حقیقت، قومِ پاکستان

Posted on 16/08/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے، جس کو نہ تو بھلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اُسکا انکار ممکن ہے۔ حقیقت کو سمجھنے کے لیئے یہ خود ایک حقیقت ہے۔ پاکستان نہ تو کوئی فرضی داستان ہے اور نہ ہی کوئی فرضی حد بندی۔ یہ ایک ایسا وجود ہے، جسکا تسلیم کیا جانا ہی حقیقت کا آغاز ہے۔ اس کی حقیقت کو سمجھنے کے لیئے تحریک پاکستان کو سمجھنا ضروری ہے۔
حقیقت کیا ہے؟ یہ راز کھولتی ہے۔ حقائق سے جب پردہ اُٹھتا ہے تو نئے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت اصلیت ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی تسیلم ہوجانا حقیقت ہی ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے، مانیں یا نہ مانیں؛ جو بات دِل پر اثر کر جائے تو ایسی بات کچھ نہ کچھ وزن تو رکھتی ہے۔
نظریہ پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے؛ جس کے حقائق کو جان لینا؛ ہر پاکستانی کیلیئے لازم ہے۔ یہ وُہ نظریہ ہے؛ جس کی حد محدود نہیں، اِسکا نقطہ نظر سوچ کو وسعت کے ساتھ بصیرت بھی عطاء کرتا ہے۔ جسکا ہر پہلو حقیقی و عملی ہے؛ اسکے ہر معاملہ کے پیچھے صرف وسیع ترمعنٰی پنہاں نہیں بلکہ ١٤٠٠ سال کے کامیاب ترین تجربات کا عیّاں ہونا بھی ہے۔ جن کی بنیاد رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی تعلیم ہی ہے۔ جو اسکی عالمگیری وسعت اور تسلیمیت کا مظہر ہے۔
نظریہ قوم دراصل نظریہ وحدت ہے، نظریہ فرد نہیں۔ قوم رنگ، نسل، زبان، علاقہ یا قبیلہ وغیرہ کی بنیاد پر نہیں بنتی بلکہ عقیدہ کی بنیاد قوم ہے۔ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ یہ وُہ بنیاد ہے جو وسعت نظری اور قومی احساس کا وجود لاتی ہے۔ علاقائی قوم کا تصور تنگ نظری پیدا کرتا ہے، یہ وحدت کی بجائے تعصب سے علیحدگی کا باعث بنتا ہے۔ جو تقسیم، نفرت اور احساس محرومی کی کثرت کا سبب بنتے ہیں۔

