آرٹیکل6

Posted on 18/08/2009. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , |

آجکل میڈیا میں ہر طرف آرٹیکل ٦ کا چرچہ ہو رہا ہے، پاکستانی قارئین کے لئے آڑٹیکل ٦ کے نکات یہاں پیشِ خدمت ہیں تاکہ انہیں آرٹیکل ٦ کو سمجھنے اور حالات جائزہ لینے میں آسانی ہو۔

آئین کے آرٹیکل٦ کے تحت آئین توڑنے اس اقدام میں معاونت کرنے والے ریاست کیخلاف بغاوت کے مجرم تصور کئے جائیں گے اور سب اس جرم میں برابر کے شریک ہونگے، جس کی سزا پارلیمنٹ کی منظوری پر عمر قید یا موت تجویزکی گئی ہے۔

آئین کے آرٹیکل ٦ کے تحت آئین توڑنے اس اقدام میں معاونت کرنے والے ریاست کیخلاف بغاوت کے مجرم تصور کئے جائیں گے اور سب اس جرم میں برابر کے شریک ہونگے، جس کی سزا پارلیمنٹ کی منظوری پر عمر قید یا موت تجویزکی گئی ہے۔

شق ٦ پر عمل کیلئے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے تحت سنگین بغاوت کے اس مقدمہ کی سماعت سپریم کورٹ کے بجائے سیشن عدالت سننے کی مجاز ہے جبکہ آئینی ماہرین اس تاثر کی تردید کرتے ہیں کہ سنگین بغاوت کے مقدمہ کی تیاری اور اس کی پیروی کیلئے مطلوبہ قواعد و ضوابط موجود نہیں ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سنگین بغاوت کی سزاکے قانون کے ذریعے پارلیمنٹ نے مقدمہ درج کئے جانے کی تمام تفصیل طے کر دی ہے۔

آئین میں آرٹیکل ٦ کی تین ضمنی دفعات بھی درج ہیں۔

اول: کوئی فرد جو آئین منسوخ کرے یاایسا کرنے کی کوشش کرے، آئین کو توڑے یا ایسا کرنے کی سازش کرے، طاقت کے ذریعے، طاقت دکھا کر یاکسی دوسرے غیر آئینی طریقے سے آئین توڑے وہ سنگین بغاوت کا مجرم ہو گا۔

دوم: ایسا شخص جو شق ایک میں درج اقدام میں مددیاتعاون کرے وہ بھی سنگین بغاوت کا مجرم تصور کیا جائیگا۔

سوم: مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے تحت سزا تجویز کریگی ۔ اس ایکٹ پر عمل کرنے میں صرف ایک سقم باقی ہے اور وہ یہ کہ اس ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت کو اپنے ایک افسر کو یہ شکائت یا مقدمہ درج کرانے کیلئے نامزد کرنا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چند منٹ کا کام ہے اگر حکومت چاہے تو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن یا کسی دوسرے افسر کو شکائت کنندہ مقرر کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ناصر اسلم زاہد کے مطابق اس ضمن میں بننے والے قانون کے تحت اگر کسی فرد یا افراد کے خلاف آئین کی شق ٦ کے تحت کارروائی مقصود ہو تو اس کے خلاف مقدمہ یا شکائت درج کرانے کا اختیار صرف وفاقی حکومت کو حاصل ہے اس حوالے سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی یہ دلیل کہ عدالت اس آرٹیکل کے تحت کسی کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں رکھتی۔

١٤ اگست ١٩٧٣ء کو آئین کی منظوری کے بعد اس پر عمل کیلئے قانونی ڈھانچے کی تشکیل بھی فوری طور پر شروع کر دی گئی تھی اورپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد ٢٦ ستمبر کو صدر مملکت نے سنگین بغاوت کی سزا کے قانون پر دستخط بھی کر دئیے تھے آئین کی اس شق پر عملدرآمد کیلئے بنائے گئے سنگین بغاوت کی سزا کے قانون ١٩٧٣ءکی بھی تین ذیلی شقیں ہیں۔

