قانون، آرڈیننس

کیری لوگر بل کا متن

Posted on 01/10/2009. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

واشنگٹن: ذیل میں جمعرات24 ستمبر 2009ء کو سینیٹ سے پاس ہونے والے کیری لوگربل کامتن پیش کیا جارہا ہے۔ یہ ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوو میں پیش کیا جارہا ہے، اور اگر یہ بغیرکسی ترمیم کے منظور ہوگیا تو صدر اوباما کے پاس قانون دستخط کے لیے بھیج دیاجائے گا،

جس کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
s.1707
پاکستان کے ساتھ تعلقات کے فروغ ایکٹ برائے 2009 ء
(مستغرق، متفق یاسینیٹ سے منظور)
SEC. 203
کچھ امداد کے حوالے سے متعین حدود

(a)
سیکورٹی تعلقات میں معاونت کی حدود: مالی سال 2012 ء سے 2014ء کے لیے، پاکستان کومالی سال میں اس وقت تک کوئی سیکورٹی تعلقات میں معاونت فراہم نہیں کی جائے گی،جب تک سیکریٹری آف اسٹیٹ، صدر مملکت کی ہدایت پرسب سیکشن
(c)
میں درج ہدایات کے مطابق منظوری نہ دے دیں۔

(b)
اسلحہ کی فراہمی کی حدود: مالی سال 2012ء سے 2014ء تک کے لیے، پاکستان کواس وقت تک بڑا دفاعی سامان کی فروخت کا اجازت نامہ یا لائسنس، دی آرم ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ (22
usc 2751et seq.)
کے مطابق جاری نہیں کیا جائے گا ، جب تک امریکی وزیر خارجہ امریکی صدرکی ہدایت کے مطابق، سب سیکشن
(c)
میں درج ضروریات کے مطابق منظوری نہ دے دیں

(c)
تصدیق کاعمل: اس سب سیکشن کے تصدیقی عمل کے لیے ضروری ہے کہ اسے سیکریٹری آف اسٹیٹ ، صدرکی ہدایت کے مطابق منظورکریں گے، کانگریس کی کمیٹیزکے مطابق کہ

(1)
امریکا، حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گاکہ پاکستان جوہری ہتھیاروں سے متعلق مواد کی منتقلی کے نیٹ ورک کو منہدم کرنے میں کردار ادا کرے، مثلاً اس سے متعلقہ معلومات فراہم کرے یا پاکستانی قومی رفاقت جو اس نیٹ ورک کے ساتھ ہے تک یابراہ راست رسائی دے۔ حکومت پاکستان نے موجودہ مالی سال کے دوران مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اب بھی دہشت گرد گروپوں کے خلاف موثر کوششیں کررہی ہے۔

سیکشن 201میں امداد کے جن مقاصد کو بیان کیا گیا ہے۔ ان کے تحت حکومت پاکستان نے مندرجہ ذیل امور میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

(الف) مدد روکنا: پاکستانی فوج یا کسی انٹیلی جنس ایجنسی میں موجود عناصر کی جانب سے انتہا پسندوں یا دہشتگرد گروپوں ، خصوصی طور پر وہ گروپ جنہوں نے افغانستان میں امریکی یا اتحادی افواج پر حملے کئے ہوں،یا پڑوسی ممالک کے لوگوں یا علاقوں پر حملوں میں ملوث ہوں

(ب) القاعدہ ، طالبان اور متعلقہ گروپوں جیسے کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد سے بچاؤ اور پاکستانی حدود میں کارروائیاں سے روکنا ، سرحد پر پڑوسی ممالک میں حملوں کی روک تھام ، قبائلی علاقوں میں دہشت گرد کیمپوں کی بندش ،ملک کے مختلف حصوں بشمول کوئٹہ اور مریدکے میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ، اہم دہشت گردوں کے بارے میں فراہم کردہ خفیہ معلومات کے بعد کارروائی کرنا،

(ج)انسداد دہشتگردی اور اینٹی منی لانڈرنگ قانون کو مضبوط بنانا،

(3)
پاکستان کی سیکورٹی فورسز پاکستان میں عدالتی و سیاسی معاملات میں عملاًیا کسی اور طریقے سے دخل اندازی نہیں کرینگی۔ بعض ادائیگیاں

(1)
عام طور پر ان کا تعلق پیرا گراف

(2)
سے ان فنڈز میں سے کسی کا تعلق مالی سال 2010ء سے 2014ء تک کے مالی سال سے نہیں ہے یا اس فنڈ کا کوئی تعلق پاکستان کے کاؤنٹر انسرجینسی کیسے بلیٹی فنڈ سے بھی نہیں ہوگا جو سپلی مینٹل ایپرو پری ایشن ایکٹ 2009ء (پبلک لاء 32-III کے تحت قائم ہے) اس کا دا ئرہ کار ان ادائیگیوں تک وسیع ہوگا جن کا تعلق (الف) لیٹر آف آفر اینڈ ایکسپٹینس
(Letter Of Offer And Acceptnce)، PK-D- NAP
سے ہے۔ جن پر امریکا اور پاکستان نے 30ستمبر 2006ء کو دستخط کئے تھے اور (ب)پاکستان اور امریکا کی حکومتوں کے درمیان 30ستمبر 2006کو دستخط شدہ لیٹر آف آفر اینڈ ایکسپٹنس
PK-D-NAP
اور
(ج )
(Letter Of Offer And Acceptnce)، PK-D- NAP جس پر امریکی حکومت اور حکومت پاکستان کی جانب سے 30ستمبر 2006ء کو دستخط ہوئے تھے۔

استثنیٰ: مالی سال 2010ء سے 2014ء تک کیلئے جو فنڈز سیکورٹی میں مدد دینے کے لئے مختص کئے گئے ہیں وہ تعمیرات اور متعلقہ سرگرمیوں کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں جن کی وضاحت
Letter Of Offer And Acceptnce کے پیرا گراف

(1)
میں کی گئی ہے۔ تحریری دستاویز: وزیر خارجہ صدر کی ہدایت کے تحت مختص رقم میں سیکشن
(B)-A) اور (D)
کے تحت ایک سال کے لئے کمی کرسکتے ہیں وزیر خارجہ یہ اقدام اس وقت اٹھائیں گے جب انہیں خیال ہوگا کہ یہ اقدام امریکا کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔

تحریری دستاویز کا نوٹس: وزیر خارجہ کو صدر کی ہدایت کے مطابق رقوم میں کمی کا اختیار پیرا گراف
(1)
کے مطابق اس وقت تک استعمال نہیں کرسکیں گے جب تک کانگریس کی متعلقہ کمیٹی کو اس سلسلے میں سات روز کے اندر تحریر نوٹس نہ مل جائے جس میں رقوم میں کمی کی وجوہات درج ہوں یہ نوٹس کلاسیفائیڈ یا نان کلاسیفائیڈ شکل میں ضرورت کے مطابق پیش کیا جائے گا۔

(ف) مناسب کانگریسی کمیٹیوں کی تعریف: اس حصے میں مناسب کانگریسی کمیٹیوں کی اصطلاح سے مراد ایوان نمائندگان کی نمبر 1 کمیٹی برائے خارجہ امور، کمیٹی برائے مسلح افواج، کمیٹی برائے حکومتی اصلاحات اور فروگذاشت، 2 سینیٹ کی امور خارجہ تعلقات کمیٹی، مسلح افواج کمیٹی اور نتیجہ کمیٹی برائے انٹیلی جنس ہیں۔ سیکشن 204 خانہ جنگی سے نمٹنے کی پاکستانی صلاحیت کا فنڈ (ایف) مالی سال 2010 (1) عمومی طور پر۔ برائے مالی سال 2010 کیلئے ریاست کے محکمہ نے ضمنی تخصیص ایکٹ 2009 (بپلک لا 111-32) کے تحت پاکستان کی خانہ جنگی سے نمٹنے کی صلاحیت کافنڈ قائم کر دیا گیا ہے۔ (اس کے بعد اسے صرف فنڈ لکھا جائے گا) پر مشتمل ہو گا۔ مناسب رقم پر جو اس سب سیکشن پرعملدرآمد کیلئے ہو گی (جو شاہد شامل نہیں ہو گی اس مناسب رقم میں 70 ایکٹ کے عنوان نمبر ایک پر عملدرآمد کیلئے ہے۔

(ب) وزیر خارجہ کو دستیاب رقم بصورت دیگر اس سب سیکشن پر عملدرآمد کیلئے ہو گی۔

(2) فنڈ کے مقاصد ، فنڈز کی رقم اس سب سیکشن پرعملدرآمد کیلئے کسی بھی مالی سال دستیاب ہو گی اور اس کا استعمال وزیر خارجہ، وزیر دفاع کی اتفاق/ مشاورت سے کریں گے اور یہ پاکستان کی انسداد خانہ جنگی صلاحیت کے فروغ اور استحکام پر انہی شرائط کے تحت صرف ہو گی۔ ماسوائے اس سب سیکشن جو مالی سال 2009 کیلئے دستیاب فنڈ اور رقوم پر لاگو ہو گا۔

(3) ٹرانسفر اتھارٹی ،

(الف) عمومی طور پر: امریکی وزیر خارجہ کسی بھی مالی سال کیلئے پاکستان انسداد خانہ جنگی فنڈ جو ضمنی تخصیص ایکٹ 2009 کے تحت قائم کیا گیا ہے، کو رقوم منتقل کرنے کی مجاز ہوں گی اور اگر وزیر دفاع کے اتفاق رائے سے یہ طے پائے کہ فنڈ کی ان مقاصدکیلئے مزید ضرورت نہیں جن کیلئے جاری کئے گئے تھے تو وہ وزیر خارجہ یہ رقوم واپس کر سکتے ہیں۔

