کیری لوگر بل کا متن

Posted on 01/10/2009. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

واشنگٹن: ذیل میں جمعرات24 ستمبر 2009ء کو سینیٹ سے پاس ہونے والے کیری لوگربل کامتن پیش کیا جارہا ہے۔ یہ ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوو میں پیش کیا جارہا ہے، اور اگر یہ بغیرکسی ترمیم کے منظور ہوگیا تو صدر اوباما کے پاس قانون دستخط کے لیے بھیج دیاجائے گا،

جس کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
s.1707
پاکستان کے ساتھ تعلقات کے فروغ ایکٹ برائے 2009 ء
(مستغرق، متفق یاسینیٹ سے منظور)
SEC. 203
کچھ امداد کے حوالے سے متعین حدود

(a)
سیکورٹی تعلقات میں معاونت کی حدود: مالی سال 2012 ء سے 2014ء کے لیے، پاکستان کومالی سال میں اس وقت تک کوئی سیکورٹی تعلقات میں معاونت فراہم نہیں کی جائے گی،جب تک سیکریٹری آف اسٹیٹ، صدر مملکت کی ہدایت پرسب سیکشن
(c)
میں درج ہدایات کے مطابق منظوری نہ دے دیں۔

(b)
اسلحہ کی فراہمی کی حدود: مالی سال 2012ء سے 2014ء تک کے لیے، پاکستان کواس وقت تک بڑا دفاعی سامان کی فروخت کا اجازت نامہ یا لائسنس، دی آرم ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ (22
usc 2751et seq.)
کے مطابق جاری نہیں کیا جائے گا ، جب تک امریکی وزیر خارجہ امریکی صدرکی ہدایت کے مطابق، سب سیکشن
(c)
میں درج ضروریات کے مطابق منظوری نہ دے دیں

(c)
تصدیق کاعمل: اس سب سیکشن کے تصدیقی عمل کے لیے ضروری ہے کہ اسے سیکریٹری آف اسٹیٹ ، صدرکی ہدایت کے مطابق منظورکریں گے، کانگریس کی کمیٹیزکے مطابق کہ

(1)
امریکا، حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گاکہ پاکستان جوہری ہتھیاروں سے متعلق مواد کی منتقلی کے نیٹ ورک کو منہدم کرنے میں کردار ادا کرے، مثلاً اس سے متعلقہ معلومات فراہم کرے یا پاکستانی قومی رفاقت جو اس نیٹ ورک کے ساتھ ہے تک یابراہ راست رسائی دے۔ حکومت پاکستان نے موجودہ مالی سال کے دوران مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اب بھی دہشت گرد گروپوں کے خلاف موثر کوششیں کررہی ہے۔

سیکشن 201میں امداد کے جن مقاصد کو بیان کیا گیا ہے۔ ان کے تحت حکومت پاکستان نے مندرجہ ذیل امور میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

(الف) مدد روکنا: پاکستانی فوج یا کسی انٹیلی جنس ایجنسی میں موجود عناصر کی جانب سے انتہا پسندوں یا دہشتگرد گروپوں ، خصوصی طور پر وہ گروپ جنہوں نے افغانستان میں امریکی یا اتحادی افواج پر حملے کئے ہوں،یا پڑوسی ممالک کے لوگوں یا علاقوں پر حملوں میں ملوث ہوں

(ب) القاعدہ ، طالبان اور متعلقہ گروپوں جیسے کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد سے بچاؤ اور پاکستانی حدود میں کارروائیاں سے روکنا ، سرحد پر پڑوسی ممالک میں حملوں کی روک تھام ، قبائلی علاقوں میں دہشت گرد کیمپوں کی بندش ،ملک کے مختلف حصوں بشمول کوئٹہ اور مریدکے میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ، اہم دہشت گردوں کے بارے میں فراہم کردہ خفیہ معلومات کے بعد کارروائی کرنا،

(ج)انسداد دہشتگردی اور اینٹی منی لانڈرنگ قانون کو مضبوط بنانا،

(3)
پاکستان کی سیکورٹی فورسز پاکستان میں عدالتی و سیاسی معاملات میں عملاًیا کسی اور طریقے سے دخل اندازی نہیں کرینگی۔ بعض ادائیگیاں

(1)
عام طور پر ان کا تعلق پیرا گراف

(2)
سے ان فنڈز میں سے کسی کا تعلق مالی سال 2010ء سے 2014ء تک کے مالی سال سے نہیں ہے یا اس فنڈ کا کوئی تعلق پاکستان کے کاؤنٹر انسرجینسی کیسے بلیٹی فنڈ سے بھی نہیں ہوگا جو سپلی مینٹل ایپرو پری ایشن ایکٹ 2009ء (پبلک لاء 32-III کے تحت قائم ہے) اس کا دا ئرہ کار ان ادائیگیوں تک وسیع ہوگا جن کا تعلق (الف) لیٹر آف آفر اینڈ ایکسپٹینس
(Letter Of Offer And Acceptnce)، PK-D- NAP
سے ہے۔ جن پر امریکا اور پاکستان نے 30ستمبر 2006ء کو دستخط کئے تھے اور (ب)پاکستان اور امریکا کی حکومتوں کے درمیان 30ستمبر 2006کو دستخط شدہ لیٹر آف آفر اینڈ ایکسپٹنس
PK-D-NAP
اور
(ج )
(Letter Of Offer And Acceptnce)، PK-D- NAP جس پر امریکی حکومت اور حکومت پاکستان کی جانب سے 30ستمبر 2006ء کو دستخط ہوئے تھے۔

استثنیٰ: مالی سال 2010ء سے 2014ء تک کیلئے جو فنڈز سیکورٹی میں مدد دینے کے لئے مختص کئے گئے ہیں وہ تعمیرات اور متعلقہ سرگرمیوں کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں جن کی وضاحت
Letter Of Offer And Acceptnce کے پیرا گراف

(1)
میں کی گئی ہے۔ تحریری دستاویز: وزیر خارجہ صدر کی ہدایت کے تحت مختص رقم میں سیکشن
(B)-A) اور (D)
کے تحت ایک سال کے لئے کمی کرسکتے ہیں وزیر خارجہ یہ اقدام اس وقت اٹھائیں گے جب انہیں خیال ہوگا کہ یہ اقدام امریکا کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔

تحریری دستاویز کا نوٹس: وزیر خارجہ کو صدر کی ہدایت کے مطابق رقوم میں کمی کا اختیار پیرا گراف
(1)
کے مطابق اس وقت تک استعمال نہیں کرسکیں گے جب تک کانگریس کی متعلقہ کمیٹی کو اس سلسلے میں سات روز کے اندر تحریر نوٹس نہ مل جائے جس میں رقوم میں کمی کی وجوہات درج ہوں یہ نوٹس کلاسیفائیڈ یا نان کلاسیفائیڈ شکل میں ضرورت کے مطابق پیش کیا جائے گا۔

(ف) مناسب کانگریسی کمیٹیوں کی تعریف: اس حصے میں مناسب کانگریسی کمیٹیوں کی اصطلاح سے مراد ایوان نمائندگان کی نمبر 1 کمیٹی برائے خارجہ امور، کمیٹی برائے مسلح افواج، کمیٹی برائے حکومتی اصلاحات اور فروگذاشت، 2 سینیٹ کی امور خارجہ تعلقات کمیٹی، مسلح افواج کمیٹی اور نتیجہ کمیٹی برائے انٹیلی جنس ہیں۔ سیکشن 204 خانہ جنگی سے نمٹنے کی پاکستانی صلاحیت کا فنڈ (ایف) مالی سال 2010 (1) عمومی طور پر۔ برائے مالی سال 2010 کیلئے ریاست کے محکمہ نے ضمنی تخصیص ایکٹ 2009 (بپلک لا 111-32) کے تحت پاکستان کی خانہ جنگی سے نمٹنے کی صلاحیت کافنڈ قائم کر دیا گیا ہے۔ (اس کے بعد اسے صرف فنڈ لکھا جائے گا) پر مشتمل ہو گا۔ مناسب رقم پر جو اس سب سیکشن پرعملدرآمد کیلئے ہو گی (جو شاہد شامل نہیں ہو گی اس مناسب رقم میں 70 ایکٹ کے عنوان نمبر ایک پر عملدرآمد کیلئے ہے۔

