حقیقت، قومِ پاکستان

Posted on 16/08/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے، جس کو نہ تو بھلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اُسکا انکار ممکن ہے۔ حقیقت کو سمجھنے کے لیئے یہ خود ایک حقیقت ہے۔ پاکستان نہ تو کوئی فرضی داستان ہے اور نہ ہی کوئی فرضی حد بندی۔ یہ ایک ایسا وجود ہے، جسکا تسلیم کیا جانا ہی حقیقت کا آغاز ہے۔ اس کی حقیقت کو سمجھنے کے لیئے تحریک پاکستان کو سمجھنا ضروری ہے۔
حقیقت کیا ہے؟ یہ راز کھولتی ہے۔ حقائق سے جب پردہ اُٹھتا ہے تو نئے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت اصلیت ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی تسیلم ہوجانا حقیقت ہی ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے، مانیں یا نہ مانیں؛ جو بات دِل پر اثر کر جائے تو ایسی بات کچھ نہ کچھ وزن تو رکھتی ہے۔
نظریہ پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے؛ جس کے حقائق کو جان لینا؛ ہر پاکستانی کیلیئے لازم ہے۔ یہ وُہ نظریہ ہے؛ جس کی حد محدود نہیں، اِسکا نقطہ نظر سوچ کو وسعت کے ساتھ بصیرت بھی عطاء کرتا ہے۔ جسکا ہر پہلو حقیقی و عملی ہے؛ اسکے ہر معاملہ کے پیچھے صرف وسیع ترمعنٰی پنہاں نہیں بلکہ ١٤٠٠ سال کے کامیاب ترین تجربات کا عیّاں ہونا بھی ہے۔ جن کی بنیاد رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی تعلیم ہی ہے۔ جو اسکی عالمگیری وسعت اور تسلیمیت کا مظہر ہے۔
نظریہ قوم دراصل نظریہ وحدت ہے، نظریہ فرد نہیں۔ قوم رنگ، نسل، زبان، علاقہ یا قبیلہ وغیرہ کی بنیاد پر نہیں بنتی بلکہ عقیدہ کی بنیاد قوم ہے۔ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ یہ وُہ بنیاد ہے جو وسعت نظری اور قومی احساس کا وجود لاتی ہے۔ علاقائی قوم کا تصور تنگ نظری پیدا کرتا ہے، یہ وحدت کی بجائے تعصب سے علیحدگی کا باعث بنتا ہے۔ جو تقسیم، نفرت اور احساس محرومی کی کثرت کا سبب بنتے ہیں۔

