حقیقت، قومِ پاکستان

Posted on 16/08/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے، جس کو نہ تو بھلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اُسکا انکار ممکن ہے۔ حقیقت کو سمجھنے کے لیئے یہ خود ایک حقیقت ہے۔ پاکستان نہ تو کوئی فرضی داستان ہے اور نہ ہی کوئی فرضی حد بندی۔ یہ ایک ایسا وجود ہے، جسکا تسلیم کیا جانا ہی حقیقت کا آغاز ہے۔ اس کی حقیقت کو سمجھنے کے لیئے تحریک پاکستان کو سمجھنا ضروری ہے۔
حقیقت کیا ہے؟ یہ راز کھولتی ہے۔ حقائق سے جب پردہ اُٹھتا ہے تو نئے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت اصلیت ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی تسیلم ہوجانا حقیقت ہی ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے، مانیں یا نہ مانیں؛ جو بات دِل پر اثر کر جائے تو ایسی بات کچھ نہ کچھ وزن تو رکھتی ہے۔
نظریہ پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے؛ جس کے حقائق کو جان لینا؛ ہر پاکستانی کیلیئے لازم ہے۔ یہ وُہ نظریہ ہے؛ جس کی حد محدود نہیں، اِسکا نقطہ نظر سوچ کو وسعت کے ساتھ بصیرت بھی عطاء کرتا ہے۔ جسکا ہر پہلو حقیقی و عملی ہے؛ اسکے ہر معاملہ کے پیچھے صرف وسیع ترمعنٰی پنہاں نہیں بلکہ ١٤٠٠ سال کے کامیاب ترین تجربات کا عیّاں ہونا بھی ہے۔ جن کی بنیاد رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی تعلیم ہی ہے۔ جو اسکی عالمگیری وسعت اور تسلیمیت کا مظہر ہے۔
نظریہ قوم دراصل نظریہ وحدت ہے، نظریہ فرد نہیں۔ قوم رنگ، نسل، زبان، علاقہ یا قبیلہ وغیرہ کی بنیاد پر نہیں بنتی بلکہ عقیدہ کی بنیاد قوم ہے۔ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ یہ وُہ بنیاد ہے جو وسعت نظری اور قومی احساس کا وجود لاتی ہے۔ علاقائی قوم کا تصور تنگ نظری پیدا کرتا ہے، یہ وحدت کی بجائے تعصب سے علیحدگی کا باعث بنتا ہے۔ جو تقسیم، نفرت اور احساس محرومی کی کثرت کا سبب بنتے ہیں۔

