یہ اللہ کے پیدا کردہ سلسلے بڑے ہی نرالے ہوتے ہیں۔ اِن میں بڑا ہی ربط ہوتا ہے۔ اللہ نےہماری تربیت کس طرح کرنی ہے، کون نامزد ہے ہم نہیں جانتے، یہ اُسکےسلسلے ہیں بس وہی جانتا ہے۔
دیکھئیے لاہور شہر کےتکیوّں کا سلسلہ رُکا تو ادیبوں کا اور اللہ والوں کا یہ ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جو شہر لاہور تک محدود نہیں رہا۔ پوری دُنیا کےلیئے یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔
قرآن میں اللہ نےجگہ جگہ اپنےمربوط سلسلہِ ربط کا واضح ذکر کیا۔ گائے سے دودھ  پیدا ہونے کا تذکرہ جو قرآن میں بیان ہے، کائنات کا ذرہ ذرہ ایک مربوط سلسلہ کا واضح اظہار ہے۔ موسموں کا بدلنا، سورج، چاند کا مقررہ وقت پر حرکت کرنا۔ پہاڑوں ، دریائوں، سمندروں، نباتات، حیوانات اور حیات کے سلسلے اللہ کی قدرت ہی کےمظہر ہیں۔
ہم بس سلسلوں کی کڑیا ں ہیں۔ اپنے اپنے حصہ کا کام کرتے ہیں اور پھر اِس دُنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ایک پیدائشی معذور بچہ ہمارے لیئے اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ اُس بچے کے ذریعے ہمیں محبت کرنا سکھاتا ہے۔ اُس بچے کی موت ہماری زندگی بدل دیتی ہے۔ وُہ ہمیں انسانیت سے محبت سکھاتا ہے۔ وُہ ذریعہ بنتا ہے۔ کہ ہم اللہ اور اُسکے رسول سے محبت، عشق کی صورت میں کرنا سیکھیں۔
بس آپ کائنات کے سلسلوں پر غور کیجئیےگتھیاں سلجھنا شروع ہو جائیں گی۔ آپ یہ جان  پائیں گے کہ زندگی کا اقرار لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ  میں ہے۔ اپنے آپکو اللہ  کی رضا  کے تابع کر لینا۔ اللہ سے راضی ہوجانا۔ ہم اللہ سے راضی تو اللہ ہم سے راضی ہے۔ یہی اصل میں ہمارا مربوط سلسلہِ ربط ہے۔

(١) مگدھ: یہ ہندوستان کی شمالی ریاست کا علاقہ ہے۔
(٢) نندا: سکندر اعظم کے حملہ کے بعد ہندوستان کا دارلحکومت، موجودہ راولپنڈی ڈویژن کا ضلع چکوال کٹاس راج اسی دور سےمتعلق ہے۔

(فرخ)

Read Full Post | Make a Comment ( 6 so far )

حضرت سید سلطان احمد سخی سرور

Posted on 22/02/2007. Filed under: عشق ومعرفت |

ڈیرہ غازی خان کو اگرچہ ڈویژن کا درجہ حاصل ہےلیکن بلحاظ ترقی بےحد پسماندہ ہے۔
یہاں کی زبان سرائیکی ہے جس میں بےحد مٹھاس اور شیرینی ہے۔ لوگ سادہ‘ ملنسار‘ مودّب اور محبت کرنے والے ہیں۔ شاید یہ نمایاں خصوصیات ان بزرگانِ دین کی تعلیمات کا ثمر ہیں۔ جو اس علاقےمیں بطرف جنوب پچاسی میل کےفاصلے پر کوٹ مٹھن میں حضرت خواجہ غلام فرید بجانب مشرق اڑتالیس میل دور تونسہ شریف میں حضرت سلیمان تونسوی اور مغرب کی سمت پچیس میل دور حضرت سید احمد سلطان سخی سرور شہید آسودہ خواب ہیں۔
سخی سرور میں صرف ایک ہی چھوٹا سا ٹیڑھا میڑھا بازار ہے جس کےشمالی کنارے پر بسوں کا اڈا اور جنوبی سرے پر حضرت سلطان سخی سرور شہید کےمزارِ اقدس کی عمارت کا صدر دروازہ کھلتا ہے۔ اس کےاوپر دو منزلہ کمرے بنےہوئے ہیں اندر داخل ہوں تو سامنےکشادہ صحن اور تین کمرے ہیں جن میں سےایک میں مزارِ مبارک پر چڑھائےگئے پرانےغلاف رکھےہیں۔ اس کےساتھ چھوٹےسےتاریک کمرے میں ہر وقت شمع روشن رہتی ہے۔ دیوار کےساتھ اونچا سا تھڑا ہے جس پر مصلیٰ بچھا ہوا ہے اس پر حضرت صاحب عبادت و ریاضت کیا کرتےتھے۔ اس سےملحقہ کشادہ کمرے میں دائیں کونےمیں آپ کا مزار ہے۔ اس کےقریب چھوٹےسےچبوترے پر ہر وقت چراغ روشن رہتا ہے۔ مزارِ اقدس کےقدموں کی طرف نیچےزمین کےاندر ڈیڑھ دو بالشت چوڑا سوراخ ہے جو قبرمبارک کےاندر جاتا ہے۔ زائرین اس میں ہاتھ ڈال کر کچھ تلاش کرتےہیں۔ بعض اوقات کسی کو کوئی چیز مل بھی جاتی ہے تو وہ خود کو بڑا خوش نصیب سمجھتا ہے۔ مقامی لوگوں کےسوا آٹھ صدیاں قبل جب حضرت سلطان سخی سرور شہادت کےبعد یہاں دفن کئےگئےتو اس ویرانےمیں آپ کی بیوی اور دو بچے بھی ساتھ تھے۔ آپ کی بیوی نےبارگاہِ خداوندی میں فریاد کی کہ اب مجھےکس کا سہارا ہے تو حکم ایزدی سےاس جگہ سے زمین شق ہو گئی جس میں آ پکےبیوی بچےسما گئے۔ اس واقعہ کی کسی مستند حوالےسےتصدیق نہیں ہو سکی لیکن اتنا ضرور ہےکہ آپ کی محترمہ بیگم کی قبر یہیں پر ہے۔

حضرت سلطان سخی سرور شہید کا شجرہ نسب
حضرت سید احمد سخی سرور لعلاں والا بن سید زین العابدین بن سید عمر بن سید عبدالطیف بن سید شیخار بن سید اسمٰعیل بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن زین العابدین بن حضرت حسین بن حضرت علی۔

مقبرے کےکمرےاور صحن کےبائیں جانب مسجد ہے۔ جس کےتین محراب ہیں، اور کمرے کے ہر کونےمیں آپ کےچار یاروں سخی بادشاہ سید علی شہید، سیدنور شہید، سید عمر شہید اور سید اسحاق شہید کےاسمائےگرامی رقم ہیں۔
مسجد کےبالمقابل مشرقی سمت اونچی سی جگہ پر دو بہت بڑی دیگیں پڑی ہیں جن میں منوں اناج پک سکتا ہےکہتےہیں جب حضرت سخی سرور حیات تھےتو بغیر آگ جلائےان دیگوں میں جو چاہتے پکا لیا کرتےتھے۔
بجانب مغرب جدھر آپ کا چہرہ انور ہے آپ کےچار یاروں کی قبور ہیں۔ حضرت سید علی شہید اور حضرت سیدنور شہید کی پختہ قبریں ایک پہاڑی کی چوٹی پر ہیں جبکہ حضرت سیدعمر شہید اور حضرت اسحاق شہید کی کچی قبور اس کےبالمقابل دوسری پہاڑی کی چوڑی پر ہیں۔ چشم باطن سےدیکھنےوالوں کو یوں احساس ہوتا ہےجیسےآپ اپنےیاروں کی طرف دیکھ رہےہوں۔
حضرت سید احمد سلطان سخی سرور شہید کےوالد بزرگوار حضرت زین العابدین سرزمین پاک و ہند تشریف لانےسےقبل بائیس سال سےروضہ رسول اطہر کی خدمت کرتےچلے آ رہے تھے۔ ایک روز سیدالانبیاء وختم المرسلین نےعالم خواب میں ہندوستان جانےکا حکم دیا۔ آپ نےفوراً رخت سفر باندھا اور ضلع شیخوپورہ میں شاہکوٹ میں قیام کیا۔ یہ 520 ہجری (1126ء) کا واقعہ ہے۔ آپ ہر وقت یادِ الٰہی میں مشغول رہتےتھے۔ گزر اوقات کیلئےآپ نےزراعت کےعلاوہ بھیڑ بکریاں بھی پال رکھی تھیں۔ دو سال کےبعد آپ کی اہلیہ محترمہ بی بی ایمنہ جنت الفردوس کو سدھاریں۔ ان کےبطن سےتین لڑکےحضرت سلطان قیصر، حضرت سید محمود اور حضرت سید سہرا تھی۔ شاہکوٹ کا نمبردار پیرا رہان آپ کا مرید تھا۔ اس نےاپنی کھوکھر برادری سےمشورہ کےبعد اپنی بڑی دختر بی بی عائشہ کو آپ کے عقد میں دے دیا۔ ان کےبطن سے524 ہجری (1130ء) میں حضرت سید احمد سلطان پیدا ہوئےاور پھر ان کے بھائی حضرت عبدالغنی المعروف خان جٹی یا خان ڈھوڈا نےجنم لیا۔
