آرٹیکل6

Posted on 18/08/2009. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , |

آجکل میڈیا میں ہر طرف آرٹیکل ٦ کا چرچہ ہو رہا ہے، پاکستانی قارئین کے لئے آڑٹیکل ٦ کے نکات یہاں پیشِ خدمت ہیں تاکہ انہیں آرٹیکل ٦ کو سمجھنے اور حالات جائزہ لینے میں آسانی ہو۔

آئین کے آرٹیکل٦ کے تحت آئین توڑنے اس اقدام میں معاونت کرنے والے ریاست کیخلاف بغاوت کے مجرم تصور کئے جائیں گے اور سب اس جرم میں برابر کے شریک ہونگے، جس کی سزا پارلیمنٹ کی منظوری پر عمر قید یا موت تجویزکی گئی ہے۔

آئین کے آرٹیکل ٦ کے تحت آئین توڑنے اس اقدام میں معاونت کرنے والے ریاست کیخلاف بغاوت کے مجرم تصور کئے جائیں گے اور سب اس جرم میں برابر کے شریک ہونگے، جس کی سزا پارلیمنٹ کی منظوری پر عمر قید یا موت تجویزکی گئی ہے۔

شق ٦ پر عمل کیلئے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے تحت سنگین بغاوت کے اس مقدمہ کی سماعت سپریم کورٹ کے بجائے سیشن عدالت سننے کی مجاز ہے جبکہ آئینی ماہرین اس تاثر کی تردید کرتے ہیں کہ سنگین بغاوت کے مقدمہ کی تیاری اور اس کی پیروی کیلئے مطلوبہ قواعد و ضوابط موجود نہیں ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سنگین بغاوت کی سزاکے قانون کے ذریعے پارلیمنٹ نے مقدمہ درج کئے جانے کی تمام تفصیل طے کر دی ہے۔

آئین میں آرٹیکل ٦ کی تین ضمنی دفعات بھی درج ہیں۔

اول: کوئی فرد جو آئین منسوخ کرے یاایسا کرنے کی کوشش کرے، آئین کو توڑے یا ایسا کرنے کی سازش کرے، طاقت کے ذریعے، طاقت دکھا کر یاکسی دوسرے غیر آئینی طریقے سے آئین توڑے وہ سنگین بغاوت کا مجرم ہو گا۔

دوم: ایسا شخص جو شق ایک میں درج اقدام میں مددیاتعاون کرے وہ بھی سنگین بغاوت کا مجرم تصور کیا جائیگا۔

سوم: مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے تحت سزا تجویز کریگی ۔ اس ایکٹ پر عمل کرنے میں صرف ایک سقم باقی ہے اور وہ یہ کہ اس ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت کو اپنے ایک افسر کو یہ شکائت یا مقدمہ درج کرانے کیلئے نامزد کرنا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چند منٹ کا کام ہے اگر حکومت چاہے تو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن یا کسی دوسرے افسر کو شکائت کنندہ مقرر کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ناصر اسلم زاہد کے مطابق اس ضمن میں بننے والے قانون کے تحت اگر کسی فرد یا افراد کے خلاف آئین کی شق ٦ کے تحت کارروائی مقصود ہو تو اس کے خلاف مقدمہ یا شکائت درج کرانے کا اختیار صرف وفاقی حکومت کو حاصل ہے اس حوالے سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی یہ دلیل کہ عدالت اس آرٹیکل کے تحت کسی کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں رکھتی۔

١٤ اگست ١٩٧٣ء کو آئین کی منظوری کے بعد اس پر عمل کیلئے قانونی ڈھانچے کی تشکیل بھی فوری طور پر شروع کر دی گئی تھی اورپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد ٢٦ ستمبر کو صدر مملکت نے سنگین بغاوت کی سزا کے قانون پر دستخط بھی کر دئیے تھے آئین کی اس شق پر عملدرآمد کیلئے بنائے گئے سنگین بغاوت کی سزا کے قانون ١٩٧٣ءکی بھی تین ذیلی شقیں ہیں۔

i۔ اس قانون کا نام سنگین بغاوت کی سزا کا قانون ہو گا

ii۔ ایسا شخص جو اس وقت ملک میں نافذ آئین کو توڑنے یا ایسا کرنے کی کوشش یا سازش کرنے کے جرم کا مرتکب ہو اس کی سزا عمر قید یا موت ہو گی، یہاں پر آئین سے مراد مارچ ١٩٥٦ءکے بعد لاگو ہونیوالے تمام آئین ہیں۔

iii۔ کوئی عدالت اس قانون کے تحت اس وقت تک کارروائی نہیں کرسکتی جب تک اس جرم کے واقعہ ہونے کی تحریری شکائت کسی ایسے فرد کی جانب سے متعلقہ سیشن عدالت میں دائر نہ کی جائے جسے وفاقی حکومت نے ایسا کرنے کا اختیار دیا ہو۔

جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد کے مطابق قانون کی یہ شق اس سزا پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ ہے انہوں نے تجویز پیش کی کہ عدالت کے ذریعے حکومت کو اس افسرکی نامزدگی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ سابق جج کا کہنا ہے کہ اس شق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی عام شہری سنگین بغاوت کے جرم کی شکائت نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی پاکستانی شہری اس جرم کے واقعہ ہونے کی تصدیق کر سکتا ہے۔ لیکن وہ یہ شکائت عدالت کے بجائے وفاقی حکومت کے پاس جمع کرائے گا، جو اپنے نامزد کردہ افسر کے ذریعے یہ شکائت عدالت کے پاس لے جا سکتی ہے۔

ناصر اسلم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ شکائت عدالت میں نہ لے جانے پر شکائت کرنے والا شہری یہ معاملہ عدالت میں لے جا سکتا ہے، جیسا کہ اکثر پولیس کی طرف سے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر پر کوئی شہری عدالت سے رجوع کر سکتا ہے اور عدالتی مداخلت پر ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہے سنگین بغاوت کے جرم میں بھی ایسا ممکن ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ایسی صورت میں بھی سپریم کورٹ کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ ابتدائی طور پر یہ درخواست سیشن عدالت میں ہی دائر کی جائیگی البتہ اپیل کے عمل میں معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
بشکریہ اردو ٹائمز

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...