ڈیرہ نامہ

تونسہ بیراج Taunsa Barrage

Posted on 18/09/2007. Filed under: ڈیرہ نامہ |

پاکستان میں بیشمار بیراج ہیں، جن میں چند مشہور جناح بیراج، چشمہ بیراج، گدو بیراج، سکھر بیراج اور کوٹری بیراج شامل ہیں۔ تونسہ بیراج کالا باغ ہیڈ ورکس سے ٨٠ کلو میٹر جنوب کی طرف دریائے سندھ پر واقع ہے جو کوٹ ادو شہر سے ١٨ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ پاکستان کا پندرھواں اور دریائے سندھ کا چوتھا بیراج ہے۔ اس کی تعمیر پر ساڑھے بارہ کروڑ روپے صرف ہوئے تھے، اس سے دو نہریں نکالی گئی جن میں سے ایک نہر مظفر گڑھ اور دوسری ڈیرہ غازی خان کو سیراب کرتی ہے۔ بلوچستان کی خشک سالی دور کرنے کے لئے تونسہ بیراج سے ابھی حال ہی میں سوا تین ارب روپے کی لاگت سے ٥٠٠ کلومیٹر طویل ‘کچھی کینال‘ نامی ایک اور نہر نکالی گئی۔ جس سے سات لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہوتی ہے۔
تونسہ بیراج سے نکالی گئی ان نہروں سے نہ صرف لاکھوں ایکڑ زمین سیراب ہوتی ہے بلکہ کئی دوسرے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس کی تکمیل سے ڈیرہ غازی خان تک جانے کے لئے خشکی کا راستہ نکل آیا اور پختہ سڑک کی تعمیر سے ڈیرہ غازی خان کا دوسرے حصوں سے براہ راست تعلق قائم ہو گیا ہے۔
ڈیرہ غازی خان کی خوش قسمتی ہے کہ تونسہ بیراج جیسا عظیم الشان منصوبہ ١٩٥٨ء کو پایہ تکمیل تک پہنچا ہے۔ پل کے نیچے پانی بڑی تند و تیزی سے رواں دواں ہے۔ پل کے ساتھ ساتھ ریلوے لائن بھی موجود ہے، دوسرے کئی افادی اور تفریحی مقامات بھی موجود ہیں۔ دریائے سندھ پر اس وقت تک جتنے پل تعمیر ہوئے ہیں ان سب میں سے عظیم الشان پل تونسہ بیراج ہے۔
تونسہ بیراج کا کام ١٩٥٤ء کو شروع ہوا اور ١٩٥٨ء کو پایہ تکمیل تک پہنچا، افتتاح ١٩٥٩ء کو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم نے کیا تھا۔ پل پر فٹ پاتھ (دونوں سائیڈوں پر) چھ چھ فٹ ہے۔ سڑک کی چوڑائی ٢٢ فٹ ہے۔
ڈیرہ غازی خان محکمہ انہار کے (ریٹائرڈ) سرکل ہیڈ ڈرافسٹمیں خان خدا بخش خان کے مطابق تونسہ بیراج کے نقشہ جات اور ڈیزائن کی تیاری میں تقریبا پانچ برس کے عرصہ تک میں نے بیراج کے مختلف حصے اور ریگولیٹر کے نقشے ڈیزائن انجیئر آئی اے خالق اور ڈائریکٹر محی الدین خان کی سرپرستی میں تیار کئے تھے جبکہ میرے ساتھ سب انجیئر یعقوب خان مرحوم اور ہیڈ ڈرافسٹمیں بشیر حسین شاہ مرحوم بھی میرے ساتھ کام کرتے تھے۔ مجھے اس کارکردگی کے صلے میں ١٩٥٩ء کو فیلڈ مارشل ایوب خان نے بیراج کی افتتاحی تقریب میں میڈل سے نوازا اور ایک ایک میڈل سب انجیئر اور ہیڈ ڈرافسٹمین کو بھی عطا کیا گیا جبکہ پہلا میڈل پی ایس ای لنک (بمقام بلوکی) ١٩٥٣ء کو منسٹر آف ایریگیشن سردار محمد خان لغاری کے دور حکومت میں عطا کیا گیا تھا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

چلو چلو سٹیڈیم چلو

Posted on 24/05/2007. Filed under: ڈیرہ نامہ, سیاست |

آج صدر جنرل پرویز مشرف ڈیرہ غازی خان ایک جلسے سے خطاب فرمائیں گے، پورا شہر خوش آمدید کے بینروں سے بھرا ہو ہے، ہر طرف چلو چلو سٹیڈیم چلو کے نعرے لکھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں خطاب کے بعد صدر صاحب راجن پور میں فرید بیس پر معززین سے ملاقات کریں گے اور ساتھ ہی انڈس ہائے وے کا افتتاح بھی کریں گے۔
ہمارے صدر صاحب نے جو خطابوں کا سلسلہ شروع کیا ہے اس سے اور کچھ ہو نا ہو حکومتی خزانے پر بہت برا اثر پڑے گا۔ اب یہی دیکھ لیں صدر کے جلسے میں تیار کے گئے ائرکنڈیشنز پنڈال پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے لاگت آئی ہے، شرکاء میں پارسل کھانے کی تقسیم اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔
جسلہ گاہ انتظامات مکمل طور پر پاک فوج نے سنبھالے ہوئے ہیں۔ کل شام اور آج صبح اسلام آباد ہیلی کاپٹر پر عملہ آیا اور جلسہ گاہ کے انتظامات کا جائزہ لیکر واپس چلا گیا۔ جلسہ گاہ کے اطراف کی رہائشی آبادیوں ماڈل ٹاؤن، رکن آباد کالونی، بھٹہ کالونی اور پروفیسرز کالونی میں سیکڑوں پولیس اہلکار مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ آنے جانے والے تمام افراد کو مکمل طور پر چیک کیا جا رہا ہے۔ جبکہ آج علی الصبح فیصل چوک آؤٹ ایجنسی سے گدائی چوک تک، نیو کالج روڈ چوک سے پل ڈاٹ تک اور جام پور روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
سابق صدر سردار فاروق احمد خان لغاری اور ضلع ناظم سردار مقصود احمد خان لغاری میں ‘ان بن‘ کی وجہ سے جلسہ گاہ جلسہ گاہ کے پنڈال کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں دائیں طرف سردار فاروق احمد خان لغاری گروپ اور بائیں طرف ضلع ناظم گروپ اپنے خیر مقدمی بینروں سمیت موجود ہوں گے۔ سٹیج پر پانچ کرسیاں فرنٹ پر اور باقی کرسیاں پیچھے کی طرف لگائی گئی ہیں جو ایم این اے اور ایم پی ایز کے لئے مختص ہوں گی۔ سٹیج پر صدر کے لئے گرین لائن اور ہاٹ لائن فون بھی نصب کر دیئے ہیں۔ ضلع ناظم سردار مقصود احمد خان لغاری صدر مشرف کو مقامی بلوچی ثقافت کے حوالے سے پگڑی پہنائیں گے۔
جلسے میں عوم کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے لئے ہر ناظم کو دس گاڑیاں دی گئی ہے، ہمارے ایک جاننے والے ناظم صاحب نے کہا ہے کہ دس گاڑیاں تو مل گئی ہیں پر اس میں بیھٹنے والے لوگ کہاں سے لاؤں، کوئی بھی جلسہ گاہ جانے کو تیار نہیں، میں نے اپنے علاقے کے لوگوں سے جب اس بارے میں کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ ‘گوڈا توں ساکوں مرواون چاہدیں (جناب آپ ہمیں مروانا چاہتے ہیں کیا؟)۔
صدر کا خطاب اپنی جگہ، مگر اس کی وجہ سے عوام جو مسلسل پانچ چھ روز سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی۔ شہر کی پوری ٹرانسپورٹ سرکاری قبضے میں ہونے کی وجہ سے مسافر بیچارے ١٠ روپے والے سفر پر ١٠٠ روپے کرایہ دینے پر مجبور ہیں، ان کی دعائیں اور بددعائیں کس کے سر ہوں گی جسلہ گاہ میں آج اگر اس کا بھی حساب ہو جائے تو ۔۔۔۔۔۔ ؟