i۔ اس قانون کا نام سنگین بغاوت کی سزا کا قانون ہو گا

ii۔ ایسا شخص جو اس وقت ملک میں نافذ آئین کو توڑنے یا ایسا کرنے کی کوشش یا سازش کرنے کے جرم کا مرتکب ہو اس کی سزا عمر قید یا موت ہو گی، یہاں پر آئین سے مراد مارچ ١٩٥٦ءکے بعد لاگو ہونیوالے تمام آئین ہیں۔

iii۔ کوئی عدالت اس قانون کے تحت اس وقت تک کارروائی نہیں کرسکتی جب تک اس جرم کے واقعہ ہونے کی تحریری شکائت کسی ایسے فرد کی جانب سے متعلقہ سیشن عدالت میں دائر نہ کی جائے جسے وفاقی حکومت نے ایسا کرنے کا اختیار دیا ہو۔

جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد کے مطابق قانون کی یہ شق اس سزا پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ ہے انہوں نے تجویز پیش کی کہ عدالت کے ذریعے حکومت کو اس افسرکی نامزدگی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ سابق جج کا کہنا ہے کہ اس شق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی عام شہری سنگین بغاوت کے جرم کی شکائت نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی پاکستانی شہری اس جرم کے واقعہ ہونے کی تصدیق کر سکتا ہے۔ لیکن وہ یہ شکائت عدالت کے بجائے وفاقی حکومت کے پاس جمع کرائے گا، جو اپنے نامزد کردہ افسر کے ذریعے یہ شکائت عدالت کے پاس لے جا سکتی ہے۔

ناصر اسلم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ شکائت عدالت میں نہ لے جانے پر شکائت کرنے والا شہری یہ معاملہ عدالت میں لے جا سکتا ہے، جیسا کہ اکثر پولیس کی طرف سے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر پر کوئی شہری عدالت سے رجوع کر سکتا ہے اور عدالتی مداخلت پر ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہے سنگین بغاوت کے جرم میں بھی ایسا ممکن ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ایسی صورت میں بھی سپریم کورٹ کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ ابتدائی طور پر یہ درخواست سیشن عدالت میں ہی دائر کی جائیگی البتہ اپیل کے عمل میں معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
بشکریہ اردو ٹائمز

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

سائبر کرائم ویب

Posted on 09/11/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس, موبائیل زون, ٹیکنالوجی | ٹيگز:, , , , |

سائبر کرائم آرڈیننس کے ساتھ ہی حکومت پاکستان نے ہیکنگ اور کریکنگ حملوں کی روک تھام اور اس میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لئے سائبر کرائم کی ایک ویب سائٹ لانچ کی ہے۔ اس سائٹ پر سائبر کرائم کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے۔ گو کہ اس سائٹ پر ابھی کام جاری ہے مگر اس پر ایک پسندیدہ یا ناپسندیدہ کام یہ ہوا ہے کہ اس پر سائبر کرائم کا نشانہ بننے والوں کے لئے ایک عدد فارم رکھا گیا جسے Incident Reporting Form  کا نام دیا گیا ہے۔ اگر آپ کسی قسم کی ہیکنگ یا کریکنگ کا نشانہ بنے ہیں یا آپ کے کمپیوٹر، نیٹورک یا ویب سائٹ پر کسی ہیکر نے حملہ کر کے نقصان پہنچایا ہے یا آپ کو غلط قسم کی کوئی میل موصول ہوئی ہے تو آپ یہ فارم بھر کر اپنا کیس ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔ متعلقہ محکمہ اس رپورٹ کی روشنی میں ہیکرز یا کریکرز کو پکڑنے کی پوری کوشش کرے گا۔
اس ویب پر ہیکنگ اور کریکنگ سے بچاؤ، کاپی رائٹ اور سائبر کرائم کے متعلق قانونی معلومات کے علاوہ ڈاؤنلوڈ کے لئے بےپناہ مواد موجود ہے۔ جسے پڑھنے کے بعد آپ اپنے کمپیوٹر، کریڈٹ کارڈ، ڈیٹا، ویب سائٹ اور ایمیل اکاؤنٹ کی حفاظت بخوبی کر سکتے ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

مشتری ہوشیار باش!