موج دریا میں ہے، بیرون دریا کچھ نہیں
فرد ملت سے ہے، بیرون ملت کچھ نہیں


قوم پاکستان کا نظریہ ہمارے ہر رنگ کا حصّہ ہے۔ قوم کی تعریف سے ہٹ کر زبان، مذہب، ثقافت اور تمدن کے معاملات کو دیکھ لیں؛ آپکو ہر جگہ پاکستان نظر آئےگا۔
قومی زبان اُردو علاقائی زبانوں اور لب و لہجہ کو وحدت بخشتی ہے۔ سوچ، خیال اور عمل کو ایک دھارے میں لاتی ہے۔ دھارا کیا ہے؟ صوفیانہ رنگ۔ وُہ کیسے؟ پاکستان میں بولی جانے والی تمام علاقائی زبانوں کا اعلٰی ترین ادبی رنگ دیکھیئے تو وُہ شاعرانہ رنگ؛ صوفیانہ کلام ہے۔ تمام خطہء پاکستان کی مشترکہ تعلیم؛ صوفیانہ تعلیم رہی۔ اُردو کا ظہور یہیں سے ہوا۔ ”کسی شعر میں جسقدر صوفیانہ رنگ غالب ہوگا، اُسکا مقام اُسقدر بلند اور اعلیٰ ترین تصور کیا جائےگا“ (واصف صاحب)۔
بطور مسلمان ہماری پہچان کلمہ طیبہ ہے، مسلک یا فرقہ نہیں۔ ولی اللہ مسلک کی نہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی بات عمل سے کر کے بتاتے ہیں۔ قائداعظم سے کسی نے دوران انٹرویو پوچھ لیا؛ آپکا فرقہ کونسا ہے؟ آپ نےکچھ یوں جواب میں فرمایا میرا فرقہ وہی ہے جو رسول پاک کا تھا۔ تو اُس فرد نے کہا اُس دور میں تو کوئی فرقہ نہ تھا۔ تو محترم قائداعظم نے فرمایا میں رسول پاک کی دی گئی تعلیم کےمطابق عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ١٨٥٧ء سے قبل فرقہ کا اختلاف نہ تھا۔ انگریز نے” تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کےاصول پر یہ فتنہ پیدا کیا۔ سید احمد شہید کی تحریک اسی سازش کا شکار ہوئی۔ آج اصل اور نقل کے الزام میں جانشینی کے اختلاف کیا ہیں۔ ہم مسلک، علاقہ، ذات، زبان، برادری ، جماعت کے انفراد ی ذاتی مفاد کے نام پر تقسیم ہوئے اور منقسم کیئے بھی گئے۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےآخری خطبہ کی اہمیت تقریر کے علاوہ عملاً بھول جاتے ہیں۔
مسجد اتحاد پیدا کرتی ہے۔ یہاں پر ہم محبت کا عملی درس سیکھتے ہیں۔ بیشک آج حقیقی تعلیم دینے والےمحترم افراد قلیل ہے مگر معاملات آج بھی تعلیم دے رہے ہیں۔ ایک قبلہ کی جانب منہ کر کے، امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں۔ اُسکا احترام مدنظر رکھتے ہیں۔ صف بندی میں بلا امتیاز کھڑے ہوتے ہیں۔ مل کر خدا کےحضور سجدہ کرتے ہیں، دعا مانگتے ہیں۔ صدقہ، خیرات اور زکوٰ ة سے کمزوروں کی مدد کرتے ہیں ہماری عبادات کا عمل محبت سے قوم میں وحدت کا جذبہ بیدار رکھتا ہے۔
مسجد معاشرہ میں ایک ایسے معاشرتی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے؛ جہاں عبادات، تعلیم (مدارس)، انتظامی امور، مالی معاونت اور قانونی فیصلے تک کیئے جاتے ہیں۔
تعمیرا ت کو ہی لیجیئے۔ اللہ خود ایک ہے، اُسکو یکتائی پسند ہے اسی لیئے عمارات میں محرابوں کی تعداد اطاق رکھتے ہیں۔ اسلامی فن تعمیرات میں جیومیٹریکل ڈیزائن، خطاطی، نقش کاری، کاشی کاری اور کندہ کاری کے کام میں ہر فنکار نے اَن گنت ڈیزائن تخلیق کیئے اور ہر تخلیق کار اور تخیل گو کا بنیادی نقطہ ”وحدت“ (unity) رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیزائن میں یکتائیت کی افراط کے باوجود ؛اسلامی نظریہ وحدت یکسانیت رکھتا ہے۔ حتٰی کہ ہمارےگھروں کی کھڑکیاں، دروازی، چھتیں، باغات میں بارہ دریوں، فواروں اور پودوں وغیرہ کی ترتیب میں طاق اعداد اور وحدت کے نقطہ نظر کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ مینار ہی کو لیجیئے یہ ذات باری تعالیٰ کی برتری اور اقتدار اعلیٰ کا نظریہ؛ ارتقاء سے بلندی کی جانب لیجانےکا ترجمان ہے۔ آغازِ اسلام میں اذان بلند چھت یا مقام پر جا کردی جاتی تھی۔ جس کے دو مقاصد تھے، ظاہری یہ تھا کہ آواز تمام شہر یا حد آخر تک سنائی دے۔ عمارات کی تعمیر میں آواز کی گونج اور رفتار پر خصوصی توجہ رکھی جاتی تھی۔ باطنی مقصد بلند مقام سے اللہ کی راہ میں پکار اللہ کےمقام کا اظہار بھی تھا۔ دیگر اقوام میں مینار کئی مقاصد کےتحت تعمیر ہوئے، عہد قدیم میں جنگی مقاصد، عہد جدید میں ترقی و آزادی کی علامت تک کا یہ سفر ہے۔ مگر اسلام میں یہ ہمیشہ وحدت اور عروج کا ترجمان رہا ہے۔ مینار قومی تحریک کا ایک سنگ میل ہوتا ہے۔ برصغیر میں پہلی باقاعدہ اسلامی حکومت کے قیام کی علامت قطب مینار، پاکستان کےقیام کی یادگار مینار پاکستان، مساجد میں مینار کی تعمیر ملت اسلامیہ میں عقیدہ کی مضبوطی کی پہچان ہے۔
اسلامی فن تعمیر میں دیگر اقوام اور مسلمانوں میں ایک فرق رہا ہے۔گھر کی تعمیر میں مسلمان اپنے ہاں کھلےصحن کےساتھ ساتھ مناسب مقدار میں روشنی اور ہوا کی آمد ورفت کو مدنظر رکھتے ہیں، جو ذہنی و قلبی وسعت کا ترجمان ہے۔
تعمیرات میں بات عمارات تک نہیں بلکہ رنگوں کے مطالب اور استعمال میں بھی مشترکہ خصوصیات رکھتے ہیں۔ ہماری مساجد، مقابر، مدارس کی تعمیر میں نیلے رنگ کے ٹائیل ورک کا کثرت سے استعمال تاریخی تسلسل میں فارسی کے اثرات کا آئینہ دار ہے۔ سبز رنگ کو مقدس رنگ کےطور پر استعمال کرتے ہیں۔ سیاہ رنگ کے استعمال کو رسول کے پہلےعَلم (جھنڈا) کی حیثیت سے لیتے ہیں۔ مزید اس رنگ کو حکمت و دانائی کےمعنی میں بھی لیتے ہیں۔ سفید کو اتحاد اور آغاز کی ترجمانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اِن رنگوں کے ایک ہی معنوں سے استعمال اِس قوم (پاکستانی) کےجمالیاتی احساسات کو جوڑتا ہے۔
پاکستان کےکسی بھی خطہ میں چلے جائیں، موسم، حالات اور ماحول میں فرق کےباوجود اقدار یکساں ہے۔ بڑوں سےعزت اور احترام سے پیش آنا، چھوٹوں کےسر پہ دست شفقت رکھنا، ہم مرتبہ افراد سے (نفرت، بغض، حسد اور کینہ کو ختم کرتے ہوئے) گلےملنا۔ ایسے ثقافتی اور تمدنی اظہاری اعمال ہیں۔ جو محبت کا نظریہ پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کے ہر دیہات میں عملی تربیت کی یہ اقدار آج بھی جاری ہے۔
علاقائی مشاورت کے لیئے اگر بلوچستان، سرحد اور کشمیر میں جرگے ہوتے ہیں تو پنجاب میں پنچائیت اور سندھ میں اس کو مَیڑھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان اجتماعات کی سربراہی کوئی بزرگ ہی کر رہا ہوتا ہے۔ اگر سرحد میں یہ مَلک یا خان ہے تو بلوچستان میں سردار، پنجاب میں سرپنچ اور سندھ میں اسی کو مُکھ کا نا م دے دیا جاتا ہے۔ مگر بنیادی اندازِ مشاورت اور مقصد یکساں ہے۔
پاکستان ایسا ملک ہے، جس کے وجود میں آنے سے قبل یہاں کئی تہذیبوں (سندھ، ٹیکسلا، گندھارا) کا جنم ہوا، بیشمار ثقافتیں پھلی پھولیں۔ آج بھی ثقافت، رسم، رواج اپنے اپنے دائرہ میں پھل پھول رہے ہیں۔ مگر یہ تمام جدا نہیں۔ اِنکی مشترکہ خصوصیا ت قوم پاکستان کو یکجا کرتی ہے۔ مشترکہ خاصیت کیا ہے، صوفیانہ تعلیم۔ اس قوم کی پہچان مہمان نوازی ، جفاکشی ، محنتی ، بہادری ہے۔
پاکستانی قوم کا وجود ”واعتصموا بحبل اللہ جمعیا ولاتفرقوا“ (ترجمہ: ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو“) میں ہے۔ پاکستانی قوم پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان، کشمیری نہیں۔ یہ وحدت ہے صرف اور صرف پاکستانی۔ افسوس! تقسیم در تقسیم کی بات ہوتی ہے۔ مزید انتظامی تقسیم کا شور ہوتا ہے، صوبے بنانے کی شورش پیدا کی جاتی ہے؛ ظلم، زیادتی، محرومی کے نعرے لگتے ہیں۔ آج عام فرد کا مزاج ایسا بن چکا ہے کہ وُہ ذاتی نا اہلی کو ذاتی مفاد میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اصلاح کے لیئے اصطلاحات نہیں ہوئیں مگر صلاح پر زور رکھا جاتا ہے۔
قائد اعظم نے ایک پیغام دیا۔ ایمان، اتحاد، تنظیم۔ یہی قوم ِپاکستان کی تعمیر سے ترقی کے سفر کا پیغام ہے۔
قوم پاکستان انفرادی سوچ نہیں، اجتماعی سوچ کا نام ہے۔
علامہ اقبال نےفرمایا تھا:

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے، ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی
اُن کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رُخصت تو مِلت بھی گئی