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

احمد خان طارق

Posted on 15/05/2007. Filed under: ڈیرہ نامہ, سرائیکی وسیب, شعروادب |

احمد خان طارق سرائیکی وسیب کا نمائندہ اور تخلیق کار ہے۔ جاگیردرانہ ماحول کا یہ باسی کچلی ہوئی انسانیت کے دکھ درد کی بھرپور عکاسی کرتا نطر آتا ہے۔ ان کے کلام میں نعرہ بازی، پھکڑ پن اور نام نہاد انقلاب کی بات نہیں بلکہ اس میٹھے کرب کا اظہار ہے جس سے صدیوں کی غلامی کی وجہ سے حسِ احتجاج تقریبا ختم سی ہو گئی ہے۔ کھوسہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا یہ بلوچ آسان زندگی اور وہ بھی ‘ٹاہلی دی چھاں تلے‘ گزارنے کا خواہش مند ہے، حالانکہ اسے بخوبی علم ہے کہ یہ سایہ بھی اسے حقیقی سکون نہیں بخش رہا۔ ‘ماندی چھاں‘ کا شکوہ ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔

اساں کیہل فقیر ہمسائے تیڈے
تیڈے ناں دی چھاں تے پئے ہیں
تیڈے چنتے چوڑھے مترلگن
متراں دی چھاں تے پئے ہیں
تیڈی مونجھ دی گھر دی ٹاہلی ہے
من بھاندی چھاں تے پئے ہیں
پر طارق جھٹ محسوس تھیندے
کہیں ماندی چھاں تے پئے ہیں
احمد خان طارق حقیقتاَ عشق و محبت کا آدمی ہے۔ خلوص و نیاز مندی ہر حرف سے ٹپکتی نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنے خیال سے ایک بے قرار وجود کو مجسم کر دیا ہے۔

اج قاصد گونگا بن کے ونج
مونہو نہ الوائیں، مونجھ ڈسائیں
انہوں اضطراب و بے قراری کا اظہار نہ صرف ڈوہرے میں کیا بلکہ اسے اپنے رس بھرے گیتوں میں بھی خوب استعمال کیا۔

سوئیاں دھاگے پھولے اُچھلاں
مندری کان تعویز لکھانواں
ڈاج کھندانواں سندرے پھولاں
اسی طرز کی بے قراری کا ایک اور شعر بھی ملاحظہ کیجیئے۔

جوسی سڈا جھترے پُھلا
گل باہیں وچ تعویز پا
در تے سدا دھوئیں
دُکھا حرمل دے پُک
احمد خان طارق سرائیکی وسیب کے کلچر کا شاعر ہے۔ بیٹ، ٹاہلی، کاہاں، سر، کاں، گاج، بانگاں یہ سب ہماری وسیبی مزاج کی باتیں ہیں۔ وہ مقامی ثقافت کے کامیاب مصور ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے وہ کبھی مایوس نہیں ہوئے۔

طارق غم دا کوئی غم کائینی
ول آسن غمخوار جیہاڑے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پہلے تاں اپنی ذات دا عرفان حاصل کر گھنوں
ول اپنی طارق ذات دے گنبد توں باہر ڈیکھسوں

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ہیرے موتی لوگ

Posted on 03/05/2007. Filed under: ڈیرہ نامہ, سرائیکی وسیب |

ڈیرہ غازی خان کی دھرتی میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی ہے، اگر کمی ہے تو حوصلہ افزائی کی ہے۔ یہاں اچھے سے اچھا شاعر، اعلٰی سے اعلٰی گلوگار، مصور، مجمہ ساز، خطاط اور دستکار پڑا ہوا ہے۔ لیکن زندگی بھر ان کی شہرت اور پذیرائی ان کی شکستہ، بوسیدہ، جابجا سے آثار قدیمہ کی تصویر پیش کرتی ہوئی چاردیواری کی حدود سے آگے نہیں بڑھ پاتی، یہاں تک کہ یہیں پر گھٹ کر مر جاتی ہے۔ اس علاقے کے فنکاروں کے ساتھ یہ ظلم اور ناانصافی کیوں؟ یہ سوال برسہا برس سے ڈیرہ غازی خان کی گرد کے ساتھ کوچہ و بازار میں رسوا پھرتا ہے، مگر کوئی نہیں جو اسے جواب کے سانچے میں ڈھال کر رنگ و روپ کے اجالوں سے نکھار دے۔ اندھیرے، گمنامیاں اور ناقدری کی دھول نہ جانے کب تک ان کے چہروں کو دھندلائے رکھے گی۔ شمیم خطاط کو کون نہیں جانتا؟ جو اسی سرزمین پر برسہا برس سے خطاطی سکھا کر اپنا پیٹ پال رہا تھا، صرف دو دن پہلے ہی گمنامی کے گھپ اندھیروں میں کہیں گم ہو گیا۔ میڈا عشق وی توں، میڈا دین وی توں‘ گا کر سوز و آواز کا جادو جگانے والے پٹھانے خان مرحوم سے کون واقف نہیں، انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اپنی آخری زندگی گزارنے والے پٹھانے خان مرحوم کے گھرانے کو دو وقت کی روٹی کے لئے آخر کار پٹھانے خان مرحوم کے ساز بجانے والے آلات کی بولی لگوانے کا سوچنا پڑا۔ کوئی ایک دکھ ہو تو بندہ رونا بھی روئے، یہاں تو دکھوں کا ایک جہان آباد ہے۔ لوگ تڑپتے پھرتے ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں جو ان کے درد کا درماں بنے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہم لوگ جن کو اپنے کندھوں پر بیٹھا کر اسلام آباد کی عظمتوں کے سپرد کرتے ہیں وہ ان فضاؤں میں جاتے ہی زمینی لوگوں کو یوں بھول جاتے ہیں جیسے کبھی ان کے پاس لوٹ کر زمین پر نہیں آنا۔ اپنے ہی مفادات کی ہیبتناکیوں میں گم لوگو! ہوش میں آؤ اور مٹی میں ملے ہوئے ان ہیرے، موتیوں کو مٹی میں دفن ہونے سے بچا لو، ان کی چمک سے دنیا کو خیرہ کرنے کے لئے انہیں بھی وہی مواقع فراہم کرو جو تم نے لاہور، اسلام آباد اور اس جیسے دیگر علاقوں کو فراہم کیئے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ملک کے ایک علاقے پر تو نوازشات کی بارش اور دوسرا ایک قطرے کو ترستا رہے، مساوات کا دعوٰی کرتے ہو تو اس کی لاج بھی رکھو۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