(ب) وزیر خارجہ کو دستیاب رقم بصورت دیگر اس سب سیکشن پر عملدرآمد کیلئے ہو گی۔

(2) فنڈ کے مقاصد ، فنڈز کی رقم اس سب سیکشن پرعملدرآمد کیلئے کسی بھی مالی سال دستیاب ہو گی اور اس کا استعمال وزیر خارجہ، وزیر دفاع کی اتفاق/ مشاورت سے کریں گے اور یہ پاکستان کی انسداد خانہ جنگی صلاحیت کے فروغ اور استحکام پر انہی شرائط کے تحت صرف ہو گی۔ ماسوائے اس سب سیکشن جو مالی سال 2009 کیلئے دستیاب فنڈ اور رقوم پر لاگو ہو گا۔

(3) ٹرانسفر اتھارٹی ،

(الف) عمومی طور پر: امریکی وزیر خارجہ کسی بھی مالی سال کیلئے پاکستان انسداد خانہ جنگی فنڈ جو ضمنی تخصیص ایکٹ 2009 کے تحت قائم کیا گیا ہے، کو رقوم منتقل کرنے کی مجاز ہوں گی اور اگر وزیر دفاع کے اتفاق رائے سے یہ طے پائے کہ فنڈ کی ان مقاصدکیلئے مزید ضرورت نہیں جن کیلئے جاری کئے گئے تھے تو وہ وزیر خارجہ یہ رقوم واپس کر سکتے ہیں۔

(ب) منتقل فنڈ کا استعمال۔ سیکشن 203 کی ذیلی شق (د) اور (ع) کے تحت پیرا گراف (الف) میں دی گئی اتھارٹی اگر فنڈ منتقل کرتی ہے تو انہی اوقات اور مقاصد کے تحت پاکستان انسداد خانہ جنگی فنڈ کے لئے استعمال ہو گی۔

(ج) دوسری اتھارٹیوں سے تعلقات۔ اس سب سیکشن کے تحت معاونت فراہم کرنے والی اتھارٹی اضافی طور پر دیگر ممالک کو بھی امداد کی فراہمی کا اختیار رکھے گی۔

(د) نوٹیفکیشن۔ وزیر خارجہ سب پیرا گراف (اے) کے تحت فنڈز کی فراہمی سے کم از کم 15 روز قبل کانگریس کی کمیٹیوں کو تحریری طور پر فنڈز کی منتقلی کی تفصیلات سے آگاہ کریں گی۔

(ر) نوٹیفکیشن کی فراہمی۔ اس سیکشن کے تحت کسی نوٹیفکیشن کی ضرورت کی صورت میں کلاسیفائیڈ یا غیر کلاسیفائیڈ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

(س) کانگریسی کمیٹیوں کی وضاحت۔ اس سیکشن کے تحت مجاز کانگریشنل کمیٹیوں سے مراد

(1)
ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی اور خارجہ تعلقات کمیٹی

(2)
سینیٹ کی آرمڈ سروسز اور خارجہ تعلقات کمیٹی ہے۔ سیکشن 205 فراہم کی گئی امداد کا سویلین کنٹرول ضروریات (1) مالی سال 2010 سے مالی سال 2014 کے دوران حکومت پاکستان کو سیکورٹی کیلئے فراہم کی گئی براہ راست نقد امداد پاکستان کی سویلین حکومت کے سویلین حکام کو فراہم کی جائے گی۔ کیری لوگر بل کی سیکشن 205 کے تحت مخصوص امدادی پیکیج پر سویلین کنٹرول کی شرط کیری لوگر بل میں سیکشن 205 کے تحت پاکستان کو امداد کی فراہمی کیلئے سویلین کنٹرول کی شرائط عائد کی گئی ہیں۔

(ا) شرائط :

(1)
عمومی طور پر 2010ء سے 2014ء تک حکومت پاکستان کو امریکہ کی جانب سے ملنے والی سیکورٹی معاملات سے متعلقہ کیش امداد یا دیگر نان اسسٹنس (غیر امدادی) ادائیگیاں صرف پاکستان کی سویلین حکومت کی سویلین اتھارٹی کو دی جائیگی۔

(2)
دستاویزی کارروائی مالی سال 2010-2014ء تک امریکی وزیر خارجہ، وزیر دفاع کی معاونت اور تعاون سے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ امریکہ کی جانب سے حکومت پاکستان کو دی جانے والی غیر امدادی
(Non-Assistance)
ادائیگیوں کی حتمی دستاویزات پاکستان کی سویلین حکومت کی سویلین اتھارٹی کو وصول ہو چکی ہیں۔

(ب) شرائط میں چھوٹ :

(1)
سیکورٹی سے متعلق امداد، بل کے مطابق امریکی وزیر خارجہ، وزیر دفاع سے مشاورت کے بعد ذیلی سیکشن (a) کے تحت سیکورٹی سے متعلق امداد پر عائد شرائط کو ختم کر سکتے ہیں۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ یہ سیکورٹی امداد امریکی بجٹ کے فنکشن نمبر 150 (بین الاقوامی معاملات) سے دی جا رہی ہو اور امریکی وزیر خارجہ کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو اس امر کی یقین دہانی کرائیں کہ شرائط میں چھوٹ امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے ضروری اور امریکی مفاد میں ہیں۔،

(2)
غیر امدادی
(Non-Assistance)
ادائیگیاں امریکی وزیر دفاع، وزیر خارجہ کی مشاورت سے ذیلی سیکشن
(a)
کے تحت ایسی غیر امدادی ادائیگیاں جو بجٹ فنکشن 050 (قومی دفاع) کے اکاؤنٹس سے کی جا رہی ہوں۔ پر عائد شرائط کو ختم کر سکتے ہیں۔ تاہم اس چھوٹ کیلئے وزیر دفاع کو کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو یقین دہانی کرانا ہو گی۔ کہ پابندیاں میں چھوٹ امریکہ کے قومی مفاد کیلئے اہم ہے۔

(ج) بعض مخصوص سرگرمیوں پر سیکشن (205) کا اطلاق۔ درج ذیل سرگرمیوں پر سیکشن 205 کے کسی حصے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

(1)
ایسی کوئی بھی سرگرمی جس کی رپورٹنگ 1947 کے قومی سلامتی ایکٹ (50
U.S.C. 413 et Seq)
کے تحت کیا جانا ضروری ہے۔

(2)
جمہوری انتخابات یا جمہوری عمل میں عوام کی شرکت کی فروغ کیلئے دی جانے والی امداد،

(3)
ایسی امداد یا ادائیگیاں جن کا وزیر خارجہ تعین کریں اور کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو یقین دہانی کرائیں کہ مذکورہ امداد یا ادائیگیوں کو ختم کرنے سے جمہوریت حکومت اقتدار میں آ گئی ہے۔،

(4)
مالی سال 2005ء میں رونلڈ ڈبلیو ریگن نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ کی سیکشن (20 (ترمیم شدہ) کے تحت ہونے والی ادائیگیاں
(Public Law 108-375, 118 Stat 2086) ،

(5)
امریکی محکمہ دفاع اور وزارت دفاع اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مابین کراس سروسنگ معاہدے کے تحت کی جانے والی ادائیگیاں،

(6) مالی سال 2009ء کیلئے ڈنکن ہنٹر نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ کی سیکشن (943) کے تحت کی جانے والی ادائیگیاں
(Public Law 110-417, 122 Stat 457
(د) اصطلاحات کی وضاحت / تعریف سیکشن 205 میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کی تعریف / وضاحت اس طرح ہے۔

(1)
متعلقہ کانگریس کمیٹیوں سے مراد ایوان نمائندگان اخراجات سے متعلق کمیٹیاں، آرمڈ سروسز اور فارن افیئرز کی کمیٹیاں سینٹ کی اخراجات سے متعلق کمیٹیاں، آرمڈ سروسز اور فارن افیئرز کمیٹیاں ہیں۔،