موج دریا میں ہے، بیرون دریا کچھ نہیں
فرد ملت سے ہے، بیرون ملت کچھ نہیں


قوم پاکستان کا نظریہ ہمارے ہر رنگ کا حصّہ ہے۔ قوم کی تعریف سے ہٹ کر زبان، مذہب، ثقافت اور تمدن کے معاملات کو دیکھ لیں؛ آپکو ہر جگہ پاکستان نظر آئےگا۔
قومی زبان اُردو علاقائی زبانوں اور لب و لہجہ کو وحدت بخشتی ہے۔ سوچ، خیال اور عمل کو ایک دھارے میں لاتی ہے۔ دھارا کیا ہے؟ صوفیانہ رنگ۔ وُہ کیسے؟ پاکستان میں بولی جانے والی تمام علاقائی زبانوں کا اعلٰی ترین ادبی رنگ دیکھیئے تو وُہ شاعرانہ رنگ؛ صوفیانہ کلام ہے۔ تمام خطہء پاکستان کی مشترکہ تعلیم؛ صوفیانہ تعلیم رہی۔ اُردو کا ظہور یہیں سے ہوا۔ ”کسی شعر میں جسقدر صوفیانہ رنگ غالب ہوگا، اُسکا مقام اُسقدر بلند اور اعلیٰ ترین تصور کیا جائےگا“ (واصف صاحب)۔
بطور مسلمان ہماری پہچان کلمہ طیبہ ہے، مسلک یا فرقہ نہیں۔ ولی اللہ مسلک کی نہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی بات عمل سے کر کے بتاتے ہیں۔ قائداعظم سے کسی نے دوران انٹرویو پوچھ لیا؛ آپکا فرقہ کونسا ہے؟ آپ نےکچھ یوں جواب میں فرمایا میرا فرقہ وہی ہے جو رسول پاک کا تھا۔ تو اُس فرد نے کہا اُس دور میں تو کوئی فرقہ نہ تھا۔ تو محترم قائداعظم نے فرمایا میں رسول پاک کی دی گئی تعلیم کےمطابق عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ١٨٥٧ء سے قبل فرقہ کا اختلاف نہ تھا۔ انگریز نے” تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کےاصول پر یہ فتنہ پیدا کیا۔ سید احمد شہید کی تحریک اسی سازش کا شکار ہوئی۔ آج اصل اور نقل کے الزام میں جانشینی کے اختلاف کیا ہیں۔ ہم مسلک، علاقہ، ذات، زبان، برادری ، جماعت کے انفراد ی ذاتی مفاد کے نام پر تقسیم ہوئے اور منقسم کیئے بھی گئے۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےآخری خطبہ کی اہمیت تقریر کے علاوہ عملاً بھول جاتے ہیں۔
مسجد اتحاد پیدا کرتی ہے۔ یہاں پر ہم محبت کا عملی درس سیکھتے ہیں۔ بیشک آج حقیقی تعلیم دینے والےمحترم افراد قلیل ہے مگر معاملات آج بھی تعلیم دے رہے ہیں۔ ایک قبلہ کی جانب منہ کر کے، امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں۔ اُسکا احترام مدنظر رکھتے ہیں۔ صف بندی میں بلا امتیاز کھڑے ہوتے ہیں۔ مل کر خدا کےحضور سجدہ کرتے ہیں، دعا مانگتے ہیں۔ صدقہ، خیرات اور زکوٰ ة سے کمزوروں کی مدد کرتے ہیں ہماری عبادات کا عمل محبت سے قوم میں وحدت کا جذبہ بیدار رکھتا ہے۔
مسجد معاشرہ میں ایک ایسے معاشرتی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے؛ جہاں عبادات، تعلیم (مدارس)، انتظامی امور، مالی معاونت اور قانونی فیصلے تک کیئے جاتے ہیں۔
تعمیرا ت کو ہی لیجیئے۔ اللہ خود ایک ہے، اُسکو یکتائی پسند ہے اسی لیئے عمارات میں محرابوں کی تعداد اطاق رکھتے ہیں۔ اسلامی فن تعمیرات میں جیومیٹریکل ڈیزائن، خطاطی، نقش کاری، کاشی کاری اور کندہ کاری کے کام میں ہر فنکار نے اَن گنت ڈیزائن تخلیق کیئے اور ہر تخلیق کار اور تخیل گو کا بنیادی نقطہ ”وحدت“ (unity) رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیزائن میں یکتائیت کی افراط کے باوجود ؛اسلامی نظریہ وحدت یکسانیت رکھتا ہے۔ حتٰی کہ ہمارےگھروں کی کھڑکیاں، دروازی، چھتیں، باغات میں بارہ دریوں، فواروں اور پودوں وغیرہ کی ترتیب میں طاق اعداد اور وحدت کے نقطہ نظر کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ مینار ہی کو لیجیئے یہ ذات باری تعالیٰ کی برتری اور اقتدار اعلیٰ کا نظریہ؛ ارتقاء سے بلندی کی جانب لیجانےکا ترجمان ہے۔ آغازِ اسلام میں اذان بلند چھت یا مقام پر جا کردی جاتی تھی۔ جس کے دو مقاصد تھے، ظاہری یہ تھا کہ آواز تمام شہر یا حد آخر تک سنائی دے۔ عمارات کی تعمیر میں آواز کی گونج اور رفتار پر خصوصی توجہ رکھی جاتی تھی۔ باطنی مقصد بلند مقام سے اللہ کی راہ میں پکار اللہ کےمقام کا اظہار بھی تھا۔ دیگر اقوام میں مینار کئی مقاصد کےتحت تعمیر ہوئے، عہد قدیم میں جنگی مقاصد، عہد جدید میں ترقی و آزادی کی علامت تک کا یہ سفر ہے۔ مگر اسلام میں یہ ہمیشہ وحدت اور عروج کا ترجمان رہا ہے۔ مینار قومی تحریک کا ایک سنگ میل ہوتا ہے۔ برصغیر میں پہلی باقاعدہ اسلامی حکومت کے قیام کی علامت قطب مینار، پاکستان کےقیام کی یادگار مینار پاکستان، مساجد میں مینار کی تعمیر ملت اسلامیہ میں عقیدہ کی مضبوطی کی پہچان ہے۔
اسلامی فن تعمیر میں دیگر اقوام اور مسلمانوں میں ایک فرق رہا ہے۔گھر کی تعمیر میں مسلمان اپنے ہاں کھلےصحن کےساتھ ساتھ مناسب مقدار میں روشنی اور ہوا کی آمد ورفت کو مدنظر رکھتے ہیں، جو ذہنی و قلبی وسعت کا ترجمان ہے۔
تعمیرات میں بات عمارات تک نہیں بلکہ رنگوں کے مطالب اور استعمال میں بھی مشترکہ خصوصیات رکھتے ہیں۔ ہماری مساجد، مقابر، مدارس کی تعمیر میں نیلے رنگ کے ٹائیل ورک کا کثرت سے استعمال تاریخی تسلسل میں فارسی کے اثرات کا آئینہ دار ہے۔ سبز رنگ کو مقدس رنگ کےطور پر استعمال کرتے ہیں۔ سیاہ رنگ کے استعمال کو رسول کے پہلےعَلم (جھنڈا) کی حیثیت سے لیتے ہیں۔ مزید اس رنگ کو حکمت و دانائی کےمعنی میں بھی لیتے ہیں۔ سفید کو اتحاد اور آغاز کی ترجمانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اِن رنگوں کے ایک ہی معنوں سے استعمال اِس قوم (پاکستانی) کےجمالیاتی احساسات کو جوڑتا ہے۔
پاکستان کےکسی بھی خطہ میں چلے جائیں، موسم، حالات اور ماحول میں فرق کےباوجود اقدار یکساں ہے۔ بڑوں سےعزت اور احترام سے پیش آنا، چھوٹوں کےسر پہ دست شفقت رکھنا، ہم مرتبہ افراد سے (نفرت، بغض، حسد اور کینہ کو ختم کرتے ہوئے) گلےملنا۔ ایسے ثقافتی اور تمدنی اظہاری اعمال ہیں۔ جو محبت کا نظریہ پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کے ہر دیہات میں عملی تربیت کی یہ اقدار آج بھی جاری ہے۔
علاقائی مشاورت کے لیئے اگر بلوچستان، سرحد اور کشمیر میں جرگے ہوتے ہیں تو پنجاب میں پنچائیت اور سندھ میں اس کو مَیڑھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان اجتماعات کی سربراہی کوئی بزرگ ہی کر رہا ہوتا ہے۔ اگر سرحد میں یہ مَلک یا خان ہے تو بلوچستان میں سردار، پنجاب میں سرپنچ اور سندھ میں اسی کو مُکھ کا نا م دے دیا جاتا ہے۔ مگر بنیادی اندازِ مشاورت اور مقصد یکساں ہے۔
پاکستان ایسا ملک ہے، جس کے وجود میں آنے سے قبل یہاں کئی تہذیبوں (سندھ، ٹیکسلا، گندھارا) کا جنم ہوا، بیشمار ثقافتیں پھلی پھولیں۔ آج بھی ثقافت، رسم، رواج اپنے اپنے دائرہ میں پھل پھول رہے ہیں۔ مگر یہ تمام جدا نہیں۔ اِنکی مشترکہ خصوصیا ت قوم پاکستان کو یکجا کرتی ہے۔ مشترکہ خاصیت کیا ہے، صوفیانہ تعلیم۔ اس قوم کی پہچان مہمان نوازی ، جفاکشی ، محنتی ، بہادری ہے۔
پاکستانی قوم کا وجود ”واعتصموا بحبل اللہ جمعیا ولاتفرقوا“ (ترجمہ: ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو“) میں ہے۔ پاکستانی قوم پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان، کشمیری نہیں۔ یہ وحدت ہے صرف اور صرف پاکستانی۔ افسوس! تقسیم در تقسیم کی بات ہوتی ہے۔ مزید انتظامی تقسیم کا شور ہوتا ہے، صوبے بنانے کی شورش پیدا کی جاتی ہے؛ ظلم، زیادتی، محرومی کے نعرے لگتے ہیں۔ آج عام فرد کا مزاج ایسا بن چکا ہے کہ وُہ ذاتی نا اہلی کو ذاتی مفاد میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اصلاح کے لیئے اصطلاحات نہیں ہوئیں مگر صلاح پر زور رکھا جاتا ہے۔
قائد اعظم نے ایک پیغام دیا۔ ایمان، اتحاد، تنظیم۔ یہی قوم ِپاکستان کی تعمیر سے ترقی کے سفر کا پیغام ہے۔
قوم پاکستان انفرادی سوچ نہیں، اجتماعی سوچ کا نام ہے۔
علامہ اقبال نےفرمایا تھا:

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے، ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی
اُن کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رُخصت تو مِلت بھی گئی

آج پاکستانی قوم اَن گنت نواسیر (ناسور کی جمع) کا شکار ہے۔ جہاں قدرتی طور پر ہر شئے اس قوم کو وحدت بخشتی ہے۔ اُسی طرح افراد اس وحدت کو تسلیم کرنے سے منکر ہو چلے ہیں۔ قوم میں وحدت جذبہ سے قائم ہوتی ہے۔ جس کو سیاسی، مذہبی، معاشرتی، ثقافتی اور تمدنی پہلوئوں سے اُجاگر رکھا جاتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ٹھہرا کہ ہر شعبہِ زندگی پہ کاری ضرب ذاتی مفادات کے تحت خود ہی لگائی۔
سیاسی اعتبار سے قیادت کے فقدان کی بات کرتے ہیں، مگر کیا خود اس فقدان کے لیئے اپنے حصہ کا کردار ادا کرتے ہیں؟ کسی قابل فرد کو نا اہل رہنما موقع دیتا ہے؟ سیاسی جماعتیں اپنی نمائش کےعلاوہ کبھی قومی و مِلی فکر کا جذبہ پیش کرتی ہیں؟ زلزلہ یا سیلاب میں متاثرین کی مدد تب تک نہیں کی جاتی جب تک میڈیا کوریج نہ دے۔ ممکن ہے اس دوران قیمتی جانوں کا نقصان بھی ملک کو برادشت کرنا پڑا ہو۔ قومی جماعتوں کی کیا یہی قومی سوچ ہے؟ مگر کچھ جماعتوں کا ایسا رویہ نہیں بھی ہوتا۔ بلکہ اُن کا کردار قابل تحسین ہوتا ہے۔
اکثر علاقائی جماعتیں عوامی استحصالی اور محرومی کے نام پر ؛ اپنےبھائیوں میں بھائیوں کے خلاف تعصب کا پرچار پھیلاتی ہیں، احساس محرومی کا شکار کرتی ہیں، اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیئے عوام کو گمراہ رکھتی ہے اور ملکی ترقی میں رکاوٹ بنائے رہتی ہیں۔ برس ہا برس ایک مسئلہ کو اُجاگر کر کےسیاست چمکائی جاتی ہے۔ شائد آج ہم اپنے مسائل حل کرنے میں خود سنجیدہ نہیں اور الزام دوسروں پر تھونپ دیتے ہیں۔
تاریخی و جغرافیائی تسلسل کے تحت رہتے ہوئے بھی، ایک خطرناک اور نہایت ہی مہلک سوچ ؛انتہائی پڑھے لکھے افراد میں پروان چڑھ رہی ہے کہ غیر علاقہ کا فرد کبھی بھی اُن کا دوست نہیں بن سکتا۔ جبکہ پاکستان کے ہر علاقہ کا باشندہ دوستی نبھاتا رہا ہے، اپنی جان دوست پر نچھاور کرتا رہا ہے۔ ہمارا ادب اور فلم اس بات کی گواہی بھی دیتے ہیں۔
میں علاقائی سیاسی جماعتوں کے خلاف نہیں ، بلکہ ملکی ترقی میں ان کا کردار بڑا ہی اہم ہوجاتا ہے۔ یہ اپنےعلاقہ اور عوام کےحقیقی مسائل کو نہ صرف بہتر انداز میں اُجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ اپنے ہی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرلینےکی انمول خصوصیت بھی رکھتی ہیں۔ آج یہ سوال ہے کہ ایسی جماعتوں نے اپنے ذاتی مفادات کو پس و پشت ڈالتے ہوئے ؛ اپنےعوام کےحقیقی مسائل حل کرنے کے لیئے کیا کوئی اہم کردار ادا کیا؟ چند جماعتیں اپنی بقاء قائم رکھنے کے لیئے جھوٹے پروپیگنڈہ پھیلاتی ہیں۔ عوام احساس محرومی کا اس قدر شکار ہو گئی ہے کہ اگر کسی جگہ کوئی میرٹ پر مکمل نہ اُتر سکے تو بیشمار افراد اپنےعلاقائی تعلق کومسترد کیئے جانے کی وجہ گردانتے ہیں۔ بطور پاکستانی ہر فرد کو دُکھ ہے کہ ایسی سوچ پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ ہم غلط ایک جانب کو نہیں ٹھہرا سکتے۔ کوتاہیاں تمام جانب سے سرزد ہوئیں ۔ بہت جلد یہ تمام ٹھیک ہو سکتا ہے اگر ہماری سوچ پاکستان اور ملت کے مفاد کی سطح تک وسیع ہوجائے اور ہر فرد اپنے حصہ کا کردار ادا کرے۔ یہ سوال کرنا چھوڑ دے؛ یہ ملک اُسکو کیا دیتا ہے؟ ملک ماں کی طرح ہوتا ہے، ماں سے یہ سوال نہیں کیا جاتا کہ اُس نےکیا دیا۔ ماں کا جنم دینا ہی احسان ہے۔ ماں سے علیحدہ ہونے والا بچہ کیا کبھی خوش رہتا ہے؟ ناراض ہو کر نیا گھر بنا لینا تو ممکن ہے مگر ماں کی دل آزاری کے بعد کیا اُس گھر میں خوشیاں لوٹیں گی۔ ماں معاف کرتی ہے، بیٹا معافی مانگتا ہے۔ ماں کے سامنے ”میں“ نہیں رہتی۔ آج ہر جماعت کو ماں کے پاؤں دبا کر اُسکی خدمت کرنی چاہیئے۔ محبت سے محرومی کی طرف نہیں جانا چاہیے، محبت تک ہی رہو ۔
١٩٦٥ء کی جنگ میں قوم کا مورال بلند تھا۔ ہر فرد نے جنگ میں اپنا کردار ادا کر کےحصہ لیا۔ کانوائےگزر رہا ہے تو نہایت بوڑھے بزرگ جو چل بھی نہ سکتے تھے، پاکستان اور اُسکے محافظ فوج کے لیئے دُعا کرتے، لاغر و ضعیف بڑھیا مٹھی بھر بھنے چنےگھر سےلیکر نکل کھڑے ہوتی اور جوانوں کو پیش کرتی۔ جوان بھی شفیق لہجہ سے یوں پیش آتا کہ جذبات مجروح بھی نہ ہونے پاتے، فنکار ایک جذبہ اور ولولہ سےاپنا کام بغیر معاوضہ کےصرف اور صرف پاکستان کی خاطر ادا کر رہے تھے۔ فوج شہر سےگزر رہی ہے تو شہر والے استقبال کی تیاری میں پہلے سے منتظر کھڑے رہتے اور آمد پر تمام بازار اُن پر نچھاور کر دیتے۔ دودھ والا تمام دودھ مفت میں دیکر خوش ہے، حلوہ پوڑی والا ناشتہ بھیج کر فوج کا ولولہ قائم کر رہا ہے۔ حجام کی دُکان میں جو خبریں اور تجزیہ زیر گفتگو ہے وُہ قوم میں مورال بلند کر رہا ہے۔ وہاں یہ سوال نہ تھا کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ بلکہ جواب تھا کہ جو میلی نگاہ سے پاک وطن کو دیکھےگا، اُسکی آنکھیں نکال لی جائےگی۔ ہر فرد براہ راست جنگ میں شامل تھا، اپنا کردار ہر فرد نے خوب نبھایا کہ دُنیا کو یہ تحقیق کرنا پڑی قوم کا مورال کیا ہوتا ہے۔١٩٧١ء میں ہم مورال سے محروم کر دیےگئےتھے۔