آج پاکستانی قوم اَن گنت نواسیر (ناسور کی جمع) کا شکار ہے۔ جہاں قدرتی طور پر ہر شئے اس قوم کو وحدت بخشتی ہے۔ اُسی طرح افراد اس وحدت کو تسلیم کرنے سے منکر ہو چلے ہیں۔ قوم میں وحدت جذبہ سے قائم ہوتی ہے۔ جس کو سیاسی، مذہبی، معاشرتی، ثقافتی اور تمدنی پہلوئوں سے اُجاگر رکھا جاتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ٹھہرا کہ ہر شعبہِ زندگی پہ کاری ضرب ذاتی مفادات کے تحت خود ہی لگائی۔
سیاسی اعتبار سے قیادت کے فقدان کی بات کرتے ہیں، مگر کیا خود اس فقدان کے لیئے اپنے حصہ کا کردار ادا کرتے ہیں؟ کسی قابل فرد کو نا اہل رہنما موقع دیتا ہے؟ سیاسی جماعتیں اپنی نمائش کےعلاوہ کبھی قومی و مِلی فکر کا جذبہ پیش کرتی ہیں؟ زلزلہ یا سیلاب میں متاثرین کی مدد تب تک نہیں کی جاتی جب تک میڈیا کوریج نہ دے۔ ممکن ہے اس دوران قیمتی جانوں کا نقصان بھی ملک کو برادشت کرنا پڑا ہو۔ قومی جماعتوں کی کیا یہی قومی سوچ ہے؟ مگر کچھ جماعتوں کا ایسا رویہ نہیں بھی ہوتا۔ بلکہ اُن کا کردار قابل تحسین ہوتا ہے۔
اکثر علاقائی جماعتیں عوامی استحصالی اور محرومی کے نام پر ؛ اپنےبھائیوں میں بھائیوں کے خلاف تعصب کا پرچار پھیلاتی ہیں، احساس محرومی کا شکار کرتی ہیں، اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیئے عوام کو گمراہ رکھتی ہے اور ملکی ترقی میں رکاوٹ بنائے رہتی ہیں۔ برس ہا برس ایک مسئلہ کو اُجاگر کر کےسیاست چمکائی جاتی ہے۔ شائد آج ہم اپنے مسائل حل کرنے میں خود سنجیدہ نہیں اور الزام دوسروں پر تھونپ دیتے ہیں۔
تاریخی و جغرافیائی تسلسل کے تحت رہتے ہوئے بھی، ایک خطرناک اور نہایت ہی مہلک سوچ ؛انتہائی پڑھے لکھے افراد میں پروان چڑھ رہی ہے کہ غیر علاقہ کا فرد کبھی بھی اُن کا دوست نہیں بن سکتا۔ جبکہ پاکستان کے ہر علاقہ کا باشندہ دوستی نبھاتا رہا ہے، اپنی جان دوست پر نچھاور کرتا رہا ہے۔ ہمارا ادب اور فلم اس بات کی گواہی بھی دیتے ہیں۔
میں علاقائی سیاسی جماعتوں کے خلاف نہیں ، بلکہ ملکی ترقی میں ان کا کردار بڑا ہی اہم ہوجاتا ہے۔ یہ اپنےعلاقہ اور عوام کےحقیقی مسائل کو نہ صرف بہتر انداز میں اُجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ اپنے ہی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرلینےکی انمول خصوصیت بھی رکھتی ہیں۔ آج یہ سوال ہے کہ ایسی جماعتوں نے اپنے ذاتی مفادات کو پس و پشت ڈالتے ہوئے ؛ اپنےعوام کےحقیقی مسائل حل کرنے کے لیئے کیا کوئی اہم کردار ادا کیا؟ چند جماعتیں اپنی بقاء قائم رکھنے کے لیئے جھوٹے پروپیگنڈہ پھیلاتی ہیں۔ عوام احساس محرومی کا اس قدر شکار ہو گئی ہے کہ اگر کسی جگہ کوئی میرٹ پر مکمل نہ اُتر سکے تو بیشمار افراد اپنےعلاقائی تعلق کومسترد کیئے جانے کی وجہ گردانتے ہیں۔ بطور پاکستانی ہر فرد کو دُکھ ہے کہ ایسی سوچ پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ ہم غلط ایک جانب کو نہیں ٹھہرا سکتے۔ کوتاہیاں تمام جانب سے سرزد ہوئیں ۔ بہت جلد یہ تمام ٹھیک ہو سکتا ہے اگر ہماری سوچ پاکستان اور ملت کے مفاد کی سطح تک وسیع ہوجائے اور ہر فرد اپنے حصہ کا کردار ادا کرے۔ یہ سوال کرنا چھوڑ دے؛ یہ ملک اُسکو کیا دیتا ہے؟ ملک ماں کی طرح ہوتا ہے، ماں سے یہ سوال نہیں کیا جاتا کہ اُس نےکیا دیا۔ ماں کا جنم دینا ہی احسان ہے۔ ماں سے علیحدہ ہونے والا بچہ کیا کبھی خوش رہتا ہے؟ ناراض ہو کر نیا گھر بنا لینا تو ممکن ہے مگر ماں کی دل آزاری کے بعد کیا اُس گھر میں خوشیاں لوٹیں گی۔ ماں معاف کرتی ہے، بیٹا معافی مانگتا ہے۔ ماں کے سامنے ”میں“ نہیں رہتی۔ آج ہر جماعت کو ماں کے پاؤں دبا کر اُسکی خدمت کرنی چاہیئے۔ محبت سے محرومی کی طرف نہیں جانا چاہیے، محبت تک ہی رہو ۔
١٩٦٥ء کی جنگ میں قوم کا مورال بلند تھا۔ ہر فرد نے جنگ میں اپنا کردار ادا کر کےحصہ لیا۔ کانوائےگزر رہا ہے تو نہایت بوڑھے بزرگ جو چل بھی نہ سکتے تھے، پاکستان اور اُسکے محافظ فوج کے لیئے دُعا کرتے، لاغر و ضعیف بڑھیا مٹھی بھر بھنے چنےگھر سےلیکر نکل کھڑے ہوتی اور جوانوں کو پیش کرتی۔ جوان بھی شفیق لہجہ سے یوں پیش آتا کہ جذبات مجروح بھی نہ ہونے پاتے، فنکار ایک جذبہ اور ولولہ سےاپنا کام بغیر معاوضہ کےصرف اور صرف پاکستان کی خاطر ادا کر رہے تھے۔ فوج شہر سےگزر رہی ہے تو شہر والے استقبال کی تیاری میں پہلے سے منتظر کھڑے رہتے اور آمد پر تمام بازار اُن پر نچھاور کر دیتے۔ دودھ والا تمام دودھ مفت میں دیکر خوش ہے، حلوہ پوڑی والا ناشتہ بھیج کر فوج کا ولولہ قائم کر رہا ہے۔ حجام کی دُکان میں جو خبریں اور تجزیہ زیر گفتگو ہے وُہ قوم میں مورال بلند کر رہا ہے۔ وہاں یہ سوال نہ تھا کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ بلکہ جواب تھا کہ جو میلی نگاہ سے پاک وطن کو دیکھےگا، اُسکی آنکھیں نکال لی جائےگی۔ ہر فرد براہ راست جنگ میں شامل تھا، اپنا کردار ہر فرد نے خوب نبھایا کہ دُنیا کو یہ تحقیق کرنا پڑی قوم کا مورال کیا ہوتا ہے۔١٩٧١ء میں ہم مورال سے محروم کر دیےگئےتھے۔