(2)
پاکستان کی سویلین حکومت کی اصطلاح میں ایسی پاکستانی حکومت شامل نہیں ۔جس کے باقاعدہ منتخب سربراہ کو فوجی بغاوت یا فوجی حکم نامے کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا ہو۔ عنوان III حکمت عملی، احتساب، مانیٹرنگ اور دیگر شرائط سیکشن 301 حکمت عملی رپورٹس

(اے) پاکستان کی امداد سے متعلق حکمت عملی کی رپورٹ۔ اس ایکٹ کے نافذالعمل ہونے سے 45 روز کے اندر سیکرٹری خارجہ کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو پاکستان کی امداد سے متعلق امریکی حکمت عملی اور پالیسی کے حوالے سے رپورٹ پیش کرے گا۔ رپورٹ میں درج ذیل چیزیں شامل ہوں گی۔

(1)
پاکستان کو امریکی امداد کے اصولی مقاصد

(2)
مخصوص پروگراموں، منصوبوں اور سیکشن 101 کے تحت وضع کردہ سرگرمیوں کی عمومی تفصیل اور ان منصوبوں، پروگراموں اور سرگرمیوں کے لئے مالی سال 2010ء سے 2014ء تک مختص کردہ فنڈز کی تفصیلات۔

(3)
ایکٹ کے تحت پروگرام کی مانیٹرنگ آپریشنز، ریسرچ اور منظور کردہ امداد کے تجزیئے کا منصوبہ۔

(4)
پاکستان کے قومی، علاقائی، مقامی حکام، پاکستان سول سوسائٹی کے ارکان، نجی شعبہ، سول، مذہبی اور قبائلی رہنماؤں کے کردار کی تفصیلات جو ان پروگراموں، منصوبوں کی نشاندہی اور ان پر عملدرآمد میں تعاون کریں گے جن کے لئے اس ایکٹ کے تحت امداد دی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ حکمت عملی وضع کرنے کے لئے ایسے نمائندوں سے مشاورت کی تفصیل:

5:
اس ایکٹ کے تحت اٹھائے گئے اور اٹھائے جانے والے اقدامات سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ امداد افراد اور دہشت گرد تنظیموں سے الحاق رکھنے والے اداروں تک نہ پہنچے۔

6:
اس ایکٹ کے تحت پاکستان کو فراہم کردہ امداد کی سطح کا تخمینہ لگانے کیلئے اسے مندرجہ ذیل کیٹیگریوں میں تقسیم کیاگیا جسے میلینیم چیلنج اکاؤنٹ امداد
(Assistance)
کے لئے اہل امیدوار ملک کے تعین کے طریقہ کار کے حوالے سے سالانہ معیاری رپورٹ
(Criteria Report)
میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ یہ کیٹیگریز مندرجہ ذیل ہیں۔

(I)
عوامی آزادی

(II)
سیاسی حقوق

(III)
آزادی اظہار رائے اور احتساب

(IV)
حکومت کی موثریت

(V)
قانون کی بالادستی

(VI)
بدعنوانی پر قابو

(VII)
بیماریوں کی شرح

(VIII)
شعبہ صحت پر خرچ

(IX)
لڑکیوں کی پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے کی شرح

(X)
پرائمری تعلیم پر بجٹ

(XI)
قدرتی وسائل کا استعمال

(XII)
کاروباری مشکلات کے خاتمے

(XIII)
لینڈ رائٹس اور ان تک رسائی

(XIV)
تجارتی پالیسی

(XV)
ریگولیٹری کوالٹی

(XVI)
مہنگائی پر قابو

(XVII)
مالی پالیسی

7:
پاکستان کے پاس پہلے سے موجود ہیلی کاپٹرز کی تبدیلی اور اس حوالے سے تربیت اور ان کی درستگی کے لئے سفارشات اور تجزیہ بھی کیا جائے گا۔

(B)
علاقائی حکمت عملی کی تفصیلی رپورٹ کانگریس کی فہم و فراست: یہ کانگریس کی فہم و فراست ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے مقاصد کے حصول، پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے ایک تفصیلی ترقیاتی منصوبے کی ضرورت ہے جس میں دیگر متعلقہ حکومتوں کے تعاون و اشتراک سے قومی طاقت کے تمام عناصر کو اس مقصد کے لئے استعمال میں لایا جائے۔ پاکستان کی دیرپا خوشحالی اور سلامتی کے لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان، افغانستان اور بھارت کے مابین مضبوط تعلقات ہوں۔ علاقائی سلامتی کی تفصیلی حکمت عملی : پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے صدر پاکستانی حکومت اور دیگر علاقائی حکومتوں اور اداروں کے اشتراک سے علاقائی سلامتی کی حکمت عملی ترتیب دینگے۔ پاک افغان سرحدی علاقوں فاٹا، صوبہ سرحد، بلوچستان اور پنجاب کے علاقوں میں اس علاقائی سلامتی کی حکمت عملی پر موثر عملدرآمد اور انسداد دہشت گردی کے لئے موثر کوششیں عمل میں لائی جائیں گی۔

3:
رپورٹ: عمومی طور پر اس ایکٹ کے لاگو ہونے کے 180 روز کے اندر اندر صدر علاقائی سلامتی کی حکمت عملی کے حوالے سے رپورٹ کانگریس کمیٹی کو جمع کروائیں گے جس کے مندرجات میں علاقائی سلامتی کی حکمت عملی کی رپورٹ کی کاپی، اہداف کا تعین اور تجویز کردہ وقت اور حکمت عملی پر عمل کے لئے بجٹ کی تفصیل شامل ہے۔

(ب) رپورٹ میں ریجنل سیکورٹی کی جامع حکمت عملی کی ایک نقل شامل ہوگی جس میں اہداف سمیت حکمت عملی پر عملدرآمد کیلئے مجوزہ وقت اور بجٹ کی تفصیلات شامل ہوں گی۔

(C)
مناسب کانگریسی کمیٹی کی تعریف اس پیراگراف کے مطابق مناسب کانگریسی کمیٹی کا مطلب۔

(i )
ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے
Appropriations
امورکمیٹی برائے مسلح افواج کمیٹی برائے خارجہ امور اور مستقل سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس ہوگا اور

(ii)
سینٹ کی کمیٹی برائے
Appropriations
کمیٹی برائے مسلح افواج کمیٹی برائے خارجہ امور اور مستقل سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس ہوگا۔

(C)
سکیورٹی میں مدد کے حوالے سے منصوبہ: اس قانون کے بنائے جانے کے 180 دن کے اندر وزیر خارجہ مناسب کانگریسی کمیٹی کے سامنے وہ منصوبہ پیش کریں گے جس کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں گے اور یہ مالی سال 2010ء سے 2014ء تک ہرسال ہوگا اس منصوبے میں یہ بتایا جائے گا کہ رقم کا استعمال کس طرح سے سیکشن 204 میں مذکورہ رقوم سے متعلقہ ہے۔

سیکشن :302 مانیٹرنگ رپورٹس
(a)
سیکشن 301(اے) پر عمل کرتے ہوئے
Pakistan Assistance Strategy Report
پیش کئے جانے کے 180 دن کے اندر (ششماہی) اور بعدازاں 30 ستمبر 2014ء تک ششماہی بنیادوں پر سیکرٹری خارجہ کی طرف سے سیکرٹری دفاع کے ساتھ مشاورت کے بعد مناسب کانگریسی کمیٹی کو رپورٹ پیش کی جائے گی جس میں اس طرح (180 دنوں میں) میں فراہم کی گئی مدد/ معاونت کی تفصیلات ہوں گی۔ اس رپورٹ میں درج ذیل تفصیلات ہوں گی۔

(1)
جس عرصے کیلئے یہ رپورٹ ہوگی اس عرصے کے دوران اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت کسی پروگرام پراجیکٹ اور سرگرمی کے ذریعے فراہم کی گئی معاونت اور اس کے ساتھ ساتھ جس علاقے میں ایسا کیا گیا ہوگا اس کا حدود اربعہ اس رپورٹ میں شامل ہوگا اور اس میں اس رقم کا بھی ذکر ہوگا جو اس کے لئے خرچ ہوگی جہاں تک پہلی رپورٹ کا تعلق ہے تو اس میں مالی سال 2009ء میں پاکستان کی معاونت کیلئے فراہم کی گئی رقوم کی تفصیل ہوگی اور اس میں بھی ہر پروگرام پراجیکٹ اور سرگرمی کے بارے میں بتایا جائے گا۔