اس ملک کو سب سے زیادہ مذہبی سطح پر فرقہ وارانہ اور شر انگیز نفرت نے نقصان پہنچا ڈالا۔ مسلمان اپنے ہی دوسرے مسلمان بھائی پر کفر کا فتوی جڑتا ہے، اور مسلمان واجب القتل مسلمان کو ٹھہراتا ہے۔ کیا یہی امن، رواداری، درگزر اور محبت والے مذہب کی تعلیم ہے؟ بچہ کو مسلمان نہیں دیوبندی، بریلوی، شیعہ کی تعلیم میں دیگر مسالک کے لئے نفرت سکھائی جاتی ہے۔ ایک ہی محلہ اور ایک ہی مسلک کی مساجد میں، مغرب کی اذان کے وقت پر بھی فرق لازماً رکھا جاتا ہے۔ ایک ہی مدرسہ کے فارغ التحصیل ہم جماعت ہی لےلیجیئے، جب اُن میں مفادات کا ٹکراؤ آتا ہے تو عقائد کے اختلاف کی بات لے بیٹھتے ہیں۔ اِن خونی جھگڑوں اور اختلافات کے باعث آج کا نوجوان مذہبی ٹھیکیداروں سے متنفر ہو کر دین سے بھی دور ہوا۔ اس سے ہرگز یہ تصور نہ لیا جائے کہ تمام مذہبی مبلغین ایسے ہیں۔ دراصل جس کی لاٹھی اُسکی کی بھینس کے مصداق ؛ آج وُہ لوگ نمایاں ہیں جو دھینگا مُشتی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ علماء و مبلغین نہایت ہی حلیم ، مہذب ، بحث اور جھگڑا میں نہ پڑنے والے افراد ہوتے ہیں۔ ایسے شریف لوگ گمنامی میں اس ملک اور دین اسلام کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وُہ کبھی کسی کو برا نہیں کہتے، بس اصلاح کا عمل مسلسل جاری رکھے رہتے ہیں۔ سلام ہو ایسےعظیم انسانوں پر۔
مزارات پر مجاورین اللہ والوں کے قصیدے سناتے ہیں، اُنکو بشر سے مافوق الفطرت بنا ڈالتے ہیں، اپنی تجوریوں کو لنگر کےنام پر بھرتے ہیں۔ کاش! ایسےچند افراد اُن نیک بندوں کے نقش قدم پر خود بھی چلیں اور لوگوں کو اُس پر چلنے کے لیئے رہنمائی فراہم کریں۔ مگر آج تو چند خانوادوں میں ماضی کے بادشاہوں کی طرح گدی نشینی کے جھگڑے چل پڑتے ہیں۔ ہمیں ایسے جھگڑوں سے پرہیز کرتے ہوئے محبت کا درس دینا چاہیے۔
روپے کی دوڑ نے قوم کی اکثریت کو ”پیسےکا پتر“ بنا دیا ہے۔ Status کے چکر میں زبان بھی امپورٹ کی، زبان سے غیر مانوس ہونے کے باعث احساس منتقل نہیں ہو پا رہا۔ جذبات، کیفیات ہر فرد کے اندر منجمد رہنے لگے ہیں۔ اظہار اندر ہی گُھٹ گُھٹ کر مر جائےگا۔ آج زندگی گلیمر کے سواء کچھ نہیں، انسان معاشرہ سے کٹ چکا ہے۔ انسان کی اہمیت مایا (دولت) سے ہے اور معاشرہ کا رویہ اس مثل کے مانند ہے، مایا کو رامو، رام، رام داس ۔
یہ تصور حقیقت سمجھا جا رہا ہے؛ جس کے پاس روپیہ ہے اُسکی اہمیت ہے۔ رشتہ داری دولت سے ہے افراد سے نہیں۔ گاڑی کا ماڈل، مکان کی لاگت، مہنگی آسائشی اشیاء اور صرف حاصل کی گئی تعلیمی ڈگری امارت طے کر رہے ہیں۔ صرف قصور اُمراء کا نہیں، غریب خاندان بھی بہو کے لیئے ملازمت کی شرط عائد کر رہا ہے، جہیز کو لعنٰت قرار دیتے ہیں، شائد آج بہو کو پیسہ بنانے والی مشین بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اپنی بیٹی کو یاد نہیں رکھتے، دوسروں کی بیٹیوں کی قیمت لگاتے ہیں۔ بیٹی والے بیٹیاں بیچ کر بچھتا رہے ہیں۔ لڑکی والے بھی جھوٹی شان کی تلاش میں ہیں۔ اُنکو ایسا داماد چاہیے جو اُنکے لیئے ایک مشین ہو۔ شائد آج معاشرہ کو بیٹا یا بیٹی نہیں حسن کے ساتھ دولت بنانے والی نافرمان مشینیں بھی چاہیے۔گھر بسانے کی بجائے، طلاق کی ترویج ہو رہی ہے۔ تربیت کرنے والے افراد آج ایک مایوسی کا شکار ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ آج وُہ جس معاشرہ میں رہ رہے ہیں وہاں محبت سکھائی نہیں جا سکتی، کیونکہ اب یہ بات معاشرہ میں خیالی بات ہو چلی ہے۔
ثقافت ختم ہو رہی ہے، پکوان کےذائقہ کی جگہ fast food نے لے لی۔ حلال، حرام کی تحقیق کی بجائے سہولت اور status کو دیکھنے لگے۔ گھر میں فنکشن نیچرل پن کےمعنی رکھتا ہے، آج بکنگ کے دور میں حسن سے محروم، لباس شائستگی کی بجائے بیہودگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کیبل چینلز رنگ اور ڈیزائن معاشرہ کے طے کر رہے ہیں۔ مذہبی و ثقافتی نظریات کےتحت ڈیزائن اور رنگ کے انتخاب نہیں کئے جاتے۔ پلاسٹک کی بوتل کا”منرل واٹر“ صحت افزاء نام سے فروغ پا رہا ہے جبکہ پلاسٹک تو خود بیماریوں کا سبب ہے۔گھڑے کا پانی بہترین پانی تصور ہوتا ہے مگر وُہ status کہاں جائے؟ علاقائی مشروب موسم کے حوالے سے مخصوص ہیں۔ مگر مہمان اور میزبان دونوں کانجی، سکنج بین، لسی وغیرہ کو قابل توہین سمجھتے ہیں۔ ثقافت صرف چند نظریاتی لوگ قائم رکھنےکی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈرامہ نگار کا ڈرامہ خود ڈرامہ بن چکا ہے۔ وُہ جو معاشرہ پیش کر رہا ہے، وُہ exist ہی نہیں کرتا اور لوگ اُس existense کی جانب بھاگ رہے ہیں۔ محبت صرف دِل ڈول کر شادی رچا لینے کا trend بنا دیا ہے۔ کیا حقیقی محبت یہی ہوتی ہے؟ آئندہ چند سالوں تک پاکستان پر بنایا گیا ڈرامہ خیالی بات ہی معلوم ہوگی۔ تحریک پاکستان افسانہ یا چند پاگل لوگوں کا جنون کہا جانے لگےگا۔
تمدنی اعتبار سےگھر بنائے نہیں جا رہے۔ مغرب سے خیالات امپورٹ ہوتے ہیں مشرقی انداز میں گھر بنانے کو اب ہتک سمجھا جانے لگا ہے۔ مغربی طرز کا گھر فخر تو بنتا ہے مگر ذرا سوچئیے کیا موسم اور ثقافت کےاعتبار سے یہ گھر قابل رہائش رہتے بھی ہیں یا نہیں۔ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ ہمارا ہر قدم قانون فطرت کےعین مطابق تھا اور آج مکمل خلاف ہے۔
اللہ کرے، اس قوم سے روپےکی ہوس والی دولت چھن جائے اور ہمیں حقیقی دولت عطاء فرما۔ امارات نے اس قوم کو بھٹکا دیا ہے۔ اس قوم کی عمارت درویشی میں ہے۔