آپ بچپن سے ہی بڑے ذہین و فہمیدہ تھے۔ اکثر اوقات اپنے والد مکرم سےشرعی مسائل سیکھتےرہتےتھے۔ ان دنوں لاہور میں مولانا سید محمد اسحاق ظلہ العالی کےعلم و فضل کا بڑا شہرہ تھا۔ آپ کو علوم ظاہری کےزیور سےآراستہ کرنےکیلئےلاہور بھیج دیا گیا۔ حضرت مولانا کی محبت و تربیت و تعلیم کی بدولت آپ ان تمام صلاحیتوں اور صفات سےمتصف ہو گئےجو کسی عالم دین کا خاصہ ہوتی ہیں۔ تحصیل علم کےبعد واپس آکر باپ کا پیشہ اختیار کیا لیکن زیادہ تر وقت یادِ الٰہی میں ہی بسر ہوتا تھا۔ ظاہری علوم کےہم آہنگ علوم باطنی حاصل کرنےکا جذبہ اشتیاق سینےمیں کروٹیں لینےلگا جس میں روزافزوں طغیانی آتی گئی۔ آپ کےوالد محترم نےجب اپنےاس ہونہار بیٹےکا رجحان دیکھا تو اس طرح تربیت فرمانےلگےجیسےمرشد مرید کی تربیت کرتا ہے۔ لیکن دل کی خلش برقرار رہی۔ چاہتےتھےکہ سلوک و معرفت کی راہوں پر گامزن ہوں۔ علم لدنی سےمالامال ہوں اور کسی صاحب حال بزرگ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوں۔
جب 535 ہجری (1141ء) میں آ پ کےوالد گرامی نےرحلت فرمائی اور شاہکوٹ میں ہی مدفن ہوئےتو آپ کےخالہ زاد بھائی ابی۔ جودھا ساون اور مکو نےآپ کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ روزافزوں ان کی چیرہ دستیوں اور زیادتیوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ انہوں نے پیرا رہان کی وفات کےبعد زرخیز زمین اپنےپاس رکھ لی اور بنجر ویران اراضی آپ کےحوالےکر دی لیکن اللہ کےکرم سےوہ زرخیز و شاداب ہو گئی تو وہ بڑے نالاں وافسردہ ہوئےاور حسد کی آگ میں جلنےلگے۔ وہ ہمیشہ اس تاک میں رہتےتھےکہ حیلے بہانے سے آپ کو نقصان پہنچائیں۔
باپ کےوصال کے بعد آپ کی شادی گھنو خاں حاکم ملتان کی بیٹی بی بی بائی سے ہو گئی۔ امراءروساء نےنذرانے پیش کئے۔ جب آپ دلہن کو گھر لائےتو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت مائی عائشہ نےگھی کےچراغ جلائےاور خوب خوشیاں منائیں۔ اس پر آپ کےخالہ زاد بھائی سیخ پا ہو گئےاور دل ہی دل میں آپ کو بےعزت کرنےکےمنصوبےبنانےلگے۔ انہوں نےلاگیوں اور بھانڈ میراثیوں کو بہلا پھسلا اور لالچ دےکر بھیجا کہ وہ حضرت سید احمد سلطان کو بدنام و شرمسار کریں اور ترکیب یہ بتائی کہ اگر وہ سیر دے تو وہ سواسیر مانگیں۔ انہوں نےایسا ہی کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنےنیک بندوں کی خود حفاظت فرماتا ہے۔ آپ نےنہ صرف لاگیوں‘ بھانڈوں‘ میراثیوں کو ہی نہیں بلکہ غربا و مساکین اور محتاجوں کو بےشمار دولت جہیز کا سامان اور دیگر اشیاء سے خوب نوازا اس دن سےآپ سخی سرورر‘لکھ داتا‘ مکھی خاں‘ لالانوالہ‘ پیرخانو‘ شیخ راونکور وغیرہ مختلف القابات سےنوازے جانےلگے۔ لیکن سخی سرور کا لقب ان سب پر حاوی ہو گیا۔ آپ کےخالہ زاد بھائی بھلا یہ کب برداشت کر سکتےتھے لہٰذا ان کی آتش حسد و انتقام مزید بھڑک اٹھی۔ اسی اثناء میں آپ کی والدہ محترمہ اور سوتیلے بھائی سید محمود اور سید سہر راہی ملک عدم ہوکر شاہکوٹ میں ہی دفن ہوئےتو آپ دل برداشتہ ہو گئے۔ کسی مردحق کے ہاتھ میں ہاتھ دینےکا جذبہ بڑی شدومد سےبیدار ہو گیا۔ چنانچہ تلاش حق کیلئے آپ بغداد شریف پہنچےجو ان دنوں روحانی علوم کا سرچشمہ تھا۔
آپ نےسلسلہ چشتیہ میں حضرت خواجہ مودود چشتی سلسلہ سہروردیہ میں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی اور سلسلہ قادریہ میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہم اللہ علیہم سےخرقہ خلافت حاصل کیا۔