اس ملک کو سب سے زیادہ مذہبی سطح پر فرقہ وارانہ اور شر انگیز نفرت نے نقصان پہنچا ڈالا۔ مسلمان اپنے ہی دوسرے مسلمان بھائی پر کفر کا فتوی جڑتا ہے، اور مسلمان واجب القتل مسلمان کو ٹھہراتا ہے۔ کیا یہی امن، رواداری، درگزر اور محبت والے مذہب کی تعلیم ہے؟ بچہ کو مسلمان نہیں دیوبندی، بریلوی، شیعہ کی تعلیم میں دیگر مسالک کے لئے نفرت سکھائی جاتی ہے۔ ایک ہی محلہ اور ایک ہی مسلک کی مساجد میں، مغرب کی اذان کے وقت پر بھی فرق لازماً رکھا جاتا ہے۔ ایک ہی مدرسہ کے فارغ التحصیل ہم جماعت ہی لےلیجیئے، جب اُن میں مفادات کا ٹکراؤ آتا ہے تو عقائد کے اختلاف کی بات لے بیٹھتے ہیں۔ اِن خونی جھگڑوں اور اختلافات کے باعث آج کا نوجوان مذہبی ٹھیکیداروں سے متنفر ہو کر دین سے بھی دور ہوا۔ اس سے ہرگز یہ تصور نہ لیا جائے کہ تمام مذہبی مبلغین ایسے ہیں۔ دراصل جس کی لاٹھی اُسکی کی بھینس کے مصداق ؛ آج وُہ لوگ نمایاں ہیں جو دھینگا مُشتی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ علماء و مبلغین نہایت ہی حلیم ، مہذب ، بحث اور جھگڑا میں نہ پڑنے والے افراد ہوتے ہیں۔ ایسے شریف لوگ گمنامی میں اس ملک اور دین اسلام کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وُہ کبھی کسی کو برا نہیں کہتے، بس اصلاح کا عمل مسلسل جاری رکھے رہتے ہیں۔ سلام ہو ایسےعظیم انسانوں پر۔
مزارات پر مجاورین اللہ والوں کے قصیدے سناتے ہیں، اُنکو بشر سے مافوق الفطرت بنا ڈالتے ہیں، اپنی تجوریوں کو لنگر کےنام پر بھرتے ہیں۔ کاش! ایسےچند افراد اُن نیک بندوں کے نقش قدم پر خود بھی چلیں اور لوگوں کو اُس پر چلنے کے لیئے رہنمائی فراہم کریں۔ مگر آج تو چند خانوادوں میں ماضی کے بادشاہوں کی طرح گدی نشینی کے جھگڑے چل پڑتے ہیں۔ ہمیں ایسے جھگڑوں سے پرہیز کرتے ہوئے محبت کا درس دینا چاہیے۔
روپے کی دوڑ نے قوم کی اکثریت کو ”پیسےکا پتر“ بنا دیا ہے۔ Status کے چکر میں زبان بھی امپورٹ کی، زبان سے غیر مانوس ہونے کے باعث احساس منتقل نہیں ہو پا رہا۔ جذبات، کیفیات ہر فرد کے اندر منجمد رہنے لگے ہیں۔ اظہار اندر ہی گُھٹ گُھٹ کر مر جائےگا۔ آج زندگی گلیمر کے سواء کچھ نہیں، انسان معاشرہ سے کٹ چکا ہے۔ انسان کی اہمیت مایا (دولت) سے ہے اور معاشرہ کا رویہ اس مثل کے مانند ہے، مایا کو رامو، رام، رام داس ۔
یہ تصور حقیقت سمجھا جا رہا ہے؛ جس کے پاس روپیہ ہے اُسکی اہمیت ہے۔ رشتہ داری دولت سے ہے افراد سے نہیں۔ گاڑی کا ماڈل، مکان کی لاگت، مہنگی آسائشی اشیاء اور صرف حاصل کی گئی تعلیمی ڈگری امارت طے کر رہے ہیں۔ صرف قصور اُمراء کا نہیں، غریب خاندان بھی بہو کے لیئے ملازمت کی شرط عائد کر رہا ہے، جہیز کو لعنٰت قرار دیتے ہیں، شائد آج بہو کو پیسہ بنانے والی مشین بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اپنی بیٹی کو یاد نہیں رکھتے، دوسروں کی بیٹیوں کی قیمت لگاتے ہیں۔ بیٹی والے بیٹیاں بیچ کر بچھتا رہے ہیں۔ لڑکی والے بھی جھوٹی شان کی تلاش میں ہیں۔ اُنکو ایسا داماد چاہیے جو اُنکے لیئے ایک مشین ہو۔ شائد آج معاشرہ کو بیٹا یا بیٹی نہیں حسن کے ساتھ دولت بنانے والی نافرمان مشینیں بھی چاہیے۔گھر بسانے کی بجائے، طلاق کی ترویج ہو رہی ہے۔ تربیت کرنے والے افراد آج ایک مایوسی کا شکار ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ آج وُہ جس معاشرہ میں رہ رہے ہیں وہاں محبت سکھائی نہیں جا سکتی، کیونکہ اب یہ بات معاشرہ میں خیالی بات ہو چلی ہے۔
ثقافت ختم ہو رہی ہے، پکوان کےذائقہ کی جگہ fast food نے لے لی۔ حلال، حرام کی تحقیق کی بجائے سہولت اور status کو دیکھنے لگے۔ گھر میں فنکشن نیچرل پن کےمعنی رکھتا ہے، آج بکنگ کے دور میں حسن سے محروم، لباس شائستگی کی بجائے بیہودگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کیبل چینلز رنگ اور ڈیزائن معاشرہ کے طے کر رہے ہیں۔ مذہبی و ثقافتی نظریات کےتحت ڈیزائن اور رنگ کے انتخاب نہیں کئے جاتے۔ پلاسٹک کی بوتل کا”منرل واٹر“ صحت افزاء نام سے فروغ پا رہا ہے جبکہ پلاسٹک تو خود بیماریوں کا سبب ہے۔گھڑے کا پانی بہترین پانی تصور ہوتا ہے مگر وُہ status کہاں جائے؟ علاقائی مشروب موسم کے حوالے سے مخصوص ہیں۔ مگر مہمان اور میزبان دونوں کانجی، سکنج بین، لسی وغیرہ کو قابل توہین سمجھتے ہیں۔ ثقافت صرف چند نظریاتی لوگ قائم رکھنےکی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈرامہ نگار کا ڈرامہ خود ڈرامہ بن چکا ہے۔ وُہ جو معاشرہ پیش کر رہا ہے، وُہ exist ہی نہیں کرتا اور لوگ اُس existense کی جانب بھاگ رہے ہیں۔ محبت صرف دِل ڈول کر شادی رچا لینے کا trend بنا دیا ہے۔ کیا حقیقی محبت یہی ہوتی ہے؟ آئندہ چند سالوں تک پاکستان پر بنایا گیا ڈرامہ خیالی بات ہی معلوم ہوگی۔ تحریک پاکستان افسانہ یا چند پاگل لوگوں کا جنون کہا جانے لگےگا۔
تمدنی اعتبار سےگھر بنائے نہیں جا رہے۔ مغرب سے خیالات امپورٹ ہوتے ہیں مشرقی انداز میں گھر بنانے کو اب ہتک سمجھا جانے لگا ہے۔ مغربی طرز کا گھر فخر تو بنتا ہے مگر ذرا سوچئیے کیا موسم اور ثقافت کےاعتبار سے یہ گھر قابل رہائش رہتے بھی ہیں یا نہیں۔ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ ہمارا ہر قدم قانون فطرت کےعین مطابق تھا اور آج مکمل خلاف ہے۔
اللہ کرے، اس قوم سے روپےکی ہوس والی دولت چھن جائے اور ہمیں حقیقی دولت عطاء فرما۔ امارات نے اس قوم کو بھٹکا دیا ہے۔ اس قوم کی عمارت درویشی میں ہے۔