(ب) منتقل فنڈ کا استعمال۔ سیکشن 203 کی ذیلی شق (د) اور (ع) کے تحت پیرا گراف (الف) میں دی گئی اتھارٹی اگر فنڈ منتقل کرتی ہے تو انہی اوقات اور مقاصد کے تحت پاکستان انسداد خانہ جنگی فنڈ کے لئے استعمال ہو گی۔

(ج) دوسری اتھارٹیوں سے تعلقات۔ اس سب سیکشن کے تحت معاونت فراہم کرنے والی اتھارٹی اضافی طور پر دیگر ممالک کو بھی امداد کی فراہمی کا اختیار رکھے گی۔

(د) نوٹیفکیشن۔ وزیر خارجہ سب پیرا گراف (اے) کے تحت فنڈز کی فراہمی سے کم از کم 15 روز قبل کانگریس کی کمیٹیوں کو تحریری طور پر فنڈز کی منتقلی کی تفصیلات سے آگاہ کریں گی۔

(ر) نوٹیفکیشن کی فراہمی۔ اس سیکشن کے تحت کسی نوٹیفکیشن کی ضرورت کی صورت میں کلاسیفائیڈ یا غیر کلاسیفائیڈ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

(س) کانگریسی کمیٹیوں کی وضاحت۔ اس سیکشن کے تحت مجاز کانگریشنل کمیٹیوں سے مراد

(1)
ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی اور خارجہ تعلقات کمیٹی

(2)
سینیٹ کی آرمڈ سروسز اور خارجہ تعلقات کمیٹی ہے۔ سیکشن 205 فراہم کی گئی امداد کا سویلین کنٹرول ضروریات (1) مالی سال 2010 سے مالی سال 2014 کے دوران حکومت پاکستان کو سیکورٹی کیلئے فراہم کی گئی براہ راست نقد امداد پاکستان کی سویلین حکومت کے سویلین حکام کو فراہم کی جائے گی۔ کیری لوگر بل کی سیکشن 205 کے تحت مخصوص امدادی پیکیج پر سویلین کنٹرول کی شرط کیری لوگر بل میں سیکشن 205 کے تحت پاکستان کو امداد کی فراہمی کیلئے سویلین کنٹرول کی شرائط عائد کی گئی ہیں۔

(ا) شرائط :

(1)
عمومی طور پر 2010ء سے 2014ء تک حکومت پاکستان کو امریکہ کی جانب سے ملنے والی سیکورٹی معاملات سے متعلقہ کیش امداد یا دیگر نان اسسٹنس (غیر امدادی) ادائیگیاں صرف پاکستان کی سویلین حکومت کی سویلین اتھارٹی کو دی جائیگی۔

(2)
دستاویزی کارروائی مالی سال 2010-2014ء تک امریکی وزیر خارجہ، وزیر دفاع کی معاونت اور تعاون سے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ امریکہ کی جانب سے حکومت پاکستان کو دی جانے والی غیر امدادی
(Non-Assistance)
ادائیگیوں کی حتمی دستاویزات پاکستان کی سویلین حکومت کی سویلین اتھارٹی کو وصول ہو چکی ہیں۔

(ب) شرائط میں چھوٹ :

(1)
سیکورٹی سے متعلق امداد، بل کے مطابق امریکی وزیر خارجہ، وزیر دفاع سے مشاورت کے بعد ذیلی سیکشن (a) کے تحت سیکورٹی سے متعلق امداد پر عائد شرائط کو ختم کر سکتے ہیں۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ یہ سیکورٹی امداد امریکی بجٹ کے فنکشن نمبر 150 (بین الاقوامی معاملات) سے دی جا رہی ہو اور امریکی وزیر خارجہ کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو اس امر کی یقین دہانی کرائیں کہ شرائط میں چھوٹ امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے ضروری اور امریکی مفاد میں ہیں۔،

(2)
غیر امدادی
(Non-Assistance)
ادائیگیاں امریکی وزیر دفاع، وزیر خارجہ کی مشاورت سے ذیلی سیکشن
(a)
کے تحت ایسی غیر امدادی ادائیگیاں جو بجٹ فنکشن 050 (قومی دفاع) کے اکاؤنٹس سے کی جا رہی ہوں۔ پر عائد شرائط کو ختم کر سکتے ہیں۔ تاہم اس چھوٹ کیلئے وزیر دفاع کو کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو یقین دہانی کرانا ہو گی۔ کہ پابندیاں میں چھوٹ امریکہ کے قومی مفاد کیلئے اہم ہے۔

(ج) بعض مخصوص سرگرمیوں پر سیکشن (205) کا اطلاق۔ درج ذیل سرگرمیوں پر سیکشن 205 کے کسی حصے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

(1)
ایسی کوئی بھی سرگرمی جس کی رپورٹنگ 1947 کے قومی سلامتی ایکٹ (50
U.S.C. 413 et Seq)
کے تحت کیا جانا ضروری ہے۔

(2)
جمہوری انتخابات یا جمہوری عمل میں عوام کی شرکت کی فروغ کیلئے دی جانے والی امداد،

(3)
ایسی امداد یا ادائیگیاں جن کا وزیر خارجہ تعین کریں اور کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو یقین دہانی کرائیں کہ مذکورہ امداد یا ادائیگیوں کو ختم کرنے سے جمہوریت حکومت اقتدار میں آ گئی ہے۔،

(4)
مالی سال 2005ء میں رونلڈ ڈبلیو ریگن نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ کی سیکشن (20 (ترمیم شدہ) کے تحت ہونے والی ادائیگیاں
(Public Law 108-375, 118 Stat 2086) ،

(5)
امریکی محکمہ دفاع اور وزارت دفاع اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مابین کراس سروسنگ معاہدے کے تحت کی جانے والی ادائیگیاں،

(6) مالی سال 2009ء کیلئے ڈنکن ہنٹر نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ کی سیکشن (943) کے تحت کی جانے والی ادائیگیاں
(Public Law 110-417, 122 Stat 457
(د) اصطلاحات کی وضاحت / تعریف سیکشن 205 میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کی تعریف / وضاحت اس طرح ہے۔

(1)
متعلقہ کانگریس کمیٹیوں سے مراد ایوان نمائندگان اخراجات سے متعلق کمیٹیاں، آرمڈ سروسز اور فارن افیئرز کی کمیٹیاں سینٹ کی اخراجات سے متعلق کمیٹیاں، آرمڈ سروسز اور فارن افیئرز کمیٹیاں ہیں۔،

(2)
پاکستان کی سویلین حکومت کی اصطلاح میں ایسی پاکستانی حکومت شامل نہیں ۔جس کے باقاعدہ منتخب سربراہ کو فوجی بغاوت یا فوجی حکم نامے کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا ہو۔ عنوان III حکمت عملی، احتساب، مانیٹرنگ اور دیگر شرائط سیکشن 301 حکمت عملی رپورٹس

(اے) پاکستان کی امداد سے متعلق حکمت عملی کی رپورٹ۔ اس ایکٹ کے نافذالعمل ہونے سے 45 روز کے اندر سیکرٹری خارجہ کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو پاکستان کی امداد سے متعلق امریکی حکمت عملی اور پالیسی کے حوالے سے رپورٹ پیش کرے گا۔ رپورٹ میں درج ذیل چیزیں شامل ہوں گی۔

(1)
پاکستان کو امریکی امداد کے اصولی مقاصد

(2)
مخصوص پروگراموں، منصوبوں اور سیکشن 101 کے تحت وضع کردہ سرگرمیوں کی عمومی تفصیل اور ان منصوبوں، پروگراموں اور سرگرمیوں کے لئے مالی سال 2010ء سے 2014ء تک مختص کردہ فنڈز کی تفصیلات۔

(3)
ایکٹ کے تحت پروگرام کی مانیٹرنگ آپریشنز، ریسرچ اور منظور کردہ امداد کے تجزیئے کا منصوبہ۔

(4)
پاکستان کے قومی، علاقائی، مقامی حکام، پاکستان سول سوسائٹی کے ارکان، نجی شعبہ، سول، مذہبی اور قبائلی رہنماؤں کے کردار کی تفصیلات جو ان پروگراموں، منصوبوں کی نشاندہی اور ان پر عملدرآمد میں تعاون کریں گے جن کے لئے اس ایکٹ کے تحت امداد دی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ حکمت عملی وضع کرنے کے لئے ایسے نمائندوں سے مشاورت کی تفصیل:

5:
اس ایکٹ کے تحت اٹھائے گئے اور اٹھائے جانے والے اقدامات سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ امداد افراد اور دہشت گرد تنظیموں سے الحاق رکھنے والے اداروں تک نہ پہنچے۔

6:
اس ایکٹ کے تحت پاکستان کو فراہم کردہ امداد کی سطح کا تخمینہ لگانے کیلئے اسے مندرجہ ذیل کیٹیگریوں میں تقسیم کیاگیا جسے میلینیم چیلنج اکاؤنٹ امداد
(Assistance)
کے لئے اہل امیدوار ملک کے تعین کے طریقہ کار کے حوالے سے سالانہ معیاری رپورٹ
(Criteria Report)
میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ یہ کیٹیگریز مندرجہ ذیل ہیں۔