بغداد شریف سےواپسی پر آپ نےچند دن لاہور میں قیام فرمایا اور پھر وزیرآباد کےقریب سوہدرہ میں دریائےچناب کےکنارے یادِ الٰہی میں مشغول ہو گئے۔ عشق، مشک اور اللہ کےاولیاءکبھی چھپےنہیں رہتے۔ یہ الگ بات ہےکہ عام دنیادار انسان ان کےقریب ہو کر بھی فیضیاب نہ ہو۔ آپ کی بزرگی و ولایت کا چرچا چار دانگ عالم میں ہو گیا۔ ہر وقت لوگوں کا ہجوم ہونےلگا۔ جو بھی حاجت مند درِ اقدس پر پہنچ جاتا تہی دامن و بےمراد نہ لوٹتا۔ آ پکو جو کچھ میسر آتا فوراً راہ خدا میں تقسیم فرما دیتے۔ ہر جگہ لوگ آپ کو سخی سرور اور سختی داتا کےنام نامی اسم گرامی سےیاد کرنےلگے۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہونےوالےدنیا کےساتھ دین کی دولت سےبھی مالامال ہونےلگے۔ دن بدن آپ کےمحبین، معتقدین اور مریدین میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
دھونکل میں بھی آپ نےچند سال قیام فرمایا۔ جہاں آپ نےڈیرہ ڈالا وہ بڑی اجاڑ و ویران جگہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نےاپنےفضل و کرم سےوہاں پانی کا چشمہ جاری فرما دیا۔ مخلوق خدا یہاں بھی جوق درجوق پہنچنےلگی۔ میلوں کی مسافت طےکر کےلوگ آگےاور اپنےدکھوں، غموں اور محرومیوں کےمداوا کے بعد ہنسی خوشی واپس لوٹ جاتےایک دن دھونکل کےنمبردار کا لڑکا مفقود الخبر ہو گیا۔ نمبردار نےحاضر خدمت ہو کر عرض کیا تو ارشاد فرمایا ‘مطمئن رہو شام تک لوٹ آئےگا‘۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
وطن مالوف سےنکلےکئی سال ہو گئےتھے۔ لہٰذا واپس شاہکوٹ تشریف لےگئے۔ اس اثناء میں آپ کی شہرت و بزرگی کےچرچے پورے ہندوستان میں پہنچ چکےتھے۔ سینکڑوں میلوں کا سفر طےکر کےلوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے۔ آپ کےخالہ زاد بھائیوں کو آپ کی یہ شہرت و مرتبہ ایک آنکھ نہ بھایا۔ اپنےلئےخطرہ محسوس کرنےلگے۔ لہٰذا ان کی دیرینہ دشمنی پھر عود کر آئی۔
جب خالہ زاد بھائیوں کی عداوت انتہا کو پہنچ گئی تو آپ نقل مکانی فرما کر ڈیرہ غازی خان تشریف لےگئےاور کوہِ سلیمان کےدامن میں نگاہہ کےمقام پر قیام فرمایا اور عبادتِ الٰہی میں مصروف ہو گئے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں آج کل آپ کا مزار اقدس ہے اور اب سخی سرور کےنام سےمشہور ہے۔ لوگوں کا یہاں بھی اژدہام ہونےلگا۔ ہر مذہب و ملت کےلوگ آپ کےدرِ دولت پر حاضر ہونےلگے۔ کئی ہندو، سکھ اور ان کی عورتیں بھی آپ کےعقیدت مندوں اور معتقدوں میں شامل تھیں جو سلطانی معتقد کہلاتےتھےاور اب بھی پاک و ہند میں موجود ہیں۔
آپ کےارادت مند ‘عقیدت مند‘ معتقد اور مریدین بےشمار تھےلیکن ان میں سےچار اصحاب خاص الخاص تھے۔ یہ چار یاروں کےنام سےمشہور تھے۔ انہیں آپ سے بےحد عشق تھا۔ آپ بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے۔