(2)
رپورٹ کے عرصے کے دوران اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت پراجیکٹ شروع کرنے والے ایسے امریکی یا کسی اور ملک کے شہریوں یا تنظیموں کی فہرست بھی رپورٹ میں شامل ہوگی جو ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم /فنڈز حاصل کریں گے اور یہ فہرست کسی کلاسیفائیڈ ضمیمہ میں دی جاسکتی ہے تاکہ اگر کوئی سکیورٹی رسک ہوتو اس سے بچا جاسکے اور اس میں اس کو خفیہ رکھنے کا جواز بھی دیا جائے گا۔

(3)
رپورٹ میں سیکشن 301 (اے) کی ذیلی شق (3) میں مذکورہ منصوبے کے بارے میں تازہ ترین اپ ڈیٹس/پیش رفت اور اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت دی گئی معاونت کے اثرات کی بہتری کے لئے اقدامات کی تفصیل بھی شامل ہوگی۔

(4)
رپورٹ میں ایک جائزہ بھی پیش کیا جائے گا جس میں اس ایکٹ کے تحت فراہم کی گئی معاونت کے موثر/اثر پذیری کا احاطہ کیا گیا ہوگا اور اس میں سیکشن 301 (اے) کی ذیلی شق 3 میں بتائے گئے طریقہ کار کو مد نظر رکھ کر مطلوبہ مقاصد کے حصول یا نتائج کا جائزہ لیا گیا ہوگا اور اس سب سیکشن کے پیراگراف 3 کے تحت اس میں ہونیوالی پیش رفت یا اپ ڈیٹ بھی بیان کی جائے گی جوکہ یہ جانچنے کیلئے کہ آیا مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے ہیں یا نہیں ایک منظم مربوط بنیاد فراہم کرے گی اس رپورٹ میں ہر پروگرام اور پراجیکٹ کی تکمیل کا عرصہ بھی بتایا جائے گا۔

(5)
امریکا کی طرف سے مالیاتی فزیکل تکنیکی یا انسانی وسائل کے حوالے سے کوئی کمی وبیشی جوکہ ان فنڈز پر موثر استعمال یا مانیٹرنگ میں رکاوٹ ہوگی کے بارے میں بھی اس رپورٹ میں ذکر کیا جائے گا۔

(6)
امریکا کی دوطرفہ یا کثیر الطرفہ معاونت کے منفی اثرات کا ذکر بھی اس رپورٹ میں شامل ہوگا اور اس حوالے سے اگر کوئی ہوگی تو پھر تبدیلی کیلئے سفارشات بھی دی جائیں گی اور جس علاقے کیلئے یہ فنڈز یا معاونت ہوگی اس کی انجذابی صلاحیت /گنجائش بھی رپورٹ میں مذکور ہوگی۔

(7)
رپورٹ میں اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت ہونے والے اخراجات کے ضیاع فراڈ یا غلط استعمال کے حوالے سے کوئی واقعہ یا رپورٹ بھی شامل کی جائے گی۔

( ان فنڈز کی رقم جوکہ سیکشن 102 کے تحت استعمال کیلئے مختص کی گئی اور جوکہ رپورٹ کے عرصے کے دوران انتظامی اخراجات یا آڈٹ یا سیکشن 103 یا 101 (سی) کی ذیلی شق 2 کے تحت حاصل اختیارات کے ذریعے استعمال کی گئی کی تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل ہوں گی۔

(9)
سیکشن 101 (سی) کی ذیلی شق 5 کے تحت قائم/ مقرر کردہ چیف آف مشن فنڈ کی طرف سے کئے گئے اخراجات جوکہ اس عرصے کے دوران کئے گئے ہوں گے جس کیلئے رپورٹ تیار کی گئی ہے اس رپورٹ میں شامل ہوں گے اس میں ان اخراجات کا مقصد بھی بتایا جائے گا اور اس میں چیف آف مشن کی طرف سے ایک لاکھ ڈالر سے زائد کے اخراجات کے وصول کنندگان کی فہرست بھی شامل ہوگی۔

(10)
اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت پاکستان کو فراہم کی گئی معاونت کا حساب کتاب (اکاؤنٹنگ) جوکہ سیکشن 301 (اے) کی ذیلی شق 6 میں دی گئی مختلف کٹییگریز میں تقسیم کی گئی ہے کی تفصیل بھی رپورٹ میں بیان کی جائے گی۔

(11)
اس رپورٹ میں درج ذیل مقاصد کیلئے حکومت پاکستان کی طرف سے کی گئی کوششوں کے جائزہ بھی پیش کیا جائے گا۔

(الف) فاٹا یا بندو بستی علاقوں میں القاعدہ طالبان یادیگر انتہا پسند اور دہشت گرد گروپوں کے خاتمے ان کو غیر موثر یا شکست دینے کیلئے کی گئی کوششیں۔

(ب) ایسی قوتوں کے پاکستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کیلئے کی گئی کوششیں

(ج) لشکر طیبہ اور جیش محمد کے تربیتی مراکزکی بندش

(د) دہشت گرد اور انتہا پسند گروپوں کوہر قسم کی مدد و تعاون کا خاتمہ

(ر) ہمسایہ ممالک میں حملوں کی روک تھام کیلئے کوششیں / اقدامات

(س) مدارس کے نصاب کی نگرانی میں اضافہ اور طالبان یا دہشت گرد یا انتہا پسند گروپوں سے تعلق رکھنے والے مدارس کی بندش کیلئے کی گئی کوششیں۔

(ش) انسداد منی لانڈرنگ قوانین اور دہشت گردی کے انسداد کیلئے فنڈز کے استعمال میں بہتری یا اضافے کی کوششیں یا اقدامات مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس کیلئے مبصر کا درجہ اور دہشت گردی کیلئے مالی وسائل کی فراہمی روکنے کیلئے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی کنونشن پر عملدرآمد کیلئے کی گئی کوششیں۔

(12)
پاکستا ن کی طرف سے جوہری عدم پھیلاؤ (جوہری مواد اور مہارت) کیلئے کی گئی کوششوں کی جامع تفصیل بھی اس رپورٹ میں شامل ہوگی۔

(13)
اس رپورٹ میں ایک جائزہ بھی پیش کیا جائے گا تاکہ آیا پاکستان کو فراہم کی گئی معاونت اس کے جوہری پروگرام کی توسیع میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مددگار ثابت ہوئی ہے یانہیں آیا امریکی معاونت کے انحراف یا پاکستان کے وسائل کی
Realloction
جوکہ بصورت دیگر پاکستان کے جوہری پروگرام سے غیر متعلقہ سرگرمیوں پر خرچ ہوں گے۔

(14)
رپورٹ میں سیکشن 202 (بی) کے تحت مختص کئے گئے اور خرچ کئے گئے فنڈز کی جامع تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔

(15)
اس رپورٹ میں حکومت پاکستان کا فوج پر موثر سویلین کنٹرول بشمول سویلین ایگزیکٹو لیڈرز اور پارلیمنٹ کا فوجی /ملٹری بجٹ کی نگرانی اور منظوری کمانڈ کے تسلسل سینئر فوجی افسروں کی ترقی میں عمل دخل کی تفصیلات سٹریٹجک پلاننگ میں سویلین عمل دخل اور سول انتظامیہ میں فوجی مداخلت کی تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔

(b)
حکومتی احتساب دفتر کی رپورٹس پاکستان معاونت لائحہ عمل رپورٹ: سیکشن 301 (اے) کے تحت پاکستان معاونت لائحہ عمل رپورٹ پیش کئے جانے کے ایک سال کے اندر کنٹرولر جنرل آف امریکا مناسب کانگریسی کمیٹی کو ایک رپورٹ پیش کرے گا جس میں درج ذیل تفصیلات مذکور ہوں گی۔

(الف) پاکستان معاونت لائحہ عمل رپورٹ کا جائزہ اور اس حوالے سے رائے

(ب) اس ایکٹ کے تحت مقاصد کے حصول کیلئے امریکی کوششوں کو موثر بنانے کیلئے اگر کنٹرولر جنرل کوئی اضافی اقدامات مناسب سمجھتا ہے تو وہ بھی بیان کئے جائیں گے۔