(فرخ نور)

متعلقہ تحریریں
نظریہِ پاکستان
درویش پاکستان

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

طٰہ کی سالگرہ

Posted on 15/08/2009. Filed under: بلاگ اور بلاگرز, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , |

15 اگست طٰہ کی سالگرہ کا دن ہے۔



Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

بلیک اینڈ وائٹ پاکستان

Posted on 14/08/2009. Filed under: پاکستان, بلاگ اور بلاگرز | ٹيگز:, , , , , |



















Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

آٹھواں میرا پیار

Posted on 14/08/2009. Filed under: پاکستان, شعروادب | ٹيگز:, , , , |

پاک زمیں کی ہنستی رتوں کا
دھنک دھنک اظہار
دھنک کے سچے سات رنگ اور
آٹھواں میرا پیار
١٤ اگست
آسماں اور دھرتی کے درمیان زندہ
سارے منظر سمیٹے
ایک وطن کی تشکیل کا دن
آج ہم ان منظروں کو کچھ
اور نہ سجا دیں ۔۔۔۔
گیتوں سے ۔۔۔
جھنڈوں سے۔۔۔
اور پھولوں سے ۔۔۔۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

آزادی اور جمہوریت

Posted on 14/08/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

آج ١٤ اگست ہے آزادی کا دن، یہ ملک جمہوریت کے نام پر بنا لیکن ٣٣ سال مارشل لاء کی نذر ہو گئے۔ دنیا کے کئی ممالک کی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں فوجی حکومتوں کے آنے سے ترقی کی رفتار تیز ہو گئی۔ انڈونیشیا کی مثال سامنے ہے جہاں فوجی آمریت کی ایک شکل کے باوجود ترقی کی رفتار تیز تر ہوتی رہی۔ لیکن پاکستان میں فوجی آمریت اور مارشل لاء سے جمہوریت کا راستہ تو رکتا ہی رہا ترقی کی رفتار پر بھی اس کے مثبت اثرات نہ پڑ سکے۔ پاکستانی قوم کے مزاج میں آزادی اور جمہوریت رچی بسی ہوئی ہے۔ جس کسی بھی آزادی چھیننے کی کوشش کی اس کے خلاف سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں نے تحریکیں چلائیں اور بالآخر جمہوریت بحال ہو کر رہی۔ ماضی کے مارشل لاء کا جائزہ لیکر ہم جہاں ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لے سکتے ہیں وہاں اس بات کی پیش بندی بھی کر سکتے ہیں کہ آئندہ ایسے حالات ہی پیدا نہ ہوں جس سے جمہوریت کا بستر گول ہو جائے۔
آزادی کے اس دن ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ جمہوری نظام کامیابی سے چللانا ہے کیونکہ اسی میں ہم سب کی بقا ہے، اس سلسلے میں عدلیہ تو اپنا کردار کامیابی نبھا رہی ہے، اب نگاہیں پارلیمنٹ پر لگی ہیں کہ وہ کیا کردار ادا کرتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

وطن کی مٹی گواہ رہنا

Posted on 10/08/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , |

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

سارہ منیر کی سالگرہ

Posted on 03/09/2008. Filed under: بلاگ اور بلاگرز | ٹيگز:, , |

31 اگست کو میری پیاری بیٹی سارہ منیر کی سالگرہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم سے چار سال کی ہوگئی ہے، 31 اگست کو سالگرہ اور دوسری بے پناہ مصروفیت کی وجہ سے میں یہاں پوسٹ نہیں کر سکا اس لئے آج کے دن سارہ کی سالگرہ شئیر کر رہا ہوں، آپ تمام دوست احباب سے سارہ کی اچھی صحت اور اچھے مستقبل کے  لئے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ اسے دین و دنیا کی تمام بھلائیاں عطا کرے ۔۔۔ آمین

سارہ کا خوبصورت انداز
ہاتھوں پہ لگی مہندی کو دیکھتے ہوئے
بھائی طٰہ کے ساتھ مستی کرتے ہوئے
اپنی سالگرہ پر ڈھولک بجاتے ہوئے