(I)
عوامی آزادی

(II)
سیاسی حقوق

(III)
آزادی اظہار رائے اور احتساب

(IV)
حکومت کی موثریت

(V)
قانون کی بالادستی

(VI)
بدعنوانی پر قابو

(VII)
بیماریوں کی شرح

(VIII)
شعبہ صحت پر خرچ

(IX)
لڑکیوں کی پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے کی شرح

(X)
پرائمری تعلیم پر بجٹ

(XI)
قدرتی وسائل کا استعمال

(XII)
کاروباری مشکلات کے خاتمے

(XIII)
لینڈ رائٹس اور ان تک رسائی

(XIV)
تجارتی پالیسی

(XV)
ریگولیٹری کوالٹی

(XVI)
مہنگائی پر قابو

(XVII)
مالی پالیسی

7:
پاکستان کے پاس پہلے سے موجود ہیلی کاپٹرز کی تبدیلی اور اس حوالے سے تربیت اور ان کی درستگی کے لئے سفارشات اور تجزیہ بھی کیا جائے گا۔

(B)
علاقائی حکمت عملی کی تفصیلی رپورٹ کانگریس کی فہم و فراست: یہ کانگریس کی فہم و فراست ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے مقاصد کے حصول، پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے ایک تفصیلی ترقیاتی منصوبے کی ضرورت ہے جس میں دیگر متعلقہ حکومتوں کے تعاون و اشتراک سے قومی طاقت کے تمام عناصر کو اس مقصد کے لئے استعمال میں لایا جائے۔ پاکستان کی دیرپا خوشحالی اور سلامتی کے لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان، افغانستان اور بھارت کے مابین مضبوط تعلقات ہوں۔ علاقائی سلامتی کی تفصیلی حکمت عملی : پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے صدر پاکستانی حکومت اور دیگر علاقائی حکومتوں اور اداروں کے اشتراک سے علاقائی سلامتی کی حکمت عملی ترتیب دینگے۔ پاک افغان سرحدی علاقوں فاٹا، صوبہ سرحد، بلوچستان اور پنجاب کے علاقوں میں اس علاقائی سلامتی کی حکمت عملی پر موثر عملدرآمد اور انسداد دہشت گردی کے لئے موثر کوششیں عمل میں لائی جائیں گی۔

3:
رپورٹ: عمومی طور پر اس ایکٹ کے لاگو ہونے کے 180 روز کے اندر اندر صدر علاقائی سلامتی کی حکمت عملی کے حوالے سے رپورٹ کانگریس کمیٹی کو جمع کروائیں گے جس کے مندرجات میں علاقائی سلامتی کی حکمت عملی کی رپورٹ کی کاپی، اہداف کا تعین اور تجویز کردہ وقت اور حکمت عملی پر عمل کے لئے بجٹ کی تفصیل شامل ہے۔

(ب) رپورٹ میں ریجنل سیکورٹی کی جامع حکمت عملی کی ایک نقل شامل ہوگی جس میں اہداف سمیت حکمت عملی پر عملدرآمد کیلئے مجوزہ وقت اور بجٹ کی تفصیلات شامل ہوں گی۔

(C)
مناسب کانگریسی کمیٹی کی تعریف اس پیراگراف کے مطابق مناسب کانگریسی کمیٹی کا مطلب۔

(i )
ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے
Appropriations
امورکمیٹی برائے مسلح افواج کمیٹی برائے خارجہ امور اور مستقل سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس ہوگا اور

(ii)
سینٹ کی کمیٹی برائے
Appropriations
کمیٹی برائے مسلح افواج کمیٹی برائے خارجہ امور اور مستقل سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس ہوگا۔

(C)
سکیورٹی میں مدد کے حوالے سے منصوبہ: اس قانون کے بنائے جانے کے 180 دن کے اندر وزیر خارجہ مناسب کانگریسی کمیٹی کے سامنے وہ منصوبہ پیش کریں گے جس کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں گے اور یہ مالی سال 2010ء سے 2014ء تک ہرسال ہوگا اس منصوبے میں یہ بتایا جائے گا کہ رقم کا استعمال کس طرح سے سیکشن 204 میں مذکورہ رقوم سے متعلقہ ہے۔

سیکشن :302 مانیٹرنگ رپورٹس
(a)
سیکشن 301(اے) پر عمل کرتے ہوئے
Pakistan Assistance Strategy Report
پیش کئے جانے کے 180 دن کے اندر (ششماہی) اور بعدازاں 30 ستمبر 2014ء تک ششماہی بنیادوں پر سیکرٹری خارجہ کی طرف سے سیکرٹری دفاع کے ساتھ مشاورت کے بعد مناسب کانگریسی کمیٹی کو رپورٹ پیش کی جائے گی جس میں اس طرح (180 دنوں میں) میں فراہم کی گئی مدد/ معاونت کی تفصیلات ہوں گی۔ اس رپورٹ میں درج ذیل تفصیلات ہوں گی۔

(1)
جس عرصے کیلئے یہ رپورٹ ہوگی اس عرصے کے دوران اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت کسی پروگرام پراجیکٹ اور سرگرمی کے ذریعے فراہم کی گئی معاونت اور اس کے ساتھ ساتھ جس علاقے میں ایسا کیا گیا ہوگا اس کا حدود اربعہ اس رپورٹ میں شامل ہوگا اور اس میں اس رقم کا بھی ذکر ہوگا جو اس کے لئے خرچ ہوگی جہاں تک پہلی رپورٹ کا تعلق ہے تو اس میں مالی سال 2009ء میں پاکستان کی معاونت کیلئے فراہم کی گئی رقوم کی تفصیل ہوگی اور اس میں بھی ہر پروگرام پراجیکٹ اور سرگرمی کے بارے میں بتایا جائے گا۔

(2)
رپورٹ کے عرصے کے دوران اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت پراجیکٹ شروع کرنے والے ایسے امریکی یا کسی اور ملک کے شہریوں یا تنظیموں کی فہرست بھی رپورٹ میں شامل ہوگی جو ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم /فنڈز حاصل کریں گے اور یہ فہرست کسی کلاسیفائیڈ ضمیمہ میں دی جاسکتی ہے تاکہ اگر کوئی سکیورٹی رسک ہوتو اس سے بچا جاسکے اور اس میں اس کو خفیہ رکھنے کا جواز بھی دیا جائے گا۔

(3)
رپورٹ میں سیکشن 301 (اے) کی ذیلی شق (3) میں مذکورہ منصوبے کے بارے میں تازہ ترین اپ ڈیٹس/پیش رفت اور اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت دی گئی معاونت کے اثرات کی بہتری کے لئے اقدامات کی تفصیل بھی شامل ہوگی۔

(4)
رپورٹ میں ایک جائزہ بھی پیش کیا جائے گا جس میں اس ایکٹ کے تحت فراہم کی گئی معاونت کے موثر/اثر پذیری کا احاطہ کیا گیا ہوگا اور اس میں سیکشن 301 (اے) کی ذیلی شق 3 میں بتائے گئے طریقہ کار کو مد نظر رکھ کر مطلوبہ مقاصد کے حصول یا نتائج کا جائزہ لیا گیا ہوگا اور اس سب سیکشن کے پیراگراف 3 کے تحت اس میں ہونیوالی پیش رفت یا اپ ڈیٹ بھی بیان کی جائے گی جوکہ یہ جانچنے کیلئے کہ آیا مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے ہیں یا نہیں ایک منظم مربوط بنیاد فراہم کرے گی اس رپورٹ میں ہر پروگرام اور پراجیکٹ کی تکمیل کا عرصہ بھی بتایا جائے گا۔

(5)
امریکا کی طرف سے مالیاتی فزیکل تکنیکی یا انسانی وسائل کے حوالے سے کوئی کمی وبیشی جوکہ ان فنڈز پر موثر استعمال یا مانیٹرنگ میں رکاوٹ ہوگی کے بارے میں بھی اس رپورٹ میں ذکر کیا جائے گا۔

(6)
امریکا کی دوطرفہ یا کثیر الطرفہ معاونت کے منفی اثرات کا ذکر بھی اس رپورٹ میں شامل ہوگا اور اس حوالے سے اگر کوئی ہوگی تو پھر تبدیلی کیلئے سفارشات بھی دی جائیں گی اور جس علاقے کیلئے یہ فنڈز یا معاونت ہوگی اس کی انجذابی صلاحیت /گنجائش بھی رپورٹ میں مذکور ہوگی۔

(7)
رپورٹ میں اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت ہونے والے اخراجات کے ضیاع فراڈ یا غلط استعمال کے حوالے سے کوئی واقعہ یا رپورٹ بھی شامل کی جائے گی۔

( ان فنڈز کی رقم جوکہ سیکشن 102 کے تحت استعمال کیلئے مختص کی گئی اور جوکہ رپورٹ کے عرصے کے دوران انتظامی اخراجات یا آڈٹ یا سیکشن 103 یا 101 (سی) کی ذیلی شق 2 کے تحت حاصل اختیارات کے ذریعے استعمال کی گئی کی تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل ہوں گی۔

(9)
سیکشن 101 (سی) کی ذیلی شق 5 کے تحت قائم/ مقرر کردہ چیف آف مشن فنڈ کی طرف سے کئے گئے اخراجات جوکہ اس عرصے کے دوران کئے گئے ہوں گے جس کیلئے رپورٹ تیار کی گئی ہے اس رپورٹ میں شامل ہوں گے اس میں ان اخراجات کا مقصد بھی بتایا جائے گا اور اس میں چیف آف مشن کی طرف سے ایک لاکھ ڈالر سے زائد کے اخراجات کے وصول کنندگان کی فہرست بھی شامل ہوگی۔