(فرخ نور)

متعلقہ تحریریں
نظریہِ پاکستان
درویش پاکستان

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

آٹھواں میرا پیار

Posted on 14/08/2009. Filed under: پاکستان, شعروادب | ٹيگز:, , , , |

پاک زمیں کی ہنستی رتوں کا
دھنک دھنک اظہار
دھنک کے سچے سات رنگ اور
آٹھواں میرا پیار
١٤ اگست
آسماں اور دھرتی کے درمیان زندہ
سارے منظر سمیٹے
ایک وطن کی تشکیل کا دن
آج ہم ان منظروں کو کچھ
اور نہ سجا دیں ۔۔۔۔
گیتوں سے ۔۔۔
جھنڈوں سے۔۔۔
اور پھولوں سے ۔۔۔۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

آزادی اور جمہوریت

Posted on 14/08/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

آج ١٤ اگست ہے آزادی کا دن، یہ ملک جمہوریت کے نام پر بنا لیکن ٣٣ سال مارشل لاء کی نذر ہو گئے۔ دنیا کے کئی ممالک کی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں فوجی حکومتوں کے آنے سے ترقی کی رفتار تیز ہو گئی۔ انڈونیشیا کی مثال سامنے ہے جہاں فوجی آمریت کی ایک شکل کے باوجود ترقی کی رفتار تیز تر ہوتی رہی۔ لیکن پاکستان میں فوجی آمریت اور مارشل لاء سے جمہوریت کا راستہ تو رکتا ہی رہا ترقی کی رفتار پر بھی اس کے مثبت اثرات نہ پڑ سکے۔ پاکستانی قوم کے مزاج میں آزادی اور جمہوریت رچی بسی ہوئی ہے۔ جس کسی بھی آزادی چھیننے کی کوشش کی اس کے خلاف سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں نے تحریکیں چلائیں اور بالآخر جمہوریت بحال ہو کر رہی۔ ماضی کے مارشل لاء کا جائزہ لیکر ہم جہاں ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لے سکتے ہیں وہاں اس بات کی پیش بندی بھی کر سکتے ہیں کہ آئندہ ایسے حالات ہی پیدا نہ ہوں جس سے جمہوریت کا بستر گول ہو جائے۔
آزادی کے اس دن ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ جمہوری نظام کامیابی سے چللانا ہے کیونکہ اسی میں ہم سب کی بقا ہے، اس سلسلے میں عدلیہ تو اپنا کردار کامیابی نبھا رہی ہے، اب نگاہیں پارلیمنٹ پر لگی ہیں کہ وہ کیا کردار ادا کرتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

حقیقتِ زمانہ

Posted on 31/05/2009. Filed under: تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , |

نشوونما ایسا باقاعدہ عمل ہے، جو کبھی ٹھہرتا نہیں۔ مسلسل اپنی مخصوص رفتار سےچلتا رہتا ہے۔ قدرت کےعوامل میں ٹھہراؤ بالکل نہیں۔ اِن کےمشاہدہ کےلیئے نگاہ کا ٹھہراؤ ضروری ہے۔نشوونمائی عمل کو اگر روکا جائے تو وُہ بگاڑ لاتے ہیں۔ ایسی رکاوٹیں بربادی کا سبب بھی بن جایا کرتی ہیں۔ یہ ایسےعوامل ہیں جو قدرت کےرنگوں میں زندگی کی دانش کو سمجھنے کے لیئے لازم ٹھہرے۔ بیج کا پودا بننا ہر موسم میں ایک سا دِکھائی دیتا ہے مگر ہر دانہ ایک ہی ذائقہ نہیں رکھتا۔ یونہی بیرونی موسم اور حالات بھی افزائش پر اثر انداز ہوتےہیں۔
انسان کی نشوونما اُسکے مخصوص حالات کےمطابق ہو رہی ہے۔ جیسا کہ بیشمار نباتات مصنوعی ماحول سے مصنوعات کی بہترین صورت بن چکی ہیں۔ اسی طرح قدرتی ماحول سے ناواقفیت، مخصوص پیدا کردہ نظریات اِنسان کی افزائشی سوچ کو مخصوص اور محدود کر رہے ہیں مگر نتائج اُلجھنوں، بیماریوں اور رکاوٹوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
گنوار اقوام عروج حاصل کر کےمہذب ہوجایا کرتی تھی، نئی تہذیبوں کا جنم ہوا کرتا تھا۔ آج کی مہذب دُنیا وحشت سے دہشت پیدا کر رہی ہے۔ حقیقی تہذیبیں ختم ہو رہی ہیں۔ اِنکی موت اَصل دانشور کی موت ہے۔ دانشور اپنی حکمت سے ہر دور میں تہذیب کو حالات کے تحت نئی روح بخشتا ہے۔ یوں وُہ اقوام اپنی بنیادوں پر ٹھہرتے ہوئےتعمیری مراحل سےگزرتی ہیں۔
آج کا intellectual دانا و بینا نہیں رہا۔ وُہ اپنی intellectual ہونے کے زعم میں اسقدر مبتلا ہے کہ وُہ قوم کو تعمیر نہیں بخش رہا۔ وُہ انوکھی بات پیش کرنے کی عادت سے ملت کو مایوسی اور اضطراب دے رہے ہیں۔
تجزیہ خیالات کو فروغ دیتا ہے، دروغ پن چاشنی کے باوجود بیزاری پیدا کرتا ہے۔ واویلے حکمت سے عاری ہوتے ہیں۔وُہ بس سامعین کی رائے بدلتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ایک سچ کہتا ہے ننانوے کچھ اور ہی کہتے ہیں، حقیقت حقائق سے کچھ اور ہی حقیقت بن جاتی ہے۔ پیش آنےوالی نہیں، پیش کی جانے والی افواہ بیش بہاء انداز سے کی جاتی ہیں۔ آج انسان حقیقت سے محروم ہو رہا ہے، حقیقی چہرے معدوم ہو چکے ہیں۔ ہم کیا جانے حقیقی خوشی، حقیقی غمی کیا ہیں؟
ہم اصل حقائق سے بےخبر رکھے تو گئے ہی ہیں، اب غافل بھی ہو چکے ہیں۔ آزادیِ خیال ہی غلامیِ افکار ثابت ہوئی ہے۔ اِنسان آزادی کا خواہاں رہا ہے مگر آج ہنگامی خبر کی سرُخیوں نے انسانی سوچ کو مائوف کر ڈالا ہے۔ منفی پروپیگنڈہ کا رجحان انگریز نے برصغیر میں یوں پیدا کیا کہ جس قبیلہ نے انگریز کی غلامی قبول نہ کی، اُسکو معاشی و معاشرتی بدحالی سے دوچار کیا، جرائم پیشہ اور نکمے افراد حالات سے پیدا کیئے، ذاتوں کی تحقیق کے نام پر ایسے قبائل کےخلاف منفی اور غیر حقیقی آراء پیش کیں۔ مزید معاشرہ میں کردار کشی اور مکروہ القاب کےذریعہ سے اُنکے لیئےایسے حالات پیدا کر ڈالے کہ انگریز کا یہ افسانہ حقیقت کا روپ دھار گیا۔ آج بھی ہم ایسے پروپیگنڈہ کا شکار قبائل سے نفرت، اُنکی مسخ شدہ تاریخ سے کرتے ہیں۔ جبکہ اصل تاریخ سے ہم ناواقف ہو چکے ہیں۔ کھرل سپت رائےاحمد خان کھرل صاحب کی انگریز کے خلاف مزاحمت کا سامنا آج بھی کر رہے ہیں۔
پروپیگنڈہ expire ہو کر بھی کسی اور انداز سے سامنے آیا ہے۔ رِیت وہی رہی، مذہب کے نام پر اپنے مفاد کی جنگ، دین کی اشاعت کے نام پر اقتدار کی ہوس، حصول تخت کی خاطر مستحکم سلطنت کے نام پر نامزد ولی عہد بھائیوں کا قتل، آج جارحیت کے نام پر ہر طرح کی جارحیت۔ نعرے بدل چکے، امن اور سکون کے نام پر نیندیں کروٹیں بدلنے لگیں۔
جب ہم کسی کا سکون تباہ کرتے ہیں تو اپنا سکون بھی برباد کر ڈالتے ہیں۔ سوال تو اب یہ آن ٹھہرا ، اِن حالات میں امن، محبت، بھائی چارہ اور رواداری کا درس دینے والوں کے ہاں اب خیال کیا پرورش پائےگا؟ انقلاب یا انتقام جو بھی نتیجہ ہو تعمیر نہیں غارت گری ہے۔ ”صوفیاء کی سرزمین تعمیر“ کے حالات ہٹلر یا نپولین پیدا کرنے چل پڑے ہیں۔ منصوبہ ساز بہت کچھ طے کر چکے ہیں، جبکہ تقدیر ملت کچھ اور ہی طے ہے۔ (فرخ )