Posted on 08/11/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , |

موجودہ حکومت نے سائبر کرائم آرڈیننس کی تجدید کر دی ہے واضع رہے کہ اس آرڈیننس کو سابق صدر پرویز مشرف نے جاری کیا تھا۔ اب اس تجدید شدہ آرڈیننس کے تحت ایف آئی اے کسی شخص، ادارے کا سسٹم، موبائل، کیمرہ شک کی بنیاد پر تحویل میں لے سکتا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت حکومت نے ٢١ جرائم کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
ان ٢١ جرائم میں چند ایک یہ ہیں۔
بغیر اجازت کسی کی تصویر کھینچنا
انٹرنیٹ یا موبائل کی مدد سے کسی کو ایسا پیغام بھیجنا جسے ناپسندیدہ، غیراخلاقی اور بیہودہ سجمھا جائے۔ (اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ آیا واقعی یہ پیغام غیر اخلاقی ہے یا نہیں اور ناپسندیدہ والی بات سمجھ سے باہر ہے)
ایسی ای میل جس کو وصول کرنے والے نے خواہش نہ کی ہو (سبھی نیٹ یوزر جیل جانے کی تیاری کس لو)
مہلک ہتھیاروں کے بارے میں انٹرنیٹ سے خفیہ معلومات نقل کرنا یا چرانا
سائبر کرائم آرڈیننس کے تحت ان ٢١ مختلف جرائم کے لئے تین سے دس سال قید، بھاری جرمانے اور عمر قید کے علاوہ موت کی سزا بھی شامل ہے اور ان میں کئی ناقابل ضمانت ہیں۔ اس پر عملدرآًمد کا اختیار ایف آئی اے کو دیا گیا جو پہلے ہی اپنی اچھی شہرت کی وجہ سے کافی مشہور ہے۔ اور اب سونے پہ سہاگہ ان لامحدود اختیارات کے ساتھ دیکھیں اس قانون پر کب، کہاں، کیسے اور کس حد تک عمل ہوتا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

سائبر کرائم آرڈیننس

Posted on 11/01/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس, ٹیکنالوجی, پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق سائبر کرائم آرڈیننس نافذکر دیا گیا ہے جو  دسمبر 2007ء سے نافذ العمل ہوگا۔ اس سلسلے میں نگران وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے کہا ہے کہ سائبر کرائم آرڈیننس نافذکر دیا گیا ہے جس کے تحت سنگین نوعیت کے جرائم کمپیوٹر سے ایٹمی اثاثہ جات کو ہیک کر کے نقصان پہنچانے، دہشت گردی اور فراڈ سمیت موبائل فون کے ذریعے کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے جرائم پر زیادہ سے زیادہ موت کی سزا دی جا سکے گی،انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات بھی جرائم میں شامل ہوں گے۔ سائبر کرائم کی سماعت کیلئے 7 رکنی ٹربیونل اگلے ماہ قائم کر دیا جائے گا اورجن ممالک کے ساتھ معاہدہ موجود ہے، ان سے سائبر کرائم کے مرتکب مجرمان کا تبادلہ کیا جا سکے گا۔ جوہری اثاثہ جات، آبدوزوں، طیاروں کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کو ہیک کر کے نقصان پہنچانے سمیت سنگین نوعیت کی دہشت گردی پر موت کی سزا دی جا سکے گی جبکہ 18 نوعیت کے مقدمات کا احاطہ کیا گیا جن پر ٹربیونل سزائیں دے سکے گا۔ ان جرائم کی تشریح بہت وسیع ہے جس میں سائبر سے متعلق تمام نوعیت کے جرائم کا احاطہ ہو جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جن جرائم کی ٹربیونل سماعت کریگا، ان میں کمپیوٹر کے ذریعے کسی دوسرے کے کمپیوٹر تک رسائی، ڈیٹا تک رسائی، ڈیٹا کو نقصان پہنچانا، سسٹم کو نقصان پہنچانا، آن لائن فراڈ کرنا جن میں جعلی اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے رقوم نکلوانا اور دوسروں کے کارڈز کے کوڈ استعمال کرنا، الیکٹرونک سسٹم یا آلات کا غلط استعمال، کمپیوٹر اور دیگر آن لائن آلات کے کوڈ تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے، اینکرپشن کا غلط استعمال، کسی کا کوڈ بدنیتی کی بنا پر استعمال کرنا، سائبرا سٹاکنگ، اسپامنگ، اسپوفنگ، بلااجازت مداخلت کرنا، سائبر دہشت گردی میں شامل ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے کہا کہ دنیا بھر کے 41 ممالک میں سائبر کرائمز قوانین نافذ ہیں پاکستان 42 واں ملک بن گیا ہے جبکہ اس قانون پر عملدرآمد کیلئے 60 سے زیادہ ممالک سے تعاون حا صل کیا جاسکے گا۔ ایف آئی اے کا سائبر کرائمز ونگ اس قانون کے تحت مقدمات کا اندراج تحقیقات اور پیروی کی ذمہ داری نبھائے گا۔ سینئر مشیر شریف الدین پیرزادہ کی سربراہی میں کمیٹی نے سفارشات پیش کی ہیں ان کی روشنی میں سات رکنی انفارمیشن کمیونیکشن ٹربیونل قائم ہوگا جس میں سیشن جج کی سطح کے ارکان ہونگے۔ ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جاسکے گی جبکہ سپریم کورٹ میں ایسے مقدمات کی سماعت کا نظام وضع کیا جائیگا جو ایک ماہ کے اندر قائم کر دیا جائیگا۔ صدر پرویز مشرف کے حکم پر سائبر کرائمز آرڈیننس 31 دسمبر 2007ء سے نافذ العمل ہوگا۔ وفاقی وزیر عبداللہ ریاڑ نے بتایا کہ جرائم میں کمپیوٹرز کے ذریعے معلومات ڈیٹا چوری کرنا ویب سائٹس کو نقصان پہنچانا اور خفیہ دستاویزات تک رسائی جیسے جرائم شامل ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عبوری آئینی حکم 2007ء کا متن