(10)
اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت پاکستان کو فراہم کی گئی معاونت کا حساب کتاب (اکاؤنٹنگ) جوکہ سیکشن 301 (اے) کی ذیلی شق 6 میں دی گئی مختلف کٹییگریز میں تقسیم کی گئی ہے کی تفصیل بھی رپورٹ میں بیان کی جائے گی۔

(11)
اس رپورٹ میں درج ذیل مقاصد کیلئے حکومت پاکستان کی طرف سے کی گئی کوششوں کے جائزہ بھی پیش کیا جائے گا۔

(الف) فاٹا یا بندو بستی علاقوں میں القاعدہ طالبان یادیگر انتہا پسند اور دہشت گرد گروپوں کے خاتمے ان کو غیر موثر یا شکست دینے کیلئے کی گئی کوششیں۔

(ب) ایسی قوتوں کے پاکستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کیلئے کی گئی کوششیں

(ج) لشکر طیبہ اور جیش محمد کے تربیتی مراکزکی بندش

(د) دہشت گرد اور انتہا پسند گروپوں کوہر قسم کی مدد و تعاون کا خاتمہ

(ر) ہمسایہ ممالک میں حملوں کی روک تھام کیلئے کوششیں / اقدامات

(س) مدارس کے نصاب کی نگرانی میں اضافہ اور طالبان یا دہشت گرد یا انتہا پسند گروپوں سے تعلق رکھنے والے مدارس کی بندش کیلئے کی گئی کوششیں۔

(ش) انسداد منی لانڈرنگ قوانین اور دہشت گردی کے انسداد کیلئے فنڈز کے استعمال میں بہتری یا اضافے کی کوششیں یا اقدامات مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس کیلئے مبصر کا درجہ اور دہشت گردی کیلئے مالی وسائل کی فراہمی روکنے کیلئے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی کنونشن پر عملدرآمد کیلئے کی گئی کوششیں۔

(12)
پاکستا ن کی طرف سے جوہری عدم پھیلاؤ (جوہری مواد اور مہارت) کیلئے کی گئی کوششوں کی جامع تفصیل بھی اس رپورٹ میں شامل ہوگی۔

(13)
اس رپورٹ میں ایک جائزہ بھی پیش کیا جائے گا تاکہ آیا پاکستان کو فراہم کی گئی معاونت اس کے جوہری پروگرام کی توسیع میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مددگار ثابت ہوئی ہے یانہیں آیا امریکی معاونت کے انحراف یا پاکستان کے وسائل کی
Realloction
جوکہ بصورت دیگر پاکستان کے جوہری پروگرام سے غیر متعلقہ سرگرمیوں پر خرچ ہوں گے۔

(14)
رپورٹ میں سیکشن 202 (بی) کے تحت مختص کئے گئے اور خرچ کئے گئے فنڈز کی جامع تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔

(15)
اس رپورٹ میں حکومت پاکستان کا فوج پر موثر سویلین کنٹرول بشمول سویلین ایگزیکٹو لیڈرز اور پارلیمنٹ کا فوجی /ملٹری بجٹ کی نگرانی اور منظوری کمانڈ کے تسلسل سینئر فوجی افسروں کی ترقی میں عمل دخل کی تفصیلات سٹریٹجک پلاننگ میں سویلین عمل دخل اور سول انتظامیہ میں فوجی مداخلت کی تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔

(b)
حکومتی احتساب دفتر کی رپورٹس پاکستان معاونت لائحہ عمل رپورٹ: سیکشن 301 (اے) کے تحت پاکستان معاونت لائحہ عمل رپورٹ پیش کئے جانے کے ایک سال کے اندر کنٹرولر جنرل آف امریکا مناسب کانگریسی کمیٹی کو ایک رپورٹ پیش کرے گا جس میں درج ذیل تفصیلات مذکور ہوں گی۔

(الف) پاکستان معاونت لائحہ عمل رپورٹ کا جائزہ اور اس حوالے سے رائے

(ب) اس ایکٹ کے تحت مقاصد کے حصول کیلئے امریکی کوششوں کو موثر بنانے کیلئے اگر کنٹرولر جنرل کوئی اضافی اقدامات مناسب سمجھتا ہے تو وہ بھی بیان کئے جائیں گے۔

(پ) آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ (22 یو ایس سی) کی شق 22 کے تحت دی گئی گرانٹ کے مطابق پاکستان کی طرف سے کئے گئے اخراجات کی مفصل رپورٹ بھی پیش کی جائے گی۔

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

آرٹیکل6

Posted on 18/08/2009. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , |

آجکل میڈیا میں ہر طرف آرٹیکل ٦ کا چرچہ ہو رہا ہے، پاکستانی قارئین کے لئے آڑٹیکل ٦ کے نکات یہاں پیشِ خدمت ہیں تاکہ انہیں آرٹیکل ٦ کو سمجھنے اور حالات جائزہ لینے میں آسانی ہو۔

آئین کے آرٹیکل٦ کے تحت آئین توڑنے اس اقدام میں معاونت کرنے والے ریاست کیخلاف بغاوت کے مجرم تصور کئے جائیں گے اور سب اس جرم میں برابر کے شریک ہونگے، جس کی سزا پارلیمنٹ کی منظوری پر عمر قید یا موت تجویزکی گئی ہے۔

آئین کے آرٹیکل ٦ کے تحت آئین توڑنے اس اقدام میں معاونت کرنے والے ریاست کیخلاف بغاوت کے مجرم تصور کئے جائیں گے اور سب اس جرم میں برابر کے شریک ہونگے، جس کی سزا پارلیمنٹ کی منظوری پر عمر قید یا موت تجویزکی گئی ہے۔

شق ٦ پر عمل کیلئے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے تحت سنگین بغاوت کے اس مقدمہ کی سماعت سپریم کورٹ کے بجائے سیشن عدالت سننے کی مجاز ہے جبکہ آئینی ماہرین اس تاثر کی تردید کرتے ہیں کہ سنگین بغاوت کے مقدمہ کی تیاری اور اس کی پیروی کیلئے مطلوبہ قواعد و ضوابط موجود نہیں ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سنگین بغاوت کی سزاکے قانون کے ذریعے پارلیمنٹ نے مقدمہ درج کئے جانے کی تمام تفصیل طے کر دی ہے۔

آئین میں آرٹیکل ٦ کی تین ضمنی دفعات بھی درج ہیں۔

اول: کوئی فرد جو آئین منسوخ کرے یاایسا کرنے کی کوشش کرے، آئین کو توڑے یا ایسا کرنے کی سازش کرے، طاقت کے ذریعے، طاقت دکھا کر یاکسی دوسرے غیر آئینی طریقے سے آئین توڑے وہ سنگین بغاوت کا مجرم ہو گا۔

دوم: ایسا شخص جو شق ایک میں درج اقدام میں مددیاتعاون کرے وہ بھی سنگین بغاوت کا مجرم تصور کیا جائیگا۔

سوم: مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے تحت سزا تجویز کریگی ۔ اس ایکٹ پر عمل کرنے میں صرف ایک سقم باقی ہے اور وہ یہ کہ اس ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت کو اپنے ایک افسر کو یہ شکائت یا مقدمہ درج کرانے کیلئے نامزد کرنا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چند منٹ کا کام ہے اگر حکومت چاہے تو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن یا کسی دوسرے افسر کو شکائت کنندہ مقرر کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ناصر اسلم زاہد کے مطابق اس ضمن میں بننے والے قانون کے تحت اگر کسی فرد یا افراد کے خلاف آئین کی شق ٦ کے تحت کارروائی مقصود ہو تو اس کے خلاف مقدمہ یا شکائت درج کرانے کا اختیار صرف وفاقی حکومت کو حاصل ہے اس حوالے سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی یہ دلیل کہ عدالت اس آرٹیکل کے تحت کسی کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں رکھتی۔

١٤ اگست ١٩٧٣ء کو آئین کی منظوری کے بعد اس پر عمل کیلئے قانونی ڈھانچے کی تشکیل بھی فوری طور پر شروع کر دی گئی تھی اورپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد ٢٦ ستمبر کو صدر مملکت نے سنگین بغاوت کی سزا کے قانون پر دستخط بھی کر دئیے تھے آئین کی اس شق پر عملدرآمد کیلئے بنائے گئے سنگین بغاوت کی سزا کے قانون ١٩٧٣ءکی بھی تین ذیلی شقیں ہیں۔

i۔ اس قانون کا نام سنگین بغاوت کی سزا کا قانون ہو گا

ii۔ ایسا شخص جو اس وقت ملک میں نافذ آئین کو توڑنے یا ایسا کرنے کی کوشش یا سازش کرنے کے جرم کا مرتکب ہو اس کی سزا عمر قید یا موت ہو گی، یہاں پر آئین سے مراد مارچ ١٩٥٦ءکے بعد لاگو ہونیوالے تمام آئین ہیں۔

iii۔ کوئی عدالت اس قانون کے تحت اس وقت تک کارروائی نہیں کرسکتی جب تک اس جرم کے واقعہ ہونے کی تحریری شکائت کسی ایسے فرد کی جانب سے متعلقہ سیشن عدالت میں دائر نہ کی جائے جسے وفاقی حکومت نے ایسا کرنے کا اختیار دیا ہو۔

جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد کے مطابق قانون کی یہ شق اس سزا پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ ہے انہوں نے تجویز پیش کی کہ عدالت کے ذریعے حکومت کو اس افسرکی نامزدگی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ سابق جج کا کہنا ہے کہ اس شق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی عام شہری سنگین بغاوت کے جرم کی شکائت نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی پاکستانی شہری اس جرم کے واقعہ ہونے کی تصدیق کر سکتا ہے۔ لیکن وہ یہ شکائت عدالت کے بجائے وفاقی حکومت کے پاس جمع کرائے گا، جو اپنے نامزد کردہ افسر کے ذریعے یہ شکائت عدالت کے پاس لے جا سکتی ہے۔

ناصر اسلم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ شکائت عدالت میں نہ لے جانے پر شکائت کرنے والا شہری یہ معاملہ عدالت میں لے جا سکتا ہے، جیسا کہ اکثر پولیس کی طرف سے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر پر کوئی شہری عدالت سے رجوع کر سکتا ہے اور عدالتی مداخلت پر ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہے سنگین بغاوت کے جرم میں بھی ایسا ممکن ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ایسی صورت میں بھی سپریم کورٹ کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ ابتدائی طور پر یہ درخواست سیشن عدالت میں ہی دائر کی جائیگی البتہ اپیل کے عمل میں معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
بشکریہ اردو ٹائمز

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

سائبر کرائم ویب

Posted on 09/11/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس, موبائیل زون, ٹیکنالوجی | ٹيگز:, , , , |

سائبر کرائم آرڈیننس کے ساتھ ہی حکومت پاکستان نے ہیکنگ اور کریکنگ حملوں کی روک تھام اور اس میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لئے سائبر کرائم کی ایک ویب سائٹ لانچ کی ہے۔ اس سائٹ پر سائبر کرائم کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے۔ گو کہ اس سائٹ پر ابھی کام جاری ہے مگر اس پر ایک پسندیدہ یا ناپسندیدہ کام یہ ہوا ہے کہ اس پر سائبر کرائم کا نشانہ بننے والوں کے لئے ایک عدد فارم رکھا گیا جسے Incident Reporting Form  کا نام دیا گیا ہے۔ اگر آپ کسی قسم کی ہیکنگ یا کریکنگ کا نشانہ بنے ہیں یا آپ کے کمپیوٹر، نیٹورک یا ویب سائٹ پر کسی ہیکر نے حملہ کر کے نقصان پہنچایا ہے یا آپ کو غلط قسم کی کوئی میل موصول ہوئی ہے تو آپ یہ فارم بھر کر اپنا کیس ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔ متعلقہ محکمہ اس رپورٹ کی روشنی میں ہیکرز یا کریکرز کو پکڑنے کی پوری کوشش کرے گا۔
اس ویب پر ہیکنگ اور کریکنگ سے بچاؤ، کاپی رائٹ اور سائبر کرائم کے متعلق قانونی معلومات کے علاوہ ڈاؤنلوڈ کے لئے بےپناہ مواد موجود ہے۔ جسے پڑھنے کے بعد آپ اپنے کمپیوٹر، کریڈٹ کارڈ، ڈیٹا، ویب سائٹ اور ایمیل اکاؤنٹ کی حفاظت بخوبی کر سکتے ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

مشتری ہوشیار باش!

Posted on 08/11/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , |

موجودہ حکومت نے سائبر کرائم آرڈیننس کی تجدید کر دی ہے واضع رہے کہ اس آرڈیننس کو سابق صدر پرویز مشرف نے جاری کیا تھا۔ اب اس تجدید شدہ آرڈیننس کے تحت ایف آئی اے کسی شخص، ادارے کا سسٹم، موبائل، کیمرہ شک کی بنیاد پر تحویل میں لے سکتا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت حکومت نے ٢١ جرائم کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
ان ٢١ جرائم میں چند ایک یہ ہیں۔
بغیر اجازت کسی کی تصویر کھینچنا
انٹرنیٹ یا موبائل کی مدد سے کسی کو ایسا پیغام بھیجنا جسے ناپسندیدہ، غیراخلاقی اور بیہودہ سجمھا جائے۔ (اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ آیا واقعی یہ پیغام غیر اخلاقی ہے یا نہیں اور ناپسندیدہ والی بات سمجھ سے باہر ہے)
ایسی ای میل جس کو وصول کرنے والے نے خواہش نہ کی ہو (سبھی نیٹ یوزر جیل جانے کی تیاری کس لو)
مہلک ہتھیاروں کے بارے میں انٹرنیٹ سے خفیہ معلومات نقل کرنا یا چرانا
سائبر کرائم آرڈیننس کے تحت ان ٢١ مختلف جرائم کے لئے تین سے دس سال قید، بھاری جرمانے اور عمر قید کے علاوہ موت کی سزا بھی شامل ہے اور ان میں کئی ناقابل ضمانت ہیں۔ اس پر عملدرآًمد کا اختیار ایف آئی اے کو دیا گیا جو پہلے ہی اپنی اچھی شہرت کی وجہ سے کافی مشہور ہے۔ اور اب سونے پہ سہاگہ ان لامحدود اختیارات کے ساتھ دیکھیں اس قانون پر کب، کہاں، کیسے اور کس حد تک عمل ہوتا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

پنجاب اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کا مکمل متن

Posted on 07/11/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان کی زیر صدارت پیر کے روز منعقدہ پنجاب اسمبلی کے ٨ ویں اجلاس کے دوران صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان نے صدر پاکستان کے الیکٹورل کالج سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے یا اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے یا پارلیمٹ سے انکے کے مواخذے کے نوٹس کے اجراء کے مطالبہ پر مبنی قرارداد پیش کی گئی ہے۔ جس کا مکمل متن اس طرح ہے۔

”پنجاب اسمبلی یہ اخذ‘ تصور‘ خیال کرتی ہے کہ آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل ٤١ کے تحت پنجاب اسمبلی صدر مملکت کے الیکٹورل کالج کا حصہ ہے جبکہ پنجاب اسمبلی اکتوبر ٢٠٠٧ء میں صدر مملکت کے انتخاب کے بارے میں تحفظات اور اعتراضات رکھتی ہے جس کا اسے قانونی حق حاصل ہے اور پنجاب اسمبلی کا موقف ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف آئین پاکستان کی مبینہ خلاف ورزی کے باعث صدر کا منصب مزید اپنے پاس رکھنے کے اہل نہ ہیں۔ جبکہ کئی دیگر ایسی وجوہات بھی ہیں جن کے باعث وہ خود کو اس عہدہ پر برقرار رکھنے کی اہلیت کے حامل نہیں۔

انہوں نے دو مرتبہ آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مختلف شقوں کی صریحاً خلاف ورزی کی اور آئین و قانون کو پامال کرتے ہوئے جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے اتارنے سمیت غیر جمہوری اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔ آئین کی دفعہ ٤١ (١) کے تحت صدر چاروں صوبوں کی زنجیر اور وفاق کی علامت ہوتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے فرائض سے کوتاہی برتتے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بین الصوبائی ٹینشن پیدا کی‘ صوبوں کے حقوق غصب کئے‘ صوبائی خود مختاری سے انحراف کیا اور وفاق کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

اسی طرح گزشتہ ٨ سالوں کے دوران اختیار کی گئی ملک و قوم کے مفاد کے منافی پالیسیوں نے ملک کو سیاسی و اقتصادی تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا۔ انکی ناقص حکمت عملی کے باعث ملک میں توانائی جیسے بدترین بحرانوں کو فروغ حاصل ہوا جبکہ بدامنی‘ لاقانونیت‘ افراتفری‘ غربت‘ بیروزگاری‘ مہنگائی اور عوام و ملک دشمن اقدامات نے عوام کے اعصاب شل کر دیئے۔

انکی پالیسیوں نے وفاق کو مفلوج کر دیا اور قومی اداروں سے عوام کا اعتماد ختم ہو گیا۔ لہٰذا درج بالا اور بہت سی دیگر وجوہات کی بناء پر پنجاب اسمبلی کے ارکان صدر پرویز مشرف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے الیکٹورل کالج سے فوری طور پر اعتماد کا ووٹ حاصل کریں یا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل ٤٤ (٣) کے تحت اپنے عہدہ سے مستعفی ہو جائیں اور اگر وہ مذکورہ دونوں اقدام کرنے سے قاصر رہیں تو پارلیمنٹ انہیں آئین کے آرٹیکل ٤٧ کے تحت مواخذے کا فوری نوٹس جاری کرے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

’بیل آؤٹ‘ منصوبہ، کیا ہے، کیوں ہے؟

Posted on 04/10/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , |

ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں آجکل امریکی بیل آؤٹ پلان کا بڑا چرچا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس پلان کے بارے میں علم ہے کہ یہ دراصل کیا ہے اور کس بارے میں ہے۔ قارئین کی سہولت کے لئے یہاں اس بل کے مندرجات پیش کئے جا رہے ہیں تاکہ قارئین کو اس پلان کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ 

امریکی بینکوں کو کیش یا نقدی سے خالی ہاتھ ہونے سے بچانے یا ’بیل آؤٹ‘ کرنے کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جانے والا سات سو ارب ڈالر کے ترمیمی منصوبہ یا بِل کا مسودہ بھی کم و بیش وہی ہے جو کہ ایوانِ نمائندگان سے نامنظور ہونے والے بل کا تھا۔

اس بل میں چند تبدیلیاں کی گئی ہیں جو حکومتی ضمانت کی شقوں سے تعلق رکھتی ہیں اور کھاتے داروں کی بچتوں پر حکومتی ضمانت ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈھائی لاکھ ڈالر تک کر دی گئی ہے۔