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اُمید سحِر

Posted on 23/03/2009. Filed under: وڈیو زون, پاکستان | ٹيگز:, , , , , , |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

وزیراعظم کی جج بحالی کی مکمل تقریر

Posted on 16/03/2009. Filed under: وڈیو زون, پاکستان | ٹيگز:, , , , , , |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

آزادی

Posted on 21/02/2009. Filed under: وڈیو زون | ٹيگز:, |

صرف بالغوں کے لئے

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

١٤ اگست ۔ غلام قوم کا آزاد دن

Posted on 14/08/2008. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

سال کے ٣٦٥ دنوں میں سے ہمیں آج ہی کے دن یعنی ١٤ اگست کو ہی اپنی آزادی کا احساس ہوتا ہے ورنہ تو باقی ٣٦٤ دنوں میں ہم غلاموں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ آج کا پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔ جس کا اپنا جھنڈا، اپنا سکہ، اپنا دستور اور اپنا آئین ہے۔ کسی قوم پر اس سے بڑھ کر اللہ کا انعام اور کیا ہو سکتا ہے مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اپنا ملک ہونے کے باوجود بھی ہم غلاموں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بیشک ہمارا ایک مضبوط آئین ہے، مضبوط قانون ہے مگر یہ صرف لفظوں اور موٹی موٹی کتابوں تک محدود ہے نہ تو آئین پر عمل کیا جاتا ہے اور نہ ہی قانون کی پروا کی جاتی ہے۔
پاکستان میں نظام بدلنے کی بات تو ہمیشہ کی جاتی ہے مگر چہروں کے علاوہ بدلتا کچھ نہیں۔ بڑا آدمی ہمیشہ فرشتہ اور غریب یہاں مجرم کی سی حیثیت رکھتا ہے، شریفوں کی ایک لمبی لائن کے باجود آجکل میں شرف وہی جس کا بس نہیں چلتا۔
ملک میں انصاف نام کی کوئی شئے موجود نہیں، نوکری چاہیے تو ایم این اے کے پاس جاؤ، سکول میں داخلے کے لئے ایم پی اے کام آئے گا، سرکاری ملازمتیں بند مگر وزیراعظم اور وزیراعلٰی سیکرٹریٹ دھڑا دھڑ نئی تقریاں کر رہے ہیں۔ بے روزگاری، غربت، مہنگائی، فیکڑیاں بند، صنعتیں تباہ، سٹاک ایکسچینج کا لیول مسلسل نیچے کی طرف، پیسہ غیر ملک منتقل، سوات و بلوچستان آپریشن، خود کش حملے، افغانستان جیسے ملک کی طرف سے دھمکی آمیز بیانات جبکہ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود ہمارے لیڈر آپش میں گتھم گتھا ہیں، ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے لئے سیاسی قلابازیاں کھائی جا رہی ہیں، نئے رہمنائے اصول مرتب کئے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں کبھی ذہن بدلنے کی بات نہیں سوچی گئی یہاں اگر کچھ بدلتا ہے تو وہ ہیں صرف حکمرانوں کے چہرے جو ہر چند سال بعد تبدیل ہو جاتے ہیں، نہ ہوں تو کرا دیئے جاتے ہیں۔ کچھ دن یونہی چلتا ہے پھر حوالے بدلتے ہیں کل کے محب وطن غدار اور غدار حب الوطنی کے علمبردار بن کر سامنے آتے ہیں۔
اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو یوں لگتا ہے کہ وہ تبدیلی، وہ انقلاب، وہ انصاف شاید کبھی نہیں آئے گا جس کی آرزو میں ہم سالہا سال سے ہر نئی پارٹی، ہر نئے لیڈر، ہر نئے نعرے اور ہر نئے نظریے کی طرف دیکھتے ہیں، خوش ہوتے ہیں کہ شاید اب شام غم ڈھلنے کو ہے نئی صبح طلوع ہونے کو ہے مگر تسلیوں، دلاسوں، امیدوں اور آسروں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وہی برطانوں جمہوریت، الیکشن، سیاسی انارکی، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سانحہ، ٹوٹتی بنتی اسمبلیاں، ایل ایف او، پی سی او، ایمرجنسی، کسی کا سوشلزم، کسی کا اسلام، کسی کے وعدے، کسی کے دلاسے، معاشی خوشحالی کے دعوے، کشکول توڑنے کی باتیں، لوٹ مار کے قصے، کھوکھلے نعرے ۔۔۔ کون سی تبدیلی اور کون سا انقلاب۔ جب سے ہوش سنبھالا یہی سنا کہ ہر رات کی ایک سویر ہے، اندھیرے کے بعد اجالا ضرور آتا ہے مگر سمجھ نہیں آتی یہ کیسی رات ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔
اگر اس کالی رات کی آخیر کرنی ہے، اسے ختم کرنا ہے، روشنی کی طرف سفر کرنا ہے، اس ملک کو خوشحال بنانا ہے تو ہمیں اس نظام کو بدلنا ہو گا۔ آئین اور قانون کی پاسداری کرنا ہو گی یہ تب ہی ممکن ہے جب قانون کی نظر میں امیر غریب کا فرق ختم ہو گا۔ قانون سب کے لئے برابر ہو پھر دیکھئے ملک میں خوشحالی کا آغاز کیسے نہیں ہوتا۔
کچھ کالی بھیڑیں ہیں جو صرف اپنے مفاد کی خاطر اس ملک کو کھوکھلا کر رہی ہیں ہمیں ان کو بے نقاب کرنا ہو گا۔ چپ رہنے سے خوموشیاں ختم نہیں ہوں گی، یہ بے حسی کی زنجیریں نہیں ٹوٹیں گی اور اس نظام کو بدلنے کے لئے آسمان سے فرشتے نہیں آئیں گے ہمیں خود ہی ہاتھ پاؤں مارنا ہوں گے۔
کاش! ہر فرد کے دل میں اپنے وطن کے لئے محبت پیدا ہو جائے اور بیرون ملک رہنے والے پاکستانی یہ کہہ اٹھیں کہ

پہلے میری سوہنی دھرتی کا افسانہ سنا
پھر ستاروں، آسمانوں، جنتوں کی بات کر

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ وطن عزیز کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دے اور یہ ہمیشہ قائم و دائم رہے اور اس ملک میں رہنے والے ہر فرد کے دل میں اس کی محبت پیدا ہو جائے اور ہمارے حکمرانوں کی ہمت  اور طاقت دے کہ وہ ہمیں غلامی کے اس گھٹاٹوپ اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئیں اور ہمیں صرف ایک دن نہین سال کے ٣٦٥ دنوں میں اپنی آزادی کا احساس ہو اور پھر ہر پاکستانی پکار اٹھے

 

جشن آزادی مبارک

 

 

 

نوٹ۔ قارئین سے انتہائی معذرت کہ وقت کی کمی کے باعث اسے مختصر کر کے جلدی ختم کرنا پڑا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