Posted on 04/11/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , |

چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ہفتہ کے روز عبوری آئینی فرمان جاری کیا گیا ہے، جس کا متن حسب ذیل ہے۔

”حکم نامہ 3 نومبر 2007ء  کی پیروی اور اس ضمن میں حاصل تمام اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف نے 3 نومبر 2007ء کے ہنگامی حالت کے فرمان کے تحت درج ذیل حکمنامہ جاری اور نافذ کیا ہے۔

(1) اس حکم کو عبوری آئینی حکمنامہ نمبر (1) آف 2007ء کہا جائے گا۔
(2) یہ پورے پاکستان پر محیط ہوگا۔
(3) یہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

(1) اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعات کے التواء کے باوجود پاکستان کا نظم و نسق اس حکم اور صدر مملکت کی جانب سے جاری کیے جانے والے کسی دوسرے حکم کے تابع جس حد تک بھی ممکن ہوا، آئین کے مطابق چلایا جائے گا۔
بشرطیکہ، صدر مملکت وقتاً فوقتاً حکم کے ذریعے آئین میں ضروری سمجھی جانے والی ترمیم کر سکیں گے۔
بشرطیکہ، آرٹیکلز 9,10,15,16,17,19 اور 25 کے تحت بنیادی حقوق معطل رہیں گے۔
(2) باوجود یہ کہ3 نومبر 2007ء کے حکمنامے یا اس حکم یا نافذ کیے جانے والے کسی اور قانون میں بیان کردہ کوئی چیز، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آرٹیکلز2 2A, 31, 203A سے,203J 227  سے 231 اور 260 (3) a اور(b) سمیت اسلامی احکامات کی حامل تمام شقیں نافذ العمل رہیں گی۔
(3) حکمنامے کی کلاز(1) اور عہدے (ججز)کے حلف حکمنامہ 2007ء سے مشروط اس آرڈر کے نفاذ سے قبل موجود تمام عدالتیں کام کرتی رہیں گی اور اپنے متعلقہ اختیارات اور دائرہ اختیار کو بروئے کار لاتی رہیں گی۔ بشرطیکہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ اور کسی دیگر عدالت کو صدر مملکت وزیراعظم یا ان کی اتھارٹی کے تحت اختیارات بروئے کار لانے والے کسی اور شخص کے خلاف کوئی حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔
(4) تمام افراد جو اس حکمنامے کے نفاذ سے فوری قبل سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت یا ہائیکورٹ کے ججز کی حیثیت سے عہدے پر تھے، عہدے (ججز) کے حلف آرڈر 2007ء اور صدر کی طرف سے جاری کئے جانے والے ایسے کسی مزید حکم کے تحت اور تابع ہونگے۔
(5) کلاز (1) سے مشروط مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیاں کام کرتی رہیں گی۔
(6) تمام افراد، جو اس حکم کے نفاذ سے عین قبل وفاق یا کسی صوبے بشمول آل پاکستان سروس، مسلح افواج میں سروس اور سروس آف پاکستان یا مجلس شوریٰ کے ایکٹ یا صوبائی اسمبلی یا چیف الیکشن کمشنر یا آڈیٹر جنرل قرار دی جانے والی کوئی اور سروس کے حوالے سے کسی سروس، عہدے یا منصب پر تھے، انہی شرائط پر مذکورہ خدمات سر انجام دیتے رہیں گے اور انہیں وہی مراعات حاصل ہونگی جب تک کہ صدر کے احکامات کے تحت تبدیل نہیں کی جاتیں۔