شیدا بمقابلہ بش

Posted on 10/03/2007. Filed under: ڈیرہ نامہ, پاکستان, سیاست, طنز و مزاح |

شیدا کا جارج بش کے خلاف اعلان جنگ

جارج بش اپنے آفس میں بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ اب کس ملک پر چڑھائی کی جائے کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی

“ہیلو مسٹر بش” ایک بھاری لہجے والی آواز سنائی دی۔ “میں شیدا بول رہا ہوں ڈسٹرکٹ ڈیرہ غازی خان، پاکستان سے، میں نے تمہیں اس لئے فون کیا ہے کہ ہم تمہارے خلاف اعلان جنگ کر رہے ہیں۔ ہوشیار رہنا“

“خیر، شیدا” بش نے جواب دیا “یہ واقعی بہت اہم خبر ہے۔ آپ کی فوج کتنی بڑی ہے؟”

“اس وقت ہمارے پاس” شیدے نے کچھ دیر تک کی گنتی کے بعد کہا ” میں، میرا کزن بشیرا، میرا ہمسایہ کرم دین اور ہمارے ضلع کی پوری کبڈی ٹیم ہمارے ساتھ ہے۔ ہم مل ملا کر کوئی آٹھ افراد ہوتے ہیں۔”

بش نے کچھ دیر توقف کے بعد کہا “لیکن میں تمہیں یہ بتا دوں کہ میرے پاس دس لاکھ افراد کی فوج ہے اور وہ میرے ایک اشارے کے منتظر ہیں۔”

“جہنم میں جاؤ” شیدا بولا۔ “چلو میں تمہیں کل فون کروں گا”

اگلے دن واقعی شیدے نے پھر فون کیا

“مسٹر بش، میں شیدا، ڈیرہ غازی خان سے بول رہا ہوں۔ ہماری جنگ ابھی بھی چل رہی ہے۔ ہم نے کچھ مزید ہتھیار بردار مشینری بھی اکٹھی کر لی ہے”

“ہممم، تو آپ کون سی ہتھیار بردار مشینری اکٹھی کی ہے؟” بش نے پوچھا۔

“ہمارے پاس دو کمبائنڈ ہارویسٹر، ایک گدھا اور امجد کا ٹریکٹر ہے۔”

بش نے آہ بھری۔ “میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میرے پاس کوئی سولہ ہزار ٹینک اور چودہ ہزار ہتھیار بند گاڑیاں ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کی کل والی دھمکی کے بعد میں نے اپنی فوج کو بڑھا کر پندرہ لاکھ کر دیا ہے”

“اوہ تیری (سنسر)” شیدا بولا۔ “میں پھر فون کرتا ہوں۔”

اگلے دن واقعی شیدے نے پھر فون کیا۔ “مسٹر بش، ہماری جنگ ابھی بھی چل رہی ہے۔ اب ہم نے فضائی جنگ کی تیاری بھی کر لی ہے۔ ہم نے امجد کے ٹریکٹر پر دو بندوقیں فٹ کر لی ہیں اور پنڈ کے جنریٹر پر، پر لگا دیئے ہیں۔ مظفر گڑھ سے چار مزید لڑکے بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ہیں”

بش نے کچھ دیر تک سوچا، پھر اپنا گلا صاف کیا اور بولا۔ “شاید آپ کو علم نہ ہو کہ میرے پاس دس ہزار بمبار اور بیس ہزار لڑاکا طیارے ہیں۔ ہمارے مراکز لیزر گائیڈڈ زمین سے فضاء تک مار کرنے والے میزائلوں سے کور ہیں۔ سابقہ بات چیت کے بعد میں نے اپنی فوج کی تعداد بیس لاکھ کر دی ہے۔”

“تیرا بھلا ہو۔۔۔” شیدا بولا۔ “میں پھر فون کرتا ہوں”

اگلے دن شیدے نے پھر اسی وقت فون کیا۔ “کیسے ہو مسٹر بش؟ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم جنگ کو ختم کر رہے ہیں۔”

“مجھے بھی بہت افسوس ہوا سن کر۔ لیکن آپ کا ارادہ اتنا اچانک کیسے بدلا؟”

خیر۔۔۔” شیدا بولا “کل ہم دوستوں نے اپنی اس فون والی بات چیت پر لمبی بحث کی اور آخر کار یہ نتیجہ نکالا کہ ہم بیس لاکھ جنگی قیدیوں کو کھلانا پلانا ایفورڈ نہیں کر سکیں گے۔