موج دریا میں ہے، بیرون دریا کچھ نہیں
فرد ملت سے ہے، بیرون ملت کچھ نہیں


قوم پاکستان کا نظریہ ہمارے ہر رنگ کا حصّہ ہے۔ قوم کی تعریف سے ہٹ کر زبان، مذہب، ثقافت اور تمدن کے معاملات کو دیکھ لیں؛ آپکو ہر جگہ پاکستان نظر آئےگا۔
قومی زبان اُردو علاقائی زبانوں اور لب و لہجہ کو وحدت بخشتی ہے۔ سوچ، خیال اور عمل کو ایک دھارے میں لاتی ہے۔ دھارا کیا ہے؟ صوفیانہ رنگ۔ وُہ کیسے؟ پاکستان میں بولی جانے والی تمام علاقائی زبانوں کا اعلٰی ترین ادبی رنگ دیکھیئے تو وُہ شاعرانہ رنگ؛ صوفیانہ کلام ہے۔ تمام خطہء پاکستان کی مشترکہ تعلیم؛ صوفیانہ تعلیم رہی۔ اُردو کا ظہور یہیں سے ہوا۔ ”کسی شعر میں جسقدر صوفیانہ رنگ غالب ہوگا، اُسکا مقام اُسقدر بلند اور اعلیٰ ترین تصور کیا جائےگا“ (واصف صاحب)۔
بطور مسلمان ہماری پہچان کلمہ طیبہ ہے، مسلک یا فرقہ نہیں۔ ولی اللہ مسلک کی نہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی بات عمل سے کر کے بتاتے ہیں۔ قائداعظم سے کسی نے دوران انٹرویو پوچھ لیا؛ آپکا فرقہ کونسا ہے؟ آپ نےکچھ یوں جواب میں فرمایا میرا فرقہ وہی ہے جو رسول پاک کا تھا۔ تو اُس فرد نے کہا اُس دور میں تو کوئی فرقہ نہ تھا۔ تو محترم قائداعظم نے فرمایا میں رسول پاک کی دی گئی تعلیم کےمطابق عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ١٨٥٧ء سے قبل فرقہ کا اختلاف نہ تھا۔ انگریز نے” تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کےاصول پر یہ فتنہ پیدا کیا۔ سید احمد شہید کی تحریک اسی سازش کا شکار ہوئی۔ آج اصل اور نقل کے الزام میں جانشینی کے اختلاف کیا ہیں۔ ہم مسلک، علاقہ، ذات، زبان، برادری ، جماعت کے انفراد ی ذاتی مفاد کے نام پر تقسیم ہوئے اور منقسم کیئے بھی گئے۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےآخری خطبہ کی اہمیت تقریر کے علاوہ عملاً بھول جاتے ہیں۔
مسجد اتحاد پیدا کرتی ہے۔ یہاں پر ہم محبت کا عملی درس سیکھتے ہیں۔ بیشک آج حقیقی تعلیم دینے والےمحترم افراد قلیل ہے مگر معاملات آج بھی تعلیم دے رہے ہیں۔ ایک قبلہ کی جانب منہ کر کے، امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں۔ اُسکا احترام مدنظر رکھتے ہیں۔ صف بندی میں بلا امتیاز کھڑے ہوتے ہیں۔ مل کر خدا کےحضور سجدہ کرتے ہیں، دعا مانگتے ہیں۔ صدقہ، خیرات اور زکوٰ ة سے کمزوروں کی مدد کرتے ہیں ہماری عبادات کا عمل محبت سے قوم میں وحدت کا جذبہ بیدار رکھتا ہے۔
مسجد معاشرہ میں ایک ایسے معاشرتی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے؛ جہاں عبادات، تعلیم (مدارس)، انتظامی امور، مالی معاونت اور قانونی فیصلے تک کیئے جاتے ہیں۔
تعمیرا ت کو ہی لیجیئے۔ اللہ خود ایک ہے، اُسکو یکتائی پسند ہے اسی لیئے عمارات میں محرابوں کی تعداد اطاق رکھتے ہیں۔ اسلامی فن تعمیرات میں جیومیٹریکل ڈیزائن، خطاطی، نقش کاری، کاشی کاری اور کندہ کاری کے کام میں ہر فنکار نے اَن گنت ڈیزائن تخلیق کیئے اور ہر تخلیق کار اور تخیل گو کا بنیادی نقطہ ”وحدت“ (unity) رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیزائن میں یکتائیت کی افراط کے باوجود ؛اسلامی نظریہ وحدت یکسانیت رکھتا ہے۔ حتٰی کہ ہمارےگھروں کی کھڑکیاں، دروازی، چھتیں، باغات میں بارہ دریوں، فواروں اور پودوں وغیرہ کی ترتیب میں طاق اعداد اور وحدت کے نقطہ نظر کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ مینار ہی کو لیجیئے یہ ذات باری تعالیٰ کی برتری اور اقتدار اعلیٰ کا نظریہ؛ ارتقاء سے بلندی کی جانب لیجانےکا ترجمان ہے۔ آغازِ اسلام میں اذان بلند چھت یا مقام پر جا کردی جاتی تھی۔ جس کے دو مقاصد تھے، ظاہری یہ تھا کہ آواز تمام شہر یا حد آخر تک سنائی دے۔ عمارات کی تعمیر میں آواز کی گونج اور رفتار پر خصوصی توجہ رکھی جاتی تھی۔ باطنی مقصد بلند مقام سے اللہ کی راہ میں پکار اللہ کےمقام کا اظہار بھی تھا۔ دیگر اقوام میں مینار کئی مقاصد کےتحت تعمیر ہوئے، عہد قدیم میں جنگی مقاصد، عہد جدید میں ترقی و آزادی کی علامت تک کا یہ سفر ہے۔ مگر اسلام میں یہ ہمیشہ وحدت اور عروج کا ترجمان رہا ہے۔ مینار قومی تحریک کا ایک سنگ میل ہوتا ہے۔ برصغیر میں پہلی باقاعدہ اسلامی حکومت کے قیام کی علامت قطب مینار، پاکستان کےقیام کی یادگار مینار پاکستان، مساجد میں مینار کی تعمیر ملت اسلامیہ میں عقیدہ کی مضبوطی کی پہچان ہے۔
اسلامی فن تعمیر میں دیگر اقوام اور مسلمانوں میں ایک فرق رہا ہے۔گھر کی تعمیر میں مسلمان اپنے ہاں کھلےصحن کےساتھ ساتھ مناسب مقدار میں روشنی اور ہوا کی آمد ورفت کو مدنظر رکھتے ہیں، جو ذہنی و قلبی وسعت کا ترجمان ہے۔
تعمیرات میں بات عمارات تک نہیں بلکہ رنگوں کے مطالب اور استعمال میں بھی مشترکہ خصوصیات رکھتے ہیں۔ ہماری مساجد، مقابر، مدارس کی تعمیر میں نیلے رنگ کے ٹائیل ورک کا کثرت سے استعمال تاریخی تسلسل میں فارسی کے اثرات کا آئینہ دار ہے۔ سبز رنگ کو مقدس رنگ کےطور پر استعمال کرتے ہیں۔ سیاہ رنگ کے استعمال کو رسول کے پہلےعَلم (جھنڈا) کی حیثیت سے لیتے ہیں۔ مزید اس رنگ کو حکمت و دانائی کےمعنی میں بھی لیتے ہیں۔ سفید کو اتحاد اور آغاز کی ترجمانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اِن رنگوں کے ایک ہی معنوں سے استعمال اِس قوم (پاکستانی) کےجمالیاتی احساسات کو جوڑتا ہے۔
پاکستان کےکسی بھی خطہ میں چلے جائیں، موسم، حالات اور ماحول میں فرق کےباوجود اقدار یکساں ہے۔ بڑوں سےعزت اور احترام سے پیش آنا، چھوٹوں کےسر پہ دست شفقت رکھنا، ہم مرتبہ افراد سے (نفرت، بغض، حسد اور کینہ کو ختم کرتے ہوئے) گلےملنا۔ ایسے ثقافتی اور تمدنی اظہاری اعمال ہیں۔ جو محبت کا نظریہ پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کے ہر دیہات میں عملی تربیت کی یہ اقدار آج بھی جاری ہے۔
علاقائی مشاورت کے لیئے اگر بلوچستان، سرحد اور کشمیر میں جرگے ہوتے ہیں تو پنجاب میں پنچائیت اور سندھ میں اس کو مَیڑھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان اجتماعات کی سربراہی کوئی بزرگ ہی کر رہا ہوتا ہے۔ اگر سرحد میں یہ مَلک یا خان ہے تو بلوچستان میں سردار، پنجاب میں سرپنچ اور سندھ میں اسی کو مُکھ کا نا م دے دیا جاتا ہے۔ مگر بنیادی اندازِ مشاورت اور مقصد یکساں ہے۔
پاکستان ایسا ملک ہے، جس کے وجود میں آنے سے قبل یہاں کئی تہذیبوں (سندھ، ٹیکسلا، گندھارا) کا جنم ہوا، بیشمار ثقافتیں پھلی پھولیں۔ آج بھی ثقافت، رسم، رواج اپنے اپنے دائرہ میں پھل پھول رہے ہیں۔ مگر یہ تمام جدا نہیں۔ اِنکی مشترکہ خصوصیا ت قوم پاکستان کو یکجا کرتی ہے۔ مشترکہ خاصیت کیا ہے، صوفیانہ تعلیم۔ اس قوم کی پہچان مہمان نوازی ، جفاکشی ، محنتی ، بہادری ہے۔
پاکستانی قوم کا وجود ”واعتصموا بحبل اللہ جمعیا ولاتفرقوا“ (ترجمہ: ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو“) میں ہے۔ پاکستانی قوم پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان، کشمیری نہیں۔ یہ وحدت ہے صرف اور صرف پاکستانی۔ افسوس! تقسیم در تقسیم کی بات ہوتی ہے۔ مزید انتظامی تقسیم کا شور ہوتا ہے، صوبے بنانے کی شورش پیدا کی جاتی ہے؛ ظلم، زیادتی، محرومی کے نعرے لگتے ہیں۔ آج عام فرد کا مزاج ایسا بن چکا ہے کہ وُہ ذاتی نا اہلی کو ذاتی مفاد میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اصلاح کے لیئے اصطلاحات نہیں ہوئیں مگر صلاح پر زور رکھا جاتا ہے۔
قائد اعظم نے ایک پیغام دیا۔ ایمان، اتحاد، تنظیم۔ یہی قوم ِپاکستان کی تعمیر سے ترقی کے سفر کا پیغام ہے۔
قوم پاکستان انفرادی سوچ نہیں، اجتماعی سوچ کا نام ہے۔
علامہ اقبال نےفرمایا تھا:

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے، ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی
اُن کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رُخصت تو مِلت بھی گئی