آپ کےخالہ زاد بھائیوں نےآپ کو یہاں بھی سکھ کا سانس نہ لینےدیا۔ انہوں نےاپنی قوم کےان گنت لوگوں کو آپ سے بدظن کر دیا اور جم غفیر لےکر آپ کو شہید کرنےکیلئے چل پڑے۔ ان دنوں آ پ کےسگے بھائی حضرت سید عبدالغنی المعروف خان ڈھوڈا نگاہہ سے بارہ کوس دور قصبہ ودود میں عبادت و ریاضت میں مشغول رہتےتھے۔ ان کےخادم نےجب خالہ زاد بھائیوں کےعزائم کےبارے میں اطلاع دی تو تن تنہا ان کےمقابلے پر اتر آئےاور بہتر اشخاص کو حوالہ موت کرنےکےبعد جامِ شہادت نوش کیا۔ اس کےبعد وہ سب لوگ نگاہہ پہنچے۔ اس وقت حضرت سید احمد سلطان سخی سرور نماز پڑھنےمیں مصروف تھے۔ چند ایک خادم اور چاروں یار موجود تھے۔ نماز سےفراغت کے بعد جب آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ گھوڑی پر سوار ہو گئے۔ بھائیوں نےحملہ کیا تو آپ نے بھی جنگ شروع کر دی اور یاروں سمیت مقام شہادت سےسرفراز ہوئے۔ دم واپسی آپ نےارشاد فرمایا کہ میرےیاروں کو مجھ سے بلند مقام پر دفن کیا جائے۔ چنانچہ حسب الارشاد ایسا ہی کیا گیا۔
22رجب المرجب 577 ہجری (1181ء) کو تریپن سال کی عمر میں جب آپ کی شہادت ہوئی تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہنچ گئے۔ لاکھوں محبین کےقلوب ورد و غم اور ہجر و فراق سےفگار ہوگئے۔ مختلف محبین و مریدین نےآپ کےمزارِ اقدس کی تعمیر میں وقتاً فوقتاً حصہ لیا لیکن بستی سخی سرور کےمکینوں کےبقول مزار کی عمارت کی تعمیر بادشاہ بابر نےاپنی نگرانی میں کرائی تھی اور اس ضمن میں اس نےایک مہر شدہ دستاویز بھی لکھی تھی۔ مغرب کی جانب ایک بہت بڑا حوض بنوایا تھا تاکہ اس میں پانی جمع رہے۔ مسجد کی محراب کےنیچےاور سطح زمین سےتقریباً پچاس فٹ اونچی بابا گوجر ماشکی سیالکوٹی کی قبر ہے کہتے ہیں کہ آپ پہاڑ پر سے پانی لا کر نمازیوں کو وضو کرایا کرتےتھے۔
حضرت سخی سرور شہید کی یاد میں ہر سال مختلف شہروں میں میلہ لگتا ہے جس میں بےشمار لوگ حصہ لیتے ہیں۔ پشاور میں اسےجھنڈیوں والا میلہ کہتےہیں۔ دھونکل میں جون، جولائی کےمہینےمیں بہت بڑے میلےکا اہتمام ہوتا ہے۔ لاہور میں اسےقدموں اور پار کا میلہ کہا جاتا ہے اور ڈیرہ غازی خان میں آ پ کا عرس گیارہ اپریل کو بڑی دھوم دھام سےمنایا جاتا ہے۔ اس میں لوگ دور و نزدیک سےشریک ہو کر اپنی محبتوں اور عقیدتوں کے چراغ روشن کرتےاور فیضیاب ہوتےہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

حضرت پیر عادل

Posted on 29/07/2005. Filed under: عشق ومعرفت | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , |

آپ کا اصل نام سید سلطان غیاث الدین تھا۔ آپ کی ولادت مشہد میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مشہد سے حاصل کرنے کے بعد آپ بغداد تشریف لے گئے اور شرف الدین ابو اسحاق شامی کی بیعت کی اور ان سے خرقہ خلافت حاصل کیا۔ اپنے مرشد کی ہدایت پر تبلیغ اسلام کے لئے رخے سفر باندھا اور اپنے خاندان کے ہمراہ ہندوستان کا سفر کیا۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے پہلا پڑاؤ حسن ابدال کے قریب کیا پھر آپ جمن شاہ تحصیل و ضلع لیہ میں وارد ہوئے اور لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کرنے لگے۔ انہی ایام کے دوران آپ کے فرزند سید علی شاہ المعروف سید سیدن شاہ اپنے دوستوں کے ہمراہ شکار کی غرض سے نکلے۔ تواریخ ڈیرہ غازیخان کے مصنف منشی حکیم چند اس واقعے کے متعلق لکھتے ہیں کہ سید علی شاہ اپنے دوستوں کے ہمراہ جنگل میں شکار کھیلنے گیا اس نے ایک چرواہے سے بکرا مانگا اس نے نہ دیا تو سید علی کے ملازموں نے جبراَ بکرے کو ذبح کر دیا۔ اسی دوران چرواہے نے سید علی پر وار کیا سید علی نے جوابی وار کے کے چرواہے کو مار ڈالا۔ چرواہے کی ماں سید سلطان کے پاس فریاد لےکر گئی۔ سید سلطان نے سید علی کو چرواہے کی والدہ کے سپرد کر دیا اور کہا کہ خون بہا لیکر سید علی کو چھوڑ دو کیونکہ میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ اس کو مارنے سے تیرا بیٹا زندہ نہیں ہو جائےگا لیکن وہ نہ مانی اور وارثان نے سید علی کو قتل کر دیا۔ اس وقت سے سید سلطان پیرعادل کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اس واقعہ کے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ سید علی شاہ دوستوں کے ہمراہ شکار کے لئے جنگل میں گئے اور شکار کھیلتے ہوئے ایک تیر غلطی سے چرواہے کو جا لگا جو جنگل میں اپنی بکریاں چرا رہا تھا اور وہ چرواہا اس تیر کے لگنے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا- اس چرواہے کی ماں سید سلطان کے پاس فریاد لےکر آئی۔ آپ نے بہت افسوس کیا اور بڑھیا نہ مانی اور کہا کہ خون کا بدلہ خون ہونا چاہیے۔ سید سلطان نے اپنے اکلوتے لڑکے کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ حاحبزادہ خوف کے مارے ایک درخت کے کھوکھلے تنے چھپ گیا۔ سید سلطان تلاش کرتے ہوئے اس کے درخت کے قریب سے گزرے۔ ناگہاں قمیض کا ایک ٹکڑا درخت کے تنے سے باہر نظر آیا۔ سید سلطان نے لڑکے کو باہر نکال لیا اور اپنے اکلوتے بیٹے کو گڈریے کے خون بہا میں قتل کرا دیا۔
بیان کرتے ہیں کہ سید سلطان نے اپنے بیٹے کی لاش کو صندوق میں بند کیا اور جمن شاہ سے بھی رخت سفر باندھا اور قصبہ بدھان پور (بعض کتب میں بدھان پور کو برھان پور لکھا گیا ہے جو کہ صیحیح نہیں ہے) کے قریب پڑاؤ ڈالا اور سید علی شاہ کو دفن کیا۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں میں تبلیغ اسلام کا سلسلہ شروع کر دیا۔ لوگ جوق در جوق آپ کے پاس آنے لگے اور اسلام قبول کرنے لگے۔ اس علاقے کے سردار بدھان کو یہ بات ناگوار گزری جب حضرت پیرعادل نے بدھان کو قبول اسلام کی دعوت دی تو اس نے نہ صرف حق کو ٹھکرا دیا بلکہ آپ کے خلاف جنگ پر آمادہ ہو گیا۔ بالآخر آپ کو بدھان سے جنگ کا سامنا کرنا پڑا جس میں آپ کے تین بھائی شہید ہوئے تاہم بدھان کو شکست فاش ہوئی اور وہ جنگ میں مارا گیا۔ یہ علاقہ جو کبھی بہت سے خداؤں کے ماننے والوں کا گڑھ تھا آپ کی آمد کے بعد اسلام کا مرکز بن گیا۔
میرانی بلوچوں کی تاریخ کے مصنف ارشاد احمد خان عباسی تحریر کرتے ہیں کہ غازی خان دوئم کی یہ خواہش تھی کہ کسی مرشد کامل کی بیعت کی جائے، چنانچہ اس نے چاروں اطراف گھڑسوار روانہ کئے اور انہیں ہدایت کی کہ کسی کامل پیرطریقت کا کھوج لگائیں۔ غازی خان دوئم گھڑسواروں کے پیچھے ہاتھی سوار بھی روانہ کر دیئے اور انہیں حکم دیا کہ جس آستانہ ہر کوئی ہاتھی بیٹھ جائے اس کو فوری طور پر اطلاع دی جائے تاکہ وہ بیعت کے لئے وہاں حاضر ہو۔ بہرحال ایک ہاتھی آستانہ پیرعادل میں جاکر بیٹھ گیا غازی خان دوئم کو اس کی اطلاع دی گئی تو وہ اپنے چند ملازموں کے ہمراہ آستانہ پیرعادل آیا۔ جب غازی خان دوئم حضرت پیرعادل کے حجرے میں داخل ہوا اور سلام عرض کیا تو دفعتاَ حضرت پیرعادل کا ہاتھ مبارک لحد سے باہر نمودار ہوا اور غازی خان دوئم دست بیعت ہوا۔ بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد بہت عرصہ تک آپ اسی طرح ہاتھ مبارک لحد سے نکال کر لوگوں کو بیعت کرتے رہے۔ بالآخر حضرت سلطان سخی سرور نے آپ کے مزار پر حاضر ہر کر درخواست کی کہ آپ قبر مبارک سے ہاتھ باہر نکال کر بیعت کرنا ختم کریں اور پھر یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ آپ کی لحد مبارک میں وہ سوراخ اب تک موجود ہے جہاں سے آپ نے ہاتھ باہر نکالا تھا۔