آزادی کی داستاں

Posted on 14/08/2008. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , |

آزادی بظاہر ایک چھوٹا سا لفظ ہے مگر اس لفظ میں ہزاروں مرنی پنہاں ہیں۔ اس لفظ کی گہرائی اور پذیرائی کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے غلامی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں زندگی گزاری ہو جن قوموں نے غلامی دیکھی ہے وہی آزادی کی قدر و قیمت جان سکتے ہیں۔
غلام قوم تو مظلوم، بےکس، لاچار انسانوں کے ریوڑ کی طرح ہوتی ہے جس پر حکمران جس طرح چاہیں حکمرانی کریں اور جس طرح زندگی بسر کرنے کی اجازت دیں۔ غلامی ایک ایسا عذاب اور جہنم ہے جس میں قومیں سسک سسک کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مسلسل مرتی رہتی ہیں۔ اس جہاں رنگ و بو میں آزادی ایک لازوال عطیہ خداوندی ہے جبکہ غلامی ذلت و خواری کا دوسرا نام ہے۔ اس لئے غیور، خودار، باعزت اور باوقار اقوام اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لئے عظیم تر قربانیاں دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں کیونکہ آزادی کا ایک پل صدیوں کی غلامی سے افضل اور بہتر ہوتا ہے۔
آزادی کی جنگیں عام طور پر میدان کارزار میں توپ و تفنگ، اسحلہ بارود، سلاروسپاہ کی قوت اور طاقت سے لڑی جاتی ہیں۔ مگر حصول پاکستان کی جنگ میدانِ سیاست میں عقل و دانش، فہم و فراست، اتحاد و یکجہتی اور سیاسی حکمت عملی سے لڑی گئی۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے آزادی کی جنگ سیاسی میدانوں میں صف بندی کر کے ہوشیاری اور ہوش مندی کے ساتھ ہر محاذ پر جواں مردی سرفروشی اور بے جگری سے لڑی جس کی مثال کوئی مثال نہیں ملتی۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک غیر ملکی اور غیر مسلم قوم کے پنجہ استبداد سے آزاد ہوئے، اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتاکہ مسلمانوں نے یہ آزادی مسلم لیگ کے سبز پلالی پرچم تلے قائداعظم کی عظیم قیادت میں دو قومی نظریہ کی اساس پر حاصل کی۔ یہ سعادت قائداعظم کے حصہ میں آئی کہ مسلماناں ہند نہ صرف آزادی جیسی نعمت سے ہمکنار ہوئے بلکہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت قائم کرنے میں کامیاب و کامران ہوئے۔
 اس آزادی کی دستان بڑی پرآشوب اور دردناک ہے۔ ہماری آزادی کا کارواں اور قافلہ حریت جن کٹھن راہوں سے گزرا ہے اور آگ و خون کے جس سمندر سے غوطہ زن ہو کر ہماری قوم منزل مراد تک پہنچی ہے وہ ہماری تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے۔ جس کو کوئی بھی مورخ تحریر میں لانے سے گریز نہیں کر سکتا اور نہ یہ تاریخ کے اوراق اسے اپنے اندر تحریر کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ ہماری آزادی کی داستان ایک زندہ و پائندہ، باہمت، باحوصلہ قوم کی داستان ہے۔ جس پر ہم پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند اور فراز ہے۔
١٨٥٧ء میں انگریزوں کے خلاف آزادی کا پہلا معرکہ ہوا مگر ناکام رہا جس کی وجہ سے انگریزوں نے سارے ہندوستان پر تسلط قائم کر کے مسلماناں ہند کے خلاف انتقامی کاروائیاں کیں، جس سے مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبہ میں مظلوم اور محکوم بن کر گزارنی پڑی۔
مسلم اکابرین نے ہندوؤں کی سازشوں اور پنجہ استبداد سے نکلنے کی راہیں تلاش کرنئ شروع کر دیں، مسلم علماء نے بہت سے سکیموں پر غور فکر کیا۔ چنانچہ ١٩٣٠ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس الہ آباد میں منعقد ہوا جس میں شاعر مشرق، مفکر اسلام ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ایک علحیدہ وطن کا تصور پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطبہ میں فرمایا۔ میری خواہش ہے کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان ملا کر ایک ریاست بنا دی جائے، شمال مغربی مسلم ریاست کا قیام مغربی علاقوں کے مسلمانوں کے لئے نوشتہ تقدیر ہے۔
علامہ اقبال کے اس تصور کو قائداعظم نے اور مسلم لیگ نے اپنایا اور اس فکر کو اپنی جامہ پہنانے کے لئے سارے ہندوستان میں عملی کوششیں ہونے لگیں۔
٢٣ مارچ ١٩٤٠ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اس تاریخی اجلاس میں ایک ایسی منفرد، نایاب، انمول قرار داد پاس ہوئی جس نے ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کی تقدیر ہی بدل دی۔
اس قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ان علاقوں کو جہاں  مسلمانوں کی اکثریت ہے جیسا کہ شمالی مغربی صوبہ اور مشرقی حصوں میں ہے وہاں آزاد مملکتوں کی صورت میں اکٹھا کر دیا جائے۔ مسلمانوں نے اس قرارداد کو اپنا نصب العین بنا لیا اور طے کر لیا کہ ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور مسلمان ایک علیحدہ وطن کے مطالبہ پر ڈٹ گئے۔
بالاآخر مسلم لیگ کی سیاسی قوت کے آگے انگریز حکمرانوں اور کانگریسی لیڈروں کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ مسلمانوں نے پاکستان کے لئے بے انتہا، بت بہا اور بے پناہ قربانیاں دیں اور تاریخ ساز و عہد آفرین جدوجہد کے بعد آج ہی کے دن یعنی ١٤ اگست ١٩٤٧ء کو یہ مملکت خدادعالم وجود میں آئی۔
یہ اللہ تعالٰی کا فضل و کرم اور اسکی عنایت و مہربانی اور قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی حکمت عملی اور ہندوستان کے مسلمانوں کی قربانی، ایثار اور ثمر ہے کہ آج ہم ایک آزاد خودمختار قوم کی حیثیت سے جشن آزادی منا رہے ہیں۔

تمام قارئین کو پاکستانی کی طرف سے جشن آزادی کی خوشیاں مبارک ہوں

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

میرا، آپ کا اور ہم سب کا پاکستان

Posted on 14/08/2007. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , |

آج ٦٠ واں یوم آزادی ہے۔

میرے سامنے ٹیبل پر رکھے ٢٠٠٧ء کے کیلنڈر پر ١٤ اگست پر سرخ دائرہ بنا ہوا ہے۔ یہ وہی دن ہے جب دنیا کے نقشے پر اب سے ساٹھ سال پہلے سب سے بڑی اسلامی ریاست “پاکستان“ کی صورت میں نمودار ہوئی۔ یہ آزادی، یہ منزل، یہ دھرتی، یہ مملکت اور یہ ریاست عظیم قربانیوں کے نتیجے میں ہمارا مقدر بنی۔ انگریز بہادر یا ہندو بنیئے نے پلیٹ میں سجا کر ہمیں پاکستان نہیں دیا تھا بلکہ جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں خونریز جنگ کے بعد یہ نعمت عظمٰی ہمارے حصے میں آئی ہے۔ اسی لئے ہم اپنا یوم آزادی انتہائی جوش و خروش کیساتھ مناتے ہیں۔ یہ وطن شہدائے تحریک پاکستان کا ثمر ہے۔ اسی لئے یوم آزادی مناتے وقت ہم انہیں محبت و عقیدت کا خراج پیش کرنا نہیں بھولتے۔ آج ٦٠واں یوم آزادی مناتے وقت بھی یوم اسی جذبے سے سرشار ہے کہ وہ اس مملکت خداداد پاکستان کو اقبال کے دیرنیہ  خواب کی حقیقی تعبیر بنا کر دم لے گی اور قائداعظم نے جو تصورات دیئے ہیں، ان کے رنگ بھرنے کے لئے کوئی وقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائے گا۔