آج پاکستانی قوم اَن گنت نواسیر (ناسور کی جمع) کا شکار ہے۔ جہاں قدرتی طور پر ہر شئے اس قوم کو وحدت بخشتی ہے۔ اُسی طرح افراد اس وحدت کو تسلیم کرنے سے منکر ہو چلے ہیں۔ قوم میں وحدت جذبہ سے قائم ہوتی ہے۔ جس کو سیاسی، مذہبی، معاشرتی، ثقافتی اور تمدنی پہلوئوں سے اُجاگر رکھا جاتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ٹھہرا کہ ہر شعبہِ زندگی پہ کاری ضرب ذاتی مفادات کے تحت خود ہی لگائی۔
سیاسی اعتبار سے قیادت کے فقدان کی بات کرتے ہیں، مگر کیا خود اس فقدان کے لیئے اپنے حصہ کا کردار ادا کرتے ہیں؟ کسی قابل فرد کو نا اہل رہنما موقع دیتا ہے؟ سیاسی جماعتیں اپنی نمائش کےعلاوہ کبھی قومی و مِلی فکر کا جذبہ پیش کرتی ہیں؟ زلزلہ یا سیلاب میں متاثرین کی مدد تب تک نہیں کی جاتی جب تک میڈیا کوریج نہ دے۔ ممکن ہے اس دوران قیمتی جانوں کا نقصان بھی ملک کو برادشت کرنا پڑا ہو۔ قومی جماعتوں کی کیا یہی قومی سوچ ہے؟ مگر کچھ جماعتوں کا ایسا رویہ نہیں بھی ہوتا۔ بلکہ اُن کا کردار قابل تحسین ہوتا ہے۔
اکثر علاقائی جماعتیں عوامی استحصالی اور محرومی کے نام پر ؛ اپنےبھائیوں میں بھائیوں کے خلاف تعصب کا پرچار پھیلاتی ہیں، احساس محرومی کا شکار کرتی ہیں، اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیئے عوام کو گمراہ رکھتی ہے اور ملکی ترقی میں رکاوٹ بنائے رہتی ہیں۔ برس ہا برس ایک مسئلہ کو اُجاگر کر کےسیاست چمکائی جاتی ہے۔ شائد آج ہم اپنے مسائل حل کرنے میں خود سنجیدہ نہیں اور الزام دوسروں پر تھونپ دیتے ہیں۔
تاریخی و جغرافیائی تسلسل کے تحت رہتے ہوئے بھی، ایک خطرناک اور نہایت ہی مہلک سوچ ؛انتہائی پڑھے لکھے افراد میں پروان چڑھ رہی ہے کہ غیر علاقہ کا فرد کبھی بھی اُن کا دوست نہیں بن سکتا۔ جبکہ پاکستان کے ہر علاقہ کا باشندہ دوستی نبھاتا رہا ہے، اپنی جان دوست پر نچھاور کرتا رہا ہے۔ ہمارا ادب اور فلم اس بات کی گواہی بھی دیتے ہیں۔
میں علاقائی سیاسی جماعتوں کے خلاف نہیں ، بلکہ ملکی ترقی میں ان کا کردار بڑا ہی اہم ہوجاتا ہے۔ یہ اپنےعلاقہ اور عوام کےحقیقی مسائل کو نہ صرف بہتر انداز میں اُجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ اپنے ہی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرلینےکی انمول خصوصیت بھی رکھتی ہیں۔ آج یہ سوال ہے کہ ایسی جماعتوں نے اپنے ذاتی مفادات کو پس و پشت ڈالتے ہوئے ؛ اپنےعوام کےحقیقی مسائل حل کرنے کے لیئے کیا کوئی اہم کردار ادا کیا؟ چند جماعتیں اپنی بقاء قائم رکھنے کے لیئے جھوٹے پروپیگنڈہ پھیلاتی ہیں۔ عوام احساس محرومی کا اس قدر شکار ہو گئی ہے کہ اگر کسی جگہ کوئی میرٹ پر مکمل نہ اُتر سکے تو بیشمار افراد اپنےعلاقائی تعلق کومسترد کیئے جانے کی وجہ گردانتے ہیں۔ بطور پاکستانی ہر فرد کو دُکھ ہے کہ ایسی سوچ پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ ہم غلط ایک جانب کو نہیں ٹھہرا سکتے۔ کوتاہیاں تمام جانب سے سرزد ہوئیں ۔ بہت جلد یہ تمام ٹھیک ہو سکتا ہے اگر ہماری سوچ پاکستان اور ملت کے مفاد کی سطح تک وسیع ہوجائے اور ہر فرد اپنے حصہ کا کردار ادا کرے۔ یہ سوال کرنا چھوڑ دے؛ یہ ملک اُسکو کیا دیتا ہے؟ ملک ماں کی طرح ہوتا ہے، ماں سے یہ سوال نہیں کیا جاتا کہ اُس نےکیا دیا۔ ماں کا جنم دینا ہی احسان ہے۔ ماں سے علیحدہ ہونے والا بچہ کیا کبھی خوش رہتا ہے؟ ناراض ہو کر نیا گھر بنا لینا تو ممکن ہے مگر ماں کی دل آزاری کے بعد کیا اُس گھر میں خوشیاں لوٹیں گی۔ ماں معاف کرتی ہے، بیٹا معافی مانگتا ہے۔ ماں کے سامنے ”میں“ نہیں رہتی۔ آج ہر جماعت کو ماں کے پاؤں دبا کر اُسکی خدمت کرنی چاہیئے۔ محبت سے محرومی کی طرف نہیں جانا چاہیے، محبت تک ہی رہو ۔
١٩٦٥ء کی جنگ میں قوم کا مورال بلند تھا۔ ہر فرد نے جنگ میں اپنا کردار ادا کر کےحصہ لیا۔ کانوائےگزر رہا ہے تو نہایت بوڑھے بزرگ جو چل بھی نہ سکتے تھے، پاکستان اور اُسکے محافظ فوج کے لیئے دُعا کرتے، لاغر و ضعیف بڑھیا مٹھی بھر بھنے چنےگھر سےلیکر نکل کھڑے ہوتی اور جوانوں کو پیش کرتی۔ جوان بھی شفیق لہجہ سے یوں پیش آتا کہ جذبات مجروح بھی نہ ہونے پاتے، فنکار ایک جذبہ اور ولولہ سےاپنا کام بغیر معاوضہ کےصرف اور صرف پاکستان کی خاطر ادا کر رہے تھے۔ فوج شہر سےگزر رہی ہے تو شہر والے استقبال کی تیاری میں پہلے سے منتظر کھڑے رہتے اور آمد پر تمام بازار اُن پر نچھاور کر دیتے۔ دودھ والا تمام دودھ مفت میں دیکر خوش ہے، حلوہ پوڑی والا ناشتہ بھیج کر فوج کا ولولہ قائم کر رہا ہے۔ حجام کی دُکان میں جو خبریں اور تجزیہ زیر گفتگو ہے وُہ قوم میں مورال بلند کر رہا ہے۔ وہاں یہ سوال نہ تھا کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ بلکہ جواب تھا کہ جو میلی نگاہ سے پاک وطن کو دیکھےگا، اُسکی آنکھیں نکال لی جائےگی۔ ہر فرد براہ راست جنگ میں شامل تھا، اپنا کردار ہر فرد نے خوب نبھایا کہ دُنیا کو یہ تحقیق کرنا پڑی قوم کا مورال کیا ہوتا ہے۔١٩٧١ء میں ہم مورال سے محروم کر دیےگئےتھے۔