آپ لاولد فوت ہوئے۔ آپ کا وصال ٤٦٥ھ میں ہوا جبکہ ایک روایت میں ٣٧٠ھ بھی آپ کے وصال کا سال بتایا جاتا ہے۔ آپ کا مزار مبارک ڈیرہ غازی خان کے شمال میں تقریباَ ١٥ میل کے فاصلے پر قصبہ پیرعادل میں مرجع خلائق ہے۔ نواب غازی خان دوئم نے حضرت پیرعادل کا بہت خوبصورت اور شاندار روضہ تعمیر کرایا اور اس کے ساتھ ہی آپ کے فرزندارجمند سید علی شاہ المعروف سید سیدن شاہ کا بھی پختہ مزار تعمیر کرایا۔
حضرت پیرعادل کے مزار کی تعمیر ٨١٥ھ ماہ رمضان کے آغاز میں شروع ہوئی اور ٨١٩ھ محرم الحرام میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ مزار کی تعمیر کے سلسلہ میں اینٹیں اور دوسرا تعمیراتی سامان کہنہ ڈیرہ غازی خان چھاؤنی سے ہاتھیوں سے اٹھا کر لایا جاتا تھا۔ مقبرہ غازی خان اول اور مقبرہ پیرعادل فن تعمیر کے بہترین شاہکار ہیں اور ان کی طرز تعمیر بھی ایک جیسی ہے۔ نواب غازی خان دوئم کو اس کی وصیت کے مطابق دربار حضرت پیرعادل کے قریب دفن کیا گیا۔ یہ قبر آج بھی دربار کے جنوبی دروازے کے باہر موجود ہے اور قبرستان بھی موجود ہے جبکہ مزار کی مشرقی سمت ایک بڑا سا احاطہ ہے جس میں سیمنٹ کا فرش لگا ہوا ہے اور کچھ کچی قبریں بھی موجود ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

خواجہ سلیمان تونسوی

Posted on 04/04/2005. Filed under: عشق ومعرفت | ٹيگز:, , , , , |

برصضیر پاک و ہند میں بارہویں صدی کے آخر میں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی کی صورت میں ایک عظیم مصلح اور روحانی پیشوا پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق سلسلہ عالیہ چشتیہ سے تھا۔ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں سینکڑوں مشائخ آپ کو اپنا روحانی مورث تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کی رشدوہدایت سے برصضیر پاک و ہند کا کونہ کونہ منور ہوا، برصضیر سے باہر افغانستان، وسط ایشیا، ایران، عراق، شام اور حجازمقدس تک آپ کا فیض پہنچا۔
ولادت و خاندان ۔
آپ کا نام محمد سلیمان ہے لوگ آپ کو “پیرپٹھان” کے نام سے پکارتے ہیں۔ آپ کے والد کا اسم مبارک زکریا بن عبدالواہاب اور والدہ کا نام بی بی ذلیخا ہے۔ آپ کے والد علم و فضل میں یکتا تھے۔ آپکی ولادت 1183ھ، 1769ء کو ضلع لورالائی کے گاؤں گڑگوجی میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت ۔
آپ نے علم دینی کی تعلیم گڑگوجی، تونسہ شریف، کوٹ مٹھن اور مہار شریف میں حاصل کی اور علوم باطنی کے لئے خواجہ نور محمد مہاروی (چشتیاں) کے دست مبارک پر بعیت کی اور خلافت حاصل سے سرفراز ہوئے۔
قیام تونسہ ۔
مرشد کے انتقال کے بعد 1214ھ، 1799ء میں گڑگوجی سے ہجرت کر کے تونسہ شریف (ضلع ڈیرہ غازی خان) میں مقیم ہو گئے اور خلق خدا کی رہنمائی کرنے لگے۔ آپ کا فیض عام ہو گیا اور لوگ جوق در جوق بعیت کرنے لگے۔ آپ کے تشریف لانے سے قبل تونسہ شریف سنگھڑ ندی کے کنارے چند گھروں پر مشتمل ایک غیر معروف گاؤں تھا۔ جب آپ تونسہ میں آ کر مقیم ہوئے تو یہ غیر معروف گاؤں علم و عرفان کا مرکز بن گیا اور طاؤسہ سے تونسہ شریف کہلانے لگا۔