پاکستانی انگلش بلاگ لنک

اردو ترجمہ ۔ منصور قیصرانی

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

آس آف

Posted on 22/02/2007. Filed under: ڈیرہ نامہ, پاکستان, رسم و رواج |

خبر ملی ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے تمن کھوسہ کے قبائلی سرداروں کی کونسل نے چوری کے الزام میں ایک نوجوان کے والد خدا بخش کو حکم دیا ہے کہ اسے اپنے بیٹے کی بیگناہی ثابت کرنی ہو گی اور اس کے لئے اسے ننگے بدن ایک انتہائی ٹھنڈے، یخ بستہ برفیلے پانی کے تالاب میں بندھے ہوئے ہاتھوں اور پیروں کے ساتھ ایسے ٨٠ فٹ تک چلے کہ پانی سے صرف اس کا سر باہر ہو اور اسی حالت میں اسے کم از کم ١٠ منٹ تک گزار لے تو تب اس کے بیٹے کو بےگناہ تصور کرتے ہوئے چھوڑ دیا جائے گا۔
بیچارہ مرتا کیا نہ کرتا، اولاد چیز ہی ایسی ہوتی ہے، بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق، بیٹے کی بیگناہی کے لئے خدا بخش اس آزمائش سے گزرنے کے لئے تیار ہو گیا۔ تمن کھوسہ کی ہزاروں آنکھوں نے یہ تماشا دیکھا کہ بوڑھا خدا بخش دو منٹ بھی تالاب میں برفیلے پانی کی تاب نہ لا سکا اور باہر نکل آیا۔ جس کے سبب اس کے بیٹے پر الزام صحیح ثابت ہوا اور تمن کھوسہ کے قبائلی بزرگوں کی کونسل نے اس کو پچاس ہزار روپے بطور جرمانہ ادا کرنے کی سزا دے دی۔
یہ خبر حیران کن، انوکھی یا نئی نہیں، ایسے واقعات روز کا معمول ہیں۔ کیونکہ قبائلیوں کے پرانے رسم و رواج اور روایات جو صدیوں سے چلے آتے ہیں کے مطابق ملزموں کو اپنی بیگناہی خود ہی ثابت کرنا پڑتی ہے۔ ان روایات کے مطابق مختلف الزاموں پر آزمائش کے مرحلے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ کبھی انہیں اپنی بیگناہی ثابت کرنے کے لئے ننگے پیروں دہکتے ہوئے کوئلوں پر سے گزرنا پڑتا ہے، تو کبھی برفیلے پانی میں سے ننگے بدن گزرنا پڑتا ہے۔
یہ سب یہاں تک تو چلو کسی حد تک قابل قبول ہیں مگر لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ایسے واقعات میں بھائیوں کے جرم کی سزا ان کی بہنوں کو اور بیٹوں کے گناہ کا کفارہ ان کی ماؤں کو ادا کرنا پڑتا ہے، اور خاوندوں کی زیادتی کا کا خمیازہ ان کی بیویوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟
یہ کہاں کا انصاف اور انسانیت ہے؟
ایسا کب تک ہوتا رہے؟
کب تک گناہگاروں کی سزا بےگناہوں کو دی جاتی رہے گی؟

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

یوم آزادی مبارک

Posted on 14/08/2006. Filed under: ڈیرہ نامہ, پاکستان, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , |

آج یوم آزادی ہے جس کی خوشی میں ہر متحرک شے پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے، ہر چہرے پر ایک عزم ہے، پیشانیاں تمتما رہی ہیں۔ بائیسکل، گدھا گاڑی، تانگہ، رکشہ، موٹرسائیکل، نئی ماڈل کی کاریں، پرانی گاڑیاں، پک اپ وین، بسیں، ٹرک، آئل ٹینکر، واٹر ٹینکر سب پر سبز ہلالی پرچم ایک وقار سے بلند ہے۔
پاکستانی چوک، کمیٹی گولائی، گھنٹہ گھر، پتھربازار، کلمہ چوک، ٹریفک چوک، سٹی پارک، شمال سے جنوب، جنوب سے شمال، کچی بستیوں سے امراء کے محلوں تک آزادی کے قافلے روان دواں ہیں۔ آج کوئی امتیاز نہیں ہے، امیر غریب میں، جوان بزرگ میں، مالک ملازم میں، بے کار اور برسرروزگار میں سب ١٤ اگست ١٩٤٧ کو ملنی والی آزادی پر اپنی مسرت کا اظہار کرنے نکلے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان میں یہی سماں ہے، اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں بھی یہی عالم ہے، ملتان، بہاولپور، فیصل آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، حیدرآباد، لاڑکانہ، مردان، مانسہرہ، دیر، سوات، نوشہرہ، سرگودھا، سیالکوٹ، گجرات، جہلم، مظفرآباد، میرپور، قلات، دالبندین، اٹک، تھرپارکر اور دیگر تمام شہروں سے بھی یہی خبریں آ رہی ہیں۔