اس ملک کو سب سے زیادہ مذہبی سطح پر فرقہ وارانہ اور شر انگیز نفرت نے نقصان پہنچا ڈالا۔ مسلمان اپنے ہی دوسرے مسلمان بھائی پر کفر کا فتوی جڑتا ہے، اور مسلمان واجب القتل مسلمان کو ٹھہراتا ہے۔ کیا یہی امن، رواداری، درگزر اور محبت والے مذہب کی تعلیم ہے؟ بچہ کو مسلمان نہیں دیوبندی، بریلوی، شیعہ کی تعلیم میں دیگر مسالک کے لئے نفرت سکھائی جاتی ہے۔ ایک ہی محلہ اور ایک ہی مسلک کی مساجد میں، مغرب کی اذان کے وقت پر بھی فرق لازماً رکھا جاتا ہے۔ ایک ہی مدرسہ کے فارغ التحصیل ہم جماعت ہی لےلیجیئے، جب اُن میں مفادات کا ٹکراؤ آتا ہے تو عقائد کے اختلاف کی بات لے بیٹھتے ہیں۔ اِن خونی جھگڑوں اور اختلافات کے باعث آج کا نوجوان مذہبی ٹھیکیداروں سے متنفر ہو کر دین سے بھی دور ہوا۔ اس سے ہرگز یہ تصور نہ لیا جائے کہ تمام مذہبی مبلغین ایسے ہیں۔ دراصل جس کی لاٹھی اُسکی کی بھینس کے مصداق ؛ آج وُہ لوگ نمایاں ہیں جو دھینگا مُشتی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ علماء و مبلغین نہایت ہی حلیم ، مہذب ، بحث اور جھگڑا میں نہ پڑنے والے افراد ہوتے ہیں۔ ایسے شریف لوگ گمنامی میں اس ملک اور دین اسلام کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وُہ کبھی کسی کو برا نہیں کہتے، بس اصلاح کا عمل مسلسل جاری رکھے رہتے ہیں۔ سلام ہو ایسےعظیم انسانوں پر۔
مزارات پر مجاورین اللہ والوں کے قصیدے سناتے ہیں، اُنکو بشر سے مافوق الفطرت بنا ڈالتے ہیں، اپنی تجوریوں کو لنگر کےنام پر بھرتے ہیں۔ کاش! ایسےچند افراد اُن نیک بندوں کے نقش قدم پر خود بھی چلیں اور لوگوں کو اُس پر چلنے کے لیئے رہنمائی فراہم کریں۔ مگر آج تو چند خانوادوں میں ماضی کے بادشاہوں کی طرح گدی نشینی کے جھگڑے چل پڑتے ہیں۔ ہمیں ایسے جھگڑوں سے پرہیز کرتے ہوئے محبت کا درس دینا چاہیے۔
روپے کی دوڑ نے قوم کی اکثریت کو ”پیسےکا پتر“ بنا دیا ہے۔ Status کے چکر میں زبان بھی امپورٹ کی، زبان سے غیر مانوس ہونے کے باعث احساس منتقل نہیں ہو پا رہا۔ جذبات، کیفیات ہر فرد کے اندر منجمد رہنے لگے ہیں۔ اظہار اندر ہی گُھٹ گُھٹ کر مر جائےگا۔ آج زندگی گلیمر کے سواء کچھ نہیں، انسان معاشرہ سے کٹ چکا ہے۔ انسان کی اہمیت مایا (دولت) سے ہے اور معاشرہ کا رویہ اس مثل کے مانند ہے، مایا کو رامو، رام، رام داس ۔
یہ تصور حقیقت سمجھا جا رہا ہے؛ جس کے پاس روپیہ ہے اُسکی اہمیت ہے۔ رشتہ داری دولت سے ہے افراد سے نہیں۔ گاڑی کا ماڈل، مکان کی لاگت، مہنگی آسائشی اشیاء اور صرف حاصل کی گئی تعلیمی ڈگری امارت طے کر رہے ہیں۔ صرف قصور اُمراء کا نہیں، غریب خاندان بھی بہو کے لیئے ملازمت کی شرط عائد کر رہا ہے، جہیز کو لعنٰت قرار دیتے ہیں، شائد آج بہو کو پیسہ بنانے والی مشین بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اپنی بیٹی کو یاد نہیں رکھتے، دوسروں کی بیٹیوں کی قیمت لگاتے ہیں۔ بیٹی والے بیٹیاں بیچ کر بچھتا رہے ہیں۔ لڑکی والے بھی جھوٹی شان کی تلاش میں ہیں۔ اُنکو ایسا داماد چاہیے جو اُنکے لیئے ایک مشین ہو۔ شائد آج معاشرہ کو بیٹا یا بیٹی نہیں حسن کے ساتھ دولت بنانے والی نافرمان مشینیں بھی چاہیے۔گھر بسانے کی بجائے، طلاق کی ترویج ہو رہی ہے۔ تربیت کرنے والے افراد آج ایک مایوسی کا شکار ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ آج وُہ جس معاشرہ میں رہ رہے ہیں وہاں محبت سکھائی نہیں جا سکتی، کیونکہ اب یہ بات معاشرہ میں خیالی بات ہو چلی ہے۔
ثقافت ختم ہو رہی ہے، پکوان کےذائقہ کی جگہ fast food نے لے لی۔ حلال، حرام کی تحقیق کی بجائے سہولت اور status کو دیکھنے لگے۔ گھر میں فنکشن نیچرل پن کےمعنی رکھتا ہے، آج بکنگ کے دور میں حسن سے محروم، لباس شائستگی کی بجائے بیہودگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کیبل چینلز رنگ اور ڈیزائن معاشرہ کے طے کر رہے ہیں۔ مذہبی و ثقافتی نظریات کےتحت ڈیزائن اور رنگ کے انتخاب نہیں کئے جاتے۔ پلاسٹک کی بوتل کا”منرل واٹر“ صحت افزاء نام سے فروغ پا رہا ہے جبکہ پلاسٹک تو خود بیماریوں کا سبب ہے۔گھڑے کا پانی بہترین پانی تصور ہوتا ہے مگر وُہ status کہاں جائے؟ علاقائی مشروب موسم کے حوالے سے مخصوص ہیں۔ مگر مہمان اور میزبان دونوں کانجی، سکنج بین، لسی وغیرہ کو قابل توہین سمجھتے ہیں۔ ثقافت صرف چند نظریاتی لوگ قائم رکھنےکی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈرامہ نگار کا ڈرامہ خود ڈرامہ بن چکا ہے۔ وُہ جو معاشرہ پیش کر رہا ہے، وُہ exist ہی نہیں کرتا اور لوگ اُس existense کی جانب بھاگ رہے ہیں۔ محبت صرف دِل ڈول کر شادی رچا لینے کا trend بنا دیا ہے۔ کیا حقیقی محبت یہی ہوتی ہے؟ آئندہ چند سالوں تک پاکستان پر بنایا گیا ڈرامہ خیالی بات ہی معلوم ہوگی۔ تحریک پاکستان افسانہ یا چند پاگل لوگوں کا جنون کہا جانے لگےگا۔
تمدنی اعتبار سےگھر بنائے نہیں جا رہے۔ مغرب سے خیالات امپورٹ ہوتے ہیں مشرقی انداز میں گھر بنانے کو اب ہتک سمجھا جانے لگا ہے۔ مغربی طرز کا گھر فخر تو بنتا ہے مگر ذرا سوچئیے کیا موسم اور ثقافت کےاعتبار سے یہ گھر قابل رہائش رہتے بھی ہیں یا نہیں۔ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ ہمارا ہر قدم قانون فطرت کےعین مطابق تھا اور آج مکمل خلاف ہے۔
اللہ کرے، اس قوم سے روپےکی ہوس والی دولت چھن جائے اور ہمیں حقیقی دولت عطاء فرما۔ امارات نے اس قوم کو بھٹکا دیا ہے۔ اس قوم کی عمارت درویشی میں ہے۔

