ایک تصویر

Posted on 02/09/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , |

لنک

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

جاں فروشی سے ایمان فروشی تک

Posted on 05/06/2006. Filed under: پاکستان, تاریخ, سیاست | ٹيگز:, , , , , , |

بلوچ گورنمنٹ‘ کے جواب میں بلوچستان کی خودساختہ جلاوطن حکومت کے جنرل سیکریٹری میر آزاد خان بلوچ نے ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے۔

Thank you for introducing our blog to your readers. Unfortunately, neither India nor Israel are assisting us. But, if they do offer any help, we would gladly accept it and use it to liberate Balochistan.For your information, the policies of the Pakistani military dictator, General Pervez Musharraf has alienated the entire Baloch nation. The Baloch are simply reacting to the blatant disregard to their genuine grievences by the Government of Pakistan.So, rest assured that the Government of Balochistan in Exile is the result of the ruthlessness of the Punjabi domination of Balochistan. It is not concocted by a foreign intelligence.Mir Azaad Khan Baloch General Secretary The Government of Balochistan in Exile http://www.pkblogs.com/governmentofbalochistan/

جناب میر آزاد خان بلوچ! میں خود ایک بلوچ ہوں، ڈیرہ غازی خان سے میرا تعلق ہے اور ڈیرہ غازی خان پنجاب میں ہونے کی وجہ سے میں پنجابی بھی ہوں، مگر میں سب سے پہلے پاکستانی ہوں اس کے بعد بلوچ، پنجابی، سرائیکی، ڈیروی یا کچھ اور۔

بلوچ ہونے کے ناطے میں بلوچوں کے احساسات و جذبات کو بہتر سمجھتا ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان احساس محرومی میں ہے، اسے اس کا حق نہیں دیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستاں سے نکلنے والی معدنیات سے پورا پاکستان ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے مگر بلوچستان میں صرف ترقی کے الفاظ ہی پہنچ سکے، میں سمجھتا ہوں اور بھی بہت سے مسائل اور مشکلات ہیں جن کا رونا رویا جا رہا ہے، مگر کبھی آپ نے ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیا کہ ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟ آج جو کچھ بلوچستاں میں ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟

ان سب مشکلات، تکالیف اور تمام مسائل کا ذمہ دار صرف اور صرف بلوچ سردار ہیں، صدر پرویز مشرف کی حکومت کو تو صرف چار پانچ ہو رہے ہیں آپ اس سے پہلے کے ادوار کو بھی نگاہ میں رکھیں تو آج کے حالات کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔

حکومت کی طرف سے بلوچ سرداروں کو رائلٹی اور مختلف مدوں میں اربوں روہے ملنے کے باوجود ان سرداروں نے بلوچستان کی عوام کے ساتھ کیا کیا؟ ان اربوں روپوں میں سے کبھی یا کہیں ایک روپیہ بھی عوام پر خرچ کیا ہو تو مجھے بتائیے؟

آج بلوچستان میں ہرطرف دھماکے ہو رہے ہیں اور ان تمام دھماکوں کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچستان لبریشن آرمی قبول کر رہی ہیں جبکہ بلوچ سردار ان تنظیموں کے وجود سے انکاری ہیں! کیوں؟ ان تنظیموں کو کون چلا رہے ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟ بلوچستان علیحدہ کرانا اور پاکستان کو توڑنا (یہ ایک لمبی باعث ہے جس میں میں اس وقت پڑنا نہیں چاہتا) میر آزاد خان بلوچ صاحب! پاکستان ہماری وحدت ہے، یہ ایک اکائی ہے، یہ ہماری پہچان ہے۔ اس کی طرف اٹھنے والا ہر ہاتھ توڑ دیا جائے گا چاہے وہ اپنے کا ہو یا کسی دشمن کا، چاہے وہ کسی سدھی کا ہو یا سرحدی کا، کسی بلوچ کا ہو یا کسی پنجابی کا۔