دینی خدمات ۔
تیرہویں صدی ہجری و اٹھارویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مسلمانوں کا ہزار سالہ دور حکومت ختم ہونے کو تھا آخری مسلم حکومت یعنی مغلیہ سلطنت اپنی آخری سانس لے رہی تھی اس کی حدود صرف دہلی تک محدود ہو چکی تھی۔ مرہٹوں، جاٹوں اور سکھوں نے افراتفری مچا رکھی تھی۔ حکومت کابل کی شوکت روبہ زوال تھی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر سکھوں نے پنجاب پر اپنا قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ انگریز کی نظر تخت دہلی پر لگی ہوئی تھی۔ آپ نے تونسہ شریف میں عظیم علمی و دینی درسگاہ قائم کی جہاں پچاس سے زائد علماء و صوفیاء فارسی، عربی، حدیث، تفسیر، فقہ، تصوف، سائنس، طب و ہندسہ وغیرہ کی تعلیم دیتے تھے۔ طلبہ کی تعداد ان مدارس میں ڈیڈھ ہزار سے زائد تھی۔ طلبہ، علماء و فقراء کو لنگرخانہ سے کھانا، کپڑے، جوتے،کتابیں، ادویہ اور دیگر تمام ضروریات زندگی ملتی ہیں۔ آپ کو درس و تدریس کا بے حد شوق تھا۔ مریدیں و خلفاء کو کتب تصوف کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ کے خلفا نے برصضیر پاک وہند کے طول وعرض میں اور اس سے باہر اپنی خانقاہیں قائم کیں۔ دینی مدارس کا اجراء کیا لنگر خانے قائم کئے۔ پاکستان میں تونسہ شریف، مکھڈشریف، ترگھ شریف، میراں شریف، گڑھی افغانان، سیال شریف، جلال پورہ، گولڑہ شریف اور بھیرہ شریف وغیرہ کے مدارس قابل ذکر ہیں۔ ان مدارس میں نہ صرف اعلٰی درجہ کی تعلیم دی جاتی بلکہ اعلٰی درجہ کی تربیت بھی کی جاتی۔
تونسہ شریف کی خانقاہ برصضیر پاک و ہند میں صوفیاء کی خانقاہوں میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔آپ کی علمی، دینی، اصلاحی، اخلاقی و روحانی تعلیمات نے معاشرے کے ہر طبقہ فکر کو متاثر کیا ان میں عام مسلمانوں کے علاوہ علماء و صوفیاء اور روساء بھی شامل ہیں۔
علماء اور عوام کے بڑے بڑے والیاں ریاست اور جاگیردار آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اکثر والیاں ریاست گدی پر بیٹھتے وقت آپ کے دست مبارک سے پگڑی بندھوانے کی خواہش کرتے مگر آپ راضی نہ ہوتے۔ سنگھڑ، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور ریاست بہاولپور کے نواب، افغانستان سے والی ریاست شاہ شجاع محمدپوتے احمد شاہ ابدالی و میر دوست محمد والی افغانستان اور پنجاب، سرحدوافغانستان کی چھوٹی بڑی ریاستوں کے نواب کئی مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کی شان میں علماء، صوفیاء اور شعراء نے عربی، فارسی، اردو اور ہندی زبان میں بے شمار تذکرے، منقبتیں، قصائد اور سلام عقیدت لکھے۔
آپ نے ماہ صفرالمظفر کی 6 اور 7 تاریخ کی درمیانی رات 84 برس کی عمر میں انتقال فرمایا اور اپنے حجرہ عبادت میں دفن ہوئے۔ آپ کے مزار پر نواب بہاولپور ثالث (1825ء تا 1852ء) مرید خواجہ تونسوی نے 85 ہزار روپے کی لاگت سے ایک عالیشان مقبرہ 1270ء میں مکمل کرایا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...