(فرخ نور)

متعلقہ تحریریں
نظریہِ پاکستان
درویش پاکستان

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

عالمی یوم بزرگان

Posted on 01/10/2007. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , |

 

آج ساری دنیا میں بزرگ افراد کا عالمی دن ” بزرگ ترقی کی نئی طاقت” کے عنوان تحت منایا جا رہا ہے۔ دنیا میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد میں اضافہ عالمی آبادی کے مقابلے میں دوگنا سے زائد اضافہ ہو رہا ہے، مستقبل قریب اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ روزنامہ جنگ کے مطابق اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک اینڈ سوشل افیئرز پاپولیشن ڈویژن کے بریفنگ پیپر 2007ء کے مطابق 2005ء سے 2010ء کے عرصے کے دوران عمر رسیدہ افراد کی آبادی میں سالانہ 2.6 فیصد کا اضافہ ہورہا ہے، جوکہ عالمی آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح1.1 فیصد کے مقابلے میں 2 گنا سے بھی زائد ہے، جبکہ مستقبل میں یہ فرق مزید وسیع ہونے کی پیشن گوئی ہے، جس کے مطابق 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی آبادی میں 2025-30ء تک عالمی آبادی میں سالانہ اضافے کے مقابلے میں 3.7 گنا زائد اضافہ ہوگا۔ اس وقت دنیا کے 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 70 کروڑ 50 لاکھ ہے اور ماہرین کے مطابق یہ تعداد 2050ء تک بڑھ کر2 ارب ہوجائے گی۔ پاکستان میں 60 سال سے زائد بزرگوں کی تعداد 94 لاکھ ہے، جو کُل آبادی کا 6 فیصد ہے، جبکہ مجموعی طور پر اس وقت دنیا کی 11 فیصد آبادی بزرگ ہے۔ شرح کے اعتبار سے ترقی پذیر ممالک میں بوڑھے افراد زائد ہیں، جو کُل آبادی کا 21 فیصد ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسے افراد کی شرح کُل آبادی میں سے 8 فیصد ہے۔ 2050ء میں عالمی آبادی میں بزرگ آبادی کی شرح 22 فیصد یعنی دُگنی ہوجائے گی۔ اس وقت دنیا میں 9 میں سے ایک فرد 60 سال کا ہے، جبکہ 13 میں سے ایک 65 سال یا اس سے زائد عمر ہے۔ تعداد کے حوالے سے ترقی پذیر ممالک میں بزرگ زیادہ ہیں، جن کی تعداد 45 کروڑ 30 لاکھ ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تعداد 25 کروڑ 20 لاکھ ہے۔ آبادی کے ماہرین کے مطابق 2050ء میں ترقی پذیر ممالک میں بزرگوں کی تعداد 3 گنا اضافے کے ساتھ ایک ارب 60 کروڑ اور ترقی یافتہ ممالک میں 60 فیصد اضافے سے 40 کروڑ ہوجائے گی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے معمر افراد کی آبادی میں اضافے کی شرح 60 سال یا اس سے زائد بزرگ افراد کے مقابلے میں 50 فیصد زائد ہے اور معمر افراد کی تعداد میں سالانہ 3.9 فیصد اضافہ ہورہا ہے۔ اس وقت دنیا کی معمر آبادی 9 کروڑ 40 لاکھ ہے۔ 2050ء میں یہ تعداد 4 گنا اضافے کے ساتھ بڑھ کر 39 کروڑ 50 لاکھ ہوجائے گی۔ اس وقت 60 سال سے زائد عمر کے 8 افراد میں سے ایک 80 سال یا اس سے زائد عمر کا ہے۔ 2050ء میں یہ تناسب 5 میں سے ایک ہوگا۔ دنیا میں ایسے افراد جو اپنی زندگی کی سنچری مکمل کرچکے ہیں۔ ان کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار ہے۔ اس وقت دنیا میں 82 بزرگ مردوں کے مقابلے میں 100 بزرگ عورتیں ہیں۔ مجموعی طور پر مردوں کے مقابلے میں بزرگ عورتوں کی تعداد 7 کروڑ زائد ہے۔ عورتوں کا تناسب 65 سال کی آبادی میں 4 کے مقابلے میں 3 جبکہ 80 سال یا اس سے زائد عمر آبادی میں 2 کے مقابلے میں ایک ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایسے بزرگ افراد جو بغیر جیون ساتھی تنہا زندگی گزار رہے ہیں، ان کی شرح 14 فیصد ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں تنہا بزرگ افراد کی شرح 25 فیصد اور ترقی پذیر ممالک میں 7 فیصد ہے۔ تنہا زندگی گزارنے والے بزرگوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ 60 سال سے زائد عمر کی 19 فیصد عورتیں اکیلی جی رہی ہیں، جبکہ اکیلے زندگی بسر کرنے والے مردوں کی شرح 8 فیصد ہے۔ غریب ممالک کے ایک کروڑ بزرگ افراد روزانہ ایک ڈالر سے کم پر گزارہ کررہے ہیں۔ سب صحارا افریقہ کے 60 لاکھ یتیم بچّوں کی دیکھ بھال ان کے دادا، دادی یا نانا، نانی کرتے ہیں۔

 

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

حضرت پیر عادل

Posted on 29/07/2005. Filed under: عشق ومعرفت | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , |

آپ کا اصل نام سید سلطان غیاث الدین تھا۔ آپ کی ولادت مشہد میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مشہد سے حاصل کرنے کے بعد آپ بغداد تشریف لے گئے اور شرف الدین ابو اسحاق شامی کی بیعت کی اور ان سے خرقہ خلافت حاصل کیا۔ اپنے مرشد کی ہدایت پر تبلیغ اسلام کے لئے رخے سفر باندھا اور اپنے خاندان کے ہمراہ ہندوستان کا سفر کیا۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے پہلا پڑاؤ حسن ابدال کے قریب کیا پھر آپ جمن شاہ تحصیل و ضلع لیہ میں وارد ہوئے اور لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کرنے لگے۔ انہی ایام کے دوران آپ کے فرزند سید علی شاہ المعروف سید سیدن شاہ اپنے دوستوں کے ہمراہ شکار کی غرض سے نکلے۔ تواریخ ڈیرہ غازیخان کے مصنف منشی حکیم چند اس واقعے کے متعلق لکھتے ہیں کہ سید علی شاہ اپنے دوستوں کے ہمراہ جنگل میں شکار کھیلنے گیا اس نے ایک چرواہے سے بکرا مانگا اس نے نہ دیا تو سید علی کے ملازموں نے جبراَ بکرے کو ذبح کر دیا۔ اسی دوران چرواہے نے سید علی پر وار کیا سید علی نے جوابی وار کے کے چرواہے کو مار ڈالا۔ چرواہے کی ماں سید سلطان کے پاس فریاد لےکر گئی۔ سید سلطان نے سید علی کو چرواہے کی والدہ کے سپرد کر دیا اور کہا کہ خون بہا لیکر سید علی کو چھوڑ دو کیونکہ میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ اس کو مارنے سے تیرا بیٹا زندہ نہیں ہو جائےگا لیکن وہ نہ مانی اور وارثان نے سید علی کو قتل کر دیا۔ اس وقت سے سید سلطان پیرعادل کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اس واقعہ کے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ سید علی شاہ دوستوں کے ہمراہ شکار کے لئے جنگل میں گئے اور شکار کھیلتے ہوئے ایک تیر غلطی سے چرواہے کو جا لگا جو جنگل میں اپنی بکریاں چرا رہا تھا اور وہ چرواہا اس تیر کے لگنے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا- اس چرواہے کی ماں سید سلطان کے پاس فریاد لےکر آئی۔ آپ نے بہت افسوس کیا اور بڑھیا نہ مانی اور کہا کہ خون کا بدلہ خون ہونا چاہیے۔ سید سلطان نے اپنے اکلوتے لڑکے کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ حاحبزادہ خوف کے مارے ایک درخت کے کھوکھلے تنے چھپ گیا۔ سید سلطان تلاش کرتے ہوئے اس کے درخت کے قریب سے گزرے۔ ناگہاں قمیض کا ایک ٹکڑا درخت کے تنے سے باہر نظر آیا۔ سید سلطان نے لڑکے کو باہر نکال لیا اور اپنے اکلوتے بیٹے کو گڈریے کے خون بہا میں قتل کرا دیا۔
بیان کرتے ہیں کہ سید سلطان نے اپنے بیٹے کی لاش کو صندوق میں بند کیا اور جمن شاہ سے بھی رخت سفر باندھا اور قصبہ بدھان پور (بعض کتب میں بدھان پور کو برھان پور لکھا گیا ہے جو کہ صیحیح نہیں ہے) کے قریب پڑاؤ ڈالا اور سید علی شاہ کو دفن کیا۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں میں تبلیغ اسلام کا سلسلہ شروع کر دیا۔ لوگ جوق در جوق آپ کے پاس آنے لگے اور اسلام قبول کرنے لگے۔ اس علاقے کے سردار بدھان کو یہ بات ناگوار گزری جب حضرت پیرعادل نے بدھان کو قبول اسلام کی دعوت دی تو اس نے نہ صرف حق کو ٹھکرا دیا بلکہ آپ کے خلاف جنگ پر آمادہ ہو گیا۔ بالآخر آپ کو بدھان سے جنگ کا سامنا کرنا پڑا جس میں آپ کے تین بھائی شہید ہوئے تاہم بدھان کو شکست فاش ہوئی اور وہ جنگ میں مارا گیا۔ یہ علاقہ جو کبھی بہت سے خداؤں کے ماننے والوں کا گڑھ تھا آپ کی آمد کے بعد اسلام کا مرکز بن گیا۔
میرانی بلوچوں کی تاریخ کے مصنف ارشاد احمد خان عباسی تحریر کرتے ہیں کہ غازی خان دوئم کی یہ خواہش تھی کہ کسی مرشد کامل کی بیعت کی جائے، چنانچہ اس نے چاروں اطراف گھڑسوار روانہ کئے اور انہیں ہدایت کی کہ کسی کامل پیرطریقت کا کھوج لگائیں۔ غازی خان دوئم گھڑسواروں کے پیچھے ہاتھی سوار بھی روانہ کر دیئے اور انہیں حکم دیا کہ جس آستانہ ہر کوئی ہاتھی بیٹھ جائے اس کو فوری طور پر اطلاع دی جائے تاکہ وہ بیعت کے لئے وہاں حاضر ہو۔ بہرحال ایک ہاتھی آستانہ پیرعادل میں جاکر بیٹھ گیا غازی خان دوئم کو اس کی اطلاع دی گئی تو وہ اپنے چند ملازموں کے ہمراہ آستانہ پیرعادل آیا۔ جب غازی خان دوئم حضرت پیرعادل کے حجرے میں داخل ہوا اور سلام عرض کیا تو دفعتاَ حضرت پیرعادل کا ہاتھ مبارک لحد سے باہر نمودار ہوا اور غازی خان دوئم دست بیعت ہوا۔ بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد بہت عرصہ تک آپ اسی طرح ہاتھ مبارک لحد سے نکال کر لوگوں کو بیعت کرتے رہے۔ بالآخر حضرت سلطان سخی سرور نے آپ کے مزار پر حاضر ہر کر درخواست کی کہ آپ قبر مبارک سے ہاتھ باہر نکال کر بیعت کرنا ختم کریں اور پھر یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ آپ کی لحد مبارک میں وہ سوراخ اب تک موجود ہے جہاں سے آپ نے ہاتھ باہر نکالا تھا۔
آپ لاولد فوت ہوئے۔ آپ کا وصال ٤٦٥ھ میں ہوا جبکہ ایک روایت میں ٣٧٠ھ بھی آپ کے وصال کا سال بتایا جاتا ہے۔ آپ کا مزار مبارک ڈیرہ غازی خان کے شمال میں تقریباَ ١٥ میل کے فاصلے پر قصبہ پیرعادل میں مرجع خلائق ہے۔ نواب غازی خان دوئم نے حضرت پیرعادل کا بہت خوبصورت اور شاندار روضہ تعمیر کرایا اور اس کے ساتھ ہی آپ کے فرزندارجمند سید علی شاہ المعروف سید سیدن شاہ کا بھی پختہ مزار تعمیر کرایا۔
حضرت پیرعادل کے مزار کی تعمیر ٨١٥ھ ماہ رمضان کے آغاز میں شروع ہوئی اور ٨١٩ھ محرم الحرام میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ مزار کی تعمیر کے سلسلہ میں اینٹیں اور دوسرا تعمیراتی سامان کہنہ ڈیرہ غازی خان چھاؤنی سے ہاتھیوں سے اٹھا کر لایا جاتا تھا۔ مقبرہ غازی خان اول اور مقبرہ پیرعادل فن تعمیر کے بہترین شاہکار ہیں اور ان کی طرز تعمیر بھی ایک جیسی ہے۔ نواب غازی خان دوئم کو اس کی وصیت کے مطابق دربار حضرت پیرعادل کے قریب دفن کیا گیا۔ یہ قبر آج بھی دربار کے جنوبی دروازے کے باہر موجود ہے اور قبرستان بھی موجود ہے جبکہ مزار کی مشرقی سمت ایک بڑا سا احاطہ ہے جس میں سیمنٹ کا فرش لگا ہوا ہے اور کچھ کچی قبریں بھی موجود ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اور بھی غم ہیں زمانے میں