آج کا تاریخ دان آپ کو قوم پرست، شدت پرست اور ‘شرپسند‘ لکھ رہا ہے، کل کا مورخ آپ کو کن الفاظ میں یاد کرے گا اس بارے میں آپ خود بہتر اندازہ کر سکتے ہیں۔ تاریخ میں ایک جاں فروش ابراہیم خان گاردی کا واقعہ یقینا آپ نے پڑھا ہو گا۔ اس لئے اب بھی وقت ہے واپس پلٹ آئیں اپنوں اور آپ خوب جانتے ہیں کہ کوئی بھی پاکستانی خواہ وہ پنجابی ہو یا سندھی، بلوچی ہو یا سرحدی اپنوں کا استقبال کس طرح کرتے ہیں۔

جاں فروشی کے شوق میں آپ ایمان فروشی کی طرف بڑھ رہے ہیں، ایمان فروشوں کے لئے تاریخ میں احمد شاہ ابدالی کا قول ملتا ہے کہ جاں فروشوں کی جان بخشی تو ہوسکتی ہے لیکن ایمان فروشوں کی جان بخشی نہیں ہو سکتی۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بلوچ گورنمنٹ

Posted on 01/06/2006. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , |

لو جی بات پہنچی تری جوانی تک، میر آزاد خان بلوچ نے ایک بلاگ بنایا ہے جس کے متعلق اس کا کہنا ہے کہ یہ بلوچستان کی جلاوطنی میں قائم کی گئی حکومت کی ویب سائٹ ہے۔

بلاگ کے مطابق 18 اپریل 2006 کو کچھ بلوچ قوم پرستوں نے مل کر یہ حکومت قائم کی اور انٹرنیٹ پر اپنے ’سرکاری بلاگ‘ کے ذریعے دنیا کو اس سے روشناس کرایا۔ مزے کی بات یہ کہ اس میں حکومت قائم کرنے والے ارکان کے نام یا ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے، بلاگ کے مطابق میر آزاد خان بلوچ کا کہنا کہ وہ اس حکومت کا جنرل سیکریٹری ہے۔ بی بی سی کی خبر کے مطابق پہلے اس نے بلاگ میں اپنی حکومت کا صدر دفتر یروشلم اسرائیل لکھا تھا جسے بعد میں تبدیل کر کے مڈل ایسٹ کر دیا گیا۔

میر آزاد خان بلوچ اپنا اور اپنی حکومت کا تعارف بلاگ میں ان الفاظ سے کرا رہا ہے۔

AboutThe territory of Balochistan (Baluchistan) is presently occupied by Afghanistan, Iran and Pakistan. On April 18, 2006, we declared The Government of Balochistan in Exile and nominated His Highness Mir Suleman Dawood Khan as the King of Balochistan.About Me Name:Mir Azaad Khan Baloch Location:Middle East

یہ سب کیا ہے، کس کی سازش ہے؟ کیا بلوچ رہنما اس حد تک گر گئے ہیں؟ یا یہ سب کسی اور کی کارستانی ہے؟ شاید ‘اسرائیل‘ اور کسی حد تک انڈیا کا بھی ہاتھ اس میں شامل ہو سکتا ہے۔؟ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بلوچ سائٹوں پر پابندی

Posted on 29/04/2006. Filed under: بلاگ اور بلاگرز, سیاست | ٹيگز:, , , , |

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے چار ایسی ویب سائٹوں کو بلاک کرنے کی ہدایات دی ہیں جن پر بلوچ قوم پرست مواد موجود ہے۔ ١۔بلوچ وائس ڈاٹ کام ٢۔بلوچ 2000 ڈاٹ اورگ ٣۔بلوچ فرنٹ ڈاٹ کام ٤-سنا بلوچ ڈاٹ کام یاد رہے کہ کچھ ماہ پہلے پی ٹی اے نے بلاگ سپاٹ کے کچھ حصوں پر بھی پابندی لگائی تھی، تاہم ملک میں کار فرما انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ’وکی پیڈیا‘ پر بھی پابندی لگانے کے لئے تازہ ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ خود کو روشن خیال سمجھنے والی حکومت کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں انٹرنیٹ تک رسائی پر اس طرح پابندی عائد کرنا جائز ہے؟ حکومت نے بالکل ٹہیک نہیں کیا، بلوچستان کے مسلے کا سیاسی حل نکالنا چاہیے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں انٹرنیٹ تک رسائی یا اظہار راے پر پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ کشیدگی کے اس لمحے میں حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ کچھ ایسے اقدامات کرتی جس سے مسلہ کے حل کی جا نب کو ئی مثبت پيش رفت ہو ناکہ کشیدگی کو بڑھاوا دینے والے اقدامات۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بلوچ سردار، کون کس کا رشتہ دار