Read Full Post | Make a Comment ( 8 so far )

طہ کی سالگرہ

Posted on 15/08/2008. Filed under: بلاگ اور بلاگرز | ٹيگز:, , |

آج میرے پیارے بیٹے طہ منیر کی دوسری سالگرہ ہے۔ طہ نے گو کہ بولنا بہت دیر بعد شروع کیا مگر جب بولا تو ایسے لگا جیسے تمام باتیں اور تمام چیزوں کے نام اسے پہلے سے یاد تھے۔ دل کو لبھانا اور کسی کو باتوں سے اپنی متوجہ کرنا اس کے بایاں ہاتھ کا کام ہے۔ اور دنیا کا سب سے بڑا ننھا ایکٹر ۔۔۔ اس نے تو مجھے حیران ہی کر دیا ۔۔۔۔۔ ١٣ اگست کی صبح جب میں ناشتہ کرنے بیٹھا تو میں نے آواز دی آؤ بچو کھانا کھائیں (یاد رہے کہ میرے دو بچے ہیں ایک بیٹی سارہ جس کی سالگرہ ٣١ اگست کو ہے اور دوسرا بیٹا طہ جس کی سالگرہ ہم آج رات منانے جا رہے ہیں) دونوں آ کے میرے ساتھ بیٹھ گئے، سارہ نے غلطی سے پلیٹ کو ہاتھ لگا دیا جو کہ کافی گرم تھی اور اس کا ہاتھ معمولی سا جل گیا اور وہ ہاتھ پکڑ کر اسے دبانے لگی سارہ کی مما نے اس کے ہاتھ پر کریم لگا دی اور کہا کہ ابھی آرام آ جائے گا ۔۔۔ طہ یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس کے بعد اس نے ویسی ہی ایکٹنگ شروع کر دی۔ اپنا ہاتھ پکڑا اور زور سے دباتے ہوئے کہنے لگا ‘کیم لگاؤ ۔۔۔ اوئی آئی‘ ساتھ میں ہچکیاں لیتے ہوئے رونے لگا۔ میں اس کی اس بے باک ایکٹنگ پے عش عش کر اٹھا جب کریم لگا دی تو پھر زور زور سے ہنسنے لگا  ۔۔۔۔ ہے نا سب سے بڑا ننھا ایکٹر؟ ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اسے لمبی عمر اور خوبصورت سیرت دے اور زندگی میں تمام تر کامیابیاں و کامرانیاں اس کا مقدر بنیں ۔۔۔ آمین

Read Full Post | Make a Comment ( 11 so far )