گھروں پر چاند تارے سے مزین پرچم لہرا رہے ہیں، نوجوان بائیسکلوں کو ایک پہیے پر اٹھا رہے ہیں، موٹر سائیکلوں کی طاقت سے کھیلا جا رہا ہے، ون وہیلنگ کا لطف اٹھایا جا رہا ہے۔ کلین شیو نوجوان بھی ہیں، داڑھیوں والے بھی، ٹوپیوں والے ہیں پگڑیوں والے بھی، شرٹ اور جینز میں بھی، جناح کیپ میں شیروانیوں میں بھی، ننھے منے بچے بھی اس شناخت کے ساتھ بہت خوش ہیں۔ لڑکے بھی ہیں، نوجوان بھی، مائیں بھی بہنیں بھی، حجاب میں مطمین، کھلے بالوں والی بھی، سرتاپا مستور بھی، شرٹ جینز والی بھی، وہ بزرگ بھی جنہوں پاکستان بنتے دیکھا ہے پھر سارے بحرانوں کو طوفانوں کو بپھرتے اترتے، المیوں کو ابھرتے، پانی کو سروں سے گزرتے، جمہوریت کو آتے جاتے، مارشل لا کو مسلط ہوتے، ختم ہوتے دیکھا ہے اور اب نیم مارشل لا کی گود میں پلنے والی روشن خیال حکومت بھی دیکھ رہے ہیں۔
ہزاروں ہیں جو قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر اپنی عقیدتیں نچھاور کرنے پہنچے ہیں، سیکڑوں علامہ اقبال کی آخری آرام گاہ پر اظہار عقیدت کے لئے موجود ہیں، کچھ مینار پاکستان کی عظمتوں کو سلام کر رہے ہیں۔
١٤ اگست کی صبح پورا پاکستان مبارک بادوں کی آوازوں سے گونج اٹھا، یوم آزادی کا سورج طلوع ہوا تو فون کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
السلام علیکم، یوم آزادی مبارک
ایس ایم ایس ہو رہے ہیں۔ جشن آزادی مبارک
ای میل ہو رہی ہیں۔ ہیپی انڈپنیڈس ڈے
اس بار تو اکثر سرکاری و کاروباری ادروں نے مبارک دینے کے لئے عید کارڈوں کی طرح یوم آزادی مبارک والے کارڈز بھیجے ہیں۔
ایک بڑی تعداد نے اللہ تعالٰی کے حضور شکرانے کے دو نوافل بھی ادا کئے ہیں۔ صبح کی نماز کے بعد مسجدوں میں خصوصی دعائیں مانگی گئیں ‘ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، ہمیں سیدھی راہ دکھا، یا اللہ پاکستان تیرے ہی نام پر بنا ہے تو ہی اس کی حفاظت فرما، اسے دشمنوں کی میلی نظر سے بچا، اسے صدا شاد و آباد رکھ ۔۔۔۔ آمین‘ خالق حقیقی یقینا مخلوق کی فریاد سنتا ہے، دلوں سے اٹھنے والی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں۔گرجا گھروں، مندروں اور گردواروں میں بھی رونقیں ہیں، اقلیتیں اپنی سلامتی اور تحفظ پر مسرت کا اظہار کر رہی ہیں۔
بازاروں، شاپنگ سنٹرز میں بھی اسی طرح ہجوم ہے، کاروباری برادری نے اپنے ہموطنوں کو متوجہ کرنے، ان کے دل بہلانے کے لئے نئے نئے طریقے اختیار کئے ہیں، مارکیٹیں سجائی گئی ہیں، دیو ہیکل غبارے پھلائے گئے ہیں۔ تفریح گاہوں میں بھی رنگ بکھرے ہوئے ہیں، سیکڑوں خاندان اپنے چھوٹوں اور بڑوں کے ساتھ موجود ہیں۔ آڈیو کیسٹوں سے ملی ترانے بلند ہو رہے ہیں۔ بہت سے خاندان صوفیائے کرام کی درگاہوں پر حاضری دے رہے ہیں۔ پیر ملاقائد شاہ، پیرعادل، سخی سرور، خواجہ سلیمان تونسوی، خواجہ فرید، رکن شاہ عالم، پیر بخاری، داتا گنج بخش، عبداللہ شاہ غازی، شاہ لطیف، شہباز قلندر، سلطان باہو، بلھے شاہ، بابا فرید الدین گنج شکر کے مزاروں پر چادریں چڑھائی جا رہی ہیں، اللہ کے ان برگزیدہ بندوں، اولیائے کرام، صوفیاء مشائخ عظام کے محبت بھرے کلام سے ہی اسلام کی روشنی برصغیر پاک و ہند تک پہنچی ہے۔
فنکار اپنے فن، گلوکار اپنی آوازوں سے وطن سے وابستگی اور عقیدت ظاہر کر رہے ہیں۔ شعرائے کرام مشاعروں میں وطن کے حضور خراج پیش کر رہے ہیں۔یہ دن سب کا دن ہے۔ سب اپنے جذبات کے اظہار میں پیش پیش ہیں۔ ان میں ہر عمر، ہر طبقے، ہر رنگ، ہر نسل، کے لوگ ہیں۔ یہ آج کوئی شکایت نہیں کر رہے، کوئی مطالبہ نہیں کر رہے، کوئی باعث نہیں کر رہے، کسی سے کوئی اختلاف نہیں کر رہے۔ صرف اور صرف اپنے وطن، اپنے پاکستان سے الفت، وابستگی اور اپنی آزادی کی نعمت پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔ آج پاکستان سب سے پہلے ہے، سب کی مسرتوں، آرزوؤں، امنگوں، تمناؤں، عزائم، ارادوں، خواہشوں، چاہتوں کا محور ہے۔
یہی ہے وہ خاموش اکثریت جو نہ چیختی ہے نہ چلاتی ہے، نہ بڑبڑاتی ہے۔ اللہ تعالٰی کے طرف سے دئیے گئے سب سے برے تحفے آزاد پاکستان سے اپنے مشن اور محبت کا اظہار اتنا مکمل اور کھل کر کرتی ہے کہ پورا پاکستان بول اٹھتا ہے