Posted on 16/01/2006. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , |

بڑے بلوچ سرداروں کی سیاسی جماعتیں تو الگ الگ ہیں لیکن یہ ایک دوسرے سے پیچ در پیچ رشتے ناطوں میں جڑے ہوئے ہوئے ہیں۔ سیاسی اختلافات کے باوجود سرداروں نے ایک دوسرے کے ہاں شادیاں کیں اور اپنے بچوں کی بھی آپس میں شادیاں کیں۔ بزرگ سرداروں کے اختلافات ہیں لیکن نئی نسل کی آپس میں دوستیاں بھی ہیں۔
نواب خیر بخش مری کے بھتیجے سردار ہمایوں خان مری نواب اکبر بگٹی کے داماد ہیں۔ وہ کوہلو سے انیس سو پچاسی سے انیس نوے تک تین دفعہ ایم پی اے منتخب ہوئے جہاں سے انیس سو ستر میں خود خیر بخش مری اور انیس ستتر میں ان کے بھائی میر قیصر مری منتخب ہوئے تھے۔ نواب خیر بخش مری سنہ انیس سو پچاس میں مری قبیلہ کے سردار بنے تھے۔ نواب خیر بخش مری کے ایک بیٹے گیزن مری کی اہلیہ سابق وزیرِاعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی کی سوتیلی بہن ہیں۔ مگسی نواب بلوچستان کے بڑے زمیندار ہیں اور ان کا سیاسی اثر بلوچستان کے علاوہ سندھ کے علاقوں شہداد کوٹ اور لاڑکانہ تک موجود ہے۔ نواب بگٹی کے دوسرے داماد سردار چاکر خان ڈومکی کچھی کے بڑے سردار اور منتخب ایم پی اے رہ چکے ہیں۔ نواب بگٹی کے ایک بھانجے میر طارق محمود کا تعلق ضلع لورالائی کے کھیتران قبیلہ سے ہے۔
قلات کے حکمران خاندان کی لسبیلہ کے جام خاندان سے رشتہ داری ہے۔ میر قلات میر احمد یار خاں کے بیٹے شہزادہ محی الدین سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور لسبیلہ کے میر جام غلام قادر خاں (موجودہ وزیراعلی کے باپ) کے داماد تھے۔ لسبیلہ سے سابق ایم این اے غلام اکبر لاسی میر جام غلام قادر کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے لیکن وہ انیس سو ترانوے میں جام قادر کے بیٹے کے خلاف ایم این اے کا انتخاب جیتےتھے جس میں ان کو قوم پرست سردار عطااللہ مینگل کے بھائی مہر اللہ مینگل نے مدد کی تھی۔
جام میر غلام قادر نے اپنی ریاست کو پاکستان میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا اور مکران اور خاران کی ریاستوں کو بھی پاکستان سے ملحق کرانے کے لیے کوششیں کی تھیں۔ وزیراعلی بلوچستان میر جام یوسف میرغلام قادر کے بیٹے ہیں۔ گو ان کا خاندان پرانا مسلم لیگی ہے لیکن ان کی قوم پرست سرداروں سے رشتے داری ہے۔ جام میر غلام قادر کی وفات کے بعد سردار صالح بھوتانی حب اور گڈانی کی موثر شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ان کی بھی قوم پرست سرداروں سے رشتہ داری ہے۔سردار صالح بھوتانی اور اسلم بھوتانی سردار عطااللہ مینگل کے بہنوئی بھی ہیں اور سالے بھی۔
سردار صالح بھوتانی اور اسلم بھوتانی کی رشتہ داریاں دادو کے ضلعی ناظم ملک سکندر (اور اس کا کزن ملک علاؤالدین) سے ہیں جو صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں تھانہ بولا خان میں مقیم ہے۔ ملک سکندر صالح بھوتانی کے بھانجے اور داماد ہیں۔ یوں بالواسطہ طور پر دادو کے ضلعی ناظم کی سردار عطا اللہ مینگل سے رشتہ داری ہے۔