آزادی کے بعد کا سفر پوری قوم کے سامنے ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ قوموں کی زندگی میں نصف صدی یا ٦٠ سال کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ یہ غلط تصور نجانے کہاں سے آیا کیونکہ قوموں کا ایک ایک لمحہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، کسی ایک ساعت کی معمولی سے غلطی کا خمیازہ پوری قوم ہی کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اسی طرح  کسی بھی لمحے کا تاریخ ساز فیصلہ صدیوں کے سفر پر حاوی ہوتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد کئی نسلیں گزر چکی ہیں، جس نسل نے یہ وطن بنایا تھا شاید ہی اس کا کوئی نمائندہ زندہ ہو، دوسری نسل کو بنا بنایا پاکستان ملا تھا یا اس نے اپنے بچپن میں تحریک پاکستان کے چند مناظر دیکھے ہوں گے۔ یہ نسل بھی بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے، جن ہاتھوں میں ابھی کاروبار حیات ہے، یہ اور بات ہے کہ اس کے بعد کی نسل بھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے۔ گویا پاکستان سے محبت کا ورثہ نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ یہ وہ محبت ہے جو کہیں دکھائی نہیں دیتی، اس کا رنگ فضاؤں میں کہیں بھی اپنا وجود نہیں رکھتا، اس کی خوشبو اپنی موجودگی کا کبھی احساس نہیں دلاتی، قومی ترانوں، درودیوار کی سجاوٹوں، یوم آزادی پر برقی قمقموں، قومی جھنڈیوں اور خوبصورت ملبوسات میں میں گھروں سے نکلنے والوں کو دیکھ کر جشن سامانی کا احساس ضرور ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم میں وہ جذبہ بھی ہے جو ١٤ اگست ١٩٤٧ء کو جنوبی ایشیاء کی تاریخ اور جغرافیہ کو بدلنے کا سبب بنا ۔۔۔؟

زندہ قومیں آزادی کا دن یقینا بھرپور انداز میں مناتی ہیں لیکن کیا زندہ قومیں ایک دن جوش و خروش سے منا کر ٣٦٤ دن اپنے وطن عزیز کو تباہ و برباد کرنے پر لگی رہتی ہیں؟ یقینا ایسا نہیں ہو سکتا؟ پھر سوال یہ ہے کہ ہم آخر ١٤ اگست کو یوم آزادی شایان شان انداز میں منانے کے بعد اس ملک کو توڑنے پھوڑنے، خراب کرنے اور اپنی اقدار کی مٹی پلید کرنے پر کیوں لگے ہوئے ہیں؟ یہ خوبصورت وطن ہمارا اجتماعی گھر ہے تو ہم اسے سجانے کے لئے یوم آزادی کے منتظر کیوں رہتے ہیں؟ اس کے گلی کوچوں، بازاروں، سڑکوں، چوراہوں، قصبوں، اور شہروں کو امریکی باشندوں نے گندگی کا ڈھیر نہیں بنایا اور نہ ہی ہم اس صورت حال کا ذمہ دار بھارت، اسرائیل یا اتحادی افواج کو قرار دے سکتے ہیں۔ ان خرابیوں کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔

ریاست تین ستونوں پر قائم رہتی ہے۔ کیا ہمارے ہاں یہ تین ستون مضبوط اور مستحکم ہیں؟

عدلیہ کے ساتھ کیا ہوا؟، حکومت اور عدلیہ میں کس طرح جنگ چھڑی رہی اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں سب آپ کے سامنے ہے۔

مقننہ ریاست کا دوسرا اہم ستون ہوتا ہے، کہنے کو تو ملک میں جمہوریت ہے اور پارلیمنٹ کام کر رہی ہے تو کیا قانون سازی بھی ہو رہی ہے؟ یا صرف فرد واحد کے منہ سے نکلے الفاظ ہی قانون بن جایا کرتے ہیں؟

انتظامیہ عوام کی خادم بننے کے بجائے حاکم بنی ہوئی ہے۔

میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیس، بگٹی کے قتل، کراچی میں لا اینڈ آرڈر اور ریاستی دہشت گردی یا لال مسجد یا اس جیسا کوئی اور واقعہ نہیں دہرانا چاہتا، میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ریاست کا کوئی بھی ستون ایسا ہے جسے توانا سمجھا جا سکے؟ اگر جواب نہیں میں ہے تو پھر کیا اس ریاست کے تابناک مستقبل کے حوالے سے ہمیں کسی خوش فہمی کا شکار رہنا چاہیے؟ یہ سوال ہمیں خود سے دریافت کرنا ہو گا اور اس کے جواب کی روشنی ہی میں ہم کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے اور جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں ہی میں انہوں نے دہری غلامی سے نجات دلا کر ہمیں آزدی کی نعمت سے سرفراز کیا۔ یہ اور بات ہے کہ پاک دھرتی میں شجر جمہوریت جڑیں نہیں پکڑ سکا اور پاکستان کو ایک جدید فلاحی اسلامی ریاست بنانے کا خواب اب بھی ادھورا ہے۔ ہمارے ساتھ آزادی حاصل کرنے والے ممالک کہیں سے کہیں پہنچ گئے ہیں، جاپان اور چین نے ہمارے بعد آزادی حاصل کی، آج ان کا شمار دنیا کی بڑی طاقتوں میں ہوتا، ہم اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ سکے۔ مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا ہم نے اس اہم واقعہ سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور آج پھر سے ہم اسی سفر پر رواں دواں ہیں۔

ہم آزاد ہیں۔ آزادی کا دن منا رہے ہیں لیکن گھمبیر مسائل آج بھی ہمارا مقدر ہیں۔ غربت، جہالت، بیماری، بیروزگاری، پسماندگی اور کون سا مسئلہ ہے جو ہمیں درپیش نہیں۔ ہم نے ان مسائل کے حل کے لئے آج تک کیا کیا؟ حکومت کے دعوے اپنی جگہ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم پاکستان کو مثالی ریاست بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ اس میں ہماری ترقی دنیا کے لئے قابل رشک ہے۔

پاکستان محض مشرف، شوکت عزیز، شجاعت، فضل الرحمٰن، قاضی حسین احمد، عمران خان، بے نظیر یا نواز شریف کا نہیں، یہ پاکستان پیارا پاکستان میرا، آپ کا اور ہم سب کا ہے۔ اس لئے آئیے آج یوم آزادی کے اس مبارک دن ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم آئندہ  زبانی جمع خرچ سے کام نہیں لیں گے بلکہ اپنا سب کچھ قربان کر کے وطن کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔ اگر اس عہد پر عمل درآمد ہوا تو یقین کیجیئے کہ قائد اعظم کے پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا خواب جلد شرمندہِ تعبیر ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاءاللہ
نوٹ۔ میری طرف سے تمام قارئین اور اردو کمیونٹی کو یوم آزادی مبارک کی خوشیاں مبارک ہوں۔

ملتے جلتے عنوان

خوابوں، آرزوؤں اور امیدوں کی سر زمین

نظریاتی مملکت

ہیپی برتھ ڈے پاکستان

فرمانِ قائد

جشنِ آزادی

ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے

یوم آزادی مبارک

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...