یوم آزادی مبارک

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

تاریخ ڈیرہ غازی خان ۔ ٢ حصہ دوم

Posted on 18/04/2006. Filed under: ڈیرہ نامہ, تاریخ |

حصہ اول کے لئے یہاں کلک کیجیئے۔
١١٢٥ء میں چنگیز خان سلطان جلال الدین خوارازم کا تعاقب کرتے ہوئے دریائے سندھ کے کنارے پہنچ گیا۔ سلطان جلال الدین اور اس کے بقیہ ساتھیوں نے گھوڑوں کے ذریعے دریا عبور کیا مگر تاتاری اتنے بڑے دریا کو عبور کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ چنگیز خان کی آمد کے بعد یہ علاقہ تاتاریوں کی آماجگاہ بنا رہا۔ اگرچہ بلبن عہد حکومت میں غیاث الدین بلبن اور علاؤالدین بلبن نے سرحدی چوکیوں کو مضبوط کر دیا تھا مگر یہ چوکیاں مغربی کنارے پر تھیں اس لئے سندھ کا مشرقی کنارہ اور ادھر کا سارا علاقہ مختلف قبیلوں میں بٹ گیا۔
١٣٩٢ء تیمور کے پوتے پلیرمحمد نے ملتان پر قبضہ کر لیا اور سندھ کے تمام مغربی کناروں پر قابض ہو گیا۔ اس اثناء میں تیمور دہلی پر حملہ آور ہوا اور جاتے وقت تمام خزانے ساتھ لے گیا۔ تیمور کے حملے کے بعد ہندوستان میں مستقل حکومت قائم نہ ہو سکی۔ ڈیرہ غازی خان میں ابوالفتح لودھی کے خاندان نے سر اٹھایا۔ ابوالفتح کے خاندان کے لوگ ناہڑ، بارکھان، ہڑند، داجل، کن پور اور سیت پور کے علاقوں میں رہتے تھے۔ ان میں عیٰسی خان نے ناہڑ، کن پور اور سیت پور پر جبکہ بہادر خان نے ہڑند اور داجل کے علاقے پر قبضہ کر لیا اور اپنی حکومت قائم کر لی۔ بہادر خان کی حکمرانی کے کچھ عرصہ بعد اس علاقے سے ایک شخص محمد خان اپنے خاندان کے ساتھ ٹھٹھہ چلا گیا اور والیء ٹھٹھہ کی ملازمت اختیار کر لی۔ والیء ٹھٹھہ نے محمدخان سے خوش ہو کر اس کو رانی کے علاقے کا امیر بنا دیا، اس وجہ سے اس کی اولاد امیررانی کہلانے لگی جو بعد میں مررانی کہلانے لگے۔ محمدخان کے بیٹے حاجی خان نے دریائے سندھ کے کنارے آباد علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لی اور اس علاقے کا حاکم بن گیا۔
حاجی خان بہت ذہین اور عقلمند آدمی تھا، اس نے اپنے تدبر اور فراست سے ہڑندوداجل سے لیکر شمال میں کالا تک کا علاقہ فتح کر لیا، حاجی خان نے ١٤٧٤ء یا ١٤٧٦ء میں اپنے نامور اور بہادر بیٹے غازی خان کے نام پر دریائے سندھ کے کنارے ایک شہر کی بنیاد رکھی۔ غازی خان اول نہایت شفیق فطرت کا اور قابل حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ حافظ قرآن بھی تھا۔ غازی خان اول نے ١٤٩٠ء اور ١٤٩٤ء کے درمیانی عرصہ میں وفات پائی۔ غازی خان اول کی وفات کے بعد اس کی اولاد چودہ پشتوں تک اس علاقے پر حکمران رہی اور حاجی خان اور غازی خان کے القاب اختیار کئے۔
حاجی خان ہفتم نے وفات کے وقت اپنے وزیر گوجر خان کے ہاتھ میں اپنے سات سالہ فرزند غازی خان ہفتم کا ہاتھ دے کر اس کی حفاظت اور پرورش کی ہدایت کی مگر اس کی وفات کے بعد گوجر خان کی نیت بدل گئی اور اس نے غازی خان ہفتم کو قید کر کے غلام شاہ کلہوڑہ کے حوالے کر دیا۔ غلام شاہ کلہوڑہ غازی خان ہفتم کو قید کر کے سندھ لے گیا جہاں غازی خان ہفتم نے غریب الوطنی میں ٦ سال کی قید کے بعد ١٣ سال کی عمر میں وفات پائی۔ اس طرح گوجرخان اس علاقے کا حکمران بن گیا اور تیس برس تک اس علاقے پر حکومت کی۔
نادر شاہ دہلی فتح کرنے کے بعد ١٧٣٩ء میں ڈیرہ غازی خان آیا۔ گوجر خان نے اس کی حمایت کی، نادرشاہ نے واپسی پر گوجر خان کو جانثار کا لقب دیا اور اس علاقے کو اپنی عملداری میں شامل کر کے گوجر خان کو اس علاقے کا امیر مقرر کیا۔ ١٧٤٧ء میں نادرشاہ قتل ہوا تو پنجاب کی حکومت احمدشاہ ابدالی کے قبضے میں آئی۔ مرہٹوں نے احمدشاہ ابدالی کے بیٹے کو لاہور سے نکال کر پورے مشرقی پنجاب پر قبضہ کر لیا اور اکثر علاقے تباہ کر دیے۔ اس کے جواب میں احمدشاہ ابدالی نے پنجاب پر دوبارہ حملہ کیا اور پنجاب کو مرہٹوں سے آزاد کرا لیا۔ ١٧٦١ء میں پانی پت کی تیسری میں احمدشاہ ابدالی نے مرہٹوں کی طاقت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاش پاش کر دیا۔ واپسی پر احمدشاہ ابدالی نے داجل اور ہڑند کا سارا علاقہ والیء قلات میرنصیرخان کو دے دیا۔ کن پور اور روجھان کے علاقے سندھ میں شامل ہوگئے۔ سیتپ پور اور راجن پور کی جاگیر راجو نامی سپاہی کے حوالے ہوئی۔ اسی راجو نے راجن پور آباد کیا۔ احمدشاہ ابدالی کی وفات کے بعد سکھوں نے پنجاب میں اپنی طاقت بڑھا لی اور ١٨٦٤ء میں ملتان اور ١٨٣١ء میں ڈیرہ غازی خان پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح یہ علاقے دربارلاہور کے زیرتسلط آ گئے، سکھ آگے بلوچستان کی طرف پیش قدمی کرنا چاہتے تھے مگر بلوچوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کو ڈیرہ غازی خان سے آگے نہ بڑھنے دیا، اسی دوران ملتان میں خانہ جنگی کے حالات پیدا ہو گئے، سکھ ملتان کی طرف متوجہ ہوئے تو ایک مقامی سردار جس کا نام کوڑا خان تھا ڈیرہ غازی خان پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت انگریز پورے برصغیر میں چھائے ہوئے تھے۔ کوڑا خان نے یہ علاقہ انگریز عملداری میں دے دیا۔ ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں کا الحاق ١٨٧٢ء میں ہوا۔
انگریزوں کی سوسالہ دورحکومت میں ڈیرہ غازی خان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، اس کی پہلے کی سی خوبصورتی باقی نہ رہی۔ مررانی عہدحکومت میں شہر ڈیرہ غازی خان مغربی پنجاب میں ملتان کے بعد سب سے خوبصورت شہر تھا اور صنعت وحرفت کی تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا۔ مررانی عہدحکومت میں زراعت پر خاص توجہ دی گئی تھی اور کئی نہریں بھی کھدوائی گئی تھیں۔ شہر میں ایک قلعہ بھی تعمیر کرایا گیا، مررانی عہد کا وہ شہر ١٩١٠ء میں دریائے سندھ کی موجوں کی نظر ہوا، جس کی پیشین گوئی بہت پہلے کی گئی تھی، اس پیشین گوئی میں یہ ہدایت بھی شامل تھی کہ غازی خان اول اپنا مقبرہ موجودہ ڈیرہ غازی خان میں بنوائے کیونکہ پیشین گوئی کے مطابق نیا شہر مقبرے کے چاروں طرف پھیلے گا اور ایسا ہی ہوا۔ نیا شہر چورہٹہ کے چاروں طرف پھیلا ہوا ہے۔ غازی خان کا مقبرہ چورہٹہ میں آج بھی موجود ہے۔ یہ ہشت پہلو قلعہ نما مقبرہ ہے جس کی اوپر کی دو منزلیں زلزلہ کی وجہ سے گر گئی تھیں، اس مقبرے کے گردا گرد ایک فصیل بنائی گئی تھی اور ایک خوبصورت باغ بھی تھا جو کب کے ختم ہو چکے ہیں، اب اس جگہ قبرستان ہے، کبھی کبھی قبریں کھودتے وقت فصیل کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔ جب مقبرہ تعمیر ہوا تو تقریبا بارہ فٹ اونچا تھا مگر امتداد زمانہ کے باعث یہ چھہ فٹ کے قریب قبرستان سے نیچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فصیل کے آثار اوپر نہیں ملتے۔
موجودہ ڈیرہ غازی خان ١٩١١ء ۔ ١٩١٠ء میں آباد ہوا۔ ڈیرہ غازی خان نہ صرف محل وقوع کے لحاظ سے قلب مملکت کا درجہ رکھتا ہے۔ بلکہ آثار قدیمہ سے بھی بھرا پڑا ہے۔ اگر ان کھنڈرات کی کھدائی کی جائے تو تاریخ کے گم شدہ واقعات مل سکتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے علاوہ ڈیرہ غازی خان معدنی دولت سے بھی مالامال ہے، یہاں کوئلہ جپسم، گندھک، مٹی کا تیل، قدرتی گیس، لوہا، یورینیم، چونے کا پتھر، سرخ پتھر اور کئی قسم کی معدنیات کے وسیع ذخائر دریافت ہو چکے ہیں، غرضیکہ ڈیرہ غازی خان کا یہ علاقہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے قلب پاکستان کہلایا جا سکتا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تاریخ ڈیرہ غازی خان ۔ ١ حصہ اول