ملک علاؤالدین پولیس کے ایک ریٹائرڈ افسر ہیں اور جام آف ملیر جام مراد کےداماد ہیں۔ جام مراد کے ایک بیٹے سردار عطا اللہ مینگل کے داماد ہیں اور دوسرا نواب اکبر بگٹی کے۔ جام مراد کی دوستی نواب بگٹی اور سردار عطااللہ مینگل دونوں سے ہے اور ان کے اختلافات میں ان کی صلح بھی کرانے کے لیے مشہور ہیں۔ دادو کے اس علاقہ میں پالارائی مینگل بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ ضلعی ناظم دادو ملک سکندر آصف علی زرداری کا دست راست سمجھے جاتےہیں۔
سردار عطااللہ مینگل نواب رسول بخش کے بیٹے ہیں جنہوں نے تین شادیاں کی تھیں۔ سردار مینگل کی ماں سردار بلوچ خان محمد حسنی کی بہن تھیں اور ایک سوتیلی ماں جام آف لسبیلہ جام غلام قادر کی بہن تھیں۔ سردار بلوچ خان کی بیوی خان قلات احمد یار خان کی بہن تھیں۔ سردار عطااللہ مینگل کی دو پشتوں پر حاصل بزنجو اور ان کے والد غوث بخش بزنجو کے خاندان سے بھی رشتے داری بنتی ہے کہ ان کے دادا سردار رحیم مینگل کے بھائی کرم خان مینگل کی غوث بخش بزنجو کی بہن سے شادی ہوئی تھی۔ سردار عطا اللہ مینگل کی پہلی بیوی اسلم گچکی کی بہن تھیں جو وفات پاچکی ہیں۔ دوسری بیوی محمد صالح بھوتانی اور اسلم بھوتانی کی بہن ہیں اور اختر مینگل کی والدہ ہیں۔ اس وقت بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام یوسف کی ماں اور سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل کی ماں سردار اسلم گچکی کی بہنیں ہیں۔ سردار اسلم گچکی خود سردار بلوچ خاں کے داماد ہیں اور سردار عارف جان گچکی کے بہنوئی ہیں۔ یوں مینگل خاندان ایک طرف قلات، محمد حسنی اور لسبیلہ کے سرداروں سے رشتہ داری میں جڑا ہوا ہے تو دوسری طرف سردار عطا اللہ مینگل کے بیٹے مری، محمد حسنی اور گچکی سرداروں کے ہاں بیاہے ہوئے ہیں۔ سردار عطااللہ مینگل کثیر العیال ہیں اور اسی اعتبار سے ان کی دوسرے قبیلوں کے سرداروں سے رشتے داریاں بھی زیادہ ہیں۔
میر عارف جان محمد حسنی کا تعلق خضدار کے محمد حسنی قبیلہ سے ہے اور ان کی بھی سردار عطا اللہ مینگل سے رشتہ داری ہے۔ ان کے ایک بیٹے سردار رستم خاں سردار عطااللہ مینگل کے داماد ہیں اور سابق وزیر اعلی سردار اختر جان مینگل کے بہنوئی ہیں جبکہ سردار عطااللہ مینگل کے بیٹے سردار منیر عارف محمد جان حسنی کی بیٹی سے شادی ہوئی ہے۔ اسلم گچکی کے بیٹے نے بھی محمد حسنی خاندان میں شادی کی۔ سردار عطا اللہ مینگل کے ایک اور بیٹے جاوید مینگل نواب خیر بخش مری کے داماد اور دوسرا بیٹے اختر مینگل سردار اسلم گچکی کے داماد ہیں۔ سردار عطا اللہ مینگل اور اسلم گچکی کے خاندان کی سندھ میں چانڈیو، جونیجو اور جتوئی خاندان میں لڑکیاں بیاہی ہوئی ہیں۔
ان رشتہ داریوں پر مستزاد بلوچ سرداروں کی نئی نسل کی آپس میں دوستیاں ہیں جن میں نواب خیر بخش مری کے بیٹے بلاچ مری اور نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدہ بگٹی (جنہیں نواب بگٹی کا جانشین سمجھا جاتا ہے) کی دوستی کا آجکل خوب چرچا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ایمان فروشی

Posted on 31/10/2005. Filed under: اسلام, تاریخ | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اکتوبر 1760 سے جنوری 1761 تک مرہٹوں کی اتحادی افواج مختلف مقامات پر ابدالی لشکر سے ٹکراتی رہی، مر ہٹوں کی اتحادی افواج میں مسلمانوں کا ایک سردار ابراہیم خان گاردی بھی تھا جو کہ اپنے ساتھ دو ہزار سوار اور 9 ہزار پیدل فوج لایا تھا۔
آخری لڑائی میں مرہٹوں کی اتحادی افواج کا سپہ سالار بسواں راوُ مارا گیا، ابدالی کے لشکر نے اتحادی لشکر کا قتل عام شروع کر دیا، مرہٹوں کی کمر توڑ دی گئی تو احمد شاہ ابدالی نے تلوار نیام ڈال دی، شکست خوردہ اتحادی افواج کے گرفتار ہونے والے سرداروں اور فوجیوں میں گیارہ ہزار فوجی مہیا کرنے والا مسلمان سردار ابراہیم خان گاردی بھی شامل تھا۔ جب اسے فاتح بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا تو احمد شاہ ابدالی نے نفرت آمیز لہجے میں اس سے پوچھا ، کہو خان صاحب کیا حال ہے ؟ کس طرح تشریف آوری ہوئی ؟ ابراہیم گاردی نے کہا ، میں ایک جاں فروش سپاہی ہوں، حضور جان بخشی کرینگے تو اسی طرح حق نمک ادا کرونگا، نفرت اور غصے سے احمد شاہ ابدالی کا چہرہ سرخ ہو گیا، گاردی ! جاں فروشوں کی جان بخشی تو ہو سکتی ہے لیکن ایمان فروش دنیا میں رہنے کے قابل نہیں ہوتے ّ یہ تاریخی جملہ کہنے کے بعد احمد شاہ ابدالی نے حکم دیا ” اس ایمان فروش کو میری آنکھوں سے دور کر کے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے ” پوری ذمہ داری سے حکم کی تعمیل کر دی گئی۔
ہمیں اپنی تاریخ میں ابراہیم خان گاردی جیسے ایمان فروش جگہ جگہ ملتے ہیں عالم اسلام کی ہر شکست، ہر ذلت، ہر ہزمیت کا سبب ڈھونڈ لیا جائے تو اس میں کسی نہ کسی ابراہیم گاردی جیسے ایمان فروش کا ہاتھ ہو گا۔
آج کے دور میں بھی ہم انہی ایمان فروشوں میں گھرے ہوئے ہیں، عالم اسلام کے پاس ساٹھ لاکھ سے بھی زائد فوج ہے لیکن چند ہزار اتحادی فوجی آتے ہیں اور ابراہیم گاردی جیسے ایمان فروشوں کی مدد سے کبھی افغانستان کو روندھتے چلے جاتے ہیں اور کبھی عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دیتے ہیں۔ اتحادی افواج ایران کی طرف رُخ کرتی ہے تو ایران کو دور دور تک کوئی مددگار دکھائی نہیں دیتا ، شام کو دھمکیاں دی جاتی ہیں تو اسے عالم اسلام میں ہمدرد نظر نہیں آتا ، ابراہیم گاردی جیسے ایمان فروشوں کو اتحادیوں کا ساتھی بنا دیکھ کر سارا عالم اسلام سرنگوں ہوتا چلا جا رہا ہے۔
آج عالم اسلام کو ایک بار پھر احمد شاہ ابدالی کی ضرورت ہے جو ایمان فروشوں کو بھولا ہوا سبق یاد دلا سکے کہ جاں فروشوں کی جان بخشی تو ہوسکتی ہے لیکن ایمان فروشوں کی جان بخشی نہیں ہو سکتی۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...