(1) سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت اور ہائیکورٹس سمیت کوئی بھی عدالت یا کوئی ٹربیونل یا کوئی اور اتھارٹی اس حکم، 3 نومبر 2007ء کے ہنگامی حالت کے نفاذ، عہدے (ججز) کے حلف حکمنامہ 2007ء یا اس حوالے سے جاری کردہ کسی اور حکم پر سوال نہیں اٹھائے گی اور نہ ہی اس کی اجازت دیگی۔
(2) صدر، وزیراعظم یا صدر کی طرف سے نامزد کی جانے والی کسی اتھارٹی کے خلاف کسی عدالت یا ٹربیونل کی طرف سے کوئی فیصلہ، ڈگری، حکم یا کارروائی نہیں کی جائیگی۔

(1) آئین کی دفعات کے التواء کے باوجود لیکن صدر کے احکامات سے مشروط آئین کے علاوہ تمام قوانین، تمام آرڈیننس، آرڈرز، رولز، بائی لاز، ریگولیشنز، نوٹیفکیشنز اور دیگر قانونی دستاویزات جو پاکستان کے کسی حصے میں نافذ العمل ہوں خواہ صدر یا کسی صوبے کے گورنر کی طرف سے جاری کی گئی ہوں، صدر یا ان کی نامزد کردہ کسی شخصیت کی طرف سے تبدیلی، ترمیم یا منسوخی تک نافذ العمل رہیں گی۔

(1) صدر یا کسی صوبے کے گورنر کی طرف سے نافذ کردہ کوئی آرڈیننس آئین میں مقرر کردہ دورانیے کے حوالے سے کسی تحدید سے مشروط نہیں ہوگا۔
(2) کلاز(1) کی شقیں صدر یا گورنر کی جاری کردہ کسی آرڈیننس جو 3 نومبر 2007ء کے ہنگامی حالت کے نفاذ سے فوری پہلے نافذ العمل تھا، پر بھی لاگو ہونگی۔
بشکریہ روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر ٢٠ مجریہ ١٩٨٤ء

Posted on 07/09/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , |

١٩٨٤ء میں جنرل ضیاءالحق مرحوم کے دور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبہ پر جنرل ضیاءالحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس کی رو سے قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے سے روکا گیا۔ اس طرح مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، سیاسی جماعتوں کی شراکت عام مسلمانوں کی قربانیوں سے اللہ تعالٰی نے اس مسئلہ کو حل کیا۔ اس کا تمام تر سہرا اور کریڈٹ عام مسلمانوں کو جاتا ہے جو آج بھی عقیدہ ختم نبوت پر جان نچھاور کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

سلام ہے ختم نبوت کے ان پروانوں پر

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر ٢٠ مجریہ ١٩٨٤ء
قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کرنے کا آرڈیننس
چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے۔
اور چونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بنا پر فوری کاروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
لہذا اب ٥ جولائی ١٩٧٧ کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا۔

حصہ اول ابتدائیہ

١۔مختصر عنوان اور آغاز نفاذ
(١) یہ آرڈیننس قدیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیاں (امتناع و تعزیر) آرڈیننس ١٩٨٤ء کے نام سے موسوم ہو گا۔
(٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔

٢۔ آرڈیننس عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غالب ہو گا۔
اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود موثر ہوں گے۔

حصہ دوم

مجموعہ تعزیرات پاکستان
(ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) کی ترمیم
٣۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعات ٢٩٨۔ب اور ٢٩٨۔ج کا اضافہ
مجموعہ تعزیراتپاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥، ١٨٦٠ء میں باب ١٥ میں، دفعہ ٢٩٨ الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا یعنی ۔۔۔
٢٩٨۔ب بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لئے
مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال
(١) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے۔
(الف) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیرالمومنین، خلیفتہ المومین، خلیفتہ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے طور پر منوب کرے یا مخاطب کرے۔
(ب) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ کے علاوہ کسی ذات کو ام المومنین کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
(ج) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان (اہل بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل بیت کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے یا۔
(د) اپنی عبادت گاہ کو ‘مسجد‘ کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے۔
تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

(٢) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری، یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہو گا۔

٢٩٨۔قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے
قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاوسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کی مذہبی احساسات کو مجروح کرے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

٤۔ ایکٹ نبر ٥ بابت ١٨٩٨ء کی دفعہ ٩٩۔الف کی ترمیم
مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) میں جس کا حوالہ بعدازیں مذکورہ مجموعہ کے طور پر دیا گیا ہے دفعہ ٩٩، الف میں، ذیلی دفعہ (١) میں
(الف) الفاظ اور سکتہ ‘اس طبقہ کے‘ کے بعد الفاظ، ہند سے، قوسین، حروف اور سکتے اس نوعیت کا کوئی مواد جا کا حوالہ مغربی پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس ١٩٦٣ء کی دفعہ ٢٤ کی ذیلی دفعہ (١) کی شق (ی ی ) میں دیا گیا ہے شامل کر دئیے جائیں گے، اور
(ب) ہندسہ اور حرف ‘٢٩٨۔الف کے بعد الفاظ، ہندسے اور حرف‘ یا دفعہ ٢٩٨۔ب یا دفعہ ٢٩٨۔ج‘ شامل کر دئیے جائیں گے۔ یعنی ۔۔

 

8 7 6 5 4 3 2 1
ایضاً تین سال کےلئے کسی ایک قسم کی سزائے قید اور جرمانہ ایضاً ناقابل ضمانت ایضاً ایضاً بعض مقدس شخصیات کےلئے مخصوص القاب، اوصاف اور خطابات وغیرہ کا نا جائز استعمال ٢٩٨۔ب
ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے ٢٩٨۔ج

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

امتناع قادیانیت بل

Posted on 07/09/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , |

١٩٧٤ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے تحریک ختم نبوت کو دبانے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی جس کے بعد قومی اسمبلی کو خصوصی کیمٹی کا درجہ دیا اور اس مسئلہ پر بحث شروع کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو قومی اسمبلی میں بلایا گیا، ان کا بیان ہوا، مولانا مفتی محمود نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اٹارنی جنرل یحٰیی بختیار کے ذریعہ جرح کی۔ مرزا ناصر نے واضح طور پر اعلان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لاہوری گروہ کے مرزا صدرالدین کو بلا گیا ان دونوں پر تقریبا ١٣ دن جرح ہوئی بالآخر قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کر لی۔ اس طرح ٧ستمبر ١٩٧٤ء وہ تاریخی دن قرار پایا جب نوے سالہ پرانا مسئلہ حل ہوا۔ امت مسلمہ نے سکون کا سانس لیا اور عقیدہ ختم نبوت کو فتح و بلندی عطا ہوئی۔مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور اپوزیشن کے درج ذیل افراد کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے قادیانوں کو غیر مسلم اقیلت قرار دینے کی قرارداد پیش کی ۔۔۔۔
نام درج ذیل ہیں۔
مولانا مفتی محود، مولانا عبدالمصطفٰی ازہری، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، پروفیسر غفور احمد، مولانا سید محمد علی رضوی، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، چوہدری ظہور الہی، سردار شیرباز خان مزاری، مولاناظفر احمد انصاری، عبدالحمید خان جتوئی، صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری، محمود اعظم فاروقی، مولانا صدر الشہید، مولانا نعمت اللہ، عمرہ خان، مخدوم نور محمد، جناب غلام فاروق، سردار مولا بخش سومرو، سردار شوکت حیات خان، حاجی علی احمد تالپور، راؤ خورشید علی خان، رئیس عطا محمد خان مری
بعد میں درج ذیل افراد نے بھی تائیدی دستخط کئے۔
نوابزادہ میاں ذاکر قریشی، غلام حسن خان، کرم بخش اعوان، صاحبزادہ محمد نذر سلطان، میر غلام حیدر بھروانہ، میاں محمد ابراہیم برق، صاحبزادہ صفی اللہ، صاحبزادہ نعمت اللہ خان شنواری، ملک جہانگیر خان، عبدالسبحان خان، اکبر خان مہمند، میجر جنرل جمالدار، حاجی صالح خان، عبدالمالک خان، خواجہ جمال محمد گوریجہ۔