درویش پاکستان

Posted on 14/08/2008. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

لفظ پاکستانی پُر عمیق حروف کا عقیق مجموعہِ لفظ ہے۔ جو پُر اثر تاثیر رکھتا ہے۔ پاکستان کا وِچار امن، محبت، بھائی چارہ کا پرچار ہے۔ پاکستانیوں کی تربیت اللہ کے درویش کر رہے ہیں۔ یوں سر زمین پاکستان کا ہر فرد قلندرانہ و درویشانہ رنگ رکھتا ہے۔ یہ ملک صرف ایک زمین کا خطہ نہیں، اِسکے پیچھے ایک بہت بڑا تربیت اور ترتیب کا سلسلہ جاری ہے۔ اسکے پیچھے اِک راز ہے ۔۔۔۔۔ راز ِحقیقت۔
ٰ ظاہری تعلق سےظاہری باتیں ہی سمجھ آتی ہے۔ نکتے اور بات کا احساس روحانی تعلق سے ہوتا ہے۔ والدین اور بچوں کا آپس میں احساس اور فکرمندی کا تعلق، بہن بھائیوں کا آپس میں خون کی کشش کا رشتہ، ہزاروں میل دور بیٹھے کسی کی تکلیف کا احساس ہو جانا۔ روحانی رشتہ ہے۔ یہی وُہ ربط ہے جو ہمیں بطور قوم پاکستانی بناتا ہے۔
ماں اور بچے کا آپس میں روحانی رشتہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ماں شفقت اور احساس کا ایسا امتزاجی تعلق ہے، جو ہمارے اندر کے احساسات کو محسوس کرتے ہوئےہماری  بے چینی دور کرنے کی حتیٰ الواسع کوشش فرماتی ہیں۔ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل ۔۔۔۔۔۔ وطن عزیز اور انسان کا رشتہ ماں اور بچہ کے رشتہ کی مانند ہے ۔۔۔۔۔ افسوس! آج یہ معاملہ کمزور محسوس ہو رہا ہے۔ ماں بچےکی تربیت کرتی ہے۔ اُسکی سب سے بڑی خوبی خودداری ہے۔ ہر ذی شعور ماں تربیت کا آغاز خودداری کے عمل سے کرواتی ہے۔
خودداروں میں سے سب سے بڑے خوددار خودداری کی علامت بنتے ہیں۔ شاہین ایک خوددار پرندہ کی علامت ہے۔ تناور درخت ہمیں خوددار بننا سکھاتے ہیں۔قدرتی مخلوقات ہمیں اللہ  پر بھروسہ رکھتے ہوئے خودداری کا درس دیتی ہیں۔
لفظ پاکستان بڑا ہی معنٰی خیز ہے۔ اِسکے ایک معنی ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ! یہ معنٰی صرف نام کی حد تک نہیں۔ بلکہ یہ مسلسل ایک چلتے رہنے والے عمل کا نام ہے۔ آج بھی یہ ملک اپنے ابتدائی معنوں کے مراحل سےگزر رہا ہے۔ تکمیل میں ابھی وقت باقی ہے!!!
یہ ملک درویشوں نے ملکر بنایا ہے۔ یہ ایک سنگ میل تھا۔ جس کی قیادت بغیر داڑھی والے درویشوں نے بھی کی۔ قیام پاکستان کے دوران درویش خاموش نہ تھے۔ بلکہ عملی طور پر سیاسی میدان میں قیادت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ علامہ محمد اقبال مسلم لیگ پنجاب کے صدر تھے، قائد اعظم کی قیادت ایک زندہ مثال ہے۔ فکر اور عملی یکجہتی کے یہ دو درویشانہ کردار ہیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد درویش ملکی قیادت میں خاموشی اختیار کرگئے۔ اُنکی یہ خاموشی بہت بڑی گویائی بیان کر رہی ہے۔
آج درویش قیادت کیوں نہیں کر رہا؟ اِس چپ اور خاموشی کی ریاضت میں کوئی بات ہے! ہوسکتا ہے درویش مسلسل فرد فرد کی تربیت محسوس کر رہا ہو۔ ملک کی آزادی کے بعد وُہ قوم کی روحانی تربیت میں مصروف عمل ہیں۔ مفکر درویش (مفکرِ پاکستان) نےخودی کی آگاہی دی۔
ذرا غور فرمائیے! اگر درویش اِس ملک کی قیادت کو چھوڑ سکتے ہیں تو وقت آنے پر اِس ملک کی بھاگ دوڑ سنبھال بھی سکتے ہیں۔وُہ مشیت الہی کےتابع ہیں۔
درویش حکم ِ الہی کے تابع ہوتے ہیں۔ اُنکی سوچ، افکار اور رویہ عام فرد کو حقیقی آزادی عطاء کرتے ہیں۔ وُہ انسان کی روح کو صحت بخش کر ہمیشہ کے لیئے ذہن کی غلامی اور پستی سے نکال باہر کرتے ہیں۔ یہ ملک ظاہری طور پر ہی نہیں، باطنی طور پر بھی آزاد ہوا۔ یوں حقیقی آزادی پاکستان کا نصیب بنی۔ ( ابھی یہ آزادی کےاندرونی مراحل سےگزر رہا ہے۔)
ہو سکتا ہے دورانِ سفر کسی درویش صفت شخصیت نے ملک کو اسلام کا قلعہ بنا کر خاموشی اختیار کر لی ہو۔ قیام پاکستان سے ہی درویش بہت سے نامورین کی عملی تربیت اور رہنمائی گمنامی میں رہ کر فرما رہے ہیں۔
پاکستان کی آزادی تمام دُنیا کے لیئے امن کا پیغام ہے۔ قوم کی تربیت جس سمت میں کی گئی، کی جائےگی وُہ ایک تعمیری شاہراہ ہے۔ کیونکہ قوم کی تعمیر میں اللہ والے مصروفِ عمل ہیں۔ اُولیاءکرام کی تعلیم منفی پہلوئوں سے پاک ہوتی ہے۔ اُنکی تعلیم نہ صرف باطن کو پاکیزگی عطاء فرماتی ہے بلکہ حلقہ احباب کو بھی ِمطہر (پاکیزہ) کر دیتی ہے۔ لفظ پاکستان مطہرِ عطرِمعطر (ایسی مسحور کن پاکیزہ خوشبو جو سارے جہاں میں پھیل کر دلکشی کا انمول نمونہ بن جائے) ہے۔
یہ ملک درویشوں کا ملک ہے۔ درویش موتی بکھیرتا ہے۔ وُہ انسان کو انسان کا احساس دلاتے ہوئے احساس کی اساس بتلاتا ہے۔ انسانیت سے محبت سکھاتا ہے۔ اُنکا مزاج رہا ہے کہ ”وُہ کبھی کسی کا احسان نہیں رکھتا“۔ وُہ دینے والا ہاتھ ہوتا ہے۔ وُہ بس دیتا ہے، بانٹتا ہے، بکھیرتا ہے درویش صفت انسان کٹ سکتا ہے مگر جھک نہیں سکتا۔
اللہ نے اس قوم کو کس قدر خوش نصیب بنایا ہے۔ یہ ملک بھیک میں مانگا نہیں گیا۔ اللہ نے حکمت سے عطاء کیا ہے۔ اللہ جسکو کچھ عطاء کر دے۔ وُہ بس پھر دیتا ہے، بانٹتا ہے، رہنمائی کرتا ہے۔ جو چھینتا ہے وُہ ہمیشہ چھینتا ہی رہےگا کیونکہ اُسکی فطرت چھیننا ٹھہر پائی ہے، جبکہ جو دیتا ہے وُہ ہر حال دیتا ہے، وُہ بے ہتھل ہو کر بھی دیتا ہے کیونکہ اُسکا نصیب دینا قرار پایا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے اللہ نے پاکستان کو دینے والا پیدا فرمایا ہے۔ یہ خطہِ زمین دُنیا بھر کو سونا اُگل کر دیتا ہے۔ ابھی تو اس کو بہت بڑا کردار ادا کرنا ہے۔ بڑے پن کا کردار
مملکت خدداد“  کی وُہ ابتدائی کوشش جو شہید ٹیپو سلطان نے جاری رکھی۔ پاکستان اُس جدوجہد کی عملی تصویر بھی بنا۔ تبھی اِس ملک کو ”مملکت خداداد“ قرار دیا گیا۔ مملکت خداداد کا تصور رکھنے والی شخصیت نے اُمت مسلمہ کو اپنی سوانح سے ایک قول دیا ۔”شیر کی ایک دِن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“۔۔۔۔۔۔
لاہور شہر میں ایک یاد گار ”مینار پاکستان“ ہے۔ جو سلسلہِ قوم ”پاکستان“  کی یگانگت اور اتحاد کی علامت ہے۔ جو سفر ٢٣ مارچ ١٩٤٠ء کو آغاز ِعمل میں آیا تھا۔ اُسکی ایک منزل ١٤ اگست ١٩٤٧ء کو طے ہو گئی۔ اُسکا اصل مقصد ابھی بھی باقی ہے۔ جسکی ایک یادگار لاہور ہی میں” سِمٹ مینار“  کی صورت میں باقی ہے۔ جو اتحاد ِ بین المسلمین کے لیئےتعمیر ہوا۔ ابھی یہ سفر ادھورا ہے آدھا باقی ہے۔
ہمیں ایک پاکستانی کی حیثیت سے یہ ضرور سوچنا ہوگا۔ اللہ نے ہمیں اُوپر والا ہاتھ ہونے کا اعزاز بخشا ہے مگر انتہائی افسوس!  ہم نیچےوالا ہاتھ بننے کی تگ و دو میں ہیں۔ آج ہماری غیرت مرگئی ہے، ہم میں اعناء کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہم دوسروں کی امداد پر نظریں لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ ”اپنی مدد آپ کےتحت“  کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔ ہم پہ آفت آتی ہے تو مفت کی امداد کے سہارے بیکار بیٹھ کر ناکارہ ہی ہو جاتے ہیں۔
اےاللہ ہمیں بطور قوم لفظ پاکستانی کی اہمیت سے روشناس کروا ۔ ہم میں خودداری، غیرت اور یگانگت کو اُجاگر فرما!
(فرخ)

 

 

 

(گیدڑ کی زندگی ہے کیا؟ وُہ میر صادق کی مانند تخت کے کھو جانے اور کھو جانے کےخوف میں موجود رہنا، میر جعفر کی طرح خدمات سرانجام دیتے ہوئے ریڑھ کی ہڈی تڑوا لینا۔ خدمات کا صلّہ اذیت کی موت سے بہتر کتے کی موت!  پستول سے نکلی گولی کا انعام موت کی صورت میں حاصل کر لینا۔)