بینکوں کو بیل آؤٹ بل کی ضرورت کیوں پڑی ہے؟

امریکہ کی مارٹگیج مارکیٹ میں بھاری سرمایہ کاری کے بعد ساری دنیا میں سرمائے کی مارکیٹیں شدید مشکلات کی شکار ہیں۔ بینکوں نے بڑے پیمانے پر گھروں کے لیے ایسے قرضے دے دیے جن کی واپسی کی توقعات غیر یقینی ہیں۔ بظاہر یہ معاملہ مقامی دکھائی دیتا ہے لیکن اب اس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

امریکی بینک اب یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں کہ انہوں نے جو قرضے دیے تھے ان کی حقیقی مالیت اب کتنی رہ گئی ہے، اس لیے ان قرضوں کو آگے فروخت نہیں کیا جا سکتا، اس ڈر سے کہ دوسرا مشکل میں پھنس جائے گا، بینک ایک دوسرے سے ان قرضوں کے سودے بھی نہیں کر رہے اور قرضوں کے اس بحران کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ کے کئی بینک بیٹھ چکے ہیں۔

بل پر سینیٹ میں ووٹنگ کیوں ہو رہی ہے؟

ترمیم شدہ بل پر پہلے سینیٹ میں ووٹنگ اس لیے کرائی گئی کیونکہ کانگریسی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ اسے سینیٹ میں زیادہ حمایت حاصل ہے۔

ایوان نمائندگان کے ارکان کے برخلاف سینیٹ میں ہر سال ایک تہائی رکن انتخاب کا سامنا کرتے ہیں۔ اس لیے بیل آؤٹ پلان سے اگر لوگوں میں ناراضی پیدا ہو گی تو اس کا اثر سینیٹ پر کم پڑے گا۔

اس کے علاوہ سینیٹ میں نظریاتی تقسیم بھی ایوانِ نمائندگان کے برخلاف کم ہے اور ریپبلکن سینیٹر ایوانِ نمائندگان کے ارکان کے مقابلے میں زیادہ میانہ رو ہیں۔

اس لیے بیل آؤٹ منصوبے کے حامیوں کا خیال تھا کہ سینیٹ میں بل کی منظوری سے ایوان نمائندگان کے ارکان پر دباؤ بڑھ جائے گا اور اس کے ارکان باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر بل کی منظوری دے دیں گے۔

ایوانِ نمائندگان نے بل کو مسترد کیوں کیا؟

اس بل کے مخالف امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں میں موجود ہیں اور انہوں نے مل کر کوشش کی کہ بل منظور نہ ہو۔ ان کا خیال ہے کہ بل انتہائی غیر منصفانہ ہے اور لالچی بینکاروں کو یہ تحفظ نہیں ملنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر اس بل کی منظوری دے دی گئی تو اس سے ٹیکس دہندگان پر پڑنے والے بوجھ میں مزید اضافہ ہو گا۔

اس کے علاوہ اس بل سے فیضیاب ہونے والے اداروں کے سربراہوں اور اعلیٰ افسران کی تنخواہیں بھی اعتراض کا باعث ہیں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تنخواہوں کی بھی حد مقرر کی جانی چاہیے۔

بیل آؤٹ پلان میں کن بڑی تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے؟

ترمیمی منصوبے میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ نہ صرف عوام کو اس مالیاتی امداد کا زیادہ فائدہ پہنچے بلکہ ٹیکس دہندگان کی رقم بھی کم خرچ ہو۔

ترمیم شدہ بل میں نہ صرف ’ڈپازٹر پروٹیکشن‘ کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے بلکہ چھوٹے کاروباروں کی مدد اور رینیو ایبل انرجی کی تشہیر کے لیے کچھ ٹیکسوں میں چھوٹ بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس منصوبے میں چائلڈ ٹیکس کریڈٹ کے پھیلاؤ اور امریکہ کے کچھ علاقوں میں آنے والے حالیہ سمندری طوفان کے متاثرین کی مدد کی بات بھی کی گئی ہے۔

ایوانِ زیریں میں کچھ ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ ان گھر مالکان کی مدد بھی کی جائے جنہیں دیوالیے کا سامنا ہے تاہم سینیٹ میں موجود ریپبلیکنز دیوالیہ ہونے کے قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

یہ تجاویز بھی ہیں کہ اس مالیاتی امداد میں حکومت کا حصہ کم کر دیا جائے اور اس کے لیے بینکوں کے اکاؤنٹنگ قوانین میں تبدیلی کی جائے جنہیں موجودہ قانون کے تحت اپنے سب پرائم قرضوں کے ڈوبنے سے ہونے والے نقصانات کی کل مالیت دینی ہوتی ہے۔

تاہم اگر اس بل میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جاتی ہیں تو اس پر اجماع کے امکانات کم سے کم ہو جائیں گے۔

اگر بل منظور نہ ہوا تو کیا ہو گا؟

ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ابتدائی بل کی نامنظوری کے بعد دنیا بھر میں بازارِ حصص شدید مندی کا شکار اور متزلزل رہے۔ صرف امریکی ڈاؤ جونز ہنڈریڈ انڈیکس میں سات سو ستر پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی۔ یہی نہیں بلکہ تیل کی قیمتوں اور ڈالر کی قدر میں بھی کمی ہوئی اور یہ تمام عوامل سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا دردِ سر ثابت ہوئے ہیں۔

بہت سے سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرکزی مسئلہ مالیاتی نظام کی بحالی کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے یقینی کی کیفیت ہے۔ بل منظور نہ ہونے کی صورت بینک باہمی قرضوں کی فراہمی سے کتراتے رہیں گے اور کریڈٹ مارکیٹیں منجمد رہیں گی۔

اس کے نتیجے میں بڑے اور چھوٹے کاروباری اداروں اور حتٰی کہ عام افراد کو بھی قرضوں کے حصول میں نہ صرف مشکلات کا سامنا ہوگا بلکہ جو لوگ یا کمپنیاں یہ قرضے حاصل کر بھی لیں گے انہیں زیادہ شرحِ سود ادا کرنا ہوگی۔

بیل آؤٹ بل کی منظوری کے بارے میں کتنی امید کی جا سکتی ہے؟

دونوں صدارتی امیدوارں، باراک اوبامہ اور جان میکین کی حمایت کے بعد یہ امید بڑھ گئی ہے کہ بل کی منظوری کے لیے مفاہمت کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا جائے گا۔

صدر بش متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر بل منظور نہ ہو سکا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سیاستدانوں پر زور دیا ہے کہ وہ مفاہمت کا راستہ تلاش کریں۔

بدھ کو سینیٹ میں ووٹنگ کے بعد امکان ہے کہ جمعرات کو ایوان نمائندگان میں بل پر بحث ہو گی اور توقع کی جا رہی ہے کہ سینیٹ میں بل کی منظوری ایوانِ نمائندگان میں بل کی منظوری کی راہ کو قدرے ہموار کر دے گی۔

بیل آؤٹ پلان کس طرح کام کرے گا؟

منصوبے کے تحت امریکی وزیر خزانہ ہنری پولسن اس سرمائے سے بڑے مالیاتی اداروں کے مشکوک قرضوں کی خریداری کریں گے اور اس کے بدلے میں امریکی ٹیکس دہندگان کو ان بینکوں میں نان ووٹنگ اختیار حاصل ہو جائے گا جن کے قرضے خریدے جائیں گے۔ اس طرح اگر بینک اس بحران سے نکل کر منافع میں آئے تو ٹیکس دہندگان کو بھی منافع حاصل ہو سکے گا۔ تاہم اگر ٹیکس دہندگان کو خسارہ ہوا تو مالیاتی اداروں کو اس کی کچھ نے کچھ قیمت ادا کرنی ہو گی۔

بینکوں کے سربراہوں اور اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں اور مالیاتی فوائد پر پابندیاں لگا دی جائیں گی اور اب انہیں ملازمتیں چھوڑنے کے صورت میں نام نہاد گولڈن پیرا شوٹ اور ان جیسے بھاری معاوضے حاصل نہیں ہو سکیں گے۔

بینکوں اور مالیاتی اداروں کو مستقبل میں مارٹگیج قرضوں میں خساروں سے تحفظ کے لیے ’انشورنس پالیسیاں‘ خریدنا ہوں گی۔

امریکی حکومت قرضے خریدنے کے لیے کیا منصوبہ بندی کر رہی ہے؟

امریکی حکومت عالمی مالیاتی مارکیٹوں سے قرضہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت وزارتِ خزانہ کو سات سو ارب ڈالر مالیت کی’ٹریژری سکیورٹیز‘ جاری کرنے کا اختیار مل جائے گا۔

منصوبہ یہ ہے کہ وزارتِ خزانہ ان ڈوبے ہوئے اثاثوں کو ہاؤسنگ مارکیٹ میں بہتری کے بعد دوبارہ مالیاتی مارکیٹ میں فروخت کر دے گی اور اسے کچھ نفع بھی ہوگا۔

یہ بھی خدشات ہیں کہ مزید حکومتی قرضوں کا اجراء اس مسئلے کا حل نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں بجٹ خسارہ قریباً دوگنا ہو جائےگا۔ اس سے غیر ملکی بینکوں پر امریکہ کو زیادہ انحصار کرنا پڑے گا کیونکہ ممکنہ طور پر یہی بینک ہی’ٹریژری سکیورٹیز‘ کے خریدار ہوں گے۔

اس ’بیل آؤٹ‘ کا عام امریکی پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟

اگر آپ امریکہ میں رہتے ہیں تو آپ کے حصہ کے قومی قرضے میں تیئیس سو ڈالر کا اضافہ ہو جائے گا۔ ان امدادی منصوبوں کی کل رقم ایک اعشاریہ آٹھ کھرب ڈالر ہونے کا امکان ہے اور یہ فی امریکی خاندان پندرہ ہزار ڈالر کے مساوی ہے۔

 

 

بشکریہ بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

حلف کا مکمل متن

Posted on 08/09/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , |

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے گیارہویں صدر آصف علی زرداری نے منگل کو ایوان صدر میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں اپنے عہدہ کا حلف اٹھایا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے صدر سے حلف لیا۔ صدر نے انگریزی میں حلف اٹھایا۔ قارئین کے لئے حلف کا مکمل متن اردو میں پیش کیا جا رہا ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
میں آصف علی زرداری صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور وحدت و توحید قادر مطلق اللہ تبارک تعالٰی، کتب الٰہی جن میں قرآن پاک ختم الکتب ہے، نبوت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت خاتم النبین جن کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا، روز قیامت اور قرآن پاک و سنت کی جملہ مقتضیات و تعلیمات پر ایمان رکھتا ہوں کہ میں خلوص نیت سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا۔ کہ بحیثیت صدر پاکستان میں اپنے فرائض، کارہائے منصبی ایمانداری، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق اور ہمیشہ پاکستان کی خودمختاری، سالمیت، استحکام، بہبود اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا۔ کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کیلئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔ کہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہونے دوں گا۔ کہ میں اسلامی جمہوری پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا۔ کہ میں ہر حالت میں ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ بلاخوف و رعایت اور بلارغبت و عناد قانون کے مطابق انصاف کروں گا۔ اور یہ کہ میں کسی شخص کی بلاواسطہ یا بالواسطہ کسی ایسے معاملے کی نہ اطلاع دوں گا اور نہ اسے ظاہر کروں گا جو بحیثیت صدر پاکستان میرے سامنے غور کیلئے پیش کیا جائے گا یا میرے علم میں آئے گا بجز جبکہ بحیثیت صدر اپنے فرائض کی کماحقہ انجام دہی کیلئے ایسا ضرور ہو۔ اللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے۔ آمین

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

آئینی پیکیج

Posted on 02/06/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , |

نئے آئینی پیکیج کے تحت تمام معزول ججوں اورچیف جسٹس صاحبان کو2نومبر والی پوزیشن پر بحال کر دیا جائے گا۔نئے آئینی پیکیج میں صدر مشرف کے3 نومبر2007کے اقدامات کوآئینی تحفظ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے تیار کیا گیا 80نکاتی آئینی پیکیج منظرعام پرآگیا ہے جس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججوں کو 2نومبرکی پوزیشن اور سینیارٹی پربحال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آئینی پیکیج میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹسسز سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تمام جج جنہیں3نومبر2007کو کام کرنے سے روک دیا گیاتھا،2نومبر2007کی پوزیشن اور سینیارٹی پر بحال ہوجائیں گے تاہم ریٹائرمنٹ کی عمر مکمل کرنے اور کسی سرکاری ادارے میں کام کرنے والے جج صاحبان اس میں شامل نہیں ہوں گے ۔

آئینی پیکیج کے دیگراہم نکات میں یہ تجاویز دی گئی ہیں ۔ایک بار چیف جسٹس رہنے والا دوبارہ یہ عہدہ حاصل نہیں کرسکے گا۔ججز کی مدت ملازمت کا فیصلہ صلاح مشورہ سے ہوگا،آئین توڑنے والوں پرغداری کے مقدمات چلائے جائیں گے۔اہم عہدوں پرتقرری کے اختیارت وزیراعظم کو دینے کی تجویز ہے جبکہ صدر وزیراعظم کے مشورے پر15دن میں عمل کا پابند ہوگا۔سپریم کورٹ میں چاروں صوبوں کو مساوی نمائندگی دینے اورمقامی حکومتوں سے انتظامیہ کے اختیارات واپس لیکرصوبوں کودینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے ۔جبکہ قدرتی وسائل کی آمدنی کا50فی صد صوبوں کو دینے اور کنکرنٹ لسٹ ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔پیکیج میں خواتین اوراقلیتوں کی نشستوں کو چھوڑ کر17ویں ترمیم ختم کرنے اورسینیٹ میں میں اقلیتوں کیلئے5نشستیں مخصوص کرنے کیلئے اوراین ایف سی میں وفاقی محاصل کی تقسیم آبادی اور وسائل کی بنیاد پر کرنے کا نکتہ بھی شامل ہے ۔وزیراعلیٰ کے مستعفی ہونے پرگورنر سینئر صوبائی وزیرکو حلف لینے کی دعوت دیگا وزیراعظم کے مستعفی ہونے پرسینئر وزیر وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالے گا۔کابینہ کے ارکان نئے وزیراعظم کے انتخاب تک فرائض ادا کرتے رہیں گے۔وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی قرارداد میں نئے وزیراعظم کا نام بھی دینا ہوگا۔اعلان جنگ کا اختیار وزیراعظم کو دینے کی تجویز ہے۔چیف جسٹس کے از خود نوٹس لینے کے اختیارات پر بعض پابندیوں کی تجویزعدالت عظمیٰ کے از خود نوٹس کے اختیارات پانچ رکنی بینچ استعمال کرسکے گا۔سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر68سال مقررکرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آئینی پیکیج کے تحت آئین کی کئی شقوں میں ترمیم اور صدر سے قومی اسمبلی توڑنے کا اختیار واپس لینے کی بھی تجویز ہے ۔ذرائع کے مطابق آئینی پیکیج میں صدر پرویز مشرف کے3 نومبر کے اقدامات کو قانونی تحفظ دینے اور12 جولائی سے15دسمبر2007 کے درمیان کیے گئے اقدامات کو آئینی تحفظ دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاہم اسے تحریری طورپر مسودے میں شامل نہیں کیا گیا۔ بحوالہ روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

سائبر کرائم آرڈیننس

Posted on 11/01/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس, ٹیکنالوجی, پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق سائبر کرائم آرڈیننس نافذکر دیا گیا ہے جو  دسمبر 2007ء سے نافذ العمل ہوگا۔ اس سلسلے میں نگران وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے کہا ہے کہ سائبر کرائم آرڈیننس نافذکر دیا گیا ہے جس کے تحت سنگین نوعیت کے جرائم کمپیوٹر سے ایٹمی اثاثہ جات کو ہیک کر کے نقصان پہنچانے، دہشت گردی اور فراڈ سمیت موبائل فون کے ذریعے کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے جرائم پر زیادہ سے زیادہ موت کی سزا دی جا سکے گی،انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات بھی جرائم میں شامل ہوں گے۔ سائبر کرائم کی سماعت کیلئے 7 رکنی ٹربیونل اگلے ماہ قائم کر دیا جائے گا اورجن ممالک کے ساتھ معاہدہ موجود ہے، ان سے سائبر کرائم کے مرتکب مجرمان کا تبادلہ کیا جا سکے گا۔ جوہری اثاثہ جات، آبدوزوں، طیاروں کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کو ہیک کر کے نقصان پہنچانے سمیت سنگین نوعیت کی دہشت گردی پر موت کی سزا دی جا سکے گی جبکہ 18 نوعیت کے مقدمات کا احاطہ کیا گیا جن پر ٹربیونل سزائیں دے سکے گا۔ ان جرائم کی تشریح بہت وسیع ہے جس میں سائبر سے متعلق تمام نوعیت کے جرائم کا احاطہ ہو جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جن جرائم کی ٹربیونل سماعت کریگا، ان میں کمپیوٹر کے ذریعے کسی دوسرے کے کمپیوٹر تک رسائی، ڈیٹا تک رسائی، ڈیٹا کو نقصان پہنچانا، سسٹم کو نقصان پہنچانا، آن لائن فراڈ کرنا جن میں جعلی اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے رقوم نکلوانا اور دوسروں کے کارڈز کے کوڈ استعمال کرنا، الیکٹرونک سسٹم یا آلات کا غلط استعمال، کمپیوٹر اور دیگر آن لائن آلات کے کوڈ تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے، اینکرپشن کا غلط استعمال، کسی کا کوڈ بدنیتی کی بنا پر استعمال کرنا، سائبرا سٹاکنگ، اسپامنگ، اسپوفنگ، بلااجازت مداخلت کرنا، سائبر دہشت گردی میں شامل ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے کہا کہ دنیا بھر کے 41 ممالک میں سائبر کرائمز قوانین نافذ ہیں پاکستان 42 واں ملک بن گیا ہے جبکہ اس قانون پر عملدرآمد کیلئے 60 سے زیادہ ممالک سے تعاون حا صل کیا جاسکے گا۔ ایف آئی اے کا سائبر کرائمز ونگ اس قانون کے تحت مقدمات کا اندراج تحقیقات اور پیروی کی ذمہ داری نبھائے گا۔ سینئر مشیر شریف الدین پیرزادہ کی سربراہی میں کمیٹی نے سفارشات پیش کی ہیں ان کی روشنی میں سات رکنی انفارمیشن کمیونیکشن ٹربیونل قائم ہوگا جس میں سیشن جج کی سطح کے ارکان ہونگے۔ ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جاسکے گی جبکہ سپریم کورٹ میں ایسے مقدمات کی سماعت کا نظام وضع کیا جائیگا جو ایک ماہ کے اندر قائم کر دیا جائیگا۔ صدر پرویز مشرف کے حکم پر سائبر کرائمز آرڈیننس 31 دسمبر 2007ء سے نافذ العمل ہوگا۔ وفاقی وزیر عبداللہ ریاڑ نے بتایا کہ جرائم میں کمپیوٹرز کے ذریعے معلومات ڈیٹا چوری کرنا ویب سائٹس کو نقصان پہنچانا اور خفیہ دستاویزات تک رسائی جیسے جرائم شامل ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