(پ) آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ (22 یو ایس سی) کی شق 22 کے تحت دی گئی گرانٹ کے مطابق پاکستان کی طرف سے کئے گئے اخراجات کی مفصل رپورٹ بھی پیش کی جائے گی۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

ماہ رمضان کی دُعا

Posted on 15/09/2009. Filed under: پاکستان, تعلیم, رسم و رواج, عالم اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , |

یا اللہ
استحقاق تو نہیں رکھتے
ایسے اعمال تو نہیں ہیں
چوپایوں سے بھی بدتر ہیں
وعدہ خلاف اور اڑیل ہیں گناہوں پر
مگر اے اللہ، اے پروردگار، اے تنہا مالک
اور کس سے مانگیں
اور کس کے در پر جھکیں
ہمیں، مسلمانوں کو، پاکستانیوں کو معاف کردے
معاف کردے اے مالک
اس ماہ رمضان میں
تیرے رحمتوں کے خزانے ہی خزانے کھلے ہیں
یا اللہ ہمیں معاف کردے
عذاب سے محفوظ کردے
ایک اور بوسنیا، کشمیر، عراق، افغانستان، چیچینیا مسلم امت کا مقدر نہ ہو
اور اے مالک
اگر تو یہ ہمارا نصیب ہے
تو پھر یہ تیرے دشمنوں کے خلاف آخری معرکہ ہو
ہمیں ہمت دے، حوصلہ دے، عزم دے، ولولہ دے
موت سے محبت عطا فرما
یا اللہ
تیری رضا کے ہم طلبگار ہیں
ہم سے راضی ہوجا
اس امت مسلمہ سے راضی ہوجا
آمین

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

بلاول بھٹو کی حیثیت

Posted on 04/06/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , |

اس میٹنگ میں بلاول بھٹو زرداری کس حیثیت سے بیٹھا ہے اور اس کا اس میں کیا کردار ہے؟

Read Full Post | Make a Comment ( 7 so far )

واعتصمو بحبل اللہ جميعا و لاتفرقوا

Posted on 13/12/2008. Filed under: پاکستان, دنیا بھر سے, عالم اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اس وقت عالم اسلام کو مخلص قیادت کے ساتھ ساتھ آپس کے سیاسی نفاق کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے کبھی عراق ایران کے ساتھ آٹھ سال لڑتا ہے تو کبھی کویت پر حملہ کر دیتا ہے۔ کبھی سعودی عرب کے تعلقات ایران سے بگڑ جاتے ہیں تو کبھی ایران اور پاکستان کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان آزاد ہوتا ہے تو افغانستان اسے اقوام متحدہ میں تسلیم ہی نہیں کرتا اور پھر جب افغانستان پر بُرا وقت آتا ہے تو پاکستان تیس لاکھ افغانیوں کو اپنے ہاں پناہ دے دیتا ہے۔ لیکن شمالی اتحاد کی حکومت سارے اقدامات ماننے سے انکاری ہوتی ہے اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھاتا ہے، افغانستان کی دوبارہ تعمیرِنو میں زیادہ تر ٹھیکے ہندوؤں کو مل جاتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالٰی واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے۔
‘‘واعتصمو بحبل اللہ جميعا و لاتفرقوا‘‘
کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ نہ ڈالو ”
لیکن اس کے باوجود مسلمان آپس میں متحد نہیں ہو رہے ہیں۔
نفاق کی حد تو یہ ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر کئی پاکستانی فوجیوں نے ایرانی ساخت کے بم بھی پکڑے ہیں جبکہ (او، آئی، سی) اسلامی سربراہی کانفرنس کے تقریباََ چونتیس ممالک بھارت سے دوستی اور تجارت کی پینگیں بڑھاتے نظر آ رہے ہیں، کچھ عرصہ پہلے ایران اور بھارت کے درمیان جنگی معاہدے کی بازگشت بھی گردش میں رہی ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلے پر عربوں کا ساتھ دیا جبکہ خود یاسر عرفات مرحوم اور ان رفقاء بھارت کے حامی ہیں اور سابق مرحوم عراقی صدر صدام حسین کی طرح یاسر عرفات نے کشمیر کے بارے میں کبھی پاکستان کی حمایت نہیں کی بلکہ الٹا بھارت سے دوستی بڑھاتے نظر آئے۔
پاکستان اسلامی نظریہ کے اصول پر معرض وجود میں آتا ہے تو مصر کے حکمران ہنس پڑتے ہیں کہ پاکستانیوں کو دیکھو اب یہ ہماری رہنمائی کریں گے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہی پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور واحد ایٹمی ملک بن گیا۔
بھارت کے شہر ممبئی میں دو ہوٹلوں پر حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے پاکستان کا نام لیا جاتا ہے پھر جماعت الدعوۃ کر اس میں ملوث کیا جاتا ہے۔ اس کے فوراََ بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوتا ہے اور اس میں جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے اور پاکستان کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ جبکہ اس کے برعکس بھارت میں گجرات اور دیگر علاقوں میں ہزاروں مسلمانوں کو مار دیا جاتا ہے، سینکڑوں کو زندہ جلایا جاتا ہے، ہندو انتہا پسند تنظیم اس سارے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ سلامتی کونسل چپ سادھ لیتی ہے۔
ان سارے واقعات کی روشنی میں بتائیے اس وقت پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ عالم اسلام میں مخلص قیادت نہ ہونے اور آپس کا نفاق مسلسل پاکستان اور خود عالم اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