Posted on 19/04/2005. Filed under: پاکستان, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اتنا ٹوٹ کر بکھر گئے ہیں کہ اب خود کو سمیٹنا مشکل ہو گیا ہے جی چاہتا ہے اس دنیا سے کہیں دور چلے جائیں جہاں سکون ہو، جہاں امن کی فاختائیں بولتی ہوں، جہاں لمحے سرگوشیاں کرتے ہوں، جہاں خوشیاں ہی خوشیاں ہوں، جہاں کسی زنداں کا خوف نہ ہو، جہاں ماتم نہ ہوتے ہوں، جہاں دل نہ روتے ہوں، جہاں کوئی اپنا نہ ہو، جہاں ہم ہوں صرف ہم ۔۔۔۔۔۔ ! مگر جب خواب آگیں تصورات ٹوٹتے ہیں تو ہم بکھر کر رہ جاتے ہیں۔ آنکھیں خون اگلنے لگتی ہیں، دل سے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں کہ یہ کیسی راتیں ہیں کہ نہ نیند اپنی نہ خواب اپنےکوئی چیز بھی تو ہماری اپنی نہیں، سہارے ہیں تو قدم قدم پر گرنے لگتے ہیں اور یہ کیسے اپنے ہیں کہ ہر طرف تنہائیوں کے میلے ہیں ہم خود کو ایک حصار میں قید محسوس کرتے ہیں لوگ حوصلہ دیتے ہیں ہمدردی کرتے ہیں کہتےہیں کہ ہر رات کی سویر ہے لیکن کون انہیں سمجھائے کہ جن کی راتیں ہی اپنی نہ ان کی بھی کبھی سویر آتی ہے۔
یہاں تو جیون روگ ہے، پچھتاؤں کا کھلا سمندر ہے زندہ انسان زندگی کو ترستا ہے نہ جینا اپنا نہ مرنا اپنا کوئی چیز بھی تو اپنے بس میں نہیں، بے بسی اور بے حسی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ تم اتنا بتاؤ کہ جنہیں خود سے پیار ہوتا ہے وہ اگر ایک پل بھی خود سے نہ ملیں خود کو آئینے میں نہ دیکھیں تو کیا کیفیت ہوتی ہو گی ان کی ۔۔۔۔ ! اس سال کے ایک ایک مہینے، ایک ایک دن، ایک ایک لمحے کو سوچو ذرا کہ جب ہم نے خود کو نہیں دیکھا خود سے نہیں ملے باوجود اس کے کہ ہمیں خود سے بے انتہا پیار ہےکیونکہ دنیا میں کوئی اپنے جیسا ملا ہی نہیں ” ہاں ” ایک تم میں اپنا عکس دیکھا تھا۔ تم ہمارا آئینہ ہو، ایک تم ہی تو تھے جسے دیکھ کر ہم زندگی کی سانسیں لیتے تھے مگر جب سے تم روٹھ گئےتب سے ہمارا آئینہ بھی کہیں کھو گیا ” سنو ” جو تم نہیں نا! تو یہ نا سمجھنا کہ کوئی ہمارا نہیں سب کچھ ہمارا ہے مگر صرف تم نہیں ہو۔ اب ہمیں تمھاری ضرورت بھی نہیں کیونکہ یہ فضائیں ہماری ہیں یہ کائنات ہماری ہے اور ہماری دولت جس سے ہمیں بے انتہا پیار ہے تنہائی ہے یہ سب ہمارے دوست ہیں جو کبھی ہم سے بےوفائی نہیں کرتے ہم نے اب جان لیا ہے کہ

اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا

تو اتنا بتائیں تم کو کہ اب ہمیں تمھاری محبت کا غم نہیں رہا کتنے دکھ ہمارے معاشرے میں جن پر ہم روتے ہیں کڑھتے رہتے ہیں ان پر، یہاں بھائی بھائی کا دشمن ہے، انسان انسان کی پہچان سے انکاری ہے۔

اگر نقاب الٹ دوں تمام چہروں سے
تو میرے شہر کا اک شخص بھی شریف نہیں

یہاں عزتوں کے لٹیرے ہیں، یہاں چور ڈاکو اور دہشت گرد ہیں، یہاں دھماکے ہوتے ہیں اور پل بھر میں بے گناہ لوگ موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں، یہاں ہارس ٹریڈنگ ہے، یہاں کرپشن ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی جڑیں اس قدر مضبوط ہیں کہ ثبوت نہیں ملتے، اب بھلا آنکھوں کے اندھوں کو کیا دکھتا ہے دس ہزار تنخواہ لینے والا ایک آفیسر پچاس لاکھ کی کوٹھی میں رہتا ہے اس کے متعلق اور کس قسم کے ثبوت چائییں کیا یہ ثبوت کافی نہیں لیکن کیا کریں کنویں میں بھنگ پڑی ہے حمام میں سبھی تو ننگے ہیں پھر کون کس کو پکڑے گا۔
یہاں سیاستدان ہیں جو راہنما کم راہزن زیادہ ہیں جو وطن عزیز کا نہیں اپنا مفاد سامنے رکھتے ہیں عوام کے خون پسینے کی کمائی سے کروڑوں کی جائدادیں بناتے ہیں اور عیاشی کرتے ہیں لیکن کوئی روکنے والا نہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، کروڑوں روپے شاہانہ خرچ کرنے والے ان سیاستدانوں کے اگر گوشوارے چیک کریں جو یہ الیکشن کے موقع پر جمع کراتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ سب کے سب بھیک منگے ہیں، سب ہی زکواة کے مستحق ہیں لیکن رہتے عالیشان بنگلوں میں اور گھومتے قیمتی گاڑیوں میں ہیں۔
یہاں فرعون نما جاگیردار ہیں جو کسی خدائی فوجدار کی طرح جاگیر میں اپنا حکم چلاتے ہیں جو غریب کسانوں اور ہاریوں کی جان و مال اور عزتوں کے لٹیرے ہیں۔ یہاں سرمایہ دار ہیں جو غریب کارکنوں کا پیٹ چاک کر کے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ یہاں جوکر نما جعلی پیراور ملاں ہیں جن کی گذربسر عرسوں کی آمدنی اور تعویزگنڈوں پر ہے، بے عملی، جہالت، بدعت ان کا خاصہ، علم و عمل سے بے بہرہ کفر کے فتوؤں پر مہر ثبت کرتے رہنا ان کا کام ہے۔ مسلمانوں کو مذہب کے نام پر لڑانا ان کا دھرم ہے۔ یہاں قصائی نما ڈاکٹر ہیں جن کو کسی کی غربت، درد، تکلیف اور اذیت کا کوئی احساس نہیں ہوتا انہیں صرف اپنی فیس سے مطلب ہوتا ہے ان کی بلا سے کوئی جئے یا مرے ان کے پانچ سو کھرے! غرض کہاں تک سناؤں ظلم کے یہ فسانے یہاں تو ظلم ہی ظلم ہے، یہاں ایمان بکتے ہیں ضمیر خاموش ہیں، یہاں بےبسی اور بےحسی کی لمبی داستانیں ہیں، یہاں انسان کی قیمت ہی کیا ہے صرف چند کھوٹے سکے۔
یہاں کشمیر ہے جہاں راہ چلتی خواتین، دھول سے اٹی ہوئی ڈارھی والے بزرگوں، سکول جاتے بچوں اور دودھ پیتے نونہالوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ نوجوان لڑکیوں کو سرعام برہنہ کردیا جاتا ہے اور پھر شیطان کی خوشی میں ڈوبی خوفناک چیخیں سنائی دیتی ہیں اس کے بعد صرف ماتم کرتی آہیں اور سسکیاں رہ جاتی ہیں۔
یہاں فلسطین ہے، یہاں عراق ہے، یہاں افغانستان ہے جہاں ظلم و بربریت کی نئی تاریخیں رقم ہو رہی ہیں اور بھی بہت سے دکھ ہیں جو ہمیں آزردہ کر دیتے ہیں ” پر ” اتنا تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تعصب ہمارا اپنا پھلایا ہوا ہے ہم خود مسلمان ہی بکھر کر رہ گئے ہیں، ہم میں اخلاق اور رواداری نہیں رہی، ہم علاقائی مسئلوں پر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں، ہم مذہبی بنیادوں پر جگھڑتے رہتے ہیں ہم آج بھی پہلے پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچ یا مہاجر ہیں اور بعد میں پاکستانی، ایک سویا ہوا پاکستانی !
ہم قرآن کے بتائے ہوئے سیدھے راستے کو چھوڑ کر شیطانیت کے راستے پر چل پڑے، عریانی و فحاشی کو ہم نے ثقافت اور روشن خیالی کا حسین نام دے کر اپنا لیا، بے حیائی کو ترقی کا زینہ بنا لیا، اس کے باوجود ہم مسلمان ہونے کے دعوے دار ہیں۔ حق بات تو یہ کہ ہم اپنے سچے مذہب سے دور ہو گئے اسی لئے آج ہم پوری دنیا میں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔ دنیا میں ہم ایک عرب سے زائد مسلمان ہیں لیکن ہیں ان ریت کے ذروں کی طرح جن کو تیز ہوا کسی بھی لمحے اٹھا کر کہیں سے کہیں پھینک دیتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

