واعتصمو بحبل اللہ جميعا و لاتفرقوا

Posted on 13/12/2008. Filed under: پاکستان, دنیا بھر سے, عالم اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اس وقت عالم اسلام کو مخلص قیادت کے ساتھ ساتھ آپس کے سیاسی نفاق کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے کبھی عراق ایران کے ساتھ آٹھ سال لڑتا ہے تو کبھی کویت پر حملہ کر دیتا ہے۔ کبھی سعودی عرب کے تعلقات ایران سے بگڑ جاتے ہیں تو کبھی ایران اور پاکستان کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان آزاد ہوتا ہے تو افغانستان اسے اقوام متحدہ میں تسلیم ہی نہیں کرتا اور پھر جب افغانستان پر بُرا وقت آتا ہے تو پاکستان تیس لاکھ افغانیوں کو اپنے ہاں پناہ دے دیتا ہے۔ لیکن شمالی اتحاد کی حکومت سارے اقدامات ماننے سے انکاری ہوتی ہے اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھاتا ہے، افغانستان کی دوبارہ تعمیرِنو میں زیادہ تر ٹھیکے ہندوؤں کو مل جاتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالٰی واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے۔
‘‘واعتصمو بحبل اللہ جميعا و لاتفرقوا‘‘
کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ نہ ڈالو ”
لیکن اس کے باوجود مسلمان آپس میں متحد نہیں ہو رہے ہیں۔
نفاق کی حد تو یہ ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر کئی پاکستانی فوجیوں نے ایرانی ساخت کے بم بھی پکڑے ہیں جبکہ (او، آئی، سی) اسلامی سربراہی کانفرنس کے تقریباََ چونتیس ممالک بھارت سے دوستی اور تجارت کی پینگیں بڑھاتے نظر آ رہے ہیں، کچھ عرصہ پہلے ایران اور بھارت کے درمیان جنگی معاہدے کی بازگشت بھی گردش میں رہی ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلے پر عربوں کا ساتھ دیا جبکہ خود یاسر عرفات مرحوم اور ان رفقاء بھارت کے حامی ہیں اور سابق مرحوم عراقی صدر صدام حسین کی طرح یاسر عرفات نے کشمیر کے بارے میں کبھی پاکستان کی حمایت نہیں کی بلکہ الٹا بھارت سے دوستی بڑھاتے نظر آئے۔
پاکستان اسلامی نظریہ کے اصول پر معرض وجود میں آتا ہے تو مصر کے حکمران ہنس پڑتے ہیں کہ پاکستانیوں کو دیکھو اب یہ ہماری رہنمائی کریں گے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہی پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور واحد ایٹمی ملک بن گیا۔
بھارت کے شہر ممبئی میں دو ہوٹلوں پر حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے پاکستان کا نام لیا جاتا ہے پھر جماعت الدعوۃ کر اس میں ملوث کیا جاتا ہے۔ اس کے فوراََ بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوتا ہے اور اس میں جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے اور پاکستان کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ جبکہ اس کے برعکس بھارت میں گجرات اور دیگر علاقوں میں ہزاروں مسلمانوں کو مار دیا جاتا ہے، سینکڑوں کو زندہ جلایا جاتا ہے، ہندو انتہا پسند تنظیم اس سارے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ سلامتی کونسل چپ سادھ لیتی ہے۔
ان سارے واقعات کی روشنی میں بتائیے اس وقت پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ عالم اسلام میں مخلص قیادت نہ ہونے اور آپس کا نفاق مسلسل پاکستان اور خود عالم اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

عالمی یوم بزرگان

Posted on 01/10/2007. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , |

 