آئیے ماتم کریں

Posted on 20/01/2007. Filed under: اسلام, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم اپنے عروج پر ہوتا ہے تو مظلوم کی آہ سوزاں ہمیشہ اس کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ ظلم مٹنے والی چیز ہے کیونکہ
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
جبکہ مظلومیت مٹ کر اپنی بقا کو پہنچتی ہے۔ ابتدا کائینات سے ہی ظالم اور مظلوم کی جنگ جاری ہے۔ قابیل سے لیکر آج کے قاتلین تک کا ایک ہی کردار رہا ہے اور ہابیل سے لیکر آج تک کی مظلومیت ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔
دنیا میں جتنے بھی جابر و ظالم گزرے ہیں ان کے ظلم کے خلاف ماتم کیا گیا۔ ماتم مظلوم کی حمایت اور ظالم سے نفرت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے تاکہ ظالم کا چہرہ دنیا کے سامنے آ سکے۔ اس لئے ۔۔
آئیے ماتم کریں! ہر ظالم کے خلاف چاہے وہ کسی بھی روپ میں چھپا ہو اور
آئیے نفرت کا اظہار کریں! اہل کوفہ والوں سے جہنوں نے امام حسین کو خط تو لکھے مگر وفا نہ کی۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! ابن زیاد سے جس نے امام حسین کے بارے میں کہا ‘اگر وہ اپنے آپ کو ہمارے حوالے نہیں کرتے تو پھر بلا تامل حملہ کرو، خون بہاؤ، لاشیں بگاڑو۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! یزیدی فوج سے اور
آئیے لعنت بھیجیں! کربلا کے بہتر شہیدوں کے قاتلین پر
آئیے لعنت بھیجیں! حرملہ پر
آئیے لعنت بھیجیں! شمرذوالجوشن پر
آئیے لعنت بھیجیں! علی اصغر کے حلق میں تیر مارنے والے پر
آئیے لعنت بھیجیں! سنان بن انس پر جس نے امام حسین کا سر تن سے جدا کیا
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے جسم مبارک کو روندھنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے لبوں پر چھڑی مارنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! ہر یزیدی عمل پر اور یزید کے ہر پیروکار پر
آئیے ماتم کریں ظالموں کے خلاف اور خراج تحسین پیش کریں کربلا کے شہدا کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! غفاری و جابری لڑکوں کی بہادری اور فداکاری کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی اکبر بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! قاسم بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اہل بیت اور بنی ہاشم کے مقتولوں کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اس لڑکے کو جس نے کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین کو دشمنوں کے سامنے اکیلا دیکھ کر مدد کو دوڑ پڑا اور حضرت کے پہلو میں جا پہنچا عین اسی وقت بحر بن کعب نے آپ پر تلوار اٹھائی لڑکا فورا چلایا ‘او خبیث! میرے چچا کو قتل کرے گا‘ سنگدل حملہ آور نے اپنی تلوار لڑکے پر چھوڑ دی معصوم جان نے اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر تلوار کے وار کو اپنے ہاتھ پر روکا، ہاتھ کٹ گیا ذرا سی کھال لگی رہ گئی۔
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی کے سورما بیٹے حسین کو
وہ حسین! جس کے لبوں کی خشکی دیکھ کر فرات کی موجیں آب آب ہو کر رہ گئیں۔
وہ حسین! جس نے اپنے نانا کی امت کے چراغ کو بچانے کے لئے اپنے گھر کے تمام چراغوں کو بجھا دیا۔
وہ حسین! جو موت کے سامنے اس حقارت سے مسکرایا کہ خود موت کی نبضیں رک گئیں۔
میدان کربلا میں کوئی اقتدار کی جنگ نہ تھی بلکہ حق و باطل کا معرکہ تھا جسے حسین نے سر کر لیا۔ وہاں حسین کمزور تھا اور یزید طاقتور، قانونِ فطرت کے مطابق یزید حسین کو مٹا دیتا لیکن حسین نے اپنی مظلومیت کی ایک ہی ضرب سے قاتلین کو مٹا دیا۔ حسین ہار کر امر گیا، یزید جیت کر فنا ہو گیا۔ حسین آج بھی کروڑوں دلوں میں راج کر رہا ہے، ان دلوں میں یزید کے لئے نفرت ہی نفرت ہے اور حسین کے لئے پیار ہی پیار۔
کربلا کی داستان کو زندہ رکھنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ جب بھی ظالم سر اٹھائے، سر کچل دیا جائے۔ واقعہ کربلا سے یہی سبق ملتا ہے کہ ظالم کی اطاعت کسی صورت میں جائز نہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بلند کی جائے اور اسکے گھناؤنے چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ اس لئے
آئیے عالمی قاتلین سے نفرت کا اظہار کریں! جہنوں نے کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں قتل و غارت گری اور خون خرابے کا بازار گرم کر کھا ہے۔
آئیے خود کو سپر منوانے والوں سے نفرت کریں! جن کے دل و دماغ مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
آئیے ماتم کریں! ان لوگوں کا جو بے وقت کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں خون میں لت پت تڑپتی لاشوں کا اور آنسو بہائیں ان بیگناہوں کا جو بے خبری کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! لیکن کس کس کا ماتم یہاں تو ہر گھر سے بینوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ یتیم بچے آسمان کی طرف منہ اٹھائے دھاڑیں مار کر پوچھ رہے ہیں کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کس جرم کی سزا ہے کہ ظالموں نے پل بھر میں ہنستے کھیلتے گھر کو ماتم کدے میں تبدیل کر دیا۔
اے خون کو پانی کی طرح بہانے والو!
اے ڈالروں کے پجاریو!
اے غیرملکی اشارے پر ناچنے والو!
اے فرعون کے جادوگرو!
اے نمرود کے خزانو!
اے ابوجہل کے ساتھو!
اے شداد کے جنتیو!
اے ابو طاہر قرامطی کے شیدائیو!
اے حسن بن صباح کے فدائیو!
اے یزیدی لشکر کے سردارو!
اے چنگیز خان کے چمچو!
اے ہٹلر کے جانشینو!
اے اسرائیل کے گندے دماغو!
اے بھارت کی سہنو!
اے امریکہ کی فوجو!
اے خفیہ جگہوں سے ہٹ کرنے والو!
ڈرو اس وقت سے جب تمھارے ہاتھوں میں مارے جانے والے بیگناہوں کے یتیم بچوں کی چیخیں آسمان سے ٹکرائیں گی۔ یتیم بچوں کے ننھے منے ہاتھ اوپر اٹھیں گے۔ جب ان کی توتلی زبان سے تمھارے لئے بدعا نکلے گی اور تمھیں خوب معلوم ہے کہ خدا کسی مظلوم اور یتیم کی آواز جلد سنتا ہے اور پھر تمھیں زمین و آسمان میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ خدا کا قہر آخرکار تمھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ دنیا میں بھی تم ذلیل و خوار ہو گے اور آخرت میں یہ یتیم بچے تمھیں گریبان سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے خدا کے حضور پیش کریں گے اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ یہی ہمارے قاتل ہیں، یہی ہمارے مجرم ہیں تو اس وقت تمھاری کوئی پش و پیش اور کوئی بہانہ تمہیں نہ بچا سکے گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

جاں فروشی سے ایمان فروشی تک

Posted on 05/06/2006. Filed under: پاکستان, تاریخ, سیاست | ٹيگز:, , , , , , |

بلوچ گورنمنٹ‘ کے جواب میں بلوچستان کی خودساختہ جلاوطن حکومت کے جنرل سیکریٹری میر آزاد خان بلوچ نے ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے۔

Thank you for introducing our blog to your readers. Unfortunately, neither India nor Israel are assisting us. But, if they do offer any help, we would gladly accept it and use it to liberate Balochistan.For your information, the policies of the Pakistani military dictator, General Pervez Musharraf has alienated the entire Baloch nation. The Baloch are simply reacting to the blatant disregard to their genuine grievences by the Government of Pakistan.So, rest assured that the Government of Balochistan in Exile is the result of the ruthlessness of the Punjabi domination of Balochistan. It is not concocted by a foreign intelligence.Mir Azaad Khan Baloch General Secretary The Government of Balochistan in Exile http://www.pkblogs.com/governmentofbalochistan/

جناب میر آزاد خان بلوچ! میں خود ایک بلوچ ہوں، ڈیرہ غازی خان سے میرا تعلق ہے اور ڈیرہ غازی خان پنجاب میں ہونے کی وجہ سے میں پنجابی بھی ہوں، مگر میں سب سے پہلے پاکستانی ہوں اس کے بعد بلوچ، پنجابی، سرائیکی، ڈیروی یا کچھ اور۔

بلوچ ہونے کے ناطے میں بلوچوں کے احساسات و جذبات کو بہتر سمجھتا ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان احساس محرومی میں ہے، اسے اس کا حق نہیں دیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستاں سے نکلنے والی معدنیات سے پورا پاکستان ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے مگر بلوچستان میں صرف ترقی کے الفاظ ہی پہنچ سکے، میں سمجھتا ہوں اور بھی بہت سے مسائل اور مشکلات ہیں جن کا رونا رویا جا رہا ہے، مگر کبھی آپ نے ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیا کہ ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟ آج جو کچھ بلوچستاں میں ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟

ان سب مشکلات، تکالیف اور تمام مسائل کا ذمہ دار صرف اور صرف بلوچ سردار ہیں، صدر پرویز مشرف کی حکومت کو تو صرف چار پانچ ہو رہے ہیں آپ اس سے پہلے کے ادوار کو بھی نگاہ میں رکھیں تو آج کے حالات کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔

حکومت کی طرف سے بلوچ سرداروں کو رائلٹی اور مختلف مدوں میں اربوں روہے ملنے کے باوجود ان سرداروں نے بلوچستان کی عوام کے ساتھ کیا کیا؟ ان اربوں روپوں میں سے کبھی یا کہیں ایک روپیہ بھی عوام پر خرچ کیا ہو تو مجھے بتائیے؟

آج بلوچستان میں ہرطرف دھماکے ہو رہے ہیں اور ان تمام دھماکوں کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچستان لبریشن آرمی قبول کر رہی ہیں جبکہ بلوچ سردار ان تنظیموں کے وجود سے انکاری ہیں! کیوں؟ ان تنظیموں کو کون چلا رہے ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟ بلوچستان علیحدہ کرانا اور پاکستان کو توڑنا (یہ ایک لمبی باعث ہے جس میں میں اس وقت پڑنا نہیں چاہتا) میر آزاد خان بلوچ صاحب! پاکستان ہماری وحدت ہے، یہ ایک اکائی ہے، یہ ہماری پہچان ہے۔ اس کی طرف اٹھنے والا ہر ہاتھ توڑ دیا جائے گا چاہے وہ اپنے کا ہو یا کسی دشمن کا، چاہے وہ کسی سدھی کا ہو یا سرحدی کا، کسی بلوچ کا ہو یا کسی پنجابی کا۔