قائدِ قانون

Posted on 09/11/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , |

قائد قانون ہی قومِ عقیق کی عمق ہے۔ قانون حکمران ہو تو قوم کی شان ہوتی ہے، جب انسان ایمان کے ساتھ امان بھی رکھے تو یہ ازاں سے اذعان کا ہی اعلان ہے۔ جسکو اِذن ہوتا ہے وُہ ہر حال قانون شکنی سے اعراض کرتا ہے۔ اعتزال میں بھی اعتصام ِ علم”بالادستیءِ قانون“ تھامے رکھتا ہے۔ اسی کو اعتزاز کا اعزاز کہتے ہیں، جو معاشرے کو معاشروں میں معزز بناتا ہے۔ اسی افتخار کے اقبال کو تاریخ ضیافشاں کی ضوفشاں ٹھہراتی ہے۔
قانون ا قدار، اُصول، قاعدہ، ضابطہ اور پابندی ہیں۔ قانون کچھ بھی ہوسکتا ہے، جس میں کچھ حدود مقرر ہو اور انسانیت کی فلاح واضح ہو۔ ہر گھر کا ایک اُصول، رشتہ کی قدر، کھانے کے آداب، بات کرنے کا انداز، لباس پہننے کا سلیقہ، گفتگو کے قواعد، محافل میں شرکت کرنے کے کچھ ضوابط اور مذہبی احکامات کی کچھ پابندیاں لازم ہوتی ہیں۔ یہ وُہ تمام معاملات ہے جو ایک انفرادی انسان کی ذات کا جز ہونا ضروری ہے۔ تبھی وُہ ایک مہذب انسان کہلاتا ہے۔ لائیبریری میں بیٹھنے،  بازار میں خرید و فروخت، سڑک پر چلنا  کے کچھ قاعدے بھی طےشُد ہیں اور قانون بھی مقرر ہیں، جن میں ٹکراؤ بھی نہیں۔ اِسی طرح جب ہم ایک فرد سےگروہ، تنظیم اور قوم کی حد تک چلتے ہیں تو انسان کی مضبوطی سے لے کر معاشرہ کے استحکام اور پھر مملکت کی طاقت اور امّہ کا اتحاد صرف اور صرف اپنے اپنےدائرہ  کے حدود کی مکمل پاسداری میں ہے۔ ہر درجہ کے کچھ اُصول اور قانون ہوتے ہیں۔ قانون احترام  سے ہوتا ہے، احترام قانون  سے نہیں۔
قانون ہمیں حدود سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے۔ قانون کی پابندی ہی قانون کی بالادستی  ہے جو پابند نہیں وُہ عہد شکن  ہے جو باغی کہلاتا ہے اور باغی شیطان بھی ہوتا ہے۔ جب کبھی قانون کو توڑا جاتا ہے۔ ادارے، ملک اور قوم کمزور ہو کر انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی قوم کی ترقی کا راز قانون کی حکمرانی اور بالادستی میں مضمر ہے۔ مگر آج یہ بات ہمیں شائد سمجھ نہ آئے کیونکہ ہمیں کسی کی عزت اور قدر کا احساس نہیں۔ قانون کی حکمرانی انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ قانون توڑنے والا قانون نافذ نہیں کرسکتا؛ وُہ صرف قانون شکنی کرنا جانتا ہے۔ کیونکہ اُس کا مزاج ہی شکن افروز ہوتا ہے۔ عہد شکن، مزاج شکن، قانون شکن،  روایت شکن، مذہب شکن مگر وُہ بت شکن نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ بت کدوں سے ہی شکن مزاجیاں بنتی ہیں؛ جو اُسکی شہ سُرخیاں رہتی ہے۔
اسلام نےقانون کی بالادستی کی بنیاد لاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ سےسمجھا دی۔ لفظ ’پاکستان‘  کلمہ طیبہ ہی سے ہیں تو پاکستان کا قانون بھی یہی ہوا۔ ذرا سوچیئے! یہ ہمارا اللہ سے وعدہ ہے؟ دین اسلام کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپکو اللہ کی رضا کے تابع کرلینا۔ کیا آج ہم سب اپنے آپکو اللہ کی رضا کے تابع کر چکے ہیں؟ تو پھر قانون کی بالادستی بہت دور ہے۔ کیونکہ قانون کی بالادستی والدین کا احترام اور خدمت کرنے سے شروع ہوتی ہے، اپنےقول کو ہر حال نبھانا، وعدہ کی پاسداری کرنا بھی ہے۔
آج ہمارا قانون اپنی ذات کے لئے نہیں ہوتا دوسروں کی ذات کے لئے ہوتا ہے۔ قانون سزا دینے کے لئے بناتے ہیں معاشرہ کی اصلا ح کے لئے نہیں بناتے بلکہ اصطلاح اپنی جزاء کے لئے کرتے ہیں۔ جبکہ یہ قانون شکنی ہوتی ہے۔ عادل کا انصاف دیانتداری سے ترازو کےدونوں پلڑوؤں کو مساوی کر کے ہم وزن کر دینا ہی قانون کی بالادستی ہے۔ کیا آج ہماری خواہشات قانون کے آگے سرخم کرتی ہیں اگر کر دیں تو قانون کی حکمرانی معاشرہ میں ہوگی۔ جس سے ہمارےگھر، شہر، ملک اور دُنیا بلکہ ہر معاملہ شعبہءزندگی میں امن قائم ہو جائےگا۔ قانون کا احترام well mannered لوگ کیا کرتے ہیں، وُہ افراد اعلٰی ظرف، تہذیب یافتہ عالی خاندانوں کے چشموں چراغ اور مہذب قوم کے نمائندے کہلاتے ہیں۔ جو قانون کا احترام نہ کرسکیں وُہ well mannered  نہیں ہوسکتا۔ جو well-mannered نہیں وُہ نہ تو respected ہو سکتا ہے اور نہ ہی Honoarable ۔
آج ہم قاعدہ کیوں نہیں بناتے کہ ایک کہانی ہے کہ ’چور اپنے اصول کی وجہ سے پکڑا گیا ورنہ چوری تو وُہ کر بیٹھا تھا۔ اصول نے مروا دیا۔ وُہ بے وقوف تھا۔‘حقیقتاً وُہ معاشرہ اور چور نادان نہ تھے نہایت ہی عاقل تھے۔ چوروں کے کچھ لوٹنے کے اُصول بھی ہوتے تھے۔ آج اصول نہیں تبھی اخبارات ڈاکو کے ڈاکے کے ساتھ قتل، ظلم اور زیادتی کی خبر ہیں۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہو وہاں چور چوری مجبوری سےکرتا ہے، اور اپنی ضرورت سے بڑھ کر زیادتی نہیں کرتا۔ صرف اپنی ضرورت پوری کرتا ہے، ہوس (دولت، مرتبہ، نگاہ) کی تسکین نہیں کرتا۔
اگر کسی قوم کو کامیاب بننا ہے تو ہرفرد کو اپنے اندر دوسروں کی عزت کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اُصولوں پر ڈٹ جانا؛ چاہے موت واقع ہو جائے مگر ضمیر کا سودا نہ کرے۔ اس کا عملی نمونہ قائد اعظم رول ماڈل کے طور پر ایک مشعلچی کی صورت میں مشعل راہ ہے۔ جب ہم اپنے دل اور مزاج پر اللہ  کی حاکمیت کو تسلیم کریں گے تو قانون کی حکمرانی آہستہ آہستہ ہماری ذات، گھر، خاندان، شہر، معاشرے اور ملک میں نافذ ہو جائےگی۔ ہمیں خود مشعلچی نہیں بننا بلکہ اُس مشعل راہ کو اپنانا ہے جو قائداعظم نےعطاء کی۔
بالادستیءِ قانون انسان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ہر طرح کا تحفظ جو آپ سوچ سکتے ہیں۔ صحتمند قوم صحتمند سوچ سے ہی ہوتی  ہے اور صحتمند سوچ قانون کی حکمرانی سے ہوتی ہے۔
اے اللہ ہر مسلمان کو اپنے والدین کا احترام کرنے کی توفیق عطاء فرما یہی احترام قانون کی اساس ہے اور ملک پاکستان پر اخلاق کی قدر سے قانون کی بالادستی عطاء فرما دے۔ اسی اغلاق کا اطلاق ہونا باقی ہے۔ یہی اعماق ہیں جنکو عملی طور پر اختیار کر کےسمجھنا اَشد ضروری ہے۔ (فرخ)
عقیق (قیمتی) ، عمق (گہرائی) ، ازاں (آغاز)، اذعان (فرمانبرداری سےاطاعت)، اِذن (اختیار سونپنا)، اعراض (بچنا)، اعتزال (دستبرداری)، اعتصام ِ علم (مضبوطی سےجھنڈا تھامےرکھنا)، اعتزاز (وُہ خوبی جسکا اثر بھی ہو) ، ضیافشاں (روشنی پھیلانا) ، ضوفشاں (روشنی پھیلنا)

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...