اپوزیشن کی جانب سے پیش ہونے والی قرارداد

جناب سپیکر
قومی اسمبلی پاکستان
محترمی!
ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے اجازت چاہتے ہیں۔
ہرگاہ کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعوٰی کیا، نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف ورزی تھیں۔
نیز ہر گاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔
نیز ہرگاہ کہ پوری اُمت مسلمہ کو اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کہ نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہمنا کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
نیز ہرگاہ کہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے۔ مسلمانوں کے گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
نیز ہرگاہ کہ عالمی تنظیموںکی ایک کانفرنس میں جو مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ عالم اسلامی کے زیرانتظام ٦ اور ١٠ اپریل ١٩٧٤ء کے درمیان منقعد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے ١٤٠ مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی، متفقہ طور پر رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہے۔
اب اس کو یہ اعلان کرنے کی کاروائی کرنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ مومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو موثر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔

٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو منظور ہونے والی تاریخی ترمیم
قومی اسمبلی کے کل ایوان پر مشتمل خصوصی کیمٹی متفقہ طور پر طے کرتی ہے کہ حسب ذیل سفارشات قومی اسمبلی کو غور اور منظوری کے لئے بھیجی جائیں۔
کل ایوان کی خصوصی کیمٹی اپنی رہمنا کیمٹی اور ذیلی کیمٹی کی طرف سے اس کے سامنے پیش یا قومی اسمبلی کی طرف سے اس کو بھیجی گئی قراردادوں پر غور کرنے دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور گواہوں بشمول سربراہان انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو حسب ذیل سفارشات پیش کرتی ہے۔
(الف) کہ پاکستان کے آئین میں حسب ذیل ترمیم کی جائے۔
(اول) دفعہ ١٠٦ (٣) میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر کیا جائے۔
(دوم) دفعہ ٢٦٠ میں ایک نئی شق کے ذریعے غیر مسلم کی تعریف درج کی جائے مذکورہ بالا سفارشات کے نفاذ کے لئے خصوصی کیمٹی کی طرف سے متفقہ طور پر مسودہ قانون منسلک ہے۔

(ب) کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٢٩٥ الف میں حسب حسب ذیل تشریح درض کی جائے۔
تشریح:- کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ٢٦٠ کی شق (٣) کی تصریحات کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہو گا۔

(ج) کہ متفقہ قوانین مثلا قومی رجسٹریشن ایکٹ ١٩٧٣ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد ١٩٧٤ء میں منتنحبہ اور ضابطہ کی ترمیمات کی جائیں۔

(ہ) کہ پاکستان کے تمام شہریوں خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، کے جان و مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔

(قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کے لئے)
آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مزید ترمیم کرنے کا بل
ہرگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعدازاں درج ذیل اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔
لہذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔
١۔ مختلف عنوان اور آغاز نفاظ
(١) یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوم) ایکٹ ١٩٧٣ء کہلائے گا۔
(٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔

٢۔ آئین کی دفعہ ١٠٦ کی شق (٣) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ‘اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں)‘ درج کئے جائیں گے۔

٣۔ آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ترمیم، آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں شق (٢) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائے گی یعنی ‘ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعوٰی کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا نبی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...