خواجہ سلیمان تونسوی

Posted on 04/04/2005. Filed under: عشق ومعرفت | ٹيگز:, , , , , |

برصضیر پاک و ہند میں بارہویں صدی کے آخر میں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی کی صورت میں ایک عظیم مصلح اور روحانی پیشوا پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق سلسلہ عالیہ چشتیہ سے تھا۔ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں سینکڑوں مشائخ آپ کو اپنا روحانی مورث تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کی رشدوہدایت سے برصضیر پاک و ہند کا کونہ کونہ منور ہوا، برصضیر سے باہر افغانستان، وسط ایشیا، ایران، عراق، شام اور حجازمقدس تک آپ کا فیض پہنچا۔
ولادت و خاندان ۔
آپ کا نام محمد سلیمان ہے لوگ آپ کو “پیرپٹھان” کے نام سے پکارتے ہیں۔ آپ کے والد کا اسم مبارک زکریا بن عبدالواہاب اور والدہ کا نام بی بی ذلیخا ہے۔ آپ کے والد علم و فضل میں یکتا تھے۔ آپکی ولادت 1183ھ، 1769ء کو ضلع لورالائی کے گاؤں گڑگوجی میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت ۔
آپ نے علم دینی کی تعلیم گڑگوجی، تونسہ شریف، کوٹ مٹھن اور مہار شریف میں حاصل کی اور علوم باطنی کے لئے خواجہ نور محمد مہاروی (چشتیاں) کے دست مبارک پر بعیت کی اور خلافت حاصل سے سرفراز ہوئے۔
قیام تونسہ ۔
مرشد کے انتقال کے بعد 1214ھ، 1799ء میں گڑگوجی سے ہجرت کر کے تونسہ شریف (ضلع ڈیرہ غازی خان) میں مقیم ہو گئے اور خلق خدا کی رہنمائی کرنے لگے۔ آپ کا فیض عام ہو گیا اور لوگ جوق در جوق بعیت کرنے لگے۔ آپ کے تشریف لانے سے قبل تونسہ شریف سنگھڑ ندی کے کنارے چند گھروں پر مشتمل ایک غیر معروف گاؤں تھا۔ جب آپ تونسہ میں آ کر مقیم ہوئے تو یہ غیر معروف گاؤں علم و عرفان کا مرکز بن گیا اور طاؤسہ سے تونسہ شریف کہلانے لگا۔
دینی خدمات ۔
تیرہویں صدی ہجری و اٹھارویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مسلمانوں کا ہزار سالہ دور حکومت ختم ہونے کو تھا آخری مسلم حکومت یعنی مغلیہ سلطنت اپنی آخری سانس لے رہی تھی اس کی حدود صرف دہلی تک محدود ہو چکی تھی۔ مرہٹوں، جاٹوں اور سکھوں نے افراتفری مچا رکھی تھی۔ حکومت کابل کی شوکت روبہ زوال تھی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر سکھوں نے پنجاب پر اپنا قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ انگریز کی نظر تخت دہلی پر لگی ہوئی تھی۔ آپ نے تونسہ شریف میں عظیم علمی و دینی درسگاہ قائم کی جہاں پچاس سے زائد علماء و صوفیاء فارسی، عربی، حدیث، تفسیر، فقہ، تصوف، سائنس، طب و ہندسہ وغیرہ کی تعلیم دیتے تھے۔ طلبہ کی تعداد ان مدارس میں ڈیڈھ ہزار سے زائد تھی۔ طلبہ، علماء و فقراء کو لنگرخانہ سے کھانا، کپڑے، جوتے،کتابیں، ادویہ اور دیگر تمام ضروریات زندگی ملتی ہیں۔ آپ کو درس و تدریس کا بے حد شوق تھا۔ مریدیں و خلفاء کو کتب تصوف کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ کے خلفا نے برصضیر پاک وہند کے طول وعرض میں اور اس سے باہر اپنی خانقاہیں قائم کیں۔ دینی مدارس کا اجراء کیا لنگر خانے قائم کئے۔ پاکستان میں تونسہ شریف، مکھڈشریف، ترگھ شریف، میراں شریف، گڑھی افغانان، سیال شریف، جلال پورہ، گولڑہ شریف اور بھیرہ شریف وغیرہ کے مدارس قابل ذکر ہیں۔ ان مدارس میں نہ صرف اعلٰی درجہ کی تعلیم دی جاتی بلکہ اعلٰی درجہ کی تربیت بھی کی جاتی۔
تونسہ شریف کی خانقاہ برصضیر پاک و ہند میں صوفیاء کی خانقاہوں میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔آپ کی علمی، دینی، اصلاحی، اخلاقی و روحانی تعلیمات نے معاشرے کے ہر طبقہ فکر کو متاثر کیا ان میں عام مسلمانوں کے علاوہ علماء و صوفیاء اور روساء بھی شامل ہیں۔
علماء اور عوام کے بڑے بڑے والیاں ریاست اور جاگیردار آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اکثر والیاں ریاست گدی پر بیٹھتے وقت آپ کے دست مبارک سے پگڑی بندھوانے کی خواہش کرتے مگر آپ راضی نہ ہوتے۔ سنگھڑ، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور ریاست بہاولپور کے نواب، افغانستان سے والی ریاست شاہ شجاع محمدپوتے احمد شاہ ابدالی و میر دوست محمد والی افغانستان اور پنجاب، سرحدوافغانستان کی چھوٹی بڑی ریاستوں کے نواب کئی مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کی شان میں علماء، صوفیاء اور شعراء نے عربی، فارسی، اردو اور ہندی زبان میں بے شمار تذکرے، منقبتیں، قصائد اور سلام عقیدت لکھے۔
آپ نے ماہ صفرالمظفر کی 6 اور 7 تاریخ کی درمیانی رات 84 برس کی عمر میں انتقال فرمایا اور اپنے حجرہ عبادت میں دفن ہوئے۔ آپ کے مزار پر نواب بہاولپور ثالث (1825ء تا 1852ء) مرید خواجہ تونسوی نے 85 ہزار روپے کی لاگت سے ایک عالیشان مقبرہ 1270ء میں مکمل کرایا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...