رمضان مبارک

Posted on 22/08/2009. Filed under: پاکستان, اسلام, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , |

رمضان ایس ایم ایس

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ہر نظارہ ۔ سبحان اللہ

Posted on 06/06/2009. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , , , , |






Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھادی جائے

Posted on 11/04/2009. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , |

اپنی زندگی پہ غور کریں
نماز جو ہم پہ فرض کر دی گئی

فجر بسترمیں
ظہر نوکری میں
عصر چائے میں
مغرب راستے میں
عشاء ٹی وی میں
جمعہ سونے میں
عید بازاروں میں

نہ درود نہ قرآن
یہ کیسا ہے مسلمان
پھر کہتے ہو کیوں نہیں ہے
اللہ ہم پر مہربان

تو نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھادی جائے






























Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

میرا پاکستان ڈوب رہا ہے

Posted on 16/02/2009. Filed under: پاکستان, اسلام | ٹيگز:, , , , |

اللہ تعالٰی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے
‘تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو، اے مومنو! تاکہ تم فلاح پا جاؤ’ (سورہ النور من آیت ٣١)
ہم جانتے ہیں کہ پاکستان ہم نے اللہ کے نام پر لیا تھا اور اللہ نے ٢٧ رمضان کو یہ تحفہ ہمیں عطا فرمایا۔
پھر ہم نے کیا کیا؟؟؟؟؟؟؟
اللہ سے اس ملک کو بچانے کی دعا تو بعد میں کریں گے پہلے اپنے گناہوں کا اعتراف تو کر لیں۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ رشوت لینا اور دینا لعنت زدہ فعل ہے، اپنے لئے ناجائز سفارش کروانا اپنے بھائی کا حق مارنا ہے۔ ہم نے پاکستان کو ان برائیوں سے داغدار کیا۔
اللہ نے فرمایا سود برباد کر دیتا ہے، ہم نے کہا سود کے بغیر آج کام کون سا ہوتا ہے۔
اللہ نے بتایا کہ ناجائز زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا بھی روز قیامت گلے میں آگ کا طوق ہو گا، ہم نے ناجائز زمین اپنے نام لگوانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔
اللہ نے فرمایا حرام کمائی بےبرکت ہے، عذاب ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘جو گوشت حرام سے پیدا ہوا اسے آگ ہی جلائے گی’ تو ہم نے حرام کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔
اللہ نے فرمایا مال اور اولاد فتنہ و آزمائش ہیں ہم نے مال کو دین اور اولاد کو ایمان بنا لیا۔
جب ہمیں پتا چلا کہ بے حیائی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ باتوں میں سے ہے تو ہم نے
Cable, Vulgar e-mails, non-sense SMS, Movies, Video Songs … ets
کو زندگی کا حصہ بنا لیا۔
ہمیں معلوم ہوا کہ وقت کی قدر کرو، اس کو ضائع نہ کرو، ہم نے گھنٹوں موبائل پر وقت برباد کرنا فرض سمجھ لیا۔
جب عورت کو حکم ہوا کہ تمھارے پاؤں کی جھانجر کی آواز بھی پردہ ہے تو عورت نے فیشن اور its to move in society کے نام پر ہر حد پار کر دی۔
اللہ نے تمام مسلمانوں کو آپس میں بھائی بہن بنایا تو ہم نے اس رشتے کو دوستی میں بدل دیا۔
رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ام المنومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کو اند بھیج دیا کہ نابینا صحابی پر بھی نظر نہ پڑے، وہ پاکیزہ نگاہ کہ جس کی معصومیت کی گواہی فرشتے بھی دیں اور ایک طرف صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن کے مرتبے کو ہم جان ہی نہیں سکتے، یہ صرف امت کو بتانے کے لئے کہ اندازہ کر لو، مرد اور عورت میں فاصلہ اور پردہ کس حد تک ضروری ہے! تو ہم نے کہا لڑکے لڑکیوں کی دوستی تو بہت پاکیزہ ہے، تھوڑا اور حد سے گزرے اور اس بیہودگی کو تہوار کی شکل دے دی اور Valentine Day منانا شروع کر دیا۔
اللہ نے دوستی کے لئے مرد کو مرد اور عورت کو عورت کے لئے منتخب کیا تو ہم نے دوستی تو بنی ہی لڑکی لڑکے کے لئے ہے۔
اللہ نے نامحرم پر ایک نظر اٹھانے سے بھی منع فرمایا تو ہم نے کہا کہ ہماری یہ دوستیاں، phone calls اور ملاقاتیں تو بے ضرر ہیں۔
اللہ نے موسیقی اور آلات موسیقی کو حرام کہا تو ہم نے اسے Music, Songs, FM radio کی شکل میں روح کی غذا بنا لیا۔
دل کا سکون قرآن پاک میں رکھا گیا تو ہم نے حرام موسیقی میں ڈھونڈنے کی کوشش شروع کر دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘نماز کے لئے نہ نکلنے والوں کے گھروں کو آگ لگا دینے کو دل کرتا ہے تو ہم نے سرے سے نماز پڑھنے کے تصور کو ہی ذہن سے رخصت کر دیا، یہاں کوئی جمعے والا مسلمان ہے تو کوئی عید والا اور کسی کو یہ توفیق بھی نہیں ہوتی۔
اللہ نے فرمایا کہ دنیا کے کھیل تماشوں میں پڑ کر کہیں وقت برباد نہ کر دینا تو ہم نے entertainment کے نام پر Restuarants, Clubs, Shopping, Dresses, Jewelry, Shoes کو ہی زندگی مان لیا۔
شیطان نے کہا کہ میں اولاد آدم کو گمراہ کروں گا تو ہم نے کہا لبیک، ہم تمھارے ساتھ ہیں۔
اللہ نے سورہ الاحزاب میں فرمایا کہ ‘اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کا فیصلہ (یا حکم) فرما دیں تو ان کے لئے (مومنوں کے لئے) اپنے کام میں (کرنے یا نہ کرنے کا) کوئی اختیار ہو اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے تو یقیناََ کھلی گمراہی میں بھٹک گیا’۔
ہم نے سب کام، سب احکام اپنے ہاتھ میں لے لئے۔
میرے مالک! کس کس گناہ کی معافی مانگوں
میرا پاکستان ڈوب رہا ہے۔
میرے لوگ بے آسرا ہیں۔
میرے بہن بھائی تکلیف میں ہیں۔
دکھ مرنے کا نہیں، موت تو برحق ہے، دکھ عذاب میں گھِر کر مرنے کا ہے۔
یا اللہ!
جو جان تیری راہ میں تیرے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے نکلنی تھی وہ گناہوں کے سبب تیرے عذاب کا شکار ہو کر نکلے تو ہم مسلمان رہ گئے یا منافق ہو گئے۔
پھر بھی میرے اللہ! تو معاف فرما دے۔
میرے مالک! ہم اپنے گناہوں سے توبہ کر لیتے ہیں تو ہمیں توفیق بخش۔
اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں ہمیں معاف فرما دے۔
اس سیلاب کو آخری آزمائش بنا کر گزار دے
کہیں یہ طوفان نوح بن کر ہم کو غرق نہ کر دے
کہیں عاد و ثمود کی طرح ایسا نہ ہو کہ ایک پل کی مہلت بھی نہ ملے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہم اجتماعی پر عذاب نہیں آئے گا کہ یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے اپنی امت کے لئے۔
میرے مالک! ہمیں انفرادی عذاب سے بچا۔
اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ (سورہ البقرہ ٢٠١)