Posted on 06/04/2006. Filed under: ڈیرہ نامہ, تاریخ |

اس سے پہلے یہاں ڈیرہ غازی خان کے حوالے ‘سنہرا مستقبل‘ اور ‘حضرت پیر عادل‘ کے عنوان سے لکھا جا چکا ہے، مگر اس میں کچھ باتیں تشنہ طلب تھیں اور پھر تاریخ کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھنا باقی تھا اس تحریر میں ان تمام باتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ضلع ڈیرہ غازی خان اپنے محل وقوع، سندھی، پنجابی، بلوچی اور پٹھانی زبان کے ساتھ علاقائی تہذیبوں کا سنگم ہونے کی وجہ سے پاکستان کی وحدت کا مرکزی نقطہ ہے۔ اس کی اس حیثیت کے باوجود اس علاقے کو اب تک کی حکومتوں نے مسلسل نظرانداز کئے رکھا جس کی وجہ سے یہ ضلع اپنا صحیح مقام حاصل نہیں کر سکا اور ہر معاملے میں پسماندہ ہے، ڈیرہ غازی خان کو قومی اسمبلی میں دو تین دفعہ دارالحکومت بنانے کی تجویز پیش کی گئی، کیونکہ چاروں صوبوں کا مقام اتصال ہونے کے علاوہ بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے مگر افسوس کہ دارالحکومت تو بہت دور کی بات ہے اس ضلع کو اس کے جائز حقوق بھی نہیں دیئے گئے۔ اسلام آباد، آزادکشمیر اور اس کے گردونواع میں آنے والے حالیہ زلزلے کے بعد ایک بار پھر یہ افواہ زیرگردش ہے کہ ڈیرہ غازی خان کو دارالحکومت بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں مگر بات وہی ہے کہ ‘ کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک،۔
ضلع ڈیرہ غازی خان کی عوام نے یہاں کے سیاستدانوں کو عروج تک پہنچایا، فاروق احمد خان لغاری صدارت کی سیٹ پر، ذوالفقار علی خان کھوسہ سینئروزیر پنجاب اور گورنر پنجاب کی سیٹ پر فائز رہے چکے ہیں مگر اس کے باوجود ترقی ڈیرہ غازی خان کو چھو تک نہیں گزری سابق صدر فاروق احمد خان لغاری کے دور میں ڈیرہ غازی خان میں کچھ کام ہوا اس کے بعد سے اب تک ایک طویل خاموشی چھائی ہوئی ہے، جسے صدر پرویز مشرف کی روشن خیالی اور شوکت عزیز کی جدیدیت بھی دور نہ کر سکی۔
یہ تو تھا ڈیرہ غازی خان کا مختصر سا تعارف، اب آئیے ڈیرہ غازی خان کی تاریخ کی طرف۔
ڈیرہ غازی خان کی تاریخ بہت پرانی ہے، اس علاقے میں کئی سوسال پہلے کی تہذیبوں کے آثار اب بھی پائے جاتے ہیں، موہنجوداڑو اور ہڑپہ کی طرح ڈیرہ غازی خان بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے، اس میں موجود کھنڈرات کی اگرچہ کھدائی نہیں ہوئی لیکن اوپر کی تہہ سے حاصل ہونے والی اشیاء کئی ہزار سال پہلے کی داستان سنا رہی ہیں۔
ڈیرہ غازی خان کی باقاعدہ تاریخ اور حوالہ جات سکندراعظم کے حملے سے پہلے کے زمانے کے نہیں ملتے کیونکہ آریاؤں نے یہ علاقے تباہ کر دیئے تھے سکندراعظم کے حملہء ہندوستان کے وقت اس علاقے پر داریوش نامی ہندو بادشاہ کی حکومت تھی، سکندراعظم ہندوستان میں لوٹ مار اور اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد اس علاقے سے گزرا، اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس نے کوٹ مٹھن کے قریب سے دریائے سندھ کو عبور کیا اور ڈیرہ غازی خان میں داخل ہوا۔ ان دنوں ڈیرہ غازی خان کا علاقہ داریوش نے اپنی چہتی بیٹی نوشابہ کو دے دیا تھا، کہا جاتا ہے کہ نوشابہ سکندراعظم کی بیوی بنی۔
سکندراعظم کی واپسی کے دو سال بعد پنجاب اور سندھ میں بغاوت کر کے سکنداعظم کی حکومت ختم کر دی گئی، اس بغاوت کا روح رواں مگدہ کے راجہ کا باغی جرنیل چندرگپت موریا تھا، چندرگپت موریا اس علاقے کا حکمران بن گیا، چندرگپت کے خاندان کی حکومت اس وقت ختم ہو گئی جب حکمران کو اس کے جرنیل پشپامتر نے ١٨٨ ق م میں قتل کر دیا چندرگپت کے خاندان کے بعد تاریخی کڑیاں پھر گم ہو جاتی ہیں لیکن اتنا ضرور پتہ چلتا ہے کہ ١٨٨ق م سے لیکر پانچویں صدی تک اس علاقے میں باختری، یونانی، پارتھین، ساکا، کشان، حیطال، ہن، گوجر، ساسانی اور مانی نام کے خاندانوں کی حکومت رہی۔ مانی خاندان کے خاتمے پر یہ علاقے ایرانی سلطنت میں شامل ہو گئے، پانچویں صدی کے آخر میں ایرانی سلطنت کمزور پڑ گئی جس کی وجہ سے یہاں رائے خاندان نے بغاوت کر کے اس علاقے پر قبضہ کر لیا۔ رائے خاندان کا پایہ تخت ایلور (اروڑ) تھا جس کے کھنڈرات آج بھی جامپور میں داجل کے قریب موجود ہیں۔ رائے خاندان کی حکومت کے وقت ملتان سے لیکر کشمیر تک کے علاقے پر چج نامی خاندان کی حکومت تھی۔ چج حاکم نے آخری رائے حکمران کی رانی سے شادی کر لی اور یوں چج اس علاقے کا حکمران بن گیا یہ واقعہ ٦٣١ء کا ہے۔ چج نے باقی تمام زندگی اس علاقے کی ترقی میں گزاری۔ چج نے اس علاقے پر چالیس سال سے زیادہ عرصہ تک حکمرانی کی۔ چج کے بعد چج کا بھائی چندا اس علاقے کا حکمران بنا۔ چندا کی موت کے بعد اس کا بھتیجا اور چج کا بیٹا داہر حکمران بنا۔ داہر ایک ظالم شخص تھا۔ اس نے عربوں کا ایک جہاز لوٹ لیا، اس پر حجاج بن یوسف ثقفی نے اپنے بھتیجے عمادالدین کو داہر کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ عمادالدین تاریخ میں محمد بن قاسم کے نام سے مشہور ہے۔ محمد بن قاسم نے ٧١١ء میں داہر کا پایہ تخت الور فتح کر لیا، اس طرح برصغیر میں اسلامی مملکت کا قیام عمل میں آیا۔ محمد بن قاسم کو عبدالملک نے بلا بھیجا اور ذاتی عناد کی بنا پر قید میں ڈال دیا اور اسی قید میں ہی برصغیر میں اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھنے والا محمد بن قاسم فوت ہو گیا۔ برصغیر میں اسلامی مملکت کے قیام کے بعد چالیس برس تک سندھ اور اس علاقے کے لئے حکمران بغداد سے آتے رہے کیونکہ امیوں نے اس علاقے پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، لیکن عباسیوں کے سلطنت کے قبضے کے بعد سندھ پر بغدادی حکومت کی گرفت کمزور پڑ گئی، کمزور نظم و نسق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں قرامطی عرب قابض ہو گئے جن کا مرکز ملتان تھا۔ جس وقت سبکتگین غزنی کا حکمران تھا اس وقت اس علاقے پر حمید لودھی کی حکومت تھی۔ حمید لودھی سبکتگین کے خلاف ملتان کی حکومت کی تمام پونجی جے پال کے حوالے کر دیتا اور اس کے ساتھ مل کر سلطنت غزنی کے علاقوں میں لوٹ مار کرتے، تنگ آ کر سبکتگین نے ملتان پر حملہ کر دیا، جےپال کو شکست کا سامنا کرنا پڑااور حمیدلودھی نے خراج کے عوض صلح قبول کر لی۔ اس صلح کے نتیجے میں وہ ہر سال غزنی حکومت کو خراج دیا کرتا تھا لیکن حمیدلودھی کا پوتا ابوالفتح داؤد ہندو راجہ اننگ پال کی حمایت کرنے لگا اور دونوں مل کر محمود غزنوی کے علاقوں میں لوٹ مار مچانا شروع کر دی۔ آخر محمود غزنوی نے ملتان پر حملہ کر دیا، ابوالفتح داؤد بھاگ گیا۔ اہل شہر کو امان ملی، مگر سلطان محمود غزنوی کے حکم پر قرامطیوں کا قتل عام ہوا۔ سلطان نے ملتان کا الحاق غزنی سے کر دیا۔ محمود غزنوی کی وفات کے بعد اس کا بیٹا سلطان محمود حکمران بنا مگر نو سال کے بعد اسے قتل کر دیا گیا اس کے بعد سات حکمران اور بنے مگر سب یکے بعد دیگرے یا تو قتل ہوئے یا طبعی موت مر گئے۔ سلطان شہاب الدین غوری جب حمکران بنا تو اس نے دہلی فتح کر لیا اور ڈیرہ غازی خان کے علاقے کو دہلی کے ساتھ شامل کر لیا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