 

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

١٤ اگست ۔ غلام قوم کا آزاد دن

Posted on 14/08/2008. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

سال کے ٣٦٥ دنوں میں سے ہمیں آج ہی کے دن یعنی ١٤ اگست کو ہی اپنی آزادی کا احساس ہوتا ہے ورنہ تو باقی ٣٦٤ دنوں میں ہم غلاموں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ آج کا پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔ جس کا اپنا جھنڈا، اپنا سکہ، اپنا دستور اور اپنا آئین ہے۔ کسی قوم پر اس سے بڑھ کر اللہ کا انعام اور کیا ہو سکتا ہے مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اپنا ملک ہونے کے باوجود بھی ہم غلاموں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بیشک ہمارا ایک مضبوط آئین ہے، مضبوط قانون ہے مگر یہ صرف لفظوں اور موٹی موٹی کتابوں تک محدود ہے نہ تو آئین پر عمل کیا جاتا ہے اور نہ ہی قانون کی پروا کی جاتی ہے۔
پاکستان میں نظام بدلنے کی بات تو ہمیشہ کی جاتی ہے مگر چہروں کے علاوہ بدلتا کچھ نہیں۔ بڑا آدمی ہمیشہ فرشتہ اور غریب یہاں مجرم کی سی حیثیت رکھتا ہے، شریفوں کی ایک لمبی لائن کے باجود آجکل میں شرف وہی جس کا بس نہیں چلتا۔
ملک میں انصاف نام کی کوئی شئے موجود نہیں، نوکری چاہیے تو ایم این اے کے پاس جاؤ، سکول میں داخلے کے لئے ایم پی اے کام آئے گا، سرکاری ملازمتیں بند مگر وزیراعظم اور وزیراعلٰی سیکرٹریٹ دھڑا دھڑ نئی تقریاں کر رہے ہیں۔ بے روزگاری، غربت، مہنگائی، فیکڑیاں بند، صنعتیں تباہ، سٹاک ایکسچینج کا لیول مسلسل نیچے کی طرف، پیسہ غیر ملک منتقل، سوات و بلوچستان آپریشن، خود کش حملے، افغانستان جیسے ملک کی طرف سے دھمکی آمیز بیانات جبکہ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود ہمارے لیڈر آپش میں گتھم گتھا ہیں، ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے لئے سیاسی قلابازیاں کھائی جا رہی ہیں، نئے رہمنائے اصول مرتب کئے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں کبھی ذہن بدلنے کی بات نہیں سوچی گئی یہاں اگر کچھ بدلتا ہے تو وہ ہیں صرف حکمرانوں کے چہرے جو ہر چند سال بعد تبدیل ہو جاتے ہیں، نہ ہوں تو کرا دیئے جاتے ہیں۔ کچھ دن یونہی چلتا ہے پھر حوالے بدلتے ہیں کل کے محب وطن غدار اور غدار حب الوطنی کے علمبردار بن کر سامنے آتے ہیں۔
اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو یوں لگتا ہے کہ وہ تبدیلی، وہ انقلاب، وہ انصاف شاید کبھی نہیں آئے گا جس کی آرزو میں ہم سالہا سال سے ہر نئی پارٹی، ہر نئے لیڈر، ہر نئے نعرے اور ہر نئے نظریے کی طرف دیکھتے ہیں، خوش ہوتے ہیں کہ شاید اب شام غم ڈھلنے کو ہے نئی صبح طلوع ہونے کو ہے مگر تسلیوں، دلاسوں، امیدوں اور آسروں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وہی برطانوں جمہوریت، الیکشن، سیاسی انارکی، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سانحہ، ٹوٹتی بنتی اسمبلیاں، ایل ایف او، پی سی او، ایمرجنسی، کسی کا سوشلزم، کسی کا اسلام، کسی کے وعدے، کسی کے دلاسے، معاشی خوشحالی کے دعوے، کشکول توڑنے کی باتیں، لوٹ مار کے قصے، کھوکھلے نعرے ۔۔۔ کون سی تبدیلی اور کون سا انقلاب۔ جب سے ہوش سنبھالا یہی سنا کہ ہر رات کی ایک سویر ہے، اندھیرے کے بعد اجالا ضرور آتا ہے مگر سمجھ نہیں آتی یہ کیسی رات ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔
اگر اس کالی رات کی آخیر کرنی ہے، اسے ختم کرنا ہے، روشنی کی طرف سفر کرنا ہے، اس ملک کو خوشحال بنانا ہے تو ہمیں اس نظام کو بدلنا ہو گا۔ آئین اور قانون کی پاسداری کرنا ہو گی یہ تب ہی ممکن ہے جب قانون کی نظر میں امیر غریب کا فرق ختم ہو گا۔ قانون سب کے لئے برابر ہو پھر دیکھئے ملک میں خوشحالی کا آغاز کیسے نہیں ہوتا۔
کچھ کالی بھیڑیں ہیں جو صرف اپنے مفاد کی خاطر اس ملک کو کھوکھلا کر رہی ہیں ہمیں ان کو بے نقاب کرنا ہو گا۔ چپ رہنے سے خوموشیاں ختم نہیں ہوں گی، یہ بے حسی کی زنجیریں نہیں ٹوٹیں گی اور اس نظام کو بدلنے کے لئے آسمان سے فرشتے نہیں آئیں گے ہمیں خود ہی ہاتھ پاؤں مارنا ہوں گے۔
کاش! ہر فرد کے دل میں اپنے وطن کے لئے محبت پیدا ہو جائے اور بیرون ملک رہنے والے پاکستانی یہ کہہ اٹھیں کہ

پہلے میری سوہنی دھرتی کا افسانہ سنا
پھر ستاروں، آسمانوں، جنتوں کی بات کر

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ وطن عزیز کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دے اور یہ ہمیشہ قائم و دائم رہے اور اس ملک میں رہنے والے ہر فرد کے دل میں اس کی محبت پیدا ہو جائے اور ہمارے حکمرانوں کی ہمت  اور طاقت دے کہ وہ ہمیں غلامی کے اس گھٹاٹوپ اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئیں اور ہمیں صرف ایک دن نہین سال کے ٣٦٥ دنوں میں اپنی آزادی کا احساس ہو اور پھر ہر پاکستانی پکار اٹھے

 

جشن آزادی مبارک

 

 

 

نوٹ۔ قارئین سے انتہائی معذرت کہ وقت کی کمی کے باعث اسے مختصر کر کے جلدی ختم کرنا پڑا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...