آج ساری دنیا میں بزرگ افراد کا عالمی دن ” بزرگ ترقی کی نئی طاقت” کے عنوان تحت منایا جا رہا ہے۔ دنیا میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد میں اضافہ عالمی آبادی کے مقابلے میں دوگنا سے زائد اضافہ ہو رہا ہے، مستقبل قریب اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ روزنامہ جنگ کے مطابق اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک اینڈ سوشل افیئرز پاپولیشن ڈویژن کے بریفنگ پیپر 2007ء کے مطابق 2005ء سے 2010ء کے عرصے کے دوران عمر رسیدہ افراد کی آبادی میں سالانہ 2.6 فیصد کا اضافہ ہورہا ہے، جوکہ عالمی آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح1.1 فیصد کے مقابلے میں 2 گنا سے بھی زائد ہے، جبکہ مستقبل میں یہ فرق مزید وسیع ہونے کی پیشن گوئی ہے، جس کے مطابق 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی آبادی میں 2025-30ء تک عالمی آبادی میں سالانہ اضافے کے مقابلے میں 3.7 گنا زائد اضافہ ہوگا۔ اس وقت دنیا کے 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 70 کروڑ 50 لاکھ ہے اور ماہرین کے مطابق یہ تعداد 2050ء تک بڑھ کر2 ارب ہوجائے گی۔ پاکستان میں 60 سال سے زائد بزرگوں کی تعداد 94 لاکھ ہے، جو کُل آبادی کا 6 فیصد ہے، جبکہ مجموعی طور پر اس وقت دنیا کی 11 فیصد آبادی بزرگ ہے۔ شرح کے اعتبار سے ترقی پذیر ممالک میں بوڑھے افراد زائد ہیں، جو کُل آبادی کا 21 فیصد ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسے افراد کی شرح کُل آبادی میں سے 8 فیصد ہے۔ 2050ء میں عالمی آبادی میں بزرگ آبادی کی شرح 22 فیصد یعنی دُگنی ہوجائے گی۔ اس وقت دنیا میں 9 میں سے ایک فرد 60 سال کا ہے، جبکہ 13 میں سے ایک 65 سال یا اس سے زائد عمر ہے۔ تعداد کے حوالے سے ترقی پذیر ممالک میں بزرگ زیادہ ہیں، جن کی تعداد 45 کروڑ 30 لاکھ ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تعداد 25 کروڑ 20 لاکھ ہے۔ آبادی کے ماہرین کے مطابق 2050ء میں ترقی پذیر ممالک میں بزرگوں کی تعداد 3 گنا اضافے کے ساتھ ایک ارب 60 کروڑ اور ترقی یافتہ ممالک میں 60 فیصد اضافے سے 40 کروڑ ہوجائے گی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے معمر افراد کی آبادی میں اضافے کی شرح 60 سال یا اس سے زائد بزرگ افراد کے مقابلے میں 50 فیصد زائد ہے اور معمر افراد کی تعداد میں سالانہ 3.9 فیصد اضافہ ہورہا ہے۔ اس وقت دنیا کی معمر آبادی 9 کروڑ 40 لاکھ ہے۔ 2050ء میں یہ تعداد 4 گنا اضافے کے ساتھ بڑھ کر 39 کروڑ 50 لاکھ ہوجائے گی۔ اس وقت 60 سال سے زائد عمر کے 8 افراد میں سے ایک 80 سال یا اس سے زائد عمر کا ہے۔ 2050ء میں یہ تناسب 5 میں سے ایک ہوگا۔ دنیا میں ایسے افراد جو اپنی زندگی کی سنچری مکمل کرچکے ہیں۔ ان کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار ہے۔ اس وقت دنیا میں 82 بزرگ مردوں کے مقابلے میں 100 بزرگ عورتیں ہیں۔ مجموعی طور پر مردوں کے مقابلے میں بزرگ عورتوں کی تعداد 7 کروڑ زائد ہے۔ عورتوں کا تناسب 65 سال کی آبادی میں 4 کے مقابلے میں 3 جبکہ 80 سال یا اس سے زائد عمر آبادی میں 2 کے مقابلے میں ایک ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایسے بزرگ افراد جو بغیر جیون ساتھی تنہا زندگی گزار رہے ہیں، ان کی شرح 14 فیصد ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں تنہا بزرگ افراد کی شرح 25 فیصد اور ترقی پذیر ممالک میں 7 فیصد ہے۔ تنہا زندگی گزارنے والے بزرگوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ 60 سال سے زائد عمر کی 19 فیصد عورتیں اکیلی جی رہی ہیں، جبکہ اکیلے زندگی بسر کرنے والے مردوں کی شرح 8 فیصد ہے۔ غریب ممالک کے ایک کروڑ بزرگ افراد روزانہ ایک ڈالر سے کم پر گزارہ کررہے ہیں۔ سب صحارا افریقہ کے 60 لاکھ یتیم بچّوں کی دیکھ بھال ان کے دادا، دادی یا نانا، نانی کرتے ہیں۔

 

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...