اے سر زمین ڈیرہ

Posted on 31/10/2005. Filed under: ڈیرہ نامہ, شعروادب |

اے سر زمین ڈیرہ تیڈا جواب کئیں نی
ہر دم رہاویں توں ساوی تیڈی مثال کئیں نی

 

اے وی پوچھی توں میتھوں کیوں گیت تیڈے گاواں
او وجہ ہے کیہری جو تیڈا ناں گہندا رانداں
توں پوچھیں یا نہ پوچھیں میڈا گلا تے کئیں نی

اے سر زمین ڈیرہ تیڈا جواب کئیں نی
ہر دم رہاویں توں ساوی تیڈی مثال کئیں نی

کہیڑی وجہ ہے آخر ول ول تیڈو تانگیداں
اے وی کڈاہیں سوچھ کیوں اداس تھی کے وینداں
توں جانڑیں یا نہ جانڑیں میں ول وی ناراض کئیں نی

اے سر زمین ڈیرہ تیڈا جواب کئیں نی
ہر دم رہاویں توں ساوی تیڈی مثال کئیں نی

اج اپنے دل دی گال تیکوں پیا ڈسیداں
اے راز بہوں ہے گہرا تیڈے اگوں کھولینداں
اتھاں رہندے میڈا دلبر جیندی مثال کئیں نی

اے سر زمین ڈیرہ تیڈا جواب کئیں نی
ہر دم رہاویں توں ساوی تیڈی مثال کئیں نی

اے ہے میڈا دلبر اے میڈا پیار ہے
اے ہے میڈی زندگی دا گہنا اے میڈے گل دا ہار ہے
ایکوں پرواہ ہے میڈی، میکوں پرواہ ہے ایندی بھل تیکوں پرواہ کئیں نی

اے سر زمین ڈیرہ تیڈا جواب کئیں نی
ہر دم رہاویں توں ساوی تیڈی مثال کئیں نی

اے حسن دا مجسمہ رب دا حسیں شاہکار ہے
اینجھا حسیں ہے جیندا حسن لازوال ہے
رب دی قسم ہے میکوں مکروفریب کئیں نی

اے سر زمین ڈیرہ تیڈا جواب کئیں نی
ہر دم رہاویں توں ساوی تیڈی مثال کئیں نی

ایں جہیاں حسین دلبر دنیا دے وچ ٹیٹھا نیئں
بے موت میں مر ویندا جو ملدا نہ اے کدائیں
اے جو ملیا ہے میکوں ہن دل وی اداس کئیں نی

اے سر زمین ڈیرہ تیڈا جواب کئیں نی
ہر دم رہاویں توں ساوی تیڈی مثال کئیں نی

طاہر جیکر جسم ہے تے اے اوندی جان ہے
جے نہ ہووے کفر تے اے اوندا دین ایمان ہے
محبت جے ہووے سچی رب وی ناراض کئیں نی

اے سر زمین ڈیرہ تیڈا جواب کئیں نی
ہر دم رہاویں توں ساوی تیڈی مثال کئیں نی

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر اگلے‌ تحاریر»

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...