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

قائدِ قانون

Posted on 09/11/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , |

قائد قانون ہی قومِ عقیق کی عمق ہے۔ قانون حکمران ہو تو قوم کی شان ہوتی ہے، جب انسان ایمان کے ساتھ امان بھی رکھے تو یہ ازاں سے اذعان کا ہی اعلان ہے۔ جسکو اِذن ہوتا ہے وُہ ہر حال قانون شکنی سے اعراض کرتا ہے۔ اعتزال میں بھی اعتصام ِ علم”بالادستیءِ قانون“ تھامے رکھتا ہے۔ اسی کو اعتزاز کا اعزاز کہتے ہیں، جو معاشرے کو معاشروں میں معزز بناتا ہے۔ اسی افتخار کے اقبال کو تاریخ ضیافشاں کی ضوفشاں ٹھہراتی ہے۔
قانون ا قدار، اُصول، قاعدہ، ضابطہ اور پابندی ہیں۔ قانون کچھ بھی ہوسکتا ہے، جس میں کچھ حدود مقرر ہو اور انسانیت کی فلاح واضح ہو۔ ہر گھر کا ایک اُصول، رشتہ کی قدر، کھانے کے آداب، بات کرنے کا انداز، لباس پہننے کا سلیقہ، گفتگو کے قواعد، محافل میں شرکت کرنے کے کچھ ضوابط اور مذہبی احکامات کی کچھ پابندیاں لازم ہوتی ہیں۔ یہ وُہ تمام معاملات ہے جو ایک انفرادی انسان کی ذات کا جز ہونا ضروری ہے۔ تبھی وُہ ایک مہذب انسان کہلاتا ہے۔ لائیبریری میں بیٹھنے،  بازار میں خرید و فروخت، سڑک پر چلنا  کے کچھ قاعدے بھی طےشُد ہیں اور قانون بھی مقرر ہیں، جن میں ٹکراؤ بھی نہیں۔ اِسی طرح جب ہم ایک فرد سےگروہ، تنظیم اور قوم کی حد تک چلتے ہیں تو انسان کی مضبوطی سے لے کر معاشرہ کے استحکام اور پھر مملکت کی طاقت اور امّہ کا اتحاد صرف اور صرف اپنے اپنےدائرہ  کے حدود کی مکمل پاسداری میں ہے۔ ہر درجہ کے کچھ اُصول اور قانون ہوتے ہیں۔ قانون احترام  سے ہوتا ہے، احترام قانون  سے نہیں۔
قانون ہمیں حدود سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے۔ قانون کی پابندی ہی قانون کی بالادستی  ہے جو پابند نہیں وُہ عہد شکن  ہے جو باغی کہلاتا ہے اور باغی شیطان بھی ہوتا ہے۔ جب کبھی قانون کو توڑا جاتا ہے۔ ادارے، ملک اور قوم کمزور ہو کر انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی قوم کی ترقی کا راز قانون کی حکمرانی اور بالادستی میں مضمر ہے۔ مگر آج یہ بات ہمیں شائد سمجھ نہ آئے کیونکہ ہمیں کسی کی عزت اور قدر کا احساس نہیں۔ قانون کی حکمرانی انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ قانون توڑنے والا قانون نافذ نہیں کرسکتا؛ وُہ صرف قانون شکنی کرنا جانتا ہے۔ کیونکہ اُس کا مزاج ہی شکن افروز ہوتا ہے۔ عہد شکن، مزاج شکن، قانون شکن،  روایت شکن، مذہب شکن مگر وُہ بت شکن نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ بت کدوں سے ہی شکن مزاجیاں بنتی ہیں؛ جو اُسکی شہ سُرخیاں رہتی ہے۔
اسلام نےقانون کی بالادستی کی بنیاد لاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ سےسمجھا دی۔ لفظ ’پاکستان‘  کلمہ طیبہ ہی سے ہیں تو پاکستان کا قانون بھی یہی ہوا۔ ذرا سوچیئے! یہ ہمارا اللہ سے وعدہ ہے؟ دین اسلام کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپکو اللہ کی رضا کے تابع کرلینا۔ کیا آج ہم سب اپنے آپکو اللہ کی رضا کے تابع کر چکے ہیں؟ تو پھر قانون کی بالادستی بہت دور ہے۔ کیونکہ قانون کی بالادستی والدین کا احترام اور خدمت کرنے سے شروع ہوتی ہے، اپنےقول کو ہر حال نبھانا، وعدہ کی پاسداری کرنا بھی ہے۔
آج ہمارا قانون اپنی ذات کے لئے نہیں ہوتا دوسروں کی ذات کے لئے ہوتا ہے۔ قانون سزا دینے کے لئے بناتے ہیں معاشرہ کی اصلا ح کے لئے نہیں بناتے بلکہ اصطلاح اپنی جزاء کے لئے کرتے ہیں۔ جبکہ یہ قانون شکنی ہوتی ہے۔ عادل کا انصاف دیانتداری سے ترازو کےدونوں پلڑوؤں کو مساوی کر کے ہم وزن کر دینا ہی قانون کی بالادستی ہے۔ کیا آج ہماری خواہشات قانون کے آگے سرخم کرتی ہیں اگر کر دیں تو قانون کی حکمرانی معاشرہ میں ہوگی۔ جس سے ہمارےگھر، شہر، ملک اور دُنیا بلکہ ہر معاملہ شعبہءزندگی میں امن قائم ہو جائےگا۔ قانون کا احترام well mannered لوگ کیا کرتے ہیں، وُہ افراد اعلٰی ظرف، تہذیب یافتہ عالی خاندانوں کے چشموں چراغ اور مہذب قوم کے نمائندے کہلاتے ہیں۔ جو قانون کا احترام نہ کرسکیں وُہ well mannered  نہیں ہوسکتا۔ جو well-mannered نہیں وُہ نہ تو respected ہو سکتا ہے اور نہ ہی Honoarable ۔
آج ہم قاعدہ کیوں نہیں بناتے کہ ایک کہانی ہے کہ ’چور اپنے اصول کی وجہ سے پکڑا گیا ورنہ چوری تو وُہ کر بیٹھا تھا۔ اصول نے مروا دیا۔ وُہ بے وقوف تھا۔‘حقیقتاً وُہ معاشرہ اور چور نادان نہ تھے نہایت ہی عاقل تھے۔ چوروں کے کچھ لوٹنے کے اُصول بھی ہوتے تھے۔ آج اصول نہیں تبھی اخبارات ڈاکو کے ڈاکے کے ساتھ قتل، ظلم اور زیادتی کی خبر ہیں۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہو وہاں چور چوری مجبوری سےکرتا ہے، اور اپنی ضرورت سے بڑھ کر زیادتی نہیں کرتا۔ صرف اپنی ضرورت پوری کرتا ہے، ہوس (دولت، مرتبہ، نگاہ) کی تسکین نہیں کرتا۔
اگر کسی قوم کو کامیاب بننا ہے تو ہرفرد کو اپنے اندر دوسروں کی عزت کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اُصولوں پر ڈٹ جانا؛ چاہے موت واقع ہو جائے مگر ضمیر کا سودا نہ کرے۔ اس کا عملی نمونہ قائد اعظم رول ماڈل کے طور پر ایک مشعلچی کی صورت میں مشعل راہ ہے۔ جب ہم اپنے دل اور مزاج پر اللہ  کی حاکمیت کو تسلیم کریں گے تو قانون کی حکمرانی آہستہ آہستہ ہماری ذات، گھر، خاندان، شہر، معاشرے اور ملک میں نافذ ہو جائےگی۔ ہمیں خود مشعلچی نہیں بننا بلکہ اُس مشعل راہ کو اپنانا ہے جو قائداعظم نےعطاء کی۔
بالادستیءِ قانون انسان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ہر طرح کا تحفظ جو آپ سوچ سکتے ہیں۔ صحتمند قوم صحتمند سوچ سے ہی ہوتی  ہے اور صحتمند سوچ قانون کی حکمرانی سے ہوتی ہے۔
اے اللہ ہر مسلمان کو اپنے والدین کا احترام کرنے کی توفیق عطاء فرما یہی احترام قانون کی اساس ہے اور ملک پاکستان پر اخلاق کی قدر سے قانون کی بالادستی عطاء فرما دے۔ اسی اغلاق کا اطلاق ہونا باقی ہے۔ یہی اعماق ہیں جنکو عملی طور پر اختیار کر کےسمجھنا اَشد ضروری ہے۔ (فرخ)
عقیق (قیمتی) ، عمق (گہرائی) ، ازاں (آغاز)، اذعان (فرمانبرداری سےاطاعت)، اِذن (اختیار سونپنا)، اعراض (بچنا)، اعتزال (دستبرداری)، اعتصام ِ علم (مضبوطی سےجھنڈا تھامےرکھنا)، اعتزاز (وُہ خوبی جسکا اثر بھی ہو) ، ضیافشاں (روشنی پھیلانا) ، ضوفشاں (روشنی پھیلنا)

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پاپائے روم کے بیان کا مکمل متن

Posted on 17/09/2006. Filed under: دنیا بھر سے | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

پاپائے روم بینیڈکٹ نے مسلمانوں کی طرف سے ان کے بارہ ستمبر کے بیان پر ناراضگی کے بعد افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پاپائے روم کے بیان کا متن۔

پیارے بہنو اور بھائیو،
لوگوں کے نجی معاملات میں مدد کے حوالے سے حال ہی میں بواریا کا میرا دورہ طاقتور روحانی تجربہ تھا جس میں جانی پہچانی جگہوں سے اور مقدس پیغام کے مؤثر اظہار کے لیئے شروع کیئے جانے والے لوگوں کی فلاح کے منصوبوں سے وابستہ یادیں شامل تھیں۔

میں اندرونی خوشی کے لیئے خدا کا شکر گزار ہوں اور میں ان لوگوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس پیسٹورل دورے (لوگوں کی نجی زندگی میں مدد کے لیئے کئے جانے والے کام) میں میری مدد کی۔

اس دورے کے بارے میں مزید بات چیت روایت کے مطابق آئندہ بدھ کو ہونے والے جلسۂ عام میں ہوگی۔

اس وقت میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ مجھے جرمنی میں دیئے گئے اپنے بیان کے کچھ حصوں پر، جو مسلمانوں کو برے لگے تھے، چند ممالک میں ہونے والے رد عمل پر بہت افسوس ہے۔

وہ دراصل قرون وسطیٰ کی ایک دستاویز سے لیئے گئے تھے اور میرے جذبات کی عکاسی نہیں کرتے۔

کل خارجہ امور کے نگران نے اس کے بارے میں ایک بیان جاری کیا تھا میرے بیان کا صحیح مفہوم سمجھایا گیا تھا۔

میں امید کرتا ہوں کہ اس سے بے چینی ختم ہوگی اور میرے بیان کا درست مطلب واضح ہوگا جو باہمی احترام کے ساتھ بلا تکلف اور مخلصانہ مکالمے کی دعوت ہے۔

اس سے پہلے ویٹیکن میں خارجہ امور کے نگران تارسیسیو بیرٹونے نے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں پاپائے روم بینیڈکٹ نے کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ ان کی ایک تقریر جس میں انہوں نے اسلام کا حوالہ دیا تھا مسلمانوں کو بری لگی ہے۔

مسلمانوں کی جانب سے مقدس باپ کی جامعۂ رجینزبرگ میں تقریر کے کچھ حِصّوں پر اعتراض اور ’ہولی سی‘ کے پریس آفس کے ناظم کی طرف سے جاری کی گئی وضاحت میں مندرجہ ذیل اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔

اسلام کے بارے میں پاپائے روم کا مؤقف وہی ہے جو کلیسا کے غیر عیسائی مذاہب کے ساتھ روابط کے بارے میں اعلامیے میں بیان کیا گیا ہے۔

’کلیسا مسلمانوں کو بھی تقریم کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ اس ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں، جو کسی کا محتاج نہیں، مہربان اور قدرت والا ہے، آسمان اور زمین کا خالق ہے، جو انسان سے مخاطب ہوا، وہ(مسلمان) اس کے مشکل ترین احکامات کی بجا آوری میں ہر تکلیف برداشت کرتے ہیں جیسا کہ ابراہیم نے کیا تھا جس کے ساتھ مذہبِ اسلام اپنا ناطہ جوڑے جانے پر خوشی محسوس کرتا ہے۔

وہ عیسیٰ کو خدا نہیں مانتے لیکن اس کا بحیثیت پیغمبر احترام کرتے ہیں۔ وہ مریم کو بھی بلند مقام دیتے ہیں اور بعض اوقات ان سے عقیدت کے ساتھ رجوع بھی کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کا آخرت پر ایمان ہے جب خدا مردوں کو زندہ کر کے ان کے میدانوں میں کھڑا کر دے گا۔

آخر میں وہ اچھی زندگی گزارنے پر یقین رکھتے ہیں اور خدا کی عبادت کرتے ہیں خاص طور پر دعا، خیرات اور روزے کے ذریعے‘۔

پاپائے روم کی بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کے بارے میں سوچ میں کوئی شک و شبہہ نہیں۔

انہوں نے جرمنی کے شہر کولون میں بیس اگست سن دو ہزار پانچ میں مسلمانوں سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مکالمے کو ممکنات کے زمرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔

’ماضی کے تجربات یقیناً ہمیں غلطیوں دہرانے سے روک سکتے ہیں۔ ہمیں صُلح کے راستے تلاش کرنے چاہیں اور ایک دوسرے کی شناخت کو قبول کرتے ہوئے باہمی احترام کے ساتھ جینا چاہیے‘۔

جہاں تک بازنتینی بادشاہ مینویل دوئم کے ان خیالات کا تعلق ہے، جن کا حوالہ انہوں نے ریجنزبرگ میں دیا تھا، پاپائے روم کا ان کو کسی بھی طرح نہ اپنانے کا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ان کی بات کا یہ مطلب تھا۔

ان کا یہ حوالہ دینے کا مقصد صرف تعلیمی تناظر میں مذہب اور تشدد کے درمیان تعلق کے موضوع پر عمومی طور پر کچھ خیالات کا جائزہ لینا اور سختی سے اس سوچ کو مسترد کرنا تھا کہ مذہب میں تشدد کا جواز تلاش کیا جا سکتا ہے اور یہ ان کے بیان کے مکمل متن کے بغور مطالعے سے واضح ہے۔

اس موقع پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاپائے روم نے حال ہی میں اپنے پیش رو کی طرف سے شروع کیئے جانے والے امن کے بین المذاہبی دعائیہ اجلاس کی بیسویں برسی کے موقع پر کہا تھا کہ ’۔۔۔۔تشدد کی وجہ مذہب نہیں بیان کی جا سکتی بلکہ یہ ان ثقافتی حدوں کا نتیجہ ہے جن میں اس پر عمل ہوتا ہے اور جن میں یہ پنپتا ہے۔۔۔۔۔در حقیقت خدا کے ساتھ رشتہ اور اخلاقیاتِ محبت میں تعلق کی تمام عظیم مذہبی روایات سے تصدیق ہوتی ہے‘۔

مقدس باپ پس مخلصی کے ساتھ معذرت خواہ ہیں کہ ان کے بیان کے کچھ حصے مسلمانوں کو برے لگے ہوں گے اور ان کا ایسا مطلب نکالا گیا جو کسی بھی طرح ان کا ارادہ نہیں تھا۔

اور یہ پاپائے روم ہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کے مشتعل ہونے سے پہلے سیکولر مغربی ثقافت کو متنبہ کیا تھا کہ ’خدا کی توہین‘ اور آزادی اظہار کے ایسے خبط سے باز رہیں جو مقدس چیزوں کی تضحیک کو جائز سمجھتا ہو۔

پاپائے روم نے اسلام کے ماننے والوں کے لیئے اپنے احترام کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ان کے الفاظ کا درست مطلب سمجھ سکیں گے تاکہ موجودہ بے چینی کو پیچھے چھوڑ کر ’انسان سے مخاطب ہونے والے آسمان اور زمین کے خالق‘ کی گواہی دی جا سکے اور ’مِل کر تمام انسانیت کے لیئے انصاف اور اخلاقی بہبود اور امن اور آزادی‘ کے لیئے کوششیں تیز کی جا سکیں۔ بشکریہ بی بی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عورت – ایثار و محبت کا لازوال شاہکار

Posted on 28/08/2005. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , |

کہتے ہیں عورت ایک پہیلی ہے، ایسی پہیلی جسے بوجھنے والا اکثر حیران ہوتا ہے۔ عورت ماں بھی ہے، بیوی بھی، بہن اور بیٹی بھی ہے۔ اپنے ہر کردار میں اس کے جذبات و احساسات ایسے ایسے انوکھے رنگ دکھاتے ہیں کہ دیکھنے والے حیران رہ جائیں۔
کہتے ہیں عورت جفا پیشہ اور فتنہ گر ہوتی ہے، یہ سب الزام نسوانی احترام اور فطرت کے بنائے ہوئے قوانین کی نفی کرتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ عورت وفا پیشہ اور ایثار و محبت کا لازوال شاہکار ہے۔ ماں، بیوی، بہن، بیٹی چاہے وہ ان میں سے کسی بھی روپ میں ہو اس کا ہر رشتہ تقدس کا داعی ہے۔ وہ عہدوفا کی سچی اور کردار کی بےداغ ہوتی ہے۔ لیکن کیا آج معاشرے میں اس کو وہ اہمیت حاصل ہے جس کی وہ حقدار ہے۔
مرد عورت کو کمزور سمجھتا ہے اور پھر ہر دور میں ناپاک خواہشات کے حامل لوگ عورت سے زیادتی کرتے آئے ہیں۔ لیکن اسلام ایک ایسا واحد مذہب ہے جس نے عورت کو اس کا صیحیح مقام و مرتبہ دیا، اسے عزت و توقیر عطا کی۔ اسلام نے عورت کو ظلم کی کال کوٹھری سے نکال کر اسے اس مقام پر بٹھا دیا جس کی وہ حقدار تھی۔ اسلام نے عورت کا جو معتبر اور قابل قدر کردار متعین کیا تھا مسلمانوں نے اسے ملحوظ خاطر نہ رکھا، کہیں تو انہوں نے عورت کو گھر کی چاردیواری میں قید کر دیا اور پردے کو اس قدر سخت کر دیا کہ اس کے لئے سانس تک لینا مشکل ہو گیا اور کہیں اتنی چھوٹ دے دی کہ اس نے چادر اور چاردیواری کا تقدس کھو دیا اور گھر کی چاردیواری پھلانگ کر شرافت و عزت کی تمام سرحدیں پار کر گئی۔
اسلام نے عورت کو جو رتبہ دیا دوسری قوموں نے اس سے متاثر ہو کر اس کی تقلید میں آزادی نسواں کے نام پر اس قدر آگے بڑھیں کہ عورت ہر میدان میں مرد کی ہمسر بن گئی۔ دوسری طرف مغربی معاشرے کے رنگ ڈھنگ کو اکثر مسلمانوں نے ترقی کی علامت سمجھ لیا، جس سے مسلم معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا، ایک وہ جس میں عورت مجبوری و بے بسی کی تصویر ہے اور دوسرا حصہ وہ جس میں عورت مکمل خود مختیار ہے۔ یوں اسلام کا حقیقی نظریہ نظروں سے اوجھل ہو گیا جو متوازن اور قابل عمل ہے۔
کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارے معاشرے کی عورت اتنی مجبور اور بے بس کیوں ہے۔ کبھی ہم نے غور کیا کہ آج عورت کی عزت کیوں محفوظ نہیں رہی، علاج کے نام پر مسیحا، انصاف کے نام پر قانون کے محافظ، تعویز اور ٹونے ٹوٹکے کے نام پر جعلی پیر اور ملاں، حصول علم کی خواہش پر اساتذہ عورت کو بے آبرو کے دیتے ہیں۔ آج بازار سے لیکر ہسپتال تک اور کالج سے لیکر گھر کی چاردیواری تک عورت کی عزت کہیں بھی محفوظ نہیں رہی۔ خدا جانے مرد کی انفرادی غیرت سو گئی یا اجتماعی غیرت موت کے گھاٹ اتر گئی۔
آخر اس معاشرے کے مرد کا ذہن اتنا چھوٹا کیوں ہے کہ وہ عورت کو اتنا حقیر سمجھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ بھی بیٹوں کو بیٹیوں کی نسبت زیادہ فوقیت دیتے ہیں۔ نچلے طبقے کا عورت سے رویہ دیکھ کر شرم سے نگاہیں جھک جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے آج بھی بہت سے خاندان بیٹیوں کو تعلیم نہیں دلواتے کہ اس نے پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے، سینا پرونا، کھانا پکانا اور جھاڑو دینا سیکھ جائے تاکہ دوسرے گھر میں جا کر کچھ فائدہ ہو۔ ان لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ سینا پرونا اور کھانا پکانا گو کہ زندگی کے لئے لازمی سہی مگر زندگی کو بنارتی سنوارتی تو تعلیم ہے۔ تعلیم ہی انسان کو انسان کے رتبے پر فائز کرتی ہے۔ تعلیم ہی انسان کو اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے۔ بیٹیاں اس لئے بھی ماں، باپ کو بوجھ لگتی ہیں کہ ان کو کچھ دینا پڑتا ہے، یہ والدین کا سہارا نہیں بن سکتی، اسی خوش فہمی میں والدین بیٹوں کو سر چڑھا لیتے ہیں کہ یہ ان کے بڑھاپے کا سہارہ بنیں گے لیکن اکثر لڑکے بعد میں والدین کو بوجھ سمجھتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے عورت کو اس کا صیحیح مقام دے دیا ہے لیکن یہ ہم سب کی بہت بڑی بھول ہے۔ عورت باپ کے گھر میں ہو تو شادی تک پابندیوں میں گھری رہتی ہے اور شادی کے بعد سسرال والوں کی پابندیاں جھیلنی پڑتی ہیں، جہیز کم ملنے یا نا ملنے پر ان کی جلی کٹی باتوں پر ساری زندگی گزار دیتی ہے اور کبھی سسرال والوں کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو اس کا شوہر طاقت استعمال کر کے اسے مارپیٹ سکتا ہے اور طلاق جیسا گھناؤنا لفظ سنا کر اسے ذلیل و رسوا کر سکتا ہے۔ عورت کیا کیا باتیں اور کون کون سے ظلم برداشت نہیں کرتی، اس کے باوجود وہ سارا دن کولہو کے بیل کی طرح کام کرتی ہے گھر کو بناتی سنوارتی ہے، بچوں کی تربیت کرتی ہے لیکن بدلے میں اسے کیا ملتا ہے ذلت اور رسوائی کا تمغہ۔
عورت کے چار فورس ہیں۔ ماں، بیوی، بہن، بیٹی، ان چاروں رشتوں میں وہ پیار و محبت اور کی سچی تصویر ہے۔ عورت محبت کی دیوی ہے، کیونکہ اس کا ضمیر محبت سے اٹھا ہے۔ وہ جب محبت کرتی ہے تو ٹوٹ کر کرتی ہے اور اس میں کسی کو رتی برابر بھی شریک نہیں کر سکتی۔ اگر کسی کے سامنے تن جائے تو ٹوٹ سکتی ہے جھک نہیں سکتی۔ عورت زمین پر رینگنے والا کیڑا نہیں، عورت احساسات سے عاری نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی انسان ہے۔

عورت ۔ جفا پیشہ اور فتنہ گر

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...