آج کا تاریخ دان آپ کو قوم پرست، شدت پرست اور ‘شرپسند‘ لکھ رہا ہے، کل کا مورخ آپ کو کن الفاظ میں یاد کرے گا اس بارے میں آپ خود بہتر اندازہ کر سکتے ہیں۔ تاریخ میں ایک جاں فروش ابراہیم خان گاردی کا واقعہ یقینا آپ نے پڑھا ہو گا۔ اس لئے اب بھی وقت ہے واپس پلٹ آئیں اپنوں اور آپ خوب جانتے ہیں کہ کوئی بھی پاکستانی خواہ وہ پنجابی ہو یا سندھی، بلوچی ہو یا سرحدی اپنوں کا استقبال کس طرح کرتے ہیں۔

جاں فروشی کے شوق میں آپ ایمان فروشی کی طرف بڑھ رہے ہیں، ایمان فروشوں کے لئے تاریخ میں احمد شاہ ابدالی کا قول ملتا ہے کہ جاں فروشوں کی جان بخشی تو ہوسکتی ہے لیکن ایمان فروشوں کی جان بخشی نہیں ہو سکتی۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بلوچ گورنمنٹ

Posted on 01/06/2006. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , |

لو جی بات پہنچی تری جوانی تک، میر آزاد خان بلوچ نے ایک بلاگ بنایا ہے جس کے متعلق اس کا کہنا ہے کہ یہ بلوچستان کی جلاوطنی میں قائم کی گئی حکومت کی ویب سائٹ ہے۔

بلاگ کے مطابق 18 اپریل 2006 کو کچھ بلوچ قوم پرستوں نے مل کر یہ حکومت قائم کی اور انٹرنیٹ پر اپنے ’سرکاری بلاگ‘ کے ذریعے دنیا کو اس سے روشناس کرایا۔ مزے کی بات یہ کہ اس میں حکومت قائم کرنے والے ارکان کے نام یا ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے، بلاگ کے مطابق میر آزاد خان بلوچ کا کہنا کہ وہ اس حکومت کا جنرل سیکریٹری ہے۔ بی بی سی کی خبر کے مطابق پہلے اس نے بلاگ میں اپنی حکومت کا صدر دفتر یروشلم اسرائیل لکھا تھا جسے بعد میں تبدیل کر کے مڈل ایسٹ کر دیا گیا۔

میر آزاد خان بلوچ اپنا اور اپنی حکومت کا تعارف بلاگ میں ان الفاظ سے کرا رہا ہے۔

AboutThe territory of Balochistan (Baluchistan) is presently occupied by Afghanistan, Iran and Pakistan. On April 18, 2006, we declared The Government of Balochistan in Exile and nominated His Highness Mir Suleman Dawood Khan as the King of Balochistan.About Me Name:Mir Azaad Khan Baloch Location:Middle East

یہ سب کیا ہے، کس کی سازش ہے؟ کیا بلوچ رہنما اس حد تک گر گئے ہیں؟ یا یہ سب کسی اور کی کارستانی ہے؟ شاید ‘اسرائیل‘ اور کسی حد تک انڈیا کا بھی ہاتھ اس میں شامل ہو سکتا ہے۔؟ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ایمان فروشی

Posted on 31/10/2005. Filed under: اسلام, تاریخ | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اکتوبر 1760 سے جنوری 1761 تک مرہٹوں کی اتحادی افواج مختلف مقامات پر ابدالی لشکر سے ٹکراتی رہی، مر ہٹوں کی اتحادی افواج میں مسلمانوں کا ایک سردار ابراہیم خان گاردی بھی تھا جو کہ اپنے ساتھ دو ہزار سوار اور 9 ہزار پیدل فوج لایا تھا۔
آخری لڑائی میں مرہٹوں کی اتحادی افواج کا سپہ سالار بسواں راوُ مارا گیا، ابدالی کے لشکر نے اتحادی لشکر کا قتل عام شروع کر دیا، مرہٹوں کی کمر توڑ دی گئی تو احمد شاہ ابدالی نے تلوار نیام ڈال دی، شکست خوردہ اتحادی افواج کے گرفتار ہونے والے سرداروں اور فوجیوں میں گیارہ ہزار فوجی مہیا کرنے والا مسلمان سردار ابراہیم خان گاردی بھی شامل تھا۔ جب اسے فاتح بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا تو احمد شاہ ابدالی نے نفرت آمیز لہجے میں اس سے پوچھا ، کہو خان صاحب کیا حال ہے ؟ کس طرح تشریف آوری ہوئی ؟ ابراہیم گاردی نے کہا ، میں ایک جاں فروش سپاہی ہوں، حضور جان بخشی کرینگے تو اسی طرح حق نمک ادا کرونگا، نفرت اور غصے سے احمد شاہ ابدالی کا چہرہ سرخ ہو گیا، گاردی ! جاں فروشوں کی جان بخشی تو ہو سکتی ہے لیکن ایمان فروش دنیا میں رہنے کے قابل نہیں ہوتے ّ یہ تاریخی جملہ کہنے کے بعد احمد شاہ ابدالی نے حکم دیا ” اس ایمان فروش کو میری آنکھوں سے دور کر کے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے ” پوری ذمہ داری سے حکم کی تعمیل کر دی گئی۔
ہمیں اپنی تاریخ میں ابراہیم خان گاردی جیسے ایمان فروش جگہ جگہ ملتے ہیں عالم اسلام کی ہر شکست، ہر ذلت، ہر ہزمیت کا سبب ڈھونڈ لیا جائے تو اس میں کسی نہ کسی ابراہیم گاردی جیسے ایمان فروش کا ہاتھ ہو گا۔
آج کے دور میں بھی ہم انہی ایمان فروشوں میں گھرے ہوئے ہیں، عالم اسلام کے پاس ساٹھ لاکھ سے بھی زائد فوج ہے لیکن چند ہزار اتحادی فوجی آتے ہیں اور ابراہیم گاردی جیسے ایمان فروشوں کی مدد سے کبھی افغانستان کو روندھتے چلے جاتے ہیں اور کبھی عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دیتے ہیں۔ اتحادی افواج ایران کی طرف رُخ کرتی ہے تو ایران کو دور دور تک کوئی مددگار دکھائی نہیں دیتا ، شام کو دھمکیاں دی جاتی ہیں تو اسے عالم اسلام میں ہمدرد نظر نہیں آتا ، ابراہیم گاردی جیسے ایمان فروشوں کو اتحادیوں کا ساتھی بنا دیکھ کر سارا عالم اسلام سرنگوں ہوتا چلا جا رہا ہے۔
آج عالم اسلام کو ایک بار پھر احمد شاہ ابدالی کی ضرورت ہے جو ایمان فروشوں کو بھولا ہوا سبق یاد دلا سکے کہ جاں فروشوں کی جان بخشی تو ہوسکتی ہے لیکن ایمان فروشوں کی جان بخشی نہیں ہو سکتی۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

اور بھی غم ہیں زمانے میں

Posted on 19/04/2005. Filed under: پاکستان, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اتنا ٹوٹ کر بکھر گئے ہیں کہ اب خود کو سمیٹنا مشکل ہو گیا ہے جی چاہتا ہے اس دنیا سے کہیں دور چلے جائیں جہاں سکون ہو، جہاں امن کی فاختائیں بولتی ہوں، جہاں لمحے سرگوشیاں کرتے ہوں، جہاں خوشیاں ہی خوشیاں ہوں، جہاں کسی زنداں کا خوف نہ ہو، جہاں ماتم نہ ہوتے ہوں، جہاں دل نہ روتے ہوں، جہاں کوئی اپنا نہ ہو، جہاں ہم ہوں صرف ہم ۔۔۔۔۔۔ ! مگر جب خواب آگیں تصورات ٹوٹتے ہیں تو ہم بکھر کر رہ جاتے ہیں۔ آنکھیں خون اگلنے لگتی ہیں، دل سے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں کہ یہ کیسی راتیں ہیں کہ نہ نیند اپنی نہ خواب اپنےکوئی چیز بھی تو ہماری اپنی نہیں، سہارے ہیں تو قدم قدم پر گرنے لگتے ہیں اور یہ کیسے اپنے ہیں کہ ہر طرف تنہائیوں کے میلے ہیں ہم خود کو ایک حصار میں قید محسوس کرتے ہیں لوگ حوصلہ دیتے ہیں ہمدردی کرتے ہیں کہتےہیں کہ ہر رات کی سویر ہے لیکن کون انہیں سمجھائے کہ جن کی راتیں ہی اپنی نہ ان کی بھی کبھی سویر آتی ہے۔
یہاں تو جیون روگ ہے، پچھتاؤں کا کھلا سمندر ہے زندہ انسان زندگی کو ترستا ہے نہ جینا اپنا نہ مرنا اپنا کوئی چیز بھی تو اپنے بس میں نہیں، بے بسی اور بے حسی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ تم اتنا بتاؤ کہ جنہیں خود سے پیار ہوتا ہے وہ اگر ایک پل بھی خود سے نہ ملیں خود کو آئینے میں نہ دیکھیں تو کیا کیفیت ہوتی ہو گی ان کی ۔۔۔۔ ! اس سال کے ایک ایک مہینے، ایک ایک دن، ایک ایک لمحے کو سوچو ذرا کہ جب ہم نے خود کو نہیں دیکھا خود سے نہیں ملے باوجود اس کے کہ ہمیں خود سے بے انتہا پیار ہےکیونکہ دنیا میں کوئی اپنے جیسا ملا ہی نہیں ” ہاں ” ایک تم میں اپنا عکس دیکھا تھا۔ تم ہمارا آئینہ ہو، ایک تم ہی تو تھے جسے دیکھ کر ہم زندگی کی سانسیں لیتے تھے مگر جب سے تم روٹھ گئےتب سے ہمارا آئینہ بھی کہیں کھو گیا ” سنو ” جو تم نہیں نا! تو یہ نا سمجھنا کہ کوئی ہمارا نہیں سب کچھ ہمارا ہے مگر صرف تم نہیں ہو۔ اب ہمیں تمھاری ضرورت بھی نہیں کیونکہ یہ فضائیں ہماری ہیں یہ کائنات ہماری ہے اور ہماری دولت جس سے ہمیں بے انتہا پیار ہے تنہائی ہے یہ سب ہمارے دوست ہیں جو کبھی ہم سے بےوفائی نہیں کرتے ہم نے اب جان لیا ہے کہ

اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا

تو اتنا بتائیں تم کو کہ اب ہمیں تمھاری محبت کا غم نہیں رہا کتنے دکھ ہمارے معاشرے میں جن پر ہم روتے ہیں کڑھتے رہتے ہیں ان پر، یہاں بھائی بھائی کا دشمن ہے، انسان انسان کی پہچان سے انکاری ہے۔

اگر نقاب الٹ دوں تمام چہروں سے
تو میرے شہر کا اک شخص بھی شریف نہیں

یہاں عزتوں کے لٹیرے ہیں، یہاں چور ڈاکو اور دہشت گرد ہیں، یہاں دھماکے ہوتے ہیں اور پل بھر میں بے گناہ لوگ موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں، یہاں ہارس ٹریڈنگ ہے، یہاں کرپشن ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی جڑیں اس قدر مضبوط ہیں کہ ثبوت نہیں ملتے، اب بھلا آنکھوں کے اندھوں کو کیا دکھتا ہے دس ہزار تنخواہ لینے والا ایک آفیسر پچاس لاکھ کی کوٹھی میں رہتا ہے اس کے متعلق اور کس قسم کے ثبوت چائییں کیا یہ ثبوت کافی نہیں لیکن کیا کریں کنویں میں بھنگ پڑی ہے حمام میں سبھی تو ننگے ہیں پھر کون کس کو پکڑے گا۔
یہاں سیاستدان ہیں جو راہنما کم راہزن زیادہ ہیں جو وطن عزیز کا نہیں اپنا مفاد سامنے رکھتے ہیں عوام کے خون پسینے کی کمائی سے کروڑوں کی جائدادیں بناتے ہیں اور عیاشی کرتے ہیں لیکن کوئی روکنے والا نہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، کروڑوں روپے شاہانہ خرچ کرنے والے ان سیاستدانوں کے اگر گوشوارے چیک کریں جو یہ الیکشن کے موقع پر جمع کراتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ سب کے سب بھیک منگے ہیں، سب ہی زکواة کے مستحق ہیں لیکن رہتے عالیشان بنگلوں میں اور گھومتے قیمتی گاڑیوں میں ہیں۔
یہاں فرعون نما جاگیردار ہیں جو کسی خدائی فوجدار کی طرح جاگیر میں اپنا حکم چلاتے ہیں جو غریب کسانوں اور ہاریوں کی جان و مال اور عزتوں کے لٹیرے ہیں۔ یہاں سرمایہ دار ہیں جو غریب کارکنوں کا پیٹ چاک کر کے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ یہاں جوکر نما جعلی پیراور ملاں ہیں جن کی گذربسر عرسوں کی آمدنی اور تعویزگنڈوں پر ہے، بے عملی، جہالت، بدعت ان کا خاصہ، علم و عمل سے بے بہرہ کفر کے فتوؤں پر مہر ثبت کرتے رہنا ان کا کام ہے۔ مسلمانوں کو مذہب کے نام پر لڑانا ان کا دھرم ہے۔ یہاں قصائی نما ڈاکٹر ہیں جن کو کسی کی غربت، درد، تکلیف اور اذیت کا کوئی احساس نہیں ہوتا انہیں صرف اپنی فیس سے مطلب ہوتا ہے ان کی بلا سے کوئی جئے یا مرے ان کے پانچ سو کھرے! غرض کہاں تک سناؤں ظلم کے یہ فسانے یہاں تو ظلم ہی ظلم ہے، یہاں ایمان بکتے ہیں ضمیر خاموش ہیں، یہاں بےبسی اور بےحسی کی لمبی داستانیں ہیں، یہاں انسان کی قیمت ہی کیا ہے صرف چند کھوٹے سکے۔
یہاں کشمیر ہے جہاں راہ چلتی خواتین، دھول سے اٹی ہوئی ڈارھی والے بزرگوں، سکول جاتے بچوں اور دودھ پیتے نونہالوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ نوجوان لڑکیوں کو سرعام برہنہ کردیا جاتا ہے اور پھر شیطان کی خوشی میں ڈوبی خوفناک چیخیں سنائی دیتی ہیں اس کے بعد صرف ماتم کرتی آہیں اور سسکیاں رہ جاتی ہیں۔
یہاں فلسطین ہے، یہاں عراق ہے، یہاں افغانستان ہے جہاں ظلم و بربریت کی نئی تاریخیں رقم ہو رہی ہیں اور بھی بہت سے دکھ ہیں جو ہمیں آزردہ کر دیتے ہیں ” پر ” اتنا تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تعصب ہمارا اپنا پھلایا ہوا ہے ہم خود مسلمان ہی بکھر کر رہ گئے ہیں، ہم میں اخلاق اور رواداری نہیں رہی، ہم علاقائی مسئلوں پر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں، ہم مذہبی بنیادوں پر جگھڑتے رہتے ہیں ہم آج بھی پہلے پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچ یا مہاجر ہیں اور بعد میں پاکستانی، ایک سویا ہوا پاکستانی !
ہم قرآن کے بتائے ہوئے سیدھے راستے کو چھوڑ کر شیطانیت کے راستے پر چل پڑے، عریانی و فحاشی کو ہم نے ثقافت اور روشن خیالی کا حسین نام دے کر اپنا لیا، بے حیائی کو ترقی کا زینہ بنا لیا، اس کے باوجود ہم مسلمان ہونے کے دعوے دار ہیں۔ حق بات تو یہ کہ ہم اپنے سچے مذہب سے دور ہو گئے اسی لئے آج ہم پوری دنیا میں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔ دنیا میں ہم ایک عرب سے زائد مسلمان ہیں لیکن ہیں ان ریت کے ذروں کی طرح جن کو تیز ہوا کسی بھی لمحے اٹھا کر کہیں سے کہیں